پہلی صف

اکبر خان جتوئی علاقہ کے جدی پشتی زمیندار میں سے ایک تھا۔ اس کی ملکیت میں رہائشی حویلی ایک بیگھے رقبے پر اکبر خان کے دادا، شامیر خان نے اپنی جوانی میں بڑی باڑھ کے بعد دوبارہ تعمیر کی تھی۔ اس حویلی کے بغل میں کئی باڑے اور ایک ڈیرہ بھی تھا جس پر ہمہ وقت مزارعوں اور باڑے کے ماجھیوں کا تانتا لگا رہتا تھا۔ اللہ کا دیا سب کچھ تھا۔ تین بیویاں، دو جوان جہاں بیٹے جو زیادہ تر شہر میں رہتے، پانچ سینکڑے گھیردار زمین کی جاگیر، جس میں کئی ایکڑ آموں کے باغوں کے علاوہ سال میں ایک اناج اور دوسری صاف منافعے کی فصل بوئی جاتی تھی۔ سب کچھ تو تھا مگر جیسے کمی ہوا کرتی ہے، اکبر خان کی بھی دو کمزوریاں تھیں۔ اول، ضرورت سے زیادہ زمین ہونے کے باوجود وہ مزید سمیٹنے سے خود کو باز  نہیں رکھ سکتا تھا اور دوم حویلی کی زنان خانے میں تین بیویوں کے باوجود بھی وہ ڈیرے پر عورتیں لائے بغیر گزارہ نہیں کر سکتا تھا۔ ہر سال کچھ نہ کچھ زمین یا تو کسی مجبور سے خرید لیتا، نہیں تو ہتھیانے تک کے لیے اس کے کاردار موجود تھے جن میں اکثر چھٹے ہوئے مفرور تھے جو اس کے ڈیرے پر پناہ لیے ہوئے تھے۔ پھر جبلی ہوس کے لیے  اکثر تو ناچنے والی کنجریاں بلا لاتا ورنہ مزارعوں کی عورتیں تو کھونٹی پر بندھی گائیوں کی طرح ہر وقت ہی اس کی خدمت واسطے موجود تھیں، یہاں بھی جو مرضی سے آ جاتی تو ستے خیراں نہیں تو اس کے کاردار پگڑی لے کر جاتے اور رات کے نکاح میں باندھ کر لے آتے۔
جو بھی تھا، ان دو قباحتوں کے علاوہ اکبر خان بھلا آدمی تھا۔ پانچ وقتی جماعت کا نمازی، مسجد کا خادم۔ سارا خرچہ خود تن تنہا اٹھاتا، مولوی کا ماہانہ وظیفہ یاد سے اس کی کوٹھڑی میں بھجوا دیتا، اسی طرح مسجد میں خدا کے مسافروں کے لیےدو وقت کھانا بھی اکبر خان کی حویلی سے ہی پک کر آیا کرتا تھا۔ عرس میلے، زیارت پر کئی ہزار روپوں مالیت کا گھی مکھن اور نذرانہ علیحدہ سے پہنچاتا  کہ اس کی فصل، حویلی اور ڈیرے میں مرشدوں کی برکت اور خدا کا سایہ قائم رہے۔  ھاں، مسجد میں بس اسے ایک خبط تھا کہ ہمیشہ پہلی صف میں عین ملا کے پیچھے نماز  پڑھتا، مجال ہے کہ اس کی جاء نماز پر کوئی دوسرا نمازی قدم ڈالنے کی بھی جرات کر سکتا ہو۔ لوگ اس کے منہ پرگاؤں میں تو کچھ نہ کہتے تھے مگر اکثر نائی موچی بازار میں اکٹھے ہوتے تو دبے دبے اکبر خان  کی اس عادت کو برا جانتے۔ جیسے، نورا حجام ایک دن  ریتی پر استرا تیز کرتے ہوئے  سامنے بیٹھے شوکے موچی  سے کہنے لگا کہ،
 'پہلے تو بس صف میں جگہ تھی، اب اکبر خان نے مصلیٰ تک اپنے لیے علیحدہ سے لگوا لیا ہے۔ آگے مولوی کا مصلیٰ ہے تو ایک سجدہ چھوڑ کر اس کا مصلیٰ بچھا ہوا ہے۔ کاردار نے بتایا کہ خان نے یہ مصلیٰ خصوصاً مدینے سے منگوایا ہے"۔
 شوکا موچی جو بے دھیانی سے اس کی بات سنتے ہوئے گھسے جوتوں میں سوئے تار رہا تھا، مدینے کا زکر سن کر ایک دم مودب ہو گیا ۔ دونوں انگوٹھے چوم کر آنکھوں سے لگائے اور کہنے لگا، "مولا برکت ڈالے۔ خدا جانتا ہے بستی میں اس کی وجہ سے مسجد میں سب کو سہولت ہوتی ہے۔ پانی سارے پہر ٹونٹیوں تک میں آتا ہے، پھر مسافروں کے لیے اس نے جو بندوبست کر رکھا ہے، مولا کی اس کو دین ہے۔"
اس پر نورے نے برا سا منہ بنا کر مسافروں کی آل اولاد میں حرام نطفہ گھسیڑا اور بولا،
 " شوکے، حرام پنا نہ کر۔ خان کی خود کی حالت یہ ہے کہ رات عورتوں کی گود اور فجر مولوی کے پیچھے گزرتی ہے۔ اللہ مجھے معاف کرے، میں نے تو فجر سے توبہ کر لی۔ سویر وہ نام تو خدا کا پڑھ رہا ہوتا ہے مگر منہ کپی کی باس مارتا رہتا ہے۔ جماعت حرام  ہو توایسی مکروہ  نماز کا فائدہ؟" اس پر شوکے نے بھی استغفار پڑھی، پھر گویا ہوا کہ،
"باقی تو سب ٹھیک ہے، بس اس کی یہ عورتوں والی بد عادت چلی جائے تو بندہ ہیرا  ہے، ہیرا۔" اب کے شفیے درزی نے شلوار کے نیفے کا عرض سلائی مشین میں فٹ کیا اور ہتھ دستی سے کھٹ کھٹ مشین چلاتے لقمہ دیا،
 "بات یہ ہے بھائیو کہ اکبر خان مسجد میں نماز پڑھ کر خدا کو راضی رکھتا ہے، مگر پہلی صف میں کھڑے ہونے کی عادت اس کے دادے والی ہے۔ میرا ابا کہا کرتا تھا کہ جتوئیوں کو خدا کی زمین تو عطا ہوئی ہی ہے مگر وہ مسیت کے بھی زمہ دار ہیں۔ کہو تووہ مسیت میں بھی خدا کے شریکے ہیں"۔  ان لوگوں کی یہ  بحث  ہمیشہ کی طرح تبھی بس ہوئی جب اکبر خان کا منشی طیفا وہاں آ کر بیٹھ گیا۔ محفل جما، حقہ سلگا کر تاشوں کی بازیاں چلنے لگیں۔ شوکے، نورے اور شفیے نے اپنا دھندہ ویسا چھوڑ  کر دن بھر کی کمائی تھڑے پر جوئے میں جھونک دی۔
شام میں اکبر خان باہر ہوا خوری کو نکلا کرتا تھا۔ اس روز بھی  جب وہ بازار میں نکلا تو منشی بازی آدھی چھوڑ کر اس کے پیچھے دوڑا تو شوکے نے منہ نیچے کر کے پاس بیٹھے شفیے کی ران دبا کر کہا کہ، "لے بھئی شفیے،طیفا دلال اپنے  خان کے لیے رات کا  انتظام پوچھنے گیا ہے۔" شوکا جو ان دونوں کو سن رہا تھا طیفے کو واپس آتا دیکھ کر بولا، "رب جانے کس مزارعے کی فصل  میں یہ حرامی کھوٹ نکالے گا۔" طیفے نے جیسے بات سن لی ہو، ھنستے ہوئے رقم سمیٹ کر بولا،
 "آج کی بازی تو سجنو میں لے  ہی گیا، اب دیکھو کس دن خان کا باز تم حرامزادوں کی چڑیوں پر نظر ڈالتا ہے۔" یہ کہتے ہوئے طیفے کے انداز نے گویا ان کمی کمینوں کے گھروں کی عزت کے کونے کھدروں تک کو کھنگال لیا ہو۔
اس کی موجودگی میں تو کسی کو ہمت نہ ہوئی، اس کے جانے کے بعد سب نے خان اور اس کے دلال کی  زبانی کلامی خبر لی۔
منشی  طیفے کا کام دلال جیسا ہی تھا۔ وہ اکبر خان کے لیے مزارعوں کی عورتیں ڈھویا کرتا تھا۔ اس کے پاس سب کا حساب تھا۔ جس مزارعے کی کوئی عورت تارنے والی ہوتی تو اس کے حساب میں ردبدل بھی ہو جاتا تھا۔ اکثر تو اس کی ضرورت بھی پیش نہ آتی تھی۔ اس روز بھی، جب وہ گجو کی بیٹی کو ساتھ لیے ڈیرے پر پہنچا تو شام پڑنے والی تھی۔ اکبر خان کچھ افسردہ سا باہر  کھلے میں چارپائی پر لیٹا تھا ۔ گجوکی بیٹی کو وہ اندر چھوڑ کر خان کے پاس آیا تو اکبر خان نے اسے منع کر دیا۔ طیفے کو سمجھ نہ آئے کہ ماجرا کیا ہے۔ اکبر خان نے اٹھ کر حقے کا پائپ چارپائی کی پائنتی میں پھنسایا اور بولا،
"جگو سپیرا سنا، بستی میں واپس آ گیا ہے؟" اس پر طیفے نے بتایا کہ وہ دو تین دن ہوئے اپنے کڈے کے ساتھ واپس آ گیا ہے۔ اس بارکہتا ہے کہ اچھے خاصے رنگ برنگے چھوٹے بڑے کئی سانپ پکڑلایا ہے۔ اسی وجہ سے بستی میں اچھی خاصی رونق لگی ہوئی ہے۔ اکبر خان نے ان سنی کر کے پوچھا،
"نوری بھی آئی ہے؟"
 گو طیفا معاملہ تو پہلے ہی سمجھ گیا تھا بس اکبر خان کے منہ سے سننا چاہتا تھا۔
نوری جگو سپیرے کی سب سے بڑی لڑکی تھی۔  بس پچھلے دو برسوں میں اس کی جوانی دم خم سے نکلی تھی۔ سانولی اور بھرے گالوں والی۔ لانبی زلفیں گُت بنا کر یہاں وہاں گھماتے پھرتی۔ نکلتا قد اور ابھرا سینہ خم کھاتی کمر میں، کیسا بھلا نظر آتا۔ باپ کے ساتھ سانپوں کا تماشہ کرنے نکلتی تو لوگوں کی نظریں اس کو ٹٹولتیں، سنپولیوں جیسی ہر جسمانی خم دار ادا  مسحور کن سی سب کو محو کر دیتی، یہاں تک کہ جگو سپیرے کو لاٹھی زمین پر مار مارلوگوں کو  سانپوں کی طرف متوجہ  کرنا پڑتا۔ الغرض، جس کو دیکھو سانپوں کے بہانے نوری کو دیکھنے نکلا کرتا اور جب تماشہ تمام ہوتا تو کئی سو روپے بے سود پھکیوں پر خرچ کر کے اٹھتا اور  کہو تو سمجھتا ،منافعے میں رہا۔ اکبر خان نے جب سے نوری کا  یہ نظارہ کیا تھا ،باؤلے کتے جیسے ہر وقت اس کی مشک مارتا رہتا تھا۔ اس رات بھی گجو کی بیٹی جب اس کے بستر میں گھسی تو خان کا دھیان دور بستی میں نوری کی طرف بٹا ہوا تھا، سویر واپس جاتے ہوئے گجو کی بیٹی  شرمندہ سی روانہ ہوئی ۔اگلے روز تو جیسے آپے سے باہر ہو گیا۔ تین نمازیں وہ مسجد نہ جا سکا، دبدبہ ایسا تھا کہ پہلی صف میں اس کی جگہ پر کسی دوسرے کو کھڑے ہونے کی ہمت نہ ہوئی۔ اس کا مصلیٰ ویسا ہی خالی چھوڑ کر نمازیں ادا کرنی پڑیں۔ بات بازار میں یوں نکلی کہ اس روز نورے حجام کا گلہ یہ تھا کہ تین نمازیں صف میں خالی مصلےٰ کی وجہ سے مکروہ ہو گئیں۔ خان بدبخت، مسیت جائے یا نہیں، نمازیں سب کی کھوٹی ہو جاتی ہیں۔
طیفے منشی کو آج تیسرا دن تھا کہ نوری کے پیچھے پیچھے کتے کی طرح سونگھ لے رہا تھا مگر یہ اور اس کا باپ تھے کہ کہ اس کے ہاتھ نہ آتے۔ جگو جیسے بھانپ گیا ہو تو ایک پل کو جھگی سے نکلے تو دوسرے میں پھر گھس گئے۔ پچھلی شام سانپوں کا تماشہ بھی نہیں ہوا تھا تو طیفے کی مشکل اور بھی بڑھ گئی۔ تبھی اس کو جب اکبر خان نے خوب لعن طعن کیا تو اس نے نوری کے باپ جگو سپیرے کو اس کی جھگی میں جا لیا۔ نوری کے لیے خان کا پیغام پہنچایا جس پر جگو کی جیسے باچھیں کھلی اور کندھے ڈھلک کر رہ گئے۔ پہلے تو پس و پیش سے کام لیا مگر پھر جب طیفے نے ہلکے سے اسے خمیازے کی بابت اندازہ کروایا تو منت ترلے پر آ گیا۔ منمنا کر ہاتھ جوڑے، مجبوری سے عرض کی اور آخر میں جیسے باور کرا رہا ہو،
"مائی باپ، ہم سپیرے آزاد ہوتے ہیں۔ عورت زات تو ویسے بھی اپنے من کی غلام ہے، اس کو کوئی قابو کر پایا ہو؟ نوری میرا مال ہے مگر اس کا فیصلہ تو وہی دیوے گی۔"
طیفے کو سمجھ آ گئی کہ یہ کم زات اس کو ٹال رہا ہے ورنہ عورت زات کی ایسی کہاں جرات جو فیصلہ کرے اور یوں انکار کر پاتی۔ وہ تو  کلے سے لگی گائے ہے جسے سبزے کی لالچ دو اور اسے چاہیے کہ ساتھ ہنکائی چلی جائے۔ مزارعوں کی طرح گو جگو سپیرا خان کا محتاج تو نہیں تھا مگر پھر بھی خان بہرحال خان تھا۔ اس چپے زمین کا مائی باپ  جہاں سے جگو سپیرا نہ صرف سانپ پکڑا کر لاتا ہے اور یہاں گاوَں گاوَں ان سانپوں کے بل بوتے پر اپنے کڈے کا پیٹ بھرتا ہے۔ بالواسطہ، جگو سپیرا اکبر خان کا دیا نمک ہی کھا رہا ہے۔ یہ سب سوچ کر طیفے نے اس کو کچھ مہلت دی اور بازار میں تھڑے پر جا پہنچا۔  تینوں کمی اکبر خان کی نوری واسطے رسے تڑوانے کی بحث لیے ہی بیٹھے تھے۔ ان کو یہ تو معلوم تھا کہ نوری آج نہیں تو کل خان کی کھونٹی سے بندھ ہی جائے گی، دیکھنا یہ تھا کہ یہ ناگن کس منتر سے کیل جائے گی۔
چوتھے دن اکبر خان کا پیمانہ لبریز ہو گیا جب نوری نے اس بابت ٹکا انکار کر دیا۔ بیٹی کی زبان میں نوری کا باپ بھی منت ترلے کرتا اڑا ہوا معلوم ہوتا تھا۔ اس پر خان کی بس ہو گئی۔ کاردار کو کہلوا کر  نوری کو جھگی سے اٹھوا لایا۔ پہلے تو اسے سمجھایا، پھر نان نفقے کا یقین دلایا مگر یہ تھی کہ جیسے ناگن پھنکارتی اس کو قریب نہ لگنے دے رہی تھی۔ خان نے جب حتمی طور خود اس سے بات کی تو تھوک کر بولی،
 "مر جاوں گی مگر حرام سے خود کو پلید نہیں ہونے دوں  گی۔۔۔ کاٹ ڈالوں گی"۔
 اکبر خان نے مولوی کو بلا کر نکاح پڑھوانا چاہا تو اس پر نوری سوا بدک گئی۔ جب کسی طور نہ مان رہی تو اکبرخان مرد تھا، طیش کھا گیا۔ پہلے مولوی کو رخصت کیا اور پھر  نوری کے پاس ڈیرے میں جا گھسا۔ دو جانپھڑ رسید کر کے زبردستی بھینچ لیا۔ نوری چلائی، ہنگامہ کرنے لگی۔ اسی کھینچ تانی میں نوری پر لپٹی کالی چادر کھینچی تو اس میں سے ایک میلی کچیلی پوٹلی تھپ سے زمین پر جا گری۔
یہ گودڑی کے رنگ برنگے کپڑے کے ٹوٹوں کو جوڑ کر سلی، پیوند لگی پوٹلی تھی جس کا منہ وا تھا۔ اکبر خان جو ہوس میں ایسا دھت تھا کہ پوٹلی کی طرف بالکل دھیان نہ دے پایا۔ گودڑ پوٹلی میں حرکت ہوئی اورسنہرے رنگ کا پھنکارتا ناجی، مشکی ناگ برآمد ہوا۔ پھرتیلا ایسا کہ گودڑی کی حبس سے باہر روشنی میں نکلتے ہی پھن پھیلا دیا اور اس کی صرف سنسناتی پھنکار سے ہی اکبرخان کی ساری مردانگی ہوا ہو گئی۔ بوکھلاہٹ میں وہ نوری کو دھکیلتے، مشکی سے دور ہٹنے کو ایک جانب مڑا ہی تھا کہ یکایک ناگ کے دانت اکبرخان کی ٹانگ میں گڑ گئے۔ اب کے ڈیرے میں اکبر خان کی وحشت ناک چیخ بلند ہوئی اور چند لمحوں میں یہ دھیرے دھیرے ناگ کے سامنے بے حال ہو کر گرتا چلا گیا۔ طیفا اور کاردار دوڑے ہوئے اندر آئے مگر تب تک زہر اکبر خان کے جسم میں سرایت کر چکا تھا۔ اس کے منہ سے جھاگ نکل رہی تھی۔ دو نالی کے ایک فائر سے کاردار نے مشکی کا کام تمام کیا تو یہاں اکبر خان نے آخری ہچکی لی۔ یہ دونوں اکبر خان کے گرد ہی رہے اور نوری موقعہ کا فائدہ اٹھا، نیم عریاں ہی دوڑتی ہوئی باہر نکل گئی۔ سویر بھوٹنے سے پہلے پہلے سپیروں کا کڈا گاؤں چھوڑ گیا۔
صبح تک اکبر خان کے دونوں بیٹے بھی پہنچ گئے اور قبر کھود لی گئی۔ اکبر خان کا جنازہ اٹھایا گیا تو منہ کالا سیاہ ہو رہا تھا۔ جنازہ گاہ میں مولوی نے پہلے اکبر خان کی بڑائی بیان کی، پھر خدا کے گھر اور سینکڑوں مزارعوں کے گھروں  واسطے اس کی خدمات پر سیر حاصل تبصرہ کیا۔ اس کے بعد لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے موت کی اٹل حقیقت کی جانب توجہ مبذول کروائی اور پہلی تکبیر بلند کرنے سے قبل، نماز جنازہ کے لیے اہم ہدایات کچھ یوں گوش گزار کیں، 
"اے لوگو، صفیں درست رکھو، ٹخنے سے ٹخنہ اور کندھے سے کندھا ملا لو۔اگر زمین پاک ہے تو جوتے اتار لو ورنہ پہن رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔" یہاں مولوی نے توقف کیا اور ہاتھ میں تھامی ٹیک والی سوٹی سے پہلی صف کی جانب اشارہ کر کے کہا،
"صفوں کے بیچ خالی جگہیں نہ چھوڑو کہ شیطان ایسی جگہیں پر کر لیا کرتا ہے۔"
اتنا سننا تھا کہ سب کی نگاہیں پہلی صف کی طرف گھوم گئیں جہاں مولوی کے پیچھے ایک شخص کی جگہ خالی تھی۔ یہاں کبھی خود اکبر خان کو کھڑے ہونے کا خبط رہا کرتا تھا۔

-افسانہ-
(مئی 2013ء)


افسانہ پہلی صف، سہ ماہی "ثالث" (اکتوبر - دسمبر 2013ء) میں شائع کیا گیا۔ 

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر