بوئے حرم

میں جو فرہاد کو ساتھ گھیر لایا تھا، اب حرم کی گلی کے منہ پر کھڑا مضطرب سا ہوں۔
کچھ روز قبل، راستے میں کرسیاں بچھا کر ہوٹل والے نے جہاں تجاوز کر رکھا ہے، چائے کے دور پر معروف شعراء کے مصرعے اچھال کر داد وصول کر چکے تو بات منٹو کی آن شروع ہوئی۔ زیدی جو دبکا بیٹھا سگریٹ پھونک رہا تھا ،کہنے لگا،
"میں اور منٹو ایک قدر مشترک رکھتے ہیں" اتنا کہہ کر توقف کیا اورقبل اس کے استفسار کیا جاتا، خود ہی بولا،
"ہم دونوں نے رنڈیوں کے ساتھ تاش کھیل رکھے ہیں۔" اس پر قہقہ بلند ہوا توساتھ دوسری میز پر براجمان بزرگوار گھورنے لگے۔ یہ غالباً ہم لا اوبالیوں کی جانب ہی کان لگائے بیٹھے تھے۔ ان کی کسے پرواہ ، سب بارے اس واردات جزئیات تک کی تفصیل جاننا چاہتے تھے۔ فرمائش کی دیر تھی کہ زیدی چسکے لے کر قصہ بیان کرنے لگا ۔ سننے والے بعض زیر لب مسکرائے، دو ایک آزرد بھرے سے زیدی کو تکنے لگےاور جو باقی تھے وہ دم بخود بات سن رہے ۔  قصہ رنڈی کے ساتھ صرف تاش کھیلنے پر تمام ہوا تو ہر طرف قہقہہ گونج گیا۔ قصے میں اگر فحش بیانی تھی توقہقہہ کہیں بڑھ کر فحش نگار ثابت ہوا۔ اب کے بزرگوار نے گھورنے کی بجائے رخصت ہونا مناسب خیال کیا۔ زیدی کو قصہ وا کرنے کے بعد جو داد ملی سو ملی، چند ایک نے زیدی کو واقعے کی رنڈیوں کے سمیت توبہ استغفار دھراتے ہوئے آڑے ھاتھوں لیا۔ یہ اور بات ہے کہ لتاڑنے والوں میں ایسے بھی تھے جن کے بارے سنتے ہیں کہ یہ ماضی میں رنڈیوں کے ساتھ سب کچھ  ہی کرتے آئے ہیں، بس کبھی تاش نہیں کھیلی۔
زیدی کی بڑھک تو رہی ایک طرف، میں جو اس گلی کی دہلیز پر موجود ہوں، اس کی ایک وجہ خود فرہاد بھی تھا۔ ایک شام مجھ سے پوچھنے لگا، "تم نے دلمیر کی لسی پی ہے؟" میں نے گردن کو انکار اور اس نے مایوسی میں جھٹکایا اور سرزنش سا کہا، "اوئے، تو اتنا عرصہ ہوا اس شہر میں ٹکا ہوا ہے  اور کبھی دلمیر کی لسی نہیں آزمائی؟ مکھن کا پُھولا پیڑا ڈال کر ایک بڑا گلاس پی لو تو شرطیہ پوری دو پہر کے لیے سیر ہو جاؤ گے۔" یہ بتاتے ہوئے فرہاد نے ساتھ اپنا پورا بازو بھی ناپ لیا جو لسی کے گلاس کا اندازہ تھا۔ لسی سے شروع ہو کر اس نے شہر میں کھانے پینے کی تقریباً مشہور جگہیں ایک ایک کرکے گنوائیں۔ ان میں سے اکثر کا نام میں پہلی بار سن رہا تھا۔ اس پر فرہاد نے جوان عمری میں یوں میری عزلت پسندی پر خاصے تاسف کا اظہار کیا اور اب وہ اسی بات کو لے کراپنی آوارہ گرد طبیعت کا ذکر کچھ فخر سے کر کے چوڑا ہوا جا رہا تھا تو میں نے روک لگانے کو لہجہ اوپرا کر کے دریافت کیا،
"تو کبھی حرم گیا ہے؟"
یہ سنتے ہی ساتھ بیٹھا سفیر سٹپٹا گیااور بے یقینی سے مجھے تکنے لگا۔ فرہاد کھسیانا سا ہنس کرکہنے لگا، "تجھے شرم تو نہیں آئی ہو گی ناں؟"
میں جواباً مکر کی ہنسی ہنسا تو فرہاد نے بھی ساتھ دیا جس سے سفیر کا شک پختہ ہو گیا۔ سفیر نے پوری تفتیش شروع کر دی۔ کھل کر بتایا کہ منٹو نے رنڈیوں کے ساتھ تاش کھیل رکھے ہیں اور زیدی منٹو سے یہ قدر مشترک رکھتا ہے اور میں حرم گیٹ جانے کی خواہش رکھتا ہوں کہ آئندہ ٹاکرا ہو تو کچھ زیدی کی کاٹ کر سکوں۔ سفیر کو میری بات کا بالکل یقین نہیں آیا۔ جو پہلے کھانے پینے کے منصوبے پر ٹوٹ رہنے کو ساتھ شامل ہوا تھا، حرم کے ارادے پر ایک دم پیچھے ہٹ گیا، البتہ فرہاد فوراً راضی ہو گیا۔
ہم دونوں یہاں تک پیدل ہی پہنچے تھے اور چونکہ ہمیں یہاں کی طوائفوں سےکچھ مقصود تھا اور نہ ہی ہم ان کے ساتھ تاش کھیلنے آئے تھے لہذا ہم نے رستہ بھر صرف اس محلے کی تاریخ پر بحث کی۔ اس گلی کا بازار عام سا ہے، جیسا کہ کسی بھی بازار کی چہل پہل ہو سکتی ہے۔ گلی تنگ ہے اور جہاں تک نظر جا رہی ہے، یہ ٹیڑھی ہوتے ساتھ تاریک ہو جاتی ہے۔ گلی کے سرے پر سیاہ چادروں میں لپٹی عورتیں راستہ بھرے کھڑی ہیں۔ یہ عام سی گھریلو عورتیں ہی لگتی ہیں اور میں نہیں جانتا کہ یہ چادروں میں پاکدامن عورتیں ہیں یا ناچنے والی طوائفیں؟ چونکہ ہم حرم کی گلی میں موجود ہیں تو اپنے تئیں یہ طے کر لیا کہ یہ عورتیں یقیناً طوائفیں ہیں۔ شریف زادیوں کا بھلا یہاں کیا کام؟ تبھی اک خیال یہ بھی کوندا کہ یہ عورتیں جو بھی ہوں، چادر ان کا پردہ ہے۔ چادر نے اپنے اندر ان میں سے ہر ایک کی اچھائیوں اور برائیوں کو یکساں طور چھپا رکھا ہے۔ اگر آسمانوں میں رب ان کا پردہ دار ہے تو زمین پر یہ چادر ہے جس نے ان کو ڈھانپ رکھا ہے۔ میں اور فرہاد جو یوں اس بازار میں کھلے ڈلے گھس آئے ہیں تو بھلا یہ عورتیں اور ارد گرد کی چہل پہل ہماری اس بے پردگی بارے کیا سوچتے ہوں گے؟ اتنے تک پہنچ کر ایک جھرجھری سی آ گئی۔
شرافت دکھانے کو عورتوں کے بیچ میں سے پہلے فرہاد اور اس کے پیچھے پیچھے میں، جسم سمیٹ کر اور سر جھکائے گزرے۔ گھٹیا خوشبو سونگھ آئی اور اگلی ہی ساعت نتھنوں کے اندر تک کھلی نالیوں کی بدبو رچ بھر گئی۔ ہم دونوں ایک دوسرے سے کوئی بات چیت نہیں کر رہے تھے۔ غالباً طوائفوں کے ماضی پر بات کرنے کی اب کوئی ضرورت نہیں تھی کہ ہم ان کے حال سے گزر رہے ہیں۔ وہ عورتیں اب خاصی پیچھے رہ گئی ہیں۔ اندرون شہر کی اس گلی کسی بھی محلے کی طرح عمارتیں پرانی مگر پختہ اینٹوں سے تعمیر کی گئی تھیں۔ ہر عمارت کے داخلے کی سیڑھیاں گلی کو علیحدہ سے تنگ کر رہی ہیں تو ہر دوسری عمارت کی دیوار گلی کی حد میں ناجائز تصرف کرتی جاتی ہے۔ گلیاں بھی پختہ اینٹوں کی ہی ہیں جو جا بجا اکھڑی ہیں اور نالیاں بھی ویسی ہی کھلی اور بدبو دار ہیں۔ یہاں تک میں صرف گلی کا فرش ہی دیکھ پایا ہوں کہ میرا سر جو عورتوں کے بیچ گزرتے جھکا تھا، اب بھی ویسا ہی ہے۔ گلی کا پہلا موڑ مڑتے ہی رونق نظر آئی۔ ایک کریانے کی دکان ہے جس کے باہر دکاندار دوسرے کئی لونڈوں کے ساتھ بیٹھا گلی کو مزید ناقابل کیے جا رہا ہے۔ میں نے بے جانے بوجھے سر مزید نیچے جھکایا تو ٹھوڑی جیسے سینے میں گڑھ گئی ۔ دکان کے ساتھ ایک دروازہ واہے جس کے سامنے سے گزرتے ہوئے ہم دونوں نے ایک ساتھ شوقین نظروں سے اندر جھانکا کہ شاید کوئی جوان ناری، سجی ہوئی بالکل سامنے بیٹھی تماش بینوں کا انتظار کر تی ہو ۔ ہماری مایوسی کے لیے اندر زرد بلب کی روشنی پھیلی تھی جس کے نیچے سنوکر کی میز دھری ہے ۔گلی کے بے مونچھوں جیسے ہی دو چار اندر بھی شغل لگائے ہوئے ہیں۔ میں نے کھسیانا ہو کر ایکدم بالکل سامنے یوں دیکھا جیسے کوئی چوری پکڑی گئی ہو۔
سامنے جاتا راستہ دو اور گلیوں میں بٹ جاتاہے ، ہم نہایت اطمینان سے بائیں جانب مڑ لیے۔ اس طرف گلی نسبتاً کھلی اور مکان بھی نئی تعمیرات لگتے ہیں۔ پھر یہاں نالیوں کی بدبو بھی کم ہے۔ تبھی اچانک فرہاد لمحہ بھر کو ٹھہرا اورگہرا سانس لے کر کہنے لگا،
"تم یہ بو سونگھ رہے ہو؟ یہ چیز ہے، یہی!"
وہ ایسے بے صبرا ہو رہا تھا جیسے یہ بو اس کو ساتھ ہی اٹھا کر ہوا میں بکھرنے والی ہے۔ میں نے اس کی پیروی میں گہرا سانس کھینچا تو موتیے، اگربتی اور نالی کی خلط ملط بو نتھنوں میں بھرتی چلی گئی۔ چاروں جانب مشتاق نظریں دوڑائیں مگر دیکھنے کو عام مکانوں کے علاوہ کچھ بھی تو نظر نہیں آیا۔ ہر مکان کے بالا خانے کو آنکھوں سے ٹٹول رہے کہ شاید اوپر کھڑکی میں کوئی اشارہ کر جائے یا پھر کوئی دلفریب واقعہ۔ ہمیں کوئی بلائے اور ہم جو بے مقصد گھومنے آئے تھے تو کسی مقصد سے کھنچتے چلے جائیں۔ ایسا کچھ بھی نہ ہوا، بس کسی کسی مکان کے دروازے پر میلے موتیے کے گجرے ٹنگے نظر آئے۔ یہ اکا دکا باہر دروازوں کی سلاخوں پر ٹنگے ہیں، جن میں سے اکثر گزشتہ روز کے معلوم ہوتے ہیں۔ گو ہم اب تک کچھ دیکھ نہیں پائے تھے پر پھولوں کے یہ گجرے دیکھ کر فرہاد نے میری طرف معنی خیز نظروں سے دیکھا ۔ ہم نے سوکھے پھولوں اور بو کے بل بوتے پر طے کر لیا کہ یہ مکان، طوائفوں کے کوٹھے ہی ہیں۔ فرہاد اتنی دیر بعد پہلی بار بولا،
"محسوس کرو، یہ جو فضا ہے۔ یہ ان کوٹھوں کا خاصہ ہوتی ہے۔ خوشبو، یہ وقت اور جگہ۔۔۔"
اس کا لہجہ ایسا خمروالا تھا کہ میں نے خوب کھل کرپھر سے سانس کھینچی اور خیال کو جیسا سن رکھا تھا، ایک روایتی کوٹھے کے اندر تک دوڑا گیا۔ روایتی کوٹھے میں  جہاں ایک کھلے دالان میں گاؤ تکیہ لگا کرناچ گانے کی محفلیں منعقد ہوتی ہوں گی اور ہر جانب روشنی اور خوشبو پھیلی ہے۔ پھر خیال اس دالان سے اڑاتا ہوا پچھلے کمروں تک بھی لے گیا جہاں دیواروں کے پیچھے مخملیں بستروں پر کبیرہ گناہوں کی غلیظ پوٹلیاں بھری جاتی تھیں۔
خیال ٹوٹا تو ذہن غلاظت سے بھر گیا تھا مگر شکر یہ ہے کہ جیسے جیسے آگے بڑھتے ہیں، فضا ہلکی ہو رہی ہےاورخوشبو گہر رہی ہے۔ یہاں اس کے علاوہ محسوس کرنے کچھ بھی تو نہیں۔
اگلا موڑ چوک سا تھا۔یہاں چہل پہل اور بھی سوا ہے۔آمنے سامنے کے مکانوں کے بیچ میں چھوٹا سا مرکز یہ چوک محلے کی بیٹھک معلوم ہوتا ہے۔ کئی ایک بچے یہاں وہاں دوڑتے پھر رہے ہیں اور راستے میں آگے پیچھے چلتے کئی لوگ آ جا رہے ہیں۔یہیں، کئی مردوں کے بیچ گھری ایک جواں عمر لڑکی چلی آ رہی ہے۔ بانکی سی، بیس بائیس کی عمر میں یہ ناری سانولی سی ہے۔ چہرہ تخمی آم جیسا اوپر کو ابھرا ہوا اور ٹھوڑی کے قریب ہلکا سا چپٹا ہوتا چلا جاتا ہے۔ نقوش سنگھار کی قلم سے واضح کیے ہوئے ہیں جس سے آنکھیں بڑی اور ہونٹ باریک ہو کر نمایاں نظر آتے ہیں۔ روشن آنکھیں معمولی سی جھکی ہوئی ایسے حرکت کرتی ہیں کہ حیا کے اندر اردگرد نظررکھ رہی ہوں۔ ہونٹ گہرے لال سجے ہوئے ہیں جو مُسکنےکے سبب تھرتھراتے محسوس ہوتے ہیں۔ خفیف مگر بیچ میں کہیں کھلتی ہوئی مسکراہٹ کی وجہ سے بھرے ہوئے تازہ گالوں کے گرد گولائی میں مستقل، خط مسلسل سا گر رہا ہے جیسے شفاف چشمہ جاری ہو۔ ایک ادا سے سر کو ایک طرف یوں جھکا رکھا ہے کہ تنی ہوئی گردن، لمبی صراحی جیسی اور عریاں نظر آتی ہے۔ اس کو اگر پشت سے دیکھیں تو یہ اور بھی واضح ہو جاتی ہے۔ گھنی زلفوں کو چوٹی سے سمیٹ کر ایک پھندنا سا بنا رکھا ہے۔ اس پھندنے کو دائیں کندھے سے نیچے لپٹا کر یوں گرا رکھا ہے کہ جیسے کوئی سیاہ زہریلی ناگن ڈال کے اوپر سے بل کھاتی لٹکتی ہے اور اک زرا جنبش پر یہ چھاتی پر سیدھا ڈنگ مارنے کو لپکے گی۔ اوڑھنی کے نام پر پتلی سی دوپٹی ہے جو بائیں کندھے پر اس طرح ٹکا رکھی ہے کہ سینے پر پھیل کر چھپانے کی بجائے ابھاروں کو مزید نمایاں کر دیتی ہے۔ کھلے گلے کے تنگ جامے پہنے چست جسم والی یہ ناری شام کے دھندلکے میں ایک سانچی ہوئی جیتی مورت جیسی ہے جس کا بدن چلتے ہوئے ایسے لہک رہا ہے کہ کمر سے نیچے کولہے، ہر اٹھتے قدم پر گھوم کر واضع ہو جاتے ہیں۔ سبب اس کے جس گھیرے میں یہ آگے بڑھ رہی ہے، دیکھنے والوں کے اندر ہیجان کے چھینٹے اڑ رہے ہیں۔ مرد اس کو مسلسل تاڑتے ہوئے چل رہے ہیں اور واضع طور پر اگر اس کا جسم مرکز ہو تو گھیر چہار پھیر مردوں کی ہوس سے بھرپور نظروں کا گھیرا اس کے وجود کے ساتھ چپکا ہوا آگے بڑھ رہا ہے۔ نظروں کا بس نہیں چلتا ورنہ اس نار کے بدن کی حرارت سے نظروں میں چنگاریاں شعلے بنی ہیں، ان سے اس جسم پر چپکے کپڑوں کا آخری چیتھڑا تک جلا ڈالیں اور گداز بدن کو کچرکچر کاٹ کھائیں۔ گلی کے منہ پر کھڑی عورتوں کی پہنی گھٹیا خوشبو کے برعکس اس نار کی صرف جسم کی باس ہے۔ خیال یوں ہے کہ اسے خوشبو کی حاجت ہی نہیں ہے، اس کا بدن خود خوشبو کا جھونکا سا ہے۔ ھاں، خوشبو پہننے کی ضرورت شاید کل صبح رہے جب رات بھر بھرے  گدگداتے جسم کی باس کھرچ کھرچ کر اس میں بدبو بھردی جائے گی۔
فرہاد کی طرح میری توجہ بھی اس نار سے تب ہٹی جب مورت دوسری جانب مڑ گئی۔ مردوں کا آدھا جتھا اس کے ساتھ ہی مڑ گیا اور کچھ آگے بڑھ رہے۔ ہم اس جانب گئے جدھر موتیے اور اگربتی کی گڈمڈ خوشبو گہری ہوتی جا رہی ہے۔ اب خیال یہ ہے کہ اس بو کے پیچھے اگر ہم چلتے رہیں تو سیدھا طوائفوں کے کوٹھوں میں جا ٹکیں گے ۔ شوق دو چند ہوا جا رہا ہے۔جیسا سنتے آ رہے ہیں کہ کئی گلیاں ہوں گی جن میں چہل پہل کچھ ہٹ کر ہو گی۔ حرام زاد لونڈے پان چباتے گھوم پھر رہے ہوں گے اور ساز کی محفلیں بس جمنے ہی والی ہوں گی۔ اوپر بالاخانوں میں گھنگھرو اور طبلے بجتے اورجیسے منٹو کہتا ہے کہ سر پہ تیز بلب جلا کر جوان ناریاں متوجہ کرتی ہوں گی۔ امید یہ ہے کہ کچھ برپا ہو یا کوئی حسیں قصہ بن جائے تو میں کبھی زیدی کو چائے کی محفل میں چت کر سکوں۔ اس نے اگررنڈیوں کے ساتھ تاش کھیل رکھی تھی تو میں بھی چسکے لے کر بتا سکوں کہ کیسے ایک ناری نے اشارہ کیا تھا، یا پھر ہم کیسے نگاہوں کے گھیرمیں گھر کر کوٹھے پر پہنچے تھے اور پھر۔۔۔
اب ہم خوشبو کے تعاقب میں اس طویل گلی کی نکڑ پر آ گئے ہیں۔ یہاں اگر ساتھ والی گلی میں آدھے صفرے کے جیسے واپس مڑیں تو سامنے ایک مکان ہے۔ اوپر چڑھتی سیڑھیوں پر تیز گلابی روشنی پھیلی ہوئی ہے۔ میں نے فرہاد کو کہنی مار کر متوجہ کیا تو وہ پہلے ہی اس مکان کا جائزہ لے رہا تھا، فوراً ہی حتمی سا فیصلہ سنایا،
"ہمم، یہ وہی ہیں۔ دیکھو، یہ گھر نہیں ہے۔ گلابی روشنی میں جو اوپر کو سیڑھیاں چڑھتی ہیں یقیناً بالا کسی طوائف کا کوٹھا ہے"
اوپر جھانک کر دیکھا تو کچھ دکھائی نہ دیا، سننے کی کوشش کی تو ایک دوسرے کے سوا آواز نہ آئی۔ تیز گلابی روشنی دعوت دے رہی ہے تو خاموشی گویا روک لگا رہی ہو۔
اس کوٹھے کوبمشکل نظرانداز کر کے ہم گلی میں مڑ گئے۔ دوسرے اور بعد دو مکان چوتھے پر بھی پہلے کے جیسے کوٹھے کا یقیں ہوا۔ اس گلی میں بو گہری ہے تو چہل پہل بھی اسی تناسب سے بڑھ رہی ہے ۔ گلی کی دوسری نکڑ پر رش کا دور نظر آتا ہے تو میں اور فرہاد بصد شوق تیز قدم اٹھاتے چلتے گئے۔ خوشبو اس قدر ہے کہ اب ہمیں اپنے جسم تک کی سونگھ اوپری لگنے لگی ہے۔ نیچے نالیوں کی بدبو تو بالکل دب کر رہ گئی۔ فرہاد گہرے سانس لے کر پھیلی خوشبو اور فضا میں حرم کا احساس اپنے اندر بھرنے لگا۔ مجھے یقین تھا کہ جیسے پچھلی گلی میں اس بانکی ناری سے ٹاکرا ہواتھا یہاں اس جیسیوں کی قطار ہو گی ۔جیسے جیسے رش میں گھستے گئے، شوق اور کچھ ہونے کا احساس بڑھتا گیا۔
گلی کی نکڑ میں جہاں رش عروج پر تھا، وہاں پہنچ کراپنے حال سے بھی جاتے رہے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ روشنی، رونق اور دبیز ہوتی خوشبو کا منبع حرم کی طوائفوں کے کوٹھے نہیں بلکہ امام بارگاہ کے باہر، زیارت پر سینکڑوں اگربتیاں جل رہی ہیں۔ کئی مرد، عورتیں اور بچے جمعرات کی شام میں جوق در جوق بڑے اہتمام سے پنجے پر موتیے کے ہار چڑھا رہے ہیں۔ طبیعت مکدر ہو گئی اور دل بجھ سا گیا۔
تبھی میری نظر گھوم کر زیارت کے چبوترے پر گئی جہاں کالے جوڑے پہن کر اور سختی سے سر ڈھانپے جوان لڑکیاں نہایت ادب سے سر ٹکائے منتیں مانگ رہی ہیں۔ میری نظر بے اختیار ان کی کالی شلواروں پر جا کر ٹک گئی ہے۔ منٹو یاد آ رہا۔
اور فرہاد جسے میں ساتھ گھیر لایا تھا، بوئے حرم میں لپٹے کھڑا ہے پر پھر بھی مصر ہے کہ طائفے حرم چھوڑ کر جا چکے ہیں۔
-افسانہ-
 (اپریل، 2013ء)

- 'بوئے حرم' پر ریاض شاہد صاحب کا تفصیلی تبصرہ
- 'بوئے حرم' پر معروف افسانہ نگار علی اکبر ناطق صاحب کا آٹوگراف

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر