کارواں - ساتویں قسط


صبح آنکھ کھلی تو نور محمد کمرے کے وسط میں فرش پر آلتی پالتی مار کر بیٹھا ہوا تھا۔ وہ اپنے سامنے آئینہ ٹکائے اور گرم پانی کا مگا رکھے دلجمعی سے شیو بنانے میں مگن تھا۔ قندھار میں ہوٹل کے کمروں کے ساتھ غسل خانے نہیں تھے۔ میں بستر میں ہی لیٹے اس کے انہماک کو دیکھتا رہا۔ وہ جس چابکدستی سے جلد پر استرا چلا رہا تھا، متاثر کن تھا۔ میں نے انگریزی میں کہا، 'وہ رقاص لڑکا، جو ہمیں پل پر ٹرک میں نظر آیا تھا۔۔۔ اس نے کل رات خوب دھوم مچائی'
'کون سا لڑکا؟ وہی جس نے چھیڑ چھاڑ کی تھی؟' نور نے پوچھا،
'ہاں وہی۔۔۔ شواٹز کے مطابق وہ سب لونڈے باز ہیں'
'شواٹز کی بات درست ہے' نور محمد نے ٹھہر کر کہا، 'لیکن پولیس ان پر نظر رکھتی ہے'
میں کچھ دیر سوچتا رہا اور پھر جھجکتے ہوئے پوچھا، 'نور، تم شواٹز کے بارے کیا جانتے ہو؟'
اس نے شیو جاری رکھی۔ کچھ دیر ٹھوڑی کھجا کر آئینے میں منہ سکوڑ، گالوں کی جلد کھینچ تان کر جائزہ لیتا رہا اور پھر نہایت احتیاط سے تولیہ اٹھا کر منہ خشک کرنے لگا۔ غالباً نور محمد پہلے سے ہی اس سوال کے لیے تیار بیٹھا تھا بلکہ اسے میرے ارادوں کی پوری خبر تھی۔ وہ اس ضمن میں یقیناً افغان حکام سے کابل میں ہی پہلے سے بات کر چکا ہو گا، چنانچہ محتاط لہجے میں بولا، 'ہمیں شواٹز کے بارے پہلی بار پچھلے برس، یعنی 1945ء میں فروری کے مہینے میں اطلاع موصول ہوئی تھی۔ یہ بغیر کسی پیشگی اجازت اور کاغذات کے بغیر فارس کی سرحد عبور کر کے افغانستان میں داخل ہوا۔ اس کے پاس کوئی شناختی دستاویز بھی نہیں تھی، اسی لیے ہیرات پہنچتے ہی گرفتار کر لیا گیا تبھی ہمیں بھی اطلاع مل گئی۔ یہ کبھی کابل نہیں گیا۔ اس کے پاس شناختی کاغذات تو نہیں ،لیکن ڈاکٹری کی ڈگری ضرور ہے جو کسی جرمن ادارے کی جاری کردہ ہے'
'اس کے گھر کے باہر میونخ کی یونیورسٹی کا بورڈ آویزاں ہے'
'میرے خیال میں یہ اسی یونیورسٹی کی ڈگری تھی۔ جب جنگ ختم ہوئی تو ہم نے پیرس میں افغان سفیر کو اس معاملے کی بابت سن گن لینے کی ذمہ داری سونپی تھی۔ اس نے پتہ لگوایا تو ڈگری اصلی نکلی اور شواٹز واقعی ڈاکٹر تھا۔ جس قدر مجھے یاد پڑتا ہے، یونیورسٹی کی جانب سے تصدیقی خط بھی موصول ہوا تھا۔ انہوں نے تو اس کی قابلیت کی تعریف بھی کی تھی'
'لیکن اسے افغانستان میں داخل ہونے کی اجازت کیسے مل گئی؟ یہ تو بہت مشکل کام ہے' میں نے بات آگے بڑھائی، 'شواٹز جیسا عام فرنگی اتنی آسانی سے کیسے گھس آیا؟'
'ملر صاحب، آپ بھول رہے ہیں' نور نے توجہ دلاتے ہوئے کہا، 'شواٹز عام فرنگی نہیں ہے۔ وہ ڈاکٹر ہے اور ہمیں اس ملک میں ڈاکٹروں کی اشد ضرورت ہے۔ پھر وہ صرف ڈاکٹر ہی نہیں بلکہ ایک جرمن بھی ہے اور ہمیں جرمنوں کی ڈاکٹروں سے بھی زیادہ ضرورت رہتی ہے۔ یہ درست ہے کہ جرمنوں نے بے کار پل وغیرہ بنا کر اپنی اور ہماری ساکھ کا ستیاناس کر دیا لیکن انہوں نے ہماری قوم کا ہر قدم پر بہت ساتھ دیا ہے بلکہ یورپ میں افغانوں کو 'ایشیاء کے جرمن' بھی کہا جاتا ہے۔ اب جبکہ ان کی حالت پتلی ہے، افغان حکومت کسی صورت جرمن مہاجرین کو اپنے ملک میں پناہ لینے سے ہر گز انکار نہیں کر سکتی'
'لیکن تمھیں کیا پتہ؟ کیا پتہ وہ نازی ہو؟'
'وہ تو سارے جرمن ہی نازی تھے؟ نہیں؟' نور نے منہ در منہ جواب میں سوال پوچھا اور شیونگ کا سامان دھو کر سمیٹنے لگا۔ پھر وہ گرم پانی کا ایک مگا بھر لایا تا کہ میں بھی شیو بنا لوں۔
'اس کے بارے مزید کیا جانتے ہو؟' میں نے ٹوہ لگائے رکھی،
'اس کے علاوہ یہ کہ وہ ہیرات سے چھوٹ گیا تو قندھار چلا آیا اور یہاں کلینک لگا لیا۔ قندھاری اس کے دلدادہ ہیں۔ افغان حکومت کا یہ ہے کہ وہ بھی اس سے خوش ہے کہ چلو، عام لوگوں کو سہولت مل گئی اور میرے خیال میں وہ اگلے کئی برس تک یہیں رہے گا'
'یہ تم کیسے کہہ سکتے ہو؟'
'اصل میں جرمنوں کے لیے افغانستان آخری ٹھکانا ہے۔ آپ ہی بتائیے، اب یہاں سے آگے وہ کہاں جا ئیں گے؟ ہندوستان؟ وہاں تو پہلے ہی انگریزوں نے پیر جما رکھے ہیں'
'یہ پناہ گزین واپس جرمنی بھی نہیں جاتے؟'
' جرمنی لوٹ جانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا'
'افغانستان میں اس وقت کتنے جرمن ہیں؟' میں نے انتہا پسند لہجے میں قدرے نفرت سے پوچھا۔ اگرچہ مجھے جرمن نازیوں سے کوئی خاص رقابت نہیں تھی لیکن میں اس بات کو اچھی طرح سمجھتا تھا کہ اگر میرے آباؤ اجداد ہجرت نہ کرتے تو شاید 1937ء کے آس پاس میں بھی قتل کر دیا جاتا۔ میرے رشتہ دار، دوست وغیرہ بھی عین ممکن ہے، اگر وہاں رہتے تو مارے جاتے۔ مجھے اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے کافی میلان تھا، اس لیے یہ سوچ کر ہی ہول اٹھتا تھا کہ اگر انہیں کبھی کوئی تکلیف پہنچتی تو پھر؟ اگر انہیں بھوک پیاس اور تشدد کر کے مار دیا جائے تو میری کیا حالت ہو گی؟ یہی سوچ کر مجھے ہمیشہ جرمنوں سے خوف آتا تھا اور یہ ڈر میرے دل و دماغ میں جم کر بیٹھ چکا تھا۔ میرے لہجے میں نفرت کی یہی وجہ تھی۔
میرے خیال میں یہ حالت اس وجہ سے نہیں تھی کہ مجھے موت کا خوف تھا۔ ہم یہودیوں کے یہاں، بچپن میں ہی بچوں کو موت کی حقیقت سے آگاہی مل جاتی ہے، بلکہ اکثر تو تربیت کے لیے موت کا ہی نام لیا جاتا ہے یا موت کے بعد کی زندگی کا ذکر چھیڑے رکھتے ہیں۔ خیر تو وہ اخلاقی تربیت کی بات ہے ورنہ میرے اماں اور ابا دونوں نے مجھے بہت پہلے ہی اس حقیقت سے آگاہ کر دیا تھا کہ موت اٹل ہے۔ ایک دن انہوں نے اور پھر کسی دن میں نے بھی مر جانا ہے۔ ہم سب نے مر جانا ہے ۔ یہ تو طے تھا لیکن ہم یہودیوں کے ساتھ بلکہ ہمارے ساتھ تو یہ قضیہ بھی ہے کہ ہم تسلسل میں یقین رکھتے ہیں۔ ہمیں یہ بات تسکین دیتی ہے کہ اچھا اگر ہم بھی جائیں تو کیا ہو گا؟ کچھ بھی نہیں کیونکہ ہمارے بچے اور نسلیں تو جاری رہیں گی۔ ہمارا نام تو زندہ رہے گا۔ افغانستان کی تاریخ کا بھی یہی نکتہ مجھے بہت بھاتا تھا۔ یہ ملک اور اس کے لوگ بھی اسی بات پر یقین رکھتے تھے، اسی لیے انہیں مر کر مٹ جانے کی چنداں پرواہ نہیں تھی۔ میں نے خود جنگ عظیم میں حصہ لیا اور آجکل افغانستان جیسے دشوار گزار ملک میں تعینات تھا، تب اور اب بھی میں یہی سوچا کرتا تھا کہ اگر میں مر جاؤں تو کیا ہو گا؟ کچھ بھی نہیں کیونکہ اگر میں نہ سہی، دنیا میں میرے جیسے کئی 'ملر' تو ہوں گے۔ میں ہر روز، مشکل گھڑی میں تو بالضرور خود کو یقین دلاتا کہ، 'دنیا میں ہمیشہ، کسی نہ کسی کونے میں کوئی ملر ضرور باقی رہے گا' میں اگر ان میں موجود نہ رہوں تو وہ مجھے یاد کیا کریں گے، میری نسلیں مجھے نہیں بھلائیں گی جیسے میں آج تک اپنے اجداد کو نہیں بھولا۔ میں مر جاؤں تو یہ دکھ کی بات ہو گی لیکن میری نسل ختم ہو جائے تو پھر؟ یہ المیہ ہو گا۔ میں یہ ہر گز برداشت نہیں کر سکتا تھا بلکہ مجھ جیسا کوئی شخص یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ آن کی آن میں اس کی پوری نسل ختم کر دی جائے اور اس کا آخری نشان بھی مٹا دیا جائے۔ اگر میرا خاندان دہائیاں پہلے جرمنی سے ہجرت نہ کرتا تو شاید ہم سب کب کے مر کھپ چکے ہوتے۔ ہماری شناخت بھی اب تک محو ہو چکی ہوتی۔ میں اس بات کو کبھی نظر انداز نہیں کر سکتا تھا۔
میں انہی سوچوں میں گم تھا، اس لیے نور محمد کی پوری بات پر توجہ نہیں دے پایا، وہ غالباً چھ یا سات سو جرمنوں کی افغانستان میں موجودگی بارے کچھ کہہ رہا تھا۔ ان میں سے بعض تو خاصے پڑھے لکھے اور ممتاز لوگ بھی شامل تھے۔
'وہ سب نازی ہیں؟'
'یہ تو خیر اپنے اپنے نکتہ نظر کی بات ہے' نور نے کہا، 'ان میں سے کئی معقول آدمی تھے اور انہوں نے ہٹلر کی مخالفت بھی کی۔ اس مخالفت کے نتیجے میں انہیں تشدد کا نشانہ بھی بننا پڑا، جس کا ثبوت ان کی پیٹھوں پر زخموں کے نشان تھے۔میں نے اس بارے محب خان سے بات کی تھی۔۔۔' میں نور کی بات سمجھنے سے قاصر تھا کیونکہ اس کا یہ کہنا کہ، 'میں نے محب خان سے بات کی تھی' ناقابل فہم تھا۔ اصل میں جب بھی میں نے نور اور محب خان کو ساتھ دیکھا، محب اس سے نوکروں کی طرح پیش آتا تھا۔ شاید میں افغانستان کے طور طریقوں کو ابھی پوری طرح سمجھ نہیں پایا تھا یا یہ بھی عین ممکن تھا کہ یہ ان کی جاسوسی کا کوئی گر ہو؟ کیا خبر کل کلاں نور محمد، محب خان کا چھوٹا بھائی نکل آئے؟ یا کیا پتہ وہ بادشاہ کا سگا بھتیجا ہو؟ بہرحال میں نے اس کی بات مکمل ہونے سے قبل ہی ایک اور سوال داغ دیا،
'اگر شواٹز اتنا اچھا ڈاکٹر ہے تو پھر کابل کیوں نہیں چلا جاتا؟'
'ہم مہاجرین کے ساتھ یہ بات پہلے سے طے کر لیتے ہیں۔ ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ سب کسی ایک شہر میں جمع ہونے کی بجائے ملک کے مختلف حصوں میں بسر رکھیں۔ بالخصوص ان جگہوں پر جہاں ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ قندھار میں ڈاکٹر کی ضرورت ہے۔ فی الوقت شواٹز اپنے آپ کو قندھار میں منوا لے۔۔۔ کابل بھی بلا لیں گے'
'یعنی وہ اپنی مرضی سے کہیں نہیں جا سکتا؟'
'آپ بھی تو اپنی مرضی سے کہیں نہیں جا سکتے' اس نے نشاندہی کی، 'آپ کو بھی تو شاہ خان سے اجازت لینی پڑی تھی، نہیں؟'
'لیکن میری بات دوسری ہے۔ میں غیر ہوں!'
'جب تک وہ خود کو ثابت نہیں کر دیتا، شواٹز بھی غیر ہی ہے!'
'تو کیا وہ یہاں اپنے آپ کو ثابت کر رہا ہے؟'
'وہ کوشش کر تو رہا ہے!' نور نے بیزاری سے کہا، جس کا مطلب تھا کہ اب وہ مزید اس موضوع پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن میں نے پھر بھی پوچھا،
'عام طور پر یہاں لوگ ڈاکٹر سے علاج کی کتنی فیس ادا کرتے ہیں؟'
'معمولی، کچھ زیادہ نہیں ہوتی!'
'یعنی مہاجرین کبھی مال دار نہیں ہو سکتے؟'
'کم از کم قندھار میں تو ایسا ہونا ممکن نہیں ہے۔۔۔' اس نے بات پھر ختم کر دی لیکن کچھ سوچ کر بولا، 'لیکن اگر وہ کابل چلا جائے تو ہو سکتا ہے کہ وہ سفارتخانوں کے عملے کا علاج معالجہ کرے۔ سفارتخانے کر اسے نوکری بھی دلا سکتے ہیں اور اگر ایسا ہوا تو اسے اچھی خاصی تنخواہ بھی مل جائے گی' یعنی نور محمد کو سفارتخانوں کے ارادوں کی پوری جانکاری تھی۔ اسی لیے میں نے بھی کھل کر پوچھا،
'تمھارا کیا خیال ہے۔۔۔ ڈاکٹر شواٹز کابل جانے کے لیے تیار ہو جائے گا؟'
نور محمد نے شواٹز میں میری حد سے بڑھتی ہوئی دلچسپی بھانپ کر میری جانب غور سے دیکھا اور بولا، 'تیار؟ وہ تو مرا جا رہا ہے۔ میرے خیال میں وہ ہر وقت کابل جانے کے خواب دیکھتا رہتا ہے'
'تمھیں کچھ اندازہ ہے کہ وہ قندھار میں مزید کتنا عرصہ ٹھہرا رہے گا؟'
'اس بات کا فیصلہ ہماری حکومت کرے گی۔ آپ کی حکومت اگر شواٹز کو سفارتخانے میں بھرتی کرنا چاہتی ہے تو پھر یہ کام جلدی بھی ہو سکتا ہے' اس بات پر میں نے کوئی جواب نہیں دیا، اس نے نہ چاہتے ہوئے بھی مدعا صاف کر دیا تھا۔
دوپہر کے وقت جب ہم تینوں کھانے کے لیے اکٹھے ہوئے تو میں شواٹز کی حالت سے خاصا محظوظ ہوا۔ وہ جرمن مجھ سے زیادہ نور محمد کے ساتھ بات کرتے ہوئے احتیاط برت رہا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ شاید نور محمد کابل میں حکومت میں کسی بہت ہی اہم عہدے پر فائز ہے۔ 'جناب عالی! آپ سے ملاقات میرے لیے اعزاز ہے۔۔۔' شواٹز کے لہجے میں خوشامد تھی۔
'افسوس، میں کوئی جناب عالی وغیرہ نہیں ہوں۔۔۔' نور نے ٹالتے ہوئے کہا، ' میں تو ملر صاحب کا ڈرائیور ہوں!'
شواٹز کو یقین نہیں آیا۔ اس نے سر سے پیر تک نور محمد کا جائزہ لیا۔ اس نے پاوں میں مغربی جوتے، اوپر مغربی سوٹ اور سر پر مہنگی قراقل ٹوپی پہن رکھی تھی۔ اس کو ہر گز یقین نہیں آیا، 'یہ ملر صاحب کی خوش قسمتی ہے کہ اسے افغانستان کا سب سے نفیس ڈرائیور میسر ہے۔ نور صاحب، کاش میں بھی آپ کی طرح شستہ انگریزی بول سکتا!'
'کاش میں بھی ڈاکٹر ہوتا اور میرے پاس بھی میونخ کی یونیورسٹی کی ڈگری ہوتی!' نور نے اسے چھیڑتے ہوئے کہا، جس پر جرمن کا فربہ جسم مزید پھیل گیا اور اس کا چہرہ خوشی سے تمتمانے لگا۔
آنے والے دنوں میں شواٹز کے ساتھ خوب نبھی رہی۔ میں نے اس کو مناسب شخص پایا۔ مجھے یقین ہو گیا کہ اگر اسے سفارتخانے بھرتی کر لیتے ہیں تو ہمیں ایک معقول ڈاکٹر میسر آ جائے گا۔ اسی لیے میں نے فیصلہ کر کیا کہ اس کو کابل لے جانے میں جس قدر ممکن ہوا، پوری مدد کروں گا۔ ہم دونوں کھانا اکٹھے ہی کھاتے اور وہ ہمیشہ اپنی بئیر کی بوتل کو حریصوں کی طرح اپنے ہاتھوں میں تھامے رکھتا۔ میں اس سے سوال جواب کرتا رہتا تھا اور وہ عام طور پر بغیر کسی مشکل کے جواب دے دیا کرتا تھا کیونکہ کھانے کے پیسے میری جیب سے ہی نکل رہے تھے۔
لیکن اس سوال جواب کا مجھے فائدہ بھی ہوا کیونکہ مجھے یقین ہو گیا کہ شواٹز نازی نہیں تھا۔ وہ انسانیت پر یقین رکھتا تھا اور لوگوں کے دکھ درد میں ان کا ساتھ دینے کو اپنا مقصد بنا لیا تھا۔وہ اپنے پیشے سےمخلص تھا اور اپنے کام کی اہمیت کو اچھی طرح سمجھتا بھی تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اس کی خدمت کےصلے میں کئی لوگ جسمانی اور دماغی امراض سے چھٹکارا پاتے ہیں۔ اسی طرح مجھے ا س کی طبعیت سے بھی آشنائی ہوئی۔ وہ ہر وقت فلسفیانہ مکالمے کے لیے تیار رہتا تھا اور ہر روز رات کو جب ہم کھانے کے لیے اکٹھے ہوتے، وہ ایسے ہی موضوعات پر باتیں کرتا رہتا۔ طویل گفتگو کے بعد ہم دونوں شہر میں نکل جاتے اور رات دیر تک جشن کے سلسلے میں جاری جا بجا محفلوں میں رقص اور سرور سے لطف اندوز ہوتے۔ ہم اس دوران بھی باتیں کرتے رہتے اور وہ ہر وقت پائپ پیتا رہتا۔
قندھار میں گزارے ان چند دنوں میں شواٹز کی ایک بات آج بھی میرے دل پر نقش ہے۔ وہ طائفوں کے پس پردہ معاملات سے کھل کر نفرت کرتا تھا۔ بلکہ کسی بھی طائفے کے رقاص لڑکوں، بالخصوص اسٹار سے تو اسے سخت چڑ ہوتی تھی۔ 'یہ افغانستان کے ماتھے پر داغ ہیں' وہ طعنہ زنی کرتا اور انداز ایسا ہوتا جیسے افغانستان کو اپنا گھر سمجھتا ہے، 'یہ طائفے اس ملک کا اصل بگاڑ ہیں۔ خدا انہیں سمجھے، عورتوں کو آزاد کر دیں تو یقین جانو۔۔۔ ان کے دماغوں میں جو یہ فتور ہے، خود بخود ہی نکل جائے گا۔ یہ نفسیاتی طور پر آزاد ہو جائیں گے۔ ان چیزوں کو چھوڑ، اپنا اور اپنی آنے والی نسلوں کا بھلا سوچیں گے'
ایک دن دوپہر کے کھانے پر جب ہم نے یہی بات نور محمد سے کہی تو وہ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گیا، 'میں کیا کہوں؟' نور نے کہا، 'اس ملک میں آنے والا ہر فرنگی اپنی ہی ہانکتا ہے۔ جس کو دیکھو، اسی کے پاس کم از کم ایک چیز ایسی ضرور ہو گی جو اس کے خیال میں افغانوں کو فی الفور اپنا لینی چاہیے۔ ڈاکٹر شواٹز کہتا ہے کہ عورتوں کو آزاد کر دو۔ فرانسیسی سفیر کا ماننا ہے کہ کم از کم دو ہزار ڈاکٹروں کی ضرورت ہے۔ امریکی سفیر ہمیں بتاتا ہے کہ پہاڑوں سے کابل کو پائپ لائنوں کے ذریعے صاف اور تازہ پانی فراہم کرنا اشد ضروری ہے اور روسی کہتے ہیں کہ گلیوں کی مرمت کرو۔۔۔۔ اب ہم کیا کریں؟ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ ان سب کاموں میں سب سے پہلے کون سا کام کرنا چاہیے؟
'کونسا؟' شواٹز نے اشتیاق سے پوچھا۔ اسے اس طرح کی گفتگو بہت پسند تھی۔
'یہ سب کام!' نور نے جواب دیا، 'ہاں۔۔۔ تم ہنس لو لیکن حقیقت یہی ہے کہ ہمیں اس قوم کر جس قدر ممکن ہو، ہر محاز پر آگے لے جانے کی ضرورت ہے۔ لیکن اس کے لیے درکار ذہانت اور وسائل کا فقدان ہے۔ فرنگیوں کو چاہیے کہ روز رات کو سونے سے پہلے ہمارے لیے دعا کیا کریں!'
'میں تو پچھلے کئی دن سے یہ دعا کر رہا ہوں کہ تم مجھے نظراللہ کے گھر لے چلو۔ قندھار میں اس کا گھر کہاں ہے؟' میں نے کہا،
' مجھے تھوڑی مشکل تو ہوئی لیکن فکر کی کوئی بات نہیں ہے۔ میں نے انتظام کر لیا ہے۔۔۔ آپ کہیں تو ابھی چلتے ہیں؟' نور نے ادب سے کہا اور پھر شواٹز سے پوچھا، 'ڈاکٹر صاحب، کیا آپ بھی ہمارے ساتھ چلیں گے؟'
'مجھے خوشی ہو گی!' اس نے بھی جواباً آداب کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کہا۔ وہ کھانے کے پیسے ادا کرنے کے لیے جیبیں ٹٹولنے لگا لیکن کچھ سوچ کر بولا، 'کیا کھانے کے پیسے فرنگی دے گا؟'
' مجھے شرمندہ مت کیا کرو، میں پیسے دے دوں گا!' میں نے اسے تسلی دلاتے ہوئے کہا۔ میں نے صرف شواٹز ہی نہیں بلکہ سبھی مہاجرین کے ساتھ اکثر یہی معاملہ دیکھا کہ وہ پیسے سے متعلق ہر وقت پریشان رہتے ہیں۔ جرمن تو ویسے ہی اس معاملے میں کائیاں واقع ہوتے ہیں۔ میری تسلی پر اس نے سکھ کا سانس لیا اور جب میں نے بیرے کو پیسے نکال کر دیے تو وہ برتن لے جانے لگا۔ شواٹز نے جاتے ہوئے، لپک کر چنگیر سے آدھا نان اٹھا لیا اور باہر نکل کر گلی میں پیدل چلتے ہوئے چبا چبا کر کھانے لگا۔
نور ہمیں ساتھ لیے ایک روایتی قلعہ بند، اونچی دیواروں والے گھر کے دروازے پر پہنچ گیا۔ پہرے دار نے ہم تینوں کا سر سے پیر تک اچھی طرح گھور کر جائزہ لینے کے بعد ہی اندر داخل ہونے دیا۔ اس گھر میں کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی۔ ایک باغیچہ تھا جس میں چند پھلوں کے درخت تھے۔ گارے کی دیواریں، کچے فرش پر فارسی قالین اور ایک بوڑھا نوکر بھی تھا۔ مہمان خانے میں دیوار پر شاہ افغانستان کا آدم قد پورٹریٹ آویزاں تھا اور میز پر ٹائم رسالے کے کافی پرانے شمارے دھرے ہوئے تھے۔ فرنیچر پرانا تھا لیکن کمرے کے ڈیکور کے ساتھ بہت ہی بھلا محسوس ہو رہا تھا۔ بھاری لکڑی کے فرنیچر پر انگورا اون سے بنے گاؤ تکیے وغیرہ بھی لگا رکھے تھے، الغرض یہ ایک روایتی لیکن کسی روشن خیال افغان کا گھر معلوم ہوتا تھا۔
یہاں تک تو ٹھیک تھا لیکن پہلی بار کسی افغان گھر میں روایت سے ہٹ کر واقعہ ہوا۔ ہوا یوں کہ اچانک گھر کے اندر جانے والا دروازہ کھلا اور ایک جوان عورت ریشمی چادر میں لپٹی ہوئی داخل ہوئی۔ ڈاکٹر شواٹز گھر کے اندر بھی عورتوں کی یوں سختی کے ساتھ پردہ داری دیکھ کر حیران رہ گیا۔ نور محمد بھی اس عورت کو مردانے میں دیکھ کر قدرے سٹپٹا گیا لیکن بہرحال آگے بڑھ کر میرا تعارف کرایا اور امریکی سفارتخانے کا حوالہ دیا۔ پشتو میں اس عورت نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا ، 'میں آپ کو نظراللہ کے یہاں آمد پر خوش آمدید کہتی ہوں'پھر اس نے نور سے سرگوشی میں کچھ پوچھا، جس پر اس نے رضامندی سے سر ہلا دیا۔ عورت نے نوکر کو آواز دی جو اپنے ساتھ دو بچوں کو ساتھ لیے اندر آ گیا۔ یہ دو بچے ایک چار یا پانچ سالہ لڑکی اور دوسرا چند ماہ کا نومولود لڑکا تھے۔
'یہ نظراللہ کے بچے ہیں' نور محمد نے مجھے بتایا، 'اس کی بیٹی میری سب سے چھوٹی لڑکی کی ہم عمر ہے'
'تمھارے کتنے بچے ہیں؟' میں نے پوچھا،
'تین!'
'تمھاری بیوی افغان ہے؟'
'اس بات کا بھلا تمھارے ساتھ کیا تعلق ہے' شواٹز نے گھبرا کر مجھے ٹوکنے کی کوشش کی کیونکہ عام طور پر افغانستان میں عورتوں کے بارے غیر مرد گفتگو نہیں کیا کرتے تھے۔
'اس کا تعلق شمال سے ہے' نور نے فرمانبرداری سے جواب دیا تو شواٹز کی جان میں جان آئی۔
یہ عجیب صورتحال تھی۔ ہم تینوں آپس میں ہی باتیں کیے جا رہے تھے۔ دراصل افغانستان میں پہلی بار کسی محفل میں ایک مقامی عورت بھی بیٹھی ہوئی تھی، جس کی موجودگی کے سبب ہمیں کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا۔ عجیب تر بات یہ بھی تھی کہ اگر کوئی افغان مرد اس قدر ماڈرن ہو سکتا ہے کہ اس کے گھر میں فرنگی اور عورتیں ایک ہی کمرے میں اکٹھے بیٹھتے ہیں تو وہ یقیناً عورتوں کو خواہ مخواہ پردہ نہ کرنے کی اجازت بھی دے سکتا ہے لیکن ایسا نہیں تھا۔ نظراللہ کی بیوی مہمان خانے میں مردوں کے ساتھ بیٹھی تھی لیکن اس نے بدستور پردہ کیے رکھا تھا۔ یہ بات کم از کم میرے لیے بہت عجیب و غریب تھی ۔ مجھے تو یہ بھی محسوس ہوا کہ نظراللہ کی بیوی بھی یہی سوچ رہی تھی لیکن وہ باز رہی کیونکہ نور محمد افغان تھا۔ وہ سرکاری کارندہ تھا اور عین ممکن تھا کہ وہ پردے کا حامی ہو۔ اگر ایسا ہوا تو پھر؟ اسی لیے اپنے شوہر اور اس گھرانے کی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے اس کا پردہ کرنا ضروری تھا۔
یہ تو نظراللہ کی بیوی کا معاملہ تھا لیکن دوسری جانب نور محمد تھا۔ میرے علم کے مطابق وہ افغانستان کے گنے چنے روشن خیالوں میں سے ایک تھا ۔ وہ پردے کا کچھ خاص حمایتی بھی نہیں تھا بلکہ وہ تو اس کو ترک کرنے کا خواہاں تھا۔ وہ بھی یہی چاہتا ہو گا کہ نظراللہ کی بیوی سے کہے، 'اگر آپ چاہیں تو پردہ نہ کریں' لیکن اسے ڈر یہ تھا کہ کوئی نہ کوئی اس کی اس حرکت کی کابل میں حکام کو اطلاع کر دے گا اور اس کی جان پر بن آئے گی۔ ویسے بھی وہ افغان حکومت میں اس مقام پر فائز نہیں تھا کہ جہاں چاہتا، اپنی مرضی کے اصول اور قانون بنا لیتا۔
ان دونوں کے ساتھ عجیب و غریب معاملہ تھا۔ یہ دونوں ہی برقعے سے نجات چاہتے تھے لیکن ایسی صورتحال میں پھنس گئے تھے کہ انہیں ہر صورت اس کا دفاع بھی کرنا پڑ رہا تھا۔ خاموشی جب طول پکڑنے لگی تو میں نے انگریزی میں نور محمد سے ہی پوچھا، 'مسز نظراللہ اپنے شوہر کے ساتھ قلعہ بست کیوں نہیں گئیں؟' مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ آخر میں اس عورت سے کیسے مخاطب ہوں جس کو میں دیکھ بھی نہیں سکتا تھا۔ بلکہ الٹا یہ ڈر لگ رہا تھا کہ آیا ایسا کرنا مناسب بھی ہے یا نہیں؟ مجھے تو یہ تک سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ آخر میں اس کو مخاطب کیسے کروں؟
'آپ خود ان سے پوچھیں' نور محمد نے میری حالت کو سمجھتے ہوئے کہا۔ میں نے پشتو میں نہایت سادگی کے ساتھ نظریں زمین پر گاڑھے اپنا سوال دہرایا۔
'وہاں ہمارے رہنے کے لیے جگہ نہیں تھی' نظراللہ کی بیوی نے آہستگی سے جواب دیا۔ چادر کے پیچھے سے عورت کا جواب سننے کا یہ میرا پہلا تجربہ تھا۔ میرا تجسس بڑھنے لگا۔
'میں سمجھ سکتا ہوں' میں نے کہا لیکن دل ہی دل میں سوچا کہ کیا وہاں ایلن جاسپر کے لیے رہنے کی جگہ تھی؟
'آپ تسلی سے بیٹھ جائیں' وہ ہماری حالت کو پوری طرح سمجھ رہی تھی۔ بوڑھا نوکر نارنجی کے رس سے بھرے چار گلاس بھر لے آیا۔ میں نے سوچا، آخر نظراللہ کی بیوی نقاب اوڑھے مشروب کیوں کر پیے گی؟
'ہم جلد ہی آپ کے شوہر کے ساتھ ملاقات کریں گے' میں نے کہا اور مروتاً پوچھا، 'اگر آپ نے کچھ بھجوانا ہو تو ضرور بتائیے!'
'یہ آپ کی مہربانی ہے' اس نے رسمی انداز میں کہا اور میں نے دیکھا کہ اس نے پہلے ہی ایک بکسے میں کچھ چیزیں باندھ کر تیار رکھی ہوئی تھیں۔
'میں بھول گیا تھا کہ نور پہلے بھی یہاں آ چکا ہے' میں نے اپنی بات سمیٹتے ہوئے کہا۔
'ہاں جی!' وہ پرسکون ہو گئی، 'اس نے کل ہی مجھ سے یہی بات کہی تھی لیکن مجھے خوشی ہوئی کہ آپ کو بھی نظراللہ کا پورا خیال ہے اور یہ تھوڑا سا سامان لے جانے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ میں نور کو مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتی تھی'اس کے الفاظ کا چناؤ، رکھ رکھاؤ اور بات چیت میں اعتماد دیکھ کر مجھے نظراللہ کے بارے اپنے خیالات پر دوبارہ سے غور کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ نظراللہ کی افغان بیوی کوئی بیچاری نہیں تھی، وہ گری پڑی اور معمولی عورت بھی نہیں تھی ۔ جیسا کہ مجھے توقع تھی، اس کے برعکس وہ دیہاتی اجڑ بھی نہیں تھی کہ جس کا کام صرف بچے پیدا کرنا اور نسل آگے بڑھانا ٹھہر جاتا ہے۔
'کیا آپ پشتو کے علاوہ بھی کوئی دوسری زبان بول سکتی ہیں؟' میں نے تجسس سے پوچھا،
'فرانسیسی۔۔۔' اور پھر آہستگی سے، لیکن فخر کے ساتھ بتایا کہ، 'تھوڑی بہت انگریزی بھی سمجھ لیتی ہوں'
'یہ عقلمندی ہے' شواٹز منہ ہی منہ میں بڑبڑایا، 'کسی دن یہ ایک افغان سفیر کی بیوی ہو گی!'
نظراللہ کی بیوی شواٹز کی پوری بات نہیں سمجھ سکی۔ نور نے اس کی بات پشتو میں دہرائی تو پردے کے پیچھے سایہ کھنک کر ہنس پڑا۔ پھر وہ ڈاکٹر کی جانب مڑی اور پوچھا، 'کیا آپ فرانسیسی زبان بول سکتے ہیں؟'
'جی ہاں!' شواٹز نے جلدی سے کہا،
'اور آپ، ملر صاحب؟'
'بالکل!' میں نے سر ہلا کر کہا
'تو پھر کیوں نہ ہم سب اسی زبان میں بات کریں؟' اس نے فرانسیسی میں کہا۔ میں سمجھ گیا کہ وہ فرانسیسی زبان پر عبور رکھتی ہے۔ میں نے نور کی جانب دیکھا تو نظراللہ کی بیوی نے کہا، 'ارے، نور تو فرانسیسی زبان مجھ سے بھی بہتر بول لیتا ہے'
یہ سن کر مجھے قدرے حیرت ہوئی، جس پر نور نے سمجھایا کہ، 'آپ کے یہاں تعیناتی سے قبل میں فرانسیسی سفارتخانے میں کام کرتا تھا' تس پر میں نے سوچا کہ افغانوں کو جب کوئی کام کا آدمی مل جائے تو وہ اسے ہر گز ہاتھ سے جانے نہیں دیتے، نور محمد انہی کام کے آدمیوں میں سے ایک تھا۔
ڈاکٹر شواٹز نے تبصرہ کیا، 'تم تین سال بعد لوٹ کر آنا تو دیکھو گے کہ نور محمد صاحب فر فر روسی بول رہے ہوں گے'
'خیر۔۔۔' نظراللہ کی بیوی نے دونوں ہاتھ یوں باندھ لیے جیسے کسی بڑی کمپنی کی ایگزیکٹو ہو، 'مجھے نور محمد نے آپ کی آمد کا مقصد بتا دیا تھا، میری بھی یہی خواہش ہے کہ میں آپ کی مدد کر سکوں۔ لیکن ملر صاحب، مجھے نظراللہ کی دوسری بیوی کے بارے کچھ علم نہیں ہے کہ وہ کہاں گئی!'
'کیا وہ اس کے ساتھ نہیں ہے؟' میں نے پوچھا،
'میرے خیال میں وہ اس کے ساتھ نہیں ہے'
'اور وہ یہاں بھی نہیں ہے؟'
اس سوال پر نظراللہ کی بیوی خوش کن انداز میں ہنس کر طنزاً بولی، 'نہیں۔ ہم نے پچھلے کافی عرصے سے یہاں قندھار میں کسی فرنگی بیوی کو نہیں چھپایا'
'معاف کیجیے گا، میرا ہر گز یہ مطلب نہیں تھا' میں نے کھسیانا ہو کر کہا،
'میں آپ کی بات سمجھ سکتی ہوں۔ کچھ برس پہلے ایسے اکا دکا واقعات پیش آ چکے ہیں۔آپ کا شک اپنی جگہ درست ہے'
'مجھے درپیش صورتحال کو سمجھنے کا شکریہ!' میں نے کھلے دل سے کہا،
'میں آپ کو ایک بات کا یقین ضرور دلانا چاہوں گی۔ مجھ پر ایک دوست کی حیثیت سے اعتبار کیجیے کیونکہ میں آپ اور نہ ہی ایلن کو نقصان پہنچا سکتی ہوں۔ میری اور ایلن کی آپس میں کبھی تلخ کلامی نہیں ہوئی۔ میں نے بھی اس کی کبھی تضحیک نہیں کی۔ ہم تھوڑے عرصے کے لیے کابل میں ایک ہی گھر میں اکٹھے رہے، ہم دونوں نے وہ بہت اچھا وقت گزارہ تھا۔ وہ بالکل میری بہنوں کی جیسی تھی۔ اس نے میری بیٹی کو سنبھالنے میں کافی مدد بھی کی تھی'
'کیا اسے آپ کے متعلق پہلے سے علم تھا؟'
'بالکل علم تھا' وہ ہنس کر بولی، 'جس دن ہماری پہلی ملاقات ہوئی، اس نے مجھے چوم کر کہا۔۔۔ تم یقیناً کریمہ ہو۔ نظراللہ نے مجھے تمھارے متعلق پہلے سے بتا رکھا ہے'
'واقعی؟ یقین نہیں آتا' میں نے سپاٹ لہجے میں کہا، 'کوئی بھی امریکی لڑکی۔۔۔'
نور نے مداخلت کی، 'ملر صاحب، میرے خیال میں یوں کہنا ہر گز مناسب نہیں ہے۔ آپ کے خیال میں کیا واقعی یہ ناقابل یقین بات ہے؟ کیا کریمہ نے جو کہا، اس کے علاوہ آپ نے افغانستان میں معاملات دیکھ رکھے ہیں، وہ قابل یقین تھے؟'
'تم درست کہہ رہے ہو۔ میں معافی چاہتا ہوں'
'میں جانتی ہوں کہ افغانستان کو سمجھنا آپ کے لیے کس قدر مشکل ہے' نظراللہ کی بیوی نے نرمی سے کہا، 'لیکن اپنی رپورٹ میں یہ بھی درج کر لیں ملر صاحب کہ نظراللہ کے گھر میں ایلن کو احترام اور محبت ہی ملی۔ اس کے ساتھ ہم نے جس قدر ممکن تھا، اچھا سلوک کیا'
'کیا نظراللہ کی ماں اور اس کی بہنوں کا رویہ بھی ایسا ہی تھا؟'
'ایلن ہر روز شام کو دو گھنٹے نظراللہ کی ماں سے پشتو زبان کی کلاس لیتی تھی۔ وہ بہت ہی اچھی لڑکی تھی اور ہمارے خاندان کی ساری لڑکیاں اس کی گرویدہ ہو گئی تھیں۔۔۔ ساری کی ساری!' یہ کہہ کر وہ اٹھ کھڑی ہوئی، سر کی جنبش سے ہمارا شکریہ ادا کیا اور اندر جانے لگی۔ اس کے حصے کا نارنجی کا رس جوں کا توں پڑا رہا۔
'صرف ایک سوال!' میں نے جاتے ہوئے سماجت سے کہا، 'کیا آپ نے ایلن کے متعلق کوئی افواہ۔۔۔ چاہے وہ کتنی ہی احمقانہ۔۔۔'
'افواہ؟ کس بارے میں؟ یہی کہ اس کے ساتھ کیا ہوا؟ نہیں، میں نے ایسی کوئی افواہ نہیں سنی۔ لیکن میں آپ کو یہ یقین ضرور دلا سکتی ہوں کہ ایلن نے جو بھی قدم اٹھایا، سوچ سمجھ کر اٹھایا۔ وہ نہایت ذہین لڑکی تھی، اسے اس کی مرضی کے سوا کوئی مجبور نہیں کر سکتا۔ اس نے جو چاہا تھا، وہی کیا اور وہی ہوا۔ مجھ سے پوچھیں تو وہ نہایت روشن دماغ اور حیرت انگیز لڑکی تھی۔ اگر اس کے ساتھ کچھ برا ہوا ہے تو مجھے اس کا یقین نہیں آتا۔ یہ بات آپ ضرور جان لیں کہ۔۔۔' اس نے تامل کیا اور گہری سانس لی، مجھے لگا شاید وہ رو رہی ہے۔ پردے کے پیچھے اس کے اصل جذبات کو سمجھنا قدرے مشکل ہو رہا تھا، 'جب نظراللہ اس کو لے کر قندھار آنے لگا تو مجھے وہیں کابل میں چھوڑ دیا گیا۔ لیکن ایلن نے زبردستی کر کے مجھے بھی قندھار بلوا لیا۔ جب میں یہاں پہنچی تو ایلن نے مجھ سے کہا، میں تمھاری بیٹی کے بغیر بہت اداس ہو گئی تھی۔ ملر صاحب، ہم دونوں کے بیچ بہت اچھا وقت گزرا، وہ مجھ سے اور میرے بچوں سے بہت پیار کرتی تھی'
یہ کہہ کر وہ مڑ کر جانے لگی لیکن کچھ سوچ کر دروازے میں رک گئی اور کہا، 'شاید اس نے مجھے قندھار اس لیے بلوایا تھا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ میرے بچے ہیں لیکن وہ خود کبھی ماں نہیں بن سکتی۔ ڈاکٹر شواٹز سے پوچھ لیجیے، وہ اس بات کی تصدیق کریں گے'۔
اس نے دروازے میں کھڑے ایک دفعہ پھر ہمارا شکریہ ادا کیا اور چلی گئی۔ میں نے محسوس کیا وہ جاتے ہوئے رو رہی تھی۔ جب وہ چلی گئی تو میں نے کہا، 'میں تو ہندوکش کے کسی قبائلی گھرانے کی ان پڑھ عورت کی توقع کر رہا تھا'
'ملر صاحب، کیا بات کرتے ہیں؟ اس کی بہن فرانس میں بورڈاکس کی پڑھی ہوئی ہے' نور نے تصیح کی،
میں شواٹز کی طرف مڑا اور پوچھنے لگا، ' بچوں سے متعلق۔۔۔'
ڈاکٹر نے میری بات شروع ہوتے ہی کاٹ دی۔ وہ جرمن زبان میں زور سے بڑبڑایا جس کی مجھے ذرہ برابر سمجھ نہیں آئی۔ وہ جان چھڑا کر باہر جانے لگا مگر جاتے ہوئے پشتو میں غصے سے بولا، 'اس طرح کے معاملات سے سفارتخانے کا کوئی تعلق نہیں ہے' یہ کہہ کر وہ بیٹھک سے نکل گیا اور پیچھے نہ آنے کا اشارہ بھی کر دیا۔ میں اس کی حالت دیکھ کر سمجھ گیا کہ اس نے جرمنی سے فرار کیوں اختیار کی ہو گی؟ وہ ایک ایماندار، سخت مزاج اور خود سر آدمی تھا۔ اس کے لیے نازی حکومت میں بسر کرنا جہنم بن چکا ہو گا۔
نور نے عیاری سے کہا، 'بچوں سے متعلق کریمہ نے کو کچھ کہا۔۔۔ شواٹز کے ردعمل سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے'
'کیا واقعی؟ یہ تم کیسے کہہ سکتے ہو؟'
'آپ چاہیں تو اس بات کو ابھی اپنی رپورٹ میں شامل کر لیں' نور نے تاکید کی، ' ویسے بھی اس بات کا جلد ہی پتہ چل جائے گا'
ہم نظراللہ کے گھر سے لوٹ آئے۔ شام کو میں اور نور کھانے کی میز پر بیٹھے تو شواٹز ہمارے ساتھ نہیں تھا اور نہ ہی وہ لوٹ کر آیا۔ ہمیں افسوس تو ہوا لیکن غالباً اس وقت اسے ہمارے ساتھ بیٹھنا گوارہ نہیں تھا۔ ہم نے نان اور پلاؤ کھایا اور چوک میں سجی محفل سے دیر تک محظوظ ہوتے رہے۔ میں نے نور سے کہا، 'اس طائفے کو تم نیو یارک لے جاؤ تو یقین کرو۔۔۔ وہاں لوگ اس فنکاری کو دیکھ کر پاگل ہو جائیں گے۔ پورے شہر میں کھلبلی مچ جائے گی، دھوم ہو گی'
'واقعی؟' اس کے انداز میں شک تھا،
'یقین مانو، ایسا ہی ہو۔ یہ جو اس طائفے کی جان ہے، یہ رقاص۔۔۔ یہ اکیلا ہی امریکہ کے کسی بھی تھیٹر کے اچھے سے اچھے فنکار پر بھاری پڑ سکتا ہے۔ تمھیں اندازہ ہی نہیں کہ یہ کس قدر دلکش فن کا مالک ہے!'
'وہ دیکھیں ملر صاحب!' نور نے ہنستے ہوئے ایک جانب اشارہ کیا، 'ہمارے اوورکوٹ صاحب وہ کھڑے ہیں!' میں نے مڑ کر دیکھا تو بدخشاری جوان شائقین کے بیچوں بیچ ہونق بن کر کھڑا اس رقاص کو ہونقوں کی طرح تاڑ رہا تھا۔ بدخشاری کا اس رقاص بارے خیال تھا کہ، 'پر نہیں ہیں۔۔۔ لیکن پھر بھی اڑتا ہے'
طائفے کے بارے میرے خیالات سن کر نور محمد افسردہ ہو گیا حالانکہ میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ 'کئی لحاظ سے افغانستان میں بلا کا جوہر چھپا ہوا ہے۔ کوہستانوں میں ایسے ایسے داستان گو گزرے ہیں کہ کیا بتاؤں؟ مشہور ترین یورپی ناول نگار بھی ان کی قصہ خوانی کے سامنے پانی بھرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ آپ نے یہ رقص کا فن دیکھا تو مسحور ہو گئے۔۔۔ ملر صاحب، کیا آپ کو احساس ہے کہ کسی بھی ہنر مند یا فن کاروں کے لیے ایک ایسی جگہ میں بسر رکھنا کس قدر مشکل ہے جہاں فن اور نہ ہی اس فنکار کی قدر ہے اور نہ ہی اس کا مظاہرہ کرنے کے لیے ڈھنگ کی کوئی جگہ مخصوص ہے؟' میں نے نور کی باتوں پر تبصرہ کرنا مناسب نہیں سمجھا لیکن اس نے پوچھا، ' کیا یہ درست ہے کہ روس میں اسی طرح کے طائفوں کو فن کا مظاہرہ کرنے پر بیش قیمت انعامات کے ساتھ تمغے بھی دیے جاتے ہیں؟ میں نے تو سن رکھا ہے کہ انہیں پیرس میں بھی اہتمام سے بلایا جاتا ہے؟'
'یہ درست ہے!' میں نے جواب دیا، 'روس ہی نہیں بلکہ تقریباً ہر ملک میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ جنگ کے دوران میں چین گیا تھا۔ وہاں تو یہ صورتحال تھی کہ چینی دن بھر جاپانیوں کے ساتھ لڑائی لڑتے تھے لیکن رات کو اوپرا دیکھنے تھیٹر کا رخ بھی ضرور کرتے تھے۔ تم یقین کرو۔۔۔ وہ چینی فنکار بھی کسی بھی طور ان فنکاروں کے ہم پلہ نہیں تھے'
'کیا واقعی؟' نور نے محو ہو کر ایسے کہا جیسے خود سے ہی سوال پوچھ رہا ہو۔ وہ پھر رنجور ہو گیا، میں اسی لیے تبصرہ نہیں کرنا چاہتا تھا۔
میرے خیال میں جشن نو روز کے دوران قندھار اور اس کے گرد و نواح میں طائفوں اور ان رقاصوں کے علاوہ کوئی موضوع زیر بحث نہیں ہوتا۔ جہاں دیکھو، جس محفل میں چلے جاو، ان کا تذکرہ ضرور ہی رہتا ہے۔ اگلی صبح بھی پھر یہی ہوا۔۔۔ میں سویرے کمرے میں بیٹھا شیو بنا رہا تھا کہ ہوٹل کے احاطے میں کسی نے میرا نام پکارا۔ ہماری جیپ کی حفاظت پر مامور چوکیدار اونچی آواز میں کسی مہمان کی آمد کی خبر دے رہا تھا۔ میں نے کھڑکی میں سے جھانک کر دیکھا تو ڈاکٹر شواٹز کھڑا تھا۔
'اس کو اندر آنے دو!' میں نے پشتو ہی میں جواباً چلا کر حکم دیا۔
جرمن ڈاکٹر نے کمرے میں گھستے ہی پوچھا، 'کیا تم کچھ نرالی چیز دیکھنا چاہتے ہو؟ شاید اس طرح کے بے مثل چیز تمھیں دنیا میں کہیں دیکھنے کو نہ ملے'
'کیا چیز؟'
'کیا تم نے سنا نہیں؟ آج صبح چار بجے۔۔۔۔'
'ہاں، میں نے سنا!' نور نے جواب دیا، 'نیچے گلی میں کچھ گڑبڑ ہوئی ہے۔ میرے خیال میں کچھ لوگوں نے غل غپاڑا کیا ہے'
'تمھیں بھی پوری بات کا علم نہیں ہے' شواٹز نے کہا، 'لیکن تم ٹھیک کہہ رہے ہو۔ غل غپاڑا ہی ہوا ہے'
'آخر ہوا کیا؟' نور نے تجسس سے پوچھا،
'وہی جو ہوتا ہے۔ لونڈے باز آپس میں بھڑ گئے۔ جھگڑا اسی لڑکے کے سر ہوا ہے۔۔۔'
'کونسا لڑکا؟ وہی جس کے متعلق میں نے کہا تھا کہ نیویارک میں تہلکہ مچا سکتا ہے؟' میں نے پوچھا،
'نیویارک میں تہلکے کا تو علم نہیں لیکن یہاں اس لڑکے نے کل رات انت مچا دی' شواٹز نے کجی کے ساتھ کہا، 'دو لونڈے باز اس کے سر پر جھگڑ پڑے اور ان میں سے ایک قتل ہو گیا'
'بیڑہ غرق!' نور محمد نے بے اختیار ماتھا پیٹا اور پھر طائفوں کو انتہائی فحش گالی دی،
'وہی تو۔۔۔۔' شواٹز نے ہاں میں ہاں ملائی، 'میں نے تو پہلے ہی کہا تھا کہ یہ لڑکا کوئی نہ کوئی گل ضرور کھلائے گا۔ لونڈے باز نحس ہوتے ہیں۔ ملر، تمھیں میری بات کا یقین نہیں تھا ناں؟ اب دیکھ لو!'
'میرا نہیں خیال تھا کہ معاملہ قتل و غارت تک بھی پہنچ سکتا ہے' میں نے اعتراف کیا اور ہم تماشا کرنے نکل کھڑے ہوئے۔
غالباً نور محمد کو علم تھا کہ ہم کہاں جا رہے ہیں لیکن میں نابلد رہا کیونکہ افغانستان سے متعلق میں نے جتنی بھی کتابیں پڑھ رکھی تھیں اور غزنی میں پیش آنے والے واقعہ کے بعد بھی میں ذہنی طور پر اس کے لیے تیار نہ تھا جو قندھار میں ملاحظہ کرنے جا رہا تھا۔ ڈاکٹر شواٹز اس سے پہلے ہیرات میں اس طرح کا اجتماع دیکھ چکا تھا اور اچھی طرح جانتا تھا کہ کیا ہونے والا ہے۔ اسی لیے ہوٹل سے چوک تک پیدل جاتے ہوئے وہ ہمیں اپنے ساتھ کلینک لے گیا۔ مسلح چوکیدار کمرے کے اندر کسی کونے میں سے ایک بکس نکال کر لایا جس پر دو تالے لگے ہوئے تھے۔ اس بکسے میں سے شواٹز نے اپنا لائیکا کیمرہ نکال لیا۔ اس نے میری اور نور کی اپنے دفتر میں فوٹو بنا کر تسلی کی اور پھر کیمرہ کندھے پر لٹکایا اور سر پر قراقل ٹوپی بھی پہن لی۔ ہم یہاں سے سیدھا چوک کی جانب نکل گئے۔
اسی چوک میں گزشتہ شب طائفے نے محفل جما رکھی تھی اور رقاص صبح چار بجے تک فن کا مظاہرہ کرتے رہے تھے۔ یہاں لوگوں کا بڑا ہجوم اکٹھا ہو گیا تھا۔ قمقمے، سٹیج اور تنگ گلی میں سے طائفوں کا سامان ہٹا دیا گیا تھا۔ ریتلی زمین سورج میں تپ رہی تھی۔ ہجوم کے مرکز میں جہاں کل رات سٹیج بنایا گیا تھا، ایک بوڑھا شخص کھڑا تھا اور سب کا دھیان اسی کی جانب تھا۔ حلیے سے وہ کسی طور بھی موثر آدمی نظر نہیں آ تا تھا کیونکہ اس کی چپل ٹوٹی ہوئی تھی اور تن پر کپڑوں کے چیتھڑے ہو رہے تھے۔ لیکن اس کے باوجود سب اسی کی طرف نہ صرف متوجہ تھے بلکہ احترام سے بھی پیش آتے تھے۔ مجھے کچھ سمجھ نہ آئی کہ آخر یہ شخص کون ہے اور اس کے گرد لوگ مکھیوں کی طرح کیوں جمع تھے؟ جس کو دیکھوں، وہیں بڑھ کر اس کے ہاتھ تھام کر کچھ دیر پرسا دینے کی کوشش کرتا۔ سبھی لوگ اس کا لحاظ کرتے، احترام سے اس کو فرشی سلام کر رہے تھے۔ وہ خود نہایت سنجیدگی کے ساتھ یہاں کھڑا لوگوں کے تسلیمات کا جواب دے رہا تھا اور ایسا لگتا تھا کہ جیسے وہ اس محفل کا روح رواں ہو ۔ جہاں قتل کا دلخراش واقعہ، وہیں یہ بھی تھا کہ کئی لوگ اس اجتماع میں اس شخص کی وجہ سے جمع تھے ۔
جب سورج خاصا چڑھ گیا تو چوک بھی لوگوں سے بھر گیا۔ پھر ایک طرف گلی میں سے طبل بجایا گیا۔ طبل کی آواز رقص کے لیے بجائے جانے والے ڈھول کی آواز اور ردھم سے بالکل مختلف تھا۔ طبل کا مقصد دراصل وردی میں ملبوس کم از کم آٹھ پولیس اہلکاروں کی آمد کا اعلان تھا۔ یہ اہلکار دیکھنے میں سخت بدصورت تھے اور بلاشبہ ان کی دہشت لوگوں میں عام تھی۔ وہ جوڑوں کی شکل میں مارچ پاسٹ کرتے ہوئے، ہجوم کے بیچ میں سے راستہ بنا کر خالی جگہ پر آن کر اپنی مقرر کردہ جگہوں پر مستعد کھڑے ہو گئے۔ ان کے ٹھہرنے کی جگہوں کو پہلے ہی چونا ڈال کر واضح کر دیا گیا تھا۔ پھر لکڑی کے تختے اور کیلیں لائی گئیں اور انہی پولیس اہلکاروں نے زمین میں پھٹے گاڑھ کر ہتھوڑوں کی مدد سے صلیب نما کھونٹی بنا دی۔ اس دوران طبل مسلسل بجتا رہا۔
پھر کچھ دیر کے لیے خاموشی چھا گئی۔ طبل دوبارہ بجا اور گلی میں سے دو ملا برآمد ہوئے۔ ان کے قد پست تھے اور توند نکلی ہوئی تھی، حیران کن طور پر ان کے چہرے پر کوہستانی ملاؤں کے برعکس انتہائی نفاست سے تراشی ہوئی خط داڑھی تھی۔ انہوں نے اشارے سے طبل کی آواز کو روک لگانے کا حکم دیا۔ پہلے ایک اور پھر دوسرے ملا نے ٹھیٹھ پشتو میں کچھ ورد کیا اور آخر میں اجتماعی دعا بھی کروائی۔ مجھے ان کے خطبے کی سمجھ تو نہیں آئی لیکن ایسا لگتا تھا کہ وہ اس اجتماع کے حاضرین کے لیے بخشش، دل و دماغ کی پاکیزگی اور نیکی کا راستہ اپنانے پر زور دے رہے تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس موقع کو دیکھنے کے بعد ہمیں خدا کے احکامات ماننے اور اس کے نبی کی جانب سے متعین کردہ حدود کا پاس رکھنے کی پہلے سے زیادہ ضرورت رہے گی اور خدا اس اجتماع میں شریک ہر شخص کو اس کو اس کی سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق عطا کرے۔ جب یہ ہو چکا تو طبل دوبارہ بجنے لگے اور اسی عالم میں ایک شخص کو، جس نے بیڑیاں پہن رکھی تھیں اور یقیناً قیدی تھا، ہجوم کے سامنے، چار میخوں کے بیچ خالی جگہ پر لا کر کھڑا کر دیا گیا۔
'یہ تو بدخشاری ہے' میں قیدی کو دیکھتے ہی تقریباً چلا اٹھا،
'وہی ہے۔۔۔ یہ تو وہی ہے' نور بھی سٹپٹائے ہوئے لہجے میں چونک کر بولا لیکن اس نے فوراً ہی صورتحال کو بھانپ کر مجھے بھی منہ بند رکھنے کا اشارہ کر دیا۔ ڈاکٹر شواٹز نہایت اطمینان کے ساتھ اس اجتماع کی فوٹو گرافی میں مصروف تھا۔
بدخشار کا پہاڑیا۔۔۔ وہ جوان گھبراہٹ کا شکار تھا۔ اس پر سخت بدحواسی چھائی ہوئی تھی۔ مجھے شک گزرا کہ اس کی ذہنی حالت جواب دے چکی ہے کیونکہ اس کو گرد و پیش کی کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ وہ پورے ایک سال کی بچت جمع خرچ لیے قندھار میں جشن نو روز دیکھنے آیا تھا لیکن اب سخت مشکل میں پھنس چکا تھا، یہاں سے اس کا بچ نکلنا ناممکن تھا۔ اس پر مامور پولیس اہلکاروں کا سلوک نہایت تضحیک آمیز تھا اور وہ اس سے جانوروں کی طرح پیش آ رہے تھے۔
'کیا بدخشاری ہی قاتل ہے؟' میں نے گھبرائے ہوئے لہجے میں تقریباً سرگوشی میں نور سے پوچھا،
نور کی بجائے میری بائیں جانب کھڑے ایک شخص نے تفصیلات کچھ یوں بتائیں، 'کل رات جب محفل کا اختتام ہو گیا تو اس قیدی نے رقاص لڑکے کا سودا کرنا چاہا۔ لیکن اس کو علم نہیں تھا کہ ایک پولیس اہلکار نے پہلے ہی اس کے دام لگا رکھے تھے۔ یہ بیوقوف پہاڑیا معاملے کو سمجھنے کی بجائے توں تکرار کرنے لگا اور یوں بات بڑھ گئی۔ ان دونوں میں جھگڑا ہوا اور اس عقل کے اندھے نے آؤ دیکھا نہ تاؤ پولیس والے کو موقع پر ہی سب کے سامنے جان سے مار دیا۔ اس واقعہ کے کم از کم ساٹھ یا ستر عینی شاہد رہے ہوں گے، اس لیے شک کی تو کوئی گنجائش ہی نہیں تھی۔ اسے تو سزا ملنی ہی تھی'
'اس کی سزا کیا ہو گی؟' میں نے پوچھا،
'اے کاش آپ یہ نہ دیکھتے تو بہتر رہتا!' نور نے بے بسی سے کہا،
'کیا تم دیکھو گے؟' میں نے پوچھا،
'اگر یہ غزنی میں ہوا ہوتا تو شاید نہ دیکھتا، لیکن قندھار میں جو کچھ بھی ہو گا، آخر مجھے اس کی رپورٹ تو دینی ہی پڑے گی!' اس نے دونوں ہاتھ کھڑے کر دیے۔
وہی دو ملا آگے بڑھے اور بد حواس بدخشاری کے پاس پہنچ گئے اور اس کو مخاطب کیا، 'تمھارے ہاتھوں قتل کا جرم سرزد ہوا ہے' لیکن ملزم اس الزام کی صحت سے انکار یا اقرار کرنے کی حالت میں نہیں تھا۔ شاید اسے اور مجھے تو ہر گز اندازہ نہیں تھا کہ کیا ہونے جا رہا ہے؟ اس نے کوئی جواب نہیں دیا، غالباً اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ انہوں نے اس سے سوال نہیں کیا تھا بلکہ صرف بتایا تھا۔
اس کے بعد ملا نہایت پروقار قدم اٹھاتا مجمع میں ہی ایک شخص کے قریب گیا جو باقی سب سے ہٹ کر قدرے فاصلے پر کھڑا تھا۔ اس شخص کو میں پہلے نہیں دیکھ پایا تھا، وہ بھاری بھرکم جسامت کا پکی عمر کا آدمی تھا جس نے سر پر قراقل پہن رکھی تھی۔ ملاؤں نے اس سے پوچھا، 'کیا حکومت افغانستان اس معاملے کی قضاء اپنی ایماء پر قبول کرنا چاہتی ہے؟'
اس شخص نے جواب دیا، 'یہ طیش اور جذبات کے ہیجان میں سرزد کیا گیا جرم ہے۔ حکومت افغانستان کو اس جرم، مجرم اور اس کی ایماء سے کوئی سروکار نہیں ہے' اس نےصرف اتنا کہا اور معاملہ ملاؤں کو سپرد کر کے وہاں سے رخصت ہو گیا۔
اب کی بار ملاؤں نے اسی بوڑھے شخص کی جانب رخ کیا جس کو کچھ دیر پہلے تک سبھی پرسا دے رہے تھے۔ ملا نے بلند آواز میں اسے پکار کر کہا، 'گل مجید، اس شخص نے تمھارے بیٹے کا خون کیا ہے۔ خدا اور اس کے رسول کے قانون کے مطابق ہم اسے تمھارے حوالے کرتے ہیں، تم اپنے ہاتھوں سے اس کو سزا دینے کے روادار ہو۔ گل مجید، کیا تم یہ ذمہ داری قبول کرتے ہو؟'
بوڑھا شخص پروقار انداز میں آگے بڑھا، اس کا سر اونچا تھا۔ وہ بدخشاری جوان کے پہلو میں جا کھڑا ہوا اور مضبوط آواز میں اعلان کرتے ہوئے بولا، 'میں اس قیدی کو سزا دینے کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں' یہ کہنا تھا کہ ہجوم میں تھوڑی دیر کے لیے شور و غل ہوا لیکن ملاؤں نے سب کو چپ کرا دیا۔ پھر انہوں نے ایک دفعہ پھر، اجتماعی دعا کروائی، خدا سے انصاف اور رحم کی التجا کی۔ اس کے بعد ان دونوں نے بھی موقع سے رخصت لی اور موقع سے چلے گئے۔
وہ پولیس اہلکار جو قیدی پر پہرہ دے رہے تھے، وہ اسے تقریباً گھسیٹ کر بوڑھے شخص کے بالکل قریب لے آئے۔ اب یہ معاملہ قاتل اور مقتول کے وارثین کے بیچ رہ گیا تھا۔ یہ کوہستانوں اور صحراؤں کے انسانوں کی ہزاروں سال پرانی روایت ہے جو نسل در نسل چلی آ رہی ہے۔ ریاست اور مذہب دونوں نے یہاں پہنچ کر ہاتھ کھینچ لیے ہیں۔ اب یہ مجرم اور لواحقین کے آپس کا معاملہ ہے۔ وہ دونوں منہ در منہ کھڑے تھے اور اردگرد باقی لوگوں کا ہجوم اکٹھا تھا۔ لوگوں کا یہ ہے کہ وہ اس روایت اور قانون میں اہم کردار تھے کیونکہ وہی اس معاشرے کی اکائی تھے۔ میں نے دیکھا کہ رفتہ رفتہ لوگوں میں سخت تناؤ کی سی کیفیت پھیل رہی ہے، ہر شخص اعصابی دباؤ کا شکار ہے۔ خاموشی گہری ہوتی چلی گئی تا آنکہ بوڑھے شخص نے زور دور آواز میں چلا کر کہا، 'میرے بیٹے کے قاتل کو باندھ دو!'
یہ سنتے ہی لوگوں نے چلا کر اس کی حمایت کی اور میری بغل میں کھڑا نور محمد منہ میں کچھ بڑبڑانے لگا۔ میں نے غور سے سنا تو وہ خدا سے دعا مانگ رہا تھا، 'اے خدا، رحم کر۔ اس شخص کے دل میں رحم پیدا کر دے'لیکن لوگوں کے تیور دیکھ کر مجھے اس کی دعا بے سود معلوم ہوئی۔ آج رحم کی کوئی گنجائش نہیں تھی، آج تو انتقام لیا جائے گا۔
قاتل کے ہاتھوں کی کلائیاں اور پیروں کے ٹخنے لکڑی کی صلیب نما کھونٹی پر رسی سے باندھ دیا گیا۔ دور سے یہ منظر ایسے لگا رہا تھا جیسے عیسیٰ کو صلیب پر چڑھا دیا گیا ہے۔ یہ وقوعہ خدائی احکامات کے عین مطابق ضرور تھا لیکن آخر میں لے دے کر یہ صدیوں پرانی انتہائی قدیم سزا اور جزا کا تصور۔۔۔ مکافات عمل کا ماجرا بن چکا تھا۔ فضا میں قطعی اور کٹھور انتقام کی بو پھیل رہی تھی۔
جب قیدی کو اچھی طرح باندھ دیا گیا تو پہرے دار پیچھے ہٹ گئے۔ ان کی جگہ پولیس کے ایک دستے نے لے لی، جو مقتول کے ساتھی تھے۔ انہوں نے قاتل کی صلیب کو مناسب فاصلہ برقرار رکھتے ہوئے اردگرد سے دائرے کی شکل میں گھیر لیا۔ وہ قاتل کے اس قدر قریب تھے کہ اگر ہجوم کی طرف سے گڑبڑ ہوتی تو سنبھال لیتے لیکن اتنی دوری ضرور برقرار رکھی تھی کہ مجمع کے سبھی حاضرین کو یہ منظر دیکھنے میں قطعی مشکل پیش نہ آتی۔ کچھ دیر کی ہڑبونگ کے بعد مکمل خاموشی چھا گئی اور میں نے دیکھا کہ لوگ کاندھے ٹکراتے، کہنیوں سے جگہ بنا، آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ان کے منہ بند تھے۔ ہر شخص اس منظر کو دیکھنے کے لیے مناسب جگہ تاڑ رہا تھا۔ یہ نہایت عجیب منظر تھا کہ سینکڑوں لوگ جمع تھے، ان میں ہلچل بھی تھی لیکن مجال ہے کہ کسی کی آواز سنائی دیتی ہو؟
خیر، دیکھتے ہی دیکھتے مقتول کا باپ آگے بڑھا اور قاتل کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ اس نے منہ ہی منہ میں کچھ پڑھ کر پھونکا اور سینہ تان کر زور سے حکم دیا، 'کوئی مجھے تیغہ دو!' میں اس سے قبل نہیں جانتا تھا کہ تیغہ نامی بھی کوئی شے ہوتی ہے۔ بعد میں پتہ چلا کہ تیغہ تلوار نہیں ہوتی اور نہ ہی یہ خنجر ہوتا ہے بلکہ ان دونوں کی بیچ کی کوئی شے ہوتی ہے۔ اس کی مثال یوں کہ جیسے درانتی ہوتی ہے، لیکن یہ فصل کاٹنے کے لیے نہیں بلکہ وار کرنے کے لیے مناسب حد تک مڑی ہوئی اور انتہائی تیز دھار ہوتی ہے۔ مقتول کے ساتھی پولیس اہلکاروں میں سے ایک نے آگے بڑھ کر بوڑھے شخص کو تیغہ تو نہیں مگر ایک پرانی، زنگ آلود سنگین تھما دی۔ چھرا نما سنگین جو عام طور پر بندوقوں کے سرے پر فٹ ہوتی ہے۔ اس نے کہا، 'میرے دادا نے قندھار کے محاصرے میں یہ سنگین انگریزوں سے چھینی تھی' یہ سن کر لوگوں نے سیٹیاں بجا، چلا کر جذبات کا اظہار کیا۔
میں نے بدخشاری جوان کو غور سے دیکھا تو اس کے چہرے پر سخت خوف چھایا ہوا تھا۔ اسے ابھی تک کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی اور آنکھوں میں ڈورے تھے، جیسے نشہ کی حالت میں ہو۔ جب بوڑھا شخص تیار ہو گیا تو اس نے آگے بڑھ کر نہایت بے رخی سے بدخشاری کا سر پکڑ کر ایک طرف کو ڈھلکا دیا۔ جوان نے بوڑھے شخص کو اپنے سر پر سنگین بلند کیے دیکھا تو اب جا کر اسے ہوش آیا۔ پہلی بار اس کی چیخ بلند ہوئی، وہ خوف سے چلانے لگا اور تھر تھر کانپنے لگا۔
اس کی چیخیں انتہائی بھیانک تھیں، کانوں کو چیرتی ہوئی دونوں اطراف سے نکل رہی تھیں۔ مجھے ایسے لگا کہ جیسے کوئی جانور درد سے کراہ رہا ہو۔ ایسا لگا جیسے یہ چیخیں اس جگہ سے نکل کر انسانی تاریخ کے اوائل دور کے کونوں کھدروں میں بھی پہنچ رہی ہیں۔ میں نے دل ہی دل میں سوچا کہ یہ خوف اور چیخیں اس موقع کی مناسبت سے میل بھی کھاتی ہیں، ہمیں یہ احساس دلاتی ہیں کہ ہم اپنے جی کے اندر ابھی تک جانور ہی ہیں۔ بدخشاری نے چیختے چلاتے، دھاڑیں مارتے ہوئے بوڑھے شخص سے رحم کی درخواست کی لیکن اب بہت دیر ہو چکی تھی۔
مقتول کے باپ نے مضبوطی سے زمین پر پیر جمائے، پھر بائیں ہاتھ سے قاتل کے سر کے بال پکڑ لیے اور اس کے سر کو اپنی سہولت کے مطابق ایک جانب ڈھلکا کر گردن کو یوں کھینچا کہ جلد تن گئی۔ گردن کی رگیں بھی واضح ہو گئیں۔ پھر اس نے دائیں ہاتھ میں تھامی سنگین کو آہستگی سے بدخشاری کی گردن پر رکھا اور نہایت اطمینان کے ساتھ آرہ کشی کرنے لگا۔ آگے اور پیچھے سنگین کی کروت سے بدخشاری کا سر جھٹکے مارنے لگا اور خون کے فوارے چھوٹ گئے۔ اب اس کے منہ ہی نہیں بلکہ نرخرے سے بھی چیخیں بلند ہو رہی تھیں۔ مجھے اس لمحے ایک انسان اور جانور میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوا۔ آج تک میں نے صرف جانوروں کو ذبح ہوتے دیکھا تھا، زندگی میں پہلی بار یہ خیال کوندا کہ در اصل ہم اشرف المخلوقات نہیں ہیں بلکہ ہم میں اور جانوروں میں چنداں کوئی فرق نہیں ہے۔ جب ایک ہی انداز میں نرخرا کٹے تو پھر انسان اور جانور کا فرق مٹ جاتا ہے۔ یہ منظر دیکھ کر میرا جی سخت متلانے لگا اور محسوس ہوا کہ شاید قے کر دوں گا۔
پھر اچانک، خدا کا شکر ہے کہ ہمارے منہ کے آگے سے ہی ہجوم میں سے ایک شخص پولیس اہلکاروں کا گھیرا توڑ کر نکلا اور سیدھا مرکز میں پہنچ گیا۔ اسے دیکھ کر مقتول کے باپ نے قاتل کی گردن پر سنگین چلانی بند کر دی، میں نے شکر ادا کیا کہ بالآخر اب یہ دیوانگی ختم ہو جائے گی۔
میری حیرت کی انتہا نہ رہی کیونکہ مدخل ہونے والا شخص کوئی نہیں بلکہ ڈاکٹر شواٹز تھا۔ وہ بوڑھے شخص کے ساتھ پشتو میں بحث کرنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن چونکہ وہ حالت جنون میں تھا، اس لیے اسے ڈاکٹر کی بات کی ذرہ برابر سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ وہ اپنی جگہ پر کھڑا پریشانی سے اسے دیکھتا رہا۔ پھر میں نے دیکھا کہ شواٹز نے اپنے کیمرے کی طرف اشارہ کیا اور بلند آواز میں گویا ہوا جو مجھ سمیت اگلی صفوں میں تقریباً سبھی لوگوں نے صاف سنا کہ، 'اگر تم دوسری طرف سے سنگین چلاؤ تو روشنی صاف ہو گی۔۔۔ کیا کہتے ہو؟'
یہ سن کر بوڑھے شخص نے کندھے اچکائے اور اس کی بات کی چنداں پرواہ نہ کی۔ تس پر شواٹز نے تھوڑی سختی دکھائی، 'کیا تم چاہتے ہو کہ میں اس موقع کی یادگار تصویر بناؤں؟ تم نہیں چاہتے؟' تب جا کر اسے ڈاکٹر کی بات سمجھ میں آئی اور میں نے دیکھا کہ بوڑھے شخص نے جگہ بدل دی، قاتل کی گردن دوسری طرف ڈھلکائی اور سنگین سے ایک دفعہ پھر آرا کشی شروع کر دی۔ اس زاویے سے سورج کی روشنی سیدھی گردن پر پڑ رہی تھی، خون کے چھینٹے اچھلنے لگے اور اب منظر کشی میں کسی طرح کی کوئی رکاوٹ نہیں رہی۔ ڈاکٹر نے فاصلے پر رہتے ہوئے اس منظر کو کیمرے کی آنکھ سے فلم بند کر لیا، وہ مطمئن نظر آ رہا تھا۔
کچھ دیر یہ سلسلہ جاری رہا اور آخر بوڑھے شخص نے سنگین ہوا میں بلند کی اور کم از کم چار دفعہ چلاتے ہوئے زور سے لہو لہان گردن پر دے ماری جس سے اس مصیبت کے مارے کا نرخرہ، رگیں، نسیں اور گوشت کٹ کر علیحدہ ہو گیا۔ بدخشاری جوان ہلاک ہو چکا تھا اور اس کی دلخراش چیخیں بھی بند ہو گئیں۔ لوگوں کا جم غفیر بالکل چپ، سکتے کی حالت میں تھا اور صرف کٹنے اور ہڈیاں تڑکنے کی آوازیں آ رہی تھیں جیسے کوئی ٹوکا چلا رہا ہے۔ اس کے بعد بوڑھے شخص نے پہلے غضروف کی کرکری اور آخر میں گردن کے پیچھے مضبوط ہڈی پر وار کر کے توڑ دیا۔ اتنی محنت کے بعد وہ تھک چکا تھا۔ پسینے میں شرابور پیچھے ہٹا، سنگین کھونٹی پر ٹکائی اور دونوں ہاتھوں سے سر کو مضبوطی سے پکڑ کر مروڑا، اتنا مروڑا کہ اس کی جڑ نکل آئی اور سر تن سے جدا ہو گیا۔ اس کے ہاتھ اور کپڑے خونم خون تھے، ایک ہاتھ میں سنگین اور دوسرے میں کٹا ہوا سر بالوں سے پکڑ کر اٹھا لیا اور فتح مندی سے گول دائرے میں چکر لگانے لگا۔ وہ حاضرین کو بدخشاری کا کٹا ہوا سر دکھانے لگا۔
اب تک پیچھے سے ہو رہی دھکم پیل سے میں اور نور محمد کافی آگے پہنچ چکے تھے، بوڑھا شخص کٹا ہوا سر اٹھائے میرے پاس پہنچا تو مجھ سے دیکھا نہ گیا۔ میں نظریں چراتے ہوئے بوڑھے شخص کے کندھے سے پار دیکھنے لگا۔ تبھی میری نظر رقاص لڑکے پر پڑی جو اس مسئلے کی جڑ تھا۔ وہ فخر سے سر بلند کیے بوڑھے کے پیچھے پیچھے قدم پر قدم ملاتا ہوا چلا آ رہا تھا۔ حیران کن طور پر اس کے چہرے پر عجیب سی خوشی تھی، اس نے نہا دھو کر صاف ستھرا نیا جوڑا اور خوشبو بھی پہن رکھی تھی۔ میں نے اسے نفرت انگیز نظروں سے دیکھا، وہ بھانپ گیا۔ میرے قریب سے گزرتے ہوئے دانت کھول کر مسکرایا اور سرگوشی میں بولا، 'یہ سخت دہشت ناک ہے، نہیں؟'
مجھے سخت غصہ آیا لیکن میرا دھیان بٹ گیا، کوئی مجھے آوازیں دے کر بلا رہا تھا۔ شواٹز نے مجھے اور اس رقاص کو ایک ساتھ دیکھ لیا، اب وہ ہم دونوں کی اکٹھی فوٹو بنانا چاہتا تھا۔ اس نے ایک لمحے کو کیمرہ درست کیا اور پھر رقاص کو میرے قریب ہونے کو کہا۔ رقاص کو فوٹو بنوانے کا کافی تجربہ تھا، اسی لیے وہ سنبھل کر پوز بنا کر لچکیلے انداز میں کھڑا ہو گیا جب کہ میں اس کی بغل میں ہونق بنا، قراقل پہنے، آنکھوں میں بے یقینی سے سامنے کھڑا رہ گیا۔ یہ فوٹو ابھی تک میرے پاس محفوظ ہے اور یہ اکثر نہ صرف مجھے بلکہ اس موقع کی روداد سننے والوں کو ان واقعات بارے یقین دلانے کے کام آتی ہے۔
نور اور میں وہاں سے چلے آئے، ہم نے کوئی بات نہ کی۔ ہم ریستوان میں آن کر بیٹھ گئے لیکن میری بھوک اڑ چکی تھی۔ تھوڑی ہی دیر میں ڈاکٹر شواٹز بھی آ گیا اور اطمینان سے کرسی سنبھال لی، جیسے کچھ ہوا ہی نہیں، 'مجھے بئیر کی بوتل چاہیے۔ نور محمد مسلمان ہے، وہ نہیں پیتا اور تمھیں تو بئیر پسند ہی نہیں ہے' ہوٹل کا بیرہ بئیر نکال لایا شواٹز نے اطمینان سے کہا، 'میرے پاس آخر کار قندھار چھوڑ کر کابل چلے جانے کی دو معقول وجوہات ہیں۔ پہلی تو یہ کہ وہاں اس طرح سرعام سزا دینے کا تصور نہیں ہے اور دوسری یہ کہ وہاں کم از کم جرمن بئیر تو عام مل ہی جاتی ہو گی'
'اگر سرعام سزا دینے کے عمل سے تمھیں اتنی ہی کراہت ہوتی ہے تو۔۔۔' میں نے مریل آواز میں پوچھا، 'تم نے اس موقع کی اہتمام کے ساتھ فوٹوگرافی کیوں کی؟'
'میرا ماننا ہے کہ ان واقعات کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جانا چاہیے' اس نے جواب دیا، 'اس طرح کے سبھی تاریخی مواقعوں کا ریکارڈ ہونا چاہیے۔ چند برسوں میں یہ سب ختم ہو جائے گا۔ تم نہ سہی لیکن نور محمد میری بات سے اتفاق کرے گا۔۔۔'
'لیکن جب عین مرکز میں پہنچ ہی گئے تھے۔۔۔ تم اس بوڑھے شخص کو روک بھی سکتے تھے'
'میں اسے روکتا؟' شواٹز تقریباً چلا اٹھا، 'وہ سب مل کر مجھے وہیں مار دیتے'
'شواٹز درست کہہ رہا ہے، وہ اسے مار دیتے' نور نے اس سے اتفاق کیا،
'لیکن تم نے یہ کیا کیا؟ رخ بدلوا دیا؟ اف خدا۔۔۔ سخت مکروہ کام تھا۔۔۔ شرم تو درکنار تم نے تو کوئی لحاظ بھی نہیں رکھا!'
'میں نے اس قانونی عمل میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ میرے کہنے یا نہ کہنے سے کوئی فرق نہ پڑتا، وہ پھر بھی اس کا سر تن سے جدا کر دیتا' اس نے جواب دیا اور بئیر کی بوتل کا ڈھکن کھولنے لگا۔
میں اندر ہی اندر غصے میں کھول رہا تھا لیکن پھر اچانک ہنسنے لگا۔ بیکار ہی، طوفانی انداز میں زور زور سے جناتی قہقہے لگا کر ہنسا تو نور محمد اور شواٹز دونوں ہی بے چین ہو گئے۔ انہیں کچھ سمجھ نہ آ رہی تھی۔ میں باہر سڑک کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گیا کہ کرسی سے گر پڑا۔ ان دونوں نے باہر دیکھا اور مجھے روکنے کی کوشش کرنے لگے لیکن ناکام رہے۔ دراصل باہر سڑک پر چوک میں سرعام بدلہ لینے کے بعد وہی بوڑھا شخص خون سے لت پت کپڑوں میں چلا آ رہا تھا۔ اس نے ایک ہاتھ میں وہی سنگین اٹھا رکھی تھی جس سے انتقام لیا تھا لیکن دوسرے ہاتھ میں اس نے اسی لونڈے رقاص کا ہاتھ تھاما ہوا تھا جس کی وجہ سے اس کا بیٹا قتل ہوا۔ وہ ادائیں دکھاتا، بوڑھے شخص کی انگلی سے لگا اس سے ایک قدم پیچھے چل رہا تھا۔ ان دونوں کا انداز ایک جوڑے جیسا تھا۔ بازار میں موجود سبھی لوگ ان دونوں کو آگے بڑھ بڑھ کر سراہنے لگے۔ اصل میں مجھے ان دونوں کی اس حرکت، بے محل اور بے آہنگ جوڑی پر اور نہ ہی لوگوں کے سراہنے پر ہنسی نہیں آئی بلکہ مجھے تو اس بوڑھے شخص کو دیکھ کر سخت ہنسی آ رہی تھی کیونکہ اس نے اپنی بوسیدہ واسکٹ وہیں موقع پر اتار کر پھینک دی تھی اور اب مرے ہوئے بدخشاری جوان کا زنانہ، پیرس سے تعلق رکھنے والی کسی یورپی عورت کا اوورکوٹ پہن رکھا تھا۔ اوور کوٹ بدخشاری پر ڈھیلا رہتا تھا لیکن اس بوڑھے شخص پر صحیح فٹ آ گیا تھا بلکہ اب وہ پہلے سے قدرے خوش وضع اور چست نظر آ رہا تھا۔
'ایک منٹ۔۔۔ رکو!' میں نے چلا کر ان دونوں کو روکا۔ بوڑھا شخص رک گیا، رقاص بھی انگلی سے کھسک کر اس کے بازو سے آن لگا۔ 'ڈاکٹر۔۔۔' میں چلایا، 'اس کی بھی فوٹو بناؤ!' یہ کہہ کر میں ہنستے ہوئے اس خلاف قیاس جوڑے کے بیچ جا کھڑا ہوا اور شواٹز کو بادل ناخواستہ فوٹو بنانی ہی پڑی۔ میرے پاس یہ فوٹو بھی ابھی تک محفوظ ہے، لوگوں کو میری بات کا یقین نہیں آتا لیکن یہ تصویر دیکھ کر انہیں مانتے ہی بنتی ہے۔
جب وہ دونوں چلے گئے اور میں واپس آ کر میز پر بیٹھ گیا تو نور محمد سخت غصے میں تھا۔ اس نے پروٹوکول، سرکاری ادب اور لحاظ ایک طرف رکھا اور سختی سے پوچھا، 'آپ نے ایسا کیوں کیا؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ کس قدر خطرناک بات ہے؟' اس کے لہجے میں تلخی تھی۔
'ارے چھوڑو!' میں نے بے اعتنائی سے کہا، 'کیا تم نے دیکھا نہیں، یہ کس قدر احمقانہ بات ہے؟' میں نے کہا لیکن دل ہی دل میں اس حرکت پر واقعی شرمندہ تھا۔
'آپ بھی مسٹر جاسپر کی طرح، اس بات کو بھی احمقانہ قرار دے رہے ہیں؟' نور محمد نے تیلی لگائی،
'یہ مسٹر جاسپر والی کیا بات ہے؟ مسٹر جاسپر کون ہے؟' شواٹز نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے پوچھا۔ وہ اپنا کیمرہ سنبھال رہا تھا۔
'مسٹر جاسپر ملر صاحب کا دوست ہے۔ جب بھی وہ کوئی انجان چیز دیکھتا ہے یا کسی معاملے کو سمجھ نہیں پاتا۔۔۔ اسے احمقانہ قرار دے دیتا ہے' نور محمد نے طنز کے تیر چلائے،
'مجھے اپنی حرکت پر افسوس ہے' میں نے کہا،
'کچھ عرصہ قبل ایک فرانسیسی نے امریکہ کی ریاست الاباما میں ایک ہجوم کے ہاتھوں بے دردی سے ایک شخص کو مار کر جلا دینے کے کئی فوٹوگراف بنا کر رسالوں میں چھپوا دیے تھے۔ کیا وہ احمقانہ بات نہیں تھی؟' نور کی برداشت جواب دے چکی تھی،
'نور، میرے اعصاب جواب دے گئے تھے۔ بخدا، میں تضحیک کی غرض سے نہیں ہنسا۔۔۔' میری دلیل ناقص تھی اور اس سے ان دونوں کی تشفی نہیں ہوئی،
'آپ اس بات کو رہنے دیں لیکن۔۔۔' نور نے کہا، ' میرے خیال میں اب آپ اس حالت میں ہیں کہ خود کو درپیش مسئلے کو سنجیدگی سے سمجھ اور سمجھا سکتے ہیں'
'اس بات کا کیا مطلب ہے؟' میں نے درشتی سے پوچھا،
'آپ نے خود ہی تو کہا کہ آپ کے اعصاب جواب دے چکے ہیں۔ آپ نے میرے ملک کی وحشت کو اچھی طرح دیکھ لیا ہے۔ اب ہم ایلن جاسپر کے بارے میں واقعی حقائق کی روشنی میں بات کر سکتے ہیں۔۔۔'
'اچھی بات ہے۔ میں تیار ہوں' میں نے قدرے الجھے ہوئے انداز میں کہا،
'مہربانی کیجیے اور اب مزید ہیر پھیر مت کیجیے گا۔ ہم دونوں کے لیے بہتر یہی ہے کہ ہم بازاروں میں لوگوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور ان کے معاملات میں دخل اندازی سے گریز کریں' نور نے سمجھانے کے انداز میں متنبہ کیا،
'میں پہلے ہی اپنی حرکت پر معافی مانگ چکا ہوں' میں نے بگڑ کر کہا،
'میں جانتا ہوں!' نور نے بے دلی سے کہا، 'جب آپ نے اس احمق بوڑھے اور بدکردار لڑکے کو روک کر تضحیک کی تو میں نے سوچا۔۔۔ ملر صاحب، میں ڈر گیا تھا!'
'میں معذرت خواہ ہوں۔ میرے خیال میں مجھے ان دونوں سے کوئی غرض نہیں تھی۔۔۔ وہ کوٹ دیکھ کر۔۔۔ نور، تم خود ہی سوچو، بدخشاری کی کہانی نے کیسا پلٹا کھایا، اس دن راستے میں وہ تمھارے ساتھ اسی کوٹ کو لے کر کیسے چھیڑ چھاڑ کر رہا تھا۔۔۔'
'میں تو اس دن کے واقعے کو بھول چکا ہوں!' نور نے میری حالت کو اچھی طرح سمجھتے ہوئے کہا، 'ملر صاحب۔۔۔ آپ کیوں بھول جاتے ہیں کہ افغانستان میں یہی طور ہے۔ ہم ایسے ہی ہیں!'
'یعنی، اب تم مجھ پر غصہ نہیں ہو؟ ہم کھل کر بات کر سکتے ہیں؟' میں نے پوچھا،
'آپ مجھ سے ہمیشہ کھل کر بات کر سکتے ہیں' نور نے کشادہ دلی سے کہا،
'ایسا ہے تو پھر بتاؤ۔۔۔ جب میں نے شاہ خان سے ملاقات کی تھی، اس نے کسی افواہ کے متعلق کچھ قیاس آرائی کی تھی۔ اس کے خیال میں ایلن جاسپر کے ساتھ کچھ انوکھا واقعہ پیش آیا ہے۔ اس قدر عجیب و غریب بات تھی کہ اس نے مجھے بتانا بھی مناسب نہیں سمجھا'
'کیسی افواہ؟' شواٹز نے پہلی بار ہمارے بیچ مدخل ہو کر پوچھا،
'وہی، جس کے متعلق میں نے پہلے دن تم سے دریافت کیا تھا' ،
'میں نے تمھیں بتایا بھی تھا کہ میں افواہوں اور قیاس آرائیوں میں یقین نہیں رکھتا' شواٹز نے تنک کر کہا اور بئیر کی بوتل منہ سے لگا لی۔
'اور تم؟' میں نے نور سے پوچھا،
'میں نے آپ کو پہلے بھی بتایا تھا، وہ یقیناً بھاگ نکلی تھی اور غالباً اب تک ہلاک ہو چکی ہے'
'تمھیں واقعی یقین ہے کہ اس کو ملاؤں نے ہلاک نہیں کیا ہو گا؟'
یہ سن کر نور واضح طور پر جھلا گیا۔ 'ملر صاحب۔۔۔' اس نے سنجیدگی سے احتجاج کرتے ہوئے کہا، 'آپ نے پچھلے ہفتے یہی بات مجھ سے غزنی میں بھی پوچھی تھی اور میں نے آپ کو یہی کہا تھا کہ ایسا ہو رہنا ممکن نہیں ہے۔ آپ کو میری کسی بات کا اعتبار ہے بھی یا نہیں؟'
'مجھے تمھاری ہر بات کا اعتبار ہے لیکن ان ملاؤں کا ہر گز کوئی بھروسا نہیں ہے۔ ابھی ابھی ہم نے جو دیکھا۔۔۔' میں نے اس طرف اشارہ کیا جہاں سر کٹی لاش شام گئے تک پڑی رہے گی، 'اس کے بعد کیا تم نہیں سمجھتے کہ میرا یقین متزلزل ہو گیا ہے؟ مجھے جواب درکار ہیں، نہیں؟'
'بالکل ایسا ہی ہے۔۔۔ ہم دونوں یہاں جواب تلاشنے ہی تو آئے ہیں، لیکن جب تک تصدیق نہیں ہو جاتی۔۔۔' نور کی سنجیدگی برقرار تھی،
'لیکن ان ملاؤں کا کیا کروں؟' میں نے دہرایا۔
یہ سن کر نور کافی دیر میں پہلی بار بے اختیار ہنس پڑا، 'ملر صاحب، میری بات دھیان سے سنیں۔۔۔' وہ آگے کو جھک کر بولا، 'یہ جو دو ملا آج آپ نے دیکھے، یہ عام لوگ نہیں ہیں۔ یہ عالم فاضل اور ہمارے پیشوا ہیں۔ انہوں نے کچھ غلط نہیں کیا۔ افغان روایت اور جس دین کو مانتے ہیں، اس کے قانونی دائرہ کار میں رہتے ہوئے یہ سب کیا ہے، اچھی طرح سوچ سمجھ کر قدم اٹھایا ہے۔ لیکن پتہ کیا؟ یہ ملا اچھی طرح جانتے ہیں کہ سر عام جسمانی گلے، ہاتھ کاٹنا اور عورتوں کو سنگسار کرنا وغیرہ۔۔۔ یہ سزائیں اسی طور دیتے رہنا ہمیشہ ممکن نہیں رہے گا۔ آپ خود ہی دیکھ لیں کہ دنیا بدل رہی ہے، ریاستیں بدل رہی ہیں۔۔۔ انسان بدل رہے ہیں اور وقت بدل رہا ہے۔ جب وقت آیا تو ہم جیسے لوگ جو سزاؤں کا یہ طریقہ اور اس طرح کا سلسلہ ختم کرنا چاہتے ہیں، وہ دیکھیں گے کہ اس وقت یہ سارے ملا ہمارے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ ریاست کی عملداری میں۔۔۔ روایت اور دین دونوں کا مقصد لوگوں کی فلاح ہے۔ جس دن افغانوں کو اس بات کا احساس ہو گیا۔۔۔ بات بن جائے گی!'
'کیا واقعی؟ ملا ایسا کرنے پر تیار ہو جائیں گے؟' میں نے شک گزار کر پوچھا،
'بے شک، آپ لکھ کر رکھ لیں!' نور محمد یقین دلانے کے لیے عجیب و غریب طریقے استعمال کرتا تھا، 'میرا ایک سگا بھائی بھی ملا ہے۔ میں آپ کو بتاؤں، وہ مجھ سے کہیں بہتر انسان اور اس ملک کا ذمہ دار شہری ہے!'
'میں کسی دن اس سے ملنا چاہوں گا!' میں نے اجڈ پن سے کہا،
'جب ہم واپس کابل لوٹ کر جائیں گے تو میں آپ کو اس سے ضرور ملواؤں گا۔ ملر صاحب، آپ افغانستان کے راز سے اس وقت تک پردہ نہیں اٹھا سکتے جب تک یہ سوچتے رہیں گے کہ مذہب اسلام ایسا ہے یا یہ دین ہے جو اس طرح کی سزاؤں کے طریقوں سے چشم پوشی کرنا تو ایک طرف، کھلی اجازت دیتا ہے'
'اسلام زبردست دین ہے' ڈاکٹر شواٹز نے ایک دفعہ پھر بیچ میں کود کر کہا۔ اس کے لہجے میں جوش تھا، 'اسلام زبردست دین ہے۔۔۔ اسی وجہ سے پچھلے سال میں نے اسلام قبول کر لیا تھا!'
'ہائیں؟ تم نے اسلام قبول کر لیا تھا؟' میں نے حیرانگی سے پوچھا،
'کیوں بھئی، میں کیوں نہ قبول کروں؟ اب افغانستان ہی میرا گھر ہے۔ یہ دلچسپ ملک اور اس کے لوگ جس دین کو مانتے ہیں، وہ گہرا اور عمیق ہے۔۔۔ مجھے بھی راس آتا ہے!'
'تم نے عیسائیت چھوڑ دی؟' میں نے لگی لپٹی رکھے بغیر سخت تنفر سے پوچھا،
'میں ایک دفعہ پھر دہراتا ہوں' اس نے پشتو میں بات شروع کی لیکن پھر توقف کیا اور نہ معلوم کیوں، فرانسیسی میں دوبارہ گویا ہوا، 'میں پھر دہراتا ہوں۔۔۔ آخر کیوں نہیں؟ مذہب کوئی ایسی شے نہیں ہے کہ جو دائم ہے۔ یہ انسانوں کے لیے ہے اور اس کو زمان اور مکان کا خیال کرنا ہی پڑتا ہے، وقت کی ضرورت کے مطابق چلنا پڑتا ہے۔ اگر ضرورت پوری نہ ہو تو بہتر یہی ہے کہ کوئی دوسرا مذہب اختیار کر لیا جائے۔ ملر، کیا تم جانتے ہو کہ عیسائیت کا جرمنی میں کیا حال ہے؟ عیسائیت نے وہاں بلکہ یورپ اور پوری دنیا میں بگڑے ہوئے معاشروں کو جنم دیا ہے۔ جرمنی میں کیا انبوہ اور تباہی نہیں ہوئی؟ انسانیت کی تضحیک نہیں ہوئی؟ میں قسم اٹھا کر کہتا ہوں کہ جب میں ہیرات پہنچا تو طے کیا کہ اگر عیسائیت نے میونخ میں انسانیت کو نہیں بچایا تو وہ دنیا میں کہیں بھی اسے نہیں بچا سکتی۔ اس لیے میں وہی مذہب اختیار کروں گا جو یہاں کے باقی لوگ مانتے ہیں۔ کم از کم یہ عیسائیت سے بدتر تو نہیں ہو گا۔ مجھ سے پوچھو تو واقعی ایسا ہے بلکہ میرا کام چل رہا ہے!'
نور نے بات کو آگے بڑھایا اور کہا، 'میرے خیال میں آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ ایلن جاسپر نے بھی اسلام قبول کر لیا تھا' یہ انکشاف سن کر میں ہکا بکا رہ گیا۔
اس سے پہلے کہ میں کچھ کہہ پاتا، شواٹز بولا، 'وہ خاصی ہوشیار لڑکی تھی۔ جب پچھلے برس ہماری ملاقات ہوئی تو ہم نے اس بارے بات کی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ اس نئے مذہب میں اسے بہت سکون ملا ہے۔ وہ اسے 'صحراؤں کا دین' کہتی تھی۔ جب میں نے اس اصطلاح کے بارے استفسار کیا تو اس نے کہا کہ عیسائیت صرف ان لوگوں کی گھسی پٹی رسومات بن کر رہ گئی ہے جو ہفتے کے دن معمول سے زیادہ کھانا کھانے کے شوقین، رات کو بدکاری کے عادی اور اتوار کے دن چرچ کے بعد گالف کھیلنے کے عادی ہیں۔ ایلن نے جس طرح عیسائیت کو سمیٹنے کی کوشش کی تھی، اس لحاظ سے تو یہ ایک قدیم مذہب کی تضحیک نظر آ رہی تھی۔ ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے عیسائیت خدائی دین نہیں بلکہ کوئی بہت ہی بری چیز ہے۔ اس نے مجھ سے کہا تھا کہ اسے ایسے دین کی تلاش ہے جو اپنے ماخذ سے ابھی تک دور نہیں ہوا، لوگ زمانے میں ابھی تک اس دین کو لانے والے رسول کے قریب ہیں۔ ایلن نے ایک بات ایسی کہی کہ میں متاثر ہوئے بنا رہ نہیں سکا، اس نے کہا کہ غور کرو۔۔۔ عیسائیت، یہودیت اور اسلام۔۔۔ ان تینوں مذاہب نے صحراؤں میں جنم لیا تھا۔ صحرا میں خدا کی قربت واضح ہوتی ہے اور یہاں زندگی اور موت کے معاملات خاصے پراسرار معلوم ہوتے ہیں۔ انسان دنیا کے ہر کونے میں بسر رکھتا ہے لیکن صحراؤں اور کوہستانوں میں زندگی سخت ہوتی ہے۔ یہ تینوں دین ہمیں سمجھنے میں مدد دیتے ہیں کہ اس دنیا میں زندگی مشکل ہے۔ جب ہم صحراؤں اور کوہستانوں سے نکل کر فلاڈلفیا کے ہرے بھرے شہروں اور میونخ جیسی جدید جگہوں پر بسر کرتے عرصہ گزار دیتے ہیں تو ہم زندگی کی حقیقتوں کو بھول جاتے ہیں۔ ہم اندر ہی اندر کھوکھلے ہو جاتے ہیں اور اپنی اصل کو بھلا دیتے ہیں۔۔۔ دین تو بہت دور کی بات ہے، ہم اپنا آپ بھی کھو دیتے ہیں!'
'اگر تمھیں موقع دیا جائے تو کیا تم میونخ لوٹ کر جانا پسند کرو گے؟' میں نے دلچسپی سے پوچھا،
ڈاکٹر شواٹز نے میری طرف حقارت سے دیکھا۔ اصل میں اس نے ابھی تک اس بات کا ذکر نہیں چھیڑا تھا، کسی بھی طرح یہ باور نہیں کرایا تھا کہ اسے جرمنی لوٹ جانے میں کس طرح کی مشکل ہے یا کوئی اسے روکے ہوئے ہے۔ اس کی آنکھوں میں نفرت اور تحقیر صرف اس بات کی غماز تھی کہ میں نے کھل کر اس سے منہ در منہ سیدھا پوچھ کر یہ حقیقت صاف کر دی تھی۔ اسے مجھ پر سخت غصہ آ رہا تھا، اسی لیے اپنی مادری جرمن زبان میں بولا، 'نہیں۔۔۔ میں کبھی جرمنی لوٹ کر نہیں جاؤں گا' پھر اس نے خود ہی پشتو میں ترجمہ کر دیا تا کہ میں اس کا مدعا سمجھ سکوں۔
یہی باتیں چل رہی تھیں کہ کھانا لگا دیا گیا۔ ایک بڑی پرات میں گرما گرم پلاؤ اور ساتھ تازہ نان تھے۔ تھوڑی دیر قبل، گردن زنی دیکھنے کے بعد تو میری بھوک اڑ چکی تھی لیکن اب میرا من پرسکون ہو گیا تو آہستہ آہستہ پھر سے بھوک تازہ ہو گئی۔ ہم تینوں نے فوراً ہی باتیں چھوڑ کھانے کے ساتھ انصاف کرنا مناسب سمجھا، ہم اکٹھے ہی اس پرات میں نان اور پلاؤ سے تواضع کرنے لگے۔ مجھے محسوس ہوا کہ ہم تینوں میں چند ہی دنوں میں کافی گہرا دوستانہ اور بھائی چارہ جنم لے چکا تھا۔ ڈاکٹر شواٹز کی عمر قریب چالیس برس ہو گی، نور محمد بتیس جبکہ میں چھبیس سال کا تھا لیکن ہم تینوں ہی اپنے تئیں ایک جداگانہ رنگ اور تجربہ کی بنیاد پر اخلاقی کیفیات سے دوچار تھے۔ ہم اپنی شخصیت کے ان پہلوؤں سے نظریں نہیں چرا سکتے تھے لیکن وہیں میں نے محسوس کیا کہ ہمیں ایک دوسرے سے اپنی کمزوریاں اور مجبوریاں چھپانے کی بھی کوئی حاجت نہیں تھی۔ اسی لیے، ہم ایک دوسرے کا احترام کرنے لگے تھے اور مجھے اس وقت ان کے ساتھ ہونے کی خوشی تھی بلکہ مجھے اس بات پر فخر تھا کہ ہم تینوں مل جل کر، ایک ہی پرات میں اکٹھے کھانا کھانے کے قابل تھے۔
کچھ دیر بعد نور نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا، 'ملر صاحب۔۔۔ ایلن کی اپنی سوچ ہے لیکن آپ کبھی اسلام کو صرف صحرا کا مذہب مت سمجھیے گا۔ یہ ایسا دین ہے جو کسی بھی معاشرے میں قابل تقلید ہے اور اس کی ایسی ایسی گرہیں ہیں کہ ان سے ابھی دنیا نابلد ہے!'
اس پر نہ جانے مجھے کیا سوجھی اور بغیر سوچے ہی بے محل کہا، 'یہ بتاؤ۔۔۔' میں دنبے کے گوشت کی پارچیں پھاڑتے ہوئے پوچھنے لگا، 'جیسا کہ آج کل کہا جا رہا ہے۔۔۔ اگر صحرا کے بیچوں بیچ یہودیوں کی نئی ریاست اسرائیل معرض وجود میں آ جاتی ہے تو کیا تم مسلمان اس کو قبول کر لو گے؟'
'میرے خیال میں دنیا کو یہودیوں کو ان کے حال پر چھوڑ دینا چاہیے۔۔۔ وہ بچے نہیں ہیں کہ ساری دنیا ان کے بارے غم کھا رہی ہے' نور کی بجائے شواٹز نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا اور تھوڑی ہی دیر قبل میرے اندر جو دوستانے اور بھائی چارے کے جذبات جھاگ کی طرح امڈ رہے تھے، فوراً ہی بیٹھ گئے۔ مجھے ایک جرمن مہاجر کی اس بات پر سخت حیرت ہوئی لیکن اس سے بھی زیادہ دھچکا اس بات سے لگا جب اس نے کہا، 'اگر انہیں کسی کی مدد درکار ہوئی تو مجھ اور تم جیسے لوگ ہی ان کی مدد کریں گے کیونکہ یہ ہماری مجبوری ہے۔ بات صرف اتنی ہے کہ انہیں ملک درکار ہے اور ہمارے یورپ اور تمھارے امریکہ میں ان کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔۔۔ تو پھر سوچو، ان کے لیے جگہ کہاں میسر آئے گی؟' یہ کہہ کر وہ اطمینان سے بئیر کی بوتل پینے لگا۔
'مسلمان کبھی اس بات کو پسند نہیں کریں گے!' نور نے سنجیدگی سے کہا، 'بالخصوص عرب تو ہر گز نہیں مانیں گے۔ مجھ سے پوچھیں تو میں بھی پسند نہیں کروں گا کہ یہودی میرے دین کی آبائی زمین پر آن بسیں لیکن۔۔۔' غالباً اس کا اشارہ نازیوں کے ہاتھ یہودیوں کی انبوہی ہلاکتوں کی طرف تھا، 'اس کے علاوہ جو ترکیبیں ہیں، وہ بھی تو درست نہیں ہیں۔ میرے خیال میں مسلمانوں کی حتی الامکان کوشش یہی ہو گی کہ جس قدر ممکن ہو، انہیں محدود رکھیں۔ کم سے کم جگہ دیں۔۔۔ بہت زیادہ نہیں، بس سر چھپانے کی جگہ دے دیں!'
میں نے کچھ دیر سوچا اور پھر بجائے یہودیوں کی بابت بحث کرتا، اپنے مقصد کی بات کی، 'ہمارے پاس سفارتخانے کے ریکارڈ میں ایلن جاسپر کے قبولیت اسلام کا کوئی ثبوت نہیں ہے'
'عام طور پر فرنگی بیویاں اسلام قبول کر لیتی ہیں' نور نے جواب دیا، 'ہم نے کبھی اس بات کو سرکاری ریکارڈ کا حصہ بنانے کی ضرورت محسوس نہیں کی'،
'واقعی؟ کیا اس کی ضرورت نہیں ہے؟' میں نے پوچھا،
'مذاہب کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ ان کو ماننے والے صرف اپنے ہی مذہب کو اٹل سمجھتے ہیں۔ عیسائیوں کا خیال ہے کہ عیسائی کبھی اسلام قبول نہیں کر سکتا۔ یہودی بھی ایسا ہی سوچتے ہیں اور اسلام میں تو مرتد کے لیے موت کی سزا ہے۔ لیکن یہاں دیکھو، جرمنی کا ڈاکٹر شواٹز اور فلاڈلفیا کی ایلن جاسپر۔۔۔ دونوں مسلمان ہو چکے ہیں!'
اس بات پر جب مجھے کوئی دلیل سجھائی نہ دی تو میں نے ہنستے ہوئے ڈاکٹر شواٹز کو مخاطب کیا، 'اچھا؟ ایسی بات ہے تو پھر اس بئیر کے بارے تمھارا کیا خیال ہے؟'
'ملر، ایک جرمن کچھ بھی ہو سکتا ہے' شواٹز نے مضبوطی سے جواب دیا، 'کیتھولک عیسائی، یہودی، لوتھری، مسلمان۔۔۔ کچھ بھی ہو سکتا ہے لیکن وہ جو بھی ہو، ہمیشہ اور ہر روپ میں بئیر کا شوقین رہے گا۔ اس کا اس کے بغیر گزارہ نہیں اور تمھاری تسلی کے لیے بتاتا چلوں۔۔۔' شواٹز نے آنکھ ماری اور رازداری سے کہا، 'آج تم نے جن دو ملاؤں کو وہاں چوک میں دیکھا تھا، ان میں سے ایک سے میں نے اپنا مسئلہ بیان کیا تو اس نے مجھے اجازت دے دی تھی۔ وہ ایک جرمن کی مجبوری کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہے کیونکہ وہ خاصا روشن خیال واقع ہوا ہے!'

۔کارواں (افغانستان کا ناول) - آٹھویں قسط یہاں کلک کر کے ملاحظہ کریں -

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر