کوچہ ادب میں ایک بے ادب

7 تبصرے
سہ ماہی ثالث کا  اکتوبر - دسمبر 2013ء شمارہ موصول ہوا۔  یہ کئی لحاظ سے ممتاز اور میرے لیے تو خود بڑھ کر ہے۔ 
وجہ یہ ہے کہ یہ پہلا ادبی  رسالہ ہے جو پہلی بار گھر کے پتہ پر میرے نام سے وصول کیا گیا۔ پھر اس شمارے میں پہلی بار میرا افسانہ "پہلی صف" شائع ہوا اور یہ ثالث کا بھی پہلا شمارہ ہے۔ 
اب، ثالث پر مزید تبصرہ سوجھ ہی نہیں رہا۔ بات یہ ہے کہ میں  بس ایک قاری رہا ہوں۔ ادب سے کہیے بس شغف اور عقیدت رہی، ادیبوں کو اچھا جانتا ہوں اور تخلیق کاروں کی دل سے عزت و کریمت کا دعویدار۔ اچھا یوں کہ وہ سلیقہ جانتے ہیں اور عزت و کریمت اس واسطے کہ تخلیق کچھ آسان نہیں ہوتا۔ ادب سے تعلق بھی تب کہیے، یا کتب کے زریعے رہا ، لائبریری چلے گئے اور چونکہ نئے دور کے انسان ہیں تو یہ برقی آلات ہمارا زریعہ ہیں۔  میں چونکہ ادب کے کوچے میں ایک بے ادب ہوں تو تکنیکی باتوں سے بالکل بھی واقف نہیں۔ رسالے کے تکنیکی پہلوؤں پر بات کرنے کو کئی فاضل لوگ ہیں اور میں بس اپنے دل کا حال کہہ سکتا ہوں، سو عرض حال ہے۔
معاملہ یہ ہوا کہ کوئی سال بھر پہلے جب اردو میں قریبا چار سال تک  بلاگ (ڈائری کہہ لیجیے) لکھتے لکھتے بھر گئے تو سوچا کہ کیوں نہ  کچھ سنجیدہ لکھا جائے۔ سلیقے سے کچھ کہا جائے اور بات یوں کہیں کہ  کچھ اچھے کا گماں ہو۔  تو کہانی لکھنے کی سوجھی اور پھر یوں تجربات شروع کر دیے۔ اس سے پوچھو، وہاں سے جانو، یہ پڑھ لو، وہاں کہانی کی تعریف لکھی ہے۔ وہاں کوئی محفل ہے جس میں فلاں صاحب خاصے مایہ ناز ادیب ہیں، ارے یہاں تو ادب میلہ سجا ہے تو چلو رنگ دیکھتے ہیں۔ میاں کردار یوں لکھو کہ چلتا پھرتا نظر آئے، ہے ہے یہ کیا کر رہے ہو ادب بھلا ایسا لکھا جاتا ہے؟  میاں تیار رہو کہ تم نے ادب کی صنف میں ہاتھ ڈالنے کا دعویٰ کیا ہے، یار لوگوں نے تمھاری تحریروں کے چیتھڑے تک باقی نہیں چھوڑنے،  تم بس دلبرداشتہ مت ہونا۔  قصہ مختصر سال بھر کا نتیجہ یہ نکلا کہ ادب جیسے نشے کی طرح میری نس میں دوڑنے لگا، سلیقے سے سنجیدہ لکھنے کی جیسے لت پڑ گئی، دس افسانے جن میں سے پہلے پہل بس تجربات ہیں اور بعد تھوڑی کامیابی کہوں گا، اتنے ہی لکھ سکا اور مزید لکھنے کے لیے سنجیدگی سے خیالات کو جمع کرتا رہتا ہوں۔ سو کہوں تو میں اب رکنے والا نہیں ہوں۔
بات  ثالث کی ہو رہی تھی۔ چونکہ میں یہاں وارد ہو چکا ہوں تو  بات صرف کتب، لائبریری تک ٹکنے والی نہیں ہے۔ بلاگ تو یہ ہے نہیں کہ بھیا وہاں لکھا، یہاں چھاپ دیا۔ کسی نے واہ واہ کی، دو ایک لعن طعن کر کے نکل گئے اور میں یہاں اگلی کھچڑی پکا رہا ہوں تو کوئی پرواہ نہیں۔ چونکہ میں نوارد ہوں تو اس کوچے میں دیکھ بھال کے چلنا ہو گا،یہاں ہر شخص مجھ سے بڑھ کر فاضل ہے۔ خیر، چونکہ ہم برقی دور کے باسی ہیں تو رابطے خاصے آسان ہو چکے ہیں۔ فیس بک پر ایک پوسٹ نظر سے گزری کہ بھارت کے شہر مونگیر سےایک ادبی رسالہ جاری ہونے جا رہا ہے جس کے لیے نگارشات درکار ہیں۔ خوب سوچا، اپنے خیر خواہ ریاض شاہد صاحب سے باتوں باتوں میں ذکر کر ڈالا اور یوں ڈرتے ڈرتے اقبال صاحب کو افسانے پہلی صف، ناٹکا اور ایک  خاکہ چوکیدار کاکا ارسال کر دیا۔ ادب بہت عجب شے ہے، دھڑکا لگا رہتا ہے۔ میرے بلاگ قارئین خوب ہیں، کچھ بھی کہہ دوں تو کوئی بات نہیں، فیس بک پر کچھ بھی لکھ ڈالوں تو کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا مگر یقین جانیے کہ علی اکبر ناطق صاحب کے حضور جب "بوئے حرم" رکھا تھا اور اب اقبال صاحب جو ایک مدیر ہیں ان کے سامنے "پہلی صف" اور "ناٹکا" پیش کیے تو خاصہ سہم گیا تھا۔ علی اکبر ناطق نے خوب مشورے دیے تھے، خوب  لتے بھی لیے، سمجھایا بجھایا بھی  اور دوسرے کئی دوستوں نے بڑی نوازش کی تو  پہلی صف جیسا لکھ پایا تھا اور اقبال صاحب نے  اسے اپنے ادبی رسالے "ثالث" کے پہلے ہی شمارے میں چھاپنے کا عندیہ دے دیا۔ صاحب بات یہ ہے کہ  کسی ادبی رسالے میں چھپ جانے، مدیر کے ڈیسک سے پار ہو جانے اور میرے جیسے ادب کے کوچے میں ایک نوارد کو جب کوئی اپنے خالص ادبی رسالے میں جگہ دے گا تو بتائیے یہ میرے لیے امتیاز کی ہی بات ہے کہ نہیں؟
ثالث کا پہلا شمارہ موصول ہوا۔  اس کے لیے قریب کوئی تین ماہ انتظار کیا۔ گھر والوں کو دکھایا، فیس بک پر دوستوں سے بانٹا اور اب  فرصت سے موقع ملتا ہے تو ہتھ بیگ سے نکالتا ہوں تو ایک ایک باب، افسانہ در افسانہ، مضامین  اورغزل،  نظموں کو توجہ سے پڑھنا شروع کر چکا ہوں۔  پہلی صف کا جیسے میں نے اپنا قصہ بیان کیا ہے، اس شمارے میں موجود ہر تخلیق کے پیچھے ایسی ہی کوئی کہانی موجود ہے۔ ثالث کو توجہ سے تھامتا ہوں کہ یہ پہلا شمارہ اقبال صاحب کے لیے بھی ان کی زندگی کا خاصہ اہم واقعہ ہے جیسا کہ میرے لیے کسی سنجیدہ ادبی رسالے میں پہلی صف کا چھپنا ہے۔  
اقبال صاحب کو تہہ دل سے  ثالث پر مبارکباد  اور مجھے؟ 
میں اپنی اس کامیابی کو اپنے بلاگ "صلہ عمر" کے تمام قارئین کے نام کرنا چاہوں گا کہ ان کی محبت نے مجھے  یوں اس طور کھڑا ہونے کی جرات عطا کی ہے۔

٭تمام افسانوں کی فہرست

7 :تبصرے کیے گئے

  1. محمد ریاض شاہد نے فرمایا ہے:۔

    جناب آپ بہت اچھا لکھتے ہیں بس لکھتے رہیں ۔ دنیا کے بڑے ادیب جنہیں ہم آج جانتے ہیں انہوں نے بھی تو کبھی پہلا قدم لیا ہو گا وہ بھی تو لکھتے لکھتے آخر ایک دن ادیب بنے ہوں گے بلکہ بعض عظیم ادیبوں کی تخلیقات کو تو بری یا تو نظر انداز کیا گیا یا پھر ان پر پابندی لگا دی گئی ۔ مثلا کافکا کی کہانیاں مدتوں گوشہ گمنامی میں پڑی رہیں اور اس کی موت کے بعد جب اس کے ترجمے فرانس پہنچے تو اسے شہرت نصیب ہوئی ۔ آپ تو خوش قسمت ہیں کہ اس عمر میں یہ اُٹھان رکھتے ہیں۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ

  2. علی نے فرمایا ہے:۔

    اللہ آپ کو بے شمار کامیابیوں سے ہمکنار کرے ۔ آمین

  3. Dohra Hai نے فرمایا ہے:۔

    سلیقے سے لِکھنا کمال فن ہے اور اِس فن میں مہارت کوشش در کوشش سے آتی ہے ۔عُمر بنگش کی کمٹ منٹ اور ادب سے لگاؤ اُس کی تحارریر میں جھلکتا ہے ۔ ہماری دُعا ہے کہ عُمر بنگش ادبی میدان میں بہت سی کامیابیاں سمیٹے آمین۔

  4. Asad Habeeb نے فرمایا ہے:۔

    بہت بہت مبارک ہو جناب ہماری طرف سے بھی!

  5. Raina Jaffri نے فرمایا ہے:۔

    آپکے سارے افسانے بہت اچھے ھیں خصوصاً ناٹکا اور بوئے حرم ـ بہت بہت مبارک ھو "پہلی صف " کے شائع ھوے پر . اللہ پاک آپکو ایسی بہت ساری کامیابیاں نصیب کریں

  6. MAniFani نے فرمایا ہے:۔

    مبروک پیارے لالا، اللہ مزید ترقیوں اور کامیابیوں سے نوازے

  7. وحید سلطان نے فرمایا ہے:۔

    بہت بہت مبارک ہو بنگش صاحب۔
    اللہ تعالیٰ آپ کو مزید کامیابیوں سے ہمکنار کرے۔ آمین

تبصرہ کریں

تبصرہ نگار کا بلاگ مصنف سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

 
صلہ عمر © 2011 DheTemplate.com & Main Blogger . Supported by Makeityourring Diamond Engagement Rings