کارواں - چھٹی قسط


ہم صبح طلوع ہوتے ہی غزنی سے روانہ ہو گئے۔ جب شہر سے نکل کر میدان میں پہنچے تو دیکھا کہ کھونٹی اور چبوترہ دونوں ہی ہٹا دیے گئے تھے کیونکہ افغانستان میں لکڑی انتہائی قیمتی تھی۔ دوسری جانب، لاش بھی موقع سے اٹھا لی گئی تھی لیکن پتھر بدستور وہیں بکھرے ہوئے تھے ۔ میں نے سوچا کہ افغانستان میں پتھر عام ہیں اور ویسے بھی انہیں پڑا ہی رہنے دیا جائے کیونکہ غالباً اگلی بار جب سنگساری کی نوبت آئے گی تو ہجوم کو زیادہ کشٹ بھی نہیں اٹھانا پڑے گا۔
سفر پر روانہ ہوئے ابھی صرف آدھا گھنٹہ ہی گزرا تھا کہ میں نے افغانستان سے متعلق ایک انتہائی اہم چیز نوٹ کر لی۔ اس ملک بارے جتنی بھی کتابیں زیر مطالعہ رہیں،ان میں سے کسی بھی جگہ اس کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ لیکن محسوس ہوا کہ در اصل یہ اس قدر اہم اور بنیادی حقیقت تھی، جس کا اگر ادراک نہ ہوا تو سمجھو اس ملک کو سمجھنے سے قاصر رہے۔ میری مراد افغانستان کی اس شاہراہ پر واقع کئی پل ہیں۔
پہلے پل پر پہنچے تو میں اس کی اہمیت کا صحیح طور اندازہ نہیں لگا پایا۔ بلاشبہ یہ ایک خوبصورت پل تھا۔ غالباً اس صدی کے اوئل تعمیر کیا گیا اور اس کا ڈیزائن کسی عام شخص کے ہاتھوں نہیں بلکہ ماہر انجنئیر کی کاریگری تھا، یعنی مہارت کا نمونہ تھا۔ پتھر کاری نہایت عمدہ تھی اور دونوں اطراف میں چار مورچہ دار مینارے تو بہت ہی بھلے لگتے تھے۔ اس پل کے ساتھ المیہ یہ تھا کہ بدقسمتی سے سیلاب کی وجہ سے دونوں اطراف میں شاہراہ کے سرے بہہ گئے تھے اور اب یہ کٹ کر دریا کے بیچ میں صرف ایک بے کار پشتہ بن کر رہ گیا تھا۔ اس کا کوئی مصرف نہیں تھا، دریا پار کرنے کے لیے ہمیں گاڑی سڑک سے اتار کر گہری خندق میں اتارنی پڑی اور کم گہرے پانی میں اونچے نیچے راستوں میں ہچکولے کھا دوسری جانب پھر سڑک پر چڑھنا پڑا۔ ظاہر ہےجب ٹریفک زیادہ ہو تو سڑک جام ہو جاتی ہو گی اور سیلاب کے دوران تو دوسری جانب نکلنا تقریباً ناممکن رہا کرتا ہو گا۔ اس ساری کوفت اور بے کاری کے باوجود مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں اس پل کی خوبصورتی کو سراہے بنا نہیں رہ سکا تھا۔
آدھے گھنٹے کی مسافت کے بعد ایک دوسری ندی پر پہلے سے بھی کہیں زیادہ خوبصورت پل کی دہلیز پر پہنچ گئے۔ اس پل کے آٹھ مینارے تھے اور یہ دیکھنے میں قوی، مضبوط کاٹھ کے معلوم ہوتے تھے۔ اس طرح کی گاتھی تعمیرات عام طور پر فرانس یا جرمنی کے قصبات میں عام مل جاتی ہیں۔ یہ ایک نہایت شاندار تعمیر تھی، مجھے اس کا بغور مشاہدہ کرنے کے کے لیے کافی وقت مل گیا کیونکہ اس کے بھی دونوں اطراف میں راستہ سیلاب میں بہہ گیا تھا اور ہم دریا کی گزرگاہ میں ہچکولے کھاتے چیونٹی کی رفتار سے رواں دواں تھے۔ اس پل کے نیچے سے گزرے تو اچھی طرح معائنے کا پورا موقع مل گیا۔
یہاں بھی پتھر کاری مثالی تھی، مختلٖف حصوں کے جوڑ دیکھ کر حیرانگی ہوئی کیونکہ پتھروں کے بیچ درزوں کا بالکل پتہ نہ چلتا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے ڈیزائن کرنے والے انجنئیر نے پتھر کاٹنے والی آلات کا نہایت خوبی سے استعمال کروایا ہے۔ پتھروں کو اس طرح کاٹ کر فٹ کیا گیا تھا کہ نصف صدی گزرنے کے بعد رگڑ اور وزن کے سبب ایک دوسرے میں ضم ہوئے معلوم ہوتے تھے۔ یوں ایک کے ساتھ دوسرا پتھر جڑا، پوری تعمیر کو دلکش بنا رہا تھا۔ مثال یوں ہے کہ یہ پتھر کا ایک ہی ٹکڑا معلوم ہوتا تھا جسے پل کی شکل میں ڈھال کر آٹھ میناروں سمیت کسی نے تراش کر اس ندی پر رکھ دیا ہو۔ اس کام میں فن کاری واضح تھی اور اس تعمیر دیکھ کر تعریف نہ کرنا جمالیات کے ساتھ زیادتی ہوتی۔ لیکن جیسا پہلا، اس پل کے ساتھ بھی ہو بہو وہی مسئلہ تھا کہ غیر متوقع طور پر سیلاب نے دونوں جانب سے کٹاؤ کر کے اس خوبصورت ڈھانچے کو بے کار کر دیا تھا۔
تیسرے پل پر یہی حال دیکھا تو جھنجھلاہٹ ہونے لگی۔ نور محمد سے پوچھا، 'کیا سارے پل ایسے ہی ہیں؟'
'جی ہاں' اس نے افسردگی سے کہا،
'کیوں؟'
'ہم انہیں افغان سٹائل کہتے ہیں۔ یہ پل ناقابل استعمال ہیں'
'ارے بھئی، پلوں کے ساتھ ماجرا کیا ہوا؟'
'یہ ایک بیوقوفی کا نتیجہ ہے۔ افغانستان کسی کو نہیں بخشتا!' اس نے جان چھڑاتے ہوئے کہا یعنی وہ اس موضوع پر بات نہیں کرنا چاہتا تھا۔ میں نے بھی مزید نہیں کریدا ۔
شاہراہ پر جب اسی طرح کے ساتویں پل پر پہنچے تو ہم نے دریا کی گزر گاہ میں گاڑی اتار دی۔ لیکن پانی کی گہرائی کا اندازہ لگانے میں چوک ہوئی اور نتیجہ یہ نکلا کہ پہیے ریت اور پانی میں پھنس کر رہ گئے۔ جیپ کے اندر بھی پانی بھر گیا۔ ہم بھیگ گئے اور انجن ٹھنڈا ہو کر بند ہو گیا۔ اب ہمیں کسی ٹرکٹر ٹرالی کا انتظار تھا، جو جیپ کو باندھ کر کھینچے اور ہمیں اس مصیبت سے باہر نکالے۔ یوں ہمارے پاس اس وقت انتظار کرنے کے سوا کچھ نہیں تھا، میں نے ایک دفعہ پھر سر کے اوپر ناکارہ پل کا جائزہ لینا شروع کیا۔ غور سے دیکھا تو مجھے یہ پل باقی سبھی پلوں سے ممتاز نظر آیا۔ شاید اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ جیپ پہلی بار مکمل طور پر رک گئی تھی اور مجھے کچے پکے راستے پر دھیان دینے کی بجائے پوری توجہ سے اس پل کا معائنہ کرنے کا موقع مل گیا تھا۔ میں نے دیکھا کہ اس پل کی محرابیں طرح دار، برج کلس سے مزین اور گٹھے جبکہ پتھرکاری بے میل اور اس کا نقش اور داب انتہائی ٹھوس تھی۔
'یہ بہت ہی خوبصورت پل ہے' میرا لہجہ اعترافی تھا لیکن پھر نہ چاہتے ہوئے بھی پوچھنا ہی پڑا کہ، 'نور، یہ پل کس نے بنایا ہے؟'
'ایک جرمن انجنئیر نے ڈیزائن کیا تھا۔ یہ پل ہماری قوم کے پیش آنے والے کئی المیوں میں سے ایک ہیں'
نور محمد کے ساتھ گفتگو میں بہت لطف آتا تھا کیونکہ وہ بامحاورہ انگریزی بولتا تھا جبکہ میں پشتو میں اسی طور مشاق ہونا چاہتا تھا۔ پریکٹس کے لیے ہم نے آپس میں ایسا نباہ کر رکھا تھا کہ عام بات چیت میں، میں اس کی بولی بولتا تھا جبکہ وہ میری زبان میں جواب دیا کرتا۔ لیکن جب ہم پیچیدہ مسائل پر گفتگو کرتے تو ہم اپنی اپنی زبانوں میں ہی بات کرتے۔ ہم دونوں کے علاوہ کوئی بھی تیسرا شخص ہماری بات چیت سن کر الجھن کا شکار ہو جاتا کیونکہ ہم اکثر بیچ بات کے بولیاں بدل دیتے، یہاں تک کہ چلتے ہوئے جملوں میں بھی ردوبدل کر دیا کرتے۔ اب چونکہ ہماری جیپ ریت میں پھنس چکی تھی، گاڑی میں پانی بھرنے کی وجہ سے ہم دونوں بھیگے ہوئے تھے۔ اس لیے میں نے سخت جھلایا ہوا تھا، پشتو میں غصہ بھر کر پوچھا،
'نور! پہلیاں بجھوانے کی بجائے سیدھی طرح بتاؤ کہ ان پلوں کے ساتھ کیا معاملہ ہوا؟'
اس نے پشتو میں ہی محتاط لہجے میں جواب دیا، 'ان پلوں کے ساتھ کیا ہونا تھا، یہ ہماری ہی بدنصیبی ہے۔ میں آپ کو بتاتا ہوں۔۔۔ ہوا یوں کہ چالیس یا پینتالیس برس قبل ہم افغان تاریخ میں پہلی بار سیاہ دور سے نکلنے کے لیے تیار نظر آتے تھا۔ جرمنوں نے کہا، 'اگر افغانستان نے ترقی کرنی ہے تو اس کے لیے شاہرات انتہائی ضروری ہیں۔ یہ انتہائی نامناسب بات ہے کہ کسی ملک کے دو سب سے بڑے شہر آپس میں شاہراؤں کی مدد سے منسلک نہ ہیں اور وہ جدید دنیا کے خواب دیکھتا ہے' چنانچہ انہوں نے فٹ قرضہ منظور کیا اور ماہرین بھی روانہ کر دیے تا کہ وہ کابل اور قندھار کے بیچ ایک معیاری شاہراہ کا سروے کریں اور تعمیر میں ہماری مدد بھی کریں۔ جب اس وقت کے بادشاہ نے یہ سروے رپورٹ دیکھی تو حیران رہ گیا۔ وہ جرمنوں کے کام سے بہت متاثر ہوا کیونکہ انجنئیروں نے بڑی نفاست کے ساتھ پورا نقشہ بنا دیا تھا۔ ہر چیز کا بھرپور خیال رکھا گیا تھا اور یورپی معیار متعارف کروائے گئے تھے۔ چنانچہ فوراً ہی اس منصوبے کی منظوری دے دی گئی اور ڈھونڈورا پیٹا گیا، 'ہم بھی بہت جلد ایک جدید ملک بن جائیں گے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہماری شاہراہیں بھی جدت سے ہمکنار ہوں' پھر بادشاہ نے جرمنوں سے دریافت کیا کہ آخر اس شاہراہ پر پلوں کی تعمیر کیسے ہو گی؟ اس مقصد کے لیے انہوں نے الگ سے ایک انتہائی ماہر جرمن پروفیسر کو تعینات کر دیا جو اسی کام کا ماہر تھا۔ اس نے جرمنی میں کئی پل تعمیر کروائے تھے اور کہا جاتا تھا کہ جرمنی اور فرانس میں اس کے کام کی دھوم تھی۔ بہرحال، کام شروع ہو گیا'
نور نے توقف کیا اور سر کے اوپر پل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، 'وہ جرمن پروفیسر واقعی قابل آدمی تھا اور اپنے کام سے محبت کرتا تھا۔ جس طرح عام طور پر جرمن ہوتے ہیں۔۔۔ یہ بھی بہترین سے بہتر پر یقین رکھتا تھا۔ اسی نے تجویز دی کہ چونکہ یہ عظیم شاہراہ افغانستان کی ترقی کا نشان ہو گی، اسی لیے ہر پل دوسرے سے مختلف ہو۔ مینارے، پتھر کاری اور محرابیں۔۔۔ یکتائی ہونی چاہیے۔ اس کی بات میں وزن بھی تھا کیونکہ یہ شاہراہ دنیا بھر میں جدید افغانستان کی پہچان بننے والی تھی۔ خیر اس نے ہم سے کہا، 'ایک پل، صرف ایک پل نہیں ہوتا بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر ہوتا ہے۔ یہ اصل میں ماضی اور مستقبل کے بیچ رابطے کا نشان بھی ہوتا ہے' اس نے جو ڈیزائن بنائے، ان میں مینارے اور پتھر کاری افغان روایت اور تاریخ کے غماز تھے۔ کابل میں ایک شاندار تقریب میں اس نے پرجوش خطاب کیا اور کہا کہ اس نے پلوں کے مچان دار میناروں کا تصور اور خیال افغانستان کے قدیم خاندانی قلعوں سے اخذ کیا ہے جن کی طرز تعمیر اس منفرد وسط ایشیائی خطے کے معاشرے کی پہچان ہیں'
'لیکن مجھے تو ایسی کوئی نسبت نظر نہیں آئی۔۔۔ اس کی اس بات سے مراد کیا تھی؟' میں نے توجہ دلاتے ہوئے سمجھنے کی کوشش کی۔ نور نے دریا کے اس پار اشارہ کیا جہاں کسی شخص کا ذاتی قلعہ بند گھر کھڑا تھا۔ اس گھرکے مورچہ بند میناروں کی اس پل میں شبیہ نظر آتی تھی۔ یہ دیکھ کر مجھے پروفیسر کی بات سمجھ میں آ گئی۔
'اس نے کابل اور قندھار کے بیچ کل بیس پل تعمیر کروائے' نور محمد نے تفصیلات بتائیں۔ میں نے محسوس کیا کہ گاڑی میں آہستہ آہستہ پانی کی سطح بڑھتی جا رہی ہے۔غالباً، جیپ ریت میں دھنس رہی تھی۔ نور نے اس کی پرواہ نہیں کی اور بیان جاری رکھا، ' اس نے پورے زور و شور سے کام شروع تو کروا دیا تھا لیکن چند افغان جیسے شاہ خان اور میرے والد اس کے طریقہ کار اور سمجھ سے متفق نہیں تھے۔ ان جیسے چند لوگوں نے بارہا پروفیسر کو متنبہ کرنے کی کوشش بھی کی اور کہا، 'پروفیسر صاحب، اس طرح کے پل یورپ کے ان دریاؤں کے لیے تو موزوں ہیں جن پر پہلے ہی کئی بند بندھے ہوتے ہیں۔ لیکن کیا آپ کو کسی نے ہمارے افغان دریاؤں میں بہار کے موسم میں منہ زور طغیانی کے متعلق نہیں بتایا؟' اس پر پروفیسر کو غصہ آ گیا، غالباً اس کے علم اور انا کو ٹھیس پہنچی تھی۔ ظاہر ہے، اس نے زندگی بھر یہی کام کیا تھا۔ بڑے بڑے دریاؤں پر پل باندھے تھے، بلکہ یورپ کے چند انتہائی مشہور و معروف پل اسی کے ڈیزائن کردہ تھے۔ جب ان جناتی دریاؤں پر پلوں کو کچھ نہیں ہوا تو یہ صحرائی ندیاں انہیں کیا نقصان پہنچاتیں؟ اور ویسے بھی شاہ خان اور میرے والد کا اس ضمن میں فنی تجربہ ہی کیا تھا جو وہ خاطر میں لاتا؟'
نور نے پل کی جانب افسردگی سے دیکھا اور انگریزی میں بولا، 'یہ سب میری پیدائش سے پہلے کے واقعات ہیں ۔۔۔' پھر پشتو میں بیان جاری رکھا، 'لیکن میرے والد صاحب نے ہمیں یہ پورا قصہ تفصیل کے ساتھ سنایا تھا۔ وہ کہا کرتے تھے، 'پروفیسر نے کورا جواب دے دیا تو ہم افغان حکومت کے پاس چلے گئے اور انہیں بھی متنبہ کیا کہ یہ جرمن پل بہار کے موسم میں ہمارے دریاؤں کے آگے کھڑے نہیں رہ پائیں گے۔ لیکن وہ تو جرمن پروفیسر سے بھی زیادہ اناپرست نکلے اور ہمارا مذاق اڑانے لگے کہ، 'تم اس جرمن پروفیسر سے زیادہ سمجھدار ہو؟ بھئی وہ جرمن ہے، انجنئیر ہے۔۔۔ پروفیسر بھی ہے۔ اب کیا تم جیسے جاہل اور گنوار اس کو یہ کام سمجھاویں گے؟ اس شخص نے یورپ بھر میں سینکڑوں پل تعمیر کروائے ہیں۔ کچھ عقل کو ہاتھ مارو!' میرے والد نے انہیں جواب دیا کہ پروفیسر کی قابلیت پر کسی کو شک نہیں ہے لیکن بات یہ ہے کہ جیسے میں نے کبھی کوئی یورپی دریا نہیں دیکھا۔۔۔ اسی طرح جرمن پروفیسر نے بھی اس سے پہلے کبھی کوئی افغان دریا نہیں دیکھا۔ وہ کھری کھری سنا کر واپس چلے آئے اور معاملات کو ان پر چھوڑ دیا'۔
جیپ ریت میں دھنستی جا رہی تھی، جس سے مجھے کافی الجھن ہو رہی تھی لیکن نور محمد کو اس کی چنداں پرواہ نہیں تھی۔ وہ اب انگریزی میں بات جاری رکھے ہوئے تھا، 'میرے والد نے تو انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا لیکن شاہ خان انتہائی سیانا اور نڈر آدمی ہے۔ اس کے پاس آجکل جتنا ہے، اتنا اختیار تو نہیں تھا لیکن پھر بھی پیچھا نہیں چھوڑا۔ جرمنوں کے ساتھ متھا لڑا دیا اور کہا۔۔۔' یہاں پہنچ کر نور نے انگریزی سے پشتو میں پلٹا کھایا، 'یہ پل تمھارے لیے اتنے اہم نہیں ہوں گے جتنے ہم افغانوں کے لیے ہیں۔ تمھارے لیے تو یہ صرف پل ہیں لیکن ہمارے لیے یہ مستقبل کا نشان ہیں۔ یہ ہمارا مغربی دنیا سے تعلق اور ربط کا پہلا موقع ہے، مجھے بتاو۔۔۔ اگر یہ پل کامیاب ہو گئے تو یہ کامیابی کس کی ہے؟ یہ ہم ترقی پسندوں کی ہی تو فتح ہے۔ لیکن سوچو۔۔۔ اگر یہ ناکام ہو گئے تو ؟ میں بتائے دیتا ہوں کہ اس کے انتہائی بھیانک نتائج نکلیں گے۔ پروفیسر صاحب ۔۔۔ صد عزت و احترام، براہ مہربانی میری بات دھیان سے سنو اور جو کہتا ہوں اس پر توجہ دو۔ جن دریاؤں کو تم صرف ندی نالے سمجھ رہے ہو، جب پہاڑوں سے طغیانی کی صورت بہتے ہیں تو ان کا پاٹ دو میل تک پھیل جاتا ہے اور ان میں بڑے بڑے گھروں جتنا ملبہ بھی ریلے کا حصہ بن جاتا ہے۔ یہ راستے میں آنے والی ہر چیز کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ۔۔۔ اگر ایک دن طغیانی اور سیلاب ہو گا تو یہ بھی دیکھو گے کہ اس سے اگلے ہی روز یہ پھر سے ندی نالے بن جائیں گے۔ پروفیسر صاحب، ہمارے لیے تو آپ سادہ لیکن قابل استعمال پل تعمیر کروائیں جو سیلاب میں کھڑے بھی رہ سکیں۔ خوش نما محرابوں اور سندر میناروں کو رہنے دیں۔۔۔'
جرمن پروفیسر یہ سن کر آپے سے باہر ہو گیا۔ اسے تو یہ بھی تپ چڑھی ہوئی تھی کہ شاہ خان نے اس سے یوں بات کرنے بلکہ منہ در منہ بات کرنے کی آخر جرات کیسے کی؟ چنانچہ اس کے اصرار پر ایک اجلاس بلا لیا گیا جس میں چیدہ لوگوں نے شرکت کی۔ اس اجلاس سے پرجوش خطاب کرتے ہوئے پروفیسر نے کہا، 'میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ سبھی پلوں کے ستون ریت نہیں بلکہ پتھر کی گہرائی تک دبا کر گاڑھ دیے گئے ہیں۔ صرف افغانستان ہی نہیں بلکہ اس پورے خطے میں اس قدر مضبوط پل اس سے پہلے کبھی تعمیر ہوئے اور نہ مجھے مستقبل میں اس کا کوئی امکان نظر آتا ہے۔ شاہ خان جس طغیانی کا ذکر کرتا ہے، اس جیسے بیسیوں سیلاب بھی آ جائیں تو میں شرطیہ کہہ سکتا ہوں کہ کسی ایک پل کو ہلا بھی نہیں سکے گا۔ میں شرطیہ کہتا ہوں کہ کوئی پل اپنی جگہ سے نہیں ہلے گا' شاہ خان بھی پیچھے ہٹنے والا نہیں تھا۔ اس نے یہ سن کر ترکی بہ ترکی جواب دیا، 'پروفیسر صاحب! آپ بالکل درست فرما رہے ہیں۔ ان میں سے کوئی پل نہیں گرے گا اور میں آپ سے پوری طرح متفق ہوں، بلکہ یہ لکھ کر بھی دینے کو تیار ہوں۔ لیکن افغانستان کے دریا، افغانوں کی طرح ہیں۔ یہ کبھی دشمن پر سامنے سے وار نہیں کرتے۔ آپ کے مضبوط قلعہ نما پل انگریز فوج کی طرح ہیں۔ انگریزوں کے سپاہی ہمارے جنگجو کوہستانیوں سے دس گنا بہتر تھے، تربیت یافتہ تھے اور بہادر تھے۔ لیکن ہم افغانوں نے ان پر سامنے سے کبھی حملہ نہیں کیا کیوں کہ یہ حماقت تھی، وہ ہمیں توپ اور بارود سے چھلنی کر دیتے، اسی میدان میں زندہ گاڑھ دیتے۔ ہم نے دو بدو لڑائی کی بجائے انہیں ارد گرد سے گھیر لیا۔ وہ بھی یہی کہتے رہے کہ یہ لڑائی لڑنے کا کوئی طریقہ نہیں۔ یہ غیر مہذب اور ناشائستہ لوگوں کا شیوہ ہے لیکن بھلے وہ ہمیں کچھ بھی گردانتے ہوں، ہماری مجبوری تھی۔۔۔ اسی لیے ان کی فوجوں کو اسی طرح تباہ کر دیا۔ یہ دریا بھی آپ کے پلوں کو اسی طرح برباد کر دیں گے، کیونکہ ان دریاوں کی اپنی مجبوری ہے۔ پروفیسر صاحب، آپ کے یورپی پل، افغان دریاؤں کا مقابلہ کرنے کے ہر گز اہل نہیں ہیں۔ میں تو صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر افغان دریاؤں کو پار کرنا ہے تو پھر پل بھی افغان ہونے چاہیے'
جرمن پروفیسر اس انوکھی منطق کو بالکل خاطر میں نہیں لایا بلکہ تحقیر سے جواب دیا، 'پل صرف ایک پل ہوتا ہے۔ اس میں یورپی اور افغان کی کوڑی کہاں سے اٹھا لائے ہو؟' تس پر شاہ خان نے چلا کر کہا، 'افغانستان میں ایک پل، صرف پل نہیں ہوتا' ان دونوں میں اچھی خاصی تو تو میں میں ہو گئی، بات اتنی بڑھ گئی کہ آخر بادشاہ کو خود بیچ میں کود کر تصفیہ کروانا پڑ گیا۔ اس نے شاہ خان کو چپ رہنے کا حکم دیا۔ جرمن سفیر نے بھی اپنا لچ تلا اور کہا کہ اصل میں شاہ خان نے فرانس میں تعلیم حاصل کی ہے اس لیے جذباتی واقع ہوا ہے۔
قصہ مختصر، پل اسی طرح تعمیر کر لیے گئے جس طرح جرمن پروفیسر نے چاہا تھا۔ اس برس بہار کے موسم میں شانتی رہی اور طغیانی نہیں آئی۔ یوں قریباً اٹھارہ ماہ تک ہم نے کابل اور قندھار کے بیچ شاندار سڑک سے پورا فائدہ اٹھایا اور عام تاثر یہی بن گیا کہ اب افغانستان باقی دنیا کے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہے۔ پھر اسی برس سرما کا موسم آیا تو پہاڑوں پر خوب برفباری ہوئی اور بہار کا موسم چڑھتے ہی گرمی بھی گھر کر فوراً ہی آ گئی۔۔۔۔برف یکدم پگھلی تو گھاٹیوں میں طغیانی آ گئی اور اس میں گھروں جتنے بڑے بڑے پتھروں کا ملبہ اور اونچے برگد بہنے لگے۔ جب یہ ریلا پلوں تک پہنچا تو جرمن کی بات سچی ثابت ہوئی۔ اس کے پل مضبوطی سے کھڑے رہے اور کوئی پل بھی اپنی جگہ سے نہیں ہلا۔ اس کی پیشنگوئی صحیح ثابت ہوئی لیکن سیلابی پانی اور ملبہ اتنا زیادہ تھا کہ پلوں کے نیچے سے گزرنا محال تھا، چنانچہ ندیوں نے رخ بدلا اور پلوں کو ارد گرد سے جا لیا۔ ایک نہیں، دو نہیں بلکہ بیس کے بیس پلوں کے ساتھ یہی ہوا، اس پر چڑھنے والا راستہ دونوں اطراف سے بہہ گیا اور یہ وہیں بیچ میں ڈھانچے کھڑے کے کھڑے رہ گئے'۔
'تو اردگرد راستہ دوبارہ بھی تو تعمیر کیا جا سکتا ہے؟'
'ہم نے ایسا ہی کیا!' نور نے جواب دیا، 'راستے بنائے گئے لیکن اگلے موسم میں یہ پھر بہہ گئے۔ ہم نے دوبارہ تعمیر کیا اور پھر طغیانی آ گئی۔ خزانے کے مشیر نے بادشاہ کو دو سال کے تجربے کی بنیاد پر تخمینہ لگا کر بتایا کہ اگر ہم ان پلوں کو قابل استعمال رکھنا چاہیں تو سال کے بارہ مہینے تقریباً ایک لاکھ مزدور کام میں جتائے رکھیں تو ہی یہ ممکن ہے۔ تیسری بار جب طغیانی آئی تو حکومت کی ہمت جواب دے گئی۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ لعنت بھیجو۔۔۔ ویسے بھی پلوں کی ضرورت ہی کیا ہے؟ یوں جدید دنیا کے ساتھ قدم بہ قدم چلنے کا جو خواب دیکھا گیا تھا، وہ چکنا چور ہو گیا۔ وہ پل جنھیں ہماری قوم کو یکجا کرنے کی علامت بننا تھا، آخر میں انسانوں کی نادانی اور حماقت کا نشان بن کر رہ گئے'
'پروفیسر نے اس پر کیا کہا؟ اس کے ساتھ کیا ہوا؟' میں نے متجسس ہو کر پوچھا،
'جب پہلی بار سیلاب آیا تو اس نے کابل سے قندھار تک سفر کیا۔ اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا۔ اس نے چلاتے ہوئے کہا، 'میں نے یورپ کے بڑے دریاؤں پر سو کے لگ بھگ عظیم و الشان پل ڈیزائن کر کے تعمیر کروائے ہیں' وہ ایک ندی کے بیچ، ٹخنوں تک پانی میں ہکا بکا کھڑا دیکھتا رہا اور سر پٹخنے لگا، 'اس جوہڑ جیسے نالے میں یہ پل کیونکر بہہ سکتے ہیں؟' جب دوسری بار طغیانی آئی تو سیلاب میں بھاری پتھر اور برگ کا ملبہ دیکھ کر بھی اسے یقین نہ آیا'
'لیکن اس کے ساتھ ہوا کیا؟ کیا اس نے ملک چھوڑ دیا؟'
'نہیں، وہ کابل واپس چلا گیا اور کافی عرصے تک جہاں موقع ملتا۔۔۔ یہی رٹ لگائے رکھی کہ دیکھو، پل تو اپنی جگہ کھڑے ہیں۔ جلد ہی لوگ روز روز کی اس جھک جھک سے تنگ آ گئے۔ وہ انگریز کیا کہتے ہیں۔۔۔ کہو تو، جرمن سٹھیا گیا تھا۔ وہ موقع محل بھی نہ دیکھتا، جا بے جا ان پلوں کے ساتھ پیش آنے والے معاملے پر وضاحتیں دیتا رہتا۔ آخر کار بات اتنی بڑھی کہ ایک دن جرمن سفارتخانے نے اسے طلب کر لیا۔ انہوں نے اس سے کیا کہا؟ یہ تو معلوم نہیں لیکن اگلی صبح پتہ چلا کہ پروفیسر نے پچھلی رات خود کو گولی مار کر خود کشی کر لی'۔
نور کچھ دیر تک تاسف سے سر ہلاتا رہا۔ دور دور تک کوئی ٹریکٹر ٹرالی بھی نظر میں نہیں آ رہی تھی جو ہمیں کھینچ کر باہر نکال سکے۔ پھر اس نے کہا، 'ملر صاحب، آپ اندازہ نہیں لگا سکتے کہ ہمارے لیے یہ پل کس طرح کا المیہ بن چکے ہیں۔ افغان حکومت جب بھی کوئی جدید منصوبہ متعارف کروانا چاہتی ہے تو ملا اور کوہستانی قبائلی مل کر ہم پر پھبتیاں کستے ہیں اور طعنے دیتے ہیں کہ، 'ارے، وہ جرمن پل بھول گئے کیا؟' آپ ایک امریکی ہیں اور یقیناً جرمنوں کو پسند نہیں کرتے ہوں گے کیونکہ ان سے دو جنگیں لڑ چکے ہیں مگر افغانستان میں جرمنوں کی بہت خدمات ہیں۔ یہاں لوگ انہیں بہت پسند کرتے آئے ہیں۔ ہمارے ملک میں آج رتی بھر ہی سہی مگر جو کچھ بھی تھوڑی بہت ترقی ہے، اس میں جرمنوں کا بڑا ہاتھ ہے۔ انگریزوں پر تو خیر لوگوں کو کبھی اعتبار نہیں رہا لیکن اب افغان جرمنوں کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ان کی ساکھ کٹ کر آدھی رہ گئی ہے۔ خدا ان پلوں کو غارت کرے۔۔۔' وہ اس قدر جھلا گیا کہ باقاعدہ بد دعائیں دینے لگا اور پھر پوچھا، 'ویسے، آپ بھی تو قندھار میں ایک جرمن ڈاکٹر سے ملاقات کا ارادہ رکھتے ہیں، نہیں؟'
'تمھیں کیسے پتہ چلا؟' میں نے بے ساختہ پوچھا تو مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ میں نے دل ہی دل میں خود کو کوسا کیونکہ گاڑی کے ریت میں پھنس جانے کی وجہ سے میں خاصی الجھن محسوس کر رہا تھا۔ نور بھی اپنے سوال پر پشیمان تھا، کھسیانا ہو کر بولا، 'بس مجھے پتہ ہے'
کابل میں افغان حکومت اور امریکی سفارتخانے کے تعلقات میں یہ قاعدہ عام تھا کہ دونوں اطراف کسی بھی صورت ایک دوسرے کو جاسوسی کے زمرے میں شرمندہ نہیں کریں گے۔ وہ افغان حکومت کا جاسوس نور محمد ہو یا امریکیوں کا رچرڈسن، ہر گز خجل نہیں کریں گے۔ یہ درست تھا کہ نور محمد کی زبان پھسل گئی تھی کہ اسے قندھار میں میرے معاملات جیسے ڈاکٹر اوٹو شواٹز سے ملاقات کی پوری خبر تھی۔ اسے اپنا منہ بند رکھنا چاہیے تھا۔ لیکن اگر اس سے غلطی ہو ہی گئی تھی تو میرے لیے قطعاً مناسب نہیں تھا کہ اس سے مزید پوچھ تاچھ کرتا۔ میں نے ایک اچھے دوست اور قابل آدمی کو شرمندہ کر دیا تھا۔ مجھے اس بات کا سخت افسوس تھا۔
اس نے بہرحال معاملات کو سنبھال لیا۔ کہنے لگا، 'اگر ہم اس دریا سے نکل گئے تو پھر یہاں سے چند میل دور ہی آپ وہ پل دیکھیں گے جو میرے ابا اور شاہ خان نے مل کر تعمیر کروایا تھا۔ اسے دیکھ کر آپ کو ہنسی آئے گی لیکن وہ پل پچھلے تیس برس سے ثابت کھڑا ہے اور خوب استعمال ہوتا ہے'
ہم کافی دیر یہیں پھنسے رہے لیکن بالآخر دور سے ایک ٹریکٹر ٹرالی ہماری جانب آتی ہوئی دکھائی دی۔ اس پر کئی آدمی سوار تھے۔ وہ ہماری گاڑی کو ریت میں پھنسا ہوا دیکھ کر دور سے ہی شور مچانے لگے اور فوراً ہی مدد کو آن پہنچے۔ انہوں نے مضبوط رسے سے جیپ کا اگلا ایکسل ٹریکٹر سے باندھ لیا اور ہمیں فٹ دریا سے کھینچ کر باہر نکال لائے۔ ہم نے انھیں اس کام کا معاوضہ ادا کرنا چاہا لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ پھر میں نے جیب سے سگریٹ نکال کر دیے تو وہ فوراً قبول کر لیے۔ یہ مزدور پیشہ لوگ تھے جو دریا سے ریت ڈھونے کا کام کرتے تھے۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ جنوب کی طرف دریاؤں میں فی الوقت تو کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن چند ہفتوں کے اندر ہر طرف سیلاب ہو گا۔ اسی مناسبت سے تاکید کی کہ سیلاب کے دوران پورا ایک ہفتہ دریا کی گزرگاہ کو استعمال کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، اس لیے ہم احتیاط کریں'
جب ہم دوبارہ سڑک پر پہنچ گئے تو نور محمد نے سنجیدگی سے کہا، 'ملر صاحب، مدعا یہ ہے کہ آپ اس بات کو پلے سے باندھ لیں کہ اگر میں کبھی یہ کہوں کہ معاملات سے نبٹنے کا ایک افغان طریقہ ہے اور وہ طریقہ کارگر ہے تو خدارا یہ مت سمجھیے گا کہ میں ضد پر اڑا ہوں۔ یہ عین ممکن ہے کہ میرا مشاہدہ اور تجربہ درست ہو!'
'لیکن یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ۔۔۔' میں نے اسے قائل کرنے کی کوشش کی، 'اگر تمھارے ملک میں ایسے طریقے رائج ہیں جو ممکن ہے کارگر تو ہوں لیکن انھیں کوئی غیر نہ سمجھ سکتا ہو؟ یہاں تک تو درست ہے لیکن اگر اس چیز کو بہانہ بنا کر یہ ملک یوں ہی ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھا رہا تو یاد رکھو، ایک دن ایسا آئے گا کہ روسی خود آگے بڑھ کر افغانوں کا قبلہ درست کرنے کی کوشش کریں گے'
'ہم۔۔۔ مراد ہم دونوں بھی اسی جنگ میں تو مصروف ہیں، نہیں؟' نور نے اتفاق کیا، ' میں یہ سمجھتا ہوں کہ مناسب یہی ہے کہ ہم حالات کی نوبت یہاں تک پہنچنے ہی نہ دیں۔ اس سے قبل کہ روسی ہمارا قبلہ درست کرنے کا سوچیں، ہم خود ہی اپنی حالت بدل دیں'
'ہماری حکومت کی پالیسی افغانوں کی امداد پر استوار ہے' میں نے کہا،
'ملر صاحب، ایک اور بات۔۔۔ یہ انتہائی اہم ہے کہ آپ کچھ بھی طے کرنے سے قبل عقل مندی کا ثبوت دیجیے گا۔ ہم جلد ہی قندھار پہنچ جائیں گے۔ آپ خدارا نظراللہ کے بارے کوئی بھی رائے قائم کرنے میں جلدی مت کیجیے گا۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ وہ ہماری ہی طرح کا آدمی ہے اور ہمارا اپنا ہے۔ وہ ان سب معاملات کو ہم دونوں سے کہیں زیادہ بہتر انداز میں سمجھتا ہے۔ اس کے ساتھ حریفانہ روش مت رکھیے گا۔ اگر ہم نے اس جیسے آدمیوں کو برباد کرنا شروع کر دیا تو یاد رکھیں۔۔۔ افغانستان ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا'
'میں اسے برباد نہیں کرنا چاہتا، میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے۔۔۔' میں نے سرزنش کرتے ہوئے کہا، 'میں تو بس اس کی بیوی کے متعلق جاننا چاہتا ہوں۔ میرا مقصد صرف ایلن جاسپر کی خیریت کا پتہ لگانا ہے'
'میں بھی تو یہی چاہتا ہوں۔۔۔' نور نے اخلاص سے کہا اور پھر آنکھ ماری، 'لیکن۔۔۔ افغان طریقے سے!'
میں ابھی اسے اس بات کا جواب دینے کے بار سوچ ہی رہا تھا کہ اس نے جیپ اس پل کے قریب روک دی جو اس کے والد اور شاہ خان نے مل کر تعمیر کروایا تھا۔ یہ ندی بھی اس وقت دوسری ندیوں کی طرح کا ایک قدرتی نالہ تھا۔ جرمنوں اور بادشاہ نے تنگ آ کر اس پل کا کام شاہ خان اور اس کے حواریوں کے حوالے کر دیا تھا۔ یہ پل نہیں بلکہ ایک عجوبہ تھا، جیسے کوئی رولر کوسٹر ہوتا ہے۔ لکڑی کا یہ ڈھانچہ دیکھنے میں خاصا مضحکہ خیز معلوم ہوتا تھا لیکن اس کا استعمال دیکھ کر کہا جا سکتا تھا کہ اگلے سو برس بھی اس کا بال بیکا نہیں ہو گا۔ میں دل میں سوچ کر ہنس دیا کہ اگر اس پروفیسر نے باقی پل اسی طرح ڈیزائن کیے ہوتے تو یقیناً اسے جرمنی کے برانڈ نبرگ گیٹ پر لٹکا کر پھانسی دے دی جاتی۔
'اس کا راز یہ ہے کہ۔۔۔' نور نے توجہ دلائی، 'پل پر چڑھنے سے پہلے سڑک پر دونوں اطراف میں ڈھلوانیں بنا دی گئی ہیں۔ بھلا کس لیے؟'
'میں سمجھا نہیں۔۔۔ کس لیے؟'
اس نے شہادت انگلی سے جیپ کی ونڈ سکرین پر دھول کی تہہ پر پل کا نقشہ بنایا جو کچھ یوں تھا کہ سیدھی سڑک چلی آتی ہے لیکن اچانک ایک بہت گہری ڈھلوان میں بدل جاتی ہے۔ کچھ دور جا کر سڑک کی سطح اٹھنے لگتی ہے اور پھر پل کے داخلے سے جڑ جاتی ہے۔ دوسری جانب بھی پل سے اترتے ہی پہلے ڈھلوان اور پھر سیدھی سڑک بن جاتی ہے۔ پل کا احوال یہ تھا کہ بجائے سیدھا رہے، اوپر کو اٹھ جاتا ہے۔ دور سے دیکھیں تو ایسے لگتا جیسے لکڑی کی بہت بڑی محراب ہو۔ سادہ الفاظ میں کہو تو نور محمد نے گاڑی کے شیشے پر انگریزی کا حرف W بنا دیا۔ 'آپ اسے ایک افغان پل کہہ سکتے ہیں۔ یہ پل دریا کو کہتا ہے کہ 'بھئی، میں تمھیں پار کرنا چاہتا ہوں لیکن جانتا ہوں کہ تمھارا راستہ روک کر کھڑا نہ ہوں۔ تو جب بھی تمھیں راستہ درکار ہو، بجائے مجھے چھیڑو، میرے نیچے یا ارد گرد ڈھلوانوں میں سے چپ چاپ گزر جایا کرو۔ تم سیلاب کے دنوں میں مجھے نہ چھیڑو اور باقی پورا برس میں تمھیں نہیں چھیڑوں گا' ملر صاحب۔۔۔ یہ سننے میں احمقانہ بات لگتی ہے لیکن کارگر سمجھوتہ ہے'
میں نے ہچکچا کر پوچھا، 'لیکن سیلاب کے دنوں میں یہ پل تو قابل استعمال نہیں رہتا ہو گا؟'
'ظاہر ہے، سیلاب کے دنوں میں سبھی جگہوں پر دقت ہوتی ہے!' نور نے اتفاق کیا، 'لیکن اگر آپ دریا کو راستہ دیں گے تو وہ سال میں صرف چند دن سڑک بند کر دے گا۔ اس کے علاوہ تو سڑک ہر وقت کھلی رہتی ہے۔ ویسے بھی، پورا سال سڑک کسے درکار ہے؟ اچھا ہے، اس دوران پل کی درزوں کو بھی پھر سے جم کر بیٹھنے کا موقع مل جاتا ہے'
اس عجیب و غریب منطق کے جواب میں میرے پاس کئی سوالات تھے لیکن حقیقت پسندی سے دیکھتا تو بات سادہ اور صاف تھی۔ وہ دریا جنھیں جرمنوں نے سر کرنے کی کوشش کی، انہیں پار کرتے ہوئے میں نے ہچکولے کھائے اور جیپ ریت میں پھنس گئی۔ لیکن اس کائیاں افغان پل کو پار کرتے ہوئے مجھے کوئی تکلیف نہیں ہوئی بلکہ پچھلے چالیس برس سے کسی کو کوفت نہیں ہوئی۔ یہی سوچ کر میں نے چپ رہنے کا فیصلہ کیا۔
ہم دوبارہ جیپ میں سوار ہو کر سفر شروع کرنے ہی والے تھے کہ غزنی سے آنے والا ایک ٹرک ہمارے قریب سے گزرا جس میں کئی افراد سوار تھے۔ زرق برق اور رنگ برنگے لباس اور عجیب و غریب ہئیت دیکھنے لائق تھی۔ ان میں زیادہ تر نوجوان تھے جن کی لانبی زلفیں تھیں۔ ماتھے پر لٹیں اور کندھوں تک بال ہی بال جیسے قدیم زمانے کے یونانی غلام ہوا کرتے تھے۔ میں نے غور کیا تو ان کی جلد قدرے ملائم اور باقی افغانوں کے مقابلے میں قدرے کم سانولی تھی۔ ان میں ایک کچھ بڑھ کر بانکا تھا، غالباً ابھی اس کی عمر بیس سال بھی پوری نہ ہو گی۔ یہ لڑکا تو بہت ہی خوبرو تھا۔ پہلی نظر میں تو مجھے گماں ہوا کہ شاید یہ کوئی لڑکا نہیں ہے بلکہ۔۔۔ میں نے شاید اس کو کافی دیر تک تاڑتا رہا تھا، غالباً بے خبری میں کوئی اشارہ بھی کر بیٹھا تھا۔ پل پار کرتے ہوئے ٹرک کی پشت پر سوار اس لڑکے نے چلا کر مجھے پشتو میں نہایت غلیظ گالی دی، تس پر اس کے سبھی ساتھی اس ادا بے نیازی پر قہقہے لگا کر ہنسنے لگے۔ یہی نہیں بلکہ اس نے بے باکی کا مزید ثبوت دیتے ہوئے میری طرف نسوانی ادا سے بیہودہ اشارہ بھی کر دیا تو مجھ سے رہا نہ گیا۔ میں نے بھی مڑ کر اس پر منہ در منہ پشتو ہی میں انتہائی فحش جملہ کسا تو وہ حیران و پریشان رہ گیا۔ لیکن پھر وہ چاشنی سے ہنس پڑا اور ایک ادا سے سر کو جھٹک دیا، اس کی زلفیں ہوا میں اچھل کر پھر سے اڑنے لگیں۔ اس نے اسی پر بس نہیں کہ اور میری طرف خمیدہ بازو کھول کر دوبارہ وہی اشارہ کیا اور چلایا، 'میں جانتا ہوں کہ فرنگی کو کیا درکار ہے لیکن وہ تو یہ حاصل نہیں کر سکتا' ۔ اس پر ٹرک میں ایک دفعہ پھر شور مچ گیا اور سیٹیاں بجنے لگیں۔ اب تک وہ کافی دور نکل گئے تھے، اس لیے ہم نے بھی انھیں ان کی راہ قندھار کی جانب جانے دیا اور اپنی راہ لی۔
'یہ کون لوگ تھے؟' میں نے ہنستے ہوئے پوچھا،
'یہ ناچ دکھانے والا طائفہ تھا' نور نے بتایا، 'یہ سارا سال ملک بھر میں تماشا کرتے ہیں'
'لانبی زلفوں کا کیا مقصد ہے؟'
'فنکاروں کے یہاں زلفیں رکھنے کا رواج ہے۔ ان کے طور اطوار، لباس اور حالت دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ یہ کافی معیاری طائفہ ہے'
ہم ابھی قندھار کے قرب و جوار میں ہی تھے کہ راستے میں ایک آدمی کو بیچ سڑک میں سواری تلاش کرتے ہوئے دیکھا۔ وہ بیس بائیس سال کا نوجوان تھا اور دیکھنے میں کافی جاذب نظر تھا۔ اس نے روایتی افغانوں کا لباس یعنی شلوار اور قمیص زیب تن کر رکھی تھی لیکن عجیب بات یہ تھی کہ اوپر ایک بوسیدہ اوور کوٹ بھی پہن رکھا تھا جو یقیناً عورتوں کے پہننے کا تھا۔ یہ کسی زمانے میں بہت دلکش اوورکوٹ رہا ہو گا کیونکہ اس کی دامن کافی کھلے اور بھڑکیلے تھے، کمر سے تنگ تھا اور دیکھنے میں ایسا ہی لگتا تھا کہ یہ کسی یورپی عورت کے زیر استعمال رہا ہو گا۔ یقیناً پیرس سے آیا تھا، شرابی سرخ رنگ میں ابھی تک آن بان باقی تھی۔
میں نے نور سے گاڑی روک کر اس انوکھے نوجوان کو ساتھ لے جانے کا کہا تو پہلے اس کی بھنویں سکڑ گئیں لیکن وہ کچھ سوچ کر راضی ہو گیا۔ نوجوان کی خوشی دیکھنے لائق تھی، وہ فوراً اچھل کر گاڑی کی پشت میں سوار ہو گیا اور نہایت احتیاط برتتے ہوئے اس نے اوور کوٹ کو سنبھالا اور ٹائروں میں پھنس کر بیٹھ گیا۔
'کیا تم نے اس سے پہلے کبھی جیپ میں سفر کیا ہے؟' میں نے پشتو میں پوچھا،
'کبھی نہیں۔ مجھے بہت مزہ آ رہا ہے' اس کا جوش دیدنی تھا،
'قندھار جا رہے ہو؟' میں نے دریافت کیا،
'جی ہاں۔ جشن نو روز دیکھنے جا رہا ہوں'،
'اس سے پہلے کبھی قندھار گئے ہو؟'،
'نہیں!' اس نے مسکرا کر جواب دیا، 'لیکن میں نے قندھار کے بارے بہت کچھ سن رکھا ہے لیکن وہ تو سبھی نے ہی سن رکھا ہے'
'تم رہتے کہاں ہو؟'،
'بدخشار کے پہاڑوں میں۔۔۔'
'یہ جگہ کہاں ہے؟' میں نے نور سے پوچھا۔ اس نے نوجوان سے چند مزید سوالات کیے اور پھر مجھے سمجھایا کہ یہ شمال کی جانب، روس کی سرحد پر اس جگہ سے سینکڑوں میل دور واقع ہے۔
'یقیناً کوئی چھوٹی موٹی جگہ رہی ہو گی۔۔۔' میں نے انگریزی میں نور سے کہا اور نوجوان سے پشتو میں پوچھا، 'بدخشار کیسی جگہ ہے؟ عمدہ ہے؟'
'بہت ہی عمدہ!' اپنے وطن کا ذکر آنے پر اس کی باچھیں کھل گئیں۔ 'پچھلے برس فصل بہت اچھی ہوئی تھی۔ خزاں کے موسم میں تو میں نے پاوندوں کے ہاتھ تین اصیل گھوڑے بھی بیچے، وہ جنوب کی جانب نکل رہے تھے۔ میرے پاس کچھ رقم جمع ہو گئی تھی تو میں بھی انہی کے ساتھ قندھار میں بہار کا جشن دیکھنے چلا آیا'
اسے فوراً ہی اپنی غلطی کا احساس ہو گیا۔ اس طرح کی لاف زنی میں اس کی جان بھی جا سکتی تھی۔ وہ ہمیں نہیں جانتا تھا، عام طور پر اگر پتہ چل جائے کہ کسی اجنبی مسافر کے پاس رقم ہے، اسے قتل کر کے سارا مال ہتھیا لیا جاتا تھا۔ یہ صرف جنوب ہی نہیں، یقیناً بدخشار میں بھی ایسا ہی رہا کرتا ہو گا، تبھی اس کی آنکھوں میں خوف لہرانے لگا۔ وہ سہم گیا۔
'بیوقوف، اپنا منہ بند رکھا کرو!' نور اسے کاٹنے کو دوڑ پڑا، 'یہ تو تمھاری قسمت اچھی تھی کہ ہم سرکاری کارندے ہیں۔ اگر کوئی دوسرا ہوتا تو تمھیں سمجھ آتی۔۔۔'
یہ سن کر نوجوان کے دم میں سانس لوٹ آئی۔ وہ واقعی بالکل چپ ہو گیا لیکن میں نے پھر پوچھا، 'تمھیں یہ کوٹ کہاں سے ملا؟'
وہ کافی خوش مزاج آدمی تھی، اسی لیے فوراً ہی دوبارہ طوطے کی طرح ٹر ٹر بولنے لگا۔ فٹ بولا، 'یہ کوٹ میرے خاندان میں کئی برسوں سے ہے۔ میرے ابا یہ کوٹ پہن کر ایک دفعہ کابل گئے تھے۔ میں خود تو کابل شہر نہیں گیا لیکن میرے بھائی نے ہیرات دیکھ رکھا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ہیرات بھی کافی بڑا شہر ہے'
'تمھارے ابا کو یہ کوٹ کہاں سے ملا؟'
نوجوان نے اس بات کا جواب دینا مناسب نہیں سمجھا۔ وہ آئیں بائیں شائیں کرنے لگا تو نور محمد نے سر ہلا کر زور دیتے ہوئے کہا، 'اس نے یقیناً اس کوٹ کو حاصل کرنے کے لیے کسی کا خون کیا تھا۔ میں درست کہہ رہا ہوں ناں؟' اس نے کوئی جواب نہیں دیا، نور نے بات جاری رکھی، 'یقیناً کوئی اجنبی یہ کوٹ پہنے پہاڑوں میں نکل آیا ہو گا۔ تمھارے لالچی باپ سے رہا نہ گیا ہو گا۔ اس نے اجنبی کو جان سے مار کر یہ کوٹ حاصل کیا ہے۔ ہاں ؟ اب بولتے کیوں نہیں؟'
میں نے پیچھے مڑ کر نوجوان کو دیکھا جس کے چہرے پر بدستور مسکراہٹ قائم تھی۔ وہ ہشاش بشاش لگ رہا تھا، جیسے اس پر نور محمد کی بات کا سرے سے کوئی اثر ہی نہیں ہوا۔ وہ بولا، 'تم سرکاری کارندوں کو ہر بات کا علم ہوتا ہے۔ نہیں؟ بھیڑ بکریاں پالنے کا علم، لوگوں سے محصولات اینٹھنے کا علم، سڑکیں تعمیر کرنے کا علم۔۔۔ تم کیا نہیں جانتے؟ لیکن ایسا ہے کہ تم اس کوٹ کے بارے کچھ نہیں جانتے۔ کیا خیال ہے؟' میں اس پہاڑیے کی بے تکلفی پر حیران رہ گیا۔ وہ کھلکھلا کر ہنس پڑا اور دونوں بازو باندھ کر بیٹھ گیا۔ وہ نور کی پھرتی کو ٹکا کر بہت شاداں نظر آ رہا تھا۔
' صاف صاف بتاؤ۔۔۔ کس نے کس کو مارا؟' نور نے ٹوہ لگانی نہیں چھوڑی،
اس سوال پر نوجوان نے قہقہہ بلند کیا اور نور کی جانب شہادت کی انگلی نچا کر بولا، 'نہیں سرکار جی۔۔ ہر گز نہیں! یہ واحد چیز ہے جو تم کبھی نہیں جان پاؤ گے۔ اس سے پہلے کہ تم مجھ سے مزید پوچھ تاچھ کرو، بہتر یہی ہے کہ مجھے گاڑی سے اتار دو۔ میں پیدل ہی چلا جاؤں گا'
'ارے، ٹک کر بیٹھو!' نور نے اسے تسلی دی،
'اچھا ٹھیک ہے' نوجوان نے بجھ کر کہا، 'لیکن اس کوٹ کو بھول جاؤ!'
اس کے بعد اگلے چند میلوں تک گاڑی میں بالکل خاموشی رہی لیکن پھر اچانک نوجوان چہک کر اٹھ بیٹھا۔ اسے قندھار کے مینار نظر آ گئے تھے، 'وہ رہا۔۔۔ قندھار!' وہ خوشی سے چلا اٹھا۔
میں نے غور سے دیکھا لیکن مجھے کچھ نظر نہیں آیا لیکن جوں جوں آگے بڑھتے گئے، دھندلے منظر پر کسی شہر کے نقش ابھرنے لگے۔ قندھار، کابل سے بھی قدیم شہر تھا۔ افق پر شہر کی دیواریں نمودار ہوئیں تو نور محمد کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ آیا بدخشار سے وہ پہاڑیا جس نے کسی یورپی عورت کا کوٹ زیب تن کر رکھا تھا، وہ زیادہ پرجوش تھا یا امریکی سفارتخانے کا یہ اہلکار جو اپنے پہلے سفارتکاری مشن پر نکلا ہوا تھا، خوشی سے پاگل ہو رہا تھا۔
ہم نے نوجوان کو شہر کے وسط میں پہنچ کر اتار دیا۔ شہر کیا تھا، بے ڈھنگ بستی تھی جو چاروں طرف چت بکھری ہوئی تھی۔ مٹی اور گارے کی اوپر نیچے اور آگے پیچھے ان گنت دیواریں تھیں۔ ان کوٹھڑیوں کے بیچوں بیچ کچے راستے تھے جن پر اونٹ اور خچر مال برداری کا کام دے رہے تھے اور لوگ کندھے سے کندھا ملائے راہ پر آتے اور جاتے تھے۔ قندھار کو دیکھ کر یہی خیال آیا کہ شاید فارس کے شاہ دارا کا دور ابھی تک باقی ہے۔ نور نے ہمارے رہنے کا بندوبست کر لیا جو غزنی کے ہوٹل سے کئی درجے بہتر تھا لیکن یہاں کچے فرش پر فارسی قالین نہیں تھے۔ جیپ پر پہرہ بھی بٹھا دیا گیا تو میں نے اس سے کہا، 'چونکہ تم یہ جان ہی چکے ہو کہ میں ڈاکٹر شواٹز سے ملنے کا ارادہ رکھتا ہوں، کیا تم اس کا پتہ نکال دو گے؟'
'ابھی؟' نور نے پوچھا،
'ہاں۔۔۔ ابھی!' میں نے زور دے کر کہا۔ وہ چلا گیا اور کچھ دیر بعد واپس لوٹ کر آیا اور مجھے بھی ساتھ لے گیا۔ ہم دونوں تنگ گلیوں میں سے گزر کر اندرون شہر میں ایک چھوٹے سے محلے میں پہنچ گئے۔ مٹی کے ایک گھروندے کے دروازے پر بورڈ آویزاں تھا،
دکتور
-دانش گاہ میونخ-
'کیا میں یہیں انتظار کروں؟' نور نے پوچھا،
'نہیں، تم جاؤ۔ آرام کرو!' میں نے اسے رخصت کرنا چاہا،
'قندھار، کابل سے کہیں زیادہ خطرناک ہے' نور نے متنبہ کیا،
'میں اپنا خیال رکھ سکتا ہوں' میں نے سپاٹ لہجے میں اسے ٹکا سا جواب دیا۔ وہ سمجھ گیا اور واپس چلا گیا جبکہ میں ڈاکٹر سے ملنے دروازہ کھول اندر داخل ہو گیا۔
میں انتظار گاہ دیکھ کر قدرے پریشان ہو گیا۔ یہ چھوٹا سا کمرہ تھا جس کا فرش کچا اور دیواریں بوسیدہ تھیں۔ ایک بینچ اور چند پرانی کرسیاں پڑی تھیں جن پر کئی مرد براجمان تھے۔ سب مجھے گھورنے لگے۔ ان میں سے ایک نے اٹھ کر مجھے اپنی جگہ پر بٹھانا چاہا تو میں نے ٹوک دیا اور پشتو میں بولا، 'بیٹھے رہو، میں کھڑا رہ سکتا ہوں' تس پر کانسے رنگ کے سارے افغان مرد حیران رہ گئے۔ پھر ایک نے پوچھا، 'فرنگی ہو کیا؟' میں نے جواب دیا، 'امریکی!' اس کے بعدپھر کوئی بات نہ ہوئی لیکن وہ سب بدستور مجھے گھورتے رہے۔
کچھ منٹوں بعد ڈاکٹر کے کمرے کا دروازہ کھلا اور ایک شخص باہر نکلا۔ وہ مریض تھا، اس کے بعد اگلا مریض فٹ اندر پہنچ گیا اور یقیناً اس نے میرے بارے بتایا ہو گا کہ باہر فرنگی بیٹھا ہے، اسی لیے دروازہ دوبارہ کھلا اور میں نے دیکھا کہ ایک دوسرا ادھیڑ عمر شخص، جس کا قد پست تھا اور شکل سے جرمن لگتا تھا، تقریباً بھاگتا ہوا باہر نکل آیا۔ وہ بجائے مجھے اندر لے جاتا، اس نے تفتیش شروع کر دی۔
'کون ہو تم؟' اس نے شستہ انگریزی میں پوچھا۔ میں نے اپنا نام بتایا تو وہ ایک دم ہڑبڑا کر پیچھے ہٹ گیا، 'کیوں آئے ہو؟'
میں اسے بتانا چاہتا تھا کہ وہ تسلی سے مریضوں کا معائنہ کر لے ۔ میں تب تک انتظار کر لوں گا لیکن اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ پشتو میں بوچھاڑ کر دی، 'تم امریکیوں کو نہ جانے کیا مسئلہ ہے؟ خواہ مخواہ دھونس جماتے ہو۔ ہر وقت تمھیں خصوصی رعایت درکار ہوتی ہے' پھر اس نے باقی سب کو مخاطب کر کے پشتو میں کہا، 'اسے انتظار کرنا پڑے گا۔ جب تک میں تم سب کو دیکھ نہ لوں، یہ یہیں۔۔۔ باہر بیٹھا انتظار کرتا رہے گا'
میں نے بھی پشتو میں ہی جواب دیا، 'میں انتظار کر سکتا ہوں۔ ڈاکٹر صاحب، آپ تسلی سے فراغت پا لیں تو ہم بات کر لیں گے'
میری پشتو زبان سے واقفیت اور بول چال میں مہارت اسے کچھ خاص متاثر نہیں کر سکی۔ وہ دو قدم پیچھے ہٹا، مجھے گھور کر خشکی سے دیکھا اور پھر سے پوچھا، 'بھئی، تم چاہتے کیا ہو؟'
'کیا تم نے نظراللہ کی امریکی بیوی کا علاج کیا تھا؟' میں نے لگی لپٹی رکھے بغیر انگریزی میں پوچھا،
اس نے مجھے ایک دفعہ پھر گھور کر دیکھا، خود کو سنبھالا اور دفتر میں گھس گیا۔ لکڑی کا دروازہ دھماکے سے بند کیا لیکن چند لمحوں بعد فٹ دوبارہ باہر نکلا آیا اور انتظار گاہ میں کھڑے ہو کر پشتو میں زور زور سے چلا کر دہرایا، 'اسے تم سب کی طرح اپنی باری کا انتظار کرنا ہو گا۔ جب تک آخری مریض نہیں چلا جاتا، یہ انتظار کرے گا' اس نے یہ کہا اور وہ جا، پھر سے دروازہ زوردار انداز سے بند کیا اور اندر غائب ہو گیا۔
آخری مریض کے چلے جانے تک اندھیرا پھیل چکا تھا اور اب میں انتظار گاہ میں تنہا بیٹھا ہوا تھا۔ اس ڈیوڑھی نما کمرے میں روشنی کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ لکڑی کا دروازہ آہستگی سے کھلا اور اندر سے وہی جرمن، یعنی ڈاکٹر شواٹز برآمد ہوا۔ اب کی بار اس نے شائستگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا، ' اب ہم بات کر سکتے ہیں!'
اس نے مجھے دفتر میں بٹھانے کی زحمت تو نہیں کی لیکن دروازہ کھلا چھوڑ دیا تا کہ زرد بلب کی روشنی باہر آ سکے۔ میں نے پہلی بار توجہ سے اس کا جائزہ لیا۔ اس کے سر پر گنجے پن کے آثار تھے اور جرمن انداز میں ترشے ہوئے خشخاشی بال تھے۔ اس نے منہ میں سلگتا ہوا پائپ دبا رکھا تھا۔ چہرے پر پریشانی پھیلی ہوئی تھی اور اس کی حالت دیکھ کر باقاعدہ ترس آنے لگا کیونکہ وہ صاف طور پر لڑاکا نہیں تھا بلکہ اصل میں خوفزدہ تھا۔ پیشانی پر شکنیں اور آنکھیں محتاط تھیں۔ 'یہ سال بھر پہلے کی بات ہے، میں نے نظراللہ کی بیوی کا علاج کیا تھا۔ تم تسلی سے بیٹھ جاؤ!' اس نے مجھے بینچ کی بجائے بوسیدہ کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ میں اٹھ کر دوسری جگہ اور وہ کرسی کھینچ کر میرے قریب ہی آن بیٹھا۔ 'کرسی کا دھیان رکھنا، افغانستان میں لکڑی اتنی نایاب ہے کہ پوچھو مت۔۔۔ جیسے کوئی خزانہ ہو۔ تم سوچ بھی نہیں سکتے کہ مجھے دفتر کا دروازہ ڈھونڈنے میں کتنی دقت ہوئی تھی۔ شاید مجھے اسے زیادہ زور سے بند نہیں کرنا چاہیے تھا لیکن کیا کروں، تم جیسے اجنبی فرنگی آن دھمکتے ہیں تو مجھے پریشانی لاحق ہو جاتی ہے' اس نے اپنے تئیں دوستانہ ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی اور پھر فراخدلی سے پوچھا، 'کہو، میں تمھاری کیا مدد کر سکتا ہوں؟'
اس سے پہلے کہ میں بات شروع کرتا، باہر کا دروازہ کھلا اور ایک دبلا پتلا افغان اندر داخل ہوا۔ اس کے پیچھے برقعے میں لپٹی ہوئی ایک عورت تھی جو نحیف اور نادار لگ رہی تھی۔ وہ دروازے میں ہی سمٹ کر کھڑی رہی جبکہ افغان نے جھک کر مری ہوئی آواز میں تقریباً سرگوشی کے انداز میں کہا، 'میری بیوی سخت بیمار ہے'
'اچھا، اچھا!' شواٹز نے بے رخی سے کہا۔ مجھے اس کے لہجے میں سخت ناگواری محسوس ہوئی، 'یہ ڈاکٹر کے پاس آنے کا وقت ہے؟ لیکن کوئی بات نہیں۔۔۔ میں دیکھتا ہوں' یہ کہہ کر وہ بے دلی سے اٹھا اور اپنے دفتر میں چلا گیا۔ میں نے اپنی کرسی راستے ہٹا کر عورت کے لیے راستہ خالی کرنا چاہا تو وہ بجائے اندر جاتی، ڈیوڑھی میں ہی بت بنی کھڑی رہی۔ اس کی بجائے شوہر بے چینی سے دو دلی میں مبتلا ڈاکٹر کے پیچھے اندر جانے لگا تو مجھے سمجھ نہ آئی۔ شواٹز نے صورتحال کو سمجھ کر کہا، 'تم بھی اندر آ جاؤ' پھر اس نے افغان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انگریزی میں کہا، 'یہ تمھیں اپنی بیوی کے پاس یہاں باہر اکیلا چھوڑ کر نہیں جا سکتا، ہو سکتا ہے برا بھی منائے۔ تم میرے ساتھ آ جاؤ اور تماشا دیکھو!'
ہم تینوں یعنی میں، ڈاکٹر اور افغان اندر کمرے میں آن بیٹھے جبکہ بیمار عورت دروازے کی چوکھٹ میں کھڑی رہ گئی۔ 'اس سے کہو کہ بیٹھ جائے!' ڈاکٹر نے کہا تو افغان پھر باہر نکلا اور بیوی کو چوکھٹ میں ہی ٹھنڈے فرش پر بٹھا دیا اور خود واپس چلا آیا ۔ اب وہ ڈاکٹر کی بغل میں ادب سے کھڑا ہو گیا۔
اس دوران میں نے ڈاکٹر کے دفتر کا جائزہ لیا۔ یہ بھی ڈیوڑھی کی طرح معمولی کمرہ تھا جس کا فرش کچا اور دیواریں تقریباً گرنے والی تھیں۔ اس کلینک میں کسی قسم کے کوئی جراحی آلات نظر نہیں آئے، حتی کہ تشخیص کا بنیادی سامان بھی دستیاب نہیں تھا۔ صرف ایک الماری تھی جس میں گولیوں کی چند میلی شیشیاں بے ترتیبی سے دھری ہوئی تھیں اور ان پر مکھیاں بھنبھنا رہی تھیں۔ لکڑی کے ہی چند کریٹ جوڑ کر ایک میز بنا رکھی تھی، جس کے گرد دو کرسیاں اور سر کے اوپر ایک زرد بلب جھول رہا تھا۔
ڈاکٹر نے کھنکھار کر گلا صاف کیا اور افغان سے پوچھا، 'کیا مسئلہ ہے؟'
'دکتور، اس کے معدے میں درد ہے'
'بخار بھی ہے؟'
'ہاں جی!'
'زیادہ ہے؟'
'نہیں، درمیانہ ہے'
' قے بھی آتی ہے؟'
'نہیں'
'حاملہ ہے؟'
'دائی کہتی ہے کہ نہیں ہے!'
'تو کیا اس کو ماہواری آتی ہے؟'
'پتہ نہیں!'
'تو پتہ کرو!' شواٹز نے حکم دیا۔ افغان پھرتی سے باہر گیا اور پردے کے پیچھے سمٹی ہوئی بیوی سے پوچھ تاچھ کرنے لگا۔
میں نے ڈاکٹر سے پوچھا، 'کیا تم خود اس کا معائنہ نہیں کرو گے؟'
'کس کا؟ اس کی بیوی کا؟ برقعے میں؟ وہ مجھے گولی مار دے گا!'
افغان لوٹ آیا اور اس نے بتایا کہ ماہواری ٹھیک آتی ہے۔ میں نے دیکھا کہ تشخیص کا عمل کچھ اس طرح آگے بڑھا کہ افغان کو چھ دفعہ بیوی سے پوچھ تاچھ کرنی پڑی اور اپنی سمجھ کے مطابق بیمار کا جواب ڈاکٹر تک پہنچایا۔ اس دوران شواٹز نے رازداری سے کہا، 'جانتے ہو اصل مسئلہ کیا ہے؟ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ ایک مرد اپنی عورت کا ترجمان ہے۔ اس طرح تشخیص کا اصل قضیہ یہ ہے کہ اکثر شوہر یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی بیویوں کی بیماری اور علامات رسوائی کا باعث ہو سکتی ہیں۔ اسی لیے وہ اپنی مرضی سے معلومات دبا لیتا ہے، چھپاتا ہے۔ ویسے بھی، کیا فرق پڑتا ہے؟ اسے میرے نسخے پر تو شاید اعتبار ہو لیکن یہ عطار پر کبھی بھروسا نہیں کرے گا۔ یہ اپنی بیوی کے لیے کبھی دوائی نہیں خریدے گا'
'تو پھر اس عورت کا کیا ہو گا؟' میں نے بے یقینی سے پوچھا،
'ظاہر ہے، وہ مر جائے گی' شواٹز نے بے دردی سے کہا، 'ہاں۔۔۔ مر جائے گی۔ زیادہ سے زیادہ یہی ہو گا ناں کہ وقت سے پہلے مر جائے گی؟'
افغان نے بالآخر فیصلہ کیا کہ اس نے ڈاکٹر شواٹز کو ساری معلومات فراہم کر دی ہیں، اب اسے تشخیص اور نسخے کا انتظار تھا۔ 'یہ نہایت دلچسپ بات ہے!' شواٹز نے انگریزی میں کہا، 'پہلے پہل تو مجھے کچھ پتہ نہیں چلتا تھا لیکن اب یہ ہے کہ میں جوابات سے سمجھ جاتا ہوں کہ عورت کو کیا علالت ہے، ویسے بھی سہولیات کے بغیر تو یہ معلومات بھی اتنی ہی کارآمد ہیں جتنی کہ نبض دیکھنے یا بخار ماپنے جتنی ہو سکتی ہے'پھر اس نے کاغذ پر پشتو زبان میں ہی نسخہ لکھ کر دیا اور تفصیل سے سمجھا بھی دیا۔ اس نے معمولی رقم میز پر رکھ دی جسے ڈاکٹر نے بغیر کچھ کہے قبول بھی کر لیا۔ وہ چلا گیا اور دروازہ کھلا چھوڑ گیا۔ میں نے دیکھا کہ وہ بیوی کے پاس جھک کر بیٹھ گیا، اسے تسلی اور دلاسا دینے لگا۔ صاف صاف نظر آتا تھا کہ اس افغان کے چہرے پر محبت کا ٹھپا لگا ہوا ہے۔ اس کی بیوی یقیناً سخت تکلیف میں تھی، کئی گہری سانسیں لیں اور خاصی مشکل سے چوکھٹ کا سہارا پکڑ اٹھ کھڑی ہوئی اور چپ چاپ شوہر کے پیچھے باہر نکل گئی۔
'اب کہو! نظراللہ کی بیوی بارے کیا پوچھتے ہو؟' ڈاکٹر شواٹز نے بات شروع کی، 'چونکہ تم اس کی بیوی بارے دریافت کر رہے ہو، تمھارا تعلق یقیناً امریکی سفارتخانے سے ہو گا؟'
'میں سفارتخانے میں ہی کام کرتا ہوں'
'اور انہوں نے تمھیں یہاں میری جاسوسی کرنے بھیجا ہے؟'
'نہیں!' میں نے جھوٹ بولا،
'تم جھوٹ بول رہے ہو۔ مجھ سے پوچھو۔۔۔ تم اس وقت یہی سوچ رہے ہو کہ آخر شواٹز جیسا آدمی قندھار جیسی تھڑی ہوئی جگہ میں کیا کر رہا ہے؟ تم میری مخبری کرو، تمھارا خیال ہے کہ میں تمھیں بخش دوں گا؟'
اس سے قبل کہ میں اس کی بات کا جواب دیتا، وہ اپنی کرسی سے ہڑبڑا کر اٹھ کھڑا ہوا۔ تقریباً دوڑتے ہوئے باہر نکلا اور گلی کی جانب کھلنے والے دروازے کو بند کر دیا۔ جب یہ کر چکا تو وہیں انتظار گاہ میں سے ایک کرسی کھینچ کی دروازے کے سامنے الٹی رکھی اور ٹھوڑی پشت کے سہارے پر رکھ کر میری جانب مڑ کر بیٹھ گیا۔ 'جوان!' اس نے کہا، 'وہاں سے میرا پائپ اٹھا لاؤ' غالباً وہ مجھے خوفزدہ کرنا چاہتا تھا حالانکہ اس کے چہرے پر تھکن کے آثار تھے اور وہ کسی صورت بھی مجھے یہاں روک کر رکھنے کے قابل نہیں تھا۔
میں نے خاموشی سے پائپ اٹھایا اور انتظار گاہ ہی میں اس کے پاس جا بیٹھا۔ وہ پائپ سلگانے لگا تو میں نے غور سے اس کا مشاہدہ کیا۔ اس کے ہاتھوں میں کپکپاہٹ ہے لیکن اس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی تھی کہ وہ دن بھر مریضوں کے ساتھ جان کھپاتا رہا تھا، شاید وہ تھک گیا تھا۔ اس کا کٹورے جیسا سر جسامت کے لحاظ سے قدرے بڑا تھا اور گہری نیلی آنکھوں میں بدبینی اور طبیعت میں روکھا پن تھا۔ وہ دیکھنے میں سخت جان لگتا تھا لیکن عمر کے اس حصے میں پہنچ کر جسم فربہ ہو چکا تھا۔ عام جرمن مردوں کی طرح اس کا موٹاپا واضح نہیں تھا۔ مجھے اس کی لگی لپٹی رکھے بغیر بے ریائی سے بات صاف کرنے کی عادت پسند آئی تھی اور ایکدم فی البدیہہ میرے دل میں یہی خیال پیدا ہوا تھا کہ کابل میں ہمارے ساتھ بسر رکھنے اور خدمات فراہم کرنے کا اہل ہو سکتا ہے۔ وہاں اس کی بھی اچھی گزربسر ہو جاتی اور ڈھنگ کا کام بھی مل جاتا۔ میں نے غور کیا کہ یہ شخص واقعی پیش بند واقع ہوا تھا، میرے ذہن میں اب اس کے بارے وہی سوال گردش کر رہا تھا جس کی طرف اس نے کچھ دیر پہلے ہی نشاندہی کر دی تھی۔ میں اب واقعی یہ سوچ رہا تھا کہ، 'آخر شواٹز جیسا شخص قندھار جیسی تھڑی ہوئی جگہ میں کیا کر رہا ہے؟'
'نظراللہ کی بیوی نے یہاں کچھ عرصے کے لیے بسر کی تھی، شاید سال بھر کے قریب رہی تھی' اس نے بے دلی سے بتایا، 'لیکن تم اس کے بارے پوچھ تاچھ کیوں کر رہے ہو؟'
'وہ غائب ہو گئی ہے!'
'کیا؟' اس نے حیرت زدہ ہو کر پوچھا،
'ہاں۔ پچھلے تیرہ ماہ سے اس کے والدین کو اس کی کوئی خبر نہیں!' میرے لہجے میں بلا کی سنجیدگی تھی،
یہ سن کر وہ استہزائی انداز میں قہقہہ لگا کر ہنس پڑا، 'تم امریکیوں کو خدا غارت کرے۔۔۔ میرے ماں باپ کو پچھلے چار برس سے میری کوئی خبر نہیں لیکن وہ تو آج تک جرمن ایمبیسی میں دوڑے دوڑے نہیں پہنچے!'
'ایک امریکی عورت جس نے افغان سے شادی کر لی ہو؟ یہ قدرے مختلف بات ہے!' میں نے فوراً کہا،
'کوئی بھی فرنگی عورت جب کسی افغان سے شادی کرتی ہے تو اچھی طرح سوچ سمجھ کر ہی یہ فیصلہ کرتی ہے' شواٹز نے بے صبری سے کہا، 'میں نے کئی بار نظراللہ کی فرنگی بیوی کا علاج کر رکھا ہے!'
'کس مرض کا علاج؟' میں نے پوچھا،
شواٹز نے میری جانب خشک انداز میں دیکھا اور بولا، 'وہ اچھی بھلی تھی۔ خوش شکل اور خوش مزاج بھی تھی۔ وہ اپنے شوہر کے ساتھ خوش تھی۔ نظراللہ بھی بھلا آدمی تھا بلکہ وہ بھی اپنی بیوی کے ساتھ خوش تھا۔ میرے خیال میں تو نظراللہ باقی افغانوں کے مقابلے کافی سلجھا ہوا اور معقول قرار دیا جا سکتا ہے' یہ کہہ کر اس نے خود ہی بند کیا ہوا راستہ خالی کر دیا اور پوچھنے لگا، 'ملر، تمھیں بھوک تو نہیں لگی؟'
'بھوک؟ لگی تو ہے!'
'تم نان اور پلاؤ کھاتے ہو؟'
'بالکل کھاتا ہوں۔ بلکہ یہی کھاتا ہوں!'
'زبردست، چلو کھانا کھائیں۔ بھوک سے میری آنتوں میں چوہے دوڑ رہے ہیں!' پہلی بار میں نے دیکھا کہ اس کے لہجے میں ہچکچاہٹ تھی جیسے وہ کسی چیز بارے بے یقینی کا شکار تھا۔ بولا، 'ملر، کیا میں تم سے کچھ کہہ سکتا ہوں؟'
'ضرور!'
'میں نے تمھیں کھانے کی دعوت تو دے دی ہے لیکن دیکھو، میں جرمنی میں نہیں ہوں۔ وہاں میں تمھاری خوب آؤ بھگت کرتا لیکن یہاں۔۔۔ تم نے دیکھ ہی لیا ہے کہ مجھے میرے کام کے کتنے پیسے ملتے ہیں؟'
'آج رات کا کھانا میری جانب سے ہو گا!' میں نے اس کی حالت کو اچھی طرح سمجھتے ہوئے کہا،
'نہیں، میں اپنا پیٹ خود پال سکتا ہوں۔۔۔ لیکن تم فرنگی سوروں کی طرح ٹھونستے ہو!' وہ ہنسنے لگا۔
اس نے چوکیدار کو بلا لیا، جو ساتھ ہی اس مکان میں ہی انتظار گاہ کی بغل میں دوسرے کمرے سے برآمد ہوا۔ اس نے ہاتھ میں رائفل اٹھا رکھی تھی اور کمر کے ساتھ کارتوسوں کی پٹیاں اور دو خنجر باندھ رکھے تھے۔ شواٹز نے احتیاط کے ساتھ بے کار دوائیوں کی الماری کو تالہ لگایا اور پھر دروازہ کھول کر ہم دونوں باہر نکل آئے۔ چوکیدار نے ہمیں باہر نکال کر اندر سے چٹخنی لگا دی۔ شواٹز مجھے ساتھ لیے پیدل ہی کچھ فاصلے پر واقع ایک چوک میں پہنچ گیا جہاں ایک مناسب ریستوان واقع تھا۔
اس نے محتاط ہو کر پوچھا، 'تمھیں بئیر پسند ہے؟'
'کچھ خاص نہیں!' میں نے جواب دیا،
'اچھی بات ہے' اس نے گہری سانس بھر کر کہا، 'مجھے ہر مہینے چند بوتلیں مل جاتی ہیں جس کی بدولت یہ زندگی قدرے آسان محسوس ہوتی ہے۔ تم برا مت منانا لیکن میں تمھیں اپنی بئیر نہیں پلاؤں گا، تم چاہو تو نارنجی کا رس پی سکتے ہو'
'میں عام طور پر چائے پیتا ہوں'
'بس طے ہو گیا۔ تم چائے ہی پینا!' وہ بے کلی سے ہنسنے لگا۔
جب میز پر کھانا لگ گیا تو ہوٹل کا بہرہ ہوٹل کے جانے کس کونے سے ایک نیم گرم بئیر کی بوتل نکال لایا۔ اس نے پوری احتیاط کے ساتھ یہ بوتل میز پر رکھنے کی بجائے ڈاکٹر شواٹز کو تھما دی۔ ڈاکٹر شواٹز نے بھی خوب احتیاط برتتے ہوئے بوتل کا ڈھکن اتارا اور فوراً منہ لگا لیا۔ جیسے وہ اس بوتل میں سے نکلنے والی جھاگ کا ایک قطرہ بھی ضائع کرنا گوارہ نہیں کر سکتا تھا۔ پھر اس نے ایک لمبا اور گہرا گھونٹ بھرا اور بوتل کو ہاتھ میں ہی تھامے میز پر ٹکا دیا، آنکھیں بند کر کے کرسی پر دراز ہو گیا۔
'اگر میں کہہ دیتا کہ مجھے بئیر پسند ہے تو تم کیا کرتے؟' میں نے شرارت سے پوچھا،
اس نے آنکھ ماری اور بولا، 'میں کہہ دیتا کہ میں تمھیں بئیر بھی نہیں پلا سکتا کیونکہ قندھار میں ملاؤں نے اس پر پابندی لگا رکھی ہے۔ اب بجائے ہم دونوں بیٹھے چائے پی رہے ہوتے۔ ملر، میں تمھیں سمجھانے کی ہر گز کوشش نہیں کروں گا لیکن دیکھو۔۔۔ یہاں اس ملک میں یورپ سے میرا واحد تعلق یہی بئیر ہے۔ میں تمھیں بتا نہیں سکتا کہ یہ میرے لیے کس قدر قیمتی۔۔۔'
'کیا تمھیں کچھ اندازہ ہے کہ نظراللہ کی بیوی کیوں غائب ہو گئی ہو گی؟' میں نے اس کی بات پر کوئی توجہ نہ دی،
'مجھے یقین نہیں آ رہا کہ وہ غائب ہو گئی ہے!'
'تم نے کوئی افواہ بھی نہیں سنی؟'
'میں افواہوں پر یقین نہیں رکھتا'
'یعنی تم نے کوئی افواہ ضرور سن رکھی ہے!'
'ملر، مجھے تو یہ بھی علم نہیں تھا کہ وہ غائب ہو چکی ہے'
'کیا واقعی؟ تمھیں علم نہیں تھا؟'
'مجھے کیوں پتہ ہو گا؟' اس نے جلدبازی سے کہا، 'وہ دونوں پچھلے برس جولائی میں یہاں سے قلعہ بست چلے گئے تھے۔ تب سے میں نے انہیں نہیں دیکھا۔۔۔'
'کیا وہ اس وقت خیریت سے تھی؟'
'خیرت سے؟' اس نے غصے میں پوچھا اور انگلیاں چاٹتے ہوئے بولا، 'اس ملک میں خیریت کہاں ہوتی ہے؟ ہو سکتا ہے وہ دل ہی دل میں اپنے شوہر کو قتل کرنے کا سوچ رہی ہو یا فرار ہونے کی ترکیبیں بنا رہی ہو؟ تم ہی کہو، کیا تم افغانستان میں کسی کے بارے وثوق سے کچھ کہہ سکتے ہو؟ کیا تم کسی کے بارے یہ کہہ سکتے ہو کہ، 'فلاں شخص خیریت سے ہے؟' ہاں اس کی صحت اچھی تھی، رونے سے زیادہ ہنستی تھی اور نظراللہ اس کا خیال بھی رکھتا تھا لیکن۔۔۔۔ مجھے نہیں پتہ کہ وہ خیریت سے تھی یا نہیں تھی!'
'تمھیں کیسے پتہ کہ وہ روتی بھی تھی؟'
'مجھے نہیں پتہ ۔۔۔ لیکن میں نے تو جب بھی اسے دیکھا، ہنستے ہوئے ہی دیکھا!'
اس کے انداز میں جھلاہٹ در آئی تھی۔ وہ اس تفتیش کو ختم کرنے پر تلا ہوا تھا لیکن میں آخری سوال پوچھے بنا نہ رہ سکا، 'کیا تم اس کا اصل نام جانتے ہو؟'
یہ سن کر شواٹز نے ہاتھ میں تھاما ہوا نان کا بڑا نوالہ زور سے تھالی میں دے مارا اور بھڑک کر بولا، 'بس بہت ہو گیا نظراللہ کی بیوی بارے سوال جواب۔۔۔ اب کھانا کھاؤ!' یہ کہہ کر اس نے بئیر کی بوتل منہ سے لگا لی۔
بئیر نے اسے شانت کر دیا تھا۔ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد اس کو مزید کچھ نہ سوجھا تو خود ہی فلسفیانہ انداز میں ایک انتہائی غیر متعلق موضوع پر سوال پوچھنے لگا، 'ملر، کیا تم نے کبھی یہ سوچا ہے کہ آخر اس خطے میں چور کا ہاتھ کاٹنے کی سزا کا رواج کیوں ہے؟ کیا تم جانتے ہو کہ یہ سخت ترین سزا ہے؟ خوفناک بات تو یہ ہے کہ ہمیشہ داہنا ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔ اپنے اردگرد اس ریستوان میں نظر دوڑاؤ تو تمھیں اندازہ ہو گا کہ ایسا کیوں ہے؟'
میں نے اردگرد دیکھا تو اس ریستوان میں کم از کم پندرہ میزیں سجی ہوئی تھیں۔ ان میزوں پر کئی مرد بیٹھے نان اور پلاؤ سے تواضع کر رہے تھے لیکن مجھے شواٹز کی بات کا کوئی سرا نہیں ملا۔ تبھی اس نے توجہ دلائی، 'انھیں دیکھو، یہ سب اپنے دائیں ہاتھ سے کھانا کھا رہے ہیں۔۔۔ دیکھا؟' جس میز کی طرف اس نے اشارہ کیا تھا، اس پر پانچ افغان بیٹھے ایک ہی پرات میں اکٹھے دائیں ہاتھ سے نوالے بنا کر کھا رہے تھے۔ ان میں سے کوئی بھی بایاں ہاتھ اس مقصد کے لیے استعمال نہیں کر رہا تھا۔
'میں سمجھا نہیں!'
'انہیں صرف دائیں ہاتھ سے کھانے کا حکم ہے' شواٹز نے انہماک سے ایسے کہا گویا پروفیسر ہو، 'یہ حکم اس لیے ہے کیونکہ یہ رفع حاجت کے بعد دھونے کے لیے صرف بایاں ہاتھ استعمال کرتے ہیں۔ اس خطے میں، جہاں پانی کی سخت کمی رہتی ہے، یہ انتہائی دانشمندانہ احکامات ہیں' اس نے بئیر کا گھونٹ بھرا اور بات جاری رکھی، 'کسی زمانے میں دایاں ہاتھ کاٹنے کی سزا انتہائی دہشت ناک تصور ہوتی تھی کیونکہ مجرم کھانے پینے سے رہ جاتا تھا۔ اگر کھاتا تھا تو فوراً بیماری گھیر لیتی تھی'
میں شواٹز سے اس قصے کا مقصد پوچھنا چاہتا تھا لیکن میں نے دیکھا کہ ہماری پشت پر، باہر چوک میں دو آدمی قمقموں کی لڑیاں لٹکانے میں مصروف تھے۔ 'یہ کیا کر رہے ہیں؟' میں نے بجائے پوچھا،
'آج رات یہاں رقص کی محفل ہو گی' اس نے سمجھاتے ہوئے کہا، 'جشن نو روز کے سلسلے میں کئی طائفے شہر میں وارد ہیں۔۔۔ نوجوان لڑکے ہیں۔ بدنفس کے بچے!' اس نے گالی دی۔
میں نے فوراً ہی اسے اس طائفے کے متعلق بتایا جس کے ساتھ راستے میں میرا ٹاکرا ہوا تھا۔ شواٹز نے یہ سنتے ہی بئیر کی خالی بوتل میز پر کھڑکائی اور بولا، 'وہی وہی۔۔۔ یہ سارے ایک جیسے ہی ہوتے ہیں۔ گندے، سور کی اولادیں!'
'لیکن جن کی بابت میں بتا رہا ہوں، وہ صاف ستھرے تھے!'
'صاف ستھرے؟ ہاں، صاف ستھرے ہی ہوتے ہیں بلکہ خوشبوئیں بھی پہنتے ہیں۔ لیکن یہ حرامی لونڈے باز ہیں۔ جب بھی شہر میں آتے ہیں،ضرور ہی کچھ نہ کچھ گڑبڑ ہوتی ہے'
'یہ تم نے بہت ہی عجیب بات بتائی!' مجھے یقین نہ آیا،
'شاید مجھے نہیں بتانا چاہیے تھا۔ جس معاشرے میں عورتوں پر پابندیاں لگا دو تو یہی ہوتا ہے۔۔۔ آخر کار مردوں کو ہی عورتوں والے کام کرنے پڑتے ہیں'
'دو دن قبل میرے ذہن میں یہی بات گردش کر رہی تھی لیکن اس کا پس منظر کچھ اور تھا۔۔۔'
'پس منظر ؟ یہی پس منظر ہے' شواٹز نے جل بھن کر کہا، 'یہ رقص کرنے والے لڑکے، زنا کار بن گئے ہیں۔ تمھارا کیا خیال ہے، یہ زرق برق لباس اور ٹیپ ٹاپ کہاں سے آتی ہے؟'
قمقمے لگ گئے اور چوک روشن ہو گیا، ایک حصے کو خالی کر کے سٹیج کا احاطہ بنا دیا گیا جس کے گرد سینکڑوں پگڑیوں اور چند قراقل پہنے مرد جمع ہو گئے۔ پچھلی طرف ایک گلی تھی، جسے طائفہ ڈریسنگ روم کے طور پر استعمال کر رہا تھا، اس میں سے ایک ادھیڑ عمر مرد برآمد ہوا۔ میں نے اس شخص کو راستے میں ٹرک کے اوپر سوار دیکھا تھا۔ اس نے سٹیج سنبھال لیا اور محفل کا آغاز کر دیا۔
'چلو چل کر تماشا کرتے ہیں' شواٹز نے تجویز پیش کی اور ہم ریستوان سے نکل کر چوک کے بیچ میں ہجوم کا حصہ بن گئے۔ سٹیج پر وہ شخص طائفے کا تعارف پیش کر رہا تھا، اس کے مطابق وہ قندھار شہر میں اپنے ساتھ ملک کا مشہور و معروف طائفہ لیے خدمت میں حاضر تھا، اس سے پہلے یہ لوگ کابل میں محافل سجا چکے تھے اور بادشاہ کے دربار میں بھی فن کا مظاہرہ کر رکھا تھا۔ اس کے بعد پانچ موسیقار نمودار ہوئے جنہوں نے ہاتھوں میں بانسریاں، ڈھول، طبلے اور بالٹی کی طرح کا ایک سارنگا اٹھا رکھا تھا جس میں کم از کم بیس تاریں جڑی ہوئی تھیں۔ وہ سنبھل کر بیٹھ گئے اور موسیقی پیش کرنے لگے جو خالصتاً مشرق سے تعلق رکھتی تھی۔ ترنگ میں سوز تھا لیکن ردھم ایسا جاندار تھا کہ شاید اس پورے خطے میں اس طرح کا کہیں دوسری جگہ نہیں ملے گا۔ جاپان اور چین میں تو ہر گز اس موسیقی کا تصور نہیں ہے۔ یہ کوہستانی مرتفعات کی تپکن موسیقی تھی، جس میں تھاپ واضح تھی اور ہندوستانی کلاسیکی، منگول اور یونانی عنصر ظاہر ہو رہا تھا۔ یہ موسیقی جس قدر نازک اور دلفریب تھی، ردھم کی کھنک اتنی ہی پرجوش محسوس ہو رہی تھی۔
'مجھے یہ موسیقی خوب بھاتی ہے' شواٹز نے کہا، '۔۔۔یہ فنکار بھی ماہر ہیں' اگلے چند منٹ تک موسیقی چلتی رہی اور اس کا ہجوم پر صاف اثر ہوا۔ حاضرین خاموشی سے محو ہو گئے اور میں نے دیکھا کہ لوگ اب جھوم رہے ہیں، مجلس میں جوش و خروش بڑھتا جا رہا تھا۔ فضا میں ایک طمانیت پھیل چکی تھی۔ پھر، اچانک کوئی چلایا اور گلی میں سے دو لونڈے، زرق برق لباس پہنے برآمد ہوئے۔ وہ سٹیج کے وسط میں پہنچ کر لہک لہک کر جھومتے ہوئے پیروں پر چکر کھانے لگے۔ ان کی چال میں تواتر تھا، جس کی وجہ سے لانبی زلفیں ہوا میں ایک ہی رو سے لہرانے لگیں۔ یہ مغربی رقاصوں کی طرح ہر گز نہیں تھے بلکہ ان کو اپنی ایڑھیوں پر قابو تھا۔ پیر تو متواتر حرکت کرتے ہوئے چکر لگا رہے تھے لیکن جسم کا اوپری حصہ جیسے کمر، کولہو، ہاتھ، بازو اور سر رفتہ رفتہ دائرے میں جھولتے ہوئے حرکت کرتے نظر آنے لگے۔
میں نے شواٹز سے سرگوشی میں کہا، 'یہ تو مانتے ہو کہ یہ فنکار ہیں؟'
'ان کے فن پر کوئی دو رائے نہیں۔۔۔ مجھے تو ان کے دوسرے کرتوتوں پر اعتراض ہے' وہ تنک کر بولا۔
پہلے آدھے گھنٹے میں طائفے کا اصل اسٹار نہیں نکلا لیکن اس کے باوجود محفل میں جان پڑ چکی تھی۔ موسیقی تیز سے تیز تر ہوتی گئی، ایک کے بعد دوسرے فنکار نکلتا رہا اور حاضرین جھومتے رہے۔ لیکن کچھ دیر بعد شائقین میں بے چینی پھیلنے لگی اور صاف پتہ چل رہا تھا کہ وہ اب اس محفل کے اصل فنکار کا رقص دیکھنے کے لیے بے تاب ہیں۔ یہ وہی لڑکا تھا جس نے راستے میں میری طرف فحش اشارے کیے تھے اور جملے کسے تھے، میں بھی اس کی سٹیج پر آمد کا انتظار کر رہا تھا۔ طائفے کا سربراہ لوگوں کے ہیجان سے خوب واقف تھا، جس کا خوب فائدہ اٹھایا۔ گروپ میں سے دو موسیقاروں نے اپنی قراقلی ٹوپیاں اتار دیں اور شرکاء میں الٹی اٹھائے، پیسے جمع کرنے لگے۔
'انہیں کتنے پیسے دوں؟' میں نے ڈاکٹر سے پوچھا،،
'جس قدر ممکن ہو، کم سے کم!'اس نے تاکید کی۔ اس نے قراقلی میں چند سکے اچھالے تو میں نے دیکھا کہ پیسے جمع کرنے والے موسیقار نے اسے گھور کر دیکھا تھا۔ شاید سوچتا ہو کہ آخر ایک فرنگی بھی اسے کیونکر ٹرخا رہا ہے؟ اسی لیے میں نے نوٹ دکھایا تو اس کے چہرے پر فوراً پیشہ ورانہ لیکن خوش کن مسکراہٹ پھیل گئی۔ شواٹز نے اپنی بات رد ہونے پر منہ بسور لیا۔
کافی پیسے جمع ہو گئے تو موسیقاروں نے پھر سے اپنی جگہیں سنبھال لیں اور طائفے کے سربراہ نے اعلان کیا کہ، 'آ گیا وہ شاہکار۔۔۔ جس کا انتظار تھا' افغانستان کا اعلیٰ ترین، اول اولین رقاص اب فن کا مظاہرہ کرنے کے لیے تیار تھا۔ اس اعلان کے ساتھ ہی ڈھول کی ہلکی تھاپ شروع ہوئی، بانسریوں کے سر پھیلے اور زور دار تھاپ کے ساتھ ایک دم خاموشی چھا گئی۔ گلی میں سے جوں ہی وہی نوجوان لڑکا برآمد ہوا تو موسیقی نے ایک دفعہ پھر ہلکے سروں میں انگڑائی لی۔ اس کی چال اور ڈھول کی تھاپ، بانسریوں اور سارنگی کے ساز۔۔۔ آہستہ آہستہ سب کچھ ایک ہی تعدد میں چلتا ہوا محسوس ہوا۔
رقاص لڑکے نے کریم رنگ کی کرتی اور اوپر انگرکھا پہن رکھا تھا۔ انگرکھے پر سنہری رنگ کے قیمتی دھاگے سے کشیدہ کاری کی گئی تھی۔ شلوار کا رنگ خاکستری تھا اور پیروں میں تانت چمڑے کے گھنگھرو بندھے ہوئے تھے۔ سر پر ہلکے نیلے رنگ کی ریشمی پگڑی ٹکی ہوئی تھی اور ایک سرا بائیں شانے سے نیچے لڑھکا دیا تھا۔ لانبی زلفیں پگڑی کی وجہ سے اپنی جگہ پر جمی ہوئی تھیں لیکن سر جھٹکتا یا پھر شانے ہلاتا تو بال ہوا میں اچھل کود کرتے، بہت بھلے لگتے۔ یہ نوجوان جسمانی وجاہت اور خوبصورتی کی مورت تھا، اس پر ٹکی ہوئی نظریں ہٹتی ہی نہیں تھیں۔ اس کی سج دھج، رکھ رکھاؤ اور ادائیں دیکھ کر یقین نہ آتا تھا کہ یہ وہی لڑکا ہے جو ٹرک پر سوار فحش اشارے کرتا پھر رہا تھا، بدتمیز اور بے لحاظ واقع ہوا تھا۔ اس کے دوغلے پن کا سوچ کر میرا جی متلانے لگا، اس سے گھن آنے لگی۔ وہ اپنی خوبصورتی سے پوری طرح آشنا تھا، اسی لیے اسے کسی چیز کا لحاظ نہیں تھا۔ وہ اپنے حسن کو استعمال کر کے میرے دل و دماغ میں ہیجان تو برپا کر رہا تھا لیکن یہ اس کا اصل روپ نہیں تھا۔ میں تذبذب کا شکار ہو گیا، مجھے اپنے اندر کچھ گڑ بڑ محسوس ہوئی۔
موسیقی کی لے اور لہک بڑھتی جا رہی تھی لیکن حاضرین کی آنکھیں دم بخود اس لڑکے پر ٹکی ہوئی تھیں۔ کچھ دیر پہلے تک سبھی جھوم رہے تھے لیکن اب مجال ہے کوئی حرکت بھی کرتا ہو، جیسے بہت سے بت بیٹھے تھے۔ رقاص کے جسم کا ہر انگ تھرک رہا تھا، اعضاء لہک رہے تھے اور پیروں کو مہارت سے چکر پر چکر دلا رہا تھا۔ میں نے غور کیا کہ وہ ڈھول کی تھاپ اور سارنگی کے ساز سے قدرے پیچھے رہ جاتا ہے، شاید وہ تھک کر نڈھال ہو رہا تھا یا کیا خبر یہ بھی اس کی کوئی چال ہو؟ کیونکہ اس وجہ سے اس کے رقص میں ایک طرح کی کشش پیدا ہو گئی تھی۔ یہ اس کا گر تھا، شائقین موسیقی کی بجائے اس کے تھرکتے جسم پر توجہ مرکوز کیے ہوئے تھے۔
دیکھتے ہی دیکھتے موسیقی تیز تر ہوتی گئی۔ ڈھول کی تھاپ بڑھتی گئی اور ڈھول پر مامور شخص اب زور زور سے چمڑے پر تھاپ لگاتا اور ساتھ ہی ساتھ اونچی آواز میں چلاتا، رقص کرنے والے لڑکے کو شہ دلاتا۔ جوں جوں اس کی رفتار بڑھتی گئی، اچانک اس کی پگڑی کھل گئی اور رات کی تاریکی میں قم قم روشنیوں میں نفیس ریشم اڑنے لگا۔ یہ اس قدر خواب آور چکر تھا کہ میں اسے سراہے بنا نہ رہ سکا، مسحور ہو کر رہ گیا۔ میں نے یہی سوچا کہ شاید دنیا بھر میں، جہاں رقاص عورتیں طائفوں کے ساتھ فن کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ کلب ڈانسوں میں شاید اس قدر مسحور کن طریقے سے جسم کو عریاں کر کے وہ اثر نہ پیدا کر سکیں جو اس لڑکے نے آن کی آن میں صرف اپنی پگڑی کا ریشم اچھال کر ماحول جما دیا تھا۔ ریشم اڑتے ہی اس کے سیاہ بال ہوا میں لہرائے اور شانوں سے آزاد ہو کر اس کے جسم کے ہر حصے کے ساتھ برابر جھوم کر، لہکنے اور چکرانے لگے۔ اس کے رقص کی رفتار بڑھتی ہی جا رہی تھی اور جب چکر اس کی برداشت سے باہر ہو گیا، وہ اچھلا اور زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھ کر رقص کرنے لگا۔ دونوں ہاتھوں سے زمین کو ڈھول کی طرح پیٹنے لگا اور وجد کی حالت میں سر جھٹکنے لگا۔ ڈھول کی تھاپ جاری رہی، بانسری سر بکھیرتی رہی اور سارنگے کے تار بجتے رہے۔ رقص تا دیر جاری رہا۔
جب ڈاکٹر شواٹز اس کے سحر سے نکل آیا تو فن کی تعریف کرنے کی بجائے جل بھن کر بولا، 'یہ اس کا آخری سال ہے۔۔۔'
'لیکن ابھی اس کی عمر ہی کیا ہے؟ بیس کا بھی پورا نہیں ہو گا' میں نے توجہ دلائی، 'اس کا جوش اور توانائی دیکھ کر تو یہی لگتا ہے کہ مزید تیس برس تک رقص کر سکتا ہے'
'تم بھول رہے ہو۔ اس کا اصل کام رقص نہیں ہے۔ یہ رقص وغیرہ تو طائفے کے ساتھ آئے لونڈوں کے خریداروں کو لبھانے کا ڈھونگ ہے۔ جب یہ ان حرام خوروں کو مائل کرنے کے قابل نہ رہا۔۔۔' اس نے بھوکی نظروں سے لڑکے کو تاڑتے شائقین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، 'پھر اس کو کون پوچھے گا؟ طائفے کا مالک اور یہ سازندے پہاڑی علاقوں سے اس جیسے دس نئے اور کہیں زیادہ خوش شکل اور لچکیلے لڑکے ڈھونڈ لائیں گے۔۔۔ لونڈے بازی میں تو یہی ہوتا ہے'
یہ دیکھ اور شواٹز کی باتیں سن کر مجھے پھر سے گھن آنے لگی۔ کئی طرح کی سوچوں نے آن گھیر لیا لیکن فوراً ہی توجہ بٹ گئی۔ سٹیج کے بالکل قریب، شائقین کے ہجوم میں میری نظر بدخشار کے اس نوجوان پر پڑی جو ابھی تک رقص کے سحر میں گرفتار، ٹک ٹک اس لڑکے کو دیکھتا ہوا اپنی جگہ بت بنا کھڑا تھا۔ اس نے اس وقت بھی یورپی کوٹ پہن رکھا تھا۔ میں نے آواز دے کر اسے اپنی جانب متوجہ کرنا چاہا لیکن وہ اس قدر کھویا ہوا تھا کہ رقاص لڑکے سے نظریں ہی نہ ہٹا سکتا تھا۔ رقاص ابھی تک ناچ رہا تھا۔
میں نے ہجوم میں راستہ بناتے، آگے کا رخ کیا۔ تھوڑی مشکل تو ہوئی کیونکہ آگے جانے کے لیے خاصی دھکم پیل کرنی پڑ رہی تھی، اس کوفت پر شائقین میں سے کئی مجھے کینہ توز نظروں سے تاڑنے لگے۔بعض نے برا بھلا کہا اور کچھ نے قدرے غصہ دکھایا لیکن میں نے ان کی چنداں پرواہ نہیں کی۔ تھوڑی سی محنت کے بعد میں بدخشاری کے پاس جا کھڑا ہوا۔ 'کیسا ہے؟' میں نے پشتو میں اس سے رقص کی بابت پوچھا لیکن اس نے مجھے نہیں سنا۔ اسے میری موجودگی کا سرے سے ادراک ہی نہیں تھا، اس کی نظریں بدستور رقاص کے لچکیلے بدن پر ٹکی ہوئی تھیں جو اب سٹیج پر بڑے دائرے میں گھٹنوں کے بل چکر کھا رہا تھا۔ اس کے بال رات کی تاریکی میں گم، قمقموں کی روشنی میں لہرا رہے تھے اور اب اس کا سنہرا لباس، جسم کی سطح پر یوں تھرک رہا تھا جیسے کسی جھیل کا پانی تیز ہوا میں ننھی لہریں بناتا، چھیٹنے اڑاتا ہو۔
میں نے جواب نہ پا کر اسے ہاتھ سے ٹہوکا دیا تو ہی اس نے آنکھ جھپکائی۔ وہ میری طرف متوجہ ہوا تو اس کی آنکھوں میں مجھے ڈورے نظر آئے، اس کی آواز جیسے بہت دور سے آتی ہوئی محسوس ہوئی، 'اس کے پر نہیں ہیں۔۔۔ لیکن دیکھو تو، پھر بھی اڑتا ہے!' یہ کہہ کر وہ پھر سے وجد کی کیفیت میں چلا گیا اور پوری توجہ سے رقاص کی ادائیں دیکھنے لگا، ان دونوں پر ہی حال طاری تھا۔ میں نے بدخشاری کو اس کے حال پر چھوڑ دیا کیونکہ اب اس رقاص نے مجھے بھی اپنی جانب متوجہ کر لیا تھا۔ مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا کہ ایک انسانی جسم اتنی تیزی سے حرکت کرتا، چکر لگا سکتا تھا۔ اس لڑکے کا ہنر، خود پر قابو اور رفتار حیران کن تھی۔ ڈھول کی تھاپ سے کان پھٹے جا رہے تھے اور بانسریاں جیسے پاگل ہو گئی تھیں۔ تار ٹوٹنے کے قریب تھے اور رقص پر مجھے وحشت کا گماں ہونے لگا۔ چند لمحے یہی حال رہا اور پھر ایک دم، زور سے ڈھول تھپکا اور یکدم خاموشی چھا گئی۔ رقاص جہاں تھا، وہیں ٹک گیا، ڈھول ٹھنڈا پڑ گیا اور بانسریاں اور تار چپ ہو گئیں۔ چند لمحے بالکل سکوت رہا اور پھر چاروں طرف سے سیٹیاں، تالیاں اور تعریف و تحسین کے ڈونگرے برسنے لگے۔ کافی دیر تک یہی سماں رہا اور پھر بدخشار کے جوان نے اکھڑی ہوئی سانس میں کہا، 'بدخشار میں کبھی ایسا رقص نہیں دیکھا۔۔۔'
رات کافی گزر چکی تھی۔ میں نے بدخشاری سے رخصت لی لیکن اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس کا ذہن تو کہیں دور بھٹک رہا تھا۔ میں شواٹز کے ساتھ ہی لوٹ آیا۔ اس نے مجھے ہوٹل تک چھوڑا اور اپنے گھر کی راہ لی۔ نور محمد، دن کا تھکا ہارا۔۔۔ کب کا سو چکا تھا۔
-تبصروں اور معلومات کے لیے سائیڈ بار میں رابطہ فارم استعمال کریں۔ شکریہ-

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر