ناٹکا

"او سیمے! ایک پتی والا پان تو لگائیو۔۔۔تیز دھاریا!" شوکت عرف شوکی اداس نے سڑک کے بیچ سے ہی کھوکھے کے کاؤنٹر پر تیز بلب کی روشنی میں مصروف سیموں کو منہ پھوڑ کر آواز دی مگر وہ کہ اس پر دھیان دیے بغیر سامنے کھڑے گاہکوں کے ہجوم کو سگرٹ پان اور ٹھنڈی بوتلیں برتانے میں مصروف رہا۔
"بے او بھڑوے! تیری کان میں حرام اگ گیا، سنتا نہیں ہے کیا؟ جلدی سے پان لگا۔۔۔" شوکی جو اب فٹ پاتھ پر تھا، یوں مخاطب کرنے پر سیموں دوسروں کو چھوڑ اس کی جانب متوجہ ہوا۔ روپے پیسے کا ان کا آپس میں ادھار تھا مگر گالیاں نقد ہی چلتی تھیں، سو جوں کی توں منہ بھر کر گالی واپس کی۔ مزید کچھ کہے، کاغذ کی پُڑیا میں لپٹا پان اسکی جانب اچھال دیا۔ شوکی تیز پتی والا پان منہ میں اڑس، پان کی پتی پر نرم دانتوں سے چباتا ہوا تھیٹر کی جانب بڑھ گیا۔
تھیٹر کے داخلی راستے میں سامنے کی دیوار پر اشتہار آویزاں ہے۔ آٹھ فٹ چوڑی اور پانچ فٹ عرض کی پینا فلیکس پلاسٹک کے اشتہار پر تین مقامی اداکاراؤں کے میک اپ سے تر چہروں کی اتنی بڑی تصاویر چھاپ رکھی ہیں کہ اب خاصی مضحکہ خیز معلوم ہوتی ہیں۔ ان تصویروں کے ارد گرد، سرمئی پس منظر پر چھ آٹھ اداکاروں کی تصویریں بھی ہیں، جو چھوٹے گول دائروں میں یوں بکھری ہیں کہ ریت میں رُلتی بلوروں کا گماں ہو۔ نیچے ایک کونے میں معاون اداکاروں کے نام درج ہیں جن میں ایک نام شوکی کا بھی ہے۔ سرراہ ٹنگے اتنے بڑے اشتہار پر اپنا نام دیکھ کر اس کا سینہ چوڑا ہو گیا۔
اشتہار پر اپنے نام کی موجودگی کے سرور سے سرشار، منہ میں پان دبائے اور ہاتھ میں کتھے سے رنگی ہوئی پڑیا کا کاغذ مسل کر روڑی بناتا ہوا شوکی اداس داخلی راستے سے گزر رہا، تو روڑی کو بے نیازی سے ایک جانب اچھال دیا۔ کتھے سے لال ہوتا ہاتھ دیوار پر رگڑ کر پونجھا اور پھر اسے تیل پلائی لانبی زلفوں پر پھیرتے ہوئے بائیں ہاتھ پر ٹکٹ کی کھڑکی کی جانب مڑ گیا۔ کھڑکی کے سامنے ٹکٹ خریدنے والوں کا اچھا خاصہ مجمع ہے کہ آج رات شہر کی مشہور رقاصہ جلوے دکھانے کو سٹیج پر اترنے والی تھی۔ یہاں رک کر اس نے داہنے ہاتھ سے کان میں ڈلی بالی کو ادب سے چھوا، گویا کسی مزار کی جالی پر لٹکی ہوئی منت ہو۔ پھر ماتھے پر ہاتھ ٹکا کر باآواز بلند اجتماعی سلام گزار کیا۔ چند ایک نے مڑ کر اس کی جانب دیکھا مگر جواب دینے کی زحمت نہیں کی۔ قدرے آہستگی سے، بچ بچا کر رش میں سے راستہ بناتا یہ ٹکٹ کی کھڑکی کے ساتھ ملحق پروڈیوسر صاحب کے دفتر میں حاضری دینے کی غرض سے آگے بڑھ کے دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گیا۔
دفتردس ضرب بارہ فٹ کا معمولی کمرہ ہے جس کا فرش تک کھدڑا ہوا ہے۔ میلی دیواروں پر فلمی پوسٹر چسپاں ہیں، جن میں سے اکثر کی روشنائی اب عرصہ گزر جانے پر مدھم پڑ گئی ہے۔ اسی سبب دیواریں خاصی بھدی محسوس ہو رہی ہیں۔ کمرے کے وسط میں ایک چوکور میز پر الا بلا دھر رکھا ہے، جس کے گرد ایک دفتری اور سامنے تین مہمانوں کی کرسیاں ترتیب سے بچھا رکھی ہیں۔ دروازے سے داخل ہوں تو دائیں طرف کی دیوار کے ساتھ جوڑ کر ایک پرانے فیشن کا صوفہ بچھا ہوا ہے جو اس کمرے کے حساب سے خاصہ بے ڈھنگ محسوس ہوتا ہے۔ مگر اس صوفے پر اس وقت پروڈیوسر صاحب کے ساتھ سٹیج ڈراموں کی مشہور اداکارہ شبانہ اپنی ماں کے ہمراہ سنبھل کر بیٹھی ہے، جس کے سبب صوفے کا بے ڈھنگا پن اور دفتر کا بوجھل ماحول قدرے خوشگوار محسوس ہو رہا ہے۔
شبانہ کو سٹیج کی دنیا میں اصل نام سے کم ہی لوگ جانتے ہوں گے کیونکہ فلمی نام شب چوہدری ہر خاص و عام میں یکساں مقبول ہے۔ یہ پانی چڑھے سونے سے لدی پھندی، خاصے چست ریشمی لباس میں اپنے تئیں کھلتی مسکراہٹ سجائے، ایک ادا سے کبھی بالوں کی لٹ سنبھالتی اور پھر سنہری چوڑیوں سے کھیلتی ہوئی پروڈیوسر صاحب کی طرف متوجہ ہو کر یوں پینترے بدلتی بیٹھی ہے کہ اس کے طور کا اندازہ نہیں ہو پاتا۔ ایک لمحے کو اگر خاصی بے باک نظر آتی ہے تو دوجے لمحے یوں سنبھل جائے کہ جیسے گھٹڑی ہو۔ پروڈیوسر صاحب پچاس کے پیٹے میں درمیانے قد کے آدمی ہوں گے، شبانہ کے پہلو میں اس پر جھکے ہوئے ہیں کہ دور سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کی کمر میں یہ کُب ازلی ہے۔ اس پر یوں، تقریباً گر کر کھڑے ہوئے وہ خدا جانے کیا سمجھا رہے تھے۔ پروڈیوسر صاحب کی سرگوشیاں گو اس کو سنائی نہ دیں پر شبانہ جیسے کوئی پُتلی ہو جس کی ڈور پروڈیوسر صاحب نے تھام رکھی ہے اور وہ اس لمحے میں سوائے ان کے کسی کی طرف متوجہ نہ ہو۔ پروڈیوسر صاحب کی ہر بات اور اشارے پر اثبات میں اک ناز سے جی ہاں، جی ضرور کی رٹ الاپ رہی ہے۔ سامنے کرسی پر بیٹھی اس کی ماں شبانہ کی اس فرمانبرداری پر اپنے دونوں ہاتھوں کو آگے کھینچ کر مٹھیاں بنا کر سر تک واپس کھینچ کر اس کی بلائیں لیتی جاتی۔ باوجود اس کے، اس عورت کی خوشامد یوں تو خاصی بے تکی محسوس ہوتی ہے مگر پھر بھی یہ ایسی ہوشیار ہے گویا کسی تیار باغ کا مالی ہو۔ شوکی کو یوں اس طرح بے دھڑک دفتر میں گھستے دیکھ کر پروڈیوسر صاحب کا پارہ چڑھ گیا۔ اسے وہیں کھڑے کھڑے جھڑک دیا،
"بے تو یہاں کاہے کو گھسا چلا آ رہا ہے؟ سیٹھ کی اولاد کو دیکھو۔۔۔ شو شروع ہونے میں پندرہ منٹ باقی ہیں اور یہ لاٹ صاحب ابھی تشریف لا رہے ہیں۔۔۔ سین کی تیاری تیرا باپ کرے گا؟"
شوکی کھسیانا سا الٹے قدموں باہر نکل آیا۔ ھال کے ہنگامی راستے سے گزرتے ہوئے بڑبڑایا،
"حرامی کا بڑھاپا دیکھو اور کیسے سلیش کی طرح چپک رہا تھا۔"
یہاں سے سیدھا چلتے ہوئے یہ ھال کے بالکل پچھواڑے میں پہنچ گیا جہاں سے نیغ سیدھا ڈریسنگ روم کی پشت کا دروازہ کھلتا ہے۔ ڈریسنگ روم میں ایکسٹراز نے خاصہ شور مچا رکھا ہے۔ اسے سین کی تیاری میں بمشکل پانچ منٹ چاہیے تھے اور یہ وہاں سے باہر گیلری میں نکل آیا۔
آج رات ڈرامے کے تین شو تھے۔ دو گھنٹے کے ناٹک میں شوکی کا کردار ایک محافظ کا ہے جو ملیشیا لباس پہنے، ہاتھ میں بندوق اٹھائے بس چند منٹ کے لیے مرکزی اداکارہ کے ساتھ سٹیج پر نمودار ہوتا ہے۔ پھر دو ڈائیلاگ ہکلاتے ہوئے یوں ادا کرنے کہ معنی فحش ہو جائیں اور آخر میں دوسرے کرداروں کے ہاتھوں چند فقرے لپیٹ کر اور جھوٹ موٹ کی مار کھا کر ہٹ رہتا۔ اس مختصر سین کے بعد فوراً بعد رقص شروع ہو رہتا اور یوں اس کی گلوخلاصی ہو جاتی، اللہ اللہ خیر صلا۔ مگر پروڈیوسر صاحب نے اس کو یوں جھڑکا تھا گویا یہ ڈرامے کا مرکزی کردار ہے جس کو ہر شو کا تقریباً وقت سٹیج پر گزارنا ہو۔ ڈرامے کے پہلے شو کو شروع ہوئے اب تھوڑی دیر ہو چلی تھی مگر اسے ابھی بھی خاصہ وقت میسر ہے۔ یہ گیلری میں دیوار سے کرسی ٹکا کر بیٹھ گیا اور سگرٹ سلگا لی۔ ڈریسنگ روم اور سٹیج کے بیچ اس مختصر گیلری میں بھی تھیٹر عملے اور فنکاروں نے اودھم مچا رکھا ہے۔ ایک کونے پر ڈریسنگ روم جبکہ دوسرے پر سٹیج تھا، دونوں ہی سرے اس وقت بقعہ نور بنے ہیں۔ بیچ کی گیلری میں صرف ایک زرد بلب روشن ہے جس کی میلی روشنی نے لمبوترے راستے میں افسردگی سی بھر دی ہے۔
سگرٹ کا اثر تھا یا گیلری میں زرد بلب کی بے وجہ اداسی، ماضی نے شوکی کو غڑاپ سے نگل گئی۔ اس گیلری سے اس کی بے شمار یادیں وابستہ ہیں۔ گو خود شوکی کو سٹیج کے ڈراموں میں چھوٹے موٹے کردار نبھاتے چھ برس سے زائد ہوچلے تھے مگر اس مقام سے نسبت اس سے بھی پہلے کی ہے۔ شوکی کا باپ بائیس سال تک اسی تھیٹر میں باہر جنگلے پر ٹکٹ چیک کرنے اور مفت بروں پر نظر رکھنے کا بیگار کرتا رہا جبکہ ماں کی ساری جوانی اسی سٹیج پر رقص کرتے گزر گئی۔ تب سٹیج کا رنگ کچھ جدا ہوا کرتا تھا۔ تب فنکار کی عزت تھی۔ جوں ہی کوئی شو ختم ہوتا، یہی گیلری مداحوں سے بھر جایا کرتی تھی کہ فرداً فرداً سب پر داد کے ڈونگرے برستے اگلے شو کا وقت ہو جاتا اور پھر سب پر بھاگم بھاگ طاری ہو جاتی۔ ہر رات دوسرا شو چڑھتا تو سب چھوٹے بڑے فنکار تعریفوں کی گرمائش سے جیسے میدے کا کلچہ پھول جائے، کُپا ہوئے سٹیج پر نمودار ہوتے اور ہر اگلا شو بہتر سے بہتر نکلتا۔ اسی وجہ سے اس زمانے میں رات گئے شو میں بھی اچھا خاصہ رش نظر آتا تھا۔
ہال میں پٹتی تالیوں، بڑھتے شور سے خیال ٹوٹ گیا۔ اس نے سگرٹ کی راکھ جھاڑ کر ایک معمولی کش لیا۔ ماجھو چاچے کی لڑکی نگینہ ایک واہیات گانے پر بے ہنگم رقص کر کے لوٹ رہی تھی۔ تیز بینگنی رنگ کی پسینے میں نچڑتی کرتی پہنے یہ بلا کی چست نظر آتی ہے۔ نیچے لاچہ ہے جو خاصہ گھیردار ہے مگر پھر بھی جب قدم آگے رکھتی تو ٹانگیں مناسب حد تک عریاں ہو جاتیں۔ پھر اگلے ہی قدم پر گو گھیر سے عریانی ڈھک جاتی مگر اس چھپن چھپائی سے دیکھنے والے کی آنکھ میں تشنگی سی رہ جاتی۔ شوکی ٹھنڈی آہ بھر کر رہ گیا۔
نگینہ کے جاتے ہی اس نے بوجوہ سگرٹ دیوار سے رگڑ کر بجھایا اور ادھ پیا ٹوٹا جیب میں ٹھونس دیا۔ اس کے پیچھے پیچھے گیلری میں سیٹھ واجد آتا ہوا دکھائی دیا۔ سیٹھ صاحب کا شہر کی لوہا مارکیٹ میں اچھا خاصہ گودام تھا اور کچھ ہفتے قبل سیٹھ صاحب کا چھوٹا لڑکا بلدیاتی ووٹوں میں ناظمی کا الیکشن جیت کر آیا تھا۔ دل میں یہ سوچتے کہ سیٹھ صاحب شاید نگینہ کا پیچھا کرتے چلے آئے ہیں، ادب سے کھڑا ہوا اور جھک کر سیٹھ صاحب کو سلام کیا۔ سیٹھ صاحب سے ایک قدم پیچھے چلتے منشی نے شوکی سے شب چوہدری کے بارے استفسار کیا تو شوکی نے قدرے بے دلی سے پروڈیوسر صاحب کے کمرے کی طرف اشارہ کر دیا۔ یہ دونوں وہیں سے الٹے قدموں لوٹ گئے۔
یہ پھر سے وہیں بیٹھ رہا۔ گیلری سے ابھی ابھی گزری نگینہ سے ہوتی سیٹھ واجد اور پروڈیوسر صاحب کا کمرہ، سوچیں پھر سے در آئیں۔ اب تھیٹر میں مداحوں کی بجائے گاہک آنے لگے ہیں، شوکی نے سوچا۔ فقرے بازی فحش ہو گئی۔ رقص بس واہیاتی رہ گیا۔ نگینہ کو ہی دیکھ لو، لاکھ دلوں پر راج کرتی ہو مگر بے حیا، کیسے مٹک مٹک کر چلتی ہے۔ جسم کی نمائش یوں کرتی ہے جیسے سربازار ننگا گوشت بکنے کو ٹنگا ہو۔ پھر باہر سٹیج کے ٹکٹ کاؤنٹر کا منشی الگ دلال بنا سودے کرواتا ہے۔ اللہ کی پناہ، اب تو آئے روز چھاپے پڑتے تھے۔ تھیٹر میں جہاں کبھی سُچا تماشہ ہوا کرتا تھا، خود تماشہ بن کر رہ گیا ہے۔ خود اسے انھی واہیاتیوں میں ناحق دو ایک بار حوالات کا مزہ چکھنا پڑا تھا۔
خیالات کو جھٹک کر اس نے سگرٹ دوبارہ سلگایا ہی تھا کہ پروڈیوسر صاحب شبانہ کی ماں کو ساتھ لیے آتے دکھائی دیے، بوجوہ سگرٹ پھر رگڑ دیا۔ سارے ایکسٹرا، عملہ آگے بڑھ کر پروڈیوسر صاحب کو سلام کرتے اور ان کے لیے ہٹ کر راستہ چھوڑ دیتے۔ شبانہ ان کے ساتھ نہیں تھی، جس سے شوکی کو الجھن سی ہونے لگی۔ کچھ ہی دیر میں اس کا سین جاری ہونا تھا اور یہ نہ جانے کہاں رہ گئی ہے۔ یہ دونوں ڈریسنگ روم کی جانب نکل گئے۔ دونوں میں سے کسی ایک نے بھی دیوار سے لگ کر کھڑے شوکی پر توجہ نہیں دی جو اندر ہی اندر شبانہ کے اپنی ماں کے ہمراہ نہ ہونے پر گھل رہا تھا۔
شوکی کا سین شروع ہوا تو سٹیج پر داخلہ سکرپٹ کی عین ضرورت، جیسے لکھا تھا اس کے مطابق نہ ہو پایا۔ شبانہ خاصی دیر تک سیٹھ صاحب کے ساتھ باہر دفترمیں بیٹھی رہی تھی۔ جب ڈریسنگ روم میں آئی تو بال الجھے اور میک اپ جیسے بہہ رہا تھا۔ اس کو سلجھاتے دیر ہو گئی اور یوں سٹیج پر جاری سین میں فقرے بازی کو خواہ مخواہ طول دینا پڑ گیا۔ سٹیج کے پیچھے اسی سبب کچھ بدمزگی پیدا ہو گئی۔ سب شوکی پر برس رہے تھے اور یہ ان سب پر بھنایا ہوا کچھ کہہ بھی نہیں سکتا تھا۔
اسی کشمکش میں جب سٹیج پر اترا تو ڈائیلاگ ایسے الجھے اور پھیکے انداز میں ادا کیے کہ بھرے ھال نے اس کے کھڑے کھڑے لتے لے لیے۔ سین کا تو ویسے ستیاناس ہو چکا تھا، اداکاروں نے بھی اس موقع کا خوب فائدہ اٹھایا۔ اگلے دس منٹ تک فقرے بازی میں اس کی وہ خبر لی کہ پٹتی تالیوں، قہقہوں اور سیٹیوں سے کان بہرے ہو رہے۔ گو یہ سٹیج پرآئے روز کا معاملہ تھا تو یہ اس کھینچ تان کے جواب میں بس کھلے سٹیج پر یہاں وہاں چکر لگاتا یا پھر بھرم رکھنے کو ہر فقرے پر خباثت سے ہنس رہتا۔ مگر بٹتی داد کے جوش میں ڈرامے کے ہیرو نے شوکی کی ماں بارے ایک قدرے فحش فقرہ کس دیا۔ بھلے یہ سٹیج پر معمولی سی بات تھی مگر اس وقت وہ فقرہ گویا پتھر پر بھاری ہتھوڑے کی طرح گرا۔ اچھا خاصا سمجھدار شوکی، وہیں بچوں کی طرح پھوٹ کر یوں رو دیا جیسے پہاڑ کی پتھریلی چٹان پر آخری ضرب پڑنے سے پانی کا فوارہ ابل پڑتا ہے۔ مجمع کو تو جیسے لقوہ مار گیا اور ساتھی فنکار جیسے بت بنے کھڑے ہوں، مگر جلد ہی سب کا دھیان پس منظر سے موسیقی کی لے بلند ہونے پر بٹ گیا۔ شوکی پھس پھس روتا، قمیص کی آستین آنکھوں پر ملتا ہوا، چھوٹے بوجھل قدموں سٹیج سے یوں اترا جیسے کوئی ناکام چلتا ہو۔
خالی سٹیج پر اب شہر کی مشہور رقاصہ شب چوہدری جلوے دکھا رہی ہے، اسے اپنے بھائی شوکی کے برعکس سویر تک آنسو بہانے کی فرصت ملنے والی نہیں تھی۔

(جون، 2013ء)

شئیر کریں

10 تبصرے:

  1. Haqiqat say qareeb treen well written
    M.Awais

    جواب دیںحذف کریں
  2. یہ "پاکستانیوں" والی غیرت دکھائی شوکی اداس نے، زبردست۔ پکا پاکستانی نکلا

    جواب دیںحذف کریں
  3. ظالم تحریر۔ پورے معاشرے کو ایک ایکسٹرا کے آئینے میں برہنہ کر دیا

    جواب دیںحذف کریں
  4. 9ce Caitharsis Hum sab apney tor pay kisi had tak EXTRA hee to hain faraq sirf ye hai k koi stage pay hai koi office may koi bazar may koi muhallay may. Ham sab HAVE NOTS jin ko HAVES khatey aur dabuchtay hain.

    جواب دیںحذف کریں
  5. سر۔ آپ کے ٹینسز مکس بلکہ گڈمڈ ھو رھے ھیں پوری کہانی میں۔ گستاخی معاف۔

    جواب دیںحذف کریں
  6. میں بس لائک اور شیئر ہی کر سکتا ہوں!!

    جواب دیںحذف کریں
  7. بڑا سمجھایا تھا خود کو کہ گھر کا کر پڑھ لینا پر نہیں "لنچ بریک" میں لنچ کی جگہ پڑھ لیا اب اگلے تین گھنٹے شائد ہی کوئی کام ہو سکے اپنے سے. یقین ہو چلا ہے کہ سوچی پیتے ہی بندہ واقعی گیا ہو جاتا ہے.

    جواب دیںحذف کریں
تبصرہ نگار کا بلاگ مصنف سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