کارواں - پہلی قسط

-افغانستان کا ناول-



سرما کے موسم میں ایک سرد اور بے رنگ صبح کا واقعہ ہے۔ کابل میں امریکی سفارتخانے کے نیول اتاشی نے مجھے دفتر میں طلب کیا۔ چھوٹتے ہی کیپٹن مورگن نے سخت سست کہا اور بولا، 'ملر، اس قدر غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیسے کر سکتے ہو؟ صاحب نے دو ہفتے قبل احکامات جاری کیے تھے مگر لفٹیوں کا مسئلہ ابھی تک حل نہیں ہوا۔ تمہیں پتہ ہے کہ افغانوں نے کل رات سرکاری سطح پر شدید احتجاج بلند کیا ہے۔ دیکھو، میں کچھ نہیں جانتا۔تم فی الفور اس قضیے کو نبٹاؤ۔ میں چاہتا ہوں کہ آج سہ پہر تین بجے سے قبل رپورٹ ۔۔۔۔'
'جناب، لفٹیوں کا قصہ ایک طرف ، اس سے کہیں زیادہ اہم بات ہے۔ مجھے کل رات ہی واشنگٹن سے ایک تار موصول ہوا ہے۔ آپ کے ملاحظہ کے لیے فائل تیار کر لی ہے!' میں نے بات کاٹی اور بغل میں دبائی فائل نکال کر میز پر دھر دی۔ فائل کے ماتھے پر سنہری لفظوں میں سر بہ مہر تھا، 'سفیر ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے ملاحظہ کے لیے'۔ کابل میں امریکی سفارتخانے میں اس طرح کے دو ہی فائل فولڈر تھے جو صرف اور صرف اہم معاملات سے متعلق معلومات کی ترسیل کے لیے استعمال کیے جاتے تھے۔
'کیا یہ معاملہ صاحب کے ہانگ کانگ سے لوٹ آنے تک موخر نہیں کیا جا سکتا؟ '، اس نے جان چھڑانے کے لیے پوچھا۔ وہ سفیر امریکہ کی غیر موجودگی میں قائم مقام تھا۔ مجھے ہر گز توقع نہیں تھی کہ وہ اس طرح ذمہ داری سے جی چرا نے کی کوشش کرے گا۔ اس پائے کے آدمی کی ایسی حالت قدر حیرت ناک تھی۔ بہر حال میں نے اس کی امیدوں پر پانی پھیر دیا، 'یہ انتہائی اہم معاملہ ہے۔ فوری طور پر افسرانہ احکامات درکار ہیں'۔
'آخر یہ معاملہ ہے کیا؟' اس نے پوچھ ہی لیا۔ میں اس بات پر اندر ہی اندر سخت بھنا گیا۔ بھلے وہ خود پرداختہ آدمی تھا مگر اپنے بل بوتے پر کسی مقام پر پہنچنے والے اکثر لوگوں کے ساتھ یہی مسئلہ ہو جاتا ہے۔ ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ اپنے ہاتھ سے کام کرنے میں خواہ مخواہ بے عزتی محسوس کرتے ہیں۔ بھلے وہ سامنے رکھی فائل کھول کر پڑھنے جیسا معمولی کام ہی کیوں نہ ہو۔ جیسے اس وقت مورگن کی انا اور افسری آڑے آ رہی تھی۔
میں نے احتیاط سے فائل کا فولڈر کھولا اور سب سے اوپر لف کیے ہوئے تار کی طرف اشارہ کر دیا۔ 'یہ پنسلوانیا کے سینئیر سینٹر کی جانب سے ارسال کیا گیا ہے۔ فوری جواب کا تقاضا ہے'۔ میں نے لہجے میں پیشہ ورانہ گمک برقرار رکھی۔
مورگن عمر رسیدہ، منجھا ہوا ساٹھ کے پیٹے میں، انتہائی روکھا آدمی تھا لیکن پنسلوانیا کے سینٹر کا نام سنتے ہی کرسی پر یوں اچک کر بیٹھ گیا جیسے پنسلوانیا کا سینئیر سینٹر بذات خود کمرے میں داخل ہو گیا ہے۔ 'سینٹر کو کیا درکار ہے؟' اس سوال پر میں نے اسے دل ہی دل میں پھر کوسا۔ مورگن بدستور انا کے مارے خواہ مخواہ مجھ سے جواب طلبی کیے جا رہا تھا۔
'یہ اس لڑکی، جاسپر کے بارے ہے!' اب کی بار میرا لہجہ سپاٹ تھا۔
جاسپر کا نام سنتے ہی مورگن کا پارہ ایک دم چڑھ گیا۔ تڑاخ سے فولڈر بند کیا اور تڑک کر بولا، 'سترہ مہینے۔۔۔' لہجہ شکایتی تھا، 'ایسا لگتا ہے جیسے اس سفارتخانے میں اس لڑکی کے سوا کسی کو کوئی کام نہیں ہے۔ میں یہاں اس قوم کو تاریک دور سے نکالنے کے کام پر متعین کیا گیا ہوں مگر دیکھو تو۔۔۔ پچھلے سترہ مہینوں سے صرف اس لڑکی کی حماقتوں کا ہی پیچھا کیے جا رہا ہوں۔ جاسپر کو تو چھوڑو، ان نکمے فوجیوں کی گلجڑیوں پر صاحب الگ سیخ پا ہیں۔ وہ علیحدہ پریشانی ہے۔ میں کن احمقوں میں پھنس گیا ہوں؟ میں اب مزید ان فضولیات پر وقت برباد نہیں کر سکتا۔ مجھے ان معاملات سے کچھ لینا دینا نہیں ہے'۔ اس نے حتمی لہجے میں کہا اور غصے میں کاغذوں کا پلندہ خود سے دور کھسکا دیا۔
میں بجائے فائل اٹھاتا، انتہائی اطمینان کے ساتھ کاغذات کو درست کیا اور واپس میز پر رکھے اس کی جانب سرکاتے ہوئے کہا، 'جناب، بہتر یہی ہے کہ آپ ایک دفعہ ان کاغذات کو ضرور دیکھ لیں' میرے لہجہ میں انتباہ تھا۔
میرا یہ طور دیکھ کر وہ محتاط ہو گیا۔ آہستگی سے فائل اٹھائی اور کاغذوں کو الٹ پلٹنے لگا۔ تار کے علاوہ ایک مراسلے میں سیکرٹری خارجہ کی جانب سے ملنے والے احکامات کو دیکھ کر اس کی ساری پھنے خانی ہوا ہو گئی۔ فوراً ہی کرسی پر سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ میری طرف دیکھا، گلا کھنکار کر صاف کیا اور با آواز بلند خط کےمندرجات اس قدر توجہ سے پڑھنے شروع کیے جیسے ہر لفظ کو جذب کر رہا ہو،
'یہ دفتر خارجہ اور ذاتی طور پر میرے لیے انتہائی اہم ہے کہ پنسلوانیا کے سینئر سینیٹر کو ایلن جاسپر کے محل وقوع اور اس کے احوال کی فوری، مکمل اور درست معلومات فراہم کی جائیں۔ اس سے پہلے سفارتخانے کی جانب سے ارسال کی جانے والی معلومات کا بغور جائزہ لیا گیا ہے جو ہر لحاظ سے نامکمل ہیں اور کسی بھی صورت قابل قبول اور بھروسہ مند نہیں ہیں۔ ان احکامات کو انتہائی ضروری سمجھو اور فوراً سفارتخانے کے قابل ترین اہلکاروں کو اس قضیے کو سلجھانے کے لیے مقرر کرو۔ یاد رہے، اس معاملے کے ساتھ افغانستان اور امریکہ کے دو طرفہ تعلقات اور ہماری ساکھ جڑی ہے۔ اگر میری معلومات درست ہیں تو مارک ملر مقامی زبان سمجھتا ہے اور اچھی طرح بول چال بھی کر سکتا ہے؟ اگر ایسا ہے تو یہ کام اسی کے حوالے کر دو اور حکم جاری کرو کہ فوری رپورٹ جمع کروائے۔ اس ضمن میں کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی'۔
مورگن یہ پڑھ کر کرسی پر لمبا دراز ہو گیا جیسے اس کے سر سے بوجھ اتر گیا ہو۔ چند لمحے توقف کر کے بولا، 'ایسا لگتا ہے کہ یہ معاملہ واقعی میرے ہاتھ سے نکل چکا ہے'۔ پھر آنکھ میچ کر زیر لب مسکراتے ہوئے کہا، 'ملر، تم فوراً کام پر لگ جاؤ'۔
میں نے کاغذات سمیٹ کر فائل میں بند کرتے ہوئے کہا، 'جناب، جب سے میری یہاں تعیناتی کی گئی ہے۔ میں اسی دن سے اس معاملے پر کچھ نہ کچھ کام شروع کر چکا ہوں'۔
'ہاں، لیکن اس بابت خاصی بد نظمی برتی گئی ہے اور کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی' اس نے شائستگی سے ٹوکا۔ مورگن میرا افسر تھا لیکن عادتاً لیچڑ واقع ہوا تھا۔ وہ خواہ مخواہ، بات بے بات ہر کسی کو ٹوکیں لگاتا اور مجال ہے کہ منہ بند رکھنا جانتا ہو۔ اس کی طبیعت میں تیاگنا نہیں تھا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ ابھی تک افغانستان جیسے معمولی اور غیر اہم ملک کے سفارتخانے میں پھنسا ہوا تھا۔ 1946ء میں بھی افغانستان بارے یہی لگتا تھا جیسے یہ ملک ابھی تک کانسی کے دور سے گزر رہا ہے۔ اس کو انتہائی پسماندہ ملک گردانا جاتا تھا لیکن اس کی تہذیبی جڑیں قدیم ماضی میں پھیلی ہوئی تھیں۔ سفارتخانے میں مشہور تھا کہ آج کا کابل وہی منظر پیش کرتا ہے جو کبھی یسوع مسیح کے زمانے میں فلسطین کا دور رہا کرتا تھا۔ میرے خیال میں مورگن اور افغانستان میں کئی مماثلتیں پائی جاتی تھیں۔ افغانستان کی طرح وہ بھی اگرچہ جری آدمی تھا مگر ذہنی طور پر بہرحال ابھی تک کانسی کے دور میں جی رہا تھا۔
لیکن ان عادات کے باوجود مورگن مجھے پسند تھا۔ وہ سخت جان تھا اور کسی زمانے میں منجھا ہوا بزنس مین ہوا کرتا تھا۔ اس نے استعمال شدہ گاڑیوں کے کباڑ میں خوب پیسہ کمایا اور اسی دولت کے بل بوتے منیسوٹا میں مقامی سطح پر ڈیموکریٹ پارٹی میں اچھی خاصی سلام علیک اور نام بنا لیا تھا۔ اگرچہ میں خود ریپبلکن پارٹی کا ووٹر ہوں مگر مورگن کی ڈیموکریٹ پارٹی سے لگاؤ اور ملک سے وفا داری کا دل و جان سے قائل تھا۔ اس نے ریاستی انتخابات میں چار دفعہ فرینکلن رووز ویلٹ کی ہی حمایت کی اور اسے ہر بار جتوایا بھی تھا۔ ماضی قریب میں اس نے ڈیموکریٹ پارٹی کو قریب ساٹھ ہزار ڈالر کا چندہ بھی دیا تھا جس کے عوض پارٹی نے اسے نیول اتاشی مقرر کر کے افغانستان کا اختیار تھما دیا تھا۔
افغانستان اس کی طبیعت سے میل بھی کھاتا تھا۔ یہ جب تک امریکہ کا عام شہری تھا، اسے کشتی رانی کا شوق چراتا رہا۔ یہ اس کا مشغلہ تھا اور جب دوسری جنگ عظیم شروع ہوئی تو فوراً ہی نیوی میں خدمات پیش کر دیں۔ میرٹ اور جہاز رانی کے شوق کی وجہ سے جلد ہی لیفٹینٹ سے کپتان کے عہدے پر ترقی کر گیا۔ پاپوانیوگنی کے جزیروں مانس اور سمر میں امریکی بحری اڈے قائم کرنے میں اس نے گراں قدر خدمات سر انجام دی تھیں۔ چونکہ یہ طبیعت کا کھرکھرا اور کام کا پکا تھا، اس لیے سب ہی اس کی عزت کرتے تھے۔ مورگن جرات مند آدمی تھا اور میں جنگی میدان میں اس کی بہادری کا ذاتی طور پر گواہ تھا۔
میرا اصل نام مارک ملر نہیں ہے۔ اصل نام مارکس میخلر ہوتا لیکن 1840ء میں جب میرے آباؤ اجداد نے جرمنی سے فرار اختیار کی تو دور اندیشی کا ثبوت دیتے ہوئے سوچا کہ یورپ کی طرح امریکہ میں بھی یہودی ہونے کے ناطے امتیاز برتا جائے گا۔ چنانچہ خاندانی نام 'میخلر' کو بدل کر انگریزی ہم پلہ 'ملر' بنا دیا اور تب سے ہمارا خاندان یہی کہلاتا تھا۔
آباؤ اجداد اپنے تئیں درست تھے۔ کم از کم مجھے شناخت بدلنا خوب راس آیا۔ چونکہ میرا نام ملر تھا اور چہرے مہرے سے بھی یہودی کم اور عیسائی زیادہ لگتا تھا، اسی لیے پہلے گورٹن اور پھر ییل میں کسی مشکل کے بغیر گزر بسر کی اور اچھی تعلیم پائی۔ تعلیم مکمل ہوئی تو 1942ء میں دوسرے محکموں کی طرح امریکی نیوی کے سر بھی سینکڑوں یہودیوں کو زبردستی منڈھے جانے کی سکیم میں اختیار دیا گیا کہ یہ محکمہ بجائے خود اپنی پسند کے چند یہودی افسر شامل دفتر کر سکتا ہے۔ نیوی نے بھی اس پر شکر ادا کیا اور مجھے ہاتھوں ہاتھ لے لیا۔ نیوی افسران کے لیے یہ بات خاصی اطمینان بخش تھی کہ جنگی جہاز پر نام اور چہرے مہرے کی وجہ سے باقی لوگ میری یہودی شناخت سے ناواقف رہیں گے۔ ہنسی کی بات یہ ہے کہ جہاز پر متعین میری کمپنی میں کئی اتائی میرے منہ پر شیخی بگھارتے رہتے کہ، 'ارے کیا بات کرتے ہو؟ میں تو ایک ہی نظر میں اسرائیلی پٹھوؤں کو پہچان لوں اور پھر دیکھو، تمہارے سامنے اس کی کیا حالت کروں۔۔۔' میں دم سادھے رہتا۔
مانس کے ساحل پر میری ڈیوٹی کیپٹن مورگن کے حوالے لگائی گئی۔ مورگن میری اصلیت سے واقف تھا۔ وہ تین ہفتوں تک میری حرکات اور سکنات کا بغور مشاہدہ کرتا رہا۔ پھر ایک دن مجھے دفتر میں بلا بھجوایا اور کہا، 'ملر تم ان رنگروٹوں میں سے ہو جسے بحری جہاز پر نہیں بلکہ انٹیلی جینس میں ہونا چاہیے تھا۔ تم قدرتی صلاحیت رکھتے ہو'۔ اس طرح مورگن سے اچھی سلام دعا قائم ہو گئی۔ اس نے اعلیٰ فوجی افسران سے بات کر کے مجھے رہنے کے لیے بیرک میں قابل قبول برتھ بھی دلوا دی۔ 1945ء میں جب دفتر خارجہ کو بھی دوسرے محکموں کی طرح یہودیوں کو بھرتی کرنے کا شوق چرایا تو انہیں اجڈ اور گنوار نہیں بلکہ قدرے مہذب یہودیوں کی تلاش تھی۔ یعنی ایسے یہودی جو چھری کانٹے سے کھانا کھاسکتے ہوں اور محافل میں سفارتی آداب کو ملحوظ خاطر رکھ سکیں۔ یہ تجویز سامنے آتے ہی میرے سابق افسر مورگن کو فوراً ہی میرا خیال آیا۔ دفتر خارجہ کی جانب سے اس بابت سرکلر جاری ہونے کے ایک ہفتے کے اندر ہی مجھے نیوی میں جونئیر لیفٹنٹ کے عہدے سے برخاست کر کے دفتر خارجہ میں اسسٹنٹ جونئیر سیکشن افسر مقرر کر دیا گیا۔
دفتر خارجہ کی یہودیوں کو بھرتی کرنے کی خواہش اور محکماتی رد و بدل تو نہایت آسان مرحلہ تھا۔ اصل مسئلہ تب پیدا ہوا جب انہیں سمجھ نہ آئے کہ آخر مجھ سے نئے بھرتی کیے جانے والے یہودیوں کی تعیناتی کہاں ہو؟ دنیا بھر میں، کسی بھی سفارتخانے میں ہم پٹھوں کو فٹ کرنا مشکل تھا۔ مثال کے طور پر قاہرہ یا بغداد میں تعیناتی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا کیونکہ ان جگہوں پر عام لوگ یہودیوں سے سخت نفرت کرتے تھے۔ پیرس میں معاملہ اس کے برعکس تھا۔ وہ یہ کہ عام لوگوں کو تو کوئی مشکل نہیں تھی مگر وہاں امریکی سفارتخانے کا عملہ یہودیوں کو ناپسند کیا کرتا تھا۔ یہ صورتحال دیکھ کر ایک دفعہ پھر مورگن میری مدد کو کود پڑا۔ اس وقت وہ افغانستان میں نیول اتاشی کے عہدے پر کام کر رہا تھا۔ اسی نے دفتر میں رپورٹ دی کہ وہ مجھے، یعنی مارک ملر کو ذاتی طور پر جانتا ہے اور ہر لحاظ سے وضعداری کا قائل ہے۔ اس کے خیال میں، میں اپنے ملک کے لیے اثاثہ تھا۔ 'حقیقت تو یہ ہے' اس نے مراسلے میں لکھا تھا، 'میرے چند بہت ہی قریبی دوست یہودی ہیں'۔ یوں مارک ملر کو مورگن کے حوالے کر دیا گیا۔ صدر ٹرومین کی جانب سے اسے ایک یہودی کو اپنے پلے باندھنے کی یوں جرات پر ستائشی پیغام بھیجا گیا اور سیکرٹری خارجہ نے بھی دو چار محافل میں اس بات کا تذکرہ کر کے اس کی حوصلہ افزائی کر دی۔ میں نے بھی کام شروع کیا تو دفتر خارجہ میں سب کو تسلی ہوئی کہ چلو، کم از کم یہ ایک یہودی تو دھوکے باز نہیں نکلا۔مورگن اسی وجہ سے مجھے فخر کی نگاہ سے دیکھا کرتا تھا۔ ویسے بھی میں اس دفتر میں اس کے ان گنے چنے امور میں سے ایک تھا جو اس نے سر انجام دیے اور ناکامی سے دوچار نہیں ہوئے تھے۔ وہ کامیاب بزنس مین رہ چکا تھا، فوج میں خوب جھنڈے گاڑھے، جرات مند بھی تھا مگر سفارتکاری اور مردم شناسی میں عام طور پر بودا مشہور تھا۔
'یہ درست ہے کہ میں ایلن جاسپر کے معاملے میں درکار چستی نہیں دکھا سکا'، میں نے اعتراف کیا، 'لیکن سیکرٹری خارجہ کا تار موصول ہوتے ہی میں نے ہر طرح کی ضروری معلومات جمع کرنا شروع کر دی ہیں۔ میں نے تمام فائلوں کا ایک بار پھر بغور جائزہ لیا ہےاور میرے خیال میں، اب میں جانتا ہوں کہ مجھے آگے کیا کرنا ہے'۔
'آگے کیا کرو گے؟'، مورگن نے دلچسپی سے پوچھا،
'آج شام چار بجے شاہ خان سے اس کے گھر پر ملاقات کروں گا۔ وہ اپنے گھر پر تسلی اور اطمینان سے بات کیا کرتا ہے۔ اگر کسی کو ایلن جاسپر کے محل وقوع کے بارے درست معلومات ہیں تو وہ صرف شاہ خان ہے'۔
'وہ تمہیں بتا دے گا؟' اس نے بے یقینی سے پوچھا،
'بات یہ ہے کہ افغانستان میں مجھے کسی پر بھروسہ نہیں ہے۔ میں کبھی ان کی فراہم کردہ معلومات پر آنکھ بند کر کے یقین نہیں کرتا۔ عام طور پر یہ لوگ جو بات بتاتے ہیں، میں اس کے الٹ بھی سوچتا ہوں' میرا لہجہ سپاٹ تھا،
'آہستہ آہستہ تم یہ گر سیکھتے جا رہے ہو'، مورگن نے ہنستے ہوئے کہا۔ پھر اس نے اپنی ہتھ گھڑی پر نظر ڈالی اور کہا، 'اگر تم نے پہلے ہی تیاری کر لی ہے اور تم شاہ خان سے ملاقات کے لیے چار۔۔۔'
'تسلی رکھیے، میں ابھی لفٹیوں کے معاملے کو دیکھوں گا'، میں نے مورگن کی بات بیچ میں ہی کاٹ دی۔
'لازمی وقت نکالو۔ان ملاؤں کا کچھ پتہ نہیں چلتا۔ پچھلے کچھ دنوں سے خواہ مخواہ ہتھے سے اکھڑ رہے ہیں'۔ مجھے ہمیشہ ہی مورگن کا یوں انگریزی زبان میں دیسی الفاظ کا تڑکا مضحکہ خیز لگتا آیا ہے۔ غالباً اس کی وجہ یہ تھی کہ ادبی کتابوں کی بجائے الا بلا میگزین پڑھتا رہتا تھا اور کئی عجیب و غریب اصطلاحات سیکھ لی تھیں جو وہ گاہے بگاہے انگریزی میں گھولتا رہتا۔ 'کوہستانی علاقوں سے آنے والے ملاؤں نے پچھلے کچھ دنوں سے شہر میں دھما چوکڑی مچا رکھی ہے' اس نے پہلو بدلا، 'نہ جانے کیسے انہیں لفٹیوں بارے بھنک لگ گئی اور اب وہ چاہتے ہیں کہ سفارتخانے کی حفاظت پر مامور میرین فوجیوں کو ملک بدر کر دیا جائے'۔
'لیکن جناب، آپ چند کٹر مولویوں کو سفارتخانے کی پالیسی پر اثر انداز ہونے کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں؟' میں نے درشتی سے پوچھا۔
'ملر۔۔۔ میں ان سر پھرے ملاؤں کے ساتھ سینگ نہیں لڑانا چاہتا۔ تم شاید ان سے واقف نہیں ہو لیکن میں انہیں خوب جانتا ہوں۔ وہ افغان حکومت پر ٹھیک ٹھاک دباؤ ڈال سکتے ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ ہمیں بالاخر مجبوراً اپنے فوجیوں کو ملک سے نکالنا ہی پڑے گا'۔
'اگر آپ پہلے ہی طے کر چکے ہیں تو اس ضمن میں، میں کیا کر سکتا ہوں؟' میرے لہجے میں مایوسی تھی۔
'تم پشتو بول سکتے ہو۔ میں چاہتا ہوں کہ تم بازار کا چکر لگاؤ اور حالات کی سن گھن لو۔ پتہ کرو، اصل معاملہ کیا ہے؟'
'بہت بہتر، آپ بے فکر رہیے' میں نے حامی بھرتے ہوئے کہا،
'اور ہاں، ملر۔۔۔ اگر تمہیں کہیں بھی، ذرہ برابر بھی کوئی چیز مشکوک نظر آئے۔ ہمارے فوجیوں کی غلطی لگے جس سے ان کی ملک بدری ضروری ہو، مجھے فوراً اطلاع کرو۔ ہمارے ہاتھ سے وقت نکلتا جا رہا ہے۔ اگر ضرورت پڑی تو ملک بدری کا فیصلہ افغانوں کی بجائے ہمارے یہاں سے جانا چاہیے۔ اس طرح ہم افغانی حکام کا اعتماد جیت سکتے ہیں اور یہی نہیں اس قدم سے ان کٹھ ملاؤں کی بھی تشفی ہو جائے گی۔ شاید وہ بھی غصہ ٹھنڈا ہو جائے تو آگے چل کر ہم پر اعتماد کریں؟'
ایک دفعہ پھر، میری حیرت کی انتہا نہیں رہی۔ مورگن جب چاہتا بیانیے کو موڑ دے دیتا تھا بلکہ اس مقصد کے لیے اس نے ہر طرح کا زخیرہ الفاظ بھی جمع کر رکھا تھا۔'جناب، مجھ سے پوچھیں تو میں ہر گز ملاؤں کے جتھوں کے ساتھ رعایت برتنے، انہیں خوش کرنے کی صلاح نہیں دوں گا'، احتجاجاً کہا۔
'تمہیں انہیں خوش کرنے کی چنداں ضرورت نہیں اور اس ضمن میں تمہاری صلاح بھی درکار نہیں ہے' کورا جواب آیا، 'میں اس معاملے میں ہر فیصلے کی ذمہ داری خود اٹھانے کے لیے تیار ہوں اور اگر ضرورت پڑی تو میں اس سے بھی آگے جا سکتا ہوں۔ تم فکر نہ کرو۔۔۔ جو کہا ہے، وہ کرو!'۔
ظاہر ہے، اس بات کا کوئی جواب نہیں تھا اور ویسے بھی بحث کو طول دینے کا کوئی فائدہ بھی نہیں تھا۔ میں نے اس کے عہدے کا پاس رکھتے ہوئے تعظیماً سر ہلایا، ایلن جاسپر کی فائل بغل میں دبائی اور باہر کی راہ لی۔ دروازے پر پہنچا تھا کہ قائم مقام سفیر نے ایک دفعہ پھر تحکمانہ لہجے میں آواز دے کر روکا اور کہا، 'ایک بات اور۔۔۔ آج شام ملاقات کے بعد مجھے شاہ خان کے خیالات سے بھی ضرور آگاہ کرنا'۔
مورگن کی اس بات پر میں بے اختیار ہنس پڑا۔ میں نے مڑ کر کہا، 'افغانستان میں اس وقت قریباً ایک کروڑ بیس لاکھ ملکی اور غیر ملکی شاہ خان کے خیالات سے آگاہ ہونے کے متمنی ہوں گے۔ مجھے یقین ہے کہ وہ مجھ ایسے معمولی امریکی پر اپنے زریں خیالات لٹانا ضروری نہیں سمجھے گا' یہ کہہ کر میں باہر نکل گیا ۔ جاتے ہوئے دور سے پشت پر مڑ کر کہا، 'بے فکر رہیے جناب، میں آپ کو وہ بھی بتاؤں گا جو وہ بتانے سے کترا رہا ہے' یوں یہ میٹنگ برخاست ہوئی اور مجھے خلاصی مل گئی۔
1946ء میں افغانستان کے امریکی سفارتخانے کو کام کے لحاظ سے بہت زیادہ دقت نہیں تھی۔ گنے چنے امور تھے، بڑے عملے کی چنداں ضرورت نہیں تھی۔ ابھی تک امریکہ کی مشہور و معروف 'اجارے اور پٹے کی پالیسی'، جس سے اس پورے خطے کا مستقبل اور امریکہ کے مفادات جڑے تھے، اس بارے سوچا تک نہیں گیا تھا۔ بہر حال یہاں ہم گنے چنے لوگ تھے جو اس عجیب و غریب اور بسا اوقات سخت گیر شہر میں سفارتخانے کے امور چلانے پر مامور تھے۔ اکثر تو اس ماحول سے اس قدر تنگ آ جاتے کہ پناہ مانگتے۔ سرما کے موسم میں تو کابل ایک قلعہ بند چھاؤنی کا روپ دھار لیتا اور ہم غیر ملکیوں کے پاس آپس میں جڑ کر رہنے کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا۔ ہم بھلے ایک دوسرے کو پسند نہ کرتے ہوں مگر پھر بھی ایک دوسرے کا خیال رکھنے اور ایک دوسرے سے بندھ کر رہنے پر مجبور ہو جاتے۔ ویسے بھی اس شہر میں دلچسپی کا کوئی سامان نہیں تھا۔ ہوٹل، سینما، تھیٹر، کچھ بھی نہیں تھا۔ اخبار باسی ملتے اور ریڈیو پر یورپی پروگراموں کا نام و نشان نہیں تھا۔ ریسٹورنٹ تھے مگر اس میں کوئی قابل ذکر چیز نہ ملتی۔ میگزین بھی کبھی کبھار ہی آتے، زیادہ تر سہ ماہی رسالے ملتے تھے۔ ہمیں شہر میں مقامی شہریوں کے ساتھ گھل ملنے کی اجازت نہیں تھی اور نہ ہی ہم بازاروں میں اکٹھے گروپ کی شکل میں جا سکتے تھے۔ وہ افغان جن سے ہمارا واسطہ پڑتا تھا، ان سے بھی ذاتی تعلقات بنانے اور دفتر کے بعد مل بیٹھنے کی ممانعت تھی کیونکہ ہمارے افغان میزبان اس بات کو پسند نہیں کرتے تھے۔ الغرض لے دے کر ایک دوسرے سے ہی رجوع کرنا پڑتا۔ تفریح اور میل جول کے لیے ہمارے پاس اپنے آپ اور ایک دوسرے کے سوا کوئی نہیں تھا۔ یوں تمام غیر ملکی یعنی مختلف سفارتخانوں جیسے برطانیہ، فرانس، اٹلی، ترک اور امریکی سفارتخانے کے اہلکار دوستیاں بڑھاتے۔ اس برس طویل اور قنوطیت کا شکار کر دینے والے سردیوں کے موسم میں آخر تک شہر برف سے ڈھکا ہوا تھا اور ہم اس قدر اکتا گئے کہ ہر طرح کی ترکیبیں جواب دینے لگیں۔ ایسے میں برطانوی سفارت کاروں کا طویل عرصے سے اجنبی ملکوں اور غیر جگہوں میں نامساعد حالات میں بسر رکھنے کا تجربہ کام آیا۔ انہوں نے تجویز دی کہ کیوں نہ ہم سب شام میں مل بیٹھا کریں اور محفل میں مشہور تماثیل تیار کر کے پیش کیا کریں؟
بدیں وجہ، میں مورگن کے یہاں حاضری لگا کر اپنے دفتر پہنچا تو مس میکس ویل کو ٹائپ رائٹر پر دھڑا دھڑ کچھ لکھنے میں مصروف پایا۔ ہمارا دفتر دو منزلہ سفید رنگ کی چھوٹی سی عمارت پر مشتمل تھا جس میں مس میکس ویل سبھی سفارتکاروں کی دفتری امور میں معاونت کرتی تھی۔ جب میں نے اس سے لفٹیوں کی فائل بارے دریافت کیا تو اس نے مجھے جھڑک دیا، جس پر مجھے چنداں حیرت نہیں ہوئی۔ وہ اکثر جھلائی ہوئی رہتی تھی۔
'وہیں کہیں ہوں گے۔۔' وہ نظریں بدستور مشین پر جمائے تڑک کر بولی،
'کیا تم مجھے ڈھونڈ کر دے سکتی ہو؟'
'پلیز، مسٹر ملر۔۔۔' اس نے احتجاج کیا، 'میں پہلے ہی کام میں کھپی ہوئی ہوں۔ رات کے لیے تمثیل کا سکرپٹ تیار کر رہی ہوں'۔
'ہمم۔۔ اچھا، کوئی بات نہیں!' میں خود ہی کاغذات تلاش کرنے لگا۔
'آج رات۔۔۔' اس نے بتایا، 'تمثیل کا تیسرا حصہ میرے ذمے لگایا گیا ہے۔ برطانوی لڑکیاں طویل ترین، پہلا حصہ پیش کریں گی۔ اطالوی سفارت خانے والی لڑکی دوسرے حصے پر کام کر رہی ہے۔ پتہ ہے، اس نے تو اپنا کام ختم بھی کر لیا۔ مجھے تو لگتا ہے کہ اطالویوں کے یہاں کرنے کو کوئی کام نہیں ہوتا'۔ اس نے آہ بھری۔
'تم تسلی سے اپنا کام ختم کرو' میں نے دلجوئی کی۔ میں نے نوٹ کیا کہ وہ اصل اور نقل کی سات کاپیاں ایک ہی ساتھ مشین میں ٹھونسے دھڑا دھڑ ٹائپنگ کر رہی تھی۔ میں نے آنکھ مار کر اسے چھیڑا، 'لیکن دیکھو، مہربانی کریو۔۔۔ مجھے پہلی تین کاپیوں میں سے ہی کوئی ایک دے دینا۔ نیچے تو صرف دھبے ہی ہوں گے'۔
'میری مشین پر سب ٹھیک ٹھاک نکل آتا ہے' مس میکس ویل نے جواباً آنکھ ماری، 'وہ تو اطالوی مشینیں ہوتی ہیں جو بے کار ہوتی ہیں۔ میں اچھی طرح جانتی ہوں، اس نے بھی سات کاپیاں نکالی ہوں گی۔ اس کے کاغذوں میں بمشکل ہی کچھ نظر آئے گا'۔ اس کی بات درست تھی۔ میکس ویل اس وقت جرمن ٹائپ رائٹر پر کام کر رہی تھی۔ جرمن مشینیں کمال ہوتی ہیں۔ ان میں واقعی ایک وقت میں سات کاپیاں نکل سکتی تھیں۔
میں نے لفٹیوں کی فائل نکالی اور دفتر کے اندرونی حصے میں چلا گیا۔ اپنی نشست سنبھالی اور ورق گردانی شروع کر دی۔ پہلے ہی صفحے پر نوٹ دیکھ کر میں چونک کر رہ گیا۔ لکھا تھا، 'افغان ایجنٹوں نے ہمیں متنبہ کیا ہے کہ اگر میرین فوجیوں نے لفٹیوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ترک نہ کی تو عین ممکن ہے کہ بازار میں قتل و غارت ہو جائے گی!'۔ یہ پڑھتے ہی میرے لیے اس معاملے کی نوعیت سخت گھمبیر ہو گئی۔ میں نے فوراً، تقریباً چلاتے ہوئے مس میکس ویل کو ہمارے افغان نائب نور محمد کو بلوا لانے کا حکم دیا۔ وہ بغیر کچھ کہے، منہ ہی منہ میں بڑبڑاتی ہوئی اپنی نشست سے اٹھی اور دفتر سے نکل گئی۔ تھوڑی ہی دیر میں نور محمد خاموشی سے کمرے میں آن کھڑا ہوا۔
نور محمد بتیس سال کا خوش شکل، لچیلا جوان تھا۔ بال سیاہ، جلد کی رنگت قدرے جلی ہوئی اور گہری ڈوبی آنکھیں مگر افغانوں کی طرح ابھری ہوئی طوطا ناک کا مالک تھا۔ دانت بہت ہی زیادہ سفید اور چمکدار تھے مگر وہ شاذ و نادر ہی مسکرایا کرتا، جیسے ہر وقت ملول طاری ہو۔ چہرے پر ہر وقت سنجیدگی طاری رہتی اور دیکھنے میں تنگ مزاج اور سنکی لگتا تھا۔ اس وقت اس نے نیلے رنگ کا مغربی طرز کا سوٹ زیب تن کر رکھا تھا جو اس کے جسم پر فٹ نہیں تھا اور ڈھیلا لگ رہا تھا۔ امریکی سفارتخانے میں پچھلے دو برس کے دوران اس نے خود بخود ہی انگریزی سیکھ لی تھی۔ اگرچہ وہ امریکی سفارتخانے سے تنخواہ وصول کرتا تھا مگر عام تاثر یہی تھا کہ وہ اصل میں افغان حکومت کا کارندہ ہے۔
'نور بیٹھ جاؤ!'، میں نے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ پروٹوکول کا بھرپور خیال رکھتے ہوئے وہ سمٹ کر اسی کرسی پر بیٹھ گیا جس کی طرف میں نے انگلی اٹھائی تھی۔ اس نے کھڑے کھڑے پتلون سیدھی کی اور بیٹھ کر دونوں ہاتھ گود میں باندھ لیے۔
'جی جناب، حکم کریں!' نور محمد منجھے ہوئے اردلی انداز میں گویا ہوا۔ اس کے چہرے سے صاف پتہ چلتا تھا کہ وہ احکامات بجا لانے کے لیے تیار ہے مگر اس سے معاملے کی اق چھپائے نہیں چھپ رہی تھی۔
'میں نے تمہیں یہاں لفٹیوں کی بابت بات چیت کے لیے بلایا ہے' میں نے بات شروع کی تو نور محمد فوراً ہی پرسکون ہو گیا۔ 'کیا تم نے تازہ ترین انٹیلی جینس رپورٹ دیکھ رکھی ہے؟' میں نے پوچھا۔
نور محمد دھوکے باز نہیں تھا مگر بہر حال نہایت چالاک آدمی تھا۔ کبھی کسی معاملے کے بارے جانکاری کا خود اعتراف نہ کرتا بلکہ ہمیشہ یہ کوشش رہتی کہ میں بات چیت میں پہل کروں۔ سوال پوچھوں تو وہ صرف اسی بات کا نپا تلا جواب دے۔ 'کونسی انٹیلی جینس رپورٹ؟' اس نے آنکھوں میں معصومیت جمع کر کے نہایت خوش اخلاقی سے پوچھا۔
میں نے سامنے پڑے فولڈر میں سے انتباہی نوٹ نکالا اور کہا، 'تمہارے بعض لوگوں نے ہمیں متنبہ کیا ہے کہ اگر میرین فوجیوں نے۔۔۔ مطلب انہوں نے کہا ہے کہ ہمارے فوجیوں نے چھیڑ خانی جاری رکھی تو۔۔۔ نور محمد، تم ہی بتاؤ، کیا ہمارے میرین فوجیوں نے کسی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی ہے؟کسی راہ چلتے کو ستایا ہے؟'۔
اس سے پہلے کہ نور محمد جواب دیتا، دروازہ کھلا اور ایک امریکی میرین فوجی اجازت طلب کر کے کمرے میں داخل ہوا۔ اس جوان نے جنگ کے میدان میں کم از کم دو موقعوں پر خوب دلیری کا مظاہرہ کیا تھا۔ انہی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے امریکی حکومت نے اسے تمغے بھی عطا کیے تھے۔ اب جبکہ جنگ ختم ہو چکی تھی۔ اسے انعام کے طور پر میدان کی بجائے امریکی دفتر خارجہ میں تعینات کر دیا گیا تھا۔ وہ کابل میں امریکی سفارتخانے کی حفاظت پر مامور دو فوجیوں میں سے ایک تھا۔ وہ نہایت اعتماد سے کاغذات حوالے کر، الٹے فوجی قدموں ہی چپ چاپ واپس ہو لیا۔ دروازے پر پہنچ کر سیلوٹ کیا اور دروازہ بند کر کے کمرے سے نکل گیا۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ اس کے بے داغ یونیفارم پر جنگی تمغے سجے تھے اور بوٹ پالش سے چمک رہے تھے۔
وہ جا چکا تو نور محمد نے محتاط ہو کر کہا، 'امریکیوں کےحساب سے ان جوانوں نے کسی کو ہراساں نہیں کیا۔ لیکن دیکھیں رمضان کی آمد ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ ملا چوڑے ہوتے جا تے ہیں۔ اصل میں یہ ملا ہیں جو ایسا سمجھتے ہیں کہ جوانوں کی حرکات مشکوک ہیں۔ مسٹر ملر، اگر ملا ایسا سمجھتے ہیں تو پھر۔۔۔'
میں نے اسے انٹیلی جینس رپورٹ دکھائی۔ ممکنہ قتل و غارت کا ذکر دیکھ کر اس کے بھی اوسان خطا ہو گئے۔
'قتل!' میں نے کہا اور دہرایا، 'دیکھا تم نے، قتل!'۔ نورمحمد نے کرسی پر پہلو بدلا اور ایک دفعہ پھر پتلون سیدھی کی۔ 'میں ملاؤں کو کبھی نظر انداز نہیں کروں گا' نور محمد نے خبردار کرتے ہوئے کہا،' بالخصوص جب کہ رمضان کی آمد ہے تو وہ کسی نہ کسی طرح اپنی طاقت کا مظاہرہ کریں گے۔ ہمیں اس قوت اور اپنی دسترس کی یاد دہانی کروانا چاہیں گے'۔
'ہاں لیکن اگر بالفرض ملاؤں کی بد گمانی بڑھتی ہی رہی؟ یا چلو ایک لمحے کو مان لیا کہ یہ جو فوجی ابھی ابھی تم نے دیکھا۔۔۔ اس نے، کہو کسی سے دست درازی کی ہے؟' یہ کہہ کر میں نے فوراً لقمہ دیا کہ، 'تم سمجھ رہے ہو ناں؟ میں کہہ رہا ہوں کہ فرض کرو، اگر ایسا ہی ہوا ہے تو۔۔۔ میں یہ ہر گز نہیں مان رہا کہ ایسا ہی ہوا ہے'۔ نور محمد نے پرجوش انداز میں اتفاق کرتے ہوئے کہا، 'جناب میں آپ کی بات سمجھ رہا ہوں۔ اس بابت آپ پہلے ہی اپنا مدعا صاف واضح کر چکے ہیں'۔
'ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ فرض کرو، اگر ملا فوجیوں بارے ایسا ہی سمجھتے رہے تو پھر؟ تمہارے خیال میں وہ کس کو قتل کریں گے؟'
'ظاہر ہے۔ لفٹیوں کو!' نور محمد نے توقف کیے بغیر فوراً کہا،
'لفٹیوں کو؟' میں دم لے کر بولا،
'بالکل۔ ملر صاحب، میں آپ کو بتاتا ہوں۔ ماضی میں ملاؤں کو فرنگیوں کو قتل کرنے کی شہ ملتی رہی ہے۔ بلکہ انہیں فرنگیوں کو قتل کرنے میں تسکین ملتی تھی۔ مگر ہوا یہ ہے کہ جب بھی انہوں نے کسی فرنگی کو مارا ہے، اس سے افغانستان کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ اب وہ بھی سمجھ چکے ہیں اور فرنگیوں پر ہتھیار اٹھانے سے باز رہتے ہیں'۔
مجھے یہ لفظ 'فرنگی' بہت عجیب و غریب لگتا ہے۔ یہ لفظ میرے دماغ کو مختل کر دیتا ہے۔ افغان انگریزی لفظ ‘foreigner’ کے لیے فرنگی کا استعمال کرتے ہیں۔ کئی ایشیائیوں نے یورپ وغیرہ میں اپنے بارے یعنی غیر ملکی ہونے کے ناطے یہ تعارفی لفظ سنا تو انہیں یہ بہت بھدا لگا۔ یہ واقعی خاصا بھدا لفظ ہے اور اس کا مفہوم تو اس سے بھی پرے ہے۔ اس لفظ میں انگریزی حروف تہجی 'g' اور 'n' کا انتہائی غیر مانوس ملاپ پایا جاتا ہے۔ لکیر کے فقیر، ایشیاء کی مقامی آبادی کے لیے یہ لفظ اور اس کا تلفظ خاصی الجھن کا باعث تھا۔ چنانچہ انہوں نے اس کا تلفظ بھی لکیر کے فقیر کی مصداق اپنے ہی انداز میں جوڑ لیا جو وقت کے ساتھ بگڑ کر فرنگی بن گیا۔ وقت کے ساتھ اس بگڑے ہوئے لفظ میں نفرت، عداوت اور حقارت بھی جمع ہو گئی۔لوگ غیر ملکی، بالخصوص انگریزوں کو فرنگی، کچھ فرنجی اور بعض فورنگے کہتے تھے مگر ان کا مطلب ایک ہی تھا۔مدعا وہی تھا اور نفرت ایک سی ہی جھلکتی تھی۔
'ملا کبھی کسی فرنگی کو قتل نہیں کریں گے' نور محمد نے مجھے یقین دلایا،
'میرے خیال میں ہمیں مل کر فی الفور بازار کا چکر لگانا چاہیے تا کہ حالات کا اندازہ ہو' میں نے تجویز دی،
'ملر صاحب، میرے خیال میں میرا آپ کے ساتھ جانا مناسب نہیں ہو گا۔ میری موجودگی سے ہم دونوں کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے'،
'میں سمجھ سکتا ہوں لیکن میں چاہتا ہوں کہ تم میرے ساتھ چلو۔ بالفرض اگر کوئی خطرہ نکل آیا تو۔۔۔'
'کابل کے بازار میں آخر کیا خطرہ ہو سکتا ہے؟' نور محمد نے قدرے ناپسندیدگی سے پوچھا،
'کیا خطرہ؟ تم نے ابھی تو رپورٹ پڑھی ہے۔ قتل و غارت ہو سکتی ہے۔۔۔'
'لیکن فرنگیوں کو اس قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ کوئی شخص آپ پر ہاتھ اٹھانے کی جرات نہیں کرے گا' اس نے دو ٹوک انداز میں کہا۔ پھر وہ میرے ساتھ بازار جانے سے منکر، مزید کچھ کہے بغیر اٹھا اور سلام کر کے واپس اپنے معمولات کی طرف لوٹ گیا۔
اس کے جانے کے بعد میں نے سیکورٹی افسر کو بلایا۔ اس سے درخواست کی کہ وہ دونوں میرین فوجیوں کو آدھے دن کی چھٹی دے دے۔ اگرچہ اس درخواست پر اس نے پہلے تو خوب شور مچایا مگر جب میں نے قائم مقام سفیر سے کہلوانے کی دھمکی دی تو وہ فوراً پسج گیا۔تھوڑی دیر بعد میں نے کھڑکی سے دیکھا کہ چھٹی ملتے ہی دونوں فوجی فوراً سے پیشتر باہر جانے کے لیے گیٹ پر کھڑے تھے۔ میں نے بھی میکس ویل کو بلایا اور بتایا تا کہ کوئی پوچھے یا حالات بگڑ جائیں تو اسے معلوم ہو، 'میں بازار تک جا رہا ہوں'۔
'اچھی بات ہے' اس نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے کندھے اچک کر اپنا ٹوپ اٹھایا اور بولی، 'میں بھی سکرپٹ کی کاپیاں پہنچانے جا رہی ہوں'۔
میں نے باہر نکل کر گیٹ پر مامور چوکیدار سے کہلوا کر تانگہ منگوا لیا۔ چند منٹوں کے اندر ہی دنیا کی سب سے بے آرام ٹیکسی میرے سامنے آن کھڑی ہوئی۔ تانگہ بھی خوب ہوتا تھا۔ ایک ریڑھی ہوتی ہے جس کے دو بڑے پہیے ہوتے ہیں۔ پہیوں کے دونوں طرف آگے اور پیچھے نشتیں ہوتی ہیں ۔ اگلی نشست کے آگے دو بانس باندھ کر گھوڑا یوں جوت دیا جاتا ہے کہ ریڑھی آگے کو اٹھ جاتی ہے مگر نشستیں قدرے پیچھے کی جانب ڈھلک جاتی ہیں۔ کوچوان خود تو اگلی نشست پر گدی لگا کر آرام سے براجمان رہتا ہے مگر مسافر پچھلی نشست، لکڑی کے سخت پھٹے پر تقریباً لٹکے ہوئےبمشکل ٹکے ہوتے ہیں۔ تانگے کے بڑے بڑے پہیے عام طور پر لکڑی سے بنائے جاتے ہیں جن پر بس نام کو ربر چڑھائی جاتی ہے۔کچے پکے راستوں پر تانگے کی ریڑھی ہچکولے کھاتی، اچھلتی جاتی جبکہ آگے گھوڑا اور پیچھے مسافر خود کو سنبھالنے کی کوشش میں ہلکان ہو جاتے جبکہ کوچوان مزے سے بیٹھا ایک ہاتھ میں رسیاں تھامے، دوسرے سے چابک چلاتا رہتا۔
ایک بار کسی نے مجھ سے کہا تھا کہ وہ سفارتکار اور فوجی جو اجنبی اور انتہائی غیر ملکوں میں خدمات سر انجام دیتے ہیں، مالیخولیا کا شکار ہو جاتے ہیں۔ میرے خیال میں ایسا ہو رہنا قدرتی امر ہے۔ یہ اٹل ہے اور ان یادوں سے قطعاً فرار ممکن نہیں ہوتی۔ لیکن میں جب مڑ کر افغانستان میں بیتائے وقت کو یاد کرتا ہوں تو بجائے اداسی، مجھے ایک عجیب طرح کی آسودگی ملتی ہے۔ انس محسوس ہوتا ہے اور گہرا میلان جاگ جاتا ہے۔شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا میں افغانستان ایک اجاڑ اور سر کش ملک مشہور ہے مگر لکھ رکھیں کہ کابل جیسا پراسرار شہر دوسرا کوئی نہ ہوتا ہو گا۔ مجھ جیسے جوان آدمی کے لیے بھی اس شہر میں بسر کرنا انتہائی مشکل رہا تھا، جان جوکھوں میں تھی مگر یہ غیر معمولی اور ہیجان خیز تجربہ بھی تھا۔ اکثر ایسے مواقع آئے کہ روئیں کھڑی ہو جاتیں۔ مثال کے طور جیسے اس وقت میں تانگے جیسی غیر مہذب سواری پر بیٹھا، متذبذب اور ایک مبہم مشن پر نکلا ہوا تھا۔ ذہنی حالت ایسی تھی کہ اپنے ساتھ مجھے اس متشدد معاشرے میں پھیلی انارکی کا بھی رہ رہ کر خیال آ رہا تھا۔ جیسے اس وقت کئی تضادات نے مجھے گھیر رکھا تھا، ویسے ہی یہ شہر اور ملک بھی غیر یقینی سے دوچار تھا۔ جیسے میرا دل اور دماغ ویسے ہی یہ شہر بھی شکوک و شبہات کا گڑھ بنا ہوا تھا۔ ایک طرح سے اس وقت میں اور کابل اس تانگے پر بیٹھے ایک ہی تعدد پر رواں تھے۔
کابل کا حال سنیں۔ یہ قافلوں اور کاروان کی راہ میں پڑا ہوا ایسا شہر ہے جو تقریباً تین ہزار سال سے روئے زمین پر بسا چلا آ رہا ہے۔ شہر کے مغرب میں کوہ بابا کی پہاڑیاں جھالر کی طرح سجی ہوئی ہیں۔ شمال کی جانب نگاہ دوڑائیں تو اس سے بھی کہیں اونچی جیسے دیوتا ہوں، ہندوکش کا سلسلہ ہے۔ ہر سال سردیوں میں جب یہ دونوں سلسلے برف کی چادر اوڑھ لیتے ہیں تو ایسا منظر ہوتا ہے کہ جیسے کابل شہر ایک ایسے پیالے میں پڑا ہے جو برف جیسی سرد اور پہاڑوں میں گرینائٹ جیسی سخت پتھر کو کاٹ کر بنایا گیا ہے اور یہی اس شہر کی خصلت ہے۔ کابل کا مزاج بھی اکثر ایسا سرد اور سخت ہی محسوس ہوتا ہے۔ شہر کے نقشے کی بابت یہ ہے کہ جیسے اردو کا حرف تہجی نون غنہ ہوتا ہے، جو اپنے ہی پہلو پر لڑھکا ہوا تھا۔ شہر میں مشرق کی جانب سے دریائے کابل بہہ کر آتا ہے اور آبادی کو گھیرے میں لیے درہ خیبر کی جانب نکل جاتا ہے۔یوں پورا شہر مغرب کی جانب کوہ بابا کے سامنے منہ کھولے ہوئے محسوس ہوتا ہے۔ نون غنہ کے خالی حصے میں ایک پہاڑی ہے۔ پہاڑی کیسی، اگر جنوب کے میدانی علاقوں میں پائی جاتی تو بلند و بالا پہاڑ کہلاتی۔ امریکی سفارتخانہ اور یورپیوں کے مکانات اس نون غنہ کی شمالی ٹانگ جبکہ شہر کا بازار، مساجد اور شور شرابہ جنوبی ٹانگ پر پھیلا ہوا ہے۔ اس وقت میں تانگے پر بیٹھا شمال سے جنوب کی جانب ہی جا رہا تھا۔
ہمیشہ یہی ہوتا ہے۔ میں جب بھی شہر کے آس پاس گزرتا ہوں تو مجھے ان تضادات کا شدت سے احساس ہوتا ہے جو افغانستان کی مٹی میں گندھے ہوئے ہیں۔ جیسے ابھی ابھی، اس تضاد نے مجھے کچوکا لگایا ہے۔ مجھے گلی کوچوں میں چلتے پھرتے افغان مردوں کے چہروں پر اپنے آپ سے کہیں زیادہ یہودی ہونے کا گماں ہوتا ہے۔ اونچے سرو جیسے قد، گہری رنگت، اور لوچدار۔ ان کی روشن مگر تک سیاہ آنکھیں اور لمبی سامی ناکیں ہیں۔ افغانوں کی اکثریت خود کو بنی اسرائیل کے گمشدہ قبیلہ قرار دیتی ہے اور اس پر فخر بھی کرتے ہیں۔ ان میں مشہور ہے کہ گمشدہ قبیلہ بابل سے جلاوطن ہوا تو کوہستانوں میں آن بسا اور وقت گزرنے کے ساتھ پھیلتا گیا، بکھرتا چلا گیا۔ یہ تو رہا ایک طرف، ان میں یہ بھی مشہور ہے کہ ان کے ملک کا اصل اور قدیم نام آریانہ تھا۔ یہ کہتے ہیں کہ 1930ء کے عشرے میں جرمنی کے ایڈولف ہٹلر نے انہیں دنیا کے قدیم ترین آریائی تسلیم کیا تھا، یہی نہیں بلکہ اس نے افغانوں کو اپنا عکس بھی قرار دیا تھا۔ افغان اس قدر متکبر ہیں کہ زمینی حقائق کو ذرا برابر بھی خاطر میں نہیں لاتے۔ ایک طرف یہودیت سے جڑتے ہیں اور دوسری طرف ہٹلر کے شیدائی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ افغان دونوں ہی روایتوں کو دل و جان سے قبول کرتے ہیں بلکہ اس پر ڈینگیں بھی مارتے ہیں۔ اگر کوئی ان کی توجہ دونوں انتہاؤں کے بیچ تضاد کی خلیج کی طرف دلائے تو فٹ کہتے کہ، وہ بنی اسرائیل کے یہودی قبیل سے تعلق رکھتے ہیں اور اس میں کوئی دو رائے نہیں۔۔۔ ہوا یہ کہ جب افغانستان پہنچے انہوں نے یہودیت ترک کر دی اور بجائے آریائی نسل کی بنیاد رکھی۔ یہ تضاد کوئی کس قدر سہے؟
افغان مردوں کا لباس بھی دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ صرف چند ہی تھے جو معدودے پڑھ لکھ گئے، ان میں سے بعض اب کار سرکار سنبھالے ہوئے تھے۔ یہ نور محمد کی طرح مغربی لباس پہنتے تھے۔ فر سے بنے اوورکوٹ استعمال کرتے اور سر پر قرقلی ٹکائے رکھتے۔ قرقلی ترکی ٹوپی کی شکل ہوتی ہے جس کے وسط میں کالا پھندنا نکلا ہوتا تھا۔ ان کے علاوہ پورے ملک کے مرد ایک ہی طرح کا قومی لباس پہنا کرتے۔ پاؤں میں سائی سے بنائی کھیڑیاں، ڈھیلی شلواریں اور لمبی قمیص جس کے دامن کمر سے کھل جاتے اور پیدل چلتے ہوئے دائیں بائیں ہوا میں پھڑپھڑاتے رہتے۔ قمیص کے اوپر رنگ برنگی واسکٹیں اور سر پر پگڑی باندھتے تھے یا پھر چوڑی دار پکول پہنتے جو اکثر میلی کچیلی ہی رہا کرتی ہے۔ پگڑی کا ایک سرا شانے پر ڈھلکا کر رکھتے ہیں جو راہ چلتے منہ لپیٹنے اور پسینہ صاف کرنے کے صافے کا کام دیتا رہتا۔ عام مرد اگر کوہستانی ہیں تو ہمیشہ رائفل ہمراہ رکھتے، کندھے پر پٹے سے لٹکاتے اور کمر کے پر کارتوسوں کا پٹہ باندھے پھرتے۔ میرے خیال میں کابل دنیا کا واحد دارالحکومت ہو گا جس کی گلیوں میں اتنی بڑی تعداد میں لوگ کھلے عام آتشیں اسلحہ اٹھائے آزاد گھومتے پھرتے ہیں۔ قبائلی تو رائفلوں کے ساتھ اکثر خنجر اور چاقو بھی رکھتے۔ مختصر یہ کہ افغانستان میں اگر کوئی تہذیب کی رمق باقی تھی، وہ انہی چند پڑھے لکھوں اور سرکاری کارندوں کے سبب زندہ تھی جو سر پر قرقلی پہنا کرتے تھے۔ یہ بھی کیا تھے، بس ان کے دم سے تہذیب آخری سانسوں کے دم پر تھی۔ یہ دو انتہائیں تھیں، ان میں بھی تضاد ہی تضاد تھا۔
اسی طرح کابل میں نیا وارد ہوا تو نوٹ کیا کہ بازار میں کئی کوہستانی مرد نظر آتے ہیں۔ آتش مزاج، آنکھوں میں آگ کی بلوریں، گھنی مونچھیں اور تار جیسی داڑھی، عین ممکن تھا کہ کبھی نہ کبھی کسی جھگڑے اور تو تو میں میں کے نتیجے میں کوئی قتل کر چکے ہوں۔ ایسوں کے ہمراہ اکثر نسوانی شباہت اور خصوصیات کے حامل نوجوان لڑکے گھومتے، پھرتے دیکھے جاتے۔ کوہستانی خود تو قوی، بلند قامت اور سخت جان، مردانگی سے سینہ چوڑا کیے پھرتے مگر ان ہم راہی ہلکی لالی، آنکھوں میں سرمہ ڈال، کانوں میں پھول اور ہاتھ میں رومال اٹھائے ناز و ادا دکھاتے ساتھی کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے سڑک پر خراماں آتے جاتے رہتے۔
مجھے یہ مناظر دیکھ کر خاصی حیرت ہوتی مگر کابل کی گلیوں پر سرسری نگاہ دوڑائیں تو اس کی وجہ ایک دم سمجھ میں آ جاتی ہے۔ ہوتا یہ تھا کہ کابل بازار میں کہیں کوئی عورت نظر نہیں آتی تھی۔ مجھے اس ملک میں اب قریباً تین مہینے ہو چلے تھے مگر میں نے اس دوران بازار میں کوئی ایک عورت بھی نہیں دیکھی تھی۔ بازار تو رہا ایک طرف، میں کئی اہم لوگوں کے گھروں پر مدعو رہا، دعوتیں اڑائیں اور ذاتی محافل میں شرکت کی مگر عورت ندارد۔۔۔ غیر مردوں کی عورتوں کے ساتھ میل جول پر پابندی تھی۔ یہی وہ غیر معمولی بات تھی جس کے سبب کابل کے بازاروں میں مردوں کا ایسا طور نظر آتا تھا۔ ہوا یوں کہ افغانوں نے عورتوں کو عام زندگی سے چھپا تو لیا مگر تب جا کر ادراک ہوا کہ در اصل وجود زن، رنگ کائنات کسی بھی معاشرے کے لیے نہایت اہم ہے۔ بھلا انہوں نے اس مشکل کا حل کیا نکالا؟ یہ کام بھی مردوں کے ذمے لگا دیا۔ میں نے ان دنوں کابل کی سرد جمی ہوئی گلیوں میں ادائیں دکھاتے پھرتے لچکیلے نوجوانوں کی اتنی ہی تعداد دیکھی جتنی کہ میں مثال کے طور پر پیرس کی سڑکوں پر عورتوں کی تعداد کی توقع رکھ سکتا تھا۔
بلاشبہ میرا یہ کہنا کہ یہاں عورتیں سرے سے باہر ہی نہیں نکلا کرتیں، مبالغہ آرائی ہو گی۔ تانگہ قلعہ نما گھروں کی اونچی دیواروں کے نیچے سے گزر رہا تھا۔ ان قلعوں کے دروازوں پر بھی ہر وقت پہرے ہوتے ہیں۔۔۔ میرے آس پاس سر تا پا موٹے کپڑے میں لپٹے ہیولے نظر آ رہے ہیں۔یہ مشتبہ سائے در اصل عورتیں ہیں۔ افغان روایت کے مطابق عورتیں غیر جگہوں پر، غیر مردوں کے بیچ، بناء برقعہ اوڑھے نکل ہی نہیں سکتی تھیں۔ مسلمانوں میں پردے کا دینی حکم چلتا ہے مگر روایت بھی جڑ گئی تو اب وہ حالت ہو گئی ہے کہ اس طرز کے پردے، برقعے میں آنکھوں کے سامنے چھوٹی سی جالی دار کھڑکی بچ گئی ہے جس میں سے وہ تو باہر دیکھ سکتی ہیں مگر انہیں کوئی نہیں دیکھ پاتا۔ میں نے کئی پڑھے لکھے افغانوں کو اس طرح کے سر تا پا برقعے، شٹل کاک سے نالاں دیکھا۔ کئی کہتے ہیں کہ عورتوں کی صحت اور بینائی بھی متاثر ہوتی ہے مگر ان کی ہر توجیح گویا پتھر پر ٹپکتا پانی ہے۔ کیا ہے کہ لڑکی تیرہ برس کی عمر کو پہنچی نہیں اور برقعہ اوڑھا کر الگ تھلگ گوشہ گیر ہو جاتی ہے۔ پھر مرتے دم تک اس کو لپٹے سے چھٹکارا نہیں ملتا۔
مجھ سے پوچھیں تو میں جب موٹے اور اکثر مہنگے کپڑے کی تہوں میں لپٹے عورتوں کے سائے گلیوں میں چلتے پھرتے دیکھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ اک ذرہ برابر ہی سہی، اس شہر میں نظر آتی مہین سی زندگی انہی کے دم سے ہے۔ اس بوجھل فضاء میں تھوڑی ہی سہی مگر کچھ نہ کچھ کشش ضرور باقی ہے۔ انہیں دیکھ کر پراسراریت کا احساس ہوتا ہے۔ میں کسی عورت کے ہیولے کو دیکھتا ہوں تو ضرور سوچتا ہوں کہ آخر اس ریشم کے کولے اندر کس طرح کا انسان بند ہو گا؟ مجھے عورتوں سے کبھی اتنی لگن نہیں ہوئی جتنی کابل میں پہنچ کر محسوس ہوئی۔ اس سے پہلے میں شاذ و نادر ہی ان کے بارے سوچتا تھا مگر افغانستان میں مجھے یہ خیال بار بار ستاتا ہے حالانکہ میں نے ابھی تک یہاں کسی عورت کا چہرہ تک نہیں دیکھا۔
تانگہ شہر کے وسط میں پہنچا تو سورج خاصا چڑھ آیا تھا۔کوچوان نے مجھے بازار میں قلعہ نما مسجد کے سامنے ہی اتار دیا جس کے دو اونچے مینارے تھے اور دریا کنارے بہت بھلے محسوس ہو رہے تھے۔ مسجد کے دروازے پر تین ملا کھڑے تھے۔ اونچے قد، لم دھڑنگ آدمی مگر جسامتیں دبلی تھیں۔ چہرے پر لمبی داڑھیاں اور یوں محسوس ہوا جیسے آنکھوں میں شعلے لپک رہے ہیں۔میں نے فوراً ہی بھانپ لیا کہ وہ مجھے یہاں پا کر کینہ توز نظروں سے تاڑ رہے ہیں۔ شاید ایک غیر مسلم کا مسجد جیسی پاک جگہ کے اس قدر قریب آ جانا، انہیں ایک آنکھ نہیں بھایا تھا۔ میں نے جواباً دوستانہ انداز دکھایا مگر وہ بدستور بت بنے کھڑے، کھلی نفرت سے مجھ پر نظریں گاڑھے رہے۔ اچانک ایک خیال کوندا اور میں نے سوچا کہ کیا افغانستان کی اصل اور واقعی باگ دوڑ ان جیسوں کے ہاتھ میں ہے؟
ابھی میں یہی سوچ رہا تھا کہ اچانک ملاؤں میں سے ایک جو شکل و صورت سے کوہستانی معلوم ہوتا تھا، دیکھتے ہی دیکھتے ہتھے سے اکھڑ گیا۔ پشتو زبان میں کوسنے دینے لگا اور لعن ملامت کرتا ہوا سیدھا میری جانب لپکا۔ اس کی دیکھا دیکھی، دوسرے دو بھی اس کے پیچھے دوڑے۔میں خطرے کو بھانپ کر یک دم راستہ چھوڑ کر ایک طرف ہو گیا۔ تینوں آگے پیچھے دوڑتے ہوئے میری بغل سے نکل گئے تو سمجھ آئی کہ در اصل وہ میری طرف نہیں بلکہ پشت پر کسی کی ٹوہ میں تھے۔ مڑ کر کیا دیکھتا ہوں کہ مس میکس ویل سفارتخانے کی جیپ میں سوار بازار پہنچ چکی تھی۔ وہ گاڑی سے اتری، ہاتھ میں تمثیل کے تیسرے حصے کی کاپیاں اٹھائے مزے سے ننگے سر چلی آ رہی تھی۔ ملاؤں نے جب ایک عورت کو یوں بازار میں بے حجاب دیکھا تو آپے سے باہر ہو گئے۔ انہوں نے اس حرکت پر اسے روکنا، بلکہ روک کر زد و کوب کرنا ضروری سمجھا۔ تینوں ملا اس کے سر پر پہنچ گئے اور اب یہ پرواہ کیے بغیر کہ میکس ویل فرنگی ہے، سیدھا اس پر چڑھائی کر دی۔ اسے دھکا دے کر زمین پر گرا دیا اور سر پر کھڑے چلانے لگے اور گالیاں بکنے لگے۔
اس سے پہلے کہ میں آگے بڑھ کر بیچ بچاؤ کراتا، وہ تینوں اس پر بل پڑے اور تھپڑوں، مکوں کی بوچھاڑ کر دی۔ سب سے برا تو یہ ہوا کہ اس پر تھوکنے لگے اور نفرت سے دھتکارتے رہے۔ میکس ویل کے چہرے پر دہشت پھیل چکی تھی اور تھوک بہہ کر گالوں سے نیچے گر رہا تھا۔
میں ہجوم میں راستہ بناتا، دوڑا دوڑا آگے پہنچا۔ ملاؤں کو کندھے سے پکڑ کر پیچھے ہٹایا اور چیخ کر پشتو میں ٹوکا، 'بند کرو یہ واہیاتی۔۔۔ دیکھتے نہیں؟ بیوقوفو، وہ فرنگی ہے'۔
شکر تو یہ ہوا کہ میں پشتو زبان بول سکتا تھا بلکہ اسی وجہ سے میری جان بخشی ہو گئی ورنہ ملا مجھے اس حرکت پر کاٹ پھینکتے۔ وہ مجھے دیکھ کر پیچھے ہٹ گئے۔ ان کے چہرے پر حیرت کے آثار تھے کہ آخر ایک فرنگی انہی کی زبان میں کیسے بولتا ہے؟ ان کے لیے چنداں مشکل نہ تھا کہ اس وقت ہجوم کو میرے خلاف بھڑکا دیتے اور میرا کام تمام ہو جاتا۔ تبھی ایک پولیس والا ڈھیلے قدم اٹھا، سیدھا چلا آیا۔ اسے کسی بھی طرح کی جلدی نہیں تھی، شاید وہ بھی ملاؤں کے ساتھ الجھنا نہیں چاہتا تھا۔ نہایت آرام اور شائستگی سے ملاؤں کو مخاطب کر کے بولا، 'دیکھو، آرام کر رکھو۔ ہم کابل میں ہیں۔۔۔ یہ کوہستان تھوڑی ناں ہیں؟ عورت ذات ہے، اس کو جانے دو!'۔ یوں ملاؤں نے میکس ویل کی جان بخشی کی اور مسجد کے دروازے پر جا کھڑے ہوئے۔
میکس ویل اس اچانک افتاد سے سخت ہراساں، گھبرائی ہوئی تھی۔ چہرے پر دہشت کے سائے تھے مگر بہادری کا ثبوت دیا اور بالکل بھی نہیں روئی۔ میں نے اس کے چہرے سے تھوک پونچھ کر صاف کیا اور اسے پکڑ کر اٹھایا، 'انہیں بھول جاؤ۔ پاگل ہیں۔ چلو، میں تمہیں گاڑی تک چھوڑ آؤں!'۔
ایمبیسی کی گاڑی سامنے ہی کھڑی تھی۔ افغان ڈرائیور اطمینان سے دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے بے فکر کھڑا تھا۔ وہ تماشا کرتا رہا۔ اسے یقین تھا کہ بالآخر میں یا کوئی دوسرا شخص ملاؤں کو روک لے گا۔ نور محمد کی طرح اس کا بھی یہی خیال تھا کہ بہر طور، ملا فرنگیوں کو کوئی واقعی نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ اس سے کوئی گلہ نہیں تھا کیونکہ اسے اپنی جان کی بھی فکر تھی، اسے خواہ مخواہ ملاؤں سے الجھ کر اپنی گردن چھری تلے ماپنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔
وہ ٹہلتا ہوا ہمارے پاس آیا۔ 'کیا میں مس میکس ویل کو واپس سفارتخانے ہی لے جاؤں؟' اس نے پشتو میں پوچھا۔
'نہیں۔ اطالوی سفارتخانے جاؤ'، میں نےسمجھایا۔
'ملر صاحب، محتاط رہیے' اس نے خبردار کیا، 'آج کل ملا بپھرے ہوئے ہیں'۔
میں نے میکس ویل کو تسلی دی۔ اس کو بہادری پر سراہا۔ اس نے واقعی ہمت سے کام لیا تھا۔ خود کو قابو میں رکھا تھا اور خاصی جرات دکھائی تھی۔ میں نے اسے بتایا کہ شاید دنیا امریکیوں کو طبیعتاً گداز سمجھتے ہوں مگر میں کہتا ہوں کہ دنیا میکس ویل کو دیکھا کرے۔ وہ اس بات پر ہنس پڑی۔
میکس ویل چلی گئی تو میں بازار میں ہی بے مقصد گھومنے لگا۔ بازار کی گلیاں تنگ تھیں اور خاصا رش تھا۔ یہاں سب کچھ مل جاتا تھا، بلکہ ہر چیز بکنے کے لیے دستیاب تھی۔ ان میں اکثر دکانوں پر چوری کا سامان بکتا تھا جو دہلی، اصفہان اور سمرقند کے گوداموں سے نکال کر لایا جاتا تھا۔ مجھے کابل کی اس خود سری اور بے راہ روی پر عجیب سی خوشی محسوس ہوتی تھی کہ دیکھو، جدید ہندوستان، قدیم فارس اور انقلابی روس۔۔۔ تینوں ہی وسطی ایشیاء کے موروثی چوروں کو روک لگانے،انہیں کابل تک پہنچنے سے ٹوکنے میں ناکام چلے آ رہے تھے۔ یسوع مسیح کی پیدائش سے بھی پانچ سو سال پہلے جب دارا نے کابل پر دھاوا بولا تو اس بازار میں اس وقت بھی اتنا ہی رش لگا رہتا تھا اور یوں ہی ان قدیم شہروں سے چوری کا سامان یہاں بکنے آیا کرتا تھا۔ کابل، بالکل بھی نہیں بدلا۔
لیکن اب چونکہ زمانہ قیامت کی چال چل گیا تھا تو انداز بہرحال ضرور بدل گئے تھے۔ اجناس کا یہ کہ یورپی کمپنیوں کا سامان، جیسے جیلٹ کے ریزر اور جرمنی کے مشہور آلات جراحی بھی عام مل جاتے تھے۔ میں نے دیکھا کہ ایک تاجر سڑک کے کنارے نالی پر کپڑا بچھائے مہنگی ادویات جیسے پنسلین اور اسپرین وغیرہ بیچ رہا ہے۔ اس طرف ایک شخص نے تھڑے پر بمبئی کے جی-آئی وئیر ہاؤسوں سے نکال کر لائی کیمبل سوپ کے کنستر سجا رکھے ہیں۔ ایک آدمی تو خدا جانے کہاں سے مگر، امریکی موٹر کاروں کے سپارک پلگ اٹھا لایا ہے۔ حالانکہ ان دنوں کابل کی سڑکوں پر گاڑیوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہوا کرتی تھی، امریکی گاڑیاں تو اکا دکا ہی تھیں۔ الغرض ان بازاروں میں ضرورت کا سارا سامان مل جاتا اور غیر ضروری اسباب کی بھی ریل پیل تھی۔
لیکن مجھے یہ تنگ بازار نہیں بلکہ افغانوں کے چہرے بھاتے تھے۔ میں ان چہروں میں جھانکتا تو فوراً سکندر اعظم کے دور میں پہنچ جاتا جب افغانستان حیرت انگیز جگہ رہا کرتی تھی۔ شہر کابل کے باسیوں کے چہروں پر آج بھی قدیم زمانے کے ایتھنز کی ولایت نظر آتی تھی۔ یہ شہر تب بھی مشہور و معروف تھا جب دنیا انگلستان کے نام سے ابھی واقف نہیں تھی۔ امریکہ جیسا ملک تو بہت بعد میں دریافت ہوا۔ دھول سے اٹے ان چہروں میں عجب رنگ نظر آتا، ان میں جنونیت کی آگ اور پراسراریت کا دھواں بھرا تھا۔ مرد تو مرد، مرد ایک طرف رہے مگر تہہ در تہہ کپڑوں کے تھان میں لپٹی عورتوں کے ہیولے بھی تو ہیں جو ہر کسی سے آنکھیں بھی چھپائے پھرتی ہیں۔ ان سایوں میں بھی بلا کی کشش محسوس ہوتی تھی۔
میں اردگرد لوگوں کو تاڑتا، ہیولوں کی حرکات و سکنات پر نظر رکھے سوچوں میں گم تھا۔ اچانک مجھے عود کر خیال آیا کہ میرے قریب سے دو سائے، جیسے ہوا میں تیر کر گزر گئے۔ کیا بتاؤں؟ یہ دو جوان عورتیں تھیں جو عجب مٹک کر، شان سے چلی جا رہی تھیں۔ پوچھو کہ مجھے کیسے پتہ چلا؟ ان برقعوں میں جوان عورتیں ہی چھپی ہیں، مجھے نہیں پتہ۔ مجھے یہ یقین تھا کہ وہ بہت خوبصورت عورتیں ہوں گی۔ ان ہیولوں میں خواہش ہی خواہش، شوق اور طلب بھرا تھا جو مجھے اپنی طرف کھینچ رہا تھا۔ میں نہیں جانتا کہ آخر کیونکر جان گیا لیکن میرا دل کہتا تھا کہ یہ ہیولے خوش مزاج، زندہ دل اور ہنس مکھ تھے۔ ان پلوؤں تلے زندگی ہی زندگی دوڑ رہی تھی۔ میں بتا نہیں سکتا تھا مگر میں اچھی طرح جانتا تھا کہ یہ شاداب سائے خوش باش، جنسی کشش سے پُر آفتیں ہیں۔ میں کیا بتاؤں؟ جوہری کی طرح انہیں تاڑ کر ہی جان گیا کہ یہ دونوں، ان کی عمریں اور شکل و صورت جیسی بھی رہی ہو مگر اپنے اندر پراسراریت کا ایک سمندر ساتھ بہائے لے جا رہی تھیں۔
ان میں سے ایک نے پرنی جبکہ دوسری نے خاکستری رنگ کا مہنگا ریشمی برقعہ اوڑھ رکھا تھا۔ پہلی نظر میں تو ایسا محسوس ہوا جیسے وہ دونوں مجھ پر ڈورے ڈال، اپنی طرف مائل کرنے میں جڑی ہیں۔ اسی لیے، میں رفتار تیز کیے ان کے قریب پہنچا تو سرگوشی میں کہا، 'دھیان کرو لڑکیو۔۔۔ سامنے ملا دیکھتے ہیں!'۔
یہ سن کر دونوں ہکا بکا رہ گئیں اور وہیں رک گئیں۔ پیچھے مڑ کر پہلے مجھے اور پھر مسجد کے دروازے پر کھڑے تین ملاؤں کو دیکھا اور زور سے ہنس پڑیں۔ اسی طرح کھلکھلاتی ہوئی آگے بڑھ گئیں۔ ان کو پشتوں پر دیکھ کر پہلی بار میں نے اوپر سے نیچے بغور جائزہ لیا تو کیا دیکھتا ہوں، دونوں نے پیروں میں امریکی طرز کی لفٹیاں پہن رکھی ہیں۔ ہو نہ ہو، یہ وہی لفٹیاں ہیں جن کا رپورٹ میں ذکر تھا۔ انہی دونوں سے ملنے ہمارے میرین فوجی بازار میں خرمستیاں کرتے پھر رہے تھے۔ ان دونوں فوجیوں کی چال ڈھال دیکھنے لائق تھی، ابھی صبح ہی تو چھٹی ملتے ہی فوراً گیٹ کی طرف لپکے تھے۔ وہ بالضرور ادھر ہی بازار میں، کہیں آس پاس ہوں گے۔ جس طرح یہ لڑکیاں ادائیں دکھاتی میرے پاس سے گزری تھیں، میرا شک یقین میں بدل گیا۔ مجھے فوراً ہی خطرے کی شدید بو محسوس ہوئی۔ بالضرور مسجد سے باہر، وہ تینوں ملا اتنی دیر سے کھڑے انہی کا پہرہ کر رہے تھے۔ یقیناً دال میں کچھ کالا تھا، بہت ہی برا ہونے کو تھا۔
میں یہی سوچ کر لڑکیوں کے پیچھے ہو گیا۔ دل ہی دل میں نور محمد کو کوسنے لگا کہ اگر ساتھ ہوتا تو مدد مل جاتی۔ لڑکیوں کو کوئی جلدی نہیں تھی، وہ میرے آگے آگے، خراماں، خوش گپیاں لگاتی جا رہی تھیں۔ میں انہیں صاف دیکھ سکتا تھا۔ وہ دو سائے تھے جو مہنگے ریشم میں لپٹے، سروں کے بیچ چلے جا رہے تھے۔ چال ڈھال سے عمدہ گھرانے کی لگتی تھیں کیونکہ نزاکت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ ان دونوں نے لفٹیاں پہن رکھی تھیں۔ اس وقت وہ دونوں جنسی کشش کی انتہا، آفت ڈھا رہی تھیں۔ خوبصورت، پر کشش، خطرناک، ناقابل ادراک۔۔۔ وہ بازار کے بیچ یوں گزر رہی تھیں جیسے من موجی، مستی کے سمندر میں تیرتی ہوں۔ ارد گرد نظریں دوڑاتیں، تاڑتی ہوئیں نگائیں، کسی کو تلاش کر رہی تھیں۔
تنگ گلی گلیاروں میں ہوتے، ان کے پیچھے ہی پیچھے وہاں پہنچا جہاں ہر طرف قرقلیوں کی دکانیں تھیں۔ قرقلی بھی ایسی چیز ہے کہ اگر افغان پہنیں تو ان پر خوب جچتی ہے، مردانہ وجاہت کا سامان ہو جاتا ہے مگر فرنگی مضحکہ خیز لگتے ہیں۔ 'قرقلی۔۔۔ قرقلی!' مجھے دیکھ کر ایک شخص چلایا اور جب میں نے پشتو میں کہا کہ قرقلی صرف وجیہ مردوں کے ساتھ جچتی ہے تو وہ زور سے ہنس پڑا۔
میں نے دیکھا کہ لڑکیاں اب چال میں دھیمی پڑ چکی تھیں۔ بے مقصد ہی تربوز کے ٹھیلے پر کھڑی ہو جاتیں اور کبھی ادھر رک کر ہندوستانی کپڑا دیکھنے لگتیں۔ میرے خیال میں وہ مجھ سے غافل تھیں اور میں فاصلے سے ان کا پیچھے کر رہا تھا۔ سچ کہوں تو انہیں دیکھ کر، چال ڈھال اور لفٹیوں کی ٹک ٹک ہیجان خیز تھی۔ میرین فوجیوں خواہ مخواہ تو ان لڑکیوں کے سحر میں نہیں جکڑے گئے تھے۔
ایک لمحے کے لیے، جب میں سوچوں میں گم تھا، لڑکیاں نظروں سے اوجھل ہو گئیں۔ ابھی تو یہیں تھیں، میری آنکھوں کے سامنے ہی اس گلی میں مڑی تھیں جہاں دھاتی برتن بک رہے تھے۔ کانسی، سٹیل اور سلور کا سامان، کہاں گئیں؟ وہ اس گلی میں نہیں تھیں۔ پہلے ہی سر پر خطرہ منڈلا رہا تھا، اب یہ نئی افتاد آن پڑی۔ میں گھبرا گیا اور انہیں ڈھونڈتے ایک چھوٹی گلی تک آن پہنچا، جس کا دوسرا سرا بند تھا۔ یہ کپڑے والی گلی کے بیچ میں سے نکلتی ہوئی، عمارتوں کے بیچ چھوٹی سی موری تھی۔ میں اچانک اس طرف مڑا تھا اور تنگ راستے میں حیران کن طور پر وہ منظر دیکھا جس کی یاد آج بھی میرا پیچھا کرتی ہے۔
گلی کی نکڑ پر جہاں راستہ بند ہو جاتا ہے، میں نے دونوں فوجیوں کو چمچماتی وردیوں میں دیوار سے چپکے دیکھا۔ ان کی پشت میری جانب تھی جبکہ انہوں نے دونوں افغان لڑکیوں کو دیوار کے ساتھ لگا کر اپنے جسموں تلے دبا رکھا تھا۔ برقعے زمین پر پڑے تھے اور کیا دیکھتا ہوں کہ ان دو جوڑوں کے ہونٹ ایک دوسرے سے سلے ہوئے ہیں۔ لال ہونٹ۔۔۔ خاکستری برقعے والی لڑکی نے تو اپنا لباس بھی ڈھیلا کر دیا تھا اور خنک موسم میں، اتنی دور سے بھی میں اس کے ننگے شانے صاف دیکھ سکتا تھا۔ میں نے آج تک انسانوں کے بیچ اس قدر گہری نفسانی کشش، رجھاؤ اور گرمی نہیں دیکھی، جتنی ان کے بیچ، اس گلی کی خنک فضاء میں محسوس کی جا سکتی تھی۔ وہ ایک دوسرے سے یوں لپٹے تھے جیسے آپس میں گوندھ دیے گئے ہوں۔ میں نے دیکھا کہ وہ اپنے گرد و پیش سے بے نیاز ایک دوسرے میں یوں گم ہیں کہ انہیں بے پردگی اور آس پاس تیزی سے پھیلتے ہوئے خطرے کی ذرہ برابر پرواہ باقی نہیں رہی تھی۔ لڑکیوں نے تو لباس مزید کھلا چھوڑ دیا اور بدن لچکاتیں، خود کو یوں ڈھیلا چھوڑ دیا کہ فوجیوں کو ان کے سپید جسموں کو ٹٹولنے میں ذرا مشکل نہیں تھی۔ نرم اور گداز وجود، سخت ہاتھوں میں مچل رہے تھے۔
تبھی، میں نے کانی آنکھ سے دھیان باہر کی جانب بھی مبذول رکھا کیونکہ بازار کی گلیوں میں شور شرابا سنائی دے رہا تھا۔ تینوں ملا لڑکیوں کو تلاشتے، اودھم مچا رہے تھے۔ اب بس یہ کچھ ہی دیر کی بات تھی۔ وہ اسی گلی تک آن پہنچیں گے۔ عین ممکن تھا کہ وہ اس چھوٹی گلی کو نہ دیکھ سکیں، جس طرح میری نظر سے بچ گئی تھی لیکن کیا خبر، وہ سیدھا اسی طرف نکل آئیں؟ کیا پتہ نہ آئیں۔۔۔ اگر آ گئے تو پھر؟
'بیوقوفو!' میں پشتو زبان میں گلا پھاڑ کر چلایا اور ان کی طرف دوڑتے ہوئے پیچھے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، 'ابھی۔ فوراً اس طرف۔۔۔ پیچھے آؤ!'
وہ چاروں ہڑبڑا کر رہ گئے۔ میں نے لڑکیوں کو پکڑنے کی کوشش میں لپکا۔ یہ اضطراری حرکت تھی۔ شاید میں یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ برقعے کے بغیر افغان عورتیں کیسی نظر آتی ہیں؟ ان کی شکل و صورت کیسی ہوتی ہے؟ وہ کیسی دکھتی ہیں؟ شاید ان دونوں نے مجھے بھی چکر میں ڈال دیا تھا۔ لیکن جب تک میرا ہاتھ ان تک پہنچتا، وہ تب تک آنکھ کی جھپک میں ریشم لپیٹ کر پردے میں جا چکی تھیں۔ وہ ایک دفعہ پھر ہیولا بن چکی تھیں، پراسرار اور خاموش سائے سے زیادہ کچھ نہ تھیں۔ پیچھے ہٹیں اور پوچھا، 'کون ہے؟ کہاں ہے؟ کیا کہا؟ ملا؟' ان کی آواز میں خوف تھا،
'ہاں۔۔۔ ملا ہی ہیں! جلدی کرو'۔ میں نے پیچھے ہٹ کر کہا۔
اپنے تئیں میں انہیں وہاں سے حفاظت کے ساتھ نکالنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن ان جوڑوں کے ساتھ مسئلہ یہ تھا کہ وہ ایک دوسرے کی بات سمجھنے سے قاصر تھے۔ ان کے بیچ زبان آڑے آ رہی تھی اور میرے خیال میں انہوں نے پہلے سے ہی بھاگنے کا راستہ دیکھ کر رکھا تھا۔ اسی لیے، میں نے وہ بجائے میرا پیچھے کرتے، چاروں آناً فاناً گلی سے نکلے اور نشیب میں جاتے ایک دوسرے راستے کی طرف نکل کر آنکھوں سے اوجھل ہو گئے۔ یقیناً وہ تھوڑی دور جا کر بٹ گئے ہوں گے اور بالضرور تیزی سے قریب آتے ملاؤں کی پہنچ سے گلیوں میں بہت دور نکل گئے ہوں گے۔ جبکہ ملاؤں کے آتے آتے، میں وہیں ہونق بنا کھڑا، بند گلی میں پھنس کر رہ گیا۔ اب میں اپنی پشت پر غصے سے آگ بگولہ ملاؤں کو چیختے ہوئے سن سکتا تھا، جو ہجوم کو چیرتے ہوئے سیدھا اسی طرف آ رہے تھے۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کروں؟ اچانک خدا جانے کیا خیال آیا، میں نے وہیں کھڑے دیوار کی طرف منہ کر، پتلون کی زپ کھولی اور دیوار پر موتنے لگا۔
ظاہر ہے، ملا اس بات کو خوب سمجھتے تھے۔ شاید، وہ اس بند گلی میں میری موجودگی کی وجہ موتنا ہی سمجھ بیٹھے اور فوراً ہی واپس چلے گئے۔ وہ صاف جھنجھلائے ہوئے تھے اور اب گلی میں کھڑے ہجوم کے بیچ لڑکیوں کو کوس رہے تھے۔ جب ہجوم کے بیچ میں سے راستہ بناتے، گلی سے باہر نکلا تو لوگوں کے بیچ کن اکھیوں سے دیکھا کہ دو سائے گلی میں دور جا رہے تھے۔ ان میں سے ایک نے پرنی جبکہ دوسرے نے خاکستری برقعہ اوڑھ رکھا تھا۔ سرما کی یخ بستہ ہوا سے ریشمی کپڑا جو اب قدرے ڈھیلا تھا، اڑتا جا رہا تھا۔ ان دونوں کی چال میں اعتماد لوٹ آیا تھا۔ دور سے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ دونوں کوئی یونانی دیویاں ہوں۔ میری آنکھوں کے سامنے، ہجوم اور ملاؤں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر لفٹیاں نہایت اطمینان سے نکل گئیں۔ میں مردوں کے اس جھمگٹے میں جنس کی پراسراریت میں کھویا، ہیجان اور طلب کی حرارت کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کی لہروں میں غرق، ان سایوں کو دور جاتے دیکھتا رہا۔ میں نے خود کو بڑی مشکل سے روک رکھا تھا ورنہ جی تو چاہتا تھا کہ ان لڑکیوں کے پیچھے دیوانوں کی طرح دوڑ لگا دوں۔۔۔ دوڑا جاؤں اور ان دونوں کو شانوں سے پکڑ کر پشتو میں چیخ کر بتاؤں کہ مجھے ان سے کس قدر دلربائی ہو چکی ہے۔ ان پری شانوں کو سختی سے بھینچ لوں اور کہوں کہ میرین فوجی تو چلے گئے، انہوں نے چلے ہی جانا ہے مگر میں تو یہیں ہوں۔ وہ مجھ سے لپٹیں، مجھے چومیں، میرے ساتھ پیار کریں، مجھے پھانس لیں۔ اگر چاہیں تو میں ابھی اسی وقت، اس گندی گلی میں جہاں مرد صرف موتنے کے لیے گھسا کرتے ہیں، جہاں ہجوم جمع ہے اور ملا بھی کھڑے ہیں۔۔۔ میں ان کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوں۔
جہاں تک میرین فوجیوں کا تعلق تھا، ان کا افغانستان سے نکالا جانا لازم ٹھہرے گا۔ انہیں جانا ہی پڑے گا۔ میں ملال اور دلگیری سے لڑکیوں کو گم ہوتے دیکھتا رہا اور چاہتے ہوئے بھی کچھ نہ کر سکا۔ اس کے ساتھ مجھے اپنی کمینگی پر بھی شرم آئی کہ دل ہی دل میں میرین فوجیوں کے چلے جانے، ملک بدری پر عجیب خوشی محسوس کر رہا تھا۔ میں نے ان خیالات کو جھٹکا اور تانگہ تلاشنے لگا۔ ابھی میں دیکھ رہا تھا کہ داہنی جانب سے ایک تانگے پر نور محمد آتا دکھائی دیا جو میرا پیچھا کرتے یہاں تک آن پہنچا تھا۔ وہ سارا وقت فاصلے سے مجھ پر نظر رکھے ہوئے تھا اور اگر ضرورت پڑتی تو مدد کو کود پڑتا۔
'کوئی مسئلہ ہے؟' اس نے ملاؤں کی طرف مڑ کر کے نہایت خوش اخلاقی سے پوچھا، جو اب جمع ہونے والے ہجوم کے وسط میں کھڑے بلند آواز میں تقریر کر رہے تھے۔ کوسنے دے رہے تھے۔
'بچت ہو گئی!' میں نے اسے بتایا، 'کہو تو معجزہ ہوا ہے'۔
میں اچھل کر تانگے پر بیٹھ گیا اور ہم نے واپس سفارتخانے کی راہ لی۔ تانگہ کابل کی کچی گلیوں میں، خنکی سے کیچڑ بنی مٹی پر ٹکا ٹک کرتا چلا جا رہا تھا۔ میں نے دیکھا کہ راستے میں جا بجا گڑھے ہیں اور پہیے ان میں اچھل رہے ہیں۔ انہی گلیوں میں ایک جانب نکاسی کی نالیاں جبکہ دوسری طرف پینے کے پانی کی سپلائی جا رہی ہے۔ کابل میں پائپ لائن کا کوئی تصور نہیں تھا اور پانی نالے کی صورت بہہ رہا تھا جیسے آب پاشی کے کھالے ہوا کرتے ہیں۔ میں نے دیکھا کہ ان کھالوں میں لوگوں موتتے بھی ہیں، فضلہ اور مردہ جانوروں کی باقیات بھی بہتی ہیں۔ لوگ اسی پانی میں نہاتے ہیں اور بچوں کی پشت بھی صاف کرتے ہیں۔ کپڑے بھی اسی کھالے میں دھوئے جاتے ہیں اور برتن بھی یہیں دھل کر، پھر یہی پانی بھر کر کھانے پکانے اور پینے کے لیے لے جایا جاتا ہے۔ یہ پانی ہم سب استعمال کرتے ہیں۔ امریکی اور یورپی سفارتخانوں میں بھی یہی پانی پیا جاتا ہے۔ یہ سوچ کر مجھے جھرجھری آ گئی۔
میں نے راستے میں دیکھا کہ ایک بچہ کھالے کے کنارے بیٹھا، بے نیاز رفع حاجت کر رہا ہے۔ اس سے زیادہ دور نہیں، بس دس قدم کے فاصلے پر ایک قصائی بےفکری سے اسی کھالے کے پانی سے گوشت دھونے میں مصروف تھا۔ کیا خبر، آج رات یہی گوشت فرانسیسی سفارتخانے میں تل کر سفیر صاحب کو کھلایا جائے؟
'اس طرح کی حرکتیں شرمندگی کا باعث ہیں۔ مجھ سے پوچھیں تو پوری قوم کے لیے شرمندگی کا مقام ہے!' نور محمد نے تلخی سے کہا۔
'کیا تم ان لڑکیوں کو جانتے ہو؟ میرا مطلب، انہیں؟ لفٹیوں کو؟'
'میں نے اڑتی ہوئی افواہ سنی ہے کہ ان میں سے ایک لڑکی شاہ خان کی نواسی ہے!'
'شاہ خان کو اس معاملے کی خبر ہے؟'
'امریکی سفارتخانے سے احتجاج، اسی نے تو کیا تھا!'
'کیا اس کی نواسی خوب صورت ہے؟'
'کہتے ہیں کہ پری ہے!' نور نے جواب دیا، 'لیکن کسی نے آج تک اسے نہیں دیکھا۔ کم از کم میں یا میرے جاننے والوں میں سے کسی نے نہیں دیکھا'۔
'کیا یہ سچ ہے کہ شاہ خان برقعے کے سخت خلاف ہے؟' میں نے اس شخص کی ٹوہ لگانی شروع کر دی جس سے کچھ دیر بعد میری ملاقات طے تھی۔
'بالکل، وہ سخت خلاف ہے۔ اسی وجہ سے تو پچھلے برس رمضان کے مہینے میں ملاؤں نے اس پر قاتلانہ حملہ بھی کیا تھا'۔
'مجھے چار بجے شاہ خان کے یہاں لازمی پہنچنا ہے' نور محمد کو یاد دلایا تو اس نے کہا کہ وہ پہلے سے تیار ہے، جیپ بھی تیار ہو گی۔ میں تانگے سے اتر کر سیدھا مورگن کو رپورٹ دینے چلا گیا۔ اسی وقت دونوں میرین فوجیوں کے لیے شام سے پہلے کابل سے نکل جانے کے انتظامات کر دیے گئے۔ ان دونوں کو کھلے ٹرک میں سوار، گھاٹیوں اور درے سے گزرتے ہوئے پشاور پہنچنا ہو گا۔ پشاور درہ خیبر کے اس پار، ہندوستان کی سرحد پر واقع آخری بڑا شہر تھا۔ کئی برس بعد یہ دونوں میرین فوجی جب بڑھاپے کی دہلیز پر ہوں گے، اپنے گھروں میں نرم گرم بستروں میں دبکے، افغانستان میں گزارے وقت کو یاد کیا کریں گے۔ بچوں کو قصے سنائیں گے۔ یہی قصے سن کر آنے والے دنوں میں ہزاروں نوجوانوں کے دل میں بھی دور دراز، اجنبی جگہوں پر جانا، نئی دریافتیں کرنا اور ملک کی خدمت کا شوق پیدا ہو گا۔ ایک دن وہ بھی آرام اور سکون ترک کیے، سر دھڑ کی بازی لگا کر یہاں آنا چاہیں گے۔ اپنی یاد بنائیں گے۔

کارواں (افغانستان کا ناول) - دوسری قسط (لنک) یہاں ملاحظہ کریں -
-معلومات اور تبصرے کے لیے سائیڈ بار میں رابطہ فارم استعمال کریں۔ شکریہ-

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر