جاڑا

دوسروں کے لیے یہ حیرانی کا باعث نہ ہو مگر کئی ایسے دیکھے جو جاڑے سے نالاں رہتے ہیں۔ ان یک رنگوں کو اپنی مرضی کی آگ سے ہی تاپ ملتی ہے۔ بھئی اسلام آباد کی تعیش میں بسر رکھتے، ہیٹر تاپتے اور گرم لبادے اوڑھ کر شکایت سے تسکین حاصل کرنا، چہ معنی؟ یہ تو ایسے کے تیسوں کا ذکر بد ہے ورنہ بعض جگہیں ایسی بھی ہیں جہاں سردی سے عاجز آ رہیں، بر محل ہے۔ ان علاقوں میں برف کو موت کی سفید چادر کہا جاتا ہے۔ پہاڑی زبانوں کی چند ضرب المثال میں کفن کی سفیدی کو برف سے اور ٹھنڈ کو مردے سے بھی تشبیہ دی گئی ہے۔ ہمالیہ کی چوٹیاں، قطب شمال یعنی اسکینڈی نیویائی ممالک، سائبیریا یا کینیڈا وغیرہ چند مثالیں ہیں۔ ٹھنڈ سے قلفی جم جاتی ہے۔ جنوب میں انٹارکٹکا وغیرہ میں بھی بے حد سردی پڑتی ہے۔ دونوں انتہاؤں میں ٹھنڈ اور کہر اتنی شدید ہوتی ہے کہ تاریکی جیسے موت چھائی رہتی ہے۔
اس کے باوجود کرہ ارض پر موسم کی شدت کو مجموعی جغرافیائی پیمانے پر ناپیں تو 'غیر معمولی' نوعیت کا جاڑا کوئی چیز نہیں ہوتی۔ ابھی کل کی بات ہے۔ خبر یہ تھی کہ ناران میں تین دنوں کے دوران گیارہ فٹ برف پڑ چکی ہے۔ اسی طرح سنتے ہیں کہ بعض شمالی علاقوں جیسے سکردو اور چلاس وغیرہ کے آس پاس شدید برفانی طوفان کا گزر ہوا ہے۔ حالات حاضرہ ایک طرف، جمالیاتی تخلیق کا بھی یہی مزاج ہے۔ مشہور زمانہ ڈرامے 'گیم آف تھرونز' یا دو برس پہلے لینارڈو ڈی کیپریو کو آسکر دلانے والی فلم 'دی ریویننٹ' یا اینیمیٹڈ فلم ' فروزن' وغیرہ میں دکھائی جانے والی انتہا کی سردی، سالہا سال موسم کی ایک ہی شدت برقرار رہے۔ آخر دنیا میں ایسی سردی اب کہاں ہوتی ہے؟ مجھے کبھی سمجھ نہیں آیا کہ گزر بسر تو دور، موسم کی خبریں سن کر ہی ہم اس قدر چونک جاتے ہیں؟ بعض لوگ سردی یا گرمی کا رونا روتے رہتے ہیں۔ بھئی، جنوری کے مہینے میں کڑاکے کی سردی نہیں تو پھر آپ کے خیال میں کیا پڑے گا؟ ناران میں گیارہ فٹ اور سیاچن پر بے تحاشہ برف نہ پڑے تو شدید گرمیوں کے دنوں میں میدان کس طرح تالو تر کریں؟ یہ طور مستقل تو نہیں رہتا۔ آپ یک رنگے ہیں۔ قدرت تو رنگ برنگ ہے۔ ایک آدمی مجھے بتانے لگا کہ اس دفعہ تو انہونی ہوئی۔ ہوا یہ کہ وادی میں اس بار سرما کے موسم میں صرف چھ آدمی باقی رہ گئے ہیں، ان میں سے بھی پانچ فوجی ہیں جن کا کام چوکی پر پہرہ دینا ہے اور لوگوں کو آگے جانے سے روکنا ہے۔ ناران کی ساری آبادی عارضی طور پر نقل مکانی کر گئی۔ گرمیوں میں دیکھیے گا، مقامی اور سیاح، سبھی دوڑے ناران میں گھومیں گے۔ ہر طرف کھوے سے کھوا اچھلتا ہو گا۔ اچھا، ناران وغیرہ کو چھوڑیں۔ قطب شمالی کی بات کریں جہاں پانی بھی جم جاتا ہے۔ عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ وہاں برفیلے موسم کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ یہ بات درست نہیں ہے، وہاں بھی یہ سلسلہ مستقل نہیں چلتا۔ ادھر بھی یہ کوئی ایک طویل برفباد نہیں ہوتا بلکہ وہاں بہار آتی ہے تو برف میں بھی کونپلیں پھوٹتی ہیں۔ اس برفیلے جہنم کا قضیہ صرف اتنا ہے کہ خشک ہوائیں چلتی رہتی ہیں جو برف کو پگھلنے نہیں دیتیں۔ یہاں بھی برف مناسب، تقریباً جتنی ناران میں گرتی ہے۔ بس خشک ہواؤں کے طفیل پانی جم کر بہہ نہیں سکتا۔ لیکن اب سنتے ہیں کہ وہاں گلیشیر بھی ٹوٹ پھوٹ رہے ہیں کیونکہ فضا میں کاربن کی مقدار بڑھنے کی وجہ سے ہوائیں گرم ہو رہی ہیں۔ آپ پوچھیں گے، ایسا ہوتا ہے تو پھر سیاچن پر بہار کیوں نہیں آتی؟ تو بھئی سیاچن ایک گلیشئیر ہے جہاں پیروں تلے زمین نہیں بلکہ برف ہوتی ہے۔ میں اکثر سوچ کر ہنستا ہوں، پاکستان اور ہندوستان ماتا زمین نہیں بلکہ جمے ہوئے پانی پر پچھلی کئی دہائیوں سے جانیں لٹا رہے ہیں۔ یہ کیسی نادانی ہے؟
خیر جاڑے کا یہ ہے کہ محل وقوع، عرض طول و بلد سے تعلق رکھتا ہے۔ سمندری ہواؤں اور لہروں کی شرارت ہے۔ برازیل کے معتدل موسم میں بھی جون اور اگست کے درمیان سردی پڑتی ہے۔ سردی کیا ہوتی ہے بس نقطہ بیس ڈگری پر ٹک جاتا ہے اور لوگ 'ٹھنڈ' سے کمبل، جرسی، سکارف، اونی ٹوپیاں اور پوستین اوڑھ لیتے ہیں۔ ان کی مثال بھی ہمارے کراچی سی ہے، کوئٹہ سے ہوائیں چلیں اور مونگ پھلی بکنے لگتی ہے۔ برازیل میں ان دنوں ساحل سمندر سنسان ہو جاتے ہیں۔ وجہ سمندر میں 'سرد ہوائیں 'بتائی جاتی ہیں۔ مجھ جیسے پہاڑیوں کو یہ سن کر ہی ہنسی آتی ہے۔
اچھا ہنسی کی ہی بات سنیں۔ اکثر سنتے ہیں کہ ہمارا ملک موسموں میں یکتا ہے۔ بڑائی کا نشہ برقرار رکھنے کے لیے رٹ لگائی جاتی ہے کہ جی ہم ان گنے چنے خوش قسمت ملکوں میں ہیں جنہیں سال میں چار موسم دیکھنے کو ملتے ہیں ورنہ باقی دنیا اس بہشت سے محروم ہے وغیرہ ۔ چار موسموں کا اصل واقعہ کیا ہے؟ یہ قصہ یوں ہے کہ موسموں میں پائے جانے والی تنوع کی یہ خوبی وسطی اور اوپرلے عرض بلد کے تقریباً سب ہی ممالک میں عام مل جاتی ہے۔ ان میں سے بعض تو ایسے ہیں جہاں چار چھوڑ چھ اور آٹھ موسم بھی پائے جاتے ہیں۔ یہ انہونی بات نہیں۔ اگلی بات، پھر چار کا ہی چرچا کیوں ہے؟ واقعتاً ایسا نہیں ہوتا۔ یہ ایک کلیشے ہے جس کا کھرا وہاں ملتا ہے جہاں طویل عرصے تک دنیا کی سیاست اور معیشت پنپتی رہی۔ جیسے رومی اور یونانی سلطنتیں ہوا کرتی تھیں، اس قدر پھیلی تھیں کہ چار سے زیادہ موسم ہوتے ہیں۔ قدیم رومیوں نے پہلی بار سال کو چوتھ میں تقسیم کیا۔ یعنی، وقت کے چار بخرے کیے۔ قدرت سے منسوب غیر یقینی میں سلطنت کے امور کو درست انتظامی طریقے سے چلانا مقصود تھا۔ کھیتی باڑی، ہواؤں کے سبب بحری اور گرمی کے باعث بری سفر ، دورے اور تجارت وغیرہ کے امور مراد ہیں۔ انتظام کے حوالے سے پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ رومیوں کو وقت کے چہار ٹوٹوں کی ہی کیوں سوجھی؟ اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ اس زمانے میں یہ فلسفہ بہت عام ہوا کرتا تھا کہ انسانی زندگی بھی چار حصوں میں بٹی ہے، سو وقت کے حصے بھی چار ہی ہیں۔ یہ چوتھ بچپن، کم سنی، بلوغت اور بڑھاپے پر مشتمل ہے۔۔۔ یوں موسموں کا بھی آخر یہی انجام ہے۔
