کارواں - دسویں قسط

سویر کا اجالا پھیلتے ہی ہم گاؤں سے نکل کر گہری وادی اور جب سورج بھی پورا چڑھ آیا تو صحرا میں پہنچ چکے تھے۔ راستے میں جا بجا رکتے، کنستروں میں بھرے پانی سے سر پر پگڑی تر کرتے اور پھر روانہ ہو جاتے۔ پہلے میں نور کے ساتھ گاڑی میں پچرڈ کی تیمارداری کرتا رہا۔ اس کے سر پر مسلسل ٹھنڈی پٹیاں رکھنا ضروری ہو گیا تھا تا کہ سخت گرمی کے دوران بخار قابو میں رہے لیکن اس کی حالت بگڑتی ہی جا رہی تھی۔ ایک جگہ رکے تو شواٹز نے میری جگہ لے لی تا کہ وہ اس کا پوری طرح خیال رکھ سکے اور ضرورت پڑے تو طبی امداد بھی کرے۔اس نے حیلے بہانے سے اب تک پچرڈ کو جگائے رکھا تھا، زیادہ تر ٹوٹکے ہی سہی لیکن انہی کی بدولت اب تک زندہ تھا۔ چہار میں مجھے لگ رہا تھا کہ شاید پچرڈ جانبر نہیں ہو پائے گا لیکن اب ایک رات اور تقریباً دن چڑھ جانے کے بعد خیال تھا کہ میں اپنی رائے میں غلط تھا۔
میں نظراللہ کے ساتھ اس کی جیپ میں سوار ہو گیا۔ کچھ دیر پچرڈ کی حالت بارے باتیں ہوتی رہیں لیکن پھر اس نے ایک دم مجھ سے پوچھا، 'تم میری بیوی کے بارے مزید کیا جاننا چاہتے ہو؟'
اس اچانک سوال سے میں گڑبڑا گیا کیونکہ اب تک میں چال ہی چال میں باتیں نکلواتا رہا تھا۔ شاید وہ بھی میرا اس کو بات بے بات اسی موضوع کی طرف لے آنے کی ترکیبوں کو اچھی طرح سمجھ چکا تھا، اس نے خود ہی ہم دونوں کی مشکل آسان کر دی۔ مجھے کچھ سجھائی نہ دیا تو غیر تشفی انداز میں پھر سے پوچھا، 'تو وہ بھاگ گئی؟'
'ہاں۔۔۔ یہ پچھلے ستمبر کی بات ہے!'
'یعنی، آٹھ مہینے !' میں منہ ہی منہ میں بڑبڑایا،
'یہ کافی لمبا عرصہ لگتا ہے۔۔۔' اس نے داڑھی کھجائی۔ گدلے پانی میں شرابور پگڑی پہنے، بے ہنگم داڑھی اور ملول انداز سے وہ اس وقت ٹھیٹھ ایشیائی لگ رہا تھا۔
'آخر وہ بھاگی ہی کیوں؟'
'تم نہیں سمجھو گے!' اس نے کھسیانی سی ہنسی ہنس کر کہا۔ اصل میں بات یہ تھی کہ وہ اس پورے معاملے کو سمجھنے میں میری پوری مدد کرنا چاہتا تھا لیکن حقائق اس قدر عجیب و غریب تھے کہ ان کا احاطہ کرنا بہت مشکل تھا۔ اسی لیے وہ زیادہ تر خاموشی اختیار کیے رکھتا۔ نظراللہ کی یہ حالت دیکھ کر مجھے شواٹز کے کلینک میں وہ افغان یاد آ گیا جو بدحواسی کے عالم میں بیمار بیوی اور ڈاکٹر کے بیچ شٹل کاک بنا ہوا تھا۔ وہ بھی کسی نہ کسی طرح شواٹز کو سمجھانے کی پوری کوشش کر رہا تھا لیکن بوجوہ ناکام تھا۔ مطلب یہ کہ وہ ڈاکٹر کو صرف وہی باتیں بتا تا جا رہا تھا جو وہ خود سمجھ پا یا تھا۔ علاوہ ازیں، ہر شے اس کے لیے عجیب و غریب، ناقابل فہم اور بیان تھی۔
میں نظراللہ کی نیک نیتی کا پہلے ہی قائل ہو چکا تھا، اس لیے اب مجھے اس کے ساتھ ہمدردی بھی محسوس ہونے لگی کیونکہ جن حالات میں ہم سفر کر رہے تھے، ایلن ہی نہیں بلکہ کسی بھی موضوع پر گفتگو انتہائی مشکل ہو چکی تھی۔ صحرا میں بلا کی گرمی تھی ، اتنی سخت کہ سانس لینا بھی دشوار تھا۔
' پچرڈ کے لیے یہ سخت مشکل ہے۔۔۔ بیچارہ!' اس نے خاموشی توڑی،
'اسی چیز کا مجھے کل بھی دھڑکا لگا ہوا تھا۔۔۔' میں نے اسے یاد دہانی کروائی،
'میرے خیال میں، ہم کل ہی اس بات کو ختم کر چکے ہیں۔۔۔' اس نے محتاط لہجے میں جواب دیا، 'میرے پاس تمھارے ہاتھ کی لکھی تحریر ہے!'
'کیا تم نے ایلن جاسپر کو پہلے سے بتا رکھا تھا کہ۔۔۔۔'
'کہ میں شادی شدہ ہوں؟ ہاں بتا دیا تھا!'
'میں قندھار میں تمھارے گھر گیا تھا۔ تمھاری افغان بیوی سے ملاقات ہوئی۔۔۔ اس نے بھی یہی کہا!'،
'میں جانتا ہوں۔ کریمہ نے خط میں اس بابت ذکر کیا تھا!'
'اس نے تمھیں خط کب لکھا؟' میں نے یوں پوچھا جیسے کسی جاسوسی فلم کا سین ہو، 'اسے تو خط لکھنے کا موقع ہی نہیں ملا تھا!'
'ارے نہیں، وہ افغان سپاہی جو ڈاکٹر شواٹز کو قلعہ بست لے کر ساتھ آیا تھا۔۔۔ وہی کریمہ کا خط بھی لایا تھا!' اس نے بتایا تو مجھے اپنی بیوقوفی پر ہنسی آنے لگی،
'میں معذرت چاہتا ہوں' میں نے کہا، 'اصل میں یہ سارا معاملہ الجھا ہوا ہے!'
'میرے لیے تو یہ کہیں زیادہ پریشان کن ہے۔۔۔ مجھے تو کچھ سمجھ ہی نہیں آتی!' اس نے اعتراف کیا،
'یعنی، کریمہ نے جو کہا۔۔۔ وہ درست ہے؟ تم نے واقعی ایلن کو بتایا تھا؟'
'کریمہ کی کہی سب باتیں درست ہیں!'
'وہ بہت نفیس عورت ہے!' میں نے بغیر کسی وجہ کے کہا،
'بہت ہی نفیس ہے۔ اس نے خواہ مخواہ ہی پردہ کیے رکھا، میں نے اسے کبھی مجبور نہیں کیا۔۔۔'
'مجھے شک گزرا تھا کہ شاید وہ نور محمد کی وجہ سے محتاط ہے!'
یہ سن کر نظراللہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑا۔ اس کی بے موقع ہنسی مجھے قدرے ناگوار گزری۔ تبھی اس نے کہا، 'معاف کرنا۔۔۔ اصل میں، پردے کا ذکر آیا تو مجھے کچھ یاد آ گیا۔ میرے خیال میں بجائے میں بہت کچھ بتاؤں، صرف ایک بات بتاتا ہوں اور یہ بات ایلن کے بارے سمجھنے کے لیے کافی ہے۔ میں تمھارے شک و شبے کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہوں۔ تمھیں یقین ہے کہ میں نے ایلن کے ساتھ بدسلوکی کی ہو گی یا میرے خاندان نے اسے نظربند کر کے چھپا رکھا ہے۔ تم سمجھتے ہو کہ شاید وہ اس وقت کسی جیل میں سڑ رہی ہے، آزادی کی راہ دیکھ رہی ہے۔ ملر۔۔۔ جب وہ کابل آئی تو ہم سب نے اس کو اسی کی مرضی پر چھوڑ دیا تھا۔ اس کو کسی طرح سے بھی بیگانگی محسوس نہیں ہونے دی۔ تمھیں پتہ ہے اس نے کیا کیا؟ شادی کے اگلے دن جب وہ صبح ناشتے کی میز پر آئی تو برقعہ اوڑھ رکھا تھا۔۔۔'
'کیا؟'
'ہاں، صبح ہی صبح۔۔۔ گھر کے اندر، ناشتے کی میز پر برقع اوڑھ کر پردہ کر رکھا تھا۔ لندن میں اس نے کسی مشہور درزی کو رسالے میں برقع دکھایا، اس نے اسے ریشمی کپڑا اسے طرح سی کر دے دیا تھا۔ وہ افغانوں سے بڑھ کر افغان بننا چاہتی تھی۔ ہم سب نے اس کو دیکھ کر بڑی مشکل سے ہنسی پر قابو رکھا لیکن مجھے دل میں بہت خوشی محسوس ہوئی تھی۔ میں نے اسے سمجھایا کہ گھر کے اندر، ناشتے کی میز پر برقعہ اوڑھنے کی قطعی کوئی ضرورت نہیں بلکہ میں تو اسے باہر نکلنے پر بھی پردہ کرنے پر راضی نہیں تھا'
وہ یہ سب یاد کر کے پھر سے ہنسنے لگا، 'تم نے شاید سنا ہو گا کہ ایک دن قندھار میں ملاؤں نے اس کو گھیر لیا تھا۔ وہ بعد میں رونے لگی اور ملاؤں کی بجائے مجھے برا بھلا کہنے لگی۔ اس نے کہا، 'اگر تم مجھے برقعہ اوڑھنے سے نہ روکتے تو آج یہ سلوک نہ ہوتا!'
'میں سمجھا نہیں۔۔۔'
'تم امریکی کبھی یہ بات نہیں سمجھ پاؤ گے کہ ایلن ایک غیر معمولی لیکن بے دستور عورت ہے۔ اس کے والدین، پروفیسر۔۔۔ کوئی بھی اس کو سمجھ نہیں پایا۔ تم لوگ اسے لڑکی کہنا چھوڑ دو، وہ ایک عورت ہے۔ میرے خیال میں تو وہ جس قدر سیانی ہے، کبھی لڑکی رہی ہی نہیں۔ مجھ سے پوچھو تو وہ انتہائی ذہین ہے، کیا تم جانتے ہو کہ جب ہم پہلے پہل ملنا شروع ہوئے تو اس نے ایٹم بم کا ذکر کیا تھا؟'
'تمھاری اس سے پہلی ملاقات 1944ء میں ہوئی' میں نے توجہ دلائی، 'اس وقت تو ایٹم بم بارے کوئی کچھ نہیں جانتا تھا۔۔۔ بلکہ دنیا کو اس وقت تک ایسے کسی ہتھیار کا خیال بھی نہیں آیا تھا!'
'لیکن وہ دنیا کی رمز جانتی تھی۔۔۔ بلکہ اپنے ذہن میں اس کا تصور بھی بنا چکی تھی!' اس نے مخفی انداز میں کہا،
میں نے اس کی جانب ترچھی نظر سے یوں دیکھا کہ جیسے مجھے اعتبار نہیں ہے۔ وہ اس بات کی وضاحت کرنا چاہتا تھا لیکن ہم نے جیپ روک کر نور اور شواٹز کا انتظار کیا۔ جب وہ آن پہنچے تو ہم نے ان سے پچرڈ کی حالت بارے استفسار کیا اور انہیں آگے نکلنے کو کہا جبکہ ہم ان کے پیچھے چل پڑے۔ نظراللہ نے اطمینان کے ساتھ گاڑی آگے بڑھا کر بات جاری رکھی، 'ایلن نے بھانپ لیا تھا کہ اگر دنیا بھر کی قومیں یونہی پاگل پن پر اڑی، جنگ میں مصروف رہیں تو ایک وقت ایسا آئے گا کہ جنگ ختم کرنے کے لیے انتہائی طاقتور ہتھیار استعمال کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا۔ اس وقت میں خود ماننے پر تیار نہیں تھا لیکن مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس نے ایٹم بم کا نقشہ بھی خوب کھینچا تھا۔ اس نے کہا تھا، 'آج کل ہوائی جہازوں کا دور ہے، اس لیے یہ ہتھیار بھی آسمانوں سے گرایا جائے گا اور اس سے اکا دکا اور دس بیس لوگ نہیں بلکہ پورے کے پورے شہر تباہ ہوں گے۔۔۔' اس کا خیال تھا کہ جوں جوں دنیا جنگ میں آگے بڑھ رہی ہے، ایسا ہونا ناگزیر ہوتا جا رہا ہے۔ اس ہتھیار کے وار سے بچ نکلنا ناممکن ہو گا۔ مجھے یقین نہیں آیا تھا لیکن اس نے کہا، 'مجھے امید ہے کہ اس سے قبل دنیا تباہ ہو جائے، میں افغانستان پہنچ جاؤں گی' اس وقت مجھے لگا کہ شاید وہ افغانستان کو اس لحاظ سے محفوظ پناہ گاہ سمجھ رہی ہے کیونکہ تم خود ہی سوچو۔۔۔ افغانستان میں کیا رکھا ہے اور ہمارا جنگ میں کردار ہی کیا ہے کہ جس پر ایٹم بم جیسا مہلک ہتھیار آزمایا جاتا؟ لیکن یہ بات نہیں تھی۔ میں نے اس سے پوچھا تو اس کا جواب تھا، 'پناہ؟ دنیا بھر میں کہیں بھی اس ہتھیار سے بچاؤ کی کوئی جگہ نہیں ہو گی لیکن اگر مرنا ہی ہے تو پھر میں افغانستان میں مرنا چاہوں گی کیونکہ یہ ہماری اس گھٹی ہوئی کھوکھلی تہذیب سے کوسوں دور بھی ہے اور اس ملک اور لوگوں کا قدیم زمانوں سے تعلق اور واسطہ بدستور جڑا ہوا ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ باقی ماندہ زندگی افغانستان جیسی جگہ میں گزار دوں اور وہیں مر جاؤں جو قدیم زمانوں سے، ہم انسانوں کی اصل سے جڑی ہے۔۔۔' پھر اس نے توقف کیا اور کہا، 'میرے خیال میں اس کو ہم افغانوں کے ڈیم بنانے کے منصوبے سے اسی وجہ سے سخت چڑ تھی۔ ملر۔۔۔'
وہ کچھ کہنا چاہتا تھا لیکن نور محمد نے اپنی جیپ روک دی۔ میں نے دیکھا کہ شواٹز گاڑی سے اترا اور ہماری ہی جانب بے دلی سے چلا آ رہا ہے۔ اس کے چہرے پر سخت پریشانی تھی لیکن اس کے باوجود بے تکلفی سے کہنے لگا، 'نظراللہ، میرے خیال میں پچرڈ جانبر نہیں ہو پائے گا۔ وہ چاہتا ہے کہ ملر اس کے ساتھ سفر کرے!'
میں نظراللہ کا راز جاننے کے بالکل قریب تھا۔ میں نے خودغرضی کا مظاہرہ کیا، 'میں نظراللہ کے ساتھ کچھ بات کرنا چاہتا ہوں، زیادہ نہیں۔۔۔ بس کچھ دور تک اس کے ساتھ ہی۔۔۔'
شواٹز نے یہ سن کر میری بات کاٹی اور خشکی سے جواب دیا، 'پچرڈ بھی کچھ بات کرنا چاہتا ہے۔ وہ کسی امریکی سے ہی بات کرنا چاہتا ہے۔۔۔'
'معاف کرنا۔۔۔ مجھے پچرڈ کے پاس ہونا چاہیے' میں نے کہا اور اتر کر دوسری جیپ میں پچرڈ کے سرہانے بیٹھ گیا۔ میں نے اس کے ماتھے پر ٹھنڈی پٹی رکھی، وہ بخار سے جل رہا تھا۔ میں نے مزید پٹیاں بھگو لیں اور اس کے ماتھے پر رکھنے لگا لیکن اس کے جی میں دم نہیں تھا۔ وہ بمشکل سانس لے پا رہا تھا، اس نے موندھی ہوئی آنکھیں نہایت دشواری سے کھول کر اوپر دیکھا تو میں سمجھ گیا کہ اس کی موت قریب ہے۔
وہ کچھ دیر ہمت جمع کرتا رہا اور سرگوشی میں یہی کہہ پایا، 'میری سانس ۔۔۔ میری سانس بند ہو رہی ہے۔۔۔' اس کی ابتر حالت دیکھ کر نور منہ موڑ کر رونے لگا۔
'مجھے بھی سانس لینے میں سخت مشکل ہے!' میں نے تسلی دی، ' گرمی شدید ہے۔۔۔'
'گرمی بھی ہے لیکن۔۔۔' اس نے پھر آواز جمع کی، 'تمھاری ٹانگ تو ۔۔۔ ٹوٹی نہیں ہے۔ میری ٹانگ میں۔۔۔ ٹیسیں۔۔۔ ٹیسیں اٹھ رہی ہیں۔۔۔ جیسے پورے جسم میں۔۔۔ زہر۔۔۔ زہر سرایت۔۔۔ کر رہا ہے۔۔۔'
میں نے بڑی مشکل سے خود کو کچھ کہنے سے روکا۔ وہ میری ہی گزشتہ کل کی کہی بات دہرا رہا تھا۔ مجھے اسی بات کا ڈر تھا۔ میں خود پر قابو رکھا اور بجائے کہا، 'ہم آدھا سفر کر چکے ہیں۔ بس کچھ دور ہی۔۔۔'
اس نے میری بات ان سنی کر دی اور بولا، 'میں چاہتا ہوں کہ تم میری بیوی کو۔۔۔۔' اس کی آواز اکھڑنے لگی، 'وہ فورٹ کالن میں رہتی ہے۔۔۔ بہت اچھی۔۔۔۔ عورت ہے۔ اسے بتانا۔۔۔۔' اس پر جھرجھری آنے لگی جیسے سر چکرا رہا ہو۔ درد کی ٹیسوں سے اس کے چہرے پر اذیت عیاں تھی۔ وہ بے ہوش ہونے کے قریب تھا اور اس کی باتوں میں تسلسل نہیں تھا۔ میں نے اس کی پگڑی کو پانی میں بھگو دیا اور اس کی ٹانگ پر بھی بھیگا ہوا کپڑا تہہ کر کے رکھا لیکن اس پر کپکپی طاری رہی۔ کچھ ہی دیر میں دریا کا گدلا پانی بھی ختم ہو گیا۔ میں نے نور سے سوالیہ انداز میں کہا، 'ہمیں پینے کا پانی بھی استعمال میں لانا ہو گا؟' نور نے میری طرف ناپسندیدگی سے دیکھا، اردگرد صحرا کا جائزہ لیا اور پچرڈ کا کراہنا سن کر اس کے چہرے پر سخت ملول طاری ہو گیا۔ میں نے دیکھا کہ اس کے گالوں پر آنسو بہہ رہے ہیں جو نیچے ٹپکنے سے پہلے ہی گرمی سے خشک ہو جاتے اور وہ بڑی مشکل سے خود پر قابو رکھے ہوئے ہے۔
وہ زبان کو سختی سے زبان تلے دبا کر بولا، 'ملر صاحب۔۔۔ اگر پچرڈ کو پانی کی ضرورت ہے تو اسے پانی دیں۔ یہ کوئی پوچھنے کی بات نہیں ہے۔۔۔'
میں نے پینے کا پانی نکال کر پچرڈ کے سر پر ڈالا تو اسے دوبارہ ہوش آ گیا۔ وہ اب دوبارہ منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑاتے ہوئے اپنی بیوی کے لیے بے ربط جملوں میں پیغام دینے لگا۔ وہ کسی مسٹر فورگریور کا ذکر کر رہا تھا جو ڈینیور میں رہتا تھا۔ بچوں کے متعلق تاکید تھی کہ ضرور کالج جائیں اور اس کی بیوی ان دونوں کو اچھی تعلیم دلائے۔ پھر نہ جانے کیوں، مجھے سمجھ تو نہیں آئی لیکن وہ کافی دیر تک ایک نئی قسم کے کیمیائی رنگ کا ذکر کرتا رہا جس کے بارے اس نے کسی تکنیکی رسالے میں پڑھ رکھا تھا۔ اس رنگ سے گھر کے تہہ خانے میں سیلن کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل ہو سکتا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ قیمت کے لحاظ سے دو سو ڈالر میں یہ مہنگا سودا تھا لیکن۔۔۔
'پچرڈ' میں نے اس کی بڑبڑاہٹ میں مخل ہو کر کہا، 'میں ڈاکٹر شواٹز کو بلا لاتا ہوں!'
'اسے مت بلانا۔۔۔ اگر میں مر گیا تو۔۔۔ اپنی ہی طرح کے آدمی کے پاس۔۔۔ اس نازی کو مت۔۔۔ مت بلانا!' اب اس کا پورا جسم کپکپانے لگا۔ میں نے دیکھا کہ اس مشقت سے اس کے چہرے پر پسینے کے ننھے ننھے قطرے نکل آئے جو سخت کڑی گرمی میں دیکھتے ہی دیکھتے فوراً سوکھ بھی گئے۔
'میں۔۔۔ میں جل۔۔۔ میں جل رہا۔۔۔ ہوں' اس نے چلانے کی کوشش کی لیکن اس کی آواز حلق میں گھٹ کر رہ گئی۔ نور محمد سے اس کی حالت دیکھی نہ گئی، وہ اب کھل کر رونے لگا اور تھوڑی دور جا کر جیپ روک لی۔
'میں اسے مرتے ہوئے دیکھ کر بھی گاڑی نہیں چلا سکتا۔۔۔' اس کی گھگھی بندھی ہوئی تھی اور اس وقت وہ ننگے سر ہی تیز دھوپ میں بے بس کھڑا تھا، 'اگر موت نے اس کو آ لینا ہی ہے تو پھر یہیں۔۔۔ ادھر ہی آ جائے۔۔۔۔'
مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی لیکن نور کے ہذیان کے بیچ میں نے دیکھا کہ نظراللہ کی گاڑی ہم سے آگے، بہت دور نکلتی جا رہی ہے۔ میں نے پلٹ کر گاڑی کا ہارن زور زور سے بجانا شروع کر دیا۔ 'یہ شور۔۔۔ بند۔۔۔ بند کرو!' پچرڈ کی آواز اکھڑ رہی تھی۔
نظراللہ نے ہارن سن کر فوراً ہی گاڑی موڑ لی اور فٹ ہمارے پاس پہنچ آیا۔ فوراً ہی ساری صورتحال سمجھ کر اس نے نور کو ڈانٹا، 'تمھارے ساتھ کیا مسئلہ ہے؟ یہ کیا بیوقوفی ہے؟'
'میں اس کو مرتے ہوئے دیکھتا رہوں؟ گاڑی چلاتا رہوں؟ میں ایسا نہیں کر سکتا!' نور نے بدک کر ہٹ دھرمی سے جواب دیا۔ وہ گاڑی میں سے جائے نماز نکال لایا اور تپتی دھوپ میں جلتی ہوئی ریت پر بچھا، مغرب میں مکہ کی طرف منہ موڑ کر ، ہاتھ باندھے کھڑا ہو گیا۔ اس نے نماز نیت لی۔
'پچرڈ کی حالت بہت خراب ہے!' نظراللہ نے اسے نظراندار کر کے کہا اور ڈاکٹر شواٹز بھی تیزی سے لپکا۔ اسی لمحے میری زبان سے صحرائیوں کی سی دعا نکلی، 'اے خدا۔۔۔ میرے دوست پر رحم کر!' اور اسی لمحے پچرڈ بالکل شانت ہو گیا۔ اس کا دم نکل گیا تھا۔
میں نے بدحواسی کے عالم میں نظراللہ کی طرف دیکھا۔ اس نے کندھے اچکائے اور بولا، 'یہی قسمت کا لکھا ہے۔ ہم پہلے ہی جانتے توتھے کہ امید کم ہے۔۔۔' اس کی اس قدر سنگدلی پر میرے اندر جو طوفان اٹھ رہا تھا، پھٹ کر باہر نکل آیا۔ مجھے لگا جیسے کہ ہم نے مل کر پچرڈ کی جان لی ہے، جانتے بوجھتے اس کو صحرا میں مرنے کے لیے اٹھا لائے۔ میں چاہتا تھا کہ چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھا دوں لیکن نور محمد نے میرے جذبات کو الفاظ میں ڈھالنے سے پہلے ہی روتے ہوئے کہا، 'تم سب مجرم ہو۔ اس بیچارے کو صحرا میں مرنے کے لیے لائے ہی کیوں تھے؟'
نظراللہ کے بعد نور محمد کی یہ بات سن کر تو جیسے میرے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ میری برداشت بھی جواب دے گئی اور میں چلایا، 'اگر ۔۔۔اگر تم بھی ایسا ہی سمجھتے ہو تو اس وقت منہ سے پھوٹے کیوں نہیں؟'
'کسی نے مجھ سے پوچھا ہی نہیں!' اس کی ابھی تک گھگھی بندھی ہوئی تھی۔ مجھے اچانک یہ خیال آیا کر اگر وہ چہار میں ہی میری تجویز پر ذرہ برابر بھی ساتھ دیتا تو ہم وہاں سے ہر گز نہ نکلتے اور شاید پچرڈ اس وقت زندہ ہوتا۔ لیکن میں جانتا تھا کہ نور محمد اس وقت کیوں خاموش رہا، اصل میں وہ نظراللہ سے اختلاف کرنے کی جرات نہیں کر سکتا تھا۔ نظراللہ اس سے رتبے میں کہیں برتر تھا۔ میں اندر ہی اندر غصے سے کھول رہا تھا کیونکہ نور محمد ہر گز بزدل آدمی نہیں تھا لیکن وہ مجبور تھا۔ اس مجبوری کا نتیجہ یہ نکلا تھا کہ اس وقت ہم تپتے ہوئے صحرا کے عین وسط میں، ایک لاش اٹھائے بے بس کھڑے تھے۔ مجھے سمجھ نہ آئے کہ میں کیا کروں۔ میں خود کو پیٹوں یا ان افغانوں کی ناقابل فہم روایتوں کو روؤں؟
نور محمد کی حالت سخت خراب ہو چکی تھی۔ وہ گاڑی چلانےکا اہل نہیں تھا چنانچہ میں نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی اور وہ میرے ساتھ فرنٹ سیٹ پر براجمان ہو گیا۔ گاڑی کی پشت میں پچرڈ کی بندھی ہوئی لاش لدی ہوئی تھی۔ ہم نے قندھار کی جانب دوبارہ سفر شروع کر دیا۔ ہم سلیٹی چٹانوں پر چلے جا رہے تھے، گاڑی کی رفتار چالیس میل فی گھنٹہ تھی۔ میں تیز دھوپ میں اچھی طرح دیکھ نہیں پایا لیکن چند گز کے فاصلے پر اچانک سطح کا رنگ بدلا اور میں فوراً بھانپ گیا کہ گاڑی گاچی کی پٹی میں داخل ہونے جا رہی ہے۔ تیز رفتاری کے باعث گاڑی پھنس جاتی اور عین ممکن تھا کہ پھسل کر الٹ بھی سکتی تھی۔ میں نے خطرہ بھانپتے ہی فوراً بریک لگا کر گاڑی کا سٹئیرنگ موڑ دیا جس سے جیپ گاچی میں اترنے کی بجائے اطراف میں چٹانوں پر چڑھ گئی اور اگلے پہیوں کا ایکسل ٹوٹ گیا۔
میں پہلے ہی سنبھل گیا تھا لیکن نور محمد نے بمشکل اپنے آپ کو بچایا، خوش قسمتی سے اس کا سر اور ناک ڈیش بورڈ پر لگنے کے باوجود چوٹ کھانے سے محفوظ رہے۔ دھچکا اتنا شدید تھا کہ پچرڈ کی لاش اچھل کر پیچھے کی طرف ریت اور چٹانوں کے بیچ جا گری۔ یہ دیکھ کر نور محمد ایک دفعہ پھر تپتی دھوپ میں کھڑا خود کو اور اپنی قسمت کو کوسنے لگا، اس نے رو رو کر اپنا حال خراب کر لیا تھا۔ اب اس کا خیال تھا کہ اگر وہ اس دشوار گزار راستے پر خود گاڑی چلا رہا ہوتا تو شاید یہ حادثہ پیش نہ آتا۔ میرے لیے اس کو سنبھالنا محال ہو چکا تھا۔ اتنی دیر میں نظراللہ اور شواٹز بھی پہنچ آئے۔ نظراللہ نے ہوشمندی کا ثبوت دیتے ہوئے سختی سے نور محمد کو چپ کرایا، میری ڈرائیونگ کے دوران حماقت کے مضمرات سے گلوخلاصی کروائی اور ڈاکٹر شواٹز کے ساتھ مل کر پچرڈ کی لاش کو اپنی گاڑی میں لدوانے لگا۔ پھر اس نے نقشہ نکال لیا اور کچھ دیر بعد کہا، 'ژب سرائے یہاں سے شمال کی جانب کچھ فاصلے پر ہے لیکن اس صورتحال میں، پڑاو کی واحد اور مناسب جگہ ہے۔ ہم دونوں گاڑیوں کو باندھ کر وہاں جائیں گے اور پھر وہیں آگے کا لائحہ عمل طے کریں گے!'
جب گاڑیوں کو رسوں سے باندھا جا رہا تھا، ایسے میں شواٹز نے تجویز پیش کی، 'ہم ایسا کیوں نہیں کرتے کہ یہیں سے واپس لوٹ جائیں اور مرنے والے افغان سپاہیوں کی جیپ کا ایکسل اتار لائیں؟'
یہ سن کر نظراللہ ایک دم چونک گیا۔ رسے ریت پر پھینکے اور کچھ دیر دھوپ میں ہی کھڑا جرمن کی تجویز پر غور کرنے لگا۔ داڑھی کھجا کر بڑبڑایا، 'مجھے اس بات کا پہلے خیال کیوں نہیں آیا؟ لیکن۔۔۔' وہ خود سے باتیں کر رہا تھا، ٹہلتا ہوا کچھ دور گیا اور کچھ سوچتے ہوئے ہوا میں انگلی سے اشارے کرنے لگا۔ وہ یونہی کچھ دیر تک سوچ بچار کرتا رہا اور پھر لوٹ کر آیا،
'ہمیں کاروان سرائے ہی جانا چاہیے۔ اس کی تین وجوہات ہیں۔۔۔' تجزیاتی لہجے میں کہنے لگا، 'پہلی یہ کہ مجھے اس بات کا یقین نہیں ہے کہ ہم صحرا میں دوبارہ ان افغانوں کی جیپ ڈھونڈ پائیں گے!'
'لیکن ہمیں جگہ تو معلوم ہے، یہاں سے زیادہ دور نہیں ہے۔۔۔' میں نے نکتہ نکالا،
'وہ جگہ یہاں سے چالیس میل دور ہے!' اس نے تصحیح کی، 'اور ویسے بھی۔۔۔ بعض اوقات صحرا میں ایک ہی چیز تلاش کرنے پر بھی دوسری دفعہ نہیں ملا کرتی' اس نے بات آگے بڑھائی، 'دوسری وجہ یہ ہے کہ ہمارے پاس اتنا پانی نہیں ہے کہ ہم واپس جا کر لوٹ آئیں اور آگے کا سفر بھی ہے۔ تیسری اور سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ بالفرض شریف نے پہلے ہی اپنے آدمی روانہ کر دیے ہوں؟ اگر ہم وہاں جائیں اور جیپ نہ ہوئی تو پھر؟ کیا ہم اسے تلاش کرتے رہیں گے؟'
اب مزید کچھ کہے سنے بغیر اس نے گاڑیوں کو رسوں سے باندھنا شروع کر دیا، یعنی اس کو قائل کرنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ اس کا تجزیہ بھی درست تھا، اس لیے کسی نے ڈاکٹر کی تجویز کو مزید نہیں کریدا۔ ہم دونوں گاڑیوں کو آگے پیچھے باندھے، انتہائی سست رفتاری سے صحرا میں شمال کی جانب بڑھ گئے۔ کاروان سرائے میں پہنچے تو شام کے چار بج چکے تھے اور اس کا لکھا ہوا نوٹ ابھی تک دروازے پر ٹنگا ہوا تھا۔
سب نے مل کر میری ٹوٹی ہوئی ایکسل والی جیپ کو دھکے لگا کر شہد کے چھتے کی مانند کاروان سرائے کے ایک کمرے میں پہنچا دیا اور اچھی طرح ڈھانپ لیا۔ پھر ہم مرکزی ہال میں جمع ہو گئے اور آگے کی بابت غور کرنے لگے۔ نظراللہ نے ہر طرح کی تجاویز کو سنا اور اپنی رائے بھی پیش کر دی۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم میں سے دو آدمی نظراللہ کی جیپ پر سوار، پچرڈ کی لاش سمیت قلعہ بست لوٹ جائیں گے۔ چاروں کی جان کو خطرے میں ڈالنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ پیچھے رہ جانے والے دوسرے دو، جس قدر ممکن ہو خوراک سمیت کاروان سرائے میں ٹوٹی ہوئی جیپ کے پاس ہی رہیں گے تا آنکہ پہلے دو کچھ انتظام کر کے لوٹ نہ آئیں۔ 'سوال صرف یہ ہے کہ۔۔۔' نظراللہ نے بات سمیٹتے ہوئے کہا، ' قلعہ بست کون جائے گا اور ہم سے کون یہیں رہے گا؟'
تازہ ترین تجربے کی بنیاد پر میں فوراً کود پڑا، 'میں ایک حکم نامہ لکھ دیتا ہوں اور اس معاملے کی تمام تر ذمہ داری اٹھانے کے لیے تیار ہوں۔ شواٹز اور نور یہیں رکیں گے جبکہ میں اور نظراللہ قلعہ بست لوٹ جائیں گے۔۔۔'
'یہ اچھی تجویز ہے!' شواٹز نے منہ بنا کر ناپسندیدگی سے کہا،
دوسری جانب نور محمد، جو ابھی تک پوری طرح سنبھلا نہیں تھا، فوراً ہی کاٹنے کو دوڑ پڑا۔ ناک سُڑک کر بولا، 'ملر صاحب کے ساتھ رہنا میری ڈیوٹی ہے!'
'میں تمھیں تمھاری ڈیوٹی سے عہدہ برا کرتا ہوں۔۔۔'، میں نے پشتو میں حکم سنایا،
'آپ یہ فیصلہ نہیں کر سکتے، اس وقت آپ میری ذمہ داری ہیں۔۔۔' نور نے بحث کرتے ہوئے اصرار جاری رکھا،
'یہ بحث ہی فضول ہے!' نظراللہ نے کہا، 'اگر کسی نے تن تنہا صحرا پار کرنا ہے تو وہ خطرہ افغانوں کو ہی مول لینا پڑے گا۔ شواٹز اور ملر یہیں رکیں گے۔۔۔' پھر واقعی حکم آیا، 'نور۔۔۔ تم فوراً جیپ میں سوار ہو جاؤ!' یہ سن کر نور محمد نے پھر زبان کھولنے کی کوشش کی لیکن نظراللہ نے بگڑ کر اسے سختی سے چپ کرا دیا، 'میں مزید کچھ نہیں سنوں گا۔۔۔ فوراً چلو!' اس کے ارادے دیکھ کر نور دبک گیا جبکہ میں نے بھی مزید کچھ کہنا مناسب نہیں سمجھا۔ میں اور نظراللہ مل کر سرائے کے جوہڑ سے گدلا پانی بھر لائے۔ نظراللہ نے مجھ سے پوچھا، 'کیا تم اس پانی پر تین یا چار دن گزار سکتے ہو؟'
'فکر کی بات تو ہے لیکن تم جلد از جلد، اس سے پہلے ہی لوٹ آنا۔۔۔' میں نے مذاقاً کہا لیکن نظراللہ کے چہرے پر تپتے صحرا میں تن تنہا، صرف ایک ہی جیپ میں سفر کا سوچ کر ہوائیاں اڑتی ہوئی دکھائی دے رہی تھیں۔ میں اس کے خلوص کا پہلے ہی گواہ تھا، اب اس کی ہمت کا بھی قائل ہو گیا۔ مردہ افغان فوجیوں کی خشک لاشیں آنکھوں کے سامنے گھوم گئیں ، اسی لیے صاف اور میٹھے پانی کے سارے کنستر نکال کر اسے کے حوالے کر دیے۔ میں نے تاکید کی، 'نظراللہ۔۔۔ تم خیال رکھنا اورگاچی سے بچ کر رہنا!'
رخصت ہونے سے قبل اس نے مجھے تسلی دی، 'ملر۔۔۔ میں جب لوٹ کر آؤں تو وعدہ کرتا ہوں کہ ایلن سے متعلق تمھارے ہر سوال کا جواب دوں گا' پھر اس نے میرے کندھے پر تھپکی دی اور جیپ میں نور محمد کو ہمراہ لیے ، تیزی سے سرائے کے احاطے سے نکل گیا۔ میں دیر تک کھڑا اس کی جیپ کو مشرق کی جانب تیز رفتاری سے جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔ سفید جھنڈا تپتے ہوئے صحرا کے تپتے ہوئے تندور میں دور تک دکھائی دیتا رہا۔
شام پھیلنے لگی تو شواٹز اور میں نے مل کر کفایت شعاری سے صرف انتہائی ضرورت کے مطابق ٹن ڈبوں میں بند راشن نکال کر کھایا اور معمولی مقدار میں گدلا پانی بھی پی لیا۔ پانی کا ذائقہ کھارا تھا، جیسے اس میں شورا نمک بھرا ہو۔ اگرچہ ہم اسی طرح تھوڑے سے کھانے اور کھارے پانی پر زندہ رہ سکتے تھے لیکن اگلے تین سے چار دنوں تک گرمی میں اس بیابان جگہ پر بے کار پڑے رہنے کا سوچ کر ہی دل میں ہول اٹھ رہے تھے۔ چنانچہ توجہ بٹانے کے لیے ہم باہر نکل گئے اور دیر تک جلتے ہوئے سورج کو دور ریت کے ٹیلوں کے پیچھے غروب ہوتا دیکھتے رہے۔ جوں جوں سورج ڈوب رہا تھا، ہوا میں تپش کم ہوتی جا رہی تھی۔ ہم وہیں ریت پر بیٹھے رہے تا آنکہ تاریکی پھیل گئی۔ پہلے ستارے اورپھر پورا چاند بھی نکل آیا۔ صحرا کے بیچ ایک لمبے، تھکا دینے والے افسردہ دن کے بعد یہ وقت بہت سکون آور تھا۔ اب ریت ٹھنڈی ہوتی جا رہی تھی جبکہ چاروں طرف چاندنی پھیلی ہوئی تھی۔ کافی دیر بعد جب ہم نے آرام کی ٹھانی تو اچانک شواٹز نے سرگوشی میں کہا، 'ملر۔۔۔ تم نے کوئی آواز سنی؟ کوئی ہے کیا؟' میں نے بھی کان لگائے تو مجھے قریب ہی کچھ گڈ مڈ سنائی دی، جیسے قدموں کی آہٹ ہو۔ ایسا لگا جیسے شاید کوئی دبے پاؤں ہماری جانب بڑھ رہا ہے۔
ہم دم سادھے وہیں ٹک کر بیٹھے رہے اور پھر چاند کی روشنی میں دیکھا کہ غزال ہرنوں کا ایک چھوٹا سا جھنڈ ہمارے قریب ہی صحرا کی ریت میں موجود ہے۔ دن کی گرمی اور سورج کی روشنی کے برعکس اس وقت چاند کی ٹھنڈی روشنی میں یہ جانور بہت ہی بھلے لگ رہے تھے، جیسے خواب آور ہوں۔ غالباً شمال کی جانب صحرا کے سرے پر دن بھر سبزہ چرتے رہنے کے بعد اب صحرا میں محفوظ گھاٹیوں کے مسکن کی طرف لوٹ رہے تھے۔ صحرائی پناہ گاہوں میں شکاریوں سے بچ کر رہتے اور کسی کے لیے ان کی یہ پناہ گاہیں ڈھونڈ نکالنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ صحرا میں تپتے ہوئے دن کے بعد، جب ہم پچھلے دو دنوں میں بھیانک موت کا مظاہرہ دیکھ چکے تھے۔۔۔ غزال ہرن اس سختی اور رنجوری کی تلخ کیفیت میں اس قدر شیرینی گھول رہے تھے کہ بیان مشکل ہے۔ میں اور شواٹز دونوں ہی اس قدر محو ہو گئے کہ اگلے چند منٹوں تک سانس روکے ان بانکے ہرنوں کی طرح دار چال ڈھال دیکھتے رہے۔ ایک دلکشی تھی، کوئی سحر تھا جو ٹوٹنے میں نہ آتا تھا۔ پھر اچانک شواٹز نے غیر متوقع طور پر زور سے تالی بجائی اور میں نے دیکھا کہ جھنڈ میں ہلچل مچ گئی۔ غزال ہرن یہاں وہاں، ریت میں ادھر اور ادھر پھدکنے لگے جیسے رقص کرتے ہوں۔ دیکھتے ہی دیکھتے، آگے پیچھے وہ چاند کی روشنی میں ٹیلوں کے پیچھے گم ہو گئے۔
'بہت ہی خوب، بہت ہی عمدہ ۔۔۔ دیکھو تو، کیا نزاکت ہے!' شواٹز نے ایک دفعہ پھر سرگوشی کی۔ پہلی بار مجھے احساس ہوا کہ میں شواٹز کے ساتھ، صحرا کے بیچوں بیچ اس سنسان کاروان سرائے میں اکٹھی بسر کر رہا ہوں۔ وہ اور میں اس وقت ایک ہی جیسے احساسات سے دوچار ہیں، یعنی ہم ایک ہی ہیں۔ میں یہ جاننا چاہتا تھا کہ آخر اس نے جانتے بوجھتے بھی چہار میں پچرڈ کو صحرا کے سفر کی حمایت کیوں کی تھی؟ میں اس سے پوچھنے ہی والا تھا کہ اس نے کہا، 'نو بج گئے ہیں۔ چلو چل کر بستر وغیرہ لگا لیں' یوں ہم واپس لوٹ آئے اور کاروان سرائے کے مرکزی ہال میں لالٹین روشن کر دی۔ ہم اس دیوہیکل ستون اور اس پر بننے والے سایوں سے نظریں چرا رہے تھے، لیکن ظاہر ہے۔۔۔ اس سے فرار ممکن نہیں تھا۔
میں نے کہا، 'تم نے چہار میں ایک طبی فیصلہ کرنے سے انکار کر کے مجھے حیران کر دیا تھا، حالانکہ حقائق تمھارے سامنے تھے۔ تم اچھی طرح جانتے تھے کہ پچرڈ بگڑی ہوئی ٹانگ کے ساتھ صحرا میں اترا تو ہلاک ہو جائے گا۔ تم نے میری حمایت کیوں نہیں کی؟'
'اس کو مرنے سے کوئی نہیں بچا سکتا تھا۔ یہاں یا وہاں۔۔۔' اس نے محتاط ہو کر جواب دیا،
'میں جانتا ہوں، میں بھی دیکھ سکتا تھا لیکن۔۔۔' میں نے اس کو یوں ٹوکا کہ خود مجھے اپنے آپ پر حیرانگی ہونے لگی۔ کچھ دیر قبل غزال ہرنوں کو دیکھ کر میرے اندر اس کے ساتھ دوستی کے جو جذبات اٹھے تھے، وہ ہوا ہونے لگے۔ شواٹز بھی میرے لہجے سے سٹپٹا گیا، شاید اسے ڈر تھا کہ میں کابل لوٹ کر پچرڈ کا حوالہ دوں گا اور اس کی قندھار سے نکلنے کی امیدوں پر پانی پھیر دوں گا۔
اس کے چہرے پر مایوسی کے سائے لہرانے لگے۔ اس نے حقارت سے پوچھا، 'یعنی، اب تم خود کو اس طرح کے تشخیصی فیصلے کرنے کا اہل سمجھتے ہو؟ بولو؟' اس کی آواز میں تحقیر بڑھ رہی تھی، 'میری بات سنو ۔۔۔ جوان! تمھاری اتنی عمر نہیں ہو گی جتنا میرا تجربہ ہے لیکن پھر بھی میں وہ فیصلہ کرنے سے قاصر تھا۔ تم کچھ بھی کہو لیکن تشخیص ایسی چیز ہے جس کا ہر کوئی اور ہر وقت اہل نہیں ہوتا۔۔۔'
پھر وہ میرا جواب سنے بغیر ہی بگڑ کر اپنی جگہ سے اٹھا اور ہمارے پاس واحد، سبزی کاٹنے کا چاقو اٹھا لیا اور سیدھا ستون کے پاس جا کھڑا ہوا۔ ہیجان کی کیفیت میں پلاسٹر اکھیڑنے لگا، جیسے اس میں کوئی چیز حلول کر گئی ہے۔
'نظراللہ نے کہا تھا کہ یہ ایک قومی یادگار ہے!' میں نے اسے ہال کے دوسرے سرے سے یاد دلانا چاہا،
'یہ اس قوم کی نہیں بلکہ پورے جہان کی یادگار ہے۔۔۔' اس نے میری بات ان سنی کرتے ہوئے بدستور کھرچ جاری رکھی، 'میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ اس کے اندر واقعی کیا ہے؟' اس کے لہجے میں مضبوطی تھی۔ اس نے مجھے اپنی طرف بلاتے ہوئے آواز لگائی، 'ملر۔۔۔ ادھر آؤ۔ دیکھو، یہ ایک کھوپڑی نکل آئی ہے!'
میں جانا تو نہیں چاہتا تھا لیکن پھر بھی لالٹین اٹھائی اور اس کے پاس جا کھڑا ہوا۔ شواٹز نے میرے ہاتھ سے لالٹین لے لی اور ستون پر روشنی ڈال کر مجھے کچھ دکھانے لگا۔ میں نے دیکھا کہ پلاسٹر کی ایک انچ تہہ کے پیچھے ایک گول ہڈی نظر آ رہی تھی۔ 'یہ واقعی کھوپڑی ہے؟' میں نے پوچھا،
'ہاں۔۔۔ یہ کھوپڑی ہی ہے۔ تمھارے خیال میں اس ستون میں کتنی کھوپڑیاں ہوں گی؟' اس سے پہلے کہ میں جواب دیتا، اس نے سخت غول حرکت کی۔ لالٹین زمین پر رکھی اور کہا، 'فرض کرو، یہ ستون کا مرکز ہے' پھر وہ زمین پر چت لیٹ گیا، اس کے ٹخنے لالٹین سے ٹکرا رہے تھے۔ لیٹتے ہی حکم دیا، 'میرے کندھے کی جگہ پر دونوں طرف نشان لگاؤ' جب میں نے نشان لگا لیا تو وہ زمین پر لوٹیں لگاتا دوسری جانب لڑھک گیا۔ میں نے پھر کندھے کا نشان لگایا اور یوں تصوراتی ستون کے گرد چکر پورا کر لیا۔ 'یہ تو ہو گیا۔۔۔' اس نے مطمئن ہو کر کہا، 'ایک تہہ میں قریباً تیس لوگ اور اگر چھ فٹ کا ایک آدمی ہو تو دو تہیں۔۔۔ کل ملا کر ساٹھ آدمی ہو گئے۔ اب سوال یہ ہے کہ زمین سے چھت تک کتنی تہہ ہوں گی؟' وہ ایک قدم پیچھے ہٹا اور چھت تک اونچائی کا اندازہ لگانے لگا، 'میرے خیال میں پینتالیس تو کم از کم ہوں گی' اس نے کچھ دیر توقف کیا، دماغ میں ضرب دی اور میں نے دیکھا، اس کے چہرے پر خوف کا سایہ لہرا گیا، 'میرے خدا! اس ستون میں کم از کم ستائیس سو کھوپڑیاں ہیں!'
ہم یہ سوچ کر ہی زمین پر بیٹھے کے بیٹھے رہ گئے اور بے یقینی کے ساتھ اس ہولناک ستون کا جائزہ لینے لگے۔ میں پہلے بھی اور اب ایک دفعہ پھر شواٹز پر اس ستون کی کہانی کا اثر دیکھ کر چونک گیا تھا۔ میں نے بالآخر پوچھ ہی لیا، 'جب پچرڈ مر رہا تھا۔۔۔ میں نے دیکھا کہ تم نے اپنے سینے پر صلیب کا نشان بنایا تھا؟'
'ہاں!'
'تم ا س وقت کیتھولک تھے؟'
'جب میں میونخ میں تھا۔۔۔ تو کیتھولک تھا!'
'لیکن پھر تم مرتد ہو گئے؟'
'ظاہر ہے۔ مجھے اپنی باقی ماندہ زندگی یہیں تو گزارنی ہے۔۔۔'
'لیکن کیوں؟' میں نے دو ٹوک انداز میں پوچھا،
'ملر۔۔۔ تم اچھی طرح جانتے ہو اور پہلے بھی بتا چکا ہوں۔۔۔' اس نے بددلی سے کہا، 'اور اسی وجہ سے یہ ستون بھی مجھے دم بخود کر دیتا ہے۔ دین بدلنے سے مجھے امید کا احساس ہوتا ہے!'
'میں سمجھا نہیں، تم کہنا کیا چاہتے ہو؟' میں نے پوچھا،
'اصل میں یہ ستون میرے دل میں انسانوں بارے یقین کو ہوا دیتا ہے۔ ہم نے جرمنی میں جو کچھ بھی کیا۔۔۔ وہ انتہائی خوفناک تھا۔ یہ ستون دیکھ کر مجھے ڈھارس بندھ جاتی ہے کہ ایسا پہلی بار نہیں ہوا۔ انسان ہمیشہ سے ہی ظالم اور سنگدل چلا آ رہا ہے' میں جدید دنیا کے مہذب ہٹلر کی سنگدلی کا یوں بربریت پسند چنگیز خان کے نام پر دفاع پر اپنی کراہت کا اظہار کرنا چاہتا تھا لیکن شواٹز نے مجھے موقع نہیں دیا اور کہا، 'تاریخ گواہ ہے کہ ہر دور میں اور ہر تہذیب میں کوئی نہ کوئی انسان بے لگام ہو جاتا ہے، ایسے انسان وحشیانہ پن پر اتر آتے ہیں۔ صرف یہ ہے کہ اگر ہم انہیں بروقت روکنے میں کامیاب ہوں تو بچت ہو جاتی ہے لیکن اگر۔۔۔' اس نے ستون کی طرف اشارہ کیا۔
آدھی رات تک ہم دونوں بیٹھے اسی نظریے پر بحث کرتے رہے۔ شواٹز کا سارا زور اپنی کہی بات کے دفاع پر جما تھا۔ اس کا خیال تھا کہ جرمنی میں جو کچھ بھی ہوا وہ در اصل ایسا ظلم ہے جو کسی بھی قوم کے ہاتھوں، کسی بھی زمانے میں اور کہیں بھی سرزد ہو سکتا ہے۔ دنیا میں اس کی کئی مثالیں ہیں، یہاں تک کہ امریکہ جیسے جدید ملک میں بھی کسی زمانے میں مقامی آبادیوں کا صفایا کیا گیا۔ کئی مثالیں تو ایسی تھیں جہاں مظلوم، وقت آنے پر ظالم بن گئے۔ مجھے حقائق سے کوئی اختلاف نہیں تھا، میں اس کے اس نظریے کو سمجھنے اور ماننے سے عاری تھا کہ ایسا بار بار ہوتے رہنا اٹل ہے اور کوئی قوم اس وحشیانہ جبلت سے خالی نہیں ہے۔
'میں تمھیں سمجھاتا ہوں۔۔۔' اس نے کہا، 'اگرچہ میں امریکہ کبھی نہیں گیا لیکن میں نے امریکی فلمیں اور کتابیں وغیرہ بہت پڑھ رکھی ہیں۔ میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر سیاہ فاموں کی نسل کشی کا وقت آیا تو تمھاری قوم کو اس کام کے لیے رضا کاروں کی کمی نہیں ہو گی۔ یہاں تک کہ معمولی سفید فام امریکی بھی ملک کے کونے کونے سے سیاہ فاموں کو گھسیٹ کر کیمپوں تک پہنچائیں گے!'
'یہ انتہائی غیر مناسب بات ہے' میں نے احتجاج کیا لیکن لہجہ نرم رہا،
'ملر!' اس نے ٹھہرے ہوئے لفظوں میں کہا، 'تم اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر کہو کہ امریکی سیاہ فاموں کے ساتھ وہ سلوک نہیں کریں گے جو ہم نے یہودیوں سے روا رکھا؟'
میں نے آہستگی سے جواب دیا، 'تم سب امریکیوں کو ایک ہی لاٹھی سے مت ہانکو۔۔۔ میں مانتا ہوں کہ ہماری قوم میں کچھ لوگ جنونی ہیں'
'کچھ نہیں۔۔۔ امریکیوں میں جنونیوں کی کوئی کمی نہیں ہے' اس نے زور دے کر کہا، 'ہمارے لیے یہودی بے کار تھے، اس لیے ہم ہتھے سے اکھڑ گئے۔ ایک دن ایسا آئے گا کہ امریکی سیاہ فاموں کے ساتھ بھی یہی سلوک کریں گے۔۔۔ وہ بھی انہیں بے کار کا بوجھ سمجھتے ہیں!'
'شاید تمھاری بات درست ہے لیکن میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر ایسا کبھی کچھ ہوا تو ۔۔۔ کم از کم ہمارے یہاں نوبت عقوبت خانوں اور کیمپوں تک نہیں پہنچے گی۔۔۔' میں نے مزاحمت کرنے کی کوشش کی،
'شروعات ایسے ہی ہوتی ہے۔۔۔ کیمپ تو بہت دور کی بات ہے!' اس نے اتفاق کیا، 'ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ امریکیوں کا احساس ذمہ داری انہیں عقوبت خانے اور حبس بے جا کے کیمپ لگانے سے روک دے۔ وہ کیا ہوتا ہے امریکہ میں۔۔۔ مسودہ حقوق۔ ہاں۔۔۔ مسودہ حقوق بیچ میں آ جائے لیکن دو یا تین سال کا مسلسل پروپگنڈہ ہو لینے دو تو پھر تم دیکھو گے کہ ملک کا صدر، چرچ، اخبار، سینما، یونین۔۔۔ الغرض سبھی ایک بولی بول رہے ہوں گے۔ تمھیں بالکل اندازہ نہیں ہے کہ امریکیوں کی کتنی بڑی تعداد سیاہ فاموں کو گولیوں سے بھوننے کو تیار بیٹھی ہے!'
'ایسا ہر گز نہیں ہے' میں نے اعتماد سے اس کے نظریے کی نفی کرنے کی کوشش کی ،
'ملر۔۔۔ اگر تم ایسا سمجھتے ہو تو یہی کہوں گا کہ تم بیوقوف ہو!' اس نے بپھر کر کہا۔ وہ تیزی سے اٹھا اور تقریباً بھاگتے ہوئے ستون کے پاس جا کر اس پر مکے برسانے لگا۔ پھر مڑ کر بولا، 'تمھارے خیال میں چنگیز خان نے ظلم اور جبر کی شروعات اس ستون سے کی تھی؟ ملر۔۔۔ وہ ایک کے بعد دوسری سیڑھی چڑھتا گیا اور ایک وقت ایسا آیا کہ اس کے لیے ستائیس سو لوگوں کو ایک ہی ستون میں چنوا دینا کوئی بات ہی نہیں رہی۔ تم کسی بھی امریکی شہر کا نام لے لو۔۔۔ اس شہر کے لوگ خوشی سے۔۔۔ بلکہ اس بات میں تسکین پائیں گے کہ کوئی انہیں قدم بہ قدم اس نہج پر لے جائے جہاں وہ اس جیسے سینکڑوں ستون چن سکتے ہوں۔ تمھارا کیا خیال ہے، ہم جرمنوں نے ایک ہی دن میں بربریت کی انتہا کر دی؟ نہیں ملر۔۔۔ ایسا نہیں ہے۔ تمھارا کیا خیال ہے، یہ سب آن کی آن میں، اڑتی ہوا میں ہو گیا؟' وہ ستون کو مکوں سے پیٹنے لگا اور مجھے ڈر پیدا ہو گیا کہ وہ اپنی انگلیوں کے گٹے زخمی کر بیٹھے گا۔
وہ میرے پاس آ کر بیٹھ گیا، اس کی سانس دھونکنی کی طرح چل رہی تھی۔ رات کافی گزر چکی تھی اور ہم دونوں ہی صحرا کی دن بھر مشقت کے بعد بے حال تھے لیکن یہ ستون ہمیں جگائے رکھے تھا۔ شواٹز نے نرمی سے کہا، 'ملر تمھارا کیا خیال ہے؟ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ اتحادیوں کے پاس میرے بارے جو جنگی جرائم کی رپورٹیں ہیں، ان میں میرا کیا خاکہ ہے؟ تمھارے خیال میں، میں ہمیشہ سے اتنا ہی وحشی تھا جیسا ان رپورٹوں میں درج ہے؟ ایسا نہیں ہے۔ میں میونخ میں بسر رکھنے والا، انتہائی عزت دار شخص تھا۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور قابل ڈاکٹر تھا۔۔۔ جو باقاعدگی کے ساتھ چرچ بھی جاتا تھا۔ میری بیوی بھی میونخ کے ایک نامی گرامی بزنس مین کی بیٹی تھی، اس کا اشرافیہ سے تعلق تھا۔ میں اور میری بیوی نے جب یہ دیکھا کہ نازی پارٹی میں شمولیت کے کئی فوائد ہیں، سو ہم نے بھی فارم بھر لیا۔ صرف میں ہی نہیں بلکہ مجھ جیسے لاکھوں دانشمندوں نے ایسا ہی کیا۔ پہلے پہل اس میں کوئی مسئلہ نہیں تھا۔۔۔ یہودیوں کا یہ ہے کہ سبھی ان کو ناپسند کرتے آئے ہیں۔۔۔ اور ان کو خود سے الگ سمجھتے ہیں۔ وہ ہم سے مختلف ہیں!' یہ بات اس نے یوں کہی کہ اس کی آواز میں رازداری در آئی۔ شاید وہ یہ سوچ رہا تھا کہ اس طرح میں بھی اس کی ہاں میں ہاں ملاؤں گا کہ آخر ایک سمجھ بوجھ رکھنے والا شخص یہودیوں سے کیوں ناپسند کرتا ہے، گویا ہم دونوں ہی یہودیوں کو ناپسند کریں گے تو بھائی بند کہلائیں گے، ہم ایک ہو جائیں گے۔
'ایک دن مجھے احکامات موصول ہوئے کہ میں یہودیوں کے ایک کیمپ میں لوگوں کی صحت کا جائزہ لوں۔ میں نے ایسا ہی کیا اور پوری ایمانداری سے اپنا فرض نبھایا۔ ملر، میرا یقین کرو۔۔۔ میں نے ایک ایسا یہودی دیکھا جسے ایک قیمتی دوا کی اشد ضرورت تھی۔ میں نے اس کو وہ دوا دلوائی اور جان بچائی۔ کئی یہودی ہیں جو آج صرف اس وجہ سے زندہ ہیں کہ میں نے ان کا بروقت علاج کیا تھا۔۔۔' اس نے یہ کہہ کر یوں اثبات میں سر ہلایا کہ مجھے لگا شاید وہ ہر روز، دن اور رات خود کے ساتھ یہی مکالمہ کرتا ہے اور خود کو تسلی دیتا ہے۔ مجھے یقین تھا کہ وہ سچ کہہ رہا ہے، کئی یہودی ہیں جو آج صرف اس وجہ سے زندہ ہیں کیونکہ ڈاکٹر شواٹز نے ان کی بروقت مدد کی تھی۔
'اگر مجھ پر مقدمہ چلا۔۔۔' اس نے اعتماد سے کہا، 'میونخ شہر کی ہسپتال کے ریکارڈ گواہی دیں گے کہ میں نے کتنے یہودیوں کی جان بچائی، ایسے سینکڑوں کیس ہیں۔ وہ ریکارڈ ابھی تک سلامت ہے، رپورٹوں میں سب درج ہے!'
اس نے مڑ کر میری جانب دیکھا تو اس کی نظروں میں فکرمندی عیاں تھی ، آنکھوں کے گرد حلقے اور چہرے پر تھکن کے آثار بڑھ گئے تھے۔ وہ لالٹین کی جانب پیٹھ موڑ کر بیٹھا تھا، اس لیے اندھیرے میں صاف نظر نہیں آیا لیکن میرے خیال میں اس کا جسم پسینے سے نچڑ رہا تھا۔ وہ مجھے صرف ایک سایے جیسا نظر آ رہا تھا۔ کچھ دیر توقف کے بعد اس نے ہمت مجتمع کی اور موثر آواز میں دوبارہ کہنا شروع کیا، '۔۔۔لیکن جوں جوں وقت گزرتا رہا، غیر متوقع مسائل نے سر اٹھانا شروع کر دیا۔ ایک یہودی تھا، اس کے بارے احکامات ملے کہ اس کو پاگل قرار دے دوں تا کہ اسے بانجھ کرنے کی راہ نکل سکے۔ اسی طرح، حکومت نے ایک اجنبی شخص کو دھر لیا اور مجھے حکم ملا کہ اس کے کاغذات میں رد وبدل کر کے نسل بدل دوں تا کہ اس کی جائیداد پر قبضہ کیا جا سکے۔ میں نے اس سے پہلے اس شخص کو کبھی نہیں دیکھا تھا لیکن وہ یہودی ہی تھا۔ یہودی تو شکل سے پہچانے جاتے ہیں۔ اس طرح کی اکا دکا چیزوں کے بعد آہستہ آہستہ میں بدعنوانی میں دھنسنے لگا'۔
وہ بدستور ستون کی طرف انتہائی نفرت انگیز نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ اس کے اندر نفرت بھری ہوئی تھی، 'ملر۔۔۔' وہ تقریباً چلاتے ہوئے بولا، 'تم کیا سمجھتے ہو کہ جس شخص نے اس ستون میں چنوائے ستائیس سو زندہ لوگوں کے اوپر پلاسٹر جمایا ہو گا۔۔۔ کیا اس کام کا یہ اس کا پہلا تجربہ تھا؟ کیا تم واقعی یہ سمجھتے ہو کہ اگر تمھیں بھی قدم بہ قدم اس راہ پر لکیر کے فقیر کی طرح چلایا جائے تو تم یہ کام کرنے کے اہل نہیں؟'
'کم از کم میں یہودیوں کو گیس چیمبروں میں ڈال کر گھٹن سے ہلاک کرنے کا اہل نہیں ہوں' میں نے نفرت سے کہا،
'آ ہاں۔۔ لیکن بھولو مت۔۔ تمھارے یہودی تو سیاہ فام ہیں۔ کیا تم موقع ملا تو۔۔۔'
'ظاہر ہے۔۔۔نہیں!' میں حقارت سے چلایا،
'ملر۔۔۔ تم جھوٹے ہو۔ تم خود کو دھوکہ دے رہے ہو!' وہ پھر سے ستون کو پیٹنے لگا، 'ہم ایک ہی جیسے انسان ہیں۔ یہ صرف چنگیز خان کا نہیں بلکہ تمھارا ستون بھی ہے۔ یہ امریکیوں کا، برطانویوں کا، جرمنوں کا اور منگولوں کا۔۔۔ یہ ہم سب کا ستون ہے۔ یہ کسی ایک شخص نے نہیں بنایا، ایسے کئی ستون۔۔۔ ہر قوم کا ہے، جس کو جہاں موقع ملا۔۔۔ یہ اسی کا ستون ہے۔ یہ پورے جہان کا ستون ہے!'
اس کی آواز رندھنے لگی۔ مجھے ڈر ہوا کہ شاید وہ رو رو کر مزید انکشافات کرے گا لیکن شکر یہ ہے کہ اس نے خود پر قابو پا لیا۔ وہ تھکے ہوئے قدموں سے لوٹ کر آیا اور میرے پہلو میں لالٹین کی روشنی میں فرش پر ہی بیٹھ گیا۔ رات کے دو بج چکے تھے اور ٹم ٹم کرتی روشنی میں، اس کے چہرے پر پریشانی کھیل رہی تھی۔ نسیں تنی ہوئی اور تھکن سے چور تھیں لیکن اس نے بس نہیں کی بلکہ میری جانب عجیب و غریب نظروں سے دیکھنے لگا۔ مجھے یاد آیا کہ اس کے چہرے پر پھیلی یہ وحشت میں پہلے بھی دیکھ چکا ہوں۔ قندھار میں جب وہ طائفے کے رقاصوں کو لعن طعن کر رہا تھا، اس وقت بھی بعینہ ایسی ہی کراہت اور وحشت چھائی ہوئی تھی۔ مجھے اس کے الفاظ بھی یاد آ رہے تھے کہ 'یہ حرامی، لونڈے باز ہیں۔ جب بھی شہر میں آتے ہیں۔۔۔ گڑبڑ ضرور ہوتی ہے'۔ میں متجسس تھا کہ آخر اس کی نازی زندگی کی ایسی کیا چیز ہے جو اس کو اندر سے کھولا رہی ہے؟ ایسا کیا ہے جو سوچ کر اس کی حالت ایسی ہو جاتی ہے؟
چار بجے کے آس پاس وہ اپنے قصے میں اس مقام پر پہنچ ہی گیا جس کے بارے مجھے تجسس ہو رہا تھا۔ '1941ء میں جب جنگ میں جرمنی کی سبھی محازوں پر فتح ہونے لگی تو انہوں نے مجھ سے کہا، 'ہم ایک ریسرچ ڈائریکٹر کی تلاش میں ہیں جو فوجی اہمیت کے حیاتیاتی تجربات کی نگرانی کر سکے۔ یہ انتہائی اہم عہدہ ہے جس کا مقصد تاج برطانیہ کی حتمی تباہی کا سامان پیدا کرنا ہے!' تم خود ہی کہو، میں کیا کہتا؟ مجھے تو اپنی قابلیت پر فخر ہونے لگا۔ انہوں نے مجھے میونخ میں ایک انتہائی جدید لیبارٹری بھی دلا دی۔ میں گھر پر رہ کر کام کر سکتا تھا' افغانستان جیسے بیابان میں بیٹھے گھر کا تذکرہ چھیڑ کر، اس کے چہرے پر خوش گوار اثر ہوا۔ وہ میونخ کو یاد کرتے ہوئے دوبارہ کہنے لگا، 'میں اپنے گھر میں رہ کر کام کر سکتا تھا۔۔۔' اور مجھے قائل کرنے کی کوشش میں مزید کہنے لگا، 'تم سمجھ رہے ہو ناں۔۔۔ میرے پاس وہ عہدہ قبول نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ پہلے پہل تو ہم اس لیبارٹری میں ادویات وغیرہ پر تجربے کرتے رہے۔ زکام کی دوائیں ٹیسٹ کرتے تھے، ہمیں کافی کامیابیاں ملیں۔ میرے خیال میں آج کل امریکہ میں نزلے اور زکام کی جو دوائی بہت عام ہے، انہی دنوں کی۔۔۔ میری اسی لیبارٹری میں تحقیق کا نتیجہ ہے۔ ان دنوں تو میرے سر پر یہی بھوت سوار تھا کہ بالآخر میں جرمنی کو یہ جنگ جیتنے میں مددگار ثابت ہوں گا'
'اسی طرح کی کئی کامیابیاں ملتی رہیں لیکن پھر 1943ء میں ایک دن انہوں نے مجھے ایک خالص علمی سوال کا جواب تلاشنے کی ذمہ داری تھما دی کہ، 'ایک انسانی جسم کس قدر ٹھنڈ برداشت کر سکتا ہے؟' یہ ایک دلچسپ سوال ہے، بلکہ فوجی اہمیت کے لحاظ سے کہو تو انتہائی اہم سوال بھی ہے!' یہاں پہنچ کر اس نے کافی دیر توقف کیا اور اس دوران ٹکٹکی باندھے ستون کو دیکھتا رہا، پھر زور زور سے ہنسا اور بولا، 'میں نے کہا تھا ناں کہ ہم سب ایک جیسے ہیں۔ اس وقت مجھے علم نہیں تھا لیکن یہی سوال سینکڑوں میل دور روسی اور دوسرے اتحادیوں کو بھی درپیش تھا بلکہ انہوں نے اس سوال کا جواب نازیوں کی طرح لیبارٹریوں میں نہیں بلکہ اسی برس استالن گراد کے معرکے میں ڈھونڈ نکالا تھا' وہ اب قہقہے لگا کر ہنستے ہوئے طنزاً سر جھٹک کر بولا، 'بات کرتے ہیں۔۔۔!'
جب اس کا ہذیان کچھ تھم گیا تو وہ دوبارہ گویا ہوا تو اس کے لہجے میں بلا کی سنجیدگی تھی، 'ملر۔۔۔ طب کی دنیا میں یہ زبردست سوال ہے۔ آخر ایک انسان کا جسم کس قدر سردی برداشت کر سکتا ہے؟ ابھی کل کی ہی مثال تمھارے سامنے ہے۔ صحرا میں تمھیں محسوس ہو رہا تھا کہ شاید گرمی تمھاری برداشت سے باہر ہو رہی ہے لیکن نظراللہ نے تم سے کہا کہ خود پر ضبط قائم کرو اور صحرا کے نظم کا خیال رکھو۔ کیا تم نے دیکھا نہیں کہ اس کے بعد درجہ حرارت قریباً چون ڈگری تک بھی پہنچ گیا لیکن تم نے ضبط قائم رکھا اور نظم کا مظاہرہ کرتے ہوئے خوب برداشت کیا؟ یوں کہو تو یہ ایک دلچسپ سوال ہے کہ جہاں گرمی، وہیں آخر کس قدر سردی؟ ملر۔۔۔ مجھے ہر چیز کا ریکارڈ رکھنے کا شوق ہے۔ کل جب بیچارے پچرڈ نے بے بسی سے کہا کہ، 'میرا ریکارڈ ہمراہ رہنا چاہیے' تو میں اس کی کیفیت کو بخوبی سمجھ سکتا تھا کیونکہ یہ صرف ریکارڈ کی ہی مدد سے ممکن ہے کہ سائنس۔۔۔' اس کی آواز ٹوٹ گئی اور اس نے اپنا سر پکڑ لیا۔ میں اس کے اندر جاری کشمکش کو صاف دیکھ سکتا تھا۔ اس نے خود کو سنبھالا اور میرے گھٹنے پر ہاتھ دھر کر بولا، 'انگریزوں نے میرا سارا ریکارڈ اپنے قبضے میں لے لیا۔۔۔ یہ ظلم ہے، ظلم!'
اگلے چند منٹوں تک ہم دونوں نے مزید کوئی بات نہیں کی۔ پھر وہ آہستگی کے ساتھ خاموشی سے اٹھا اور لڑکھڑاتے ہوئے قدموں سے ستون کے گرد چکر لگانے لگا۔ اس کی کیفیت کو میں سمجھ نہیں پا رہا تھا، ایسا لگ رہا تھا جیسے اس کے اندر کوئی جنگ چل رہی ہے۔ وہ خود کو قائل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ لالٹین کی کانپتی ہوئی روشنی میں اس کے چہرے کو دیکھا تو ایسا محسوس ہوا کہ جیسے اچانک بڑھاپا در آیا ہے۔ اچانک وہ میرے سامنے ہی ستون کے ساتھ پشت لگا کر دھڑام سے نیچے بیٹھ گیا اور بولنے لگا۔۔۔ جیسے الفاظ کا سیلاب امڈ آیا، 'لیبارٹری کے تجرباتی حصے میں، جہاں سامپل رکھے جاتے تھے، ایسے پنجرے میں ایک یہودی بند تھا۔ اس کی عمر پندرہ سال رہی ہو گی اور وہ بہت ہی پیارا لڑکا تھا۔ ریکارڈ میں اس کا نام صیم لیون درج تھا۔ میں نے اس ضمن میں ہر طرح کے تجربات کر لیے اور تسلی بخش نتائج بھی ہاتھ آ گئے لیکن ان سائنسی نتائج کو ابھی تک کسی اوسط درجے کے صحت مند آدمی پر، مثال ہماری افواج کے سپاہیوں جیسے کسی شخص پر نہیں آزمائے تھے۔ چنانچہ اس مقصد کے لیے میں نے صیم لیون کا انتخاب کیا۔ یہودیوں کے جس گروہ سے اس کا انتخاب کیا گیا، وہ سائنسی زبان میں مجہول ہی تھا یعنی آدھا تیتر اور آدھا بٹیر۔۔۔ کوئی طریقہ کار نہیں تھا۔ میں نے صیم لیون پر سرسری نظر ڈالی اور اپنے ماتحت سے کہا، 'اسے لے آؤ۔ اب ہم دیکھیں گے کہ کیا ہماری تحقیق۔۔۔' اس نے مجھ سے پوچھا، 'تم سمجھ رہے ہو ناں؟'
میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ مزید کچھ بتانے سے ہچکچا رہا تھا۔ یقیناً وہ ستون سے پشت ٹکائے میرے چہرے پر رفتہ رفتہ بڑھتے ہوئے خوف اور نفرت کے سائے ابھرتے ہوئے دیکھ سکتا تھا۔ کچھ دیر بعد اس نے بہر حال اس کی پرواہ نہیں کی اور ہمت جمع کر کے بات جاری رکھی، 'ہر روز صبح ہم صیم لیون کو مکمل طور پر برہنہ کر کے ایک ایسے کمرے میں بند کر دیتے جس کا درجہ حرارت باہر سے کنٹرول کیا جا سکتا تھا۔ ہم آہستہ آہستہ کمرے کا درجہ حرارت کم کرتے گئے۔ آٹھ گھنٹوں کے بعد ہم نے اسے کمرے سے نکال کر واپس پنجرے میں اس کے ساتھی یہودیوں کے ساتھ واپس بند کر دیا۔ اس تجربے سے پہلے وہ شاذ و نادر ہی اپنے ساتھیوں سے بات کیا کرتا تھا لیکن اب میں نے دیکھا کہ جب ہم دن بھر اس پر تجربہ کر کے واپس پنجرے میں چھوڑتے تو دو ادھیڑ عمر، فربہ یہودی عورتیں اس کی دیکھ بھال کرنے لگیں۔ جب وہ ٹھنڈ سے جم کر نیلا جسم لیے پنجرے میں پہنچتا، وہ دونوں اس کو یوں بانہوں میں سمو کر گرم رکھتیں جیسے وہ کوئی دودھ پیتا بچہ ہو۔ رفتہ رفتہ باقی یہودی بھی کپڑے اتار کر ان تینوں پر ڈال دیتے اور ٹھٹھرتے ہوئے صیم لیون کو گرم رکھتے۔
'کچھ دن یوں ہی چلتا رہا۔۔۔ مجھے اس سخت جان یہودی سے نفرت ہو گئی کیونکہ ہر روز صبح جب اسے تجربے کے کمرے میں لایا جاتا تو وہ آہستگی سے اعلان کرتا، 'میں ابھی تک زندہ ہوں!' جب وہ یہ کہتا تو آس پاس پنجروں میں بند یہودی کچھ بھی کر لو، ڈانٹو یا پیٹو وہ کسی چیز کی پرواہ کیے بغیر خوشی سے چلاتے، سیٹیاں بجاتے اور اس کی حوصلہ افزائی کرتے۔ صیم لیون کا اس طور اعلان کہ، 'میں ابھی تک زندہ ہوں!' سبھی یہودیوں کے لیے غیرت اور امید کا مسئلہ بن گیا، وہ اسے ہر روز تجربے کے بعد زندہ رکھنے کی پہلے سے کہیں زیادہ کوشش کرنے لگے۔ وہ اس کے لیے خوراک بچا کر رکھتے، اس کی مالش کرتے اور اس کے لیے دوائیاں چرا لیتے۔۔۔ الغرض ان کو ایک مقصد مل گیا۔ صیم لیون کو بھی اپنے ساتھی یہودیوں کی اس مقصدیت سے شہ مل گئی اور اس نے بھی جیسے نہ مرنے کا تہیہ کر لیا۔
ملر۔۔۔ تم یقین نہیں کرو گے لیکن اس یہودی نے وہ سختی بھی برداشت کر لی جو شاید کسی آدمی کے بس میں نہ ہو۔ ہر روز اسے کو واپس پنجرے میں بند کیا جاتا تو وہ جسم نیلا پڑ چکا ہوتا اور جھانگوں کے بیچ سکڑا ہوا لنگ نیلا ہو کر سیاہ ہو چکا ہوتا لیکن وہ پھر بھی تن کر کہتا، 'میں ابھی تک زندہ ہوں!' اور چاروں طرف شور مچ جاتا۔ وہ دونوں عورتیں اپنے پیاروں کو یاد کرتیں جو جرمنی میں ہی کسی دوسرے کیمپ میں مر کھپ چکے تھے اور اس کو بانہوں میں بھر لیتیں۔ مجھے تو ایسے لگنے لگا کہ جیسے یہ ان یہودیوں کے لیے صبح اور شام رسم بن گئی، گویا صیم لیون دیوتا اور یہ کوئی قدیم عبرانی ریت ہو۔
ظاہر ہے، ایک وقت ایسا آیا کہ نمونیے کا حملہ قریب تھا۔ اس کا رویہ بھی نرم ہو گیا۔ وہ روز صبح برہنہ لایا جاتا تو مجھے خونخوار نظروں سے نہیں بلکہ انتہائی نرمی سے دیکھتا اور پھر شائستگی سے کہتا، 'صبح بخیر پروفیسر۔۔۔ میں ابھی تک زندہ ہوں!' یہ سن کر لیبارٹری سے منسلک کیمپ میں بھی دور دور تک شور مچ جاتا۔
شواٹز ستون کے ساتھ ہی ٹیک لگا کر تقریباً لیٹ گیا، وہ تھک کر چور ہو رہا تھا۔ پھر اس نے ویرانی سے کہا جو اس خاموش جگہ پر گونج اٹھی، 'میں وہاں دن رات لیبارٹری میں مصروف رہتا تھا اور جانتے ہو، میری بدکار بیوی۔۔۔ وہ میری پیٹھ پیچھے جس عہدے دار کو دیکھتی، اسی کے ساتھ رنگ رلیاں مناتی رہی' اس نے میری جانب یوں دیکھا جیسے کہتا ہو کہ شاید مکافات عمل یہی ہوتا ہے۔ وہ مجھے اس وقت پادری یا ربی سمجھ کر جیسے نجات کا طلبگار نظر آ رہا تھا۔ میرے چہرے پر رتی بھر رحم بھی نہ پایا تو وہ گریہ کرتے ہوئے چلایا، 'لیکن میں اپنے کام سے مخلص تھا۔ میں اگر چاہتا تو صیم لیون کو کسی بھی وقت مار کر اس کا یوں روزانہ منہ چڑانا بند کر سکتا تھا لیکن میں نے پوری ایمانداری کے ساتھ شیڈول کے مطابق تجربہ جاری رکھا۔ ہم ہر روز درجہ حرارت مزید کم کر دیتے، یہ میرے ریکارڈ سے تمھیں پتہ چل جائے گا۔۔۔ میرے کام میں ذرا بھی جھول نہیں تھا' اس نے ٹھنڈی سانس بھری،
'ہم سب کی توقعات کے برعکس کافی دیر کے بعد اس غلیظ یہودی کو۔۔۔' دس منٹ پہلے تک وہ پیارا لڑکا اب ایک غلیظ یہودی بن چکا تھا، 'بالآخر نمونیا نے پکڑ ہی لیا۔ اسے تو بہت پہلے مر جانا چاہیے تھا، تمام تر سائنسی شواہد کے مطابق اسے دوسرے یا تیسرے دن ہی مر جانا چاہیے تھا لیکن ان دو نجس عورتوں نے اسے زندہ رکھا۔ میں دن بھر اس میں سے جو زندگی نکالتا تھا، وہ دونوں اس کو رات میں لوٹا دیتی تھیں۔ آخری تین دن تو یہ حال تھا کہ حلق سے آواز بھی نہیں نکلتی تھی لیکن وہ پھر بھی کسی نہ کسی طرح رگڑی ہوئی آواز نکال کر منہ سے ضرور پھوٹتا کہ۔۔۔ صبح بخیر پروفیسر،میں ابھی تک زندہ ہوں!'
'آخر کار ہم اس کو توڑنے میں کامیاب ہو گئے۔ ملر، کیا تم یقین کر سکتے ہو۔۔۔ اس نے مسلسل تین دن ننگ دھڑنگ ایسے کمرے میں مزاحمت جاری رکھی جس کا درجہ حرارت صرف دو ڈگری تھا؟ اس کا جسم نیلا ہو کر اکڑ چکا تھا!'
ہم دونوں ہی چپ ہو گئے۔ لیکن یہ سکوت شواٹز کو توڑنے لگا۔ وہ چلایا، 'تم امریکیوں کا خیال ہے کہ تم سے زیادہ سیانا کوئی نہیں ہے لیکن ملر۔۔۔ یہی وجہ تھی کہ میں کل فیصلہ نہیں کر پایا۔ اگر ہم چہار میں ہی رکنے کا فیصلہ کر دیتے تو جان پچرڈ اسی وقت مر جاتا۔ وہ زندہ رہنے سے انکار کر دیتا۔ اگر صیم لیون مرنے سے انکار کر سکتا ہے تو جان پچرڈ زندہ رہنے سے بھی انکاری ہو سکتا ہے، نہیں؟ بولو؟ اب بولتے کیوں نہیں۔۔۔ سیانے لاٹ صاحب!'
'صیم لیون کا کیا ہوا؟' میرے چہرے پر خوف آشکار تھا،
'وہ مر گیا۔ ہمارے تمام تر نپے تلے اندازوں کے بعد بھی وہ مزید دو ہفتے تک زندہ رہا۔ اسے مارنے میں چودہ اضافی دن لگ گئے۔ کیمپ کا انچارج سخت برہم تھا کیونکہ صیم لیون مرتے مر گیا لیکن کیمپ کے یہودیوں میں امید اور زندگی کی نئی روح پھونک گیا۔ اس قدر بھڑکا کہ اس نے ان عورتوں سمیت بیسیویں یہودیوں کو کیمپ سے نکال کر بھجوا دیا!'
'بھجوا دیا؟' میں چلایا، 'کہاں بھجوا دیا؟'
' بس بھجوا دیا۔۔۔' اس نے غبی پن سے کہا لیکن پھر فوراً بولا، 'مجھے یہ تو علم نہیں کہ کہاں بھجوا دیا لیکن اسی نے احکامات پر دستخط کیے۔ کیمپ کے انچارج نے۔۔۔ کیمپ کا انتظام اسی کی ذمہ داری تھی!'
'شواٹز۔۔۔' میں نے خود پر قابو رکھتے ہوئے آہستگی سے کہا، 'تم جھوٹ بول رہے ہو!'
'نہیں ملر نہیں۔۔۔ اسی نے حکم دیا اور اسی نے دستخط بھی کیے تھے'
'تم جھوٹ بول رہے ہو!' میں نے ڈٹ کر مضبوطی سے دوبارہ کہا،
'خدا کی قسم، اسی نے دستخط کیے تھے۔ صیم لیون کا کہو تو میں ذمہ داری اٹھانے کے لیے تیار ہوں۔ میں اس کا اعتراف کرتا ہوں۔ ریکارڈ سے بھی یہ ثابت ہو جائے گا لیکن دوسروں کے ساتھ۔۔۔'
'شواٹز۔۔۔' مجھے اپنے اندر طوفان اٹھتا ہوا محسوس ہوا جس سے میں سر تا پا غصے میں پھٹ پڑا، 'میں بھی یہودی ہوں!'
یہ سن کر وہ ہکا بکا رہ گیا۔ اس کی آنکھوں میں بے یقینی تھی لیکن فوراً ہی پیچھے ہٹا اور بالکل ستون کے ساتھ جا لگا۔ اس نے ہنسنے کی کوشش کی گویا میں مزاق کر رہا تھا۔ اس نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا لیکن الفاظ گڈمڈ ہو گئے۔ میرے ارادے دیکھ کر وہ خطرہ بھانپ گیا، اسی لیے بدحواسی سے پیچھے کی طرف گرتا پڑتا، دوڑتے ہوئے ستون کے پیچھے پناہ لی، 'ملر۔۔۔' پچھلی طرف سے اس کی ہانپتی ہوئی آواز آئی۔
'میں تمھیں زندہ نہیں چھوڑوں گا۔۔۔' میں نے زوردار لہجے میں دھمکایا اور جست لگا کر اس کا پیچھا کرنا چاہا لیکن اس نے بدستور ستون کی آڑ لے کر خود کو بچایا اور گھوم کر میری پہنچ سے دور نکل گیا۔
اس ہال میں فرنیچر اور نہ ہی کوئی ہتھیار تھا۔ سبزی کاٹنے والا ایک ہی چاقو تھا جو اس نے پلاسٹر کھرچنے کے لیے استعمال کیا تھا۔ وہ چاقو اس وقت میرے قریب ہی زمین پر پڑا ہوا تھا لیکن مجھے نظر نہیں آیا۔ مجھے حیرانگی تو ہوئی لیکن شواٹز نے ستون کے پیچھے سے نکل کر سیدھا میری جانب جست لگائی۔ میرا خیال تھا کہ میں اسے قابو کر سکتا ہوں، حالانکہ وہ میرے مقابلے میں خاصا بھاری بھرکم تھا۔ میں نے پیر جما کر رکھے لیکن وہ مجھ پر چھلانگ لگانے کی بجائے میری بغل سے جھبٹا اور سیدھا زمین پر گرا، چاقو اٹھا لیا اور تن کر کھڑا ہو گیا۔
'میں تمھیں زندہ نہیں چھوڑوں گا۔۔۔' میں نے دوبارہ دھمکایا، 'صیم لیون اور دوسروں کا بدلہ لوں گا' اس نے خوف سے دانت نکالے، اور دونوں ہاتھوں سے چاقو اپنے سینے کے آگے پکڑ کر انتہائی مضحکہ خیز انداز میں دبکے ہوئے سنبھل کر کھڑا ہو گیا، جیسے مقابلے کے لیے تیار ہو۔ میں نے تیزی سے پہلے دائیں اور پھر بائیں جانب لپک کر اسے چکما دینے کی کوشش کی اور آخر اس کی جھانگوں میں لات رسید کر دی۔ وہ درد سے کراہتا ہوا فرش پر گر پڑا لیکن اس نے ہاتھ سے چاقو نہیں جانے دیا۔ اگر اس ہال میں کوئی کرسی ہوتی تو میں یقیناً اس کو اس سے مار مار کر ہلاک کر دیتا لیکن چونکہ میرے دو نوں ہاتھ خالی تھے، اس لیے میں نے سیدھا اس پر کودنے سے خود کو روکے رکھا۔ بجائے میں نے اس کو اوپر نہیں اٹھنے دیا اور لاتوں کی بوچھاڑ کر دی۔ وہ خود کو بچانے کی ناکام کوشش میں زمین پر ہی سمٹ کر ادھ موا ہو گیا۔ سر کی جانب سے میں نے دوڑ کر اس کے پیٹ میں لات ماری، جس سے اس کی رہی سہی طاقت بھی جواب دے گئی اور چاقو ہاتھ سے چھوٹ کر دور جا گرا۔ میں اچھل کر اس کے اوپر سوار ہو گیا اور دونوں ہاتھوں سے اس کی گردن دبوچ لی۔ میرا ارادہ اسے گلا گھونٹ کر مار دینے کا تھا۔
یہ کشمکش جاری تھی اور قریب تھا کہ میں اسے وہیں ہلاک کر دیتا لیکن سرائے کا بھاری بھرکم دروازے چرچراتا ہوا کھل گیا۔ سویر ہو چکی تھی، تڑکے کی روشنی ہال میں بھر گئی اور میں نے دیکھا کہ دروازے میں ایک اونچے قد کا افغان تن کر کھڑا تھا۔ اس نے زوردار آواز میں پوچھا، 'یہ کون ہے جو سرائے میں جھگڑ رہا ہے؟' میں نے اوپر دیکھا تو گہری رنگت کا ایک شخص، جس کی بڑی مونچھیں تھیں سر پر پگڑی ٹکائے ہمارے سر پر آن پہنچا۔ اس کے سینے پر کارتوس کی پیٹیاں اور کمر کے ساتھ چاندی کے ہتھے والا ایک خنجر لٹک رہا ہے۔
'سرائے میں کون جھگڑتا ہے؟' اس نے سوال دہرایا،
'کوئی خاص وجہ نہیں تھی۔۔۔' میں نے پشتو میں ہی گول مول جواب دیا اور بناوٹی انداز میں اپنے پیروں پر اٹھ کر سنبھل کر کھڑا ہو گیا۔
'یہ مناسب نہیں!' وہ چلایا اور پیر سے چاقو کو دیوار کی سرکا دیا۔ چاقو میری پہنچ سے دور ہو گیا تو اس نے آگے بڑھ کر اٹھا لیا اور کمر کی پیٹی میں ٹھونستے ہوئے بولا، 'یہ چاقو اب میں رکھوں گا!'
اسی دوران ہال میں کئی دوسرے مرد بھی گھس آئے اور آخر میں ایک سرو قد لیکن نہایت تنومند عورت بھی ان کے پیچھے پیچھے داخل ہوئی۔ اس نے ناک میں چاندی کی چوڑی جتنی نتھ پہن رکھی تھی اور وہ ننگے سر تھی۔ اسے دیکھ کر مجھے سمجھ میں آئی کہ مدخل ہونے والے دراصل وہ پاوندے ہیں جنھیں ہم نے غزنی میں دیکھا تھا۔ یہ لم دھڑنگ شخص وہی تھا جو گھوڑے پر سوار، مجھے اور نور کو متنبہ کر کے گیا تھا۔
وہ بھی مجھے پہچان گیا لیکن اس نے ظاہر نہیں کیا۔ وہ مڑا اور دروازے میں کھڑے کھڑے باہر کسی کو کچھ احکامات دینے لگا جس کی مجھے قطعاً سمجھ نہیں آئی۔ جب لوٹ کر آیا تو اس کے پیچھے پیچھے مزید کئی لوگ بالن کی لکڑیاں اور برتن اٹھائے داخل ہوئے۔ کمرے کے وسط میں پتھروں سے چولہا بنا کر آگ کا الاؤ روشن کر دیا گیا۔
جب آگ روشن ہو گئی اور دھواں چھت کی درزوں سے باہر نکلنے لگا تو تین پاوندہ عورتیں بے مثال چال سے آن بان کے ساتھ آئیں جو میں نے غزنی میں دیکھی تھی۔ تینوں نے خاکستری بلاؤز اور سیاہ رنگ کے جوڑے پہن رکھے تھے۔ وہ ننگے سر تھیں اور اکڑ کر شان کے ساتھ میرے قریب سے گزریں تو میری نظریں انہی پر جمی رہیں۔ وہ تینوں ہی پرکشش تھیں۔ انہیں کسی صورت حسین نہیں کہا جا سکتا تھا لیکن بلاشبہ خوب رو اور دلکش تھیں۔
دروازہ پر ایک دفعہ پھر آہٹ ہوئی تو میں نے دیکھا کہ ایک اور پاوندہ داخل ہوئی۔ وہ دلکش ہی نہیں بلکہ سحر انگیز بھی تھی۔ سر پر ابھری چوٹی اور پیٹھ پر بالوں کا کسا ہوا گُت تھا اور عمر قریباً سترہ یا اٹھارہ سال رہی ہو گی۔ اس نے سرخ گھاگرے پر گلابی رنگ کا بلاؤز پہن رکھا تھا۔ ہم دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تو مجھے یاد آیا کہ یہ وہی لڑکی ہے جس کو میں نے غزنی میں میمنے کا پیچھا کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ اس کی ناک میں نتھنی نہیں تھی اور چہرے کی جلد بھی دوسری پاوندہ عورتوں سے کہیں زیادہ ملائم اور صاف تھی۔ وہ چولہے کی طرف بڑھتی ہوئی میری جانب ہی دیکھتی رہی۔ میں نے محسوس کیا کہ وہ زیر لب مسکرا رہی ہے اور اس کی آنکھوں میں عجب طرح کی شناسائی بھی نظر آئی۔ اس کی چال ڈھال دیکھ کر مجھے بے اختیار غزال ہرنیاں یاد آ گئیں جو جسم لچکاتی، ریت پر کسی بھی لمحے پھدک سکتی تھیں۔ وہ مجھے تاڑتی ہی رہی تا آنکہ بندوقچوں والے شخص نے اسے زور دار آواز میں ٹوک نہیں دیا، 'مترا۔۔۔!' وہ اپنا نام سن کر ہڑبڑائی اور سیدھا جا کر اس کے پاس کھڑی ہوئی جس نے اس سے کچھ کہا جو مجھے سنائی نہیں دیا ۔
میں نے دیکھا کہ وہ اس شخص کی ہدایات سن کر بھی بدستور اپنی جگہ پر مضطرب کھڑی رہی۔ شاید اسے بات سمجھ نہیں آئی تھی یا پھر وہ اس کی ہدایت پر عمل نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن یہ دیکھ کر اس شخص نے اسے پھر ڈانٹا، 'مترا۔۔ جو کہتا ہوں وہ کرو!' اس نے ہاتھ کے اشارے سے باہر کی راہ دکھائی اور مجھے لگا کہ شاید وہ اس کی میرے ساتھ آنکھ لڑانے پر خفا ہے، لیکن میرا اندازہ غلط تھا۔
مترا لوٹ کر باہر نکل گئی لیکن فوراً ہی اپنے ساتھ ایک جوان عورت کو لیے اندر لوٹ آئی۔ یہ جوان عورت بہت ہی خوبصورت تھی، اس کے سنہری بال، جلد کی سپید رنگت اور چمکتی ہوئی نیلی آنکھیں تھیں۔ اگرچہ اس نے پاوندوں کی ہی طرح سیاہ گھاگھرا اور ہاتھ میں کڑے پہن رکھے تھے لیکن وہ یقیناً پاوندہ نہیں تھی، بلکہ ۔۔۔ یہ تو ایلن جاسپر تھی۔ تپتے ہوئے صحرا میں سورج کی تپش سے اس کی جلد قدرے سنولا گئی تھی۔ فوٹوؤں کے برعکس وہ کافی سبک، قدرے دبلی لیکن نہایت دلکش لگ رہی تھی۔
سچی بات تو یہ ہے کہ پچھلے چند دنوں کی مصروفیت اور قیامت خیز سرگرمی کے بعد میرے ذہن میں اس کا فوٹوگراف میں دیکھا ہوا چہرہ دھندلا چکا تھا۔ میرا خیال تھا کہ شاید وہ سخت مزاج، عصبی، کم گو اور نک چڑھی ہو چکی ہو گی لیکن ایسا کچھ نہیں تھا۔ اس کے چہرے پر تناؤ کی ایک مہین سا شائبہ بھی نظر نہیں آ رہا تھا بلکہ میرے خیال میں شگفتگی بڑھ گئی تھی۔ اس کا حسین چہرہ دیکھ کر مجھے رہ رہ کر رچرڈسن کی بات یاد آنے لگی جس نے میٹنگ کے دوران انتہائی بھونڈے انداز میں ایلن جاسپر کے ساتھ بسر کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ ایلن واقعی حیرت انگیز حد تک جاذب نظر واقع ہوئی تھی بلکہ اب تو اس کی دلکشی پہلے سے بھی کئی گنا بڑھ چکی تھی۔
اب مجھے سمجھ آئی کہ جب میں نے نظراللہ اس سے اس کے محل وقوع بارے پوچھا تھا تو اس نے سر گاڑی سے نکال کر آسمان پر پہلے مشرق اور پھر مغرب کی جانب ستاروں کو دیکھا تھا۔۔۔ شاید وہ موسم کا اندازہ لگانے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس کی بیوی ان خانہ بدوشوں کے ہمراہ واپس افغانستان پہنچ گئی ہو گی یا نہیں؟ ہر وہ شخص جس نے کبھی ایلن جاسپر کو قریب سے دیکھا تھا، یقیناً اس کی حرکات و سکنات پر نظر رکھتا تھا لیکن وہ انہی پاوندوں کے ساتھ بھاگ گئی تھی۔ بہرحال میں نے آگے بڑھ کر اپنا تعارف کرانا چاہا لیکن اس نے زیر لب مسکراتے ہوئے سر کو یوں جنبش دی جیسے وہ مجھے پہلے سے جانتی ہو۔ میں تو اسے بتانا چاہتا تھا کہ در اصل میں اس کو بچانے آیا تھا لیکن مجھے یہ بات نہایت کھوکھلی محسوس ہوئی۔ وہ مجھ سے بات چیت کرنے کی بجائے سیدھی ڈاکٹر شواٹز کی طرف بڑھی جو زمین پر موندھا پڑا ہوا درد سے کراہ رہا تھا۔
مجھے یاد ہے کہ وہ شواٹز کی یہ حالت دیکھ کر قدرے گھبرا گئی تھی۔ ڈاکٹر کے سر پر کھڑے اس نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا لیکن پھر رک گئی۔ اس نے پھر کوشش کی اور اب کی بار چلا اٹھی، 'ڈاکٹر شواٹز؟' شواٹز نے بمشکل سر اٹھایا اور ایلن کو اپنے سر کے اوپر کھڑا دیکھ کر ہکا بکا رہ گیا۔ اس نے بے یقینی کے ساتھ آنکھیں مل کر غور سے پہلے اسے اور پھر میری جانب دیکھا تو اسے یقین آیا کہ صرف ایلن جاسپر ہی نہیں بلکہ وہ خود بھی ابھی تک زندہ تھا۔ اس کے منہ سے بے اختیار شکر نکلا اور سر فرش پر ڈھلکا دیا۔
ایلن گھٹنوں کے بل اس کے قریب بیٹھ گئی، نرمی کے ساتھ اس کا ہاتھ تھاما اور کھینچ کر پیروں پر کھڑا کر لیا، 'آپ ٹھیک تو ہیں؟' اس نے پوچھا،
'مادام نظراللہ، مجھے یقین نہیں آ رہا کہ۔۔۔'
شواٹز کو درست دیکھ کر اس نے بات ان سنی کر دی اور سیدھا میری طرف لپکی۔ اس نے سر پر خانہ بدوشوں کی روایتی کشیدہ کی ہوئی ٹوپی پہن رکھی تھی، جس کے دونوں اطراف میں سیاہ جھالر تھے اور بیچ میں اس کے سنہری بال دمک رہے تھے۔ اس نے آگے بڑھ کر نہایت خوش اخلاقی سے کہا، 'میں ایلن جاسپر ہوں اور تم یقیناً امریکی سفارتخانے کے مارک ملر ہو؟'
'تم مجھے کیسے جانتی ہو؟' میں نے الجھن سے پوچھا،
'ہمارے لوگوں نے غزنی میں تمھارا پیچھا کیا تھا۔۔۔' اس نے بتایا،
وہ جس بلا کے اعتماد اور انتہائی سکون کے ساتھ گویا تھی، مجھے سخت حیرت ہوئی۔مجھے سمجھ نہ آئے کہ کیا کہوں، 'مجھے خوشی ہے کہ تم زندہ سلامت ہو' میں ٹامک ٹوئیاں مارنے لگا۔
اس نے مسکراہٹ چھپاتے ہوئے پاوندوں کی طرف اشارہ کر کے جواب دیا، 'ان اکھڑ لوگوں نے میرا پورا خیال رکھا ہے' یہ کہہ کر وہ سیدھا خانہ بدوشوں کے سردار کی بغل میں جا کھڑی ہوئی اور اس کا بازو یوں تھام لیا جسے سمجھ پانا میرے لیے سخت مشکل ہو رہا تھا۔ اس کا انداز ایسا تھا جیسے وہ اور یہ خانہ بدوش ایک ساتھ اکٹھے، مرد اور عورت کی طرح کسی رشتے میں بندھے ہیں۔ مجھے کچھ سمجھ نہ آئی، غالباً اس کی وجہ یہ تھی کہ میرے ریکارڈ میں ایلن جاسپر، نظراللہ کی بیوی تھی لیکن یہاں تو قصہ ہی الگ تھا۔ ایلن جاسپر کی خانہ بدوش قبیلے کے سردار کے ساتھ آشنائی تھی، وہ اس کے ساتھ بھاگ گئی تھی۔ شاہ خان تک کابل میں یہی افواہ پہنچی ہو گی، تبھی تو وہ بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار تھا۔ مجھے اب سمجھ میں آیا کہ آخر اس نے اپنے نام کے ساتھ اس افواہ کو سفارتخانے کے ریکارڈ کا حصہ بنانے سے منع کیوں کر دیا تھا۔
'یہ ذوالفقار ہے!' ایلن نے چہک کر بتایا،
'تم دونوں کی لڑائی ختم ہو گئی؟' ذوالفقار نے بھاری بھرکم آواز میں مجھ اور شواٹز سے پوچھا تو ہم دونوں نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا اور اثبات میں سر ہلا دیا۔ 'چلو۔۔۔ اب کھانا کھاتے ہیں!' اس نے آگے بڑھ کر ہم دونوں کو اپنے شانوں سے لگا لیا اور چولہے کا رخ کیا۔ یہ پاوندوں کے ساتھ، ان کے چولہے پر میری پہلی دعوت تھی۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر