ادب میلہ، بے ادب میلا

اسلام آباد، اچھا شہر ہے۔ صاف ستھرا  ۔ بس اس آراستہ شہر پر ایک تہہ سی چڑھی ہے۔اس تہہ کو آپ کچھ کہہ لیں، لوگ مصنوعی پن قرار دیتے ہیں یا شہر میں پھیلی بیگانگی سے  تعبیر کرتے ہیں۔ میں اسے صرف تہہ  کہتا ہوں۔ اس تہہ کے نیچے جھانکنے کی یہ شہر فرصت دیتا ہے اور نہ کسی نے   کبھی ضرورت محسوس کی ہے۔ ایسے جمود میں  یہاں دو روزہ ادبی میلے کا انعقاد اس تہہ پر ایک جھاڑ مارنے جیسا ہے جہاں اور کچھ نہیں تو  تھوڑی دیر کو ہی سہی، ان لوگوں کو دیکھنے، سننے اور بات چیت کرنے کا موقع مل جاتاہے جو احساس رکھتے ہیں اور اظہار اپنی تخلیقات میں کرتے ہیں۔
میلے کا پہلا روز غم روزگار میں گنوایا تودوسرے دن کا کافی حصہ بخاری کی بھینٹ چڑھ گیا۔ بخاری شاعر آدمی ہے۔ جی دار ہے جو مجھے برداشت کیے ہوئے ہے۔ اطلاع تو تھی پر فرصت نہ ملتی تھی۔ شام جب مزدوروں کے نام پر چھٹی اڑانے کا سندیس پا کر واپس لوٹے تو طرح طرح کے پروگرام تشکیل پانے لگے۔ مثال، فلم دیکھنے کی بات ہوئی، کئی ایک کرکٹ کی دھماچوکڑی پر بضد تھے اور میں اسلام آباد ادبی میلے کا واویلا مچا کر بیٹھ گیا۔ بخاری اس بابت میرے ساتھ راضی ہو گیا اور یوں طے یہ ہو اکہ ہم میلے میں شرکت کا  ساماں کریں گے جبکہ باقی لوگ کرکٹ سے شغل کر رہیں گے۔
سویر  ہوئی تو  چکی کے وہی دو پاٹ،  ناشتے پر بخاری بضد تھا کہ شاعر اور ادیب لوگ گھڑی کے پابند نہیں ہوا کرتے۔ وہ تو من موجی ہیں، بھلا وہ اتنے سویرے میلے میں کیا کرنے آئیں گے؟ چونکہ میں کراچی اور لاہور کے حالیہ ادبی میلوں کو انٹرنیٹ پر بھگتا چکا تھا تو میں نے  بہتیری گزارش کی کہ جناب مائی باپ، ادبی میلے اب ویسے نہیں ہوا کرتے جیسا کہ  موصوف کی 'جوانی' کا خاصہ رہے ہیں مگر یہ بندہ خدا ٹس سے مس نہ ہوا۔ دن بھر اس کوڑھ مغز شاعر کے  ساتھ مغز ماری کا  ہی میلہ سجا  رہا۔ وہ تو خیر ہو کہ دوپہر کے آس پاس زلزلے کا جھٹکا  آیا تو چھ منزلہ عمارت کی چھت پر بعد از دوپہر اسلام آباد کے پہلے ادبی میلے کو رونق بخشنا طے ہوا۔ بخاری کو اعتراض یہ بھی تھا کہ یہ ادبی میلہ جنگل میں واقع ایک ہوٹل میں کاہے کو منقعد کیا جا رہا ہے اور راستے بھر منتظمین کو ایسے تیسے سناتا رہا ۔
میں اپنے ایک چچا زاد کو زبردستی ساتھ بلا لایا تھا۔ چچا زاد کی یوں ہے کہ اسے ادب کی دونوں صورتوں چاہے وہ لطافت سے تعلق رکھتا ہو یا بڑوں کی عزت سے منسوب ہو، چنداں مطلب نہیں  ہے۔ بخاری نے اس نوجوان کو یوں گھسیٹ کر ساتھ لے جانے پر  بھی ٹوکا پر میں نے اس کو یوں ٹال دیا کہ کچھ بھی  ہو، چچا زاد مجھ سے عمر میں کم ہے۔ زیادہ سے زیادہ دل میں برا بھلا کہہ سکتا ہے۔ اس پر بخاری کو تسلی ہوئی اور چچا زاد کی بھنویں مزید سکڑ گئیں۔
اسلام آباد کے مارگلہ ہوٹل کے باہر جہاں عام طور پر پارکنگ ہوا کرتی ہے وہاں کتابوں کے سٹال سجے تھے۔ چھ کے لگ بھگ ناشرین نے تقریباً جو  کتب ان کے چھاپہ خانوں میں چھپ رہی تھیں، رعایت کے ساتھ دستیاب کر رکھی تھیں۔ خدا دے  اور بندہ لے، ایک سرے سے شروع ہوئے اور ابھی تین ہی سٹال کھنگالے تھے کہ بخاری نے یہ کہہ کر اندر گیلری میں گھسیٹ لیا کہ باہر کی دھوپ  طبیعت پر ناگوار سی گزر رہی ہے۔ چار بجے کے لگ بھگ جب مستنصر حسین تارڑ صاحب کی نئی کتاب غزال شب کی رونمائی کی تقریب شروع ہو چکی تھی اور ہم بھاگے بھاگے ہال میں داخل ہوئے تو پچھلی نشستوں پر ہی جگہ مل پائی۔ تارڑ صاحب اپنی نئی کتاب میں سے چند اقتباسات پیش کر رہے تھے ، جنھیں توجہ سے سنا۔ چونکہ یہی اقتباسات کتاب کے درمیان میں سے چنے گئے تھے اور تارڑ صاحب ان کا پس منظر پہلے بیان کر چکے تھے تو میں نے صرف تکنیک اور خیال پر توجہ رکھی کہ باقی کچھ پلے نہیں پڑ رہا تھا۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ کچھ لکھا ہوا پڑھنا ایک بات ہوتی ہے  مگر جب تخلیق کرنے والا خود اس لکھے میں اپنے اس احساس کو شامل کر کے پڑھے جس کے زیر اثر لکھا گیا ہو، اسے سننے کا لطف اور ہوتا ہے۔ بس یوں ہی ہوا، مکالمہ تارڑ پڑھ رہے تھے، تکنیک ان کے لہجے میں جھلک رہی تھی تو احساس ہم سامعین پر  طاری تھا۔
جب وہ سنا چکے تو اس اجلاس کے موڈریٹر صاحب جنھیں تارڑ صاحب شاہ جی کہہ کر پکار رہے تھے، تارڑ کے ساتھ یزید  جیسے سلوک کو تیار بیٹھے تھے۔ تنقید کی وہ برچھیاں برسائیں کہ تارڑ صاحب جو  اپنی نئی کتاب کی رونمائی کے لیے آئے سرشار بیٹھے  تھے،   فوراً ہی سنبھل گئے۔ تمام گفتگو تو مجھے یاد نہیں، چند سوالات اور جوابات یوں تھے؛

- شاہ جی: تارڑ صاحب، آپ آج تک کتنے  ناول لکھ چکے ہیں؟
تارڑ:  میں اس عرب بدو جیسا ہوں جو بچے جنتا رہتا ہے مگر  کبھی انھیں شمار کرنے کی کوفت نہیں کرتا۔ (قہقہہ )

- شاہ جی: آپ  کے بارے  میں لوگ کہتے ہیں کہ آپ گیلری واسطے ناول لکھتے ہیں، معیاری ادب کا وطیرہ کچھ اور ہوتا ہے۔ پھر، آپ کی کتابیں لاکھوں کی تعداد میں بکتی ہیں، ایسی شہرت پر آپ کیسا محسوس کرتے ہیں؟
تارڑ:  کون لوگ کہتے ہیں؟
شاہ جی: سمجھیے، اللہ دتہ کہتا ہے۔
تارڑ: اللہ دتہ کو میں کیا جانوں، شاید میں اسے جواب دینا مناسب نہ سمجھوں۔
شاہ جی: اچھا، سمجھیں  میں پوچھ رہا ہوں۔
تارڑ: (قدرے جنجھلا کر) صاحب، میں آسمان سے باتیں نہیں کرتا اورفرشتوں کے لیے نہیں لکھتا۔ انسانوں  کی بات  ، انسانوں کے لیے  لکھتا ہوں اور انسان ہی اس کو پڑھتے ہیں۔ وہی پسند کرتے ہیں۔  تو یہ درست ہے کہ میں گیلری کے لیے لکھتا ہوں اور گیلری میں لاکھوں کی تعداد میں  یہ کتابیں بکتی ہیں۔  مزید، عرصہ پہلے جب ناول اچھے خاصے بکنا شروع ہوئے تو میں جھینپ کر چھپتا پھرتا رہا۔(تالیاں)

شاہ جی:  آپ کے سامعین کہا جاتا ہے کہ شاید کبھی چیچوں کی ملیاں سے باہر قدم نہیں رکھا ہو گا،  ادھے اور ان پڑھ لوگ کیا جانیں معیاری ادب کیا ہوتا ہے۔ کیا خیال ہے؟
تارڑ: (توقف سے) میرا خیال تھا کہ کتاب کی رونمائی واسطے اجلاس ہے، آپ فقرے بازی شروع کر رہے ہیں۔  تو یہ مناسب نہیں۔ سامعین جو آپ کے سامنے بیٹھے ہیں وہ ان پڑھ نہیں ہیں،  اور جن کو آپ ان پڑھ کہہ رہے ہیں وہ پڑھنے لائق لوگ ہیں۔دیکھیے، معیاری ادب سے آپ کیا مراد لیتے ہیں۔ آپ کے حساب سے تو میں کہوں پھر یوسفی، بانو قدسیہ،  اور ایسے اور کئی لوگ ہیں جن کی کتابیں لاکھوں میں بکتی ہیں وہ معیاری ادب نہیں  ہے؟ (تالیاں)
شاہ جی: دیکھیے، اب آپ کے سامعین  اگر تالیاں پیٹتے رہیں گے تو اس محدود وقت میں ہم بات نہیں کر پائیں گے، بس ان کی تالیاں ہی گونجتی رہیں گی ۔ (ھال میں زوردار تالیاں بجتی ہیں)
تارڑ: (مسکراتے ہوئے) شاہ جی آپ اپنی بات جاری رکھیں۔

شاہ جی: ایک تنقید اور بھی ہے، گامے  ماجھے  کا کہنا ہے کہ جی آپ رات کو سوتے ہیں تو سویرے ایک نیا ناول آیا ہوتا ہے۔
تارڑ: بات یہ ہے کہ میں نے زندگی بھر نوکری کوئی نہیں کی۔ ٹی وی پر اینکری، اخبار میں کالم اپنے گھر کا چولہا جلانے کو کیا۔ زیادہ وقت میسر تھا تو وہ لکھنے پر خرچ کر دیا۔ پھر اب اگر میرا تخیل اتنا زرخیز ہے تو میں کیوں نہ لکھوں، آپ کیا چاہتے ہیں کہ جو خیال ہیں انھیں ہلاک کر دوں؟
شاہ جی: (قدرے ترشی سے) اچھا، مگر یہ تو مانیں گے ناں کہ کئی لوگوں کا خیال ہے کہ آپ ایک چھوٹی سی بات کو پھیلا کر دس دس صفحوں میں بیان کرتے ہیں۔ پتہ نہیں، پچیس تیس ہزار  صفحات آپ لکھ چکے ہیں، وہی بات آسانی سے تھوڑے میں کہی جا سکتی تھی۔
تارڑ: (اکتا کر) ھاں جی، میں ایسا ہی کرتا ہوں۔ (زور دار تالیاں)

شاہ جی: آخری پانچ منٹ ہیں اور پھر ہم سامعین کے سوال لیں گے۔ آپ بلاشبہ عصر حاضر کے بہترین ادیب ہیں۔ اور اگر میں یہ نہیں کہوں گا تو یہ لوگ مجھے یہاں سے نکلتے ہی پیٹ ڈالیں گے۔ (مزید تالیاں پٹنا شروع ہو گئیں) میرا آخری سوال یہ ہے کہ آپ لکھتے کیسے ہیں؟ آپ کیا پہلے خیال کو پروان چڑھاتے ہیں یا کیا کرتے ہیں؟