چار حصے کیا، وقت ایسی چیز ہے، جیسے چاہیں تقسیم کر دیں۔ ہزاریے، صدیاں، سال، مہینے، دن، پہر، گھنٹے، منٹ، سیکنڈ اور اس سے بھی آگے۔۔۔ طرحی تقسیم ہے۔ عربوں نے اسلام میں دن کو پانچ حصوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ نہیں؟ رومیوں نے بالا دستی کی بنا پر اسے، یعنی سال کی اکائی کو چار حصوں میں تقسیم کیا، کیونکہ ان کا خطہ ایسا تھا اور در پیش ضرورت کچھ ایسے ہی پوری ہوتی تھی۔ ایسی ایک دوسری مثال سامی قبیلوں کی ہے۔ سامی وہ لوگ ہیں جو اسکینڈی نیویا سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے یہاں سال میں کم از کم آٹھ موسم ہوتے ہیں۔ کچھ خطے جو میدان ہیں۔۔۔ وہاں تو یہ پھبتی کسی جاتی ہے کہ دو ہی موسم گرم اور شدید گرم ہوتے ہیں۔ اسی طرح وہ برساتی جنگل، مشہور ہے کہ بارہ مہینے ایک ہی ساون جیسا موسم ہوتا ہے۔ تو ایسی کئی مثالیں ہیں۔ اس پر پچھلے دنوں سائنس کے مشہور جریدے 'نیچر' میں ایک تجویز یہ پڑھی کہ یورپیوں کی قدیم موسمیاتی سمجھ بوجھ کو ردی کی ٹوکری میں پھینکو، پھبتیاں بھی مت کسو بلکہ شرافت سے دنیا بھر میں پانچ موسم کا نظام رائج کرو۔ یہ بات کرہ کی قطری تقسیم سے بھی خوب میل کھاتی ہے۔
جتنے بھی ہوں، موسموں کے آنے جانے کا جانداروں پر خاصا اثر ہوتا ہے۔ جیسے ہمارے یہاں یخ ندیوں میں ٹراؤٹ مچھلی پائی جاتی ہے جو برفیلے پانی میں زیادہ خوش رہتی ہے۔ بات یہ ہے کہ دنیا بھر میں جانور اور پودے لاکھوں سال ارتقاء کے عمل سے گزر کر اب اس قابل ہو چکے ہیں کہ موسم کی سختی کو نہ صرف برداشت کر سکتے ہیں بلکہ اس سے ہم آہنگ ہو چکے ہیں۔ ان کے مقابلے میں انسانوں، بلکہ ممالیہ میں بھی انسانوں کا شمار گرم علاقوں کے جانداروں میں ہوتا ہے۔ ہماری اصل افریقی لق و دق میدانوں میں گم جاتی ہے۔ ہماری جلد باقی جانداروں کی طرح پشمی نہیں ہوتی، اس پر سکیل بھی نہیں ہیں۔ ہم نے صدیاں اس بات پر خرچ کر دیں کہ سرد موسم سے کیسے نبٹا جائے؟ جیسے موسموں کا حال دریافت کیا ہے، گرم انگیٹھیاں ایجاد کی ہیں، گھروں کو ہوا بند کر دیا، گرم خوراکیں تیار کرنا سیکھا اور سب سے زیادہ گرم لباس سینے پرونے پر توجہ دی۔ دوسرے جانداروں کو پشم اگانے کے لیے لاکھوں سال ملے، انسان کا قصہ تو صرف چند صدیوں پر محیط ہے۔ اس کو یوں سمجھیں کہ انسان کی معلوم تاریخ میں ریت کی اتنی پرانی بات ہے کہ بہت پہلے ایک شخص ہوا کرتا تھا۔ اس کا نام 'اوتسی' رکھا گیا ہے۔ اوتسی قریباً پانچ ہزار سال پہلے یورپ میں بسر رکھتا تھا۔ حال ہی میں اس کی ممی وسطی یورپ کے جنوبی پہاڑوں میں سے دریافت ہوئی ہے۔ جب اس کی ممی کو پتھروں کے بیچ میں سے نکالا گیا تو اس کے جسم پر پانچ مختلف قسم کے جانوروں کی کھالوں اور اوپر انتہائی موٹے اور گرم پشمی لباس کے آثار ملے ہیں۔ پتہ چلا کہ وہ پاجامے بھی پہنتا تھا اور سر پر کانوں کو گرم رکھنے والا کن ٹوپ بھی ٹکاتا تھا۔ اوتسی کے زمانے میں بھی انسانوں کے اس بے تحاشا انتظام پر ایک شخص نے جملہ کسا کہ بھئی، چلو اور کچھ نہیں۔۔۔ یہ تو ہوا کہ انسانوں نے ارتقائی لحاظ سے فیشن میں خوب ترقی کر لی ہے۔
اوتسی بھلے زمانے کا آدمی تھا لیکن اب وقت بدل چکا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیاں حیران کن ہیں۔ یہ نہایت عجیب و غریب گتھن ہے۔ اب وہ دور آ چکا ہے کہ انسان صحیح معنوں میں دنیا پر حاوی ہو چکا ہے۔ اس کے افعال قدرتی عوامل پر بھی اثر انداز ہونا شروع ہو چکے ہیں۔ اب کئی جگہوں پر سرما کا موسم پہلے سے کہیں زیادہ مختصر ہوتا ہے۔ جنوبی امریکہ جیسے خطوں میں آج کل بارشیں بہتات سے ہوتی ہیں اور کئی مقام ایسے ہیں جہاں سرما میں بھی گرما کا احساس ہوتا ہے۔ ابھی کل کی بات ہے۔ بی بی جی مجھ سے کہنے لگیں۔۔۔ یہ کیسی بے برکتی ہے؟ جنوری کا مہینہ دیکھو، برف اور بارشیں بھی برس رہی ہیں لیکن سردی سے دانت نہیں بج رہے؟ میں نے انہیں بہتیرا سمجھایا کہ اس بے برکتی کا نام موسمیاتی تبدیلی ہے مگر وہ اسے بے برکتی ہی کہنے پر مصر تھیں۔ خیر اس بے برکتی کا بھی احوال سنیے۔ 2016ء معلوم تاریخ کا گرم ترین سال تھا۔ شمالی امریکہ میں پچھلے برس خزاں کا موسم غیر روایتی طور پر قریباً ڈیڑھ مہینے طویل تھا جبکہ کہر اور پالا دیکھنے میں آیا تو بہت دیر ہو چکی تھی۔ دور کیوں جاتے ہیں، ہمارے ملک نے پچھلے برس پہلے شدید گرمی کا سامنا کیا، پھر مون سون بھی ہلکا نکلا۔ اس کے بعد ہم نے تین مہینے خشک سالی دیکھی اور اب بارانی علاقوں میں گندم کی فصل بھی کچھ خاص نہیں ہے اور سرما بھی مختصر ہو چلا ہے۔ اسی طرح باقی دنیا میں بحیرہ روم کے آس پاس اور جنوبی امریکہ میں بھی گرما کا موسم بہت طویل اور سخت رہا، یعنی سرما بھی مختصر اور واجبی سا چل رہا ہے۔ ہم میں سے اکثر کے لیے یہ بہت ہی عجیب و غریب صورتحال ہے کیونکہ ہم روایت سے جڑے لوگ ہیں۔ ان تبدیلیوں کو بے برکتی قرار دیتے ہیں۔ ہمارے محلے کے مولوی صاحب اس کو گناہوں کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ میں ان سے متفق ہوں، زمین کے ساتھ انسانی کھلواڑ واقعی بہت بڑا گناہ ہے اور ہم اس کی سزا بھگت رہے ہیں۔ انسانوں کی لالچ کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب برف تو گرتی ہے مگر ٹک نہیں پاتی۔ سرما کی بارشیں بھی اب پہلے جیسی یخ بستہ نہیں رہیں کیونکہ ہوائیں گرم ہو چلیں۔ گلیشیر پگھل رہے ہیں اور سمندر کا پانی، روز بروز اونچا ہوتا جا رہا ہے۔ اب ہوائیں اور سمندری لہریں اس طرح چلتی ہیں کہ دنیا بھر میں سرد موسم کی سختی باقی نہیں رہی۔ جہاں یہ حال ہے وہاں دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ دنیا کے بعض حصوں میں گاہے بگاہے مختصر ہی سہی مگر بہت شدید سردی پڑتی ہے۔ یورپ وغیرہ میں پچھلے دو تین برس چند دن اتنی سخت سردی پڑی کہ نانی یاد آ گئی۔ وہ حال ہوا کہ بیت چکے وقت میں پایا جانے والا جاڑے سے جڑا نرم گرم رومان کا احساس بھی جڑ گیا۔
ہمارے یہاں تو صاف کہیے، سردی شاذ و نادر ہی دیکھنے میں آتی ہے۔ یہی نہیں بلکہ موسم کی پیشن گوئی بھی پہلے سے مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ اس سالہا سال کی کشمکش میں سرما ایک مہنگی 'تجارتی جنس' بن کر رہ گئی ہے۔ ہمارے ایک دوست ہیں۔ خدا یاد داشت پر رحم کرے۔ اچھا بھلا نام تھا مگر بھول گیا۔ انہوں نے پنجاب کے لوک گیتوں پر مشتمل ایک بہت اعلیٰ ویب سائٹ بھی بنا رکھی ہے۔ عرصہ ہوا ان سے رابطہ نہیں ہوا، مگر جب ہوا کرتا تھا تو ایک دن کہنے لگے، 'یار جس کو دیکھو شمالی علاقوں کو دوڑ رہا ہے، انہیں میدانی علاقوں کا کلچر نظر نہیں آتا؟ حکومت نے بھی سیاحت کا دوسرا نام شمالی علاقوں کی سیر رکھ چھوڑا ہے'۔ ہاں یاد آیا، ان صاحب کا نام سہیل عابد ہے۔ سہیل کا گلہ بجا ہے۔ بات یہ ہے کہ اب سیاحت کی صنعت میں سردی اچھا خاصا منافع بخش کاروبار بن چکا ہے۔ گرمی کے مارے ہوئے سیاحوں کو پنجاب کا کلچر نہیں بلکہ پہاڑوں پر گری برف نظر آتی ہے، اس میں چھپی سردی نظر آتی ہے۔ جب سیاحوں کو موٹروں میں بھر کر مری، کاغان، ناران اور سوات وغیرہ جاتے دیکھتا ہوں تو اکثر سوچتا ہوں، آخر انہیں کیا پڑی ہے؟ گرمیوں میں وہ گھنٹوں ٹریفک میں پھنسے رہتے ہیں جبکہ سردیوں میں جائیں تو برف میں اٹک جاتے ہیں۔ ان میں سے اکثر جواب دیتے ہیں، ظالم تو نے پی ہی نہیں!
سیاحوں کے لیے سردی کا موسم اور برف کی برفیلی معنی رکھتی ہے۔ نفساتی لگاؤ کی بات ہے۔ کیا خبر یہ گلیشیر، یہ ندیاں اور نالے، دریا اور پہاڑوں کے جنگل۔۔۔ کب تک باقی ہیں؟ نہ ہوئے تو پھر کس کی سیر کریں گے؟
چند لوگ رونا روتے رہتے ہیں کہ ہائے مر گئے۔ قدرت کا حسن تباہ ہو گیا۔ وہ دن ہوا ہوئے جب کہا جاتا تھا کہ خواہ مخواہ کا رونا روتے ہیں۔ اب یہ صرف خالی خولی رونا نہیں رہا، پانی سر سے ا ونچا ہوتا جاتا ہے۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ چلو یہ مادی دنیا تو برباد ہو ہی جائے گی مگر اس کے ساتھ اس بات کا بھی دکھ ہوتا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب ہم روحانی طور پر بھی اس قدر قلاش ہو جائیں گے کہ سرما جیسی چیز کو بھی یاد کر کے رویا کریں گے؟
ذاتی طور پر میرے لیے جاڑا ہم زاد کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ میری چھائیں ہے۔ میں پہاڑیا ہوں تو شاید اس لیے ہر لحاظ سے احیا اور تجدید کی علامت ہے۔ مجھ جیسوں کے لیے یہ باز خواست اور ٹھہر کر اپنا من اندر سے نکوانے کا لمحہ ہوتا ہے۔ ایسا یاد آور وقت جو بتاتا ہے کہ انسان کس قدر ناکارہ ہو چکا ہے۔ کیسے ایک دم موسم کی سختی سے بھنا جاتا ہے؟ دو دن مسلسل بارش برسے تو سورج کی تپش ڈھونڈتا اور گرمی میں تو استسقاء کے سجدے ٹیک کر تھکتا ہی نہیں۔ آپس کی بات ہے، مولوی صاحب کی صلواتیں الگ سننی پڑتی ہیں۔
ہر سال جب گرما گزر جاتا ہے اور وادی سیاحوں کے شور سے خالی ہو رہتی ہے تو میں سرما کا انتظار کرتا ہوں۔ ارد گرد پہاڑوں پر برف گرے تو اس منظر کو تلاشتا رہتا ہوں جب درختوں پر کہرے کے ٹیڑھے میڑھے نقش و نگار ظاہر ہوتے ہیں۔ ہوا خنک ہو جاتی ہے اور برف ہر چیز کو ڈھک لیتی ہے۔ ایسے میں جب چہار سو چپ چھا جاتی ہے تو مجھے ایسے لگتا ہے جیسے یہ سکوت انسانوں کی نادانی کو ڈھکنے کی کوشش میں ہے۔
اچھا انسانوں کی نادانی کا احوال بھی سنتے جائیں۔ ہم میں سے بعض سمجھتے ہیں کہ شاید یہ سیلاب اور طویل گرما، طوفان اور آفتیں سب خدا کا لکھا ہے۔ لکھے کو کون ٹال سکتا ہے، گناہوں کا بوجھ، توبہ کرنی چاہیے وغیرہ۔ جبکہ دوسرے جو صرف عقل پر یقین رکھتے ہیں، یہی رٹ لگائے رکھتے ہیں کہ یہ خالصتاً انسانوں کی کارستانی ہے۔ ان میں صرف ایک قدر مشترک ہے کہ کم از کم اس بات پر متفق ہیں کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں معیشت پر برا اثر پڑ رہا ہے۔ ارے، صرف تمہاری جیب ہی نہیں بلکہ موسموں سے انسانوں کے واسطے کو بھی زنگ لگ رہا ہے۔ ہمارے قدرت سے تعلق کو، اس بیش بیں مظاہر کو ہماری بے حسی دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔
مجھ سے پوچھیں تو بے لگام اور شدید سرما کا احساس ہی ہے جو اگلے برس گرما کی چاشنی، اس کے ارمان کا باعث ہے۔ میرے نزدیک یہ دونوں موسم ایک دوسرے میں گندھے ہوئے ہیں۔ پنجاب میں بہار کا موسم آئے تو جشن منایا جاتا تھا۔ ایرانی نو روز مناتے ہیں اور دنیا میں اسی طرح کے طرح طرح تہوار ہوا کرتے ہوں گے۔ بھلا کیوں؟ پہلے پہل لوگ یہ مانتے تھے کہ سخت اور طویل سرما یہ یاد دلانے کے لیے آیا تھا کہ ہمارے دلوں میں گرما، یعنی نمو کی بے پناہ چاہ اور خواہش بدستور باقی ہے۔ وہ گھڑی، موقع، یہ گرما اب آن پہنچا۔۔۔ ڈھول بجاؤ، رقص کرو، لڈی ڈالو، بسنت مناؤ، پکوان پکاؤ!
اس ساری عرض گزاری کی مثال فیض صاحب کی نظم کے مصداق ہے کہ، 'بہار آئی تو جیسے یک بار، لوٹ آئے ہیں پھر عدم سے، وہ خواب سارے۔۔۔ وہ شباب سارے'۔ بہار میں خوب دھوم ہو گی کہ 'بہار آئی تو کھل گئے ہیں، نئے سرے سےحساب سارے'۔ وہ تو تب کی بات ہے مگر آج سرما کے عدم میں شاید دوسروں کے لیے یہ حیرانی کی بات نہ ہو مگر میں نے کئی ایسے دیکھے ہیں جو جاڑے سے خواہ مخواہ، اللہ واسطے کی بیر رکھتے ہیں۔ انہیں سوائے اپنے ٹھٹھرتے پیروں کے باقی کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ ایسوں کو، یک رنگے خود غرضوں کو اللہ ہی سمجھے!

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر