دھند میں لپٹا جنگل

2 تبصرے
یہ ایک خنک صبح کا واقعہ ہے۔
سانے گلیشیر سے چل رہیں، رو میں بہہ کر آتی ہوئی یخ بستہ ہوائیں نالتر کے پہاڑوں کے بیچ قدرتی کھائیوں، گلوں سے یوں بے چین، سنسنا کر پیالہ نما وادی میں داخل ہو تی ہیں گویا آسمان کی وسعتوں میں ان کو امان نہیں ہے۔ پہاڑوں کی چوٹیاں جو سپید برف کی موٹی تہوں سے ڈھکی رہتی ہیں، ان ہواؤں کو اس قدر بوجھل بنا دیتی ہیں کہ وادی میں نیچے اترتے ہی بنتی ہے، گویا نلتر وادی میں ان کا مسکن ہو۔ ہواؤں میں خاصا زور ہے پر گھنے جنگل میں داخل ہو کر یہ زور ٹوٹتا چلا جاتا ہے۔ جب اونچے لمبے بت والے عمر رسیدہ چیڑ کے جنگل میں سے گزر تی ہیں تو دھیرے دھیرے ان میں ٹھہراؤ آتا جاتا ہے،  آواز سائیں سائیں کرتی پورے جنگل میں یوں گونجنے لگتی ہے جیسے یہ کسی کا پتہ پوچھتی پھرتی ہوں۔ پھر سارے جنگل کو ستاتی ہوئی یہ ہوائیں دھیرج سے اور بوجھل سے بوجھل، دھیمی ہوتیں، وادی کے دامن میں پہنچتی ہیں تو ان کا سامنا وادی کے بیچوں بیچ بہتے ہوئے ندی کے پانی سے ہو رہتا ہے۔ ندی کے پانی نے وادی کے چھوٹے بڑے، گول چپٹے اور سخت سے سخت، حتی کہ سارے پتھروں کا شور سے ناک میں دم کر رکھا ہے۔

آمنا سامنا ہوا تو معلوم ہوا، یخ بستہ ہواؤں کی ندی کے سرد پانیوں سے کوئی دیرینہ شناسائی ہے۔ اب پتہ چلا کہ ہوا ئیں یوں ہی بے چین نہیں تھیں۔ان کو جو یوں آسمان کی وسعتیں راس نہیں آتی تھیں اور وہ جو سائیں سائیں کرتی جنگل میں پتہ پوچھتی پھرتی تھیں، وہ کاہے کی چاہ تھی۔ پھر ندی کا پانی ہے، اس نے وادی میں جو شور بھر رکھا تھا، یہ جو ایسے مچل کر تڑپتا تھا، بے چین اور بپھرا سا رہتا تھا، اس کا یہ طور یوں ہی بے وجہ نہیں تھا۔ چیڑ کا جنگل، ندی کے پتھر اور وادی کی لانبی گھنی اور گہری سبز گھاس شاید ان ہواؤں اور پانیوں کی آپس میں چاہ، ان کے واسطے اور دیرینہ آشنائیوں سے واقف نہ ہوں مگر دور کہیں اوپر گلیشیر پر ان کی آپس میں کبھی ایسی گہری وابستگی رہی ہے کہ اب یہاں، اس وادی کے دامن میں اس تعلق کے سرے کا کچھ پتہ نہیں چلتا۔ اس بابت شاید ان دونوں کے سوا کوئی بھی نہ بتا پائے، مگر یوں ہوا کہ یہ بھی تو بے خود ہیں۔ یہ تو تب کا قصہ ہے جب، یخ ٹھٹھرا تا ہوا پانی کبھی سپید برف کی تہہ در تہہ ہوا کرتا تھا اور ہوائیں اسی برف کی تہوں میں دبی ہوئی جم کر بسر کرتی تھیں۔ یہ ان ہواؤں اور ندی کے پانی کی پیدائش سے بھی خاصے پہلے کا ناطہ تھا۔

گلیشیر کی یخ بستہ ہوائیں اگر مچل کر لپکتی ہیں تو سرد پانی جیسے ندی کی تہہ سے اوپر اٹھ اٹھ کر پتھروں کے اوپر سے لہریں اچھالتا ہو۔ اس ادا پر چیڑ کا جنگل مسکرا اٹھتا ہے۔ گہری نیلی گھاس جھوم کر لہلہا نے لگتی ہے اور ندی کے سخت پتھر جیسے دیکھتے ہی دیکھتے دھل کر نکھرتے چلے جاتے ہیں۔ پوری وادی میں ایسا سماں بن گیا کہ جسے دیکھو، ہواؤں کی لہروں سے مستی کو دم بےخود دیکھ رہا ہے۔ ہوا رو بہ رو تھر تھر کرتی، ندی کے دامن سے اچھلتی ہوئی لہروں کو یوں چھو کر گزرتی ہے کہ لہروں کا وجود جھومنے لگتا ہے ۔جیسے یہ ایک دوسرے میں گم موسیقی کی لے پر ناچتے ہوں۔ پانی کی ٹھنڈک سے ہوائیں مزید خنک ہو کر واپس لہروں کے دامن میں آن کر گرتی چلی جاتی ہیں اور پانی کی لہریں ہیں کہ آپے میں نہیں۔ ندی کی تہہ سے اپنے وجود کو پوری طاقت سے اٹھا کر اوپر اچھلتی ہیں اور ندی کے پتھر مدد کو یوں بڑھتے ہیں کہ ان لہروں کو ایسے اچھالیں کہ وہ دیکھتے ہی دیکھتے ہوا میں سموتی چلی جاتی ہیں اور ایک جلترنگ کی کیفیت پیدا ہونے لگتی ہے۔

ہواؤں کی لہروں سے بار ہا کی مستیاں، بالاخر رنگ لاتی ہیں۔ ہر بار جھومتی ہوئی لہروں میں سے پانی کی ننھی ننھی باریک، چمکتی ہوئی شفاف بوندیں مچل کر نکلتی ہیں اور ہوا کے وجود میں یوں رچ بس جاتی ہیں گویا اس کی ذات میں جو خلا اور کمی ہے، اسے پُر کرتی ہوں۔ اس تماشے کا نتیجہ آہستہ آہستہ دھند کے دھندلکوں کی صورت جنم لینے لگتا ہے۔ یہ دیرینہ میلان اس قدر فرحت آمیز اور دلکش ہے کہ اک ترنگ سے جاری و ساری رہتا ہے۔ ندی کی سطح پر ہواؤں کے جھونکے اور پانی کی لہریں اک دوسرے میں اس قدر گم ہیں کہ انھیں اندازہ نہیں ہو پاتا کہ یہ مستی دھیرے دھیرے وادی کے دامن میں، ندی کے بالکل اوپر دھند کی پاکیزہ، سفید چادر تانے چلے جا رہی ہے۔ وادی کے دامن میں، ندی کی سطح پر دھند گہری ہوتی چلی جاتی ہے جس میں بلا کا سکون اور خاموشی بھر چلی ہے۔ گلیشیر کی یخ بستہ سائیں سائیں کرتی ہواؤں اور ندی کے سرد شور مچاتے پانیوں کی جنمی دھند، سکون سے اوپر کو اٹھتی ہے اور پوری وادی میں پھیلنا شروع کر دیتی ہے۔

جنگل دھند میں لپٹنے لگتا ہے۔

(اکتوبر، 2014ء)

ندی کا پانی

6 تبصرے
یہ زیادہ دورکے عرصے کی بات نہیں جب مجھے اپنے دیس کو خیرباد کہنا پڑا۔  ماں نے مجھے بوند بوند شفاف آنسو کی مانند اپنے وجود سے ٹپکا کر خود سے الگ کیا تھا اور رخصت کرتے، جب آخری بار سینے سے لگایا تو لوگوں کے دل پر ہیبت طاری کر دینے والے میرے باپ کا رُو رُو کانپ رہا تھا۔
وہ دونوں، جیسے مجھے کسی بازی میں ہار گئے ہوں ۔ ایسے اناڑی جن کا اپنی قسمت اور سورج جیسے مشاق جواری کی تیز کرنوں کے آگے ایک نہ چلتی ہو۔ سینکڑوں برس اپنے سینے سے لگائے رکھنے کے بعد انہیں مجھ کو یوں رخصت کرنا ہی پڑا، اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ ماں باپ سے الگ ہو کر، اپنی جنم بھومی کو ترک کر کے روانہ ہوا تو دنوں تک چیخ چیخ کر اپنی جنت کو پکارتا رہا۔ بھاری بھرکم پتھروں اور بل کھاتے ہوئے پہاڑوں کے بیچ، میں یوں تیزی سے بہا کہ میرے ایک ایک رُو سے پکار نکلی۔ میں اپنے مالک سے گلہ مند ہوتے، بین واویلا اور شور مچاتے وادیوں میں یوں گزرا کہ مجنوں پاگل کا گماں ہو۔ میرا سب کچھ کھو گیا تھا اور میں بیچ دھار کے گم ہو کر رہ گیا۔ اور یوں ہی بہتا رہا۔ وادیاں، مجھے چیختا چلاتا ہوا خاموش شانت سی سنتی رہیں۔ اندھیر راتوں میں تو میری گونج اس قدر بڑھ جاتی کہ میں خود اپنی آواز پہچان نہ پاتا تو کسی دوسرے کی کیا سنتا، کچھ سجھائی نہ دیتا۔
دنوں تک چلاتے چلاتے تھک گیا تو وہ ہیجان اترا۔ پھر، مجھے اپنے دیس کی یاد نے آن گھیرا، مجھے اپنی ماں کی چاہ نے آ لیا اور میری آنکھوں کے سامنے اپنے باپ کا چہرہ گھوم گیا۔ اس دکھ میں، یاد کی گھنی سنیری چھاؤں میں اور روز بروز گہرے ہوتے ہوئے غم میں ، جہاں ہیجان تھا، کوئی تہہ سی جم گئی، جیسے کسی نے پھوڑے پر بوٹیوں کی ٹھنڈی ٹکور کرتی پسائی دھر دی ہو۔ میں وادی در وادی، اپنے وطن، ماں باپ اور بیلی یاروں کو دل میں بھر کر، یاد کیے کرتے بنجارا بن گیا۔ میرے حلق میں چیخ و پکار، بین اور ہٹ دھرمی کی جگہ رسیلے نغموں نے لے لی۔ عرصہ تک یوں ہی گاتا پھرتا رہا اور پھر ایک دن جب اس کی بھی تاب نہ رہی تو میدانوں میں آن داخل ہوا۔
وسیع میدانوں میں آتے ہی، جیسے اندر شانت ہو گیا۔ ایک چپ نے آلیا، خامشی نے پکڑ لیا۔
 میں جو گدلا سا ہوں، اپنی صورت تک بھول چکا اور ٹٹولیے تو، بار بار پکارنے پر بھی جب کچھ جواب نہیں بن پڑتا اور میں جو اس بڑے پاٹ کے دریا میں گھل مل کر جاری و ساری ہوں۔ کبھی تو کھیتوں کو سیراب کرتا ہوں اور جب برداشت نہیں ہو پاتا تو بستیوں کی بستیاں روند ڈالتا ہوں۔
میں، صاف شفاف سپید رنگت کی برف، اس قدر کہ میدانوں کے کھیتوں میں اگنے والی کپاس کا رنگ ماند پڑ جائے اور میل در میل پھیلے، جم کر مضبوطی سے پاؤں ٹکا ئے، سخت، پتھریلی پہاڑیوں پر تہہ در تہہ بچھ کر رہنے والے برفیلے گلیشیر کا بیٹا، ندی کا پانی ہوں!
(اگست، 2014ء)

ادب کا ادب، میلے کا میلہ - قسط:2

4 تبصرے

ادب میلے میں شرکت کا جو بھوت میلے کے دوسرے روز، سویر تک میرے سر پر سوار تھا، وہ اب شام میں بھٹی کے ساتھ چمٹ رہا۔ بھٹی اس بابت خاصا جذباتی واقع ہوا ہے، بھوت سے یاری بنا لی اور خمیازہ مجھے بھگتنا پڑا۔ اب بھلا اتوار کی سہانی صبحوں میں بھی کوئی نو سوا نو بجے جاگا کرتا ہے؟ سو، بھٹی کی خواہش کے آگے اپنا سا منہ دھو کر بیٹھ گیا مگر موصوف خود ساڑھے گیارہ بج جانے پر بھی ظاہر نہیں ہوئے۔ دنیا کے بدلے، دنیا میں ہی چکا کرتے ہیں۔ بھٹی سویر کا گھر سے نکلا، دیر تک کسی وی آئی پی کے لیے لگائے گئے روٹ میں مجھ نیمانے کی ہائے بھگتتا رہا۔
خیر، اس سے قبل کہ ہوٹل مارگلہ پہنچیں، بتائے دوں کہ یہ میلہ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے منعقد کیا تھا جس میں انھیں ایک نجی بینک اور غالباً اٹلی کی حکومت کا تعاون حاصل تھا۔ ان کی محنت کا اثر تھا کہ آج تیسرے روز میلے میں خوب کھوے سے کھوا اچھل رہا ہے۔ ہم پہنچے تو پہلے پہل تو شیڈول کا جائزہ لیا کہ بھلا سویر کی کوفت میں کس قدر نقصان ہوا ہے۔ پھر ایک خاصے چھوٹی عمر کے والنٹئیر، جو کسی سکول کا طفل تھا، اس کی رہنمائی میں سینٹرل لان کی طرف چل دیے جہاں سنتے ہیں کہ غالب کو یاد کیا جا رہا ہے۔ یہ جو غالب کا تذکرہ تھا، 'غالب کی دہلیز پر' کے نام سے سجایا گیا تھا جو اس نشست کے مقرر سید نعمان الحق کے ایک مقالے کا عنوان بھی ہے۔ سید نعمان الحق کا ساتھ دینے کو راحت کاظمی بھی موجود تھے اور میزبانی حارث خلیق نے سنبھال رکھی تھی۔ اسلام آباد کی چند ایک خواتین، جو غالب سے زیادہ راحت کاظمی کی دلدادہ معلوم ہوتی تھیں، ٹولیاں بنائے وہاں موجود تھیں۔ سید نعمان الحق کے گلے کی سوزش، بیچارے غالب کو بھگتنی پڑی۔ مگر ان کا شعر پڑھنے کا انداز، وہ ٹھہراؤ، معانی واضع کرتا ہوا مجھے تو خاصا پسند آیا مگر وہ کوئی تاثر جو غالب سے منسوب ہوتا، قائم کرنے میں ناکام رہے۔ سوچا کہ شاید راحت کاظمی، ماحول بنا پائیں مگر جوں ہی نے وہ اپنے مخصوص انداز میں غالب کا کچھ کلام سنا کر ہٹے تھے، یہ خواتین، تالیاں پیٹتی ہوئی لان کے احاطے سے رخصت ہو گئیں۔ سارا مزہ کرکرا ہو گیا۔ بعد میں غالب کو یاد کیا گیا ہو شاید مگر سچ کہوں تو غالب، اپنی ہی دہلیز پر کہیں نظر نہیں آیا۔
اس بار، میلے کی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ مکالموں اور مباحثوں کے ساتھ ساتھ تصویری نمائشیں، موسیقی اور فلموں (فیچر اور ڈاکیومنٹریز) کو بھی خصوصی جگہ دی گئی تھی۔ بچوں کی کہانیوں اور ادب کے لیے بھی علیحدہ سے گوشے مختص تھے اور باہر جہاں کتابوں کے سٹال تھے، وہاں چند نایاب کتابوں کو بھی نمائش اور فروخت کے لیے پیش کیا گیا تھا۔ ایک کونے میں، دیسی رائٹرز کا سٹال، اور دوسری جانب ایک صاحب سبز پگڑی پہنے، عطر فروخت کرتے ہوئے بھی دیکھے گئے۔ سو، رنگ میں بھنگ ہر سو دکھائی دیتی تھی۔ علاقائی ادب کو بھی یاد میں رکھا گیا۔ پشتو شاعری کی نشست، شمالی علاقوں کی زبانوں میں ادب پر ایک اور نشست اور کتابوں کے سٹالز میں خاصا ممتاز، پنجابی ادب کا سٹال بھی دلچسپی کا سامان رہا۔ چند دلچسپ کتابیں جو مجھے بھا گئیں، وہ پشتو اور بلوچ ادب پر سیر حاصل تبصرہ تھیں۔ کیا آپ یقین کریں گے کہ وہ اس پبلشر نے ٹھیٹھ پنجابی میں چھاپ رکھی تھی؟
اس سب پر سر دھنتے، بھٹی سے خوش گپیاں لڑاتے، کشور ناہید کی نئی کتاب "کشور ناہید کی نوٹ بک" کی رونمائی کا وقت ہو چلا، سو واپس سینٹرل لان کی جانب رخ کیا۔ کشور ناہید تو وہاں تھیں ہی، آصف فرخی بھی رنگ جمانے کو موجود تھے۔ چونکہ اس لان میں شامیانے کے نیچے اچھی خاصی گرمی پڑ رہی تھی اور پھر سٹیج پر میزبان جو گجرات یونیورسٹی کے شائد ڈائریکٹر صاحب تھے، ان کی ضرورت سے زیادہ لمبی تمہید نے ماحول اور بھی بوجھل کر دیا۔ اس موقع پر آصف فرخی نے کمال ہوشیاری سے میزبان صاحب کو مکھن میں سے بال کی طرح ایک جانب نکال باہر کیا اور کشور ناہید کو بولنے کا بالاخر موقع دیا گیا۔ انھوں نے کتاب کا پس منظر بتایا اور اپنی سروس کے دوران پیش آنے والے واقعات کا تذکرہ کر اس کتاب کو چھاپنے کا مقصد بخوبی واضع کر دیا۔ کشور ناہید کا کہنا تھا کہ خواتین کو نوکریوں میں جو مسئلے درپیش رہتے ہیں، وہ اس کی ایک زندہ مثال ہیں اور حوصلہ افزاء بات یہ کہی گئی کہ اب کہیں جا کر پاکستان میں جا کر 23 فیصد کے لگ بھگ نوکریوں پر خواتین براجمان ہیں، جبکہ کسی زمانے میں کہو تو وہ نوکری کرنے نکلی تھیں تو اس قدر ستائی گئیں کہ 'بری عورت کی کتھا' لکھنے پر مجبور ہوئیں۔ کشور ناہید نے کتاب میں سے چند حصے بھی پڑھ کر سنائے، جن میں مولانا کوثر نیازی کا تذکرہ خصوصاً کیا گیا تھا۔ اسی پر ان کی ایک نظم پر بات ہوئی جو اس واقعہ پر مبنی تھی جس میں کشور ناہید نے مصافحہ کی خواہش پر وزیر صاحب کو کہا کہ فاصلہ رکھیے تو جواب ملا تھا کہ، 'فاصلے کیسے کم ہوں اگر تم ہی نہ چاہو'۔ یوں بات ان کی شاعری کی طرف نکل گئی اور پھر کچھ نظمیں سنائی گئیں، آصف فرخی نے ان نظموں کا انگریزی ترجمہ بھی سنایا۔ سوال و جواب بھی خاصے دلچسپ تھے جو خواتین کے حقوق اور ان کو پیش آنے والے مسائل پر ہی کیے گئے۔ الغرض، ہر لحاظ سے یہ نہایت دلچسپ نشست تھی۔ ہاں، وہ میزبان صاحب کو ساٹھ منٹ کی نشست میں پندرہ منٹ کی تمہید کے بعد آخر تک بولنے کا دوبارہ موقع نہیں دیا گیا۔ اللہ آصف فرخی کو پوچھے۔
کشور ناہید نے اپنے بھٹی کا اچھا خاصہ ذہن بدل کر رکھ دیا تھا، جو اس نشست کے ختم ہونے کے بعد، دو سگرٹ پھونک کر بھی اس کا دیوانہ وار سر پٹختے رہنے سے عیاں تھا۔ مجھے گماں گزرا، شاید نئے خیالات دماغ کے کونوں کھدروں میں جگہ بنا رہے ہوں۔ اس لیے ضروری تھا کہ بھٹی کے دماغ کے ساتھ ساتھ معدے کو بھی مصروف کر دیا جائے، سو کھانا کھانے بیٹھ گئے۔
جس قدر بدمزہ وہ پیزا تھا، اس سے کہیں پھیکی، میری پسندیدہ نشست "آج کا افسانہ" ثابت ہوئی۔ آج کے نامور افسانہ نگاروں حمید شاہد، نیلم بشیر، نیلوفر اقبال اور عاصم بٹ کی موجودگی سے مجھے امید تھی کہ افسانہ نگاری کے فن پر کچھ عمدہ بحث سننے کو ملے گی۔ خیال تھا کہ بالضرور کچھ نئی تکنیک سیکھ پاؤں یا اور کچھ نہیں تو آج کے رجحانات پر کچھ بات ہو جائے۔ کچھ بھی تو نہیں ہوا۔ اپنے اپنے افسانے سنانے بیٹھ گئے اور ہم ڈیڑھ افسانہ سن کر چلے آئے کہ ایک تو دل کی پوری نہ ہوئی اور دوسری جانب توثیق حیدر، جیا علی وغیرہ نے ہال میں الگ طوفان بدتمیزی اٹھا رکھا تھا۔ حمید شاہد، اس سب صورتحال سے خاصے نالاں نظر آئے۔
حمید شاہد تو خیر میزبان تھے، کڑھتے تھے تو ٹوک دیتے تھے مگر ہمارا تو اس قدر دل کھٹا ہوا کہ میلے سے ہی چلے جانے کی ٹھہری، مگر وہ تو بھلا ہو بھٹی کا۔۔۔ پہلی بار اس نے دھیان دیا اور ہم گیلری میں بیٹھ کر سوا پانچ بجنے کا انتظار کرنے لگے۔ بات یہ تھی کہ ہمیں جاتے جاتے بھنک لگی، اس میں سب سے آخری سیشن تو تارڑ صاحب کا تھا۔ اب بھلا ایسا ممکن تھا کہ ہم تارڑ کو سنے بغیر وہاں سے چلے آتے؟ طے یہ ہوا کہ اب بس تارڑ کو ہی سنیں گے اور کسی اور کی ایک نہیں سنیں گے۔
صاحب، تارڑ جیسے ہمیشہ سے رہے تھے، ویسے ہی پائے گئے۔ آصف فرخی نے اس نشست کی میزبانی خوب نبھائی اور ان دونوں کے بیچ چٹکلوں نے ساٹھ منٹ تک سارے ہال میں قہقہے گونجتے رہے۔ چونکہ میری یہ کتھا خاصی طویل ہو چلی ہے تو اس نشست کی چند باتیں جو مجھے یاد رہیں، وہ بیان کر دوں؛
تارڑ صاحب کے کالموں کے مجموعوں تارڑ نامہ 4 اور 5 کی رونمائی کے بعد آصف فرخی نے دریافت یہ کیا کہ بھلا ایک بیج بیچنے والے کا لڑکا، کل وقتی پیشہ ور ادیب کیسے بن گیا؟ اس پر تارڑ صاحب نے ترکی بہ ترکی جواب دیا کہ دیکھو میاں آصف، ہر کوئی تمھارے جیسا خوش نصیب نہیں ہوا کرتا جو آنکھ ہی ایک ممتاز ادیب کے ہاں کھولے۔ پھر بات یہ ہے کہ، ابا بیچ بیچا کرتے تھے، اور اس سے جو کماتے، ایک ادبی پرچہ نکال لیتے۔ سارا پیسہ اس پرچے پر برباد کر دیا۔ تارڑ کہتے ہیں کہ آخر میں ان کے لیے سوائے اس کے کوئی چارہ نہ رہا کہ وہ بس ادب کے ہی ہو رہیں، اسی سے کمائیں اور اسی کو کھائیں اور پھر اسی کو اوڑھ کر سو رہیں۔
ان کے سفرناموں کی، جو ان کا خاصہ ہیں، انھی سے باقاعدہ بات چیت کا آغاز ہوا۔ تارڑ صاحب کا کہنا تھا کہ ہر سفر کا سفرنامہ نہیں لکھا جا سکتا۔ اور جو سفرنامے انھوں نے تحریر کیے ہیں، وہ دراصل ایک خاص ماحول میں تخلیق ہوئے۔ اس بات پر گرہ یوں لگائی گئی کہ تارڑ صاحب، کہنے والے تو کہا کرتے ہیں کہ چند سفرنامے ایسے بھی ہیں جن کے لیے سرے سے سفر ہی نہیں اختیار کیا گیا، بس ماحول ہی بنایا گیا؟ تارڑ صاحب زندہ دل آدمی ہیں تو ہنس دیے، اور ان کی ہنسی میں پورے ہال نے حصہ ڈال دیا۔ بات آئی گئی ہو جاتی مگر، تارڑ نے اس الزام کی سختی سے تردید کی اور نکتے کو یوں واضع کیا کہ وہ سفر جس پر سفرنامہ لکھا جاتا ہے، وہ شاید ہفتے بھر کا ہو یا کچھ دن اس سے بڑھ کر۔۔۔ مگر اس کو لکھنے میں انھیں کئی کئی ماہ لگ جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں ان کا سفر دنوں سے نکل کر مہینوں تک پھیل جاتا ہے اور وہ ان مہینوں میں گویا محو سفر رہتے ہیں۔ یہ ان کے لیے لطف کا باعث تو ہوتا ہی ہے مگر یہ بھی تو سوچیے کہ دنوں کا سفر مہینوں تک، صرف تخیل کے زور پر نہیں کیا جا سکتا۔
بتانا ضروری ہے کہ اس پر ہال تالیاں پیٹتے پیٹتے ہتھیلیاں لال کر بیٹھا۔
چونکہ اب معاملہ تخیل کا تھا تو مزید بات تارڑ کے ناولوں پر ہوئی، جو گزشتہ سال کی اس روداد میں پڑھ لیجیے۔ کچھ نیا نہیں تھا۔ ہاں، تارڑ صاحب کے جو قارئین ہیں، وہ نئی خبر یہ سن لیجیے کہ تارڑ صاحب کا چین کا سفر نامہ آیا چاہتا ہے، آسٹریلیا سے وہ حال ہی میں لوٹ کر آئے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ تارڑ کو جانوروں اور پرندوں سے خاصی دلچسپی پیدا ہو گئی ہے۔ اسی پر انھوں نے اپنا ایک تازہ کالم، جو ''گدھے' کی شان میں لکھا تھا، وہ سنایا اور ہم سارے ہنستے ہنستے لوٹ پھوٹ ہو گئے۔
آخری بات، تارڑ صاحب سے کہانیوں بارے دریافت کی گئی۔ ان سے پوچھا گیا کہ آخر انھوں نے کبھی کہانی نہیں لکھی، کوئی افسانہ نہیں لکھ سکے۔ تارڑ صاحب نے تس پر اقرار کیا کہ یہ درست ہے۔ بقول ان کے، اس کی وجہ ان کا پنجاب سے تعلق ہے۔ لمبے لمبے قصے سننا سنان، پنجابیوں کی عادت ہے، تخیل بھگائے رکھنا ان کا شیوہ سو اب تک سفرنامے اور ناول لکھتے آئے ہیں۔ مگر خوشی کی بات یہ ہے کہ حال ہی میں انھوں نے کچھ کہانیاں بھی لکھی ہیں جو جلد ایک مجموعے کی صورت شائع ہوں گی۔ رسید کے طور پر ایک کہانی کا مسودہ انھوں نے آصف فرخی کو پیش کیا کہ وہ چاہیں تو اسے اپنے ادبی رسالے میں چھاپ دیں۔ سو، دوپہر میں ہوئی افسانے کی نشست کی بدمزگی جاتی رہی، تارڑ صاحب کی مختصر کہانیاں بھی آیا چاہتیں ہیں۔ ہم بالضرور ان کہانیوں میں 'آج کے افسانے' کی نہ صرف تکنیک دیکھ سکیں گے، بلکہ بہت کچھ نیا بھی پائیں گے۔
تارڑ، آپ جانتے ہیں، ایسے ہی ہیں۔ میں مزید کیا لکھوں؟
شام ہو چلی ہے اور بھٹی تارڑ صاحب کو سن کر ایسے تازہ دم ہے جیسے ابھی ابھی کسی خوشگوار خواب سے جاگا ہو۔ دن بھر سر پٹخ رہا تھا، اب سر دھنتا ہوا پایا گیا۔ سو، مجھے جو ڈر تھا کہ کہیں یہ ادب سے بدک ہی نہ جائے، تارڑ صاحب کا شکریہ کہ تسلی ہو رہی کہ مرغا، کہیں نہیں جا سکتا۔ سو، خوشی خوشی رخصت ہوئے۔
اسلام آباد پر شام پھیل رہی ہے اور ہم ہوٹل مارگلہ سے چھوٹتے ہی کہیں کوئی کڑک چائے کا کھوکھا ڈھونڈنے نکل پڑے۔

رپورتاژ
قسط دوئم - تمام شد

ادب کا ادب، میلے کا میلہ - قسط:1

10 تبصرے
وقت کے گزرنے کا احساس زندہ ہونے کی نشانی ہوا کرتی ہے۔ اسلام آباد کے ہوٹل مارگلہ میں باہر جہاں عام طور پر گاڑیاں ٹھہرا کرتی ہیں، اس احاطے کے بیچوں بیچ گول فوارے کی مرمریں دہلیز پر چوکڑی مار میں سوچ رہا تھا کہ پورا ایک برس گزر گیا۔ بخاری کے ہمراہ اسی ہوٹل میں ادب میلہ 2013ء میں شرکت کی تھی اور آج بھٹی کو ساتھ لیے یہاں پھر موجود ہوں۔ گو دو ماہ قبل ہی میرا یوم پیدائش گزرا ہے مگر وہ روز بھی معمولات کی دوڑ میں ایسا گزرا تھا کہ وقت کا کچھ اندازہ ہی نہ ہو پایا۔ اس ادب میلہ کا کچھ یوں ہے کہ، اسلام آباد کی زندگی جس میں حد درجہ ٹھہراؤ ہے، وہاں ایسی بھرپور ہلچل ہو تو احساس بڑھ کر ہوتا ہے۔
منہ کو خون لگنے کے مصداق، پچھلے برس اس میلہ میں شرکت کا تجربہ اس قدر خوشگوار تھا کہ اب کی بار مہینہ بھر پہلے ہی تیاری شروع کر دی۔ مثال، ہمراہی کی تلاش شروع ہو گئی۔ بھٹی چونکہ بغل میں موجود تھا، اسے ہی ورغلا دیا۔ وہ میرے گلے پڑ گیا۔ معاملہ یہ ہے کہ اس کو یقین نہیں تھا کہ میں بھلا ہفتہ اور اتوار کی چھٹیاں قربان کیے اسلام آباد میں بیٹھا رہوں گا، ایسی انہونی جو کہ پچھلے ایک برس میں تو ہونے کو نہیں آئی، تو پچھلے ایک ماہ میں آئے روز مجھ سے روز کے روز یقین دہانی لیتا آیا ہے کہ خدا خبر کہ شاید تاریخ کے آس پاس میری نیت پھرتی جاتی ہو؟
اسلام آباد میلہ پچھلے جمعہ کو بعد از دفتر شروع ہو کر اتوار کی شام قبل از دفتر تمام بھی ہو گیا۔ ڈھائی روز کی اس محفل میں بس کہیے، ہم صرف اردو ادب کی نشستوں میں، اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنائے شریک ہوئے۔ انتظار حسین کو دیکھ کر شرم کھاتے رہے کہ وہ اس عمر میں بھی کیسے بھاگے بھاگے ہر نشست میں نظر آتے ہیں اور آصف فرخی کو داد دیتے ہیں کہ وہ مسلسل بولتے رہے اور کیا ہی عمدہ بولتے پائے گئے۔ کشور ناہید کو سلام ہے کہ کیسے انھوں نے بس پینتالیس منٹ میں بھٹی کے سر پھرے خیالات کو پھیر ڈالا جو ہم آئے روز دفتر میں دن کھانے کی میز پر نہیں کر پائے تھے اور فراز کی یاد تو جیسے ایک گھنٹے میں یوں ہوٹل مارگلہ سے نکل کر چہار سو پھیل گئی کہ ابھی تک تازہ ہے۔ جالب کی شاعری اور تذکرے پر لوگ آج بھی سر دھنتے ہیں کہ حالات تو بھلے بدل گئے ہوں، ذہنیت نہیں بدلی۔ غالب کی دہلیز پر سے ہو کر آئے مگر وائے افسوس، آج کے افسانہ نگاروں نے ہمیں تشنہ لب لوٹا دیا۔ وہ تو بھلا ہو مستنصر حسین تارڑ کا، ہم تو مایوس لوٹنے والے تھے کہ شام سے پہلے ہمیں خوشی خوشی رخصت کیا۔ الغرض جہاں دیکھو، سماں بندھا رہا اور ہم اس سماں میں کہیے دیوانہ وار جھومتے چلے آئے۔
چیدہ چیدہ بیان کر دوں، انتظار حسین نے حال ہی میں اپنے مشہور ناول 'بستی' کے انگریزی ترجمہ کی بکرز ایوارڈ میں نامزدگی پر آصف فرخی کے ہمراہ سفر اختیار کیا تھا۔ واپس لوٹے تو ساتھ مضامین کا مجموعہ اور آصف فرخی اس سفر کی روداد لکھ لائے۔ دونوں کتابوں کی رونمائی اور سفر کا احوال سنانے کی اس نشست میں نہایت عمدہ گفتگو رہی۔ اہم نکتے جو مجھے یاد رہے، اول تو وہ سوال تھا جو انتظار حسین سے کیا گیا۔ یعنی یہ کہ وہ عرصہ ہوا کہانی لکھنا ترک کر چکے ہیں اور ہمیں بس ان کے کہیے تنقیدی مضامین یا کالم ہی پڑھنے کو مل رہے ہیں؟ انتظار حسین اس کا دوش اپنی عمر کو دیا۔ کہتے ہیں کہ اب ان کی وہ عمر ہے کہ ان کو کہانی کی بجائے یاداشتیں سوجھتی ہیں۔ قاسمی صاحب کے انتقال کے بعد، انھوں نے بتایا کہ اب ان سے تجربے اور عمر میں اب کوئی بھی بڑا باقی نہیں رہا اور یہ بات خوفزدہ کرتی ہے۔ پھر بقول ان کے، تنقید ان کا کبھی میدان نہیں رہا؛ کیونکہ انھوں نے عرصہ قبل نقادوں کو دیکھ کر اس کام سے توبہ کر رکھی تھی؛ مگر اب جس کو دیکھو وہی ان سے اپنی تخلیقات پر کچھ نہ کچھ رائے مانگتا ہے، سو وہ مضامین کی جانب، کالم کی جانب نکل آئے۔ اسی بات سے بات نکلی کہ بسا اوقات جو بڑے ادیب ہیں، وہ نئی کتابوں پر کتاب کو ہاتھ لگائے بغیر فلیپ اور تعارف تک لکھ دیتے ہیں، انتظار حسین کا کہنا تھا کہ چونکہ ہم ایسے شرانگیز دور میں جی رہے ہیں کہ جہاں بولیے تو سر کاٹ دیے جاتے ہیں، سیاست ہماری مجبوری بن کر رہ گئی ہے۔ اور ویسے بھی، یہ ہمارا فرض ہے کہ نئے لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ تراجم پر خاصی بحث ہوئی اور ثابت یہ ہوا کہ بھلے اردو سے انگریزی میں ترجمہ مشکل کام ہو، کہاں اردو محاروں کو انگریزی کی باس مار جائے مگر تراجم یوں بھی ضروری ہیں کہ اگر ایسا نہیں ہو گا تو باہر کی دنیا میں کون جان پائے گا کہ انتظار حسین بھلا کیا کہتے ہیں اور وہ کیسے ادیب ہیں؟ مثال کئی غیر انگریزی ادیبوں کی دی گئی کہ جناب انھیں بھی تو ہم نے ان کے تراجم سے ہی جانا ہے۔
انتظار حسین کی تو کیا ہی بات ہے۔ وہاں سے چھوٹے تو باہر کتابوں کے سٹال پر چلے آئے۔ یہاں اپنے اردو بلاگر دوہرہ ح صاحب اور محمد سعد سے ملاقات ہو گئی۔ دیر تک کتابیں ٹٹولیں، ان کو سنا، خود کی آواز بلند کی اور میلے کے احاطے سے باہر جا کر سگرٹ سلگا کر بیٹھ گئے۔ دوہرہ ح صاحب انٹرنیٹ پر ایک دوسرے کے خلاف ہرزہ سرائی پر نالاں نظر آئے اور محمد سعد حسب معمول ریکارڈنگ مشین بنا چپ چاپ بیٹھا رہا۔ بھٹی کو بہرحال سر پٹخنے میں ملکہ حاصل ہے، سو وہ اسی میں مصروف رہا۔
فیفو سے بھی ملاقات خوب رہی۔ ایک برس میں مزید کمزور ہو چکی ہیں، معلوم پڑتا ہے کہ انگریزی نے کچھ اچھا سلوک نہیں کیا۔ فیفو کے ہمراہ ان کی ہمشیرہ بہجت بھی میلے میں موجود تھیں۔ اللہ ماشاء اللہ دونوں ہی خوب ہیں۔ فیفو اگر بولتی رہتی ہیں تو بہجت لکھنے میں عمدہ ہیں۔ بہجت نے حال ہی میں چھپا، اپنی انگریزی نظموں کا مجموعہ، 'فلیش بیک' کا تحفہ عنایت کیا، جس پر ان کا خصوصی شکریہ۔
یہ تو وہ لوگ ہیں جنھیں میں انٹرنیٹ پر جانتا ہوں اور کیسی عمدہ ایجاد ہے یہ کہ کیسے کیسے قیمتی لوگوں کو جانتا ہوں۔ خالص ادب کی دنیا کی کہیے تو فی الوقت وہاں ایک ہی واقف موجود تھا۔ علی اکبر ناطق سے بھی واقفیت کا کہوں تو بس اتنی سی ہی ہے کہ پچھلے برس جب ملاقات ہوئی تھی تو بتایا تھا کہ صاحب، میں عمر بنگش ہوں اور میں افسانے لکھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اس برس یہ ہوا کہ سامنا ہونے پر بتایا کہ جناب میں عمر بنگش ہوں تو آگے کی بات ناطق نے خود ہی کہی کہ، 'ارے واہ، میں نے آپ کا افسانہ رسالے میں پڑھا تھا'۔ اس طرح اگر یہ پیمانہ مقرر ہو تو پچھلے ایک برس میں ناطق سے میری واقفیت اور ادب کی دنیا میں جست اتنی سی رہی۔
ہوٹل سے باہر، گو گرمی خوب تھی مگر ان تمام احباب سے ملاقات، باتیں اس قدر فرحت بخش تھیں کہ احساس ہی نہ ہوا کہ کب جالب کو یاد کیا جانا شروع بھی ہو گیا۔ دوڑے دوڑے پہنچے تو ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا مگر ہمیں پشت کی دیوار پر ٹیک لگا کر کھڑے ہونے کو جگہ مل ہی گئی۔ جالب کا ذکر آئے اور 'میرے محبوب ضیاء الحق' کو کوئی یاد نہ کرے، ایسا بھلا کیسے ممکن ہے؟ مگر اس نشست میں جالب کی تمام آمروں سے واقفیت گنوائی گئی۔ عارفہ سیدہ زہرا نے گن گن کر جالب کی یادیں تازہ کیں اور ہال میں موجود ہر شخص کو مخاطب کر کے درخواست بھی کی کہ جالب کو بس اس کے شعروں سے مت پہچانو، بلکہ اس کے نظریات پر دھیان دینے کی ضرورت ہے، لوگ بدل گئے ہیں، ذہن نہیں بدلے۔ مجاہد بریلوی اس نشست کی میزبانی کے فرائض سرانجام دے رہے تھے اور انھوں نے اپنے روایتی اینکری انداز سے خاصا مایوس کیا، ایاز امیر نے لمبی چوڑی بات کی، جس میں سے کوئی بات میرے پلے نہیں پڑی۔ زہرہ نگاہ، دھیمے لہجے میں جالب کا ذکر کرتی رہیں۔ کہیے تو اس نشست میں بس زہرہ نگاہ اور عارفہ سیدہ زہرہ نے جالب کی یاد تازہ کر کے جان ڈال دی۔
وہاں سے نکلے تو دن سہ پہر ہو چلی تھی اور ہماری آنتیں قل ہو ھو اللہ کا ورد کیے جاتی تھیں۔ دوڑے دوڑے میلوڈی پہنچ کر اس جہنم کو ٹھنڈا کیا تو اگلے روز کا خیال آیا۔ محمد سعد تو پتلی گلی سے نکل لیا مگر بھٹی، میرے ساتھ ساتھ اس کے منہ کو بھی یہ خون لگ چکا تھا۔ وہ نیک بخت اگلے روز صبح سویر ہی آنے پر تل گیا۔ آج کے روز اگر میں اس کو لے کر آیا تھا، اگلے روز را رہنما اس نے خود کو مقرر کر لیا۔ بھٹی کی راہنمائی میں اگلا روز کیسا بیتا؟ جیسے بھٹی مجھ ڈھیلے ڈھالے کو لیے لیے پھرتا رہا، یہاں بھی دیکھیے کب لکھ پاتا ہوں؟

رپورتاژ

محبت کا خدا

20 تبصرے
بھٹائی کے مزار پر عرس شروع ہونے میں ابھی کچھ دن باقی ہیں۔ گاؤں میں برف پڑتے بھی اب کئی روز بیت چکے ہوں گے مگر بھٹ شاہ ابھی تک گرمی میں جھلس رہا ہے۔ میں یہاں سویر ہی آ گیا تھا۔ دن گرمی سے نبٹتے، خود سے بھڑتے بیت گیا۔ ابھی شام پھیل رہی ہے تو کچھ سکون ہوا ہے۔ مزار کے احاطے سے باہر ہر طرف گہما گہمی ہے مگر ایسے میں مزار کے اندر احتراماً سکون قائم ہے۔ جہاں بیٹھا ہوں وہاں سے مزار کا داخلی راستہ صاف نظر آتا ہے۔ دروازے کے ساتھ ملحق ڈیڑھ دو فٹ بلند ایک لمبوترے چبوترے پر چند شاہ جولے ایک ترتیب سے سیاہ کپڑے زیب تن کیے، سر پر سندھی ٹوپیاں ٹکائے نہایت ادب سے زانو سے ستار لگائے بیٹھے ہیں۔ یہ نہایت تحمل سے خاصہ مشکل راگ الاپ رہے ہیں۔ ان کی ہست میں ایک سکون ہے، ٹھہراؤ کی سی کیفیت ہے۔ یہ جب باری باری الاپ اٹھاتے ہیں تو آواز میں دبا غم ہوا بھر بھر کر ماحول میں بکھر جاتا ہے۔ ایسا غم جو اکثر جاڑا آنے سے قبل بلبل کی کُوک میں ہوا کرتا ہے۔ ساتھ ستار کے سر بھی گونج رہے ہیں جو ہاں تو الاپ کی ہاں میں ملاتے ہیں مگر اس کے برعکس طمانیت اور خوشی کا سامان ہیں۔ سُر ابھر ابھر کر دل پر یوں آگے پیچھے گرتے ہیں جیسے اوس ہرے پتے پر گرتے ہی ٹک کر سو رہتی ہے اور پھر جب یکدم ہی تمازت سے پگھلے تو پتا دھل کر نکھر جاتا ہے۔
میں آلتی پالتی مارے ننگے فرش پر وہیں براجمان الاپ اور سروں کے بیچ مچی کشمکش سے الجھ رہا ہوں۔ ایسے میں ادھڑی داڑھی والا ادھیڑ عمر فقیر، رحموں دوبارہ لوٹ آیا ہے۔ نیلگوں نقشوں سفید دیوار سے ٹیک لگا کر میرے اتنے قریب بیٹھ گیا کہ ہم تقریباً سرگوشیاں کر سکتے تھے۔ اس سے میری ملاقات کچھ دیر پہلے مزار کے احاطے میں ہوئی تھی۔ وہ احاطے میں داخل ہوتے ہوئے جھک کر فرش چوم رہا تھا۔ مجھے غالباً پردیسی جان کر پاس آیا اور ہم دیر تک باتیں کرتے رہے۔
رحموں نے خود کے بارے بتایا کہ، دن بھر بھٹ شاہ کی حدود میں دیگیں اور بوریاں ڈھونے کی مزدوری کرتا ہے۔ شام پڑتے ہی وہ مزار کے احاطے میں آ کر سو رہتا ہے۔ دربار کا مجاور تھا، گھر بار سے آزاد۔ یہاں تک پہنچ کر وہ پھر سے اٹھ کھڑا ہوا۔ مزار پر حاضری دے کر دوبارہ واپس آ گیا۔
میں رحموں کی اس حرکت پر چڑنے لگا ہوں۔ بات کو بیچ میں چھوڑ، دوڑ کر جاتا ہے اور بھٹائی کے مزار سے لپٹتا مار دیتا ہے۔ابھی پھر واپس آیا ہے، اور پھر سے گفتگو کر رہا تھا۔ ٹانگیں پھیلا، سر کے پیچھے صافے کی پوٹلی بنا کر سر کو ٹیک لگاتے مجھ سے پوچھنے لگا،
"سائیں بھٹ شاہ کے مزار پر پہاڑیے کوئی کوئی آتے ہیں۔ مہر محبتوں والے، غم کے مارے آتے ہیں۔ سائیں شاہ کی نرالی شان ہے، تو کاہے کو آیا ہے؟"
تب، دن بھر میں پہلی بار میں نے خود کی یہاں موجودگی بارے سوچنا شروع کیا۔ حیدرآباد آئے مجھے چند ماہ ہو گئے تھے۔ ایک فیکٹری میں ملازمت مل گئی تو شب و روز وہاں پاؤں جماتے گزر گئے۔ آج سویر جاگا تو دل ایسا بوجھل ہو رہا تھا گویا کسی نے اس پر من من بھاری پتھر کی کئی سلیٹیں دھر دی ہوں۔ سینے پر پڑے اس بوجھ تلے کجا فیکٹری جاتا۔ ویگن پر سوار ہوا اور بھٹ شاہ چلا آیا۔
---
گرمیوں کے ایک دن کا واقعہ ہے۔ پیٹھ پر لادی پسے ہوئے اناج کی وزنی بوری کے بوجھ تلے میرا سارا جسم دب رہا تھا۔ کمر اب اکڑ کر اللہ واللہ پکار رہی تھی مگر ہمیشہ کی طرح میں نے بھی بس نہ کی۔ خود سے لگائی کوئی شرط جیتنے کی دھن میں ہمیشہ کی طرح پہاڑی کے قدم میں آ کر دم لیا۔ سویر گُپ اندھیرے گھر سے روانہ ہوا، بازار جو چار میل دور پیدل ڈھلوانوں کے ساتھ ساتھ نکلتی کچی پگڈنڈیوں پر تھا، ٹھہر کر، نظارے کرتا، لطف اٹھاتا پہنچا۔ بازار کے باہر پن چکی سے پیٹھ پر پسا اناج لاد کر لوٹا تو راستے میں دم کے لیے کئی بار ٹھہرنا پڑا مگر پچھلا ایک کوس بغیر کوئی دم آسرا کیے طے کیا تھا۔ جس دبے دب، بغیر دم لیے آ رہا تھا اب ٹانگیں بھی جواب دے گئیں۔ خود کو اپنی اس بے ہودہ عادت پر کوسا اور پہاڑی کے قدموں میں پہنچ کر ایک بھاری بھرکم پتھر سے بوری ٹکا دی۔
اس سے آگے چڑھائی کا سفر ہے۔ یہاں ایک دوراہا ہے جو پھیل کر باقاعدہ میدان سے لگتا ہے۔ اس پر اخروٹ اور سیب کے درختوں نے گھنا سایہ تان رکھا ہے۔ اس مقام سے دو راستے نکلتے ہیں جو مختلف سمتوں میں پھیل جاتے ہیں۔ پہلا راستہ کھائی میں سیدھا اوپر اٹھتا ہے اور چوٹی پر واقع چراہ گاہ میں نکل جاتا ہے۔ دوسرا راستہ پہاڑی کے قدرتی خم میں بیچوں بیچ سانپ کی ڈالی لکیر کی طرح اوپر ہی اوپر گھومتا ہوا ڈیڑھ کوس بلندی پر واقع پہاڑی کے سینے پر آباد میرے گاؤں جوسچاں سے نکل کر ویسے ہی گول گول گھومتا اوپر چراہ گاہ میں جا نکلتا ہے۔ دوراہے پر دائیں جانب، راستوں سے ہٹ کر پتھریلی زمیں میں سے ٹھنڈے پانی کا قدرتی چشمہ ابلتا ہے۔ چھوٹے بڑے کئی پتھروں سے اس کے گرد گھیرا مار کر چھوٹا سا تالاب بنا رکھا ہے۔ یہ چشمہ سال کے بارہ مہینے چلتا ہے۔ چونکہ یہ پہاڑی کے قدموں میں ہے تو جب کڑاکے کی سردی میں باقی چشمے جم جاتے ہیں، یہ پھر بھی یوں ہی جاری رہتا ہے۔
میں نے کمر سیدھی کر، کندھے پر جمائے صافے کو کھینچ کر اتارا اور ماتھے پر چمکتے ہوئے پسینے کو پونچھتے چشمے کی راہ لی۔ چشمے کے منہ پر استادہ سلیٹ جیسے ہموار گیلے پتھر پر تسلی سے جم کر بیٹھ گیا۔ ہاتھ دھو، ہتھیلیوں کا پیالہ سا بنا شڑپ شڑپ اس بے چینی سے ٹھنڈا پانی ایک گھونٹ میں پینا شروع کیا کہ میرے سینے کو اسے سموتے مشکل ہونے لگی۔ ابھی جی پوری طرح بھرا نہیں تھا کہ چشمے کے منہ پر جھکائے میرے سر پر مٹی کی ایک ڈل ٹکرائی جیسے کسی نے زور سے کھینچ ماری ہو۔ سر اٹھا کر دیکھا تو چشمے کے بالکل اوپر چیڑ کے پیچھے سفی پہاڑی بکری کی طرح جنگل کی جانب دوڑتی نظر آئی۔ اسے دیکھتے ہی میری پیاس ہوا ہو گئی۔ جھٹک کر ہتھیلیوں میں دھرا پانی گرایا اور ایک ہی جست میں چشمے کا تالاب پھلانگ کر اس کے پیچھے دوڑ لگا دی۔ تھوڑی بلندی پر جہاں جنگل نسبتاً گھنا ہو جاتاہے اسے آن پکڑا اور مضبوطی سے دبوچ لیا۔
"ارے، چھوڑو مجھے۔۔۔ کیا ہے۔ ایسے وحشیوں کی طرح بھی کوئی دبوچتا ہے بھلا؟ توبہ آشو، میری جان نکال دی تم نے۔۔۔ تم جانور ہو!"
سفی میرے بازؤں میں بھری، ہانپتے ہوئے خود کو میرے حصار سے چھڑانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔ میں نے اپنی سانسیں سنبھالتے اسے مزید کس کر بھینچ لیا۔ وہ سکڑ کر بالکل میرے سینے سے یوں چمٹ گئی کہ میں اس کی تیز دھڑکن صاف سن سکتا تھا۔ چہرہ اس قدر قریب ہو گیا کہ میں اس کی بے ترتیب ہوتی گرم سانسوں کا شمار کرنے لگا۔وہ بدستور کوشش کر رہی تھی۔ اسے یوں مچلتے دیکھ کر اندر کہیں حدت سی دوڑ گئی۔ آہستگی سے اس کی زلفیں سمیٹ کر پیچھے کو گرائیں، گیلے ہاتھ اس کے چہرے پر پھیر کرسختی سے سلے ہوئے پتلے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ دھر دیے۔ سفی کے ہونٹ تھرکے اور ایک شرارہ سا پھوٹ پڑا۔ جیسے ہمارے خون میں چنگاری سی لپکی ہو اور ہم دونوں خون میں چنگاری سے شعلہ بنتی حدت سے پگھلتے چلے گئے ہوں۔ بوسے نے گویا جمی موم پگھلا دی۔ سفی کا پھرت بدن نرم پڑتا گیا۔ اس کی سمٹی ہوئی پتلی بانہیں آہستگی سے پھیلیں اور میرے گرد حمائل ہو گئیں۔ آہستہ آہستہ گداز جسم مثال نرم چبنیلی سے بھری گٹھڑی ہو، بے ساختہ میرے بازؤں میں جھول گیا۔
بوری جوں کی توں نیچے چشمے کے پاس پتھر پر ٹکا پڑی رہی۔ میں جو اس بوری کو اتنی دور سے پیٹھ پر لادے دم بھرتے، خود سے بے وجہ کی شرطیں جیتتے ڈھو کر لایا تھا، سفی سے ملتے ہی اس سے بے پرواہ ہو گیا۔ سفی کے ساتھ سب کچھ بھول بھلا کر جنگل میں گھنٹوں بیٹھا رہا۔
چیڑ کے جنگل دن میں بھی ایسے ہی بلا کے خاموش رہتے ہیں جیسے کہ آبادیاں صرف راتوں میں چپ کر جاتی ہیں۔ ہر وقت ہوا چلتی رہتی ہے۔ ٹھنڈی، تازہ اور فرحت افزا ہوا جو سب کچھ خود میں سموئے جس طرف چاہے، بہتی جاتی ہے۔ ایسے میں محسوس ہوتا کہ سارا جنگل چپ چاپ مجھے اور سفی کو سرگوشیاں کرتے سنتا ہو۔ ہماری ٹوہ میں لگا، ہوا میں ہمارے راز بھرتا ہوا۔ جنگل یہ راز ہوا کے سپرد کر دیتا اور بہتی ہوئی ہوا یہ راز خاموشی سے دور پہاڑوں کو سناتی ہو۔ بسا اوقات ایسا معلوم ہوتا کہ جنگل جیسے ہماری بابت کچھ انوکھا جان لے تو ایسے مسکرائے کہ پتوں کا شور گویا جنگل کی سرگوشیاں ہوں۔ تب جنگل کی خوشی گرم دن میں چیڑوں کے سائے میں، چھن چھن کر آتی سورج کی سنہری روشنی اور ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں کی نرمی، ہمارے چہروں پر تھپکیوں کی صورت عیاں ہوتی۔ سفی پر نظر ٹکائے بیٹھا ہوں کہ اس کی جلد میں ایسی سپیدی دمک رہی ہے جیسی خوبانی کے پھولوں میں ہوتی ہے۔ رنگین جوڑے میں ملبوس سفی مجھ سے جڑی گویا کوہساروں کی دیوی ہو۔ گداز بدن، چمکتی ہوئی نیلی آنکھوں والی انیس سال کی پہاڑی نار۔ شریر ہونٹ، مسکراتی ہوئی چھوٹی سی ناک والی میری سفی۔ ہنستی تو یہ ناک اچک کر اوپر کو اٹھ جاتی اور اس کے نرخرے سے بے اختیار جلترنگ بکھیرتی باریک آواز فوارے کی طرح ابل پڑتی۔ وہ کھنک کر ہنستی، تو ہر بار میں بے اختیار اس کو خود سے لپٹائے بوسے ثبت کرتا جاتا۔ ایسے میں وہ جھینپ کر بھاگنے کی کوشش کرتی اور میں اپنے ہی جذبے کی شدت سے ڈر کر پیچھے ہٹ جاتا۔
یہ روزکا معمول تھا اور ہماری یہ آنکھ مچولی دوپہر کی سہ پہر میں ڈھلنے تک جاری رہتی۔ جب چھنکتی ہوئی سورج کی روشنی اپنی تمازت کھونے لگتی اور ہوا خنک ہو رہی ہوتی، تب جنگل بولنا شروع کر دیتا۔ ہمیں ایک دوسرے سے رخصت لینی پڑتی۔ عارضی ہی سہی مگر جدا ہونے کا غم غڑاپ سے نگل لیتا۔ معمول کابوجھ لادے، اگلی دوپہر تک اسی غم میں تر جیتا رہتا۔
یہ غم کبھی پیچھا نہیں چھوڑتے۔ زہریلے سنپولوں کی طرح، یہاں تک کہ محبت میں سے بھی سر اٹھائے، ہلکی ہلکی پھنکار مارتے نکل آتے ہیں۔ ہر بوسہ، ہلکا سا لمس اور مہین محبت تک ہمیں غمگین کر دیتی ہے۔ یہاں تک کہ گزرتے ہوئے لمحے کے بیت جانے کا غم بھی ادھیڑ کر رکھ دیتا ہے۔ میں جو سفی کی عارضی جدائی پر تڑپ جایا کرتا تھا، اس کے ہمیشہ کے لیے چلے جانے کے بعد دنوں تک چشمے کے اوپر جنگل میں تنہا بیٹھا رہا۔
سفی میرے جذبے کی شدت کے ڈر، اس تڑپ کو بھانپ گئی تھی۔ جس روز وہ چھوڑ کر گئی، میں نے اپنے اسی ڈر سے اس کو آگاہ کیا تھا، اپنے غم میں شریک کرنے کی جراءت کر بیٹھا تھا۔ پہلی بار اس کو وہ ڈر محسوس ہوا جو مجھے ہر بوسے کے بعد محسوس ہوا کرتا تھا۔وہ اتنی خوفزدہ ہو گئی کہ خود کو مجھ پر مکمل طور پر مقفل کر دیا، اپنے آپ کو قطعی پابند کر لیا۔
سفی کے رخصت ہونے کے بعد چند دنوں میں ہی جیسے کئی موسم بیت گئے۔ یہ سارے موسم سیلے جاڑے کے تھے۔ بہار گویا چھو کر نہیں گزر پاتی۔ ہر چیز پرائی، اجنبی ہو کر رہ گئی۔ چیڑ کے درخت جوں کے توں الف کھڑے ہیں، صرف درخت ہیں۔ ان میں سے چھن چھن کر گرتی ہوئی دھوپ میں اب وہ میٹھی تمازت بھی نہیں ہے۔ ہوا بس گزرتی ہے، بہتی نہیں۔ ڈھلوان پر جو گھاس ہے وہ بس گھاس ہے، اس میں کوئی زندگی نہیں دوڑتی۔ دور پہاڑوں کی چوٹیاں چپ چاپ سپاٹ کھڑی رہتی ہیں۔ اب انھیں سرگوشیاں کرنے کو کوئی راز نہیں پہنچ پاتا بلکہ ساری آوازیں تو یہیں جنگل میں بوجھل ہو کر گونجتی رہتی ہیں اور بعض اوقات یہ گونج اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ میں بے اختیار دوڑتا ہوا جنگل سے باہر بازار پہنچ جاتا ہوں اور دم بھی نہیں لیتا۔ ایسے اندھے پہاڑوں میں بھلا کوئی کیسے جیتا، اس لیے میں سردیاں شروع ہونے سے قبل ہی سب کچھ چھوڑ کر میدانوں میں چلا آیا، حیدرآباد آن کر بس گیا۔
میدانوں میں بھی ٹھہراؤ نہیں ہے۔ زندگی آسان ہو چلی مگر اندر کی مشکل ویسی ہی دھری ہے۔۔۔ وہاں چیڑ کے درخت ساکت تھے، یہاں کی عمارتیں کچھ بات نہیں کرتیں۔ ارد گرد لوگ شور مچاتے پھرتے ہیں اور گاڑیاں چنگاڑتی پھرتی ہیں مگر اس سے اندر بنے خلا پر کچھ اثر نہیں ہوتا۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ۔۔۔
میں سینہ تھامے اوپر کو دیکھتا ہوں تو میرا دھیان سامنے کھڑی بھیک مانگتی عورت نے بٹا دیا۔ پکی عمر کی عورت کے بال الجھے ہوئے اور دھول سے اٹ رہے ہیں۔ وہ غالباً کچھ دیر سے بیچارگی سے بھرپور چہرہ لیے ہاتھ پھیلائے یوں ساکت کھڑی ہے جیسے بت ہو۔ میلے کچیلے، جا بجا پھٹے کپڑوں میں سے کہیں کہیں اس کا میلا بدن جھانک رہا ہے۔ اس کے وجود کی ساری بیچارگی جمع ہو کر چہرے پر یوں واضع ہو گئی ہے جیسے مسلسل برف گرتی رہے تو سفیدی کی ہموار سی موٹی پرت بنتی جاتی ہے جس کے نیچے اصل سطح کا کچھ پتہ نہیں ملتا۔ میں اس کو گھور کر کچھ سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں تو وہ بدستور ساکت کھڑی رہی اور بغیر کچھ کہے دیر سے مجھے تکے جا رہی ہے۔ ٹلنے کا نام نہیں لیتی۔ کچھ سمجھ آئی تو جیب سے چند روپے نکال کر اس کی پھیلی ہوئی ہتھیلی پر دھر دیے۔ وہ جیسے چپ چاپ آئی تھی، ویسی ہی چہرے پر بیچارگی لیے ہٹ کر چل پڑی۔
رحموں نے اپنا صافہ مجھے پیش کیا تو میں نے اس سے اپنا آنسوؤں سے تر ہوتا چہرہ پونچھ لیا۔ وہ میری پیٹھ سہلا کر، مسکراتے ہوئے مجھ سے یوں گویا ہوا،
"اپنے ہاتھوں بغیر گن کر بانٹنا تمھیں سکون نہیں دے گا۔ ھاں وقتی چھٹکارا حاصل ہو جاتا ہے۔ تم ایک سکہ بانٹتے ہو تو خدا تمھیں دس اور دے دیتا ہے کیونکہ بانٹنے کے لیے اس کے ہاں بھی کچھ کمی نہیں ہے" میں نے اس کی تبلیغ پر کان دھرے بغیر، کچھ سمجھے بنا بے دلی سے سر ہلا دیا۔ وہ بھانپ گیا۔ اپنے ہتھ تھیلے سے ٹھوٹھ نکالی اور دوڑ کر اس میں پانی بھر لایا۔ نپی سانسوں میں دھیرے دھیرے پانی حلق سے اتارتے ہی اندر کچھ دم ہوا۔ رحموں نے خالی ٹھوٹھ مجھ سے واپس لے کر اپنے تھیلے میں ڈال دی۔ پھر اپنے لہجے میں بھٹائی کی دیواروں میں گہرے ہوتے نیلگوں رنگ کے جیسی سنجیدگی سموئے تھیلا سنبھالتے پوچھنے لگا،
"خدا سے کچھ مانگ رہا ہے؟"
"خود سے لڑتے لڑتے تھک گیا ہوں، کاش مجھے آرام مل جاتا۔ سکون آ جاتا" میں نےہلکے سے جواب دیا۔
اس کی میلی گدیلی آنکھیں جیسے میرا ایکسرے لیتی ہوں، آواز مزید گہری ہو گئی۔
" تو خدا سے کیوں مانگ رہا ہے؟" میں اس کی بچگانہ منطق پر چونک پڑا۔وہ ٹھہر ٹھہر کر پھر گویا ہوا، "وہ تمھیں عطا کر سکتا ہے۔ جب تم بانٹتے ہو تو وہ اور عطا کرتا ہے۔ محبت کی بھی اسے کوئی کمی نہیں۔ تمھیں بخش دینے کو اس کے پاس بیش بہا محبت ہے، جیسے کبھی بابے آدم کو عطا ہوئی تھی۔ زکر کرتے رہو تو سکون بھی مل جاتا ہے مگر ایسے تو تم ہمیشہ یوں ہی ادھورے رہو گے۔" میں نے بے چین ہو کراسے ٹوک دیا،
"تو کیا میں ہمیشہ یوں ہی تھکن سے دوچار رہوں گا، کبھی سکون نہیں پاؤں گا؟" اس پر وہ قہقہہ مار کر ہنس پڑا اور اپنے زانوں سمیٹ کر بولا،
" بہت عرصہ ہوا، میرے ہاتھوں اک قتل ہوا تھا۔ عمر قید کاٹ لی۔ ساری عمر کی جمع پونجی خون بہا میں دے ڈالی۔ پھر ناک سے لکیریں کھینچ کھینچ کر معافی مانگ چکا تو عرشوں کے خدا سے لے کر وارثین اور سرکار کے قانون سب نے معاف کر دیا مگر میں خود کو معاف نہیں کر پایا۔ خود سے لڑتے بھڑتے اندر ہی اندر مر گیا۔ سب معاف ہو جاتا ہے، اللہ لوکا سب بخش سکتے ہیں مگر جب اپنی منشاء کے لیے تو نے پہلی ضرب خود پر لگائی تھی، اب معافی بھی تو خود کو دے۔ سائیں بھٹ شاہ کے پیارے، سائیں بھٹ شاہ کی مان، عرشوں والا تو بس محبت کا خدا ہے۔ وہ تجھے عطا کر سکتا ہے۔ خود کو معافی تو میاں تجھے خود سے ہی دستیاب ہو گی کہ اپنے خود کا تو آپ خدا ہے۔"
رحموں فقیر، محبت کے خدا کا خلیفہ دیوار تھام کر کھڑا ہو گیا۔ وہ شاید پھر سے مزار کو لپٹا مارنے جا رہا تھا۔کافی دیر بعد بھی وہ لوٹ کر نہیں آیا۔ دھمال شروع ہو گئی ہے تو شاید اس کے حال میں شامل ہو گیا جبکہ میں وہیں جم کر بیٹھا اپنے اندر، خود کے خدا کو منانے پر جان جوکھ رہا ہوں۔
بھٹائی کے مزار کی سفید دیواروں پر نیلی آرائش اندھیرے میں مزید گہر گئی ہے پر جیسے جیسے سیاہی بڑھتی ہے، سفیدی بھی اجل کر نکھرتی جا رہی ہے۔

(دسمبر، 2013ء)

کوچہ ادب میں ایک بے ادب

7 تبصرے
سہ ماہی ثالث کا  اکتوبر - دسمبر 2013ء شمارہ موصول ہوا۔  یہ کئی لحاظ سے ممتاز اور میرے لیے تو خود بڑھ کر ہے۔ 
وجہ یہ ہے کہ یہ پہلا ادبی  رسالہ ہے جو پہلی بار گھر کے پتہ پر میرے نام سے وصول کیا گیا۔ پھر اس شمارے میں پہلی بار میرا افسانہ "پہلی صف" شائع ہوا اور یہ ثالث کا بھی پہلا شمارہ ہے۔ 
اب، ثالث پر مزید تبصرہ سوجھ ہی نہیں رہا۔ بات یہ ہے کہ میں  بس ایک قاری رہا ہوں۔ ادب سے کہیے بس شغف اور عقیدت رہی، ادیبوں کو اچھا جانتا ہوں اور تخلیق کاروں کی دل سے عزت و کریمت کا دعویدار۔ اچھا یوں کہ وہ سلیقہ جانتے ہیں اور عزت و کریمت اس واسطے کہ تخلیق کچھ آسان نہیں ہوتا۔ ادب سے تعلق بھی تب کہیے، یا کتب کے زریعے رہا ، لائبریری چلے گئے اور چونکہ نئے دور کے انسان ہیں تو یہ برقی آلات ہمارا زریعہ ہیں۔  میں چونکہ ادب کے کوچے میں ایک بے ادب ہوں تو تکنیکی باتوں سے بالکل بھی واقف نہیں۔ رسالے کے تکنیکی پہلوؤں پر بات کرنے کو کئی فاضل لوگ ہیں اور میں بس اپنے دل کا حال کہہ سکتا ہوں، سو عرض حال ہے۔
معاملہ یہ ہوا کہ کوئی سال بھر پہلے جب اردو میں قریبا چار سال تک  بلاگ (ڈائری کہہ لیجیے) لکھتے لکھتے بھر گئے تو سوچا کہ کیوں نہ  کچھ سنجیدہ لکھا جائے۔ سلیقے سے کچھ کہا جائے اور بات یوں کہیں کہ  کچھ اچھے کا گماں ہو۔  تو کہانی لکھنے کی سوجھی اور پھر یوں تجربات شروع کر دیے۔ اس سے پوچھو، وہاں سے جانو، یہ پڑھ لو، وہاں کہانی کی تعریف لکھی ہے۔ وہاں کوئی محفل ہے جس میں فلاں صاحب خاصے مایہ ناز ادیب ہیں، ارے یہاں تو ادب میلہ سجا ہے تو چلو رنگ دیکھتے ہیں۔ میاں کردار یوں لکھو کہ چلتا پھرتا نظر آئے، ہے ہے یہ کیا کر رہے ہو ادب بھلا ایسا لکھا جاتا ہے؟  میاں تیار رہو کہ تم نے ادب کی صنف میں ہاتھ ڈالنے کا دعویٰ کیا ہے، یار لوگوں نے تمھاری تحریروں کے چیتھڑے تک باقی نہیں چھوڑنے،  تم بس دلبرداشتہ مت ہونا۔  قصہ مختصر سال بھر کا نتیجہ یہ نکلا کہ ادب جیسے نشے کی طرح میری نس میں دوڑنے لگا، سلیقے سے سنجیدہ لکھنے کی جیسے لت پڑ گئی، دس افسانے جن میں سے پہلے پہل بس تجربات ہیں اور بعد تھوڑی کامیابی کہوں گا، اتنے ہی لکھ سکا اور مزید لکھنے کے لیے سنجیدگی سے خیالات کو جمع کرتا رہتا ہوں۔ سو کہوں تو میں اب رکنے والا نہیں ہوں۔
بات  ثالث کی ہو رہی تھی۔ چونکہ میں یہاں وارد ہو چکا ہوں تو  بات صرف کتب، لائبریری تک ٹکنے والی نہیں ہے۔ بلاگ تو یہ ہے نہیں کہ بھیا وہاں لکھا، یہاں چھاپ دیا۔ کسی نے واہ واہ کی، دو ایک لعن طعن کر کے نکل گئے اور میں یہاں اگلی کھچڑی پکا رہا ہوں تو کوئی پرواہ نہیں۔ چونکہ میں نوارد ہوں تو اس کوچے میں دیکھ بھال کے چلنا ہو گا،یہاں ہر شخص مجھ سے بڑھ کر فاضل ہے۔ خیر، چونکہ ہم برقی دور کے باسی ہیں تو رابطے خاصے آسان ہو چکے ہیں۔ فیس بک پر ایک پوسٹ نظر سے گزری کہ بھارت کے شہر مونگیر سےایک ادبی رسالہ جاری ہونے جا رہا ہے جس کے لیے نگارشات درکار ہیں۔ خوب سوچا، اپنے خیر خواہ ریاض شاہد صاحب سے باتوں باتوں میں ذکر کر ڈالا اور یوں ڈرتے ڈرتے اقبال صاحب کو افسانے پہلی صف، ناٹکا اور ایک  خاکہ چوکیدار کاکا ارسال کر دیا۔ ادب بہت عجب شے ہے، دھڑکا لگا رہتا ہے۔ میرے بلاگ قارئین خوب ہیں، کچھ بھی کہہ دوں تو کوئی بات نہیں، فیس بک پر کچھ بھی لکھ ڈالوں تو کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا مگر یقین جانیے کہ علی اکبر ناطق صاحب کے حضور جب "بوئے حرم" رکھا تھا اور اب اقبال صاحب جو ایک مدیر ہیں ان کے سامنے "پہلی صف" اور "ناٹکا" پیش کیے تو خاصہ سہم گیا تھا۔ علی اکبر ناطق نے خوب مشورے دیے تھے، خوب  لتے بھی لیے، سمجھایا بجھایا بھی  اور دوسرے کئی دوستوں نے بڑی نوازش کی تو  پہلی صف جیسا لکھ پایا تھا اور اقبال صاحب نے  اسے اپنے ادبی رسالے "ثالث" کے پہلے ہی شمارے میں چھاپنے کا عندیہ دے دیا۔ صاحب بات یہ ہے کہ  کسی ادبی رسالے میں چھپ جانے، مدیر کے ڈیسک سے پار ہو جانے اور میرے جیسے ادب کے کوچے میں ایک نوارد کو جب کوئی اپنے خالص ادبی رسالے میں جگہ دے گا تو بتائیے یہ میرے لیے امتیاز کی ہی بات ہے کہ نہیں؟
ثالث کا پہلا شمارہ موصول ہوا۔  اس کے لیے قریب کوئی تین ماہ انتظار کیا۔ گھر والوں کو دکھایا، فیس بک پر دوستوں سے بانٹا اور اب  فرصت سے موقع ملتا ہے تو ہتھ بیگ سے نکالتا ہوں تو ایک ایک باب، افسانہ در افسانہ، مضامین  اورغزل،  نظموں کو توجہ سے پڑھنا شروع کر چکا ہوں۔  پہلی صف کا جیسے میں نے اپنا قصہ بیان کیا ہے، اس شمارے میں موجود ہر تخلیق کے پیچھے ایسی ہی کوئی کہانی موجود ہے۔ ثالث کو توجہ سے تھامتا ہوں کہ یہ پہلا شمارہ اقبال صاحب کے لیے بھی ان کی زندگی کا خاصہ اہم واقعہ ہے جیسا کہ میرے لیے کسی سنجیدہ ادبی رسالے میں پہلی صف کا چھپنا ہے۔  
اقبال صاحب کو تہہ دل سے  ثالث پر مبارکباد  اور مجھے؟ 
میں اپنی اس کامیابی کو اپنے بلاگ "صلہ عمر" کے تمام قارئین کے نام کرنا چاہوں گا کہ ان کی محبت نے مجھے  یوں اس طور کھڑا ہونے کی جرات عطا کی ہے۔

٭تمام افسانوں کی فہرست

حلال رزق

7 تبصرے
تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہوجاتا ہے۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں جو صحرا کے اندرون پھیل جاتے ہیں۔حوالے کاآخری سنگ میل قصبہ پچپن میل ہو تو دائیں جانب سے نکلنے والے ایسے ہی اک کچے راستے پر کھوہ والا، تیرہ میل اندرون تھل ٹیلوں کے بیچوں آباد ہے۔
پکی سڑک سے نکلنے والا یہ کچا رستہ کھوہ والا کے وسط میں جہاں پنچائیت کا چبوترہ واقع ہے، پہنچ کر ختم ہو رہتا ہے۔ اس کے برابر میں کچی اینٹیں گارے سے لیپ کر ایک مسجد کھڑی ہے جو دیکھنے میں بالکل مسجد نہیں ہے۔ اول اس کے روایتی مسجدوں کی طرح کوئی مینارہ نہیں، پھر قبلہ رخ دیوار کے وسط میں محراب کا کُب بھی نہیں نکال رکھا۔مسجد کے نام پر یہ دس فٹ کا سادہ سا لمبوترہ مستطیل کمرہ ہے۔ سب سے اگلی صف کے بیچ کھردری اون کا مصلیٰ بچھا ، بغل میں بودی لکڑ کی ایک اونچے پایوں والی کرسی منبر بنا کر محراب کا دھوکہ دے رکھا ہے۔ بقایا جگہ پر صرف تین صفوں کی گنجائش ہے جو پتلی صحرائی چلوتر تیلیوں کی بُن کر اہتمام سے بچھا رکھی ہیں۔ باہر برآمدہ پکی ریت سے لیپ کر ہموار ہے جہاں کبھی کبھار تبلیغی جماعت آ نکلتی تو اپنا چولہا سلگا لیتی تھی، یہیں مولوی امین کا حجرہ بھی ہے۔ پنجائیت کے چبوترے ، مسجد اور اس کے پچھواڑے میں کنویں کے گھیر چہار پھیرکھوہ والا گاؤں آباد ہے۔ گھر، مٹی کے ڈھارے یہاں وہاں بکھرے ہیں۔ صحرا کے ٹیلوں کی مانند انکی کوئی ترتیب نہیں، پھر بھی جیسے ٹیلے یک شان ہوتے ہیں، ویسے یہ بھی ایک رنگ اور ان میں بسنے والے سیدھے سادے صحرائی، ٹیلوں کی مانندخصلت میں اندر باہر یک رنگے لوگ۔
یہ کل وقتی کاشتکار مزدوروں کی بستی ہے جنھیں کدال چلانے، گوڈی کرتے، ڈنگر چار اور وزن ڈھونے کے سوا کچھ سمجھ نہیں۔بعض ایسے بھی ہیں جو جز وقتی نائیوں کا کام بھی جانتے ہیں، کپڑے سینے ہوں یا جوتوں کی مرمت، یہ کام عورتیں بخوبی کر لیتی ہیں تو درزی، موچی کی کوئی حاجت نہیں۔ کمہار وں کے البتہ دو گھرانے ہیں جو کل وقتی یہی قماش اختیار کیے ہوئے ہیں۔ یہ گاؤں بھر کے لیے مٹی کے برتن گھڑتے، ساتھ بڑے چوک میں بھی بیچ آتے سو نسبتاً خوشحال بھی ہیں۔
بستی گو کاشتکاروں کی ہے مگر کاشت کرنے کو بس کچھ ہی ایکڑ ہیں جو کبھی ٹیلے ہوا کرتے تھے۔ آج کے کھوہ والا کے پشتوں نے کبھی انھیں ہموار کر کے کھیت بنا لیے تھے ورنہ یہ اسی صحرائی ریت کے چٹیل کیے میدان ہی ہیں۔ معاملہ یوں ہے کہ ریت جہنم سی گرم رہتی ہے تو زرخیز مٹی کی پرت بے بس ہو جاتی ہے۔ مزید زمین کا پانی سیسے کے بھاری پن سے کڑوا کسیلا ہے ہونے کے سبب مارچ سے نومبر تک سبزہ اگنے کا سوال ہی نہیں۔جاڑے میں بھی اس میں جان بھرنے کو سارے گاؤں کے کل نفس جت جائیں تو کہیں جا کر صرف ربیع فصل کاشت ہوتی ہے۔
-----
اکتوبر چڑھ آیا ہے، بسبب گاؤں بھر میں گہما گہمی ہے۔ وہ مرد جو پچھلی فصل اٹھا کر مزدوری کرنے نکلے تھے بیج اور کھاد لے کر واپس لوٹ آئے ہیں۔ ناریاں جنھیں ساری گرمیاں تپتی ریت سے زیادہ اپنے محبوب کی یاد جلاتی رہی ہے، دیدار نصیب ہوتے ہی ان سانولے چہروں پر لالی در آئی ہے۔ پھر بیویاں ہیں جنھوں نے سال بھر اپنے مجازیوں کے گھر بار کی رکھوالی کی ہے ان کے لیے جہاں چڑھتا جاڑا زمین کی ہریالی کا پیغام لایا ہے وہیں ارمان بھی جاگ اٹھے ہیں۔ اگلی فصل اٹھے گی تو اس کے بعد کوئی وجہ نہیں کہ ان کی گودیں بھی بھر رہیں گی۔ صحرا کےان مضبوط جوانوں کے کمزور، بوڑھے ماں باپ بھی ہیں مگر ان کا حال کوئی نہیں بتا سکتا۔ ان کے سینے میں جو ٹھنڈ بیٹوں کی واپسی نے تانی ہے اس کا نہ تو کوئی اندازہ کر پائے گا اور نہ حساب رکھ سکتا ہے، صحرا کی حدت تک اس ٹھنڈک کے سامنے ہیچ ہے۔ اکتوبر کی تاثیر، سب سے بڑھ کر کاشتی کھیتوں پر عیاں ہے۔
یہاں، ہل کے آگے بیل کی جوڑیاں جوت کر ریت کےاوپر زرخیز مٹی اتھل پتھل کی گئی تو خدا خبر کہاں سے رنگ برنگے پرندے اڑ اڑ آئے۔ یہ ہل کے کھرپوں کے پیچھے اڑتے جاتے ہیں، چُن چُن کر صحرائی کیڑے چونچوں میں دبائے چلے جا رہے ہیں۔ جیسے جیسے بیل آگے ہل چلاتے ہیں، ان کے پیچھے عورتیں لمبے بانس کے سرے پر ٹکائے دستی کھرپوں سے روڑے باریک کرتی جاتی ہیں۔ پھر بڑے بوڑھوں کو کھیتوں میں بلا لیا گیا ہے۔ ان کی موجودگی میں سارے رقبے پرپہلے زہر لگا بیج اورپھر کھاد کی بجائی کر کے ریت کو دوسرے ہل سے دبایا گیا تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ کھو ہ والا کا ہر باشندہ خدا کے حضور اپنے پورے برس کی محنت یوں ویرانے میں سپرد کرنے کی عرضی ڈالتا ہو۔
ٹھنڈے پڑتے صحرا میں اصل رنگ اس وقت جوبن پر آیا جب پیٹر انجنوں سے پہلا پانی چھوڑا گیا۔جی جاندار تو رہے ایک طرف، بے جان ریت تک میں جیسے زندگی دوڑ گئی ہو۔ بچے جانگیے پہنے جہاں پانی کا منبع گرتا تھا، ریت کے کھڈوں میں کود پڑے۔ یہی پانی یہاں سے برآمد ہو کر ریت کے کھالوں سے ہوتا کھیت سیراب کرتا جاتا۔ جوان ریتلے کھالے سنبھالنے میں مگن ہیں تو بوڑھے پیٹروں کے پاس چارپائیاں ڈال کر کئی کئی گھنٹوں حقے گڑگڑاتے رہے۔
-----
گندم بو چکے تو کھوہ والا کی راتیں جاگنا شروع ہوئیں۔ شام کو ریت ٹھنڈی پڑتی تو سارا گاؤں چبوترے پر نکل آتا۔ کنویں پر آگے پیچھے کئی عورتیں سر پر مٹی کی گڑویاں اٹھائے رش لگاتیں۔ جوان لڑکیاں رنگ برنگے کپڑے پہن ، سج دھج کر نکلتیں ۔ کنویں پر تھوڑی تھوڑی دیر بعد کھنکھناتے قہقہے بلند رہتے، یہاں جوان لڑکے چبوترے پر بازیاں لگاتے ۔ بچے جمعراتوں کروڑہ مروڑہ کھیلنے میں مگن ہیں تو بوڑھے حقے سلگا، ریت میں دھنسی چارپائیوں پر بیٹھ کر ماضی ٹٹولتے رہتے ۔ تب ہر بار بحث گھوم پھر کر فصل پر جا ٹکتی۔ جیسے بابے سمدا ایک روز چارپائی پر لیٹے ،حقے سے دھواں بھر بھر نتھنوں سے ہوا میں اڑاتے ہوئے ساتھ مونڈھے پر بیٹھے شفیے سے کہنے لگا ،
"شکر ہے تیسرا پانی بھی لگ گیا۔ ابا تیسرے پانی پر خالص گھی میں حلوہ تلوا کر بانٹا کرتا تھا، اب تو خالص گھی بس سونگھنے کو ہی مل پاتا ہے۔ کہاں رہا اب وہ سستائی کا زمانہ۔۔۔" شمسو کمہار بابے سمدھے کو ماضی سے کھینچ کر واپس مدعے پر لے آیا تو اس نے مزید کہا، "بس دو پانی اور لگ جائیں تو کام اچھا ہو جائے گا۔ بس خدا کرے کہ ایک دو چھاٹیں بدل کی بھی برس لیں تو فصل جی اٹھے گی، اب تو بارش بھی پہلے کی طرح نہیں برستی، جب بدل آتا ہے تو خاصی دیر ہو جاتی ہے ،دانہ پک جاتاہے۔ مولا کا نام لیوا جو کم ہو گیا ہے ناں۔۔۔" اس پر شفیے نے جو ہتھیلی پر تمباکو رگڑ رہا تھا، کچھ کہنا ہی چاہا کہ مولوی صادق تسبیح کو روک لگا کر بیچ میں بول پڑا،
"باوے سمد، خدا کی رحمت تو اس کا خیال رکھنے میں ہے، اس کے گھر کی خدمت کرو گے تو وہ تمھارے رزق میں برکت ڈالے گا۔" شفیے نے مولوی صادق کی ہی ہاں میں ہاں ملائی،
"میں بھی یہی کہنا چاہتا تھا، اس بار فصل اٹھنے پر سب سے پہلے مسجد کی پچھلی دیوار اکھاڑ کر محراب بنوانی چاہیے، فرش بھی دیکھو پھر سے اکھڑ رہا ہے۔۔۔ اللہ بھلی وار کرے تو تین بوریاں سیمنٹ کی میرے زمے سہی۔۔۔"۔ مولوی صادق نے دبے لفظوں وظیفے میں اضافے کی طرف بھی توجہ دلائی توبابے سمدے نے چارپائی سے اٹھتے جھوٹے منہ یقین سا دلاتے اپنے بیٹے نور محمد کو پکارا کہ ڈھور ڈنگر تو اس نے سارا ہانک کر باہر چبوترے کے سامنے کیکر اور شریں تلے باندھ دیا تھا پر کھرلیاں ابھی تک ویسی ہی سوکھی پڑی تھیں۔
ان، جان پڑتے کھیتوں میں تب نور محمد، ڈنگر باہر باندھ کر، چبوترے پر سے نظر بچا کر نکلتا اور گاؤں سے باہر شمی سے ملنے جایا کرتا۔ نور محمد سمد کاشتکار کا بیٹا، سالہا سال صرف گندم بجائی اور فصل کٹائی کے لیے ہی گاؤں آتا۔ اس کے علاوہ پورا سال ٹھیکیدار کے ہاں سڑک کی مزدوری کرتا ، پتھر توڑتا، مسالہ گھولتا، یہاں تک جان مار کر تارکول تک چھڑکنے میں جت رہتا مگر جان کھوہ والا میں اٹکی رہتی، جہاں شمی نے اس سے پیمان کر رکھا تھا۔
شمی انیس سال کی سانولی رنگت والی، جیسے دمکتے سونے کی ڈلی ہو۔ شاویز کمہار کی بڑی لڑکی تھی جو گاؤں بھر کے لیے برتن بناتا ہی تھا، شہر کے دو ایک بیوپاری بھی اس سے لمبی گردن والی صراحیاں، گلدان اور پھولے ہوئے ڈولے بنوا کر لے جاتے تھے۔ اللہ کی دین، اچھا خاصہ دھندہ تھا، سو شمی اپنے باپ کا ہاتھ بٹاتے بٹاتے خود بھی خاصے ڈیل ڈول والے برتن بنانے لگی تھی۔ شمی کے ہاتھ چپٹے اور انگلیاں لانبی تھیں۔ شاویز کہا کرتا تھا کہ شمی سُچی کمہارن ہے، سنہری مٹی کی مورت، مٹی میں جان ڈال دینے والی۔ شاہ ویز صحیح کہا کرتا تھا، اس کا جو رنگ، قد کاٹھ نکالا تھا اور پھر جب دو سال قبل نور محمد سے پیمان باندھا تو جیسے جی توڑ مزدوری کے مارے اس مٹی کے پتلے میں واقعی جان ڈل گئی تھی۔
تیرھویں کا چاند اور ریت کے ٹیلے ٹھنڈی سپید روشنی میں چمکتے، نظر میں ایسی مٹھاس گھولتے تھے گویا مصری کی ڈلیاں کُوٹ کر یہاں وہاں ڈھیریاں بکھیر رکھی ہوں ۔شام بھر پرندے چہچہاتے اور مکوڑے بولتے۔ صحرائی سانپوں کی سنسناتی آوازیں تک دلکش معلوم ہوتیں۔ شام کے پھیلتے سائے میں جب سارا گاؤں چبوترے پر سرشار تھا،  نور محمد نظر بچاتا اور یہاں تک دیکھ بھال کر پہنچا تھا، شمی کو دیکھتے ہی بے باک ہو گیا۔ اسے اپنے مضبوط بازؤں میں بھر لیا اور یہ سمٹی ہوئی بیخود اس سے آن چپکی۔ اس پر یکدم ہی نور محمد کو اپنا گُٹھا ہوا مضبوط جسم پگھل کر شمی کے وجود میں گھلتا محسوس ہوا، جس نے اپنی نرم روئی کے جیسی پتلی بانہیں اس کے گرد یوں لپیٹ رکھی تھیں جیسے ڈر ہو کہ اگر ان کو ڈھیلا چھوڑ دے گی تو خود کلال کے تازہ مٹی کے کاسے کی طرح لڑھک جائے گی۔ نور محمد نے اپنے سینے میں کھبتا ہوا شمی کا چہرہ انگلیوں کی پوروں سے دھیرے سے اوپر اٹھایا تو اس کی آنکھیں لال انگارہ ہو رہی تھیں۔ نور محمد ایک دم سے پیچھے ہٹ گیا اور شمی پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔ سہلاتے پچکارتے ، دیر بعد شمی معصوم بچے کے جیسے ہچکیاں لیتے ہوئے بتانے لگی،
"ابے نے میرے رشتے کی بات کی ہے ، تم میرا ہاتھ مانگ لو" نور محمد کو سانپ سونگھ گیا،
"مگر میرے پاس تو ابھی بیاہنے واسطے رقم نہیں ہے، تو ابے کو منا لے، بس دو سال مزید دیکھ لے۔" اس پر شمی پھٹ پڑی،
"وہ نہیں مانے گا۔ ماں نے میرا جہیز باندھ لیا ہے، چاندی تک منگوا رکھی ہے اور پھر تو جانتا ہے کمہاروں کو۔ رشتہ مانگو نہیں تو بھی ایکدم ہو جاتا ہے، تو بس مجھے اپنے ساتھ لے جا۔" نور محمد نے شمی کو بہتیرا سمجھایا کہ صحرائی لوگ یوں پیچھے نہیں ہٹا کرتے، اپنی بنیاد چھوڑنے کا تو سوال ہی نہیں تھا۔ اسے یہ بھی فکر تھی کہ شمی کہاں اس کے ساتھ پردیس میں خوار ہوتی پھرے گی۔ بالاخر یقین دلانے کو فصل کی تسلی ہی کام آئی۔ طے یہ ہوا کہ اس بار فصل اٹھے تو وہ ساری بچت اس کے باپ کے قدموں میں لٹا دے گا بس وہ بہار تک اسے منا لے۔
-----
لق و دق صحرا کے ریت کے ٹیلوں میں کھوہ والا کے باہر چند ایکڑ سبزہ بہت بھلا معلوم ہورہا ہے۔ دور سے دیکھیں تو جیسے کوئی سبز ہرا قالین بچھا ہو اور اگر فصل کے بیچ کھڑے ہو جائیں تو گویا کھیتوں کے باہر ٹیلوں کی بے جان ریت سورج کی حدت سے نہیں بلکہ اس رقبے میں پنپتی زندگی سے حسد میں جلتی ہو۔ سورج کی تپش بھی اس رقبے پر مہمیز کا کام دے رہی ہے۔  ہر جاگتے دن کے ساتھ فصل میں جان پڑتی جاتی ہے تو ویسے ویسے کھو ہ والا کے باسیوں کے بھی جی کھلتے جا رہے ہیں ۔ اس برس تو بادل بھی ابھی سے گھر گھر آ ئے ہیں، سویر کے تڑکے میں مینہ برسنا شروع ہوا ہے تو صحرا میں صبح نکھر گئی ہے اور کھیت ہیں کہ جیسے نئی آن بان سے تنے کھڑے ہیں۔ آسمان سے برسا پانی بے شک زمین سے کھینچے ہوئے سے بڑھ کر اثر دکھا رہا ہے۔ پیٹ کی آگ توبجھنی ہی ہے اب تو ایسا لگتا ہے کہ مسجد میں سفیدی کے ساتھ ساتھ مولوی امین کا وظیفہ بھی بڑھ ہی جائے گا، خدا بے شک بہت مہربان ہے۔ شمی اس شام بہت خوش ہے کہ فصل پر سویرہوئی چھاٹ نے اس کی امید بھی بڑھا دی ہے۔
صحرا میں بارش کے بعد سے فضا مرطوب ہو رہی ہے اور سبز فصل کے بیچوں بیچ کھڑے ہونا اب تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔ حبس بڑھ گئی ہے تو اس کا نتیجہ کچھ ہی دنوں میں یہ رہے گا کہ فصل سنہری ڈانڈے بنی لہک رہی ہو گی۔ اسی سبب پورے کھوہ والا میں اب اور ہی سماں ہے، فصل کٹائی کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ یہاں اگر درانتیاں لوہاروں کے ہاں بھٹی میں دھاری پر تیز ہونے کو پک رہی ہیں تو وہاں عورتیں بوریاں سینے میں مصروف ہیں ۔ اگر دن میں گرمی سے لوگ نیست ہو کر سو پڑتے ہیں تو نسبتاً بہتر رات بھر دیر تک احاطوں کی صفائیاں کی جا رہی ہیں۔ تقریباً لوگوں نے مزدوریوں سے چھٹی لے لی ہے۔ گاؤں کی واحد ٹریکٹر ٹرالی والے مرشد علی کو کہلوا کر شہر سے واپس بلوا لیا گیا ہے اور گھروں میں کوٹھواروں کو صاف کر کے ابھی سے کڑوا دھواں مار کر کیڑے مار دوائی کا چھڑکاؤ بھی کر دیا گیا ہے۔ فصل سنبھالنے میں مہینہ بھر تو لگ جائے گا، سو مصروفیت رہے گی۔ اسی لیے ضروری راشن وغیرہ بھی ڈھو دیا گیا ہے اور شہر کے تمام کام نبٹائے جا رہے ہیں، تا کہ یکسوئی سے سال بھر کے رزق کا انتظام ہو سکے۔
-----
فصل کٹائی میں بس دو ہفتوں کی دیر ہو گی کہ ایک رات جب تیسرا پہر پار ہونے کو تھا، مولوی امین نے ابھی مسجد کے باہر برآمدے میں قبلہ رو کھڑے، کان پر ہاتھ دھر کر فجر کا بلاوا دینا ہی کیا، اللہ اکبر۔۔۔ اللہ اکبر۔ گاؤں بھر کے بڑے بوڑھے جوانوں کو سوئے پڑے کوس اور عورتوں کو چاٹیاں رڑکتے چھوڑ مسجد کا رخ ناپا۔ اذان ابھی اشہد کے وسط میں تھی کہ ایک مکوڑہ مولوی امین کی گردن پر روڑے کی طرح آن لگا اور سپٹ نیچےپیروں میں گر گیا۔ کان چھوڑ اس نے گردن کھجائی۔ نیچے دھری لالٹین کی روشنی میں دیکھتا ہے کہ ایک ٹڈی اس کے منہ کے آگے سے ہوا میں تیر گئی۔ مولوی امین کے حلق میں اشہد اللہ لرز سی گئی۔
جلد ہی سارا گاؤں پیروں پر تھا جن کے نیچے سے زمین نکل چکی تھی۔ تیار فصل پر ٹڈی دل حملہ کر گئی اور سارا انتظام دھرے کا دھرا رہ گیا۔ دعائیں، دوائیں اور محنت سب اکارت گئی۔ پھوٹتی روشنی میں دیکھتے ہی دیکھتے جہاں جہاں سبزہ دکھتا تھا ٹڈی دل ڈانڈوں تک کو چٹ کیے جا رہا تھا۔ کھلے میدان میں اگر ٹڈیاں جیسے سیاہ مرغولے اڑتی پھر رہی تھیں تو زمین پر گویا ان کی بکھائی تھی۔ کھیتوں میں تویہ حال کہ کوئی ہرا ڈانڈہ دانے تک انھوں نے کورا نہیں چھوڑا، یہاں تک کہ جڑوں کو بھی اوپر سے نوچ گئیں۔ سبزے پر بھر کر یہ وہیں پڑتی گئیں اور یوں دوپہر تک کھیت ٹڈیوں سے اس قدر اٹ گئے کہ اگر کوئی زمین پر پیر دھرتا تو قدموں کے نیچے بیسیوں ٹڈیاں کچلے جانے سے چر چر ا جاتیں۔
سارا کھوہ والا دن بھر اپنی بربادی تاڑ چکا تو شام میں چبوترے پر اکٹھ ہوا۔ کسی کے حلق سے کچھ برآمد نہ ہوتا تھا، نک دلی عورتیں باقاعدہ بین کر رہی تھیں اور مردوں کی جیسے آواز حلق میں رندھ کر جکڑی گئی ہو۔ اب یہ کچھ روز کا ہی معاملہ تھا، جب پچھلے سال کی گندم ختم ہو رہتی تو کھوہ والا کے باسیوں کو فاقے دیکھنے تھے۔ بیج کھاد اور دوائیاں قرض پر اٹھائی تھیں اس کا طوق علیحدہ سے ان کے گلے میں لٹکنے والا تھا۔ اب وہ پیٹ کو پالتے یا قرضے اتارتے،کسی کو کچھ سجھائی نہ دیتا تھا اور چھٹکارا تھا نہیں۔ سو دیر تک بڑے بوڑھوں میں بحث چلتی رہی۔ نور محمد بجھ کر، بوجھل قدموں کھیتوں میں جا کر بیٹھ رہا۔ رات گئے اک فیصلہ کر لیا گیا۔
-----
سویر ہوئی تو کھوہ والا کے مرد، عورتیں اور بچے بیلچے، جالی دار کپڑوں کی چادریں اور خوانچے لیے گندم واسطے سلی بیسیوں بوریوں میں کھیتوں سے ٹڈیاں جمع کرتے رہے۔ جالی دار چادریں عرض کھول کر سبزے کے آس پاس دن بھر لٹکائے رکھیں، یوں اڑتی ٹڈیوں کا شکار بھی ہوتا رہا۔ الغرض شام گئےہر گھر کے کوٹھوار میں ٹڈیوں سے بھری کئی بوریاں، گویا اس سال کی فصل ربیع محفوظ پہنچ رہیں۔ اس رات کھوہ والا کے باسیوں نے پہلی بار شریعت کی رو سے ٹڈیوں کا حلال رزق پکا کرکھایا۔
چند روز بعد نور محمد کئی نوجوانوں بشمول نوعمر لڑکوں کو ساتھ لیے ٹھیکیدار کے ڈیرے کی طرف روانہ ہو گیا۔ جس بہار کا وعدہ اس نے شمی کے باپ سے لیا تھا وہ اب کئی سالوں تک لوٹ کر آنے والی نہیں تھی۔

-افسانہ-
اگست، 2013ء

پہلی صف

13 تبصرے
اکبر خان جتوئی جدی پشتی زمیندار تھا۔ اس کی حویلی ایک بیگھے رقبے پر اس کے دادے نے بڑی باڑھ کے بعد دوبارہ تعمیر کی تھی۔ ساتھ ہی اس کے کئی باڑے اور ایک ڈیرہ جس پر ہر وقت مزارعوں اور باڑے کے ماجھیوں کا تانتا لگا رہتا تھا۔ اللہ کا دیا سب کچھ تھا۔ تین بیویاں، دو جوان جہاں بیٹے جو زیادہ تر شہر میں رہتے، کئی گھیر زمین کی جاگیر، جس میں کئی ایکڑ آموں کے باغوں کے علاوہ سال میں ایک اناج اور دوسری صاف منافعے کی فصل بوئی جاتی تھی۔ سب کچھ تھا مگر جیسے کمی ہوا کرتی ہے، اکبر خان کی بھی دو کمزوریاں تھیں۔ اول، ضرورت سے زیادہ زمین ہونے کے باوجود وہ مزید سمیٹنے سے خود کو باز  نہیں رکھ سکتا تھا اور دوم حویلی کی زنان خانے میں تین بیویوں کے باوجود بھی وہ ڈیرے پر عورتیں لائے بغیر گزارہ نہیں کر سکتا تھا۔ ہر سال کچھ نہ کچھ زمین یا تو کسی مجبور سے خرید لیتا، نہیں تو ہتھیانے تک کے لیے اس کے کاردار موجود تھے جن میں اکثر چھٹے ہوئے مفرور تھے جو اس کے ڈیرے پر پناہ لیے ہوئے تھے۔ پھر جبلی ہوس کے لیے  اکثر تو ناچنے والی کنجریاں بلا لاتا ورنہ مزارعوں کی عورتیں تو کھونٹی پر بندھی گائیوں کی طرح ہر وقت ہی اس کی خدمت واسطے موجود تھیں، یہاں بھی جو مرضی سے آ جاتی تو ستے خیراں نہیں تو اس کے کاردار پگڑی لے کر جاتے اور رات کے نکاح میں باندھ کر لے آتے۔
جو بھی تھا، ان دو قباحتوں کے علاوہ اکبر خان بھلا آدمی تھا۔ پانچ وقتی جماعت کا نمازی، مسجد کا خادم۔ سارا خرچہ خود تن تنہا اٹھاتا، مولوی کا ماہانہ وظیفہ یاد سے اس کی کوٹھڑی میں بھجوا دیتا، اسی طرح مسجد میں خدا کے مسافروں کے لیےدو وقت کھانا بھی اکبر خان کی حویلی سے ہی پک کر آیا کرتا تھا۔ عرس میلے، زیارت پر کئی ہزار روپوں مالیت کا گھی مکھن اور نذرانہ علیحدہ سے پہنچاتا  کہ اس کی فصل، حویلی اور ڈیرے میں مرشدوں کی برکت اور خدا کا سایہ قائم رہے۔  ھاں، مسجد میں بس اسے ایک خبط تھا کہ ہمیشہ پہلی صف میں عین ملا کے پیچھے نماز  پڑھتا، مجال ہے کہ اس کی جاء نماز پر کوئی دوسرا نمازی قدم ڈالنے کی بھی جرات کر سکتا ہو۔ لوگ اس کے منہ پرگاؤں میں تو کچھ نہ کہتے تھے مگر اکثر نائی موچی بازار میں اکٹھے ہوتے تو دبے دبے اکبر خان  کی اس عادت کو برا جانتے۔ جیسے، نورا حجام ایک دن  ریتی پر استرا تیز کرتے ہوئے  سامنے بیٹھے شوکے موچی  سے کہنے لگا کہ،
 'پہلے تو بس صف میں جگہ تھی، اب اکبر خان نے مصلیٰ تک اپنے لیے علیحدہ سے لگوا لیا ہے۔ آگے مولوی کا مصلیٰ ہے تو ایک سجدہ چھوڑ کر اس کا مصلیٰ بچھا ہوا ہے۔ کاردار نے بتایا کہ خان نے یہ مصلیٰ خصوصاً مدینے سے منگوایا ہے"۔
 شوکا موچی جو بے دھیانی سے اس کی بات سنتے ہوئے گھسے جوتوں میں سوئے تار رہا تھا، مدینے کا زکر سن کر ایک دم مودب ہو گیا ۔ دونوں انگوٹھے چوم کر آنکھوں سے لگائے اور کہنے لگا، "مولا برکت ڈالے۔ خدا جانتا ہے بستی میں اس کی وجہ سے مسجد میں سب کو سہولت ہوتی ہے۔ پانی سارے پہر ٹونٹیوں تک میں آتا ہے، پھر مسافروں کے لیے اس نے جو بندوبست کر رکھا ہے، مولا کی اس کو دین ہے۔"
اس پر نورے نے برا سا منہ بنا کر مسافروں کی آل اولاد میں حرام نطفہ گھسیڑا اور بولا،
 " شوکے، حرام پنا نہ کر۔ خان کی خود کی حالت یہ ہے کہ رات عورتوں کی گود اور فجر مولوی کے پیچھے گزرتی ہے۔ اللہ مجھے معاف کرے، میں نے تو فجر سے توبہ کر لی۔ سویر وہ نام تو خدا کا پڑھ رہا ہوتا ہے مگر منہ کپی کی باس مارتا رہتا ہے۔ جماعت حرام  ہو توایسی مکروہ  نماز کا فائدہ؟" اس پر شوکے نے بھی استغفار پڑھی، پھر گویا ہوا کہ،
"باقی تو سب ٹھیک ہے، بس اس کی یہ عورتوں والی بد عادت چلی جائے تو بندہ ہیرا  ہے، ہیرا۔" اب کے شفیے درزی نے شلوار کے نیفے کا عرض سلائی مشین میں فٹ کیا اور ہتھ دستی سے کھٹ کھٹ مشین چلاتے لقمہ دیا،
 "بات یہ ہے بھائیو کہ اکبر خان مسجد میں نماز پڑھ کر خدا کو راضی رکھتا ہے، مگر پہلی صف میں کھڑے ہونے کی عادت اس کے دادے والی ہے۔ میرا ابا کہا کرتا تھا کہ جتوئیوں کو خدا کی زمین تو عطا ہوئی ہی ہے مگر وہ مسیت کے بھی زمہ دار ہیں۔ کہو تووہ مسیت میں بھی خدا کے شریکے ہیں"۔  ان لوگوں کی یہ  بحث  ہمیشہ کی طرح تبھی بس ہوئی جب اکبر خان کا منشی طیفا وہاں آ کر بیٹھ گیا۔ محفل جما، حقہ سلگا کر تاشوں کی بازیاں چلنے لگیں۔ شوکے، نورے اور شفیے نے اپنا دھندہ ویسا چھوڑ  کر دن بھر کی کمائی تھڑے پر جوئے میں جھونک دی۔
شام میں اکبر خان باہر ہوا خوری کو نکلا کرتا تھا۔ اس روز بھی  جب وہ بازار میں نکلا تو منشی بازی آدھی چھوڑ کر اس کے پیچھے دوڑا تو شوکے نے منہ نیچے کر کے پاس بیٹھے شفیے کی ران دبا کر کہا کہ، "لے بھئی شفیے،طیفا دلال اپنے  خان کے لیے رات کا  انتظام پوچھنے گیا ہے۔" شوکا جو ان دونوں کو سن رہا تھا طیفے کو واپس آتا دیکھ کر بولا، "رب جانے کس مزارعے کی فصل  میں یہ حرامی کھوٹ نکالے گا۔" طیفے نے جیسے بات سن لی ہو، ھنستے ہوئے رقم سمیٹ کر بولا،
 "آج کی بازی تو سجنو میں لے  ہی گیا، اب دیکھو کس دن خان کا باز تم حرامزادوں کی چڑیوں پر نظر ڈالتا ہے۔" یہ کہتے ہوئے طیفے کے انداز نے گویا ان کمی کمینوں کے گھروں کی عزت کے کونے کھدروں تک کو کھنگال لیا ہو۔
اس کی موجودگی میں تو کسی کو ہمت نہ ہوئی، اس کے جانے کے بعد سب نے خان اور اس کے دلال کی  زبانی کلامی خبر لی۔
منشی  طیفے کا کام دلال جیسا ہی تھا۔ وہ اکبر خان کے لیے مزارعوں کی عورتیں ڈھویا کرتا تھا۔ اس کے پاس سب کا حساب تھا۔ جس مزارعے کی کوئی عورت تارنے والی ہوتی تو اس کے حساب میں ردبدل بھی ہو جاتا تھا۔ اکثر تو اس کی ضرورت بھی پیش نہ آتی تھی۔ اس روز بھی، جب وہ گجو کی بیٹی کو ساتھ لیے ڈیرے پر پہنچا تو شام پڑنے والی تھی۔ اکبر خان کچھ افسردہ سا باہر  کھلے میں چارپائی پر لیٹا تھا ۔ گجوکی بیٹی کو وہ اندر چھوڑ کر خان کے پاس آیا تو اکبر خان نے اسے منع کر دیا۔ طیفے کو سمجھ نہ آئے کہ ماجرا کیا ہے۔ اکبر خان نے اٹھ کر حقے کا پائپ چارپائی کی پائنتی میں پھنسایا اور بولا،
"جگو سپیرا سنا، بستی میں واپس آ گیا ہے؟" اس پر طیفے نے بتایا کہ وہ دو تین دن ہوئے اپنے کڈے کے ساتھ واپس آ گیا ہے۔ اس بارکہتا ہے کہ اچھے خاصے رنگ برنگے چھوٹے بڑے کئی سانپ پکڑلایا ہے۔ اسی وجہ سے بستی میں اچھی خاصی رونق لگی ہوئی ہے۔ اکبر خان نے ان سنی کر کے پوچھا،
"نوری بھی آئی ہے؟"
 گو طیفا معاملہ تو پہلے ہی سمجھ گیا تھا بس اکبر خان کے منہ سے سننا چاہتا تھا۔
نوری جگو سپیرے کی سب سے بڑی لڑکی تھی۔  بس پچھلے دو برسوں میں اس کی جوانی دم خم سے نکلی تھی۔ سانولی اور بھرے گالوں والی۔ لانبی زلفیں گُت بنا کر یہاں وہاں گھماتے پھرتی۔ نکلتا قد اور ابھرا سینہ خم کھاتی کمر میں، کیسا بھلا نظر آتا۔ باپ کے ساتھ سانپوں کا تماشہ کرنے نکلتی تو لوگوں کی نظریں اس کو ٹٹولتیں، سنپولیوں جیسی ہر جسمانی خم دار ادا  مسحور کن سی سب کو محو کر دیتی، یہاں تک کہ جگو سپیرے کو لاٹھی زمین پر مار مارلوگوں کو  سانپوں کی طرف متوجہ  کرنا پڑتا۔ الغرض، جس کو دیکھو سانپوں کے بہانے نوری کو دیکھنے نکلا کرتا اور جب تماشہ تمام ہوتا تو کئی سو روپے بے سود پھکیوں پر خرچ کر کے اٹھتا اور  کہو تو سمجھتا ،منافعے میں رہا۔ اکبر خان نے جب سے نوری کا  یہ نظارہ کیا تھا ،باؤلے کتے جیسے ہر وقت اس کی مشک مارتا رہتا تھا۔ اس رات بھی گجو کی بیٹی جب اس کے بستر میں گھسی تو خان کا دھیان دور بستی میں نوری کی طرف بٹا ہوا تھا، سویر واپس جاتے ہوئے گجو کی بیٹی  شرمندہ سی روانہ ہوئی ۔اگلے روز تو جیسے آپے سے باہر ہو گیا۔ تین نمازیں وہ مسجد نہ جا سکا، دبدبہ ایسا تھا کہ پہلی صف میں اس کی جگہ پر کسی دوسرے کو کھڑے ہونے کی ہمت نہ ہوئی۔ اس کا مصلیٰ ویسا ہی خالی چھوڑ کر نمازیں ادا کرنی پڑیں۔ بات بازار میں یوں نکلی کہ اس روز نورے حجام کا گلہ یہ تھا کہ تین نمازیں صف میں خالی مصلےٰ کی وجہ سے مکروہ ہو گئیں۔ خان بدبخت، مسیت جائے یا نہیں، نمازیں سب کی کھوٹی ہو جاتی ہیں۔
طیفے منشی کو آج تیسرا دن تھا کہ نوری کے پیچھے پیچھے کتے کی طرح سونگھ لے رہا تھا مگر یہ اور اس کا باپ تھے کہ کہ اس کے ہاتھ نہ آتے۔ جگو جیسے بھانپ گیا ہو تو ایک پل کو جھگی سے نکلے تو دوسرے میں پھر گھس گئے۔ پچھلی شام سانپوں کا تماشہ بھی نہیں ہوا تھا تو طیفے کی مشکل اور بھی بڑھ گئی۔ تبھی اس کو جب اکبر خان نے خوب لعن طعن کیا تو اس نے نوری کے باپ جگو سپیرے کو اس کی جھگی میں جا لیا۔ نوری کے لیے خان کا پیغام پہنچایا جس پر جگو کی جیسے باچھیں کھلی اور کندھے ڈھلک کر رہ گئے۔ پہلے تو پس و پیش سے کام لیا مگر پھر جب طیفے نے ہلکے سے اسے خمیازے کی بابت اندازہ کروایا تو منت ترلے پر آ گیا۔ منمنا کر ہاتھ جوڑے، مجبوری سے عرض کی اور آخر میں جیسے باور کرا رہا ہو،
"مائی باپ، ہم سپیرے آزاد ہوتے ہیں۔ عورت زات تو ویسے بھی اپنے من کی غلام ہے، اس کو کوئی قابو کر پایا ہو؟ نوری میرا مال ہے مگر اس کا فیصلہ تو وہی دیوے گی۔"
طیفے کو سمجھ آ گئی کہ یہ کم زات اس کو ٹال رہا ہے ورنہ عورت زات کی ایسی کہاں جرات جو فیصلہ کرے اور یوں انکار کر پاتی۔ وہ تو  کلے سے لگی گائے ہے جسے سبزے کی لالچ دو اور اسے چاہیے کہ ساتھ ہنکائی چلی جائے۔ مزارعوں کی طرح گو جگو سپیرا خان کا محتاج تو نہیں تھا مگر پھر بھی خان بہرحال خان تھا۔ اس چپے زمین کا مائی باپ  جہاں سے جگو سپیرا نہ صرف سانپ پکڑا کر لاتا ہے اور یہاں گاوَں گاوَں ان سانپوں کے بل بوتے پر اپنے کڈے کا پیٹ بھرتا ہے۔ بالواسطہ، جگو سپیرا اکبر خان کا دیا نمک ہی کھا رہا ہے۔ یہ سب سوچ کر طیفے نے اس کو کچھ مہلت دی اور بازار میں تھڑے پر جا پہنچا۔  تینوں کمی اکبر خان کی نوری واسطے رسے تڑوانے کی بحث لیے ہی بیٹھے تھے۔ ان کو یہ تو معلوم تھا کہ نوری آج نہیں تو کل خان کی کھونٹی سے بندھ ہی جائے گی، دیکھنا یہ تھا کہ یہ ناگن کس منتر سے کیل جائے گی۔
چوتھے دن اکبر خان کا پیمانہ لبریز ہو گیا جب نوری نے اس بابت ٹکا انکار کر دیا۔ بیٹی کی زبان میں نوری کا باپ بھی منت ترلے کرتا اڑا ہوا معلوم ہوتا تھا۔ اس پر خان کی بس ہو گئی۔ کاردار کو کہلوا کر  نوری کو جھگی سے اٹھوا لایا۔ پہلے تو اسے سمجھایا، پھر نان نفقے کا یقین دلایا مگر یہ تھی کہ جیسے ناگن پھنکارتی اس کو قریب نہ لگنے دے رہی تھی۔ خان نے جب حتمی طور خود اس سے بات کی تو تھوک کر بولی،
 "مر جاوں گی مگر حرام سے خود کو پلید نہیں ہونے دوں  گی۔۔۔ کاٹ ڈالوں گی"۔
 اکبر خان نے مولوی کو بلا کر نکاح پڑھوانا چاہا تو اس پر نوری سوا بدک گئی۔ جب کسی طور نہ مان رہی تو اکبرخان مرد تھا، طیش کھا گیا۔ پہلے مولوی کو رخصت کیا اور پھر  نوری کے پاس ڈیرے میں جا گھسا۔ دو جانپھڑ رسید کر کے زبردستی بھینچ لیا۔ نوری چلائی، ہنگامہ کرنے لگی۔ اسی کھینچ تانی میں نوری پر لپٹی کالی چادر کھینچی تو اس میں سے ایک میلی کچیلی پوٹلی تھپ سے زمین پر جا گری۔
یہ گودڑی کے رنگ برنگے کپڑے کے ٹوٹوں کو جوڑ کر سلی، پیوند لگی پوٹلی تھی جس کا منہ وا تھا۔ اکبر خان جو ہوس میں ایسا دھت تھا کہ پوٹلی کی طرف بالکل دھیان نہ دے پایا۔ گودڑ پوٹلی میں حرکت ہوئی اورسنہرے رنگ کا پھنکارتا ناجی، مشکی ناگ برآمد ہوا۔ پھرتیلا ایسا کہ گودڑی کی حبس سے باہر روشنی میں نکلتے ہی پھن پھیلا دیا اور اس کی صرف سنسناتی پھنکار سے ہی اکبرخان کی ساری مردانگی ہوا ہو گئی۔ بوکھلاہٹ میں وہ نوری کو دھکیلتے، مشکی سے دور ہٹنے کو ایک جانب مڑا ہی تھا کہ یکایک ناگ کے دانت اکبرخان کی ٹانگ میں گڑ گئے۔ اب کے ڈیرے میں اکبر خان کی وحشت ناک چیخ بلند ہوئی اور چند لمحوں میں یہ دھیرے دھیرے ناگ کے سامنے بے حال ہو کر گرتا چلا گیا۔ طیفا اور کاردار دوڑے ہوئے اندر آئے مگر تب تک زہر اکبر خان کے جسم میں سرایت کر چکا تھا۔ اس کے منہ سے جھاگ نکل رہی تھی۔ دو نالی کے ایک فائر سے کاردار نے مشکی کا کام تمام کیا تو یہاں اکبر خان نے آخری ہچکی لی۔ یہ دونوں اکبر خان کے گرد ہی رہے اور نوری موقعہ کا فائدہ اٹھا، نیم عریاں ہی دوڑتی ہوئی باہر نکل گئی۔ سویر بھوٹنے سے پہلے پہلے سپیروں کا کڈا گاؤں چھوڑ گیا۔
صبح تک اکبر خان کے دونوں بیٹے بھی پہنچ گئے اور قبر کھود لی گئی۔ اکبر خان کا جنازہ اٹھایا گیا تو منہ کالا سیاہ ہو رہا تھا۔ جنازہ گاہ میں مولوی نے پہلے اکبر خان کی بڑائی بیان کی، پھر خدا کے گھر اور سینکڑوں مزارعوں کے گھروں  واسطے اس کی خدمات پر سیر حاصل تبصرہ کیا۔ اس کے بعد لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے موت کی اٹل حقیقت کی جانب توجہ مبذول کروائی اور پہلی تکبیر بلند کرنے سے قبل، نماز جنازہ کے لیے اہم ہدایات کچھ یوں گوش گزار کیں، 
"اے لوگو، صفیں درست رکھو، ٹخنے سے ٹخنہ اور کندھے سے کندھا ملا لو۔اگر زمین پاک ہے تو جوتے اتار لو ورنہ پہن رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔" یہاں مولوی نے توقف کیا اور ہاتھ میں تھامی ٹیک والی سوٹی سے پہلی صف کی جانب اشارہ کر کے کہا،
"صفوں کے بیچ خالی جگہیں نہ چھوڑو کہ شیطان ایسی جگہیں پر کر لیا کرتا ہے۔"
اتنا سننا تھا کہ سب کی نگاہیں پہلی صف کی طرف گھوم گئیں جہاں مولوی کے پیچھے ایک شخص کی جگہ خالی تھی۔ یہاں کبھی خود اکبر خان کو کھڑے ہونے کا خبط رہا کرتا تھا۔

-افسانہ-
(مئی 2013ء)


افسانہ پہلی صف، سہ ماہی "ثالث" (اکتوبر - دسمبر 2013ء) میں شائع کیا گیا۔ 

ادب میلہ، بے ادب میلا

5 تبصرے
اسلام آباد، اچھا شہر ہے۔ صاف ستھرا  ۔ بس اس آراستہ شہر پر ایک تہہ سی چڑھی ہے۔اس تہہ کو آپ کچھ کہہ لیں، لوگ مصنوعی پن قرار دیتے ہیں یا شہر میں پھیلی بیگانگی سے  تعبیر کرتے ہیں۔ میں اسے صرف تہہ  کہتا ہوں۔ اس تہہ کے نیچے جھانکنے کی یہ شہر فرصت دیتا ہے اور نہ کسی نے   کبھی ضرورت محسوس کی ہے۔ ایسے جمود میں  یہاں دو روزہ ادبی میلے کا انعقاد اس تہہ پر ایک جھاڑ مارنے جیسا ہے جہاں اور کچھ نہیں تو  تھوڑی دیر کو ہی سہی، ان لوگوں کو دیکھنے، سننے اور بات چیت کرنے کا موقع مل جاتاہے جو احساس رکھتے ہیں اور اظہار اپنی تخلیقات میں کرتے ہیں۔
میلے کا پہلا روز غم روزگار میں گنوایا تودوسرے دن کا کافی حصہ بخاری کی بھینٹ چڑھ گیا۔ بخاری شاعر آدمی ہے۔ جی دار ہے جو مجھے برداشت کیے ہوئے ہے۔ اطلاع تو تھی پر فرصت نہ ملتی تھی۔ شام جب مزدوروں کے نام پر چھٹی اڑانے کا سندیس پا کر واپس لوٹے تو طرح طرح کے پروگرام تشکیل پانے لگے۔ مثال، فلم دیکھنے کی بات ہوئی، کئی ایک کرکٹ کی دھماچوکڑی پر بضد تھے اور میں اسلام آباد ادبی میلے کا واویلا مچا کر بیٹھ گیا۔ بخاری اس بابت میرے ساتھ راضی ہو گیا اور یوں طے یہ ہو اکہ ہم میلے میں شرکت کا  ساماں کریں گے جبکہ باقی لوگ کرکٹ سے شغل کر رہیں گے۔
سویر  ہوئی تو  چکی کے وہی دو پاٹ،  ناشتے پر بخاری بضد تھا کہ شاعر اور ادیب لوگ گھڑی کے پابند نہیں ہوا کرتے۔ وہ تو من موجی ہیں، بھلا وہ اتنے سویرے میلے میں کیا کرنے آئیں گے؟ چونکہ میں کراچی اور لاہور کے حالیہ ادبی میلوں کو انٹرنیٹ پر بھگتا چکا تھا تو میں نے  بہتیری گزارش کی کہ جناب مائی باپ، ادبی میلے اب ویسے نہیں ہوا کرتے جیسا کہ  موصوف کی 'جوانی' کا خاصہ رہے ہیں مگر یہ بندہ خدا ٹس سے مس نہ ہوا۔ دن بھر اس کوڑھ مغز شاعر کے  ساتھ مغز ماری کا  ہی میلہ سجا  رہا۔ وہ تو خیر ہو کہ دوپہر کے آس پاس زلزلے کا جھٹکا  آیا تو چھ منزلہ عمارت کی چھت پر بعد از دوپہر اسلام آباد کے پہلے ادبی میلے کو رونق بخشنا طے ہوا۔ بخاری کو اعتراض یہ بھی تھا کہ یہ ادبی میلہ جنگل میں واقع ایک ہوٹل میں کاہے کو منقعد کیا جا رہا ہے اور راستے بھر منتظمین کو ایسے تیسے سناتا رہا ۔
میں اپنے ایک چچا زاد کو زبردستی ساتھ بلا لایا تھا۔ چچا زاد کی یوں ہے کہ اسے ادب کی دونوں صورتوں چاہے وہ لطافت سے تعلق رکھتا ہو یا بڑوں کی عزت سے منسوب ہو، چنداں مطلب نہیں  ہے۔ بخاری نے اس نوجوان کو یوں گھسیٹ کر ساتھ لے جانے پر  بھی ٹوکا پر میں نے اس کو یوں ٹال دیا کہ کچھ بھی  ہو، چچا زاد مجھ سے عمر میں کم ہے۔ زیادہ سے زیادہ دل میں برا بھلا کہہ سکتا ہے۔ اس پر بخاری کو تسلی ہوئی اور چچا زاد کی بھنویں مزید سکڑ گئیں۔
اسلام آباد کے مارگلہ ہوٹل کے باہر جہاں عام طور پر پارکنگ ہوا کرتی ہے وہاں کتابوں کے سٹال سجے تھے۔ چھ کے لگ بھگ ناشرین نے تقریباً جو  کتب ان کے چھاپہ خانوں میں چھپ رہی تھیں، رعایت کے ساتھ دستیاب کر رکھی تھیں۔ خدا دے  اور بندہ لے، ایک سرے سے شروع ہوئے اور ابھی تین ہی سٹال کھنگالے تھے کہ بخاری نے یہ کہہ کر اندر گیلری میں گھسیٹ لیا کہ باہر کی دھوپ  طبیعت پر ناگوار سی گزر رہی ہے۔ چار بجے کے لگ بھگ جب مستنصر حسین تارڑ صاحب کی نئی کتاب غزال شب کی رونمائی کی تقریب شروع ہو چکی تھی اور ہم بھاگے بھاگے ہال میں داخل ہوئے تو پچھلی نشستوں پر ہی جگہ مل پائی۔ تارڑ صاحب اپنی نئی کتاب میں سے چند اقتباسات پیش کر رہے تھے ، جنھیں توجہ سے سنا۔ چونکہ یہی اقتباسات کتاب کے درمیان میں سے چنے گئے تھے اور تارڑ صاحب ان کا پس منظر پہلے بیان کر چکے تھے تو میں نے صرف تکنیک اور خیال پر توجہ رکھی کہ باقی کچھ پلے نہیں پڑ رہا تھا۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ کچھ لکھا ہوا پڑھنا ایک بات ہوتی ہے  مگر جب تخلیق کرنے والا خود اس لکھے میں اپنے اس احساس کو شامل کر کے پڑھے جس کے زیر اثر لکھا گیا ہو، اسے سننے کا لطف اور ہوتا ہے۔ بس یوں ہی ہوا، مکالمہ تارڑ پڑھ رہے تھے، تکنیک ان کے لہجے میں جھلک رہی تھی تو احساس ہم سامعین پر  طاری تھا۔
جب وہ سنا چکے تو اس اجلاس کے موڈریٹر صاحب جنھیں تارڑ صاحب شاہ جی کہہ کر پکار رہے تھے، تارڑ کے ساتھ یزید  جیسے سلوک کو تیار بیٹھے تھے۔ تنقید کی وہ برچھیاں برسائیں کہ تارڑ صاحب جو  اپنی نئی کتاب کی رونمائی کے لیے آئے سرشار بیٹھے  تھے،   فوراً ہی سنبھل گئے۔ تمام گفتگو تو مجھے یاد نہیں، چند سوالات اور جوابات یوں تھے؛

- شاہ جی: تارڑ صاحب، آپ آج تک کتنے  ناول لکھ چکے ہیں؟
تارڑ:  میں اس عرب بدو جیسا ہوں جو بچے جنتا رہتا ہے مگر  کبھی انھیں شمار کرنے کی کوفت نہیں کرتا۔ (قہقہہ )

- شاہ جی: آپ  کے بارے  میں لوگ کہتے ہیں کہ آپ گیلری واسطے ناول لکھتے ہیں، معیاری ادب کا وطیرہ کچھ اور ہوتا ہے۔ پھر، آپ کی کتابیں لاکھوں کی تعداد میں بکتی ہیں، ایسی شہرت پر آپ کیسا محسوس کرتے ہیں؟
تارڑ:  کون لوگ کہتے ہیں؟
شاہ جی: سمجھیے، اللہ دتہ کہتا ہے۔
تارڑ: اللہ دتہ کو میں کیا جانوں، شاید میں اسے جواب دینا مناسب نہ سمجھوں۔
شاہ جی: اچھا، سمجھیں  میں پوچھ رہا ہوں۔
تارڑ: (قدرے جنجھلا کر) صاحب، میں آسمان سے باتیں نہیں کرتا اورفرشتوں کے لیے نہیں لکھتا۔ انسانوں  کی بات  ، انسانوں کے لیے  لکھتا ہوں اور انسان ہی اس کو پڑھتے ہیں۔ وہی پسند کرتے ہیں۔  تو یہ درست ہے کہ میں گیلری کے لیے لکھتا ہوں اور گیلری میں لاکھوں کی تعداد میں  یہ کتابیں بکتی ہیں۔  مزید، عرصہ پہلے جب ناول اچھے خاصے بکنا شروع ہوئے تو میں جھینپ کر چھپتا پھرتا رہا۔(تالیاں)

شاہ جی:  آپ کے سامعین کہا جاتا ہے کہ شاید کبھی چیچوں کی ملیاں سے باہر قدم نہیں رکھا ہو گا،  ادھے اور ان پڑھ لوگ کیا جانیں معیاری ادب کیا ہوتا ہے۔ کیا خیال ہے؟
تارڑ: (توقف سے) میرا خیال تھا کہ کتاب کی رونمائی واسطے اجلاس ہے، آپ فقرے بازی شروع کر رہے ہیں۔  تو یہ مناسب نہیں۔ سامعین جو آپ کے سامنے بیٹھے ہیں وہ ان پڑھ نہیں ہیں،  اور جن کو آپ ان پڑھ کہہ رہے ہیں وہ پڑھنے لائق لوگ ہیں۔دیکھیے، معیاری ادب سے آپ کیا مراد لیتے ہیں۔ آپ کے حساب سے تو میں کہوں پھر یوسفی، بانو قدسیہ،  اور ایسے اور کئی لوگ ہیں جن کی کتابیں لاکھوں میں بکتی ہیں وہ معیاری ادب نہیں  ہے؟ (تالیاں)
شاہ جی: دیکھیے، اب آپ کے سامعین  اگر تالیاں پیٹتے رہیں گے تو اس محدود وقت میں ہم بات نہیں کر پائیں گے، بس ان کی تالیاں ہی گونجتی رہیں گی ۔ (ھال میں زوردار تالیاں بجتی ہیں)
تارڑ: (مسکراتے ہوئے) شاہ جی آپ اپنی بات جاری رکھیں۔

شاہ جی: ایک تنقید اور بھی ہے، گامے  ماجھے  کا کہنا ہے کہ جی آپ رات کو سوتے ہیں تو سویرے ایک نیا ناول آیا ہوتا ہے۔
تارڑ: بات یہ ہے کہ میں نے زندگی بھر نوکری کوئی نہیں کی۔ ٹی وی پر اینکری، اخبار میں کالم اپنے گھر کا چولہا جلانے کو کیا۔ زیادہ وقت میسر تھا تو وہ لکھنے پر خرچ کر دیا۔ پھر اب اگر میرا تخیل اتنا زرخیز ہے تو میں کیوں نہ لکھوں، آپ کیا چاہتے ہیں کہ جو خیال ہیں انھیں ہلاک کر دوں؟
شاہ جی: (قدرے ترشی سے) اچھا، مگر یہ تو مانیں گے ناں کہ کئی لوگوں کا خیال ہے کہ آپ ایک چھوٹی سی بات کو پھیلا کر دس دس صفحوں میں بیان کرتے ہیں۔ پتہ نہیں، پچیس تیس ہزار  صفحات آپ لکھ چکے ہیں، وہی بات آسانی سے تھوڑے میں کہی جا سکتی تھی۔
تارڑ: (اکتا کر) ھاں جی، میں ایسا ہی کرتا ہوں۔ (زور دار تالیاں)

شاہ جی: آخری پانچ منٹ ہیں اور پھر ہم سامعین کے سوال لیں گے۔ آپ بلاشبہ عصر حاضر کے بہترین ادیب ہیں۔ اور اگر میں یہ نہیں کہوں گا تو یہ لوگ مجھے یہاں سے نکلتے ہی پیٹ ڈالیں گے۔ (مزید تالیاں پٹنا شروع ہو گئیں) میرا آخری سوال یہ ہے کہ آپ لکھتے کیسے ہیں؟ آپ کیا پہلے خیال کو پروان چڑھاتے ہیں یا کیا کرتے ہیں؟
تارڑ: پانچ منٹ میں میرے لیے ممکن نہیں کہ میں بتا سکوں۔
شاہ جی: مختصراً بتا دیں۔ خیال بارے ہی بتا دیں۔
تارڑ: چلیں میں ایک مثال سے واضع کرتا ہوں۔ خیال کا یوں ہے کہ جیسے 'بہاو' بارے کہوں تو اس کا خیال مجھے ایک رات جب میں نے پانی کے گلاس اٹھایا۔ پانی کا گلاس اگر ہاتھ میں تھامیں تو ٹھنڈک سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس میں کتنا پانی ہے۔ تو مجھے لگا کہ پانی گھنٹے دو بھر میں گرمی سے سوکھ گیا ہے۔ اب یہ مجھے علم نہیں تھا اس سے پہلے تو سویر تک میرے ذہن میں یہ خیال گھومتا رہا۔ خیر بات آئی گئی ہوئی اور چوتھے روز ایک تقریب میں معلوم ہوا کہ یہ جو چولستان ہے، وہاں ایک دریا ہوا کرتا تھا جو سوکھ گیا تھا۔ خیال واپس آ گیا اور میں یہ سوچنے لگا کہ دریا کے دریا یوں سوکھ جاتے ہیں اور پوری تہذیب فنا ہو جاتی ہے۔ اب، ایک ایسا شخص ہو جیسے کہ میں خود ہوں اسے اگر یہ پہلے سے معلوم ہو جائے کہ دریا سوکھ رہا ہے اور یہ شہر ختم ہو جائے گا اور اسے یہ شہر کو بتانا ہے تو کیسی ذمہ داری اس کے کندھوں پر آن پڑے گی، کتنی بھاری ذمہ داری۔ تو یوں خیال پروان چڑھتا ہے۔
اس کے بعد سامعین کے سوالات کے مستنصر حسین تارڑ صاحب نے جوابات دیے۔ سوال کرنے والوں میں عبداللہ حسین بھی شامل تھے جنھوں نے تارڑ سے پوچھا کہ کیا انھیں احساس ہے کہ ان کا جو نیا کام ہے اس میں معیار اور نکھار زیادہ ہے، جس پر تارڑ نے ایسے کسی بھی احساس سے   واقفیت سے انکار کردیا۔ اس نشست میں، سامعین نے چند دلچسپ سوال بھی پوچھے جن میں سے ایک خاتون کا یہ سوال مجھے یاد رہا کہ جیو ٹی وی پر تارڑ صاحب نے جو رشتے کرانے والے بابے کا کردار نبھایا، کیا وہ ان کو زیب دیتا تھا؟ اس پر تارڑ نے سپاٹ لہجے میں کہا کہ جب وہ یہ کر رہے تھے تب ان کے گھر کی چھت ٹپک رہی تھی اور غسل خانے کی ٹائلیں اکھڑی ہوئی تھیں۔ اس کے لیے انھیں یہ سب کرنا پڑا۔
اس اجلاس کا خاتمہ شکریہ پر ہوا جس میں شاہ جی نے تارڑ صاحب اور تارڑ کے قارئین سے 'بدتمیزیوں' پر معافی چاہی۔ اجلاس ختم کیا ہوا، تارڑ جو پہلے شاہ جی کے زیر عتاب تھے اب ایک جم غفیر کے نرغے میں آ گئے جو ان کی سانس تنگ کر رہے تھے۔
یہ تو تھے تارڑ۔
ہمارا یہ کہ میں نے پہلی بار دیکھا کہ میرا چچا زاد ساتھ نشست پر موجود نہیں ہے۔ فون کیا تو پتہ چلا کہ صاحب اجلاس کے دوران بہانے سے باہر نکلے اور فٹ ہوٹل سے باہر دوڑ لگا دی۔ میں نے سرزنش کی تو کہنے لگا کہ جی مجھے کیا پتہ تھا کہ  آپ اس پاگل پن میں  مجھے ساتھ لیے جا رہے ہیں، میں تو  بس فیسٹول کے نام پر دھوکا کھا گیا۔ اور اللہ جھوٹ نہ بلوائے، ایسا بے ادب کہ اشاروں اشاروں میں میری دماغی حالت پر سوال اٹھانے لگا۔ 
 چچا زاد کو دو چار صلواتیں سنا کر باہر نکلے تو گیلری میں  افسانہ نگار علی اکبر ناطق سے تھوڑی گپ شپ ہوئی۔ اس کے علاوہ، شاعر اختر رضا سلیمی، قمر رضا شہزاد اور گردیزی صاحب سے بھی ملاقات ہوئی۔ سچ کہوں تو بخاری کا بس یہی فائدہ ہوا۔
عبداللہ حسین، انتظار حسین اور محمد حنیف سے صرف مصافحہ کر پائے اور مجھے سب سے اچھی شخصیت انتظار حسین کی محسوس ہوئی جو سہارے سے سیڑھیاں چڑھ رہے تھے۔
ٹوئٹر دوست، 'فیفو' بھی اس میلہ میں شریک تھیں۔ اجلاس کے فوراً بعد بس چند ساعت ہی ملاقات بلکہ کہیے صرف دعا سلام ہوئی۔
گھومتے پھرتے اس ھال میں پہنچے جہاں ضیاء محی الدین صاحب کچھ سنا رہے تھے۔ ھال میں تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی اور ایک طوفان بدتمیزی برپا تھا۔ چند ہی منٹ میں حبس سے جی ایسا خراب ہوا کہ فوراً دوڑ لگا کر باہر کھلی فضا میں آن کھڑا ہوا۔ دو روز کے میلے میں، چالیس کے لگ بھگ اجلاسوں میں کچھ غم روزگار اور باقی بخاری کی بھینٹ، صرف ایک ہی اجلاس میں شرکت کر پائے۔
باہر کتابوں کے سٹالز پر کافی گہما گہمی تھی۔  ناطق کے افسانوں کا مجموعہ 'قائم دین' اور ساتھ آکسفورڈ یونیورسٹی  پریس کی ہی چھاپی شعیب سلطان خان کی کتاب 'دیہی ترقی'  اور اسلم خٹک صاحب کی تحریر کی ہوئی، 'A Pathan Odyssey' بھی خریدی۔  جب میں کاونٹر پر ادائیگی کو کھڑا تھا تو لائن میں مجھ سے آگے ایک محترمہ نہایت سکون سے سیلز مین سے دریافت کر رہی تھیں کہ جو دو کتابیں انھوں نے پسند کی ہیں، کیا یہ پتہ چل سکتا ہے کہ ان کے نقل شدہ نسخے کس نے چھاپے ہیں اور وہ اسلام آباد میں کہاں دستیاب ہوں گے؟ اس ادا پر سیلز مین کا منہ بند اور میرا کھلے کا کھلا رہ گیا۔ 
شام کے اس پہر بھوک دو چند ہو گئی تھی اور مزید وہاں رکنے کی ہمت نہیں رہی تھی سو واپس چل دیے، ورنہ بخاری کا اب بھی خیال یہی تھا کہ ادبی میلے عام طور پر شام میں ہی سجا کرتے ہیں، اور واپسی پر یوں بھی کڑھتا رہا کہ صاحب اس جنگل میں یہ کیا  اودھم مچا رکھا ہے۔ عوام میں جا کر یہ لوگ ادب سے بے ادبیاں کیوں نہیں کرتے؟
میں  چونکہ بھوک سے بدحال ہو رہا تھا تو بخاری کے منہ لگنا مناسب نہیں سمجھا اور وہ واپسی کے تمام رستے وہ میرے مغز سے اپنا ادبی پیٹ بھرتا رہا۔

 -رپورتاژ-
(مئی، 2013)

بوئے حرم

14 تبصرے
میں جو فرہاد کو ساتھ گھیر لایا تھا، اب حرم کی گلی کے منہ پر کھڑا مضطرب سا ہوں۔
کچھ روز قبل، راستے میں کرسیاں بچھا کر ہوٹل والے نے جہاں تجاوز کر رکھا ہے، چائے کے دور پر معروف شعراء کے مصرعے اچھال کر داد وصول کر چکے تو بات منٹو کی آن شروع ہوئی۔ زیدی جو دبکا بیٹھا سگریٹ پھونک رہا تھا ،کہنے لگا،
"میں اور منٹو ایک قدر مشترک رکھتے ہیں" اتنا کہہ کر توقف کیا اورقبل اس کے استفسار کیا جاتا، خود ہی بولا،
"ہم دونوں نے رنڈیوں کے ساتھ تاش کھیل رکھے ہیں۔" اس پر قہقہ بلند ہوا توساتھ دوسری میز پر براجمان بزرگوار گھورنے لگے۔ یہ غالباً ہم لا اوبالیوں کی جانب ہی کان لگائے بیٹھے تھے۔ ان کی کسے پرواہ ، سب بارے اس واردات جزئیات تک کی تفصیل جاننا چاہتے تھے۔ فرمائش کی دیر تھی کہ زیدی چسکے لے کر قصہ بیان کرنے لگا ۔ سننے والے بعض زیر لب مسکرائے، دو ایک آزرد بھرے سے زیدی کو تکنے لگےاور جو باقی تھے وہ دم بخود بات سن رہے ۔  قصہ رنڈی کے ساتھ صرف تاش کھیلنے پر تمام ہوا تو ہر طرف قہقہہ گونج گیا۔ قصے میں اگر فحش بیانی تھی توقہقہہ کہیں بڑھ کر فحش نگار ثابت ہوا۔ اب کے بزرگوار نے گھورنے کی بجائے رخصت ہونا مناسب خیال کیا۔ زیدی کو قصہ وا کرنے کے بعد جو داد ملی سو ملی، چند ایک نے زیدی کو واقعے کی رنڈیوں کے سمیت توبہ استغفار دھراتے ہوئے آڑے ھاتھوں لیا۔ یہ اور بات ہے کہ لتاڑنے والوں میں ایسے بھی تھے جن کے بارے سنتے ہیں کہ یہ ماضی میں رنڈیوں کے ساتھ سب کچھ  ہی کرتے آئے ہیں، بس کبھی تاش نہیں کھیلی۔
زیدی کی بڑھک تو رہی ایک طرف، میں جو اس گلی کی دہلیز پر موجود ہوں، اس کی ایک وجہ خود فرہاد بھی تھا۔ ایک شام مجھ سے پوچھنے لگا، "تم نے دلمیر کی لسی پی ہے؟" میں نے گردن کو انکار اور اس نے مایوسی میں جھٹکایا اور سرزنش سا کہا، "اوئے، تو اتنا عرصہ ہوا اس شہر میں ٹکا ہوا ہے  اور کبھی دلمیر کی لسی نہیں آزمائی؟ مکھن کا پُھولا پیڑا ڈال کر ایک بڑا گلاس پی لو تو شرطیہ پوری دو پہر کے لیے سیر ہو جاؤ گے۔" یہ بتاتے ہوئے فرہاد نے ساتھ اپنا پورا بازو بھی ناپ لیا جو لسی کے گلاس کا اندازہ تھا۔ لسی سے شروع ہو کر اس نے شہر میں کھانے پینے کی تقریباً مشہور جگہیں ایک ایک کرکے گنوائیں۔ ان میں سے اکثر کا نام میں پہلی بار سن رہا تھا۔ اس پر فرہاد نے جوان عمری میں یوں میری عزلت پسندی پر خاصے تاسف کا اظہار کیا اور اب وہ اسی بات کو لے کراپنی آوارہ گرد طبیعت کا ذکر کچھ فخر سے کر کے چوڑا ہوا جا رہا تھا تو میں نے روک لگانے کو لہجہ اوپرا کر کے دریافت کیا،
"تو کبھی حرم گیا ہے؟"
یہ سنتے ہی ساتھ بیٹھا سفیر سٹپٹا گیااور بے یقینی سے مجھے تکنے لگا۔ فرہاد کھسیانا سا ہنس کرکہنے لگا، "تجھے شرم تو نہیں آئی ہو گی ناں؟"
میں جواباً مکر کی ہنسی ہنسا تو فرہاد نے بھی ساتھ دیا جس سے سفیر کا شک پختہ ہو گیا۔ سفیر نے پوری تفتیش شروع کر دی۔ کھل کر بتایا کہ منٹو نے رنڈیوں کے ساتھ تاش کھیل رکھے ہیں اور زیدی منٹو سے یہ قدر مشترک رکھتا ہے اور میں حرم گیٹ جانے کی خواہش رکھتا ہوں کہ آئندہ ٹاکرا ہو تو کچھ زیدی کی کاٹ کر سکوں۔ سفیر کو میری بات کا بالکل یقین نہیں آیا۔ جو پہلے کھانے پینے کے منصوبے پر ٹوٹ رہنے کو ساتھ شامل ہوا تھا، حرم کے ارادے پر ایک دم پیچھے ہٹ گیا، البتہ فرہاد فوراً راضی ہو گیا۔
ہم دونوں یہاں تک پیدل ہی پہنچے تھے اور چونکہ ہمیں یہاں کی طوائفوں سےکچھ مقصود تھا اور نہ ہی ہم ان کے ساتھ تاش کھیلنے آئے تھے لہذا ہم نے رستہ بھر صرف اس محلے کی تاریخ پر بحث کی۔ اس گلی کا بازار عام سا ہے، جیسا کہ کسی بھی بازار کی چہل پہل ہو سکتی ہے۔ گلی تنگ ہے اور جہاں تک نظر جا رہی ہے، یہ ٹیڑھی ہوتے ساتھ تاریک ہو جاتی ہے۔ گلی کے سرے پر سیاہ چادروں میں لپٹی عورتیں راستہ بھرے کھڑی ہیں۔ یہ عام سی گھریلو عورتیں ہی لگتی ہیں اور میں نہیں جانتا کہ یہ چادروں میں پاکدامن عورتیں ہیں یا ناچنے والی طوائفیں؟ چونکہ ہم حرم کی گلی میں موجود ہیں تو اپنے تئیں یہ طے کر لیا کہ یہ عورتیں یقیناً طوائفیں ہیں۔ شریف زادیوں کا بھلا یہاں کیا کام؟ تبھی اک خیال یہ بھی کوندا کہ یہ عورتیں جو بھی ہوں، چادر ان کا پردہ ہے۔ چادر نے اپنے اندر ان میں سے ہر ایک کی اچھائیوں اور برائیوں کو یکساں طور چھپا رکھا ہے۔ اگر آسمانوں میں رب ان کا پردہ دار ہے تو زمین پر یہ چادر ہے جس نے ان کو ڈھانپ رکھا ہے۔ میں اور فرہاد جو یوں اس بازار میں کھلے ڈلے گھس آئے ہیں تو بھلا یہ عورتیں اور ارد گرد کی چہل پہل ہماری اس بے پردگی بارے کیا سوچتے ہوں گے؟ اتنے تک پہنچ کر ایک جھرجھری سی آ گئی۔
شرافت دکھانے کو عورتوں کے بیچ میں سے پہلے فرہاد اور اس کے پیچھے پیچھے میں، جسم سمیٹ کر اور سر جھکائے گزرے۔ گھٹیا خوشبو سونگھ آئی اور اگلی ہی ساعت نتھنوں کے اندر تک کھلی نالیوں کی بدبو رچ بھر گئی۔ ہم دونوں ایک دوسرے سے کوئی بات چیت نہیں کر رہے تھے۔ غالباً طوائفوں کے ماضی پر بات کرنے کی اب کوئی ضرورت نہیں تھی کہ ہم ان کے حال سے گزر رہے ہیں۔ وہ عورتیں اب خاصی پیچھے رہ گئی ہیں۔ اندرون شہر کی اس گلی کسی بھی محلے کی طرح عمارتیں پرانی مگر پختہ اینٹوں سے تعمیر کی گئی تھیں۔ ہر عمارت کے داخلے کی سیڑھیاں گلی کو علیحدہ سے تنگ کر رہی ہیں تو ہر دوسری عمارت کی دیوار گلی کی حد میں ناجائز تصرف کرتی جاتی ہے۔ گلیاں بھی پختہ اینٹوں کی ہی ہیں جو جا بجا اکھڑی ہیں اور نالیاں بھی ویسی ہی کھلی اور بدبو دار ہیں۔ یہاں تک میں صرف گلی کا فرش ہی دیکھ پایا ہوں کہ میرا سر جو عورتوں کے بیچ گزرتے جھکا تھا، اب بھی ویسا ہی ہے۔ گلی کا پہلا موڑ مڑتے ہی رونق نظر آئی۔ ایک کریانے کی دکان ہے جس کے باہر دکاندار دوسرے کئی لونڈوں کے ساتھ بیٹھا گلی کو مزید ناقابل کیے جا رہا ہے۔ میں نے بے جانے بوجھے سر مزید نیچے جھکایا تو ٹھوڑی جیسے سینے میں گڑھ گئی ۔ دکان کے ساتھ ایک دروازہ واہے جس کے سامنے سے گزرتے ہوئے ہم دونوں نے ایک ساتھ شوقین نظروں سے اندر جھانکا کہ شاید کوئی جوان ناری، سجی ہوئی بالکل سامنے بیٹھی تماش بینوں کا انتظار کر تی ہو ۔ ہماری مایوسی کے لیے اندر زرد بلب کی روشنی پھیلی تھی جس کے نیچے سنوکر کی میز دھری ہے ۔گلی کے بے مونچھوں جیسے ہی دو چار اندر بھی شغل لگائے ہوئے ہیں۔ میں نے کھسیانا ہو کر ایکدم بالکل سامنے یوں دیکھا جیسے کوئی چوری پکڑی گئی ہو۔
سامنے جاتا راستہ دو اور گلیوں میں بٹ جاتاہے ، ہم نہایت اطمینان سے بائیں جانب مڑ لیے۔ اس طرف گلی نسبتاً کھلی اور مکان بھی نئی تعمیرات لگتے ہیں۔ پھر یہاں نالیوں کی بدبو بھی کم ہے۔ تبھی اچانک فرہاد لمحہ بھر کو ٹھہرا اورگہرا سانس لے کر کہنے لگا،
"تم یہ بو سونگھ رہے ہو؟ یہ چیز ہے، یہی!"
وہ ایسے بے صبرا ہو رہا تھا جیسے یہ بو اس کو ساتھ ہی اٹھا کر ہوا میں بکھرنے والی ہے۔ میں نے اس کی پیروی میں گہرا سانس کھینچا تو موتیے، اگربتی اور نالی کی خلط ملط بو نتھنوں میں بھرتی چلی گئی۔ چاروں جانب مشتاق نظریں دوڑائیں مگر دیکھنے کو عام مکانوں کے علاوہ کچھ بھی تو نظر نہیں آیا۔ ہر مکان کے بالا خانے کو آنکھوں سے ٹٹول رہے کہ شاید اوپر کھڑکی میں کوئی اشارہ کر جائے یا پھر کوئی دلفریب واقعہ۔ ہمیں کوئی بلائے اور ہم جو بے مقصد گھومنے آئے تھے تو کسی مقصد سے کھنچتے چلے جائیں۔ ایسا کچھ بھی نہ ہوا، بس کسی کسی مکان کے دروازے پر میلے موتیے کے گجرے ٹنگے نظر آئے۔ یہ اکا دکا باہر دروازوں کی سلاخوں پر ٹنگے ہیں، جن میں سے اکثر گزشتہ روز کے معلوم ہوتے ہیں۔ گو ہم اب تک کچھ دیکھ نہیں پائے تھے پر پھولوں کے یہ گجرے دیکھ کر فرہاد نے میری طرف معنی خیز نظروں سے دیکھا ۔ ہم نے سوکھے پھولوں اور بو کے بل بوتے پر طے کر لیا کہ یہ مکان، طوائفوں کے کوٹھے ہی ہیں۔ فرہاد اتنی دیر بعد پہلی بار بولا،
"محسوس کرو، یہ جو فضا ہے۔ یہ ان کوٹھوں کا خاصہ ہوتی ہے۔ خوشبو، یہ وقت اور جگہ۔۔۔"
اس کا لہجہ ایسا خمروالا تھا کہ میں نے خوب کھل کرپھر سے سانس کھینچی اور خیال کو جیسا سن رکھا تھا، ایک روایتی کوٹھے کے اندر تک دوڑا گیا۔ روایتی کوٹھے میں  جہاں ایک کھلے دالان میں گاؤ تکیہ لگا کرناچ گانے کی محفلیں منعقد ہوتی ہوں گی اور ہر جانب روشنی اور خوشبو پھیلی ہے۔ پھر خیال اس دالان سے اڑاتا ہوا پچھلے کمروں تک بھی لے گیا جہاں دیواروں کے پیچھے مخملیں بستروں پر کبیرہ گناہوں کی غلیظ پوٹلیاں بھری جاتی تھیں۔
خیال ٹوٹا تو ذہن غلاظت سے بھر گیا تھا مگر شکر یہ ہے کہ جیسے جیسے آگے بڑھتے ہیں، فضا ہلکی ہو رہی ہےاورخوشبو گہر رہی ہے۔ یہاں اس کے علاوہ محسوس کرنے کچھ بھی تو نہیں۔
اگلا موڑ چوک سا تھا۔یہاں چہل پہل اور بھی سوا ہے۔آمنے سامنے کے مکانوں کے بیچ میں چھوٹا سا مرکز یہ چوک محلے کی بیٹھک معلوم ہوتا ہے۔ کئی ایک بچے یہاں وہاں دوڑتے پھر رہے ہیں اور راستے میں آگے پیچھے چلتے کئی لوگ آ جا رہے ہیں۔یہیں، کئی مردوں کے بیچ گھری ایک جواں عمر لڑکی چلی آ رہی ہے۔ بانکی سی، بیس بائیس کی عمر میں یہ ناری سانولی سی ہے۔ چہرہ تخمی آم جیسا اوپر کو ابھرا ہوا اور ٹھوڑی کے قریب ہلکا سا چپٹا ہوتا چلا جاتا ہے۔ نقوش سنگھار کی قلم سے واضح کیے ہوئے ہیں جس سے آنکھیں بڑی اور ہونٹ باریک ہو کر نمایاں نظر آتے ہیں۔ روشن آنکھیں معمولی سی جھکی ہوئی ایسے حرکت کرتی ہیں کہ حیا کے اندر اردگرد نظررکھ رہی ہوں۔ ہونٹ گہرے لال سجے ہوئے ہیں جو مُسکنےکے سبب تھرتھراتے محسوس ہوتے ہیں۔ خفیف مگر بیچ میں کہیں کھلتی ہوئی مسکراہٹ کی وجہ سے بھرے ہوئے تازہ گالوں کے گرد گولائی میں مستقل، خط مسلسل سا گر رہا ہے جیسے شفاف چشمہ جاری ہو۔ ایک ادا سے سر کو ایک طرف یوں جھکا رکھا ہے کہ تنی ہوئی گردن، لمبی صراحی جیسی اور عریاں نظر آتی ہے۔ اس کو اگر پشت سے دیکھیں تو یہ اور بھی واضح ہو جاتی ہے۔ گھنی زلفوں کو چوٹی سے سمیٹ کر ایک پھندنا سا بنا رکھا ہے۔ اس پھندنے کو دائیں کندھے سے نیچے لپٹا کر یوں گرا رکھا ہے کہ جیسے کوئی سیاہ زہریلی ناگن ڈال کے اوپر سے بل کھاتی لٹکتی ہے اور اک زرا جنبش پر یہ چھاتی پر سیدھا ڈنگ مارنے کو لپکے گی۔ اوڑھنی کے نام پر پتلی سی دوپٹی ہے جو بائیں کندھے پر اس طرح ٹکا رکھی ہے کہ سینے پر پھیل کر چھپانے کی بجائے ابھاروں کو مزید نمایاں کر دیتی ہے۔ کھلے گلے کے تنگ جامے پہنے چست جسم والی یہ ناری شام کے دھندلکے میں ایک سانچی ہوئی جیتی مورت جیسی ہے جس کا بدن چلتے ہوئے ایسے لہک رہا ہے کہ کمر سے نیچے کولہے، ہر اٹھتے قدم پر گھوم کر واضع ہو جاتے ہیں۔ سبب اس کے جس گھیرے میں یہ آگے بڑھ رہی ہے، دیکھنے والوں کے اندر ہیجان کے چھینٹے اڑ رہے ہیں۔ مرد اس کو مسلسل تاڑتے ہوئے چل رہے ہیں اور واضع طور پر اگر اس کا جسم مرکز ہو تو گھیر چہار پھیر مردوں کی ہوس سے بھرپور نظروں کا گھیرا اس کے وجود کے ساتھ چپکا ہوا آگے بڑھ رہا ہے۔ نظروں کا بس نہیں چلتا ورنہ اس نار کے بدن کی حرارت سے نظروں میں چنگاریاں شعلے بنی ہیں، ان سے اس جسم پر چپکے کپڑوں کا آخری چیتھڑا تک جلا ڈالیں اور گداز بدن کو کچرکچر کاٹ کھائیں۔ گلی کے منہ پر کھڑی عورتوں کی پہنی گھٹیا خوشبو کے برعکس اس نار کی صرف جسم کی باس ہے۔ خیال یوں ہے کہ اسے خوشبو کی حاجت ہی نہیں ہے، اس کا بدن خود خوشبو کا جھونکا سا ہے۔ ھاں، خوشبو پہننے کی ضرورت شاید کل صبح رہے جب رات بھر بھرے  گدگداتے جسم کی باس کھرچ کھرچ کر اس میں بدبو بھردی جائے گی۔
فرہاد کی طرح میری توجہ بھی اس نار سے تب ہٹی جب مورت دوسری جانب مڑ گئی۔ مردوں کا آدھا جتھا اس کے ساتھ ہی مڑ گیا اور کچھ آگے بڑھ رہے۔ ہم اس جانب گئے جدھر موتیے اور اگربتی کی گڈمڈ خوشبو گہری ہوتی جا رہی ہے۔ اب خیال یہ ہے کہ اس بو کے پیچھے اگر ہم چلتے رہیں تو سیدھا طوائفوں کے کوٹھوں میں جا ٹکیں گے ۔ شوق دو چند ہوا جا رہا ہے۔جیسا سنتے آ رہے ہیں کہ کئی گلیاں ہوں گی جن میں چہل پہل کچھ ہٹ کر ہو گی۔ حرام زاد لونڈے پان چباتے گھوم پھر رہے ہوں گے اور ساز کی محفلیں بس جمنے ہی والی ہوں گی۔ اوپر بالاخانوں میں گھنگھرو اور طبلے بجتے اورجیسے منٹو کہتا ہے کہ سر پہ تیز بلب جلا کر جوان ناریاں متوجہ کرتی ہوں گی۔ امید یہ ہے کہ کچھ برپا ہو یا کوئی حسیں قصہ بن جائے تو میں کبھی زیدی کو چائے کی محفل میں چت کر سکوں۔ اس نے اگررنڈیوں کے ساتھ تاش کھیل رکھی تھی تو میں بھی چسکے لے کر بتا سکوں کہ کیسے ایک ناری نے اشارہ کیا تھا، یا پھر ہم کیسے نگاہوں کے گھیرمیں گھر کر کوٹھے پر پہنچے تھے اور پھر۔۔۔
اب ہم خوشبو کے تعاقب میں اس طویل گلی کی نکڑ پر آ گئے ہیں۔ یہاں اگر ساتھ والی گلی میں آدھے صفرے کے جیسے واپس مڑیں تو سامنے ایک مکان ہے۔ اوپر چڑھتی سیڑھیوں پر تیز گلابی روشنی پھیلی ہوئی ہے۔ میں نے فرہاد کو کہنی مار کر متوجہ کیا تو وہ پہلے ہی اس مکان کا جائزہ لے رہا تھا، فوراً ہی حتمی سا فیصلہ سنایا،
"ہمم، یہ وہی ہیں۔ دیکھو، یہ گھر نہیں ہے۔ گلابی روشنی میں جو اوپر کو سیڑھیاں چڑھتی ہیں یقیناً بالا کسی طوائف کا کوٹھا ہے"
اوپر جھانک کر دیکھا تو کچھ دکھائی نہ دیا، سننے کی کوشش کی تو ایک دوسرے کے سوا آواز نہ آئی۔ تیز گلابی روشنی دعوت دے رہی ہے تو خاموشی گویا روک لگا رہی ہو۔
اس کوٹھے کوبمشکل نظرانداز کر کے ہم گلی میں مڑ گئے۔ دوسرے اور بعد دو مکان چوتھے پر بھی پہلے کے جیسے کوٹھے کا یقیں ہوا۔ اس گلی میں بو گہری ہے تو چہل پہل بھی اسی تناسب سے بڑھ رہی ہے ۔ گلی کی دوسری نکڑ پر رش کا دور نظر آتا ہے تو میں اور فرہاد بصد شوق تیز قدم اٹھاتے چلتے گئے۔ خوشبو اس قدر ہے کہ اب ہمیں اپنے جسم تک کی سونگھ اوپری لگنے لگی ہے۔ نیچے نالیوں کی بدبو تو بالکل دب کر رہ گئی۔ فرہاد گہرے سانس لے کر پھیلی خوشبو اور فضا میں حرم کا احساس اپنے اندر بھرنے لگا۔ مجھے یقین تھا کہ جیسے پچھلی گلی میں اس بانکی ناری سے ٹاکرا ہواتھا یہاں اس جیسیوں کی قطار ہو گی ۔جیسے جیسے رش میں گھستے گئے، شوق اور کچھ ہونے کا احساس بڑھتا گیا۔
گلی کی نکڑ میں جہاں رش عروج پر تھا، وہاں پہنچ کراپنے حال سے بھی جاتے رہے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ روشنی، رونق اور دبیز ہوتی خوشبو کا منبع حرم کی طوائفوں کے کوٹھے نہیں بلکہ امام بارگاہ کے باہر، زیارت پر سینکڑوں اگربتیاں جل رہی ہیں۔ کئی مرد، عورتیں اور بچے جمعرات کی شام میں جوق در جوق بڑے اہتمام سے پنجے پر موتیے کے ہار چڑھا رہے ہیں۔ طبیعت مکدر ہو گئی اور دل بجھ سا گیا۔
تبھی میری نظر گھوم کر زیارت کے چبوترے پر گئی جہاں کالے جوڑے پہن کر اور سختی سے سر ڈھانپے جوان لڑکیاں نہایت ادب سے سر ٹکائے منتیں مانگ رہی ہیں۔ میری نظر بے اختیار ان کی کالی شلواروں پر جا کر ٹک گئی ہے۔ منٹو یاد آ رہا۔
اور فرہاد جسے میں ساتھ گھیر لایا تھا، بوئے حرم میں لپٹے کھڑا ہے پر پھر بھی مصر ہے کہ طائفے حرم چھوڑ کر جا چکے ہیں۔
-افسانہ-
 (اپریل، 2013ء)

- 'بوئے حرم' پر ریاض شاہد صاحب کا تفصیلی تبصرہ
- 'بوئے حرم' پر معروف افسانہ نگار علی اکبر ناطق صاحب کا آٹوگراف
 
صلہ عمر © 2011 DheTemplate.com & Main Blogger . Supported by Makeityourring Diamond Engagement Rings