تارڑ: پانچ منٹ میں میرے لیے ممکن نہیں کہ میں بتا سکوں۔
شاہ جی: مختصراً بتا دیں۔ خیال بارے ہی بتا دیں۔
تارڑ: چلیں میں ایک مثال سے واضع کرتا ہوں۔ خیال کا یوں ہے کہ جیسے 'بہاو' بارے کہوں تو اس کا خیال مجھے ایک رات جب میں نے پانی کے گلاس اٹھایا۔ پانی کا گلاس اگر ہاتھ میں تھامیں تو ٹھنڈک سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس میں کتنا پانی ہے۔ تو مجھے لگا کہ پانی گھنٹے دو بھر میں گرمی سے سوکھ گیا ہے۔ اب یہ مجھے علم نہیں تھا اس سے پہلے تو سویر تک میرے ذہن میں یہ خیال گھومتا رہا۔ خیر بات آئی گئی ہوئی اور چوتھے روز ایک تقریب میں معلوم ہوا کہ یہ جو چولستان ہے، وہاں ایک دریا ہوا کرتا تھا جو سوکھ گیا تھا۔ خیال واپس آ گیا اور میں یہ سوچنے لگا کہ دریا کے دریا یوں سوکھ جاتے ہیں اور پوری تہذیب فنا ہو جاتی ہے۔ اب، ایک ایسا شخص ہو جیسے کہ میں خود ہوں اسے اگر یہ پہلے سے معلوم ہو جائے کہ دریا سوکھ رہا ہے اور یہ شہر ختم ہو جائے گا اور اسے یہ شہر کو بتانا ہے تو کیسی ذمہ داری اس کے کندھوں پر آن پڑے گی، کتنی بھاری ذمہ داری۔ تو یوں خیال پروان چڑھتا ہے۔
اس کے بعد سامعین کے سوالات کے مستنصر حسین تارڑ صاحب نے جوابات دیے۔ سوال کرنے والوں میں عبداللہ حسین بھی شامل تھے جنھوں نے تارڑ سے پوچھا کہ کیا انھیں احساس ہے کہ ان کا جو نیا کام ہے اس میں معیار اور نکھار زیادہ ہے، جس پر تارڑ نے ایسے کسی بھی احساس سے   واقفیت سے انکار کردیا۔ اس نشست میں، سامعین نے چند دلچسپ سوال بھی پوچھے جن میں سے ایک خاتون کا یہ سوال مجھے یاد رہا کہ جیو ٹی وی پر تارڑ صاحب نے جو رشتے کرانے والے بابے کا کردار نبھایا، کیا وہ ان کو زیب دیتا تھا؟ اس پر تارڑ نے سپاٹ لہجے میں کہا کہ جب وہ یہ کر رہے تھے تب ان کے گھر کی چھت ٹپک رہی تھی اور غسل خانے کی ٹائلیں اکھڑی ہوئی تھیں۔ اس کے لیے انھیں یہ سب کرنا پڑا۔
اس اجلاس کا خاتمہ شکریہ پر ہوا جس میں شاہ جی نے تارڑ صاحب اور تارڑ کے قارئین سے 'بدتمیزیوں' پر معافی چاہی۔ اجلاس ختم کیا ہوا، تارڑ جو پہلے شاہ جی کے زیر عتاب تھے اب ایک جم غفیر کے نرغے میں آ گئے جو ان کی سانس تنگ کر رہے تھے۔
یہ تو تھے تارڑ۔
ہمارا یہ کہ میں نے پہلی بار دیکھا کہ میرا چچا زاد ساتھ نشست پر موجود نہیں ہے۔ فون کیا تو پتہ چلا کہ صاحب اجلاس کے دوران بہانے سے باہر نکلے اور فٹ ہوٹل سے باہر دوڑ لگا دی۔ میں نے سرزنش کی تو کہنے لگا کہ جی مجھے کیا پتہ تھا کہ  آپ اس پاگل پن میں  مجھے ساتھ لیے جا رہے ہیں، میں تو  بس فیسٹول کے نام پر دھوکا کھا گیا۔ اور اللہ جھوٹ نہ بلوائے، ایسا بے ادب کہ اشاروں اشاروں میں میری دماغی حالت پر سوال اٹھانے لگا۔ 
 چچا زاد کو دو چار صلواتیں سنا کر باہر نکلے تو گیلری میں  افسانہ نگار علی اکبر ناطق سے تھوڑی گپ شپ ہوئی۔ اس کے علاوہ، شاعر اختر رضا سلیمی، قمر رضا شہزاد اور گردیزی صاحب سے بھی ملاقات ہوئی۔ سچ کہوں تو بخاری کا بس یہی فائدہ ہوا۔
عبداللہ حسین، انتظار حسین اور محمد حنیف سے صرف مصافحہ کر پائے اور مجھے سب سے اچھی شخصیت انتظار حسین کی محسوس ہوئی جو سہارے سے سیڑھیاں چڑھ رہے تھے۔
ٹوئٹر دوست، 'فیفو' بھی اس میلہ میں شریک تھیں۔ اجلاس کے فوراً بعد بس چند ساعت ہی ملاقات بلکہ کہیے صرف دعا سلام ہوئی۔
گھومتے پھرتے اس ھال میں پہنچے جہاں ضیاء محی الدین صاحب کچھ سنا رہے تھے۔ ھال میں تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی اور ایک طوفان بدتمیزی برپا تھا۔ چند ہی منٹ میں حبس سے جی ایسا خراب ہوا کہ فوراً دوڑ لگا کر باہر کھلی فضا میں آن کھڑا ہوا۔ دو روز کے میلے میں، چالیس کے لگ بھگ اجلاسوں میں کچھ غم روزگار اور باقی بخاری کی بھینٹ، صرف ایک ہی اجلاس میں شرکت کر پائے۔
باہر کتابوں کے سٹالز پر کافی گہما گہمی تھی۔  ناطق کے افسانوں کا مجموعہ 'قائم دین' اور ساتھ آکسفورڈ یونیورسٹی  پریس کی ہی چھاپی شعیب سلطان خان کی کتاب 'دیہی ترقی'  اور اسلم خٹک صاحب کی تحریر کی ہوئی، 'A Pathan Odyssey' بھی خریدی۔  جب میں کاونٹر پر ادائیگی کو کھڑا تھا تو لائن میں مجھ سے آگے ایک محترمہ نہایت سکون سے سیلز مین سے دریافت کر رہی تھیں کہ جو دو کتابیں انھوں نے پسند کی ہیں، کیا یہ پتہ چل سکتا ہے کہ ان کے نقل شدہ نسخے کس نے چھاپے ہیں اور وہ اسلام آباد میں کہاں دستیاب ہوں گے؟ اس ادا پر سیلز مین کا منہ بند اور میرا کھلے کا کھلا رہ گیا۔ 
شام کے اس پہر بھوک دو چند ہو گئی تھی اور مزید وہاں رکنے کی ہمت نہیں رہی تھی سو واپس چل دیے، ورنہ بخاری کا اب بھی خیال یہی تھا کہ ادبی میلے عام طور پر شام میں ہی سجا کرتے ہیں، اور واپسی پر یوں بھی کڑھتا رہا کہ صاحب اس جنگل میں یہ کیا  اودھم مچا رکھا ہے۔ عوام میں جا کر یہ لوگ ادب سے بے ادبیاں کیوں نہیں کرتے؟
میں  چونکہ بھوک سے بدحال ہو رہا تھا تو بخاری کے منہ لگنا مناسب نہیں سمجھا اور وہ واپسی کے تمام رستے وہ میرے مغز سے اپنا ادبی پیٹ بھرتا رہا۔

 -رپورتاژ-
(مئی، 2013)

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر