ادب کا ادب، میلے کا میلہ - قسط:1

وقت کے گزرنے کا احساس زندہ ہونے کی نشانی ہوا کرتی ہے۔ اسلام آباد کے ہوٹل مارگلہ میں باہر جہاں عام طور پر گاڑیاں ٹھہرا کرتی ہیں، اس احاطے کے بیچوں بیچ گول فوارے کی مرمریں دہلیز پر چوکڑی مار میں سوچ رہا تھا کہ پورا ایک برس گزر گیا۔ بخاری کے ہمراہ اسی ہوٹل میں ادب میلہ 2013ء میں شرکت کی تھی اور آج بھٹی کو ساتھ لیے یہاں پھر موجود ہوں۔ گو دو ماہ قبل ہی میرا یوم پیدائش گزرا ہے مگر وہ روز بھی معمولات کی دوڑ میں ایسا گزرا تھا کہ وقت کا کچھ اندازہ ہی نہ ہو پایا۔ اس ادب میلہ کا کچھ یوں ہے کہ، اسلام آباد کی زندگی جس میں حد درجہ ٹھہراؤ ہے، وہاں ایسی بھرپور ہلچل ہو تو احساس بڑھ کر ہوتا ہے۔
منہ کو خون لگنے کے مصداق، پچھلے برس اس میلہ میں شرکت کا تجربہ اس قدر خوشگوار تھا کہ اب کی بار مہینہ بھر پہلے ہی تیاری شروع کر دی۔ مثال، ہمراہی کی تلاش شروع ہو گئی۔ بھٹی چونکہ بغل میں موجود تھا، اسے ہی ورغلا دیا۔ وہ میرے گلے پڑ گیا۔ معاملہ یہ ہے کہ اس کو یقین نہیں تھا کہ میں بھلا ہفتہ اور اتوار کی چھٹیاں قربان کیے اسلام آباد میں بیٹھا رہوں گا، ایسی انہونی جو کہ پچھلے ایک برس میں تو ہونے کو نہیں آئی، تو پچھلے ایک ماہ میں آئے روز مجھ سے روز کے روز یقین دہانی لیتا آیا ہے کہ خدا خبر کہ شاید تاریخ کے آس پاس میری نیت پھرتی جاتی ہو؟
اسلام آباد میلہ پچھلے جمعہ کو بعد از دفتر شروع ہو کر اتوار کی شام قبل از دفتر تمام بھی ہو گیا۔ ڈھائی روز کی اس محفل میں بس کہیے، ہم صرف اردو ادب کی نشستوں میں، اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنائے شریک ہوئے۔ انتظار حسین کو دیکھ کر شرم کھاتے رہے کہ وہ اس عمر میں بھی کیسے بھاگے بھاگے ہر نشست میں نظر آتے ہیں اور آصف فرخی کو داد دیتے ہیں کہ وہ مسلسل بولتے رہے اور کیا ہی عمدہ بولتے پائے گئے۔ کشور ناہید کو سلام ہے کہ کیسے انھوں نے بس پینتالیس منٹ میں بھٹی کے سر پھرے خیالات کو پھیر ڈالا جو ہم آئے روز دفتر میں دن کھانے کی میز پر نہیں کر پائے تھے اور فراز کی یاد تو جیسے ایک گھنٹے میں یوں ہوٹل مارگلہ سے نکل کر چہار سو پھیل گئی کہ ابھی تک تازہ ہے۔ جالب کی شاعری اور تذکرے پر لوگ آج بھی سر دھنتے ہیں کہ حالات تو بھلے بدل گئے ہوں، ذہنیت نہیں بدلی۔ غالب کی دہلیز پر سے ہو کر آئے مگر وائے افسوس، آج کے افسانہ نگاروں نے ہمیں تشنہ لب لوٹا دیا۔ وہ تو بھلا ہو مستنصر حسین تارڑ کا، ہم تو مایوس لوٹنے والے تھے کہ شام سے پہلے ہمیں خوشی خوشی رخصت کیا۔ الغرض جہاں دیکھو، سماں بندھا رہا اور ہم اس سماں میں کہیے دیوانہ وار جھومتے چلے آئے۔
چیدہ چیدہ بیان کر دوں، انتظار حسین نے حال ہی میں اپنے مشہور ناول 'بستی' کے انگریزی ترجمہ کی بکرز ایوارڈ میں نامزدگی پر آصف فرخی کے ہمراہ سفر اختیار کیا تھا۔ واپس لوٹے تو ساتھ مضامین کا مجموعہ اور آصف فرخی اس سفر کی روداد لکھ لائے۔ دونوں کتابوں کی رونمائی اور سفر کا احوال سنانے کی اس نشست میں نہایت عمدہ گفتگو رہی۔ اہم نکتے جو مجھے یاد رہے، اول تو وہ سوال تھا جو انتظار حسین سے کیا گیا۔ یعنی یہ کہ وہ عرصہ ہوا کہانی لکھنا ترک کر چکے ہیں اور ہمیں بس ان کے کہیے تنقیدی مضامین یا کالم ہی پڑھنے کو مل رہے ہیں؟ انتظار حسین اس کا دوش اپنی عمر کو دیا۔ کہتے ہیں کہ اب ان کی وہ عمر ہے کہ ان کو کہانی کی بجائے یاداشتیں سوجھتی ہیں۔ قاسمی صاحب کے انتقال کے بعد، انھوں نے بتایا کہ اب ان سے تجربے اور عمر میں اب کوئی بھی بڑا باقی نہیں رہا اور یہ بات خوفزدہ کرتی ہے۔ پھر بقول ان کے، تنقید ان کا کبھی میدان نہیں رہا؛ کیونکہ انھوں نے عرصہ قبل نقادوں کو دیکھ کر اس کام سے توبہ کر رکھی تھی؛ مگر اب جس کو دیکھو وہی ان سے اپنی تخلیقات پر کچھ نہ کچھ رائے مانگتا ہے، سو وہ مضامین کی جانب، کالم کی جانب نکل آئے۔ اسی بات سے بات نکلی کہ بسا اوقات جو بڑے ادیب ہیں، وہ نئی کتابوں پر کتاب کو ہاتھ لگائے بغیر فلیپ اور تعارف تک لکھ دیتے ہیں، انتظار حسین کا کہنا تھا کہ چونکہ ہم ایسے شرانگیز دور میں جی رہے ہیں کہ جہاں بولیے تو سر کاٹ دیے جاتے ہیں، سیاست ہماری مجبوری بن کر رہ گئی ہے۔ اور ویسے بھی، یہ ہمارا فرض ہے کہ نئے لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ تراجم پر خاصی بحث ہوئی اور ثابت یہ ہوا کہ بھلے اردو سے انگریزی میں ترجمہ مشکل کام ہو، کہاں اردو محاروں کو انگریزی کی باس مار جائے مگر تراجم یوں بھی ضروری ہیں کہ اگر ایسا نہیں ہو گا تو باہر کی دنیا میں کون جان پائے گا کہ انتظار حسین بھلا کیا کہتے ہیں اور وہ کیسے ادیب ہیں؟ مثال کئی غیر انگریزی ادیبوں کی دی گئی کہ جناب انھیں بھی تو ہم نے ان کے تراجم سے ہی جانا ہے۔
انتظار حسین کی تو کیا ہی بات ہے۔ وہاں سے چھوٹے تو باہر کتابوں کے سٹال پر چلے آئے۔ یہاں اپنے اردو بلاگر دوہرہ ح صاحب اور محمد سعد سے ملاقات ہو گئی۔ دیر تک کتابیں ٹٹولیں، ان کو سنا، خود کی آواز بلند کی اور میلے کے احاطے سے باہر جا کر سگرٹ سلگا کر بیٹھ گئے۔ دوہرہ ح صاحب انٹرنیٹ پر ایک دوسرے کے خلاف ہرزہ سرائی پر نالاں نظر آئے اور محمد سعد حسب معمول ریکارڈنگ مشین بنا چپ چاپ بیٹھا رہا۔ بھٹی کو بہرحال سر پٹخنے میں ملکہ حاصل ہے، سو وہ اسی میں مصروف رہا۔
فیفو سے بھی ملاقات خوب رہی۔ ایک برس میں مزید کمزور ہو چکی ہیں، معلوم پڑتا ہے کہ انگریزی نے کچھ اچھا سلوک نہیں کیا۔ فیفو کے ہمراہ ان کی ہمشیرہ بہجت بھی میلے میں موجود تھیں۔ اللہ ماشاء اللہ دونوں ہی خوب ہیں۔ فیفو اگر بولتی رہتی ہیں تو بہجت لکھنے میں عمدہ ہیں۔ بہجت نے حال ہی میں چھپا، اپنی انگریزی نظموں کا مجموعہ، 'فلیش بیک' کا تحفہ عنایت کیا، جس پر ان کا خصوصی شکریہ۔
یہ تو وہ لوگ ہیں جنھیں میں انٹرنیٹ پر جانتا ہوں اور کیسی عمدہ ایجاد ہے یہ کہ کیسے کیسے قیمتی لوگوں کو جانتا ہوں۔ خالص ادب کی دنیا کی کہیے تو فی الوقت وہاں ایک ہی واقف موجود تھا۔ علی اکبر ناطق سے بھی واقفیت کا کہوں تو بس اتنی سی ہی ہے کہ پچھلے برس جب ملاقات ہوئی تھی تو بتایا تھا کہ صاحب، میں عمر بنگش ہوں اور میں افسانے لکھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اس برس یہ ہوا کہ سامنا ہونے پر بتایا کہ جناب میں عمر بنگش ہوں تو آگے کی بات ناطق نے خود ہی کہی کہ، 'ارے واہ، میں نے آپ کا افسانہ رسالے میں پڑھا تھا'۔ اس طرح اگر یہ پیمانہ مقرر ہو تو پچھلے ایک برس میں ناطق سے میری واقفیت اور ادب کی دنیا میں جست اتنی سی رہی۔
ہوٹل سے باہر، گو گرمی خوب تھی مگر ان تمام احباب سے ملاقات، باتیں اس قدر فرحت بخش تھیں کہ احساس ہی نہ ہوا کہ کب جالب کو یاد کیا جانا شروع بھی ہو گیا۔ دوڑے دوڑے پہنچے تو ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا مگر ہمیں پشت کی دیوار پر ٹیک لگا کر کھڑے ہونے کو جگہ مل ہی گئی۔ جالب کا ذکر آئے اور 'میرے محبوب ضیاء الحق' کو کوئی یاد نہ کرے، ایسا بھلا کیسے ممکن ہے؟ مگر اس نشست میں جالب کی تمام آمروں سے واقفیت گنوائی گئی۔ عارفہ سیدہ زہرا نے گن گن کر جالب کی یادیں تازہ کیں اور ہال میں موجود ہر شخص کو مخاطب کر کے درخواست بھی کی کہ جالب کو بس اس کے شعروں سے مت پہچانو، بلکہ اس کے نظریات پر دھیان دینے کی ضرورت ہے، لوگ بدل گئے ہیں، ذہن نہیں بدلے۔ مجاہد بریلوی اس نشست کی میزبانی کے فرائض سرانجام دے رہے تھے اور انھوں نے اپنے روایتی اینکری انداز سے خاصا مایوس کیا، ایاز امیر نے لمبی چوڑی بات کی، جس میں سے کوئی بات میرے پلے نہیں پڑی۔ زہرہ نگاہ، دھیمے لہجے میں جالب کا ذکر کرتی رہیں۔ کہیے تو اس نشست میں بس زہرہ نگاہ اور عارفہ سیدہ زہرہ نے جالب کی یاد تازہ کر کے جان ڈال دی۔
وہاں سے نکلے تو دن سہ پہر ہو چلی تھی اور ہماری آنتیں قل ہو ھو اللہ کا ورد کیے جاتی تھیں۔ دوڑے دوڑے میلوڈی پہنچ کر اس جہنم کو ٹھنڈا کیا تو اگلے روز کا خیال آیا۔ محمد سعد تو پتلی گلی سے نکل لیا مگر بھٹی، میرے ساتھ ساتھ اس کے منہ کو بھی یہ خون لگ چکا تھا۔ وہ نیک بخت اگلے روز صبح سویر ہی آنے پر تل گیا۔ آج کے روز اگر میں اس کو لے کر آیا تھا، اگلے روز را رہنما اس نے خود کو مقرر کر لیا۔ بھٹی کی راہنمائی میں اگلا روز کیسا بیتا؟ جیسے بھٹی مجھ ڈھیلے ڈھالے کو لیے لیے پھرتا رہا، یہاں بھی دیکھیے کب لکھ پاتا ہوں؟

رپورتاژ

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر