کارواں - گیارھویں قسط

ابھی ہم نے کھانا شروع ہی کیا تھا کہ پاوندوں کے دو لپاڑے لڑکے چلاتے ہوئے داخل ہوئے کہ سرائے کے ایک کمرے میں کسی نے جیپ چھپا رکھی ہے۔ ان دونوں کی برچھی جیسی آنکھیں تھیں اور چہرے مہرے سے تیز طرار لگتے تھے، جیسے جیب کترے ہوتے ہیں۔ یہ سن کر بہت سے پاوندے جیپ کے گرد جمع ہو گئے اور ذوالفقار نے پوچھا، 'یہ کس کی گاڑی ہے؟'
'یہ میری ہے!' میں نے کہا،
'اسے یہاں کیوں بند کر رکھا ہے؟'
میں نے ٹوٹے ہوئے ایکسل کی طرف اشارہ کیا اور تفصیلات بتائیں، 'صحرا میں ایک چٹان کے ساتھ ٹکرا گئی تھی!'
'تم صحرا میں کیا کر رہے تھے؟'
پاوندے دشت مارگو میں ہمارے مقصد کی سن گن لینے ارد گرد جمع ہو گئے۔ ڈاکٹر شواٹز ابھی تک بوکھلایا ہوا تھا، اسی لیے میں نے پشتو میں پچرڈ کی موت کا احوال سنا دیا، پھر ایلن کے لیے انگریزی میں بتانا چاہا تو اس نے پشتو میں ہی میری بات میں مدخل ہو کر کہا، 'میں نے زبان سیکھ لی ہے۔۔۔'
جب ہم دوبارہ کھانے کی طرف متوجہ ہوئے تو ذوالفقار نے جوڑے منہ سے دوٹوک انداز میں پوچھ کر مجھے حیران کر دیا کہ، 'اب تم پوچھو۔۔۔ ہم سے ایلن کے بارے کیا پوچھنا چاہتے ہو؟' وہ تلفظ کی وجہ سے ایلن کو ایلن نہیں بلکہ 'اے لان' پکار رہا تھا۔
میں نے ایلن کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا، 'تم نے مجھے دیکھتے ہی پہچان لیا، آخر کیسے؟'
ذوالفقار نے جواب دیا، 'ہمیں تمھارے بارے غزنی میں ہی پتہ چل گیا تھا!'
'لیکن غزنی میں میری موجودگی کے بارے کسی کو کچھ علم نہیں تھا۔۔۔' میں نے الجھے ہوئے انداز میں کہا،
تس پر ذوالفقار نے زور دار قہقہہ لگایا اور ہاتھ سے ایلن کو اشارہ کیا کہ وہی اس بات کا جواب دے۔ ایلن نے اپنے سنہری بالوں کی لٹوں کو جھٹک کر پیشانی سے ہٹایا اور ہنس کر بولی، 'غزنی پہنچتے ہی مترا نے تمھیں بازار میں دیکھ لیا تھا۔۔۔'
'غزنی کے بازار میں تو مجھے کوئی عورت نظر نہیں آئی!'
'مترا ہر جگہ موجود ہوتی ہے!'
'کیا یہ بات سبھی پاوندوں کے لیے درست ہے؟'
یہ سنتے ہی ذوالفقار کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہو گئی۔ مجھے کچھ سمجھ نہ آئی کہ آخر میں نے ایسا کیا کہہ دیا؟ وہ سنبھل کر بیٹھ گیا اور ہوا میں ہاتھ نچا کر جیسے پھٹ پڑا، 'ہم پاوندے نہیں ہیں۔ انگریزوں نے ہمیں یہ نام دے رکھا ہے جس کا مطلب ہے کہ ہمیں اجازت ہے۔۔۔' اس نے تحقیر سے دہرایا، 'اجازت؟ ہمیں اجازت ہے کہ ان کے ملک میں سفر کر سکتے ہیں۔۔۔ ہونہہ۔ ہم کوچی ہیں۔۔۔ کوچ کرنے والے، خانہ بدوش ہیں۔ ہمیں سرحدیں پار کرنے کے لیے کسی کی اجازت درکار نہیں ہے۔ یہ ہم ہی تھے جنہوں نے صدیوں پہلے ان سرحدوں کی بنیاد رکھی جسے آج یہ ٹٹ پونجیے ملک کہتے ہیں۔ یہ ہمیں اجازت دیں گے؟ ہونہہ۔۔۔' دل کی بھڑاس نکال کر وہ پرسکون ہو گیا لیکن آہستگی کے ساتھ مجھے متنبہ کیا، 'یاد رکھو! ہم پاوندے نہیں۔۔۔ کوچی ہیں!'
بہرحال ایلن نے بات جاری رکھی، 'مترا نے تمھیں بازار میں دیکھا تو دوڑی دوڑی آئی اور ہمیں بتایا کہ شہر میں ایک فرنگی ہے۔ وہ تمھیں دیکھ کر ہی سمجھ گئی تھی کہ تم سفارتخانے سے آئے ہو کیونکہ تم جیپ میں سفر کر رہے تھے اور تمھارے ساتھ افغان حکومت کا ایک کارندہ بھی تھا۔ اس نے تو یہ بھی پتہ لگا لیا تھا کہ تم قندھار جا رہے ہو۔۔۔ اب یہ مت پوچھنا کہ اسے کیسے پتہ چلا؟' یہ کہہ کر وہ زور سے ہنس پڑی۔
میں نے مترا کی طرف دیکھا جس کی گہری سیاہ آنکھیں شرارت سے چمک رہی تھیں۔ وہ مسکرائی لیکن کچھ کہنے سے گریز کیا۔
'جب تم سنگساری کا تماشا دیکھ رہے تھے، اس دوران ہمارے تین آدمی مسلسل تمھارا پیچھا کرتے رہے۔ انہوں نے تمھاری گاڑی کے چوکیداروں سے بھی بات کی جنہوں نے بتایا کہ تم قندھار اور پھر قلعہ بست جانے کا ارادہ رکھتے ہو۔ شام کے وقت جب تم غزنی سے باہر ہمارے خیموں کے پاس بھی پہنچ گئے تو میں نے بھی تمھیں وہیں دیکھ لیا تھا!'
ذوالفقار پھر سے مسکرایا اور کہا، 'ایلن تو اسی وقت تم سے بات کرنا چاہتی تھی لیکن میں نے اسے روک لیا۔ میں نے کہا کہ فرنگی کو ابھی جانے دو۔ وہ جوان آدمی ہے۔۔۔ قلعہ بست جائے گا، سیر کرے گا اور خود ہی کچھ نہ کچھ ڈھونڈ کر نکال لائے گا۔ بلکہ اس کو صحرا میں ہمارا پیچھا کرنے دو، اسے یہ سفر زندگی بھر یاد رہے گا۔۔۔'
ذوالفقار کی یہ بات جیسے میرے دل کو لگی۔ مجھ سے سیر کے شوقینوں بارے اس کی فراست اور زیرکی دیکھ کر حیران رہ گیا کیونکہ اگر میں غزنی میں ہی ایلن جاسپر کو جا لیتا تو پھر قندھار، قلعہ بست کی محراب، شہر، دشت مارگو، چہار اور یہ کاروان سرائے کبھی نہ دیکھ پاتا۔ ذوالفقار نے کہا، 'میں نے اسے منع کر دیا کیونکہ اگر ایسا نہ کرتا تو تم ہی بتاؤ۔۔۔ علی الصبح صحرا کا منظر اور یہ کاروان سرائے، بھلا تم سے میں یہ موقع کیونکر چھین لیتا؟'
میں نے ذوالفقار کی جانب ستائش بھری نظروں سے دیکھا اور پھر اسے یاد دلایا، 'تم نے میرے سوالات کا جواب دینے کا وعدہ بھی کیا تھا۔ مس جاسپر تمھارے ساتھ کیوں ہے؟'
اس تیکھے سوال پر اس نے ذرا بھی برا نہیں منایا اور کہا، 'پچھلے برس، ستمبر کے مہینے میں ہم نے قلعہ بست میں تین دن کے لیے پڑاؤ ڈالا۔ ہمارا ارادہ سرد موسم کے ساتھ جہلم کی جانب سفر کا تھا۔ یہ امریکی اس وقت قلعے میں ہی تھی، یہ ہمارے خیموں میں بچوں کو دیکھنے آئی اور عورتوں سے ملنا چاہتی تھی۔ اس وقت یہ تھوڑی بہت پشتو بول سکتی تھی اور یوں ہمارے بیچ بات چیت ہوئی۔ اس نے ہمارے سفر کے ارادے جاننے چاہے اور جہلم کا بتایا۔ اس نے کارواں کے راستوں کا پوچھا تو ہم نے بتایا کہ قلعہ بست سے سپین بولدک، ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں، نوشہرہ اور راولپنڈی سے ہوتے ہوئے جہلم جائیں گے۔ تیسرے دن، جب ہم کارواں سمیٹ کر روانہ ہوئے تو یہ میرے پاس آئی اور کہا، 'میں تمھارے کارواں کے ساتھ سفر کرنا چاہتی ہوں!' میں نے مقصد پوچھا تو اس نے کہا۔۔۔۔'
'میں نے کہا۔۔۔' ایلن نے پشتو میں ہی ذوالفقار کی بات کاٹ کر مزید بتایا، 'کہ میں آزاد لوگوں کے ساتھ بسر کرنا چاہتی ہوں!'
میں نے ایلن سے انگریزی میں پوچھا، 'کیا یہ شادی شدہ ہے؟'
اس نے میرے سوال کا جواب پشتو میں یوں کرارے انداز دیا تا کہ سبھی خانہ بدوش سمجھ سکیں اور کوئی کجی نہ رہے، 'ایسا لگتا ہے کہ شاید میں صرف شادی شدہ مردوں کے ساتھ ہی محبت کرنے کی اہل ہوں!' پھر اس نے خانہ بدوش عورتوں میں سے ہی ایک جو دوسروں سے قدرے ممتاز نظر آتی تھی اور عمر میں بھی پکی تھی۔۔۔ اس کی طرف اشارہ کیا اور کہا، 'وہ رچا ہے، مترا کی ماں!' اس جواب سے سب کو واضح ہو گیا کہ دراصل میں نے انگریزی میں کیا پوچھا تھا اور یوں ایلن جاسپر کے ساتھ میرے تعلق کی ابتداء ہی خجالت سے ہوئی۔
وہ عورت جس کی طرف ایلن نے اشارہ کیا تھا، اس نے ناک میں چوڑی جتنی بڑی نتھ پہن رکھی تھی۔ وہ میری جانب دیکھ کر مسکرائی اور سر کی جنبش سے یوں اشارہ کیا جیسے کسی بچے کو ملامت کرتی ہو۔ میں نے سوچا کہ میں ایلن سے عمر میں دو سال بڑا ہوں لیکن اس کا سلوک۔۔۔ وہ مجھ سے یوں پیش آ رہی تھی جیسے میں کوئی دودھ پیتا بچہ ہوں۔ جب میری سوچ کا یہ تانا ٹوٹا تو بے اختیار میری نظر مترا پر پڑی۔ وہ بھی دور بیٹھی میری الجھن پر زیر لب مسکرا رہی تھی۔
جب ہم کھانا کھا چکے تو ذوالفقار نے ایلن سے پشتو میں شواٹز بارے پوچھا، 'یہ دکتور ہے؟' ایلن نے اثبات میں جواب دیا تو ذوالفقار نے مزید کہا، 'اس سے پوچھو کہ کیا یہ ہمارے بیماروں کا علاج کر سکتا ہے؟' تس پر ایلن نے جواب دیا، 'تم خود ہی پوچھ لو۔۔۔ وہ پشتو بول سکتا ہے!'
'مجھے ان لوگوں کی مدد کر کے خوشی ہو گی۔۔۔' شواٹز نے فوراً کہا اور ستون کے گرد میرے ساتھ گتھم گتھا ہونے کے بعد اب وہ اپنے آپ کو سنبھالنے کے چکر میں تھا۔
ذوالفقار نے اعلان کیا، 'دکتور تم سب کی بیماریوں۔۔۔ خراشوں اور دردوں کا علاج کرے گا' یہ سنتے ہی کوچیوں نے شواٹز کے گرد جمگھٹا لگا دیا اور اسے چری ہوئی انگلیاں، ٹانگوں کی خراشیں اور کیڑا لگے ہوئے دانت دکھانے لگے۔ شواٹز کو مصروفیت مل گئی اور میں اس کی بیماروں کا علاج کرنے کی صلاحیت دیکھ کر بہت متاثر ہوا۔ اس کی طب اور جراحی میں قابلیت کا معترف ہو گیا لیکن بیک وقت مجھے اس کی بطور ڈاکٹر جرمنی میں کرتوتوں سے بھی سخت گھن آتی رہی۔ وہ اپنے تئیں ابھی تک یہی امید لگائے بیٹھا تھا کہ گزشتہ رات کے اعتراف کے بعد بھی میں اس کے لیے سفارتخانے میں سفارش کروں گا۔ تبھی اس نے کن اکھیوں سے میری جانب دیکھا، منہ پر ادھ کھلی مسکراہٹ سجا کر پوچھنے لگا، 'انہیں ڈاکٹر بھی میسر نہیں لیکن اس کے باوجود دیکھو تو۔۔۔ یہ کوچی خاصے صحت مند لوگ ہیں۔ نہیں؟ انہیں ڈاکٹروں کی ضرورت ہی کیا ہے، یہ ویسے ہی تنومند ہوتے ہیں!'
مجھے ابھی تک اس پر غصہ تھا لیکن میں نے اس کو یوں آسانی دے دینا مناسب نہیں سمجھا، چنانچہ اس کے سوال کو نظرانداز کر کے بغیر کوئی جواب دیے اٹھ کر دروازے سے باہر نکلنے لگا تو میں نے ایک شخص دیکھا۔ یہ آدمی سے زیادہ مجھے عجیب و غریب چیز معلوم ہوا۔ یہ واقعی خانہ بدوشوں کی بگڑی ہوئی شکل تھی، میں نے زندگی بھر میں کبھی اس قدر مضحکہ خیز ہیئیت کا آدمی نہیں دیکھا۔ قد پانچ، سوا پانچ فٹ رہا ہو گا۔۔۔ دبلا پتلا اور مریل جسم، تار جیسی داڑھی، بدن غلیظ اور اس پر بیسیوں پیوند لگے گندے اور میل کچیلے گودڑے پہن رکھے تھے۔ اس کے سر پر پگڑی تو تھی لیکن وہ بھی اس قدر میل سے اٹی ہوئی تھی کہ خدا کی پناہ۔۔۔ اس کا ایک سرا گھٹنوں تک لٹک رہا تھا۔ وہ مجھے دیکھ کر مسکرایا تو اس کے سیاہ دانتوں میں جمی ہوئی پیلاہٹ واضح ہو گئی اور میں نے دیکھا کہ جب وہ مسکرایا تو کانی آنکھ پھڑپھڑانے لگی۔ اس کے جبڑے پر کسی زخم کا نشان بھی تھا جو کافی گہرا رہا ہو گا۔ پیروں میں پٹورے کے ریشوں سے بنی نعل پہن رکھی تھی جو چلتے ہوئے اس کے پیروں سے کھسک جاتی اور ایڑیاں زمین پر گھسٹتی رہتیں۔۔۔ ایڑیاں پھٹ کر سخت ہو گئی تھیں۔
اس کو کسی شے نے کاٹ کھایا تھا۔ وہ ڈاکٹر شواٹز کو اپنا بایاں بازوں نکال کر دکھانے لگا۔ شواٹز نے انتہائی نرمی سے پوچھا، 'ارے۔۔۔ یہ کیا ہوا؟'
'خدا ان اونٹوں کو غارت کرے۔۔۔' اس نے پتلی آواز میں دشنام دیا اور حقارت سے زمین پر تھوک دیا۔
'ایسا لگتا ہے کہ اونٹ نے گوشت چبا دیا ہے!' شواٹز نے سنجیدگی سے کہا اور پھر دلجمعی سے بگڑتے ہوئے زخم کا معائنہ کرنے لگا۔
'یہ مفتون ہے!' ایلن نے اس چیز کا تعارف کروایا، '۔۔۔ اونٹوں کی رکھوالی کرتا ہے!' پھر اس نے مفتون سے پوچھا، 'مفتون۔۔۔ کیا ہوا؟'
'خدا ان اونٹوں کو غارت کرے۔۔۔' اس نے وہی جواب دہرایا اور ایک دفعہ پھر فرش پر تھوک کر پیر سے مسل دیا۔
'اس کے اونٹوں کے ساتھ کبھی نہیں نبھتی!' ایلن نے ہنستے ہوئے کہا۔ اس نے مفتون سے پشتو کے کسی انوکھے لہجے میں بات کی جس پر اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ پھر ایلن نے ہمیں بتایا، 'اونٹ نے مسوڑوں سے اس کے بازو کو داب دیا ہے۔۔۔'
'تمھارا مطلب اونٹ نے اس کے بازو کو کاٹ کر چبا کھایا؟' میں نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے پوچھا،
'نہیں۔۔۔ میرا مطلب مسوڑوں سے داب دیا ہے۔ اونٹوں کے اوپرلے دانت نہیں ہوتے، کم از کم سامنے کے تو ہر گز نہیں ہوتے۔ اونٹ کینہ رکھنے والا جانور ہے، اگر بگڑ جائے تو۔۔۔ مفتون کے اونٹ تو ہر وقت بگڑے رہتے ہیں۔ وہ کاٹ تو نہیں سکتے، مسوڑوں سے داب دیتے ہیں!'
'مجھے تمھاری بات کی بالکل سمجھ نہیں آئی۔۔۔' میں نے کہا،
'میرے ساتھ آؤ۔۔۔!' اس نے آگے بڑھ کر کہا اور مجھے ساتھ لیے باہر احاطے میں بندھے اونٹوں کے پاس پہنچ گئی۔ اس نے پہلے تو اونٹوں کو عجیب و غریب آوازیں نکال کر پچکارا اور پھر نان کے کچھ ٹکڑے پھینکے، تاکہ کھانے کے لیے منہ کھولیں تو میں دیکھ سکوں۔ اس کی بات درست تھی، میں نے دیکھا کہ اونٹوں کے نچلے جبڑے میں تو مضبوط اور خاصے بڑی کیلوں جیسے دانت تھے لیکن اوپر کا جبڑا تو صرف سخت مسوڑا ہی تھا۔ منہ کے پچھلے حصے میں ظاہر ہے، چبانے کے دانت ضرور تھے لیکن سامنے ہر گز نہیں تھے۔
'میں نے اس بارے پہلے کبھی نہیں سنا اور نہ ہی پڑھا۔۔۔' میں نے کہا اور اونٹ کا کوئی کٹا تلاش کرنے لگا تا کہ میں خود آسانی سے اس کا منہ کھول کر معائنہ کر سکوں۔
'وہ۔۔۔ اس طرف۔۔۔ اس کا منہ کھول کر دیکھو!' ایلن نے مشورہ دیا اور ایک لم دھڑنگ نو فٹ اونچے قد کی اونٹنی کو پچکار کر اپنی جانب بلانے لگی۔ یہ وہی بدمزاج اونٹنی تھی جس نے مفتون کا بازو چبا دیا تھا۔ 'یہ بوڑھی اونٹنی مفتون کو سخت ناپسند کرتی ہے لیکن اس کی میرے ساتھ خوب بنتی ہے۔۔۔' پھر اس نے حلق سے وہی عجیب و غریب آواز نکال کر اونٹنی کو اپنی طرف بلایا، 'ہیک ہیک۔۔ ہوووو!' اونٹنی یہ سن کر سیدھی اس کی طرف چلی آئی ااور ایلن نے نان کا ٹکڑا ہاتھ میں پکڑا تو وہ جھکی، اس پر نتھنا رگڑا اور منہ کھول لیا۔ ایلن نے انگوٹھے سے اوپرلے جبڑے کا مسوڑا دبایا اور نان ہوا میں اچھال دیا، جسے اونٹنی نے منہ سے ہی پکڑ لیا۔ 'تم بھی کوشش کرو۔۔۔' اس نے مجھ سے کہا۔ میں نے بھی ہتھیلی پر نان کا ٹکڑا رکھا اور اس کی جانب بڑھایا، اس نے منہ کھولا تو میں نے انگوٹھے سے دبا کر محسوس کیا۔ اس کا مسوڑا ہڈی کی طرح سخت تھا۔
'انتہائی عجیب و غریب بات ہے!' میں نے حیران ہو کر کہا اور اونٹنی واپس جانے لگی لیکن اس کی نظر مفتون پر پڑ گئی جو اندر سے باہر نکل آیا تھا۔ اسے دیکھتے ہی اونٹنی نے بدک کر عجیب طرز کی غصہ ناک آوازیں نکالنی شروع کر دیں اور کوفت کا اظہار کرنے لگی۔ میں نے ' عجیب طرز کی آوازیں' کہا، دراصل مجھے اس کی آوازوں کے لیے درست لفظ نہیں مل سکا ورنہ اس کی آواز بڑبڑاہٹ، کراہ اور غراہٹ کا ملغوبہ تھا۔ وہ منہ کھول کھول کر مفتون کی جانب ناپسندیدگی کا اظہار کر رہی تھی، میں اور ایلن تو اطمینان سے کھڑے اس کے دانتوں کا معائنہ کر سکتے تھے لیکن مفتون کو اپنی جان بچاتے ہی بنی۔
'اب تماشا کرنا۔۔۔' ایلن نے آنکھ مار کر سرگوشی کی۔ میں نے دیکھا کہ مفتون نے اپنی پگڑی اتار کر زمین پر پھینک دی۔ پھر اس نے اپنی گودڑی، پھٹی پرانی قمیص، میلی کچیلی شلوار اور پیروں سے پٹورے کی نعل بھی اتار پھینکی۔ وہ الف ننگا ہو گیا۔ مفتون کچھ دیر تک یوں ہی دور ہٹ کر کھڑا رہا اور دیکھتے ہی دیکھتے اونٹنی زمین پر پیر گھسیٹتی آگے بڑھی، اس کے کپڑوں کو سونگھا اور اس پوٹلی کو مٹی میں روندنے لگی۔ اس نے کپڑے چبائے، تھوکا اور پھر پیروں سے مٹی ڈال دی۔ جب اس کا دل ٹھنڈا ہو گیا تو وہ نہایت شان سے غراتی ہوئی واپس لوٹ گئی۔
جب وہ چلی گئی تو مفتون نے مٹی کی دھول میں اٹے کپڑے اٹھا، ویسے کے ویسے ہی دوبارہ پہنے اور اونٹنی کے پیچھے پیچھے چلا گیا۔ اس کے قریب پہنچ کر اونٹنی کی لگام تھام لی اور پھر جھکا کر اس کا سر اور گردن کھجانے لگا۔ اس پر اونٹنی کا رہا سہا غصہ بھی ہوا ہو گیا۔ اب وہ خوش مزاجی سے غر غر کرنے لگی اور پھر وہ دونوں سرائے کے احاطے سے نکل کر آگے پیچھے، چراہ گاہ میں نکل گئے۔
'یہ کیا تھا؟' میں نے پوچھا،
'اونٹوں کے کوچوانوں کا ماننا ہے کہ اونٹ نہایت کینہ پرور جانور ہے اور اس کے بغض کا ایک ہی علاج ہے۔ مفتون اور اس بوڑھی اونٹنی کے بیچ چپقلش ہوئی تو اس نے بازو چبا لیا لیکن اس کی تسلی نہیں ہوئی۔ وہ اس پر دوبارہ حملہ کر سکتی ہے اور اس کو قریب پھٹکنے بھی دیتی تا آنکہ مفتون اس کا غصہ ٹھنڈا نہ کر دے۔ اس کا حل یہ ہے کہ مفتون اسے اپنے کپڑوں میں رچی بو کو روندنے دے اور اس نے وہی کیا۔ اب وہ مطمئن ہو گئی، غصہ ٹھنڈا ہو گیا اور مفتون کل صبح آسانی سے اس پر سامان لاد سکتا ہے!'
'ہائیں۔۔۔ یہ بھی عجیب و غریب بات ہے!' میں نے کہا اور ایلن ہنس پڑی کیونکہ میں ہر کافی دیر سے ہر چیز کو عجیب و غریب گردان رہا تھا۔ خیر، ہم نے مفتون اور اس کی اونٹنی کا کچھ فاصلے تک پیچھا کیا اور پھر ریت میں چند چپٹی چٹانیں دیکھ کر وہیں بیٹھ گئے۔ صحرائی چراہ گاہ میں دور دور تک کئی جانور چر رہے تھے لیکن مجھے ریت میں سبزہ نظر نہیں آیا۔ خدا جانے وہ کیا چر کر کھاتے تھے؟ ایلن نے کہا، 'اونٹ عجیب مخلوق ہے، میں جب بھی اونٹوں کا بغور مشاہدہ کرتی ہوں۔۔۔ ہر دفعہ کوئی نئی چیز سامنے آتی ہے۔ ان کی کوئی کل سیدھی نہیں لیکن یہ دلچسپ جانور ہے۔ ویسے بھی، اونٹوں کو دیکھ کر مجھے ڈورسٹ کا چرچ یاد آ جاتا ہے۔ کرسمس میں ہم اس کی دیواروں پر اونٹوں کی کئی تصویریں بناتے تھے۔ اب تو اتنا کچھ ہو چکا ہے کہ یہ بھی برسوں پرانی بات لگتی ہے!'
اس بات پر مجھے اپنی حالت یاد آ گئی۔ میں بھی نظراللہ کی ٹوہ میں لگا رہا لیکن پچھلے چند دن میں میرے ساتھ بھی اتنا کچھ وقوع پذیر ہو چکا تھا کہ اپنے مشن کے مقصد کی تہہ تک پہنچنے کا وقت ہی نہیں مل پایا تھا۔ مثال کے طور پر یہی دیکھ لوں کہ کوچیوں کے ساتھ صرف ایک صبح بھی پوری نہیں بیتائی تھی لیکن اتنا کچھ دیکھ لیا تھا۔۔۔ میں ان کے بارے، طرز زندگی اور ان کی روایت بارے مزید جاننے کا خواہاں تھا لیکن اپنے مقصد کو بھول نہیں سکتا تھا۔ اسی لیے مزید کچھ وقت ضائع کیے، موقع دیکھ کر فوراً پوچھا، 'ایلن۔۔۔ تم اپنے والدین کو خط کیوں نہیں لکھتیں؟'
غالباً وہ پہلے ہی اس طرح کے سوال کے لیے تیار بیٹھی تھی۔ اسی لیے بغیر کسی مشکل سے کہا، 'میں انہیں خط میں کیا لکھوں؟ کیا بتاؤں؟' اس نے میری جانب نرمی سے دیکھا، سویر کے سورج کی تمازت میں اس کا چہرہ کھل رہا تھا اور مجھے اس کو دیکھ کر خوش نمائی کا پرلطف احساس ہوا۔ اس نے مسکرا کر کہا، ' وہ نظراللہ جیسے سادہ مسئلے کو نہیں سمجھ پائے تو مجھے بتاؤ۔۔۔ وہ اس سب کو کیسے سمجھیں گے؟' اس نے مفتون، اس کے اونٹوں اور کاروان سرائے کی طرف اشارہ کیا۔
'وہ تو شاید نہ سمجھ پائیں لیکن مجھے یقین ہے کہ میں سمجھ سکتا ہوں!'
'میرا نہیں خیال کہ تم بھی اس سب کو سمجھ سکتے ہو۔۔۔' اس نے اس قدرے تحقیر سے کورا جواب دیا کہ کچھ دیر پہلے مرغوبیت کا اٹھتا ہوا احساس فوراً بیٹھ گیا۔
'نظراللہ اب بھی تم سے محبت کرتا ہے۔ آخر ہوا کیا تھا؟'
'وہ نرم دل آدمی ہے لیکن اس نے مجھے اکتا دیا تھا۔۔۔'
یہ سن کر میں جھنجھلا گیا۔ وہ اپنے تئیں خواہ مخواہ کے احساس برتری میں مبتلا تھی۔ میں اس کو ٹوکنے ہی لگا تھا کہ میں نے دیکھا، کاروان سرائے کے احاطے میں ذوالفقار کھڑا ہم دونوں کو تاڑ رہا ہے۔ مجھے لگا شاید وہ ٹوہ لگا رہا ہے لیکن اصل میں ایسی کوئی بات نہیں تھی۔ اس کی حرکات و سکنات سے کسی طور بھی حسد یا شک اور شبے کا اشارہ نہیں ملا بلکہ وہ تو خوش لگ رہا تھا کہ ایلن کو کسی امریکی کے ساتھ بات کرنے کا موقع مل گیا ہے۔ میں نے سوچا، جب ایلن اور ذوالفقار اکیلے ہوتے ہوں گے، وہ کیا باتیں کرتے ہیں؟ لیکن میں نے ایلن سے بجائے پوچھا، 'ذوالفقار لکھ اور پڑھ سکتا ہے؟'
'کتابیں تو نہیں پڑھ سکتا لیکن اشکال کی زبان وہ ہم دونوں سے بہتر سمجھتا ہے۔۔۔ کوچیوں کا علم بہت وسیع ہوتا ہے!'
اس نے یہ بات اتنی بیزاری سے کہی جیسے مجھے ذوالفقار کے بارے مزید ٹوہ لگانے سے باز رکھنا چاہتی ہو۔ اسی لیے میں نے بھی گفتگو کا موضوع واپس اپنے مقصد کی جانب موڑ لیا، 'مجھے تو نظراللہ بہت لائق فائق۔۔۔ اس ملک کے گنے چنے چند سمجھدار لوگوں میں سے ایک محسوس ہوا ہے!'
'وہ نہایت قابل ہے۔۔۔' اس نے پھر اسی بیزاری اور بالکل اسی قطعی انداز میں جواب دیا لیکن پھر خود ہی نہایت گرمجوشی سے کہنے لگی، 'نظراللہ کی بیوی کریمہ تو اس سے بھی کہیں درجے زیادہ سمجھدار ہے!'
'میری کریمہ کے ساتھ ملاقات ہوئی تھی۔۔۔ اس نے پردہ کر رکھا تھا!'
'کریمہ نے؟ وہ تو پردے سے بہت تنگ ہوتی ہے۔۔۔'
'دراصل میرے ساتھ افغان حکومت کا ایک اہلکار بھی تھا۔۔۔'
'ایسا ہی ہوتا ہے اور ان لوگوں کا یہی المیہ ہے۔۔۔' اس کی بیزاریت پھر لوٹ آئی، 'کریمہ روایت کی پابندی کرتی ہے کیونکہ اس کے لیے نظراللہ کی ساکھ بچائے رکھنا لازمی ہے لیکن نظراللہ بھی کچھ نہیں کہتا کیوں کہ اس کے لیے اپنے سماج کے ساتھ بات بنائے رکھنا بھی ضروری ہے اور ویسے بھی، اسی میں کریمہ کی بھی بھلائی ہے!'
میرے خیال میں یہ کہہ کر ایلن نے دریا کو کوزے میں بند کر دیا تھا لیکن اسی وقت مجھے نظراللہ کی بات یاد آ گئی۔ اس نے مجھے ایلن کے متعلق بتایا تھا کہ شادی کی اگلی ہی صبح اس نے ناشتے کی میز پر، گھر کے اندر بھی برقعہ اوڑھ رکھا تھا۔ غالباً مجھے اپنا منہ بند رکھنا چاہیے تھا لیکن مجھ سے رہا نہیں گیا۔ ایلن کے گھمنڈ سے میں تنگ آ چکا تھا، اسی لیے منہ چوڑا کر کے اسے چھیڑ کر کہا، 'نظراللہ نے مجھے تمھارے متعلق بھی بتایا تھا کہ جب تم نئی نئی افغانستان آئی تھیں تو کیسے برقعہ اوڑھ کر پھرتی رہتی تھیں!'
میں نے دیکھا کہ یہ سنتے ہی اس کے کان سرخ ہو گئے لیکن اس نے خود کو سنبھالا لیکن پھر بھی تنکی ہوئی آواز میں بولی، 'نظراللہ بہت ہی باتونی ہے۔۔۔ اپنا منہ بند نہیں رکھ سکتا!'
'کریمہ بھی باتونی ہے۔۔۔!' میں نے تیر چلانا ترک نہیں کیا، 'اس نے مجھے بتایا کہ امریکہ میں ہی تمھیں نظراللہ کی پہلی شادی کا علم ہو چکا تھا۔ تم نے۔۔۔'
یہ سن کر وہ بے کلی سے ہنسی اور میری بات کاٹ کر بولی، 'تم امریکی مردوں کا مسئلہ کیا ہے؟ آخر تم ان فضول چیزوں میں کیوں دماغ کھپاتے رہتے ہو؟ مجھے اس کی شادی کا پہلے سے علم تھا۔ مسٹر ملر۔۔۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جیسے میرے والدین، ویسے ہی تم بھی میرے امریکہ چھوڑ کر چلے آنے کی وجہ کو نہیں سمجھ سکتے!'
'چلو وہ نہ سہی لیکن تم کم از کم مجھے نظراللہ کو چھوڑنے کی وجہ سمجھنے میں تو مدد کر ہی سکتی ہو، یا وہ بھی نہیں؟'
وہ کچھ دیر تک مجھے اپنی نیلی آنکھوں سے یوں ٹکٹکی باندھ کر ہتک آمیز انداز سے دیکھتی رہی کہ میں کھسیا گیا۔ لیکن پھر وہ ہنس پڑی اور کہا، 'امریکی سفارتخانے کا کوئی شخص اس بات کو نہیں سمجھ سکتا!'
یہ سنتے ہی میری برداشت جواب دے گئی۔ 'اگر تم مرد ہوتی۔۔۔' میں نے سرد لہجے میں کہا، 'میں تمھاری ناک میں انگلیاں ڈال کر اسی جگہ تمھیں چت کر کے تم سے اصل بات اگلوا لیتا۔۔۔ میں تمھیں مجبور نہیں کر سکتا لیکن کم از کم اپنے والدین کا ہی کچھ خیال کرو۔۔۔ ان بیچاروں کا اتنا لحاظ تو کرو کہ اطلاع کر دو۔۔۔ نہیں؟'
میرے اس کھنڈے پن نے فوری اثر کیا اور وہ چونک کر رہ گئی۔ وہ بدحواسی میں دانتوں سے ناخن کاٹنے لگی اور پھر کچھ سمجھ نہ آئی تو ہاتھ میں پہنے کڑے سے کھیلنے لگی، نیچی نظروں سے بولی، 'مسٹر ملر۔۔۔ تمھاری بات سچی ہے اور اسی لیے دکھ بھی ہوتا ہے۔ میرے والدین اچھے لوگ ہیں اور مجھے پورا یقین ہے کہ وہ میرا بھلا ہی چاہتے ہیں۔ لیکن تم ہی کہو، میں انہیں کیا لکھوں؟' اس نے میری طرف دیکھا تو اس کے چہرے پر وہی نفاست اور مرغوبیت لوٹ آئی تھی جو اس بات چیت کے شروع میں تھی۔ لیکن دیکھتے ہی دیکھتے اس کے چہرے کے تاثرات پھر بدل گئے، 'کیا تم چاہتے ہو کہ میں کچھ ایسا خط لکھوں؟' اس نے ٹھن کر کہا اور ایک خیالی خط سنانے لگی،
'ڈئیر ممزی اور ڈیڈزی،
میں نظراللہ کے لیے بھاگ آئی تھی کیونکہ وہ دنیا کا سب سے بیزار آدمی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اس کی پہلی بیوی کا بھی اس کے بارے یہی خیال ہے۔ وہ ڈورسٹ میں کسی کجی کے بغیر بسر کر سکتا ہے کیونکہ اس کے خیالات بھی آپ دونوں سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہیں۔ ہائے ممزی، وہ بھی آپ کی طرح یہی سوچتا ہے کہ آدمیوں کی زندگی کا مقصد بڑی گاڑیاں خریدنا ہے، یہی کہ بجلی آئی تو لوگ خوشحال ہو جائیں گے اور اگر ہم ڈبہ بند خوراک کے بہت سے کارٹن بیچ دیں تو ہماری ساری مشکلات آسان ہو جائیں گی۔ پیارے ڈیڈزی، آپ تو اس سے بہت ہی زیادہ خوفزدہ تھے لیکن اس کی چنداں ضرورت نہیں تھی۔ وہ آپ کی ہی طرح کا آدمی ہے اور اگر اس وقت آپ کو نظراللہ میں کوئی ایک اچھی بات بھی نظر آ جاتی تو شاید میرے لیے نہ سہی لیکن مجھے یقین ہے کہ آپ اپنے لیے اسے وہیں رکنے پر مجبور کر دیتے۔ پتہ کیا؟ نظراللہ کو موقع دیں۔۔۔ وہ آپ سے دس گنا زیادہ انشورنس بیچ کر دکھا دے گا۔
آپ کی پیاری بیٹی،
ایلن جاسپر
پس تحریر: میں آجکل ایک ایسے شخص کے ساتھ بسر رکھتی ہوں جس کا اپنا کوئی گھر نہیں ہے، اس کی کوئی قوم اور نہ ہی ملک ہے، اس کے سر اکانوے اونٹوں کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ اس کی بیوی نے مجھے خاکستری رنگ کا اتنا پیارا بلاؤز اور سیاہ گھاگھرا سی کر دیا ہے جس کا آپ تصور بھی نہیں کر سکتے اور میں یہی بلاؤز پہنے ہمالیہ کے قدموں میں خوش و خرم پھرتی رہتی ہوں۔ میں اگلا خط آپ کو گیارہ ماہ بعد اس وقت لکھوں گی جب ہم دوبارہ جہلم میں ہوں گے۔
آپ کی،
ایلی۔
یہ کہہ کر اس نے تلخی سے کہا، 'اگر تمھارے خیال میں اس طرح کے کسی خط سے انہیں سکون مل جائے گا تو میری طرف سے تم بے شک لکھ بھیجو۔ سچ کہوں تو مجھ میں تو یہ سب لکھنے کی ہمت نہیں ہے!'
میں اس سے متنفر ہو چکا تھا۔ وہ مجھے اس وقت اپنے کالج کے پہلے سال کی ایک لڑکی کی ہی طرح نظر آ رہی تھی لیکن ان دونوں میں فرق یہ تھا کہ اس لڑکی کا باپ اوماہا میں سٹاک اور بانڈ بیچتا تھا لیکن بعد ازاں اسے عقل آ گئی تھی۔ ایلن پریشان کن حد تک تلخ اور چڑچڑی واقع ہوئی تھی۔ اس نے مجھے الجھا کر رکھ دیا تھا، اسی لیے میں نے ایسی بات کہی کہ شاید بیوقوفی کا گماں ہو۔ میں نے پوچھا، 'ایلن۔۔۔ جب کئی سال گزر جائیں گے، جب تم بوڑھی ہو جاؤ گی، تب تم اس کوچی کارواں کے ساتھ کیا کروں گی؟'
'تم بتاؤ۔۔۔ پنسلوانیا کا سینیٹر جب بوڑھا ہو جائے گا تو وہ کیا کرے گا؟ بلکہ وہ تو پہلے ہی بوڑھا ہے۔۔۔ اسے چھوڑو، جب تم بوڑھے ہو جاؤ گے تو تم کیا کرو گے؟ ویسے تمھارا پورا نام کیا ہے؟' اس نے بھی اسی انداز میں جواباً پوچھا،
'مارک ملر۔ میں گروٹون اور ییل سے ہوں!'
'آئے ہائے۔۔۔ میرے ساتھ افغانستان کے صحرا میں اس وقت ییل کا چھیل چھبیلا بیٹھا ہے؟ کیا بات ہے۔ لیکن تم بتاؤ۔۔۔ کیا تم بھی واقعی یہ سمجھتے ہو کہ ڈورسٹ میں رہوں تو گویا یہ اچھائی ہے اور افغانستان میں بسر کر دوں تو یہ برائی ہے؟'
'میں یہ سمجھتا ہوں کہ سب سے بھلی بات اپنے دیس، لوگوں اور مذہب۔۔۔ اپنی اصلیت سے جڑے رہنے میں ہے۔ میرے خیال میں تم نے یہ سب چھوڑ آئی ہو، نہیں؟'
'کلیسا اور عیسائیت کو چھوڑنا کوئی اتنا مشکل کام نہیں ہے!' اس نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا،
'پتہ کیا۔۔۔ ابھی ابھی میں سوچ رہا تھا کہ شاید تم کالج کی الہڑ اور بے وقوف لڑکیوں جیسی ہو لیکن میرا خیال غلط تھا۔ تم تو ہائی سکول کی لڑکیوں جیسی احمق ہو!' میں نے تنک کر کہا،
'ارے چھوڑو!' وہ بھی جواباً تلملائی، 'میں ان اونٹوں کے بیچ بیٹھی سوچ رہی ہوں کہ تم، ییل کے چھیل چھبیلے مارک ملر بھی ایک دن بوڑھے ہو جاؤ گے تو آخر کہاں ہو گے؟ مجھ سے پوچھو۔۔۔ برسلز کے امریکی سفارتخانے میں کسی موری جیسے دفتر میں پھنسے ہوئے ہو گے اور یہی تمھاری معراج ہے۔ میں یہ سوچ رہی ہوں کہ یہ کس قدر دکھ کی بات ہے کہ تم اپنی ساری عمر یوں ہی بے کار ضائع کر دو گے۔ تم اس زندگی کے معنی سمجھنے سے قاصر رہو گے، کچھ ادراک ہوئے بغیر مر جاؤ گے!' اس نے میری جانب افسردگی سے دیکھا اور مزید کہا، 'تم ابھی جوان ہو، اسی لیے تمھیں پرواہ نہیں ہے۔ تمھیں کچھ سمجھ نہیں ہے لیکن چھبیس سال کی عمر میں ابھی سے شکل پر ادھیڑ عمری چھائی ہے۔ مجھے تمھارے بارے سوچ کر افسوس ہوتا ہے۔۔۔'
میں حیران پریشان اس کا منہ دیکھتا رہ گیا۔ اگلے چند منٹ تک میں نے کچھ نہیں کہا بس اس کا منہ دیکھتا رہا۔ اس نے کندھے اچکا کر اٹھی، ہاتھ جھاڑے اور کہا، 'اچھا بھئی، میں ہی ہار مان لیتی ہوں۔ مجھے پنسل اور کاغذ لا دو۔۔۔ میں خط لکھ دوں گی!'
میں نے اس سے پوچھا کہ کیا وہ اندر چل کر تسلی سے بیٹھ کر خط لکھنا چاہے گی تو اس نے انکار کر دیا، 'میں یہیں ٹھیک ہوں۔۔۔ اس تازہ ہوا سے کبھی جی نہیں بھرتا!' میں کاروان سرائے میں پڑے اپنے بریف کیس سے پنسل اور کاغذ نکالنے گیا تو میرا سامنا ذوالفقار سے ہوا۔ میں نے کہا، 'وہ اپنے والدین کو خط لکھنے پر راضی ہو گئی ہے۔۔۔' تس پر اس نے جواب دیا، 'میں تو اسے پچھلے کئی مہینوں سے ایسا کرنے کو کہہ رہا ہوں۔۔۔'
میں نے پنسل اور کاغذ اس کے حوالے کی تو وہ پتھریلی چٹانوں پر ہی جسم تلے ٹانگیں چرمرا کر بیٹھ گئی۔ اسے کچھ سوجھ ہی نہیں رہا تھا، بیٹھی پنسل چباتی رہی۔ میں نے اسے اکیلا چھوڑ دیا، وہ کچھ دیر تو یوں ہی تذبذب کا شکار رہی لیکن پھر کھل کر لکھنا شروع کر دیا۔ میں قدرے فاصلے پر اس کی نظروں سے دور بیٹھا اس کا مشاہدہ کرتا رہا۔ اگر کچھ دیر پہلے میں نے اس کی تلخ باتیں نہ سن رکھی ہوتیں تو میں اس کی شخصیت میں جاذبیت اور عمیق پن کا جی جان سے گرویدہ ہو جاتا۔ وہ مجھے ایک دفعہ پھر اسی طرح نظر آنے لگی جس حالت میں، میں نے اسے آج صبح کاروان سرائے میں پہلی بار دیکھا تھا۔ وہ ایک دفعہ پھر اپنے فوٹوگرافوں سے کہیں زیادہ خوش باش، جاذب نظر اور دلکش لگنے لگی۔ وہ مجھے ظاہری طور پر دیکھنے میں کسی طرح بھی آزردہ اور پریشان نظر نہیں آ رہی تھی بلکہ اس کا روپ ایک بالغ نظر، پختہ اور معقول عورت کا تھا جس کی شخصیت میں کوٹ کوٹ کر سحر بھرا ہوا تھا۔ اگر میں اس سے تھوڑی دیر پہلے ہوئی گفتگو کو نظرانداز کر دیتا تو مجھے اس کی اس روم میٹ سے متفق ہونا ہی پڑتا کہ جس نے کہا تھا کہ ایلن جاسپر انتہائی خوب صورت۔۔۔ بھلے مانس لڑکی تھی۔ وہ وفادار تھی، دوستی نبھانا جانتی تھی، ذمہ دار بھی تھی اور اس پر اعتماد کیا جا سکتا تھا۔ میں ابھی اس کو دیکھ کر یہی سوچ رہا تھا لیکن شاید خط لکھتے ہوئے وہ کسی مشکل مرحلے کا ذکر کر رہی تھی، اسی لیے اس کے چہرے پر اچانک تیوریاں چڑھنی شروع ہو گئیں۔ اس کی پیشانی پر بل تھے اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے وہ خود سے کسی سخت جنگ میں جتی ہوئی ہو۔ اس کی یہ حالت دیکھ کر فوراً سمجھ گیا کہ میرا پالا کس بلا سے پڑ گیا ہے۔
'کیا اس سے کام چل جائے گا؟' اس نے خط مکمل کر کے میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔ میں نے اس سے خط لیا، سورج سے پشت کی اور وہیں کھڑے کھڑے پڑھنے لگا،
ڈئیر ممی اور ڈیڈی،
میں خط نہیں لکھ سکی، مجھے اس بات کا سخت افسوس ہے۔ لیکن بات کچھ یوں ہے کہ حالات کچھ ایسے بن گئے، اتنی سوانگ تھی کہ سچ کہوں۔۔۔ میرے لیے یہ سب ایک خط میں سمو کر آپ دونوں کو سمجھانا ممکن ہی نہیں تھا۔ اس سے پہلے کہ آپ اس بابت پریشان ہوں، میں بتائے دوں کہ ان حالات نے میرا کچھ نہیں بگاڑا بلکہ میں پہلے سے کہیں زیادہ خوش ہوں۔ میری حالت بھی درست ہے، روح بھی تازہ ہے اور سب سے بڑھ کر۔۔۔ میں محفوظ ہوں۔ میں آپ دونوں سے بہت محبت کرتی ہوں۔۔۔ بلکہ اب پہلے سے زیادہ کرتی ہوں۔
نظراللہ سے میری شادی تو ہو ہی گئی لیکن معاملات کچھ چلتے دکھائی نہیں دیے۔ اس کی وجہ نظراللہ نہیں ہے۔ وہ انتہائی نرم دل آدمی ہے بلکہ وہ تو میری توقعات سے کہیں بڑھ کر بہتر آدمی نکلا۔ مجھے افسوس ہے کہ میں نے اسے بھی دکھ دیا لیکن کیا کرتی؟ میں اپنی طبیعت کے ہاتھوں مجبور ہوں۔ آج کل میں بہت ہی زبردست لوگوں کے ساتھ بسر رکھتی ہوں، آپ کو وہ بہت پسند آئیں گے۔۔۔ یا شاید نہ آئیں؟ میں ان کے بارے آپ کو پھر کبھی تفصیل سے بتاؤں گی۔
لیکن میں یہ ضرور کہوں گی کہ یہ دنیا ہماری سوچ سے بھی کہیں بڑھ کر عجیب و غریب ہے۔ مثلاً یہی دیکھ لیں کہ میں اس وقت ایک تپتے ہوئے صحرا کی نکڑ پر، ایک کاروان سرائے میں اونٹوں کے چرتے ہوئے گلے کے پاس، چٹانوں پر چوکڑی مار کر بیٹھی۔۔۔ ہمارے اپنے، ییل سے تعلق رکھنے والے مارک ملر سے گپیں لڑا رہی ہوں۔ وہی آپ کو میرا یہ خط اور ایک تفصیلی مراسلہ جس میں سبھی واقعات کا ذکر ہو گا، ارسال کرے گا۔ وہی آپ کو یہاں کے حالات اور میری تمام تر کیفیات سے آگاہ کرے گا۔ اگر آپ دونوں کو مجھ پر یقین نہیں ہے تو مارک ملر ہی آپ کو بتائے گا کہ میں کس قدر خوش، صحت مند اور ٹھیک ٹھاک ہوں۔ میں اب خوب جی رہی ہوں۔
آپ کی پیاری بیٹی،
ایلی۔
یہ خط پڑھ کر مجھے رہ رہ کر بوسٹن میں اپنے خاندان کا خیال آتا رہا جن کے ساتھ میری حد سے زیادہ وابستگی تھی۔ میں اکیلے میں پڑھتا تو شاید رو دیتا کیونکہ واضح طور پر ایلن اپنے انتہائی قریبی لوگوں کے ساتھ بات کرنے، انہیں اپنی حالت بتانے سے قاصر تھی۔ میں نے خط پڑھ کر اسے لوٹا دیا اور کہا، 'اس پر دستخط کر دو، میں قندھار پہنچ کر اسے ہوائی ڈاک کے ذریعے ارسال کر دوں گا'
لیکن اس سے قبل کہ وہ دستخط کرتی، وہ کچھ دیر منہ میں پنسل دبائے سوچتی رہی اور پھر محویت سے بولی، 'ملر۔۔۔ خدا گواہ ہے کہ میں نے انہیں سب سچ لکھ دیا ہے۔ میں واقعی بہت خوش، صحت مند اور ٹھیک ٹھاک ہوں۔ تم بڑھاپے کا پوچھتے ہو، اگر میں رچا کی طرح بڑھاپا پار کر گئی تو سمجھوں گی کہ سب کچھ پا لیا!'
اس نے خط پر دستخط کیے، لفافے پر پتہ لکھا اور پھر دوبارہ کچھ دیر سوچتی رہی۔ اس نے خط میری جانب بڑھایا لیکن پھر کچھ سوچ کر اسے پھاڑ کر ٹکڑے ہوا میں اچھال دیے، 'میں ان کی تسلی کے لیے یہ عذر نہیں کر سکتی۔ ٹال مٹول اور خواہ مخواہ کی لیت لعل۔۔۔' اس کی آواز بھرائی ہوئی تھی۔
میں کچھ دیر تک اسے گھورتا رہا، اس کی آنکھوں میں نفرت، تلخی اور الجھن بھری ہوئی تھی۔ کچھ دیر بعد اس کی یہ کیفیت ہوا ہو گئی اور وہ ایک دفعہ پھر وہی دلکش لیکن متحیر نگاہ لوٹ آئی۔ میں نے اس بارے مزید اصرار نہ کرنے کا فیصلہ کیا، 'تم فکر نہ کرو۔۔۔ میں ہی انہیں کچھ نہ کچھ لکھ بھیجوں گا!'
'یہ میرے ساتھ تمھاری بہت بڑی بھلائی ہو گی!' اس نے سکھ کی سانس لی۔
میں اس کو وہیں اونٹوں کے پاس چھوڑ کر واپس کاروان سرائے میں لوٹ آیا جہاں مجھے اپنے مشن کے ایک انتہائی مشکل فیصلے کا سامنا تھا۔ ایک طرف مجھے صحرا میں تکلیف دہ دن کے بعد کل رات بھی جگ رتے کا سامنا رہا، اب تھکن سے میرے اعصاب جواب دے رہے تھے اور سخت نیند کا دورہ پڑ رہا تھا لیکن دوسری جانب یہ بھی تھا کہ کسی بھی وقت نظراللہ یا افغان پولیس کی جانب سے روانہ کی جانے والی ریسکیو پارٹی کی آمد متوقع تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ مجھے یہاں سے ساتھ لے جاتے، میں کوچیوں کی زندگی کا جس قدر ممکن ہو سکتا تھا، قریب سے مشاہدہ کرنا چاہتا تھا۔ میں نے خود کو جگائے رکھنے کی بھرپور کوشش کی، بچوں کو اور عورتوں کو کام کرتے ہوئے دیکھتا رہا۔ میں مسلسل یہی سوچ رہا تھا کہ شاید میں امریکی سفارتخانے میں واحد شخص ہوں جسے کوچیوں کے اس قدر قریب آنے کا موقع ملا ہے۔ میں آج نہیں تو کل سو ہی جاؤں گا لیکن یہ موقع ہاتھ سے جانے نہیں دوں گا۔
مگر سچ یہ تھا کہ مجھے واقعی سخت مشکل درپیش تھی۔ میں نیند سے بے حال تھا اور میرے سامنے ڈاکٹر شواٹز ستون کے پاس ہی فرش پر تلائی بچھائے، ٹانگیں پسار کر بے غم سو رہا تھا۔ یوں میرے لیے زیادہ دیر تک نیند کو روکے رکھنا ممکن نہ رہا اور وہیں سخت فرش پر ڈھیلے ڈھالے انداز میں لیٹ گیا اور فوراً ہی نیند کی غشی میں چلا گیا۔ مجھے یہی یاد ہے کہ رچا میرے اوپر کمبل ڈال رہی تھی۔
جب میں جاگا تو شام کا اندھیرا پھیل چکا تھا۔ یہ دیکھتے ہی میں نے دل میں شکر ادا کیا اور سوچا، یہ بہت ہی اچھی بات ہے کیونکہ ریسکیو پارٹی ابھی تک نہیں پہنچی جس کا مطلب ہے کہ وہ اگر آئے تو اب کل صبح ہی آئیں گے۔ یعنی میرے پاس کوچیوں کے ساتھ بسر کرنے کے لیے ایک پوری رات کا موقع ہاتھ آ گیا تھا۔ سرائے کے ہال میں کھانوں کی خوشبو بھری ہوئی تھی کیونکہ ذوالفقار نے دعوت کا حکم دیا تھا۔ پتھروں کے چولہے میں اونچا الاؤ جل رہا تھا اور کئی لوگ کھانا پکانے میں مصروف تھے۔ میں ابھی اسی خیال میں گم تھا کہ اچانک مجھے احساس ہوا کہ میرے پہلو میں کوئی بیٹھا ہے، میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو مترا سرخ گھاگھرا پہنے بیٹھی ہے۔ میں نے اس سے مقصد پوچھا تو وہ پشتو میں بولی، 'ذوالفقار نے مجھے تاکید کی ہے کہ بچوں کو تم سے دور رکھوں' پھر وہ سخت مشکل سے ٹوٹی پھوٹی انگریزی بولنے لگی، 'ایلن، میں انگریزی بولی۔۔۔سکھائی!' اس کی آواز میں کھنک تھی، جیسے کسی نوعمر لڑکی کی چانچلی آواز ہوتی ہے، اس کی مسکراہٹ بھی چنچل تھی۔ میں نے اس کے سر پر بالوں کی دو چوٹیوں کی طرف اشارہ کیا۔ دراصل کسی دوسری کوچی عورت کو میں نے دو چوٹیاں باندھے نہیں دیکھا تھا۔ وہ زور سے ہنسی اور سمجھایا، 'یہ ایلن نے میرے بال امریکی سٹائل میں بنائے ہیں!' وہ بھی ذوالفقار کی طرح ایلن کا نام دو حصوں لیکن نہایت نرمی کے ساتھ، 'اے لان' کے انداز میں بولتی تھی۔
میں نے پشتو میں ہی پوچھا، 'کیا ایلن بھی کارواں میں کام کرتی ہے؟'
'وہ سب کام کرتی!' مترا نے انگریزی کا تڑکا لگایا اور پھر پشتو میں کہا، 'کیا تم ایلن کو ساتھ لے جانے کے لیے آئے ہو؟'
'میں اسے لے جانا چاہتا تھا لیکن وہ میرے ساتھ نہیں جائے گی۔۔۔'
'میں بہت خوش ہوں!'
'تمھیں کس نے کہا کہ میں اسے ساتھ لے کر جانے کے لیے آیا ہوں؟'
'ہمیں پہلے دن سے پتہ تھا کہ وہ ایک دن واپس چلی جائے گی!' مترا نے جواب دیا، 'اسے دیکھو۔۔۔ کس طرح انہماک سے کام میں جتی ہوئی ہے'
میں نے اسے تلاشا، وہ ہال کے وسط میں جل رہے آگ کے الاؤ کی دوسری جانب بیٹھی کام میں مصروف تھی۔ خط کی وجہ سے پیدا ہوانے والا تناؤ اور اندرونی تضاد اڑ اس کے انہماک میں اڑ چکا تھا۔ ذوالفقار نے فرنگیوں کی دعوت کے لیے اپنے ریوڑ میں سے ایک موٹا تازہ دنبہ ذبح کروایا تھا جو اس وقت تیز آگ پر سالم بھونا جا رہا تھا۔ ایلن اسی کام میں مصروف تھی، مستعدی سے اسے جلنے نہیں دے رہی تھی۔ وہ ہر کچھ دیر بعد ایک لمبی سیخ دنبے کی بھنتی ہوئی پسلیوں میں کھبوتی اور گوشت کے پک رہنے کا اندازہ لگاتی، اس کو چکھتی اور ایسا کرتے ہوئے دونوں ہونٹوں کو زور سے چٹخاتی۔ کوچیوں کے سبھی بچے اس کے اردگرد جمع تھے اور اس سے گوشت کی بچی کھچی، جلی بھنی پارچیں مانگتے اور وہ ان بچوں کی ماں کی طرح ان کو پچکارتی، ان کو کھلاتی۔ سرائے کی دیواروں کے ساتھ گاؤ تکیہ لگائے کئی کوچی مرد بیٹھے دنبے کے پکنے کا انتظار کر رہے تھے۔ دوسری جانب کچھ عورتیں کچی مٹی کے دیگ نما پتیلوں میں پلاؤ پکا رہی تھیں جبکہ ڈاکٹر شواٹز اور ذوالفقار ہمارے راشن کے ڈبوں کو کھولنے کی کوشش کر رہے تھے۔ میں نے دیکھا کہ کوچیوں کے بچوں نے ٹن ڈبوں کے اردگرد لگی خوراک پہلے ہی چٹ کر دی تھی۔ اگر اس منظر سے فرنگیوں اور ان کے ٹن ڈبوں کو نکال دیں تو یہاں سرائے میں وسط ایشیاء میں انسان کے پہلے قدموں کی چھاپ نظر آتی تھی۔
'اب ہم کھانا کھائیں گے!' ذوالفقار نے اعلان کیا اور چاروں طرف ہڑبونگ مچ گئی۔ سبھی سنبھل کر بیٹھ گئے اور میں نے دیکھا کہ ایلن سب کو نہایت اطمینان اور نرمی کے ساتھ کھانا برتانے لگی، ایسے جیسے ہمیشہ سے یہی کام کرتی آئی ہو۔ اس نے بھنے ہوئے دنبے کا چارج سنبھال لیا اور پھر پلاؤ کی پراتوں میں گوشت کی پارچیں کاٹ کر ڈالتی اور حوالے کرتی جاتی۔ اس کے ساتھ دھیان اس پر بھی لگا ہوا تھا کہ سبھی سیر ہو کر کھائیں اور کوئی بھوکے پیٹ نہ رہ جائے۔ بچے، بڑے، بوڑھے، مرد اور عورتیں۔۔۔ الغرض اسے سبھی کا خیال تھا۔ گاہے بگاہے وہ چربی سے گندھے ہوئے ہاتھوں کی پشت سے پیشانی سے بال ہٹاتی، پسینہ بھی پونچھتی اور مجھے یوں لگنے لگا کہ شاید اس سے زیادہ نسوانیت کسی دوسری عورت میں نہ ہو گی۔ مجھے اس کے خط میں وہ الفاظ یاد آنے لگے کہ، 'میں بہت خوش ہوں، صحت مند اور ٹھیک ٹھاک ہوں۔۔۔' اس وقت اسے دیکھ کر واقعی کہا جا سکتا تھا کہ وہ خوش باش، صحت مند اور ٹھیک ٹھاک ہے۔ وہ میرے لیے خود ہی کھانا لے آئی اور مسکراتے ہوئے چن کر خستہ اور اچھی طرح بھنا ہوا ران کا گوشت برتایا۔
'تم نان تو بھول ہی گئے۔۔۔وہ بھی تو کھاؤ؟' اس نے تاکید کی کیونکہ میں کافی دیر سے پلاؤ کے ساتھ ہی انصاف کر رہا تھا۔
پھر مترا مجھے وہاں لے گئی جہاں قالین بچھا کر کوچیوں کے اس کارواں کے سبھی چیدہ لوگ بیٹھے تھے۔ میں ڈاکٹر شواٹز کے ساتھ دبک کر بیٹھ گیا اور ہمارے قریب ہی ایلن بھی آن بیٹھی۔ میں نے نان کا ٹکڑا توڑ کر کھایا تو ایلن نے پوچھا، 'مزیدار ہے ناں؟' میں نے کہا کہ اس میں تو بادام کی گری جیسا ذائقہ ہے تو اس نے انگریزی میں سمجھایا کہ دراصل یہ اونٹ کے خشک اپلوں کی آگ میں پکائے گئے ہیں۔ ' تمھیں ذائقہ محسوس نہیں ہو رہا؟' اس نے پوچھا اور پھر مجھے سمجھ آئی۔ پشتو میں کہا، 'یہی تو اس کی خاصیت ہے، یہ سب قدرتی ہے۔ گندم نامیات میں اگائی، پتھر کے پاٹوں میں پسائی اور قدرتی ایندھن پر پکی ہے۔۔۔ یہی تو زندگی ہے!'
ذوالفقار نے اثبات میں سر ہلایا اور کہا، 'یہ دنبہ جو ہم نے آج بھونا ہے۔۔۔ وہ بھی ہم نے خود ہی پالا تھا!'
بعد میں، میں نے ذوالفقار کو بتایا، 'ایلن نے اپنے والدین کو خط لکھا تھا لیکن پھر پھاڑ دیا' ایلن نے اضافہ کرتے ہوئے کہا، 'ذوالفقار اس بات کو سمجھتا ہے۔ میں ڈورسٹ کو اسے اور اس کو ڈورسٹ نہیں سمجھا سکتی!'
اس پر کوچی سربراہ نے کہا، 'مے لار، تم ہی خط لکھ دو؟'
'میں لکھوں گا۔۔۔ کل صبح!'
صبح کا ذکر آتے ہی محفل پر اداسی چھا گئی۔ سب ایک دوسرے کو عجب بیگانگی سے دیکھنے لگے۔ یہی تو اصل سچ تھا کہ یہاں سبھی ایک دوسرے سے اجنبی تھے۔ لیکن پھر مترا نے خاموشی توڑی اور مجھ سے پوچھا، 'تم اس کے والدین کو خط میں کیا لکھو گے؟'
'میں انہیں کیا بتاؤں؟' میں ںے سب سے پوچھا اور مجھے حیرانگی تو ہوئی لیکن اس بات کا جواب رچا نے دیا،
'انہیں بتاؤ۔۔۔' ذوالفقار کی بیوی نے کہا، 'ہم اب جیحوں کی طرف جا رہے ہیں اور پھر سردیاں آتے ہی جہلم لوٹ جائیں گے۔۔۔ ہم دریاؤں کے درمیان رہتے ہیں اور پگھلتی ہوئی برف میں دریاؤں کا پیچھا کرتے ہیں!'
'لیکن خط میں تم جیحوں نہ لکھنا۔۔۔' ایلن نے متنبہ کیا، 'وہ نقشے پر دریائے جیحوں تلاش کرتے رہیں گے، اس کا اصل نام دریائے آمو ہے جو جہلم سے قریباً ہزار میل کے فاصلے پر واقع ہے، ہم ہر سال ادھر کا چکر لگا کر آتے ہیں!'
'یعنی، کوچی ہر سال دو ہزار میل کا سفر کرتے ہیں؟' میں نے چونک کر پوچھا،
'ہر سال!'
'تم تو اونٹ پر ہی سوار رہتی ہو گی؟' میں نے پوچھا،
اس بات پر ایلن نے قہقہہ لگایا اور کہا، 'اونٹوں پر صرف بچے سفر کرتے ہیں۔ باقی سب تو پیدل چلتے ہیں۔۔۔' پھر اس نے ذوالفقار کی طرف اشارہ کیا، 'اس کے پاس گھوڑا ہے لیکن ظاہر ہے، اس کو سفر کے دوران مسلسل کارواں کے آگے اور پیچھے، اردگرد ہر طرف کا خیال رکھنا پڑتا ہے، کوئی پیچھے نہ رہے، بھٹک نہ جائے!'
'تمھیں اتنا پیدل چلنے میں مشکل نہیں ہو گی؟' میں نے پوچھا،
اس پر ایلن نے گھاگھرے کے نیچے چنٹی ہوئی ٹانگوں پر چپت لگائی اور کہا، 'میری ٹانگیں بہت مضبوط ہو چکی ہیں!'
'کوچیوں کا قبیلہ کتنے عرصے جہلم کا یہ سفر کرتا آ رہا ہے؟' میں نے پوچھا تو ایلن نے ذوالفقار کی طرف دیکھا،
'اس کی کوئی یاد داشت نہیں ہے۔۔۔' اس نے جواب دیا،
'یہ جہلم ہے کہاں؟' میں نے پوچھا،
'سرحد کے اس پار ہے، ہندوستان میں۔۔۔' ذوالفقار کے اس جواب پر میں بے اختیار ہنس پڑا۔
کوچی مجھے حیرت سے دیکھنے لگا، انہیں میری ہنسی کی سمجھ نہیں آئی تو میں نے بتایا، 'امریکی سفارتخانے کی ایک میٹنگ میں ہم ایلن کے محل وقوع بارے اندازے لگا رہے تھے' میں نے کہا تو ایلن فوراً انگریزی میں بولی، 'میں شرطیہ کہہ سکتی ہوں کہ ایسا ہی ہوا ہو گا۔۔۔ کیونکہ تم سفارتخانے میں بیٹھے اندازے لگانے کے ہی ماہر ہو!' پھر اس کا پشتو ترجمہ بھی کیا جس پر سبھی ہنس پڑے۔
'اچھا سنو تو۔۔۔ ہم میٹنگ میں اندازے لگا رہے تھے اور ایک انتہائی اہم افسر نے کہا۔۔۔' میرا اشارہ رچرڈسن کی طرف تھا، 'ایک امریکی لڑکی کا انگریزوں کے نوٹس میں آئے بغیر ہندوستان کی سرحد پار کرنا ناممکن ہے۔۔۔'
اس پر سبھی ہنس پڑے اور ذوالفقار نے ہنستے ہوئے کہا، 'انگریز؟ کیا تم جانتے ہو کہ ہر برس قریباً دس لاکھ کوچی سرحد کے آر اور پار آتے جاتے ہیں اور کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی کہ ہم کہاں جاتے ہیں؟ کیا کرتے ہیں؟ اور کس کو ملتے ہیں؟'
ایلن نے مزید کہا، 'ہم خانہ بدوش ہیں جو ان تھڑدلے ملکوں اور ان کی سرحدوں کو خاطر میں نہیں لاتے۔۔۔ ہم انہیں جوتی کی نوک پر رکھتے ہیں!'
'اب یہاں سے آگے کا کیا ارادہ ہے؟' میں نے دلچسپی سے پوچھا،
'ہم یہاں سے پچیس دن کے سفر میں موسیٰ دار اور پھر دولت دہ پہنچیں گے، وہاں سے کابل، بامیان، کبیر۔۔۔ بلخ!' یہ نام سن کر میرے دل میں عجیب و غریب کیفیت نے جنم لیا۔ بلخ کا نام تو میں لڑکپن کے دنوں سے سنتا آ رہا ہوں۔ یہ قدیم زمانوں کا شہر تھا اور وسط ایشیاء کا تاج ہوا کرتا تھا۔
'بلخ؟' میں نے جوش سے پوچھا اور ایک لمحے کے لیے اس خیال میں گم ہو گیا کہ آخر اس جگہ کو دیکھنا کیسا تجربہ رہے گا؟ لیکن میرا یہ سہانا خیال ایلن نے توڑ دیا۔ میں پہلی دفعہ اس کا انتہائی غیر متوقع رویے کا سامنے کرنے والا تھا۔ چونکہ ہم دونوں ہی خط کے معاملے پر ایک دوسرے سے بھڑ چکے تھے، مجھے توقع تھی کہ شاید وہ اس بابت مزید جلی کٹی سنائے گی یا شاید مجھے مزید برداشت نہیں کرے گی لیکن میری حیرت کی انتہا نہ رہی، مجھے اس رویے کی سمجھ بھی نہ آئی جب اس نے آہستگی سے کہا، 'ہم کابل سے ہو کر جائیں گے!' ذوالفقار نے تصدیق کی۔ اس کا انداز کچھ ایسا تھا اور ایلن نے بھی شائبہ دیا تھا کہ شاید وہ مجھے اپنے کارواں میں اس سفر پر ساتھ چلنے کی دعوت دے رہے ہیں۔ میں آگے کو جھکا اور معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرنے لگا۔ مترا بھی کچھ ایسا ہی سوچ رہی تھی، جیسے وہ امید لگائے بیٹھی ہو کہ میرا جواب اثبات میں ہی ہو گا۔
'تم کابل سے ہو کر جاؤ گے؟' میں نے سوال دہرایا لیکن کسی نے جواب نہیں دیا۔
پھر ذوالفقار نے ہی دھیمے پن سے کہا، 'تم ابھی جوان ہو۔۔۔ جیپ کی پرواہ مت کرو، افغان سپاہی اس کو باندھ کر لے جائیں گے!'
میں نے مڑ کر ڈاکٹر شواٹز کی طرف دیکھا۔ اگرچہ میں ابھی تک اس کو ٹھکرائے ہوئے انداز میں جھڑکتا آیا تھا وہ بھی مجھے اپنی طرف متوجہ دیکھ کر فوراً ہی بول اٹھا۔ وہ میری خفگی کم ہونے پر خاصا خوش دکھائی دے رہا تھا، 'ملر۔۔۔ ذوالفقار کی بات مان لو۔ تمھیں یہ پہاڑی درے ضرور دیکھنے چاہیے۔ میں یہیں رک کر جیپ کی حفاظت کر سکتا ہوں!'
اس پر ایلن نے اختلاف کرتے ہوئے کہا، 'ڈاکٹر، تم بھی ہمارے ساتھ آؤ۔۔۔ کاروان میں ہمیں تمھاری ضرورت رہے گی!'
ذوالفقار یہ سب سن کر پیچھے ہٹ کر بیٹھ گیا اور کچھ دیر چھت کو تاڑتا، سوچتا رہا۔ پھر اس نے رچا سے پوچھا، 'کیا کبیر میں اس جیسا ڈاکٹر کارآمد ہو سکتا ہے؟' رچا نے جرمن کو نظر بھر کر دیکھا اور اثبات میں سر ہلا دیا لیکن ذوالفقار نے شواٹز کو پہلے سے متنبہ کیا، 'کبیر بہت دور ہے۔ ہمیں کئی ہفتے لگ جائیں گے۔۔۔ کیا تم ہمارے ساتھ چلو گے؟'
ڈاکٹر شواٹز نے ہونٹوں پر زبان پھیری اور کمزور آواز میں جواب دیا، 'ضرور۔۔۔ کیوں نہیں؟'
اس بات پر ذوالفقار نے رچا سے مزید کچھ صلاح نہیں لی بلکہ ہم دونوں کی جانب مڑ کر پوچھا، 'تم دونوں بتاؤ۔۔۔' اس کے انداز میں تحکم تھا، 'تم دونوں اس سفر کے لیے کتنی رقم فراہم کر سکتے ہو؟' میرے پاس اس وقت قریباً دو سو ڈالر کے برابر افغان کرنسی تھی جبکہ شواٹز کے پلے بہت ہی کم نکلا لیکن اس نے کہا، 'امریکیوں نے میرے پیسے دینے ہیں۔ اگلی دفعہ خزاں کے موسم میں جب تم قندھار سے گزرو تو۔۔۔' ذوالفقار نے اس کی بات بیچ میں ہی رہنے دی اور بیٹھے بیٹھے آگے کو کھسک کر اس کا ہاتھ تھام لیا۔
لیکن اس سے قبل کہ ہمارے بیچ معاملات طے پاتے، میں نے خطرے کی بو سونگھ کر مناسب سمجھا کہ ڈاکٹر شواٹز کو خبردار کر دوں۔ میرے خیال میں وہ کوچیوں کے ساتھ سفر کی حامی بھر کر بہت بڑا خطرہ مول لے رہا تھا چنانچہ میں اسے علیحدگی میں لے گیا اور کہا، 'میرا کوئی مسئلہ نہیں، بہت سادہ سی بات ہے۔ اگر مورگن اس بات پر غصہ ہوا تو زیادہ سے زیادہ مجھے واپس بھجوا دے گا۔ میں ہر گز واپس نہیں جانا چاہتا لیکن میں پھر بھی یہ جوا کھیلوں گا کیونکہ مجھے پتہ ہے کہ وہ ایسا نہیں کرے گا کیونکہ وہ ان معاملات کو سمجھتا ہے۔ ڈاکٹر، تمھارا معاملہ ٹیڑھا ہے۔۔۔ کیا تم نے سوچا ہے کہ اگر افغان حکومت کو طیش آ گیا تو۔۔۔'
'ملر، میں پہلے ہی برباد ہوں۔۔۔' اس نے بجھ کر کہا، 'تم میری اصلیت بھی جان گئے ہو۔ میں اندر سے مر چکا ہوں۔۔۔ شاید اس سفر کے نتیجے میں دوبارہ زندگی۔۔۔'
'وہ تمھیں ملک بدر بھی کر سکتے ہیں!' میں نے خبرداری لہجے میں کہا، 'تم جانتے ہی ہو کہ اس کا کیا مطلب ہے۔۔۔؟'
'ہاں جانتا ہوں لیکن اگر میں اپنی صفائی پیدا کر لوں تو پھر۔۔۔ شاید۔۔۔'
'تمھارے اس اقدام سے کوچیوں کے لیے بھی مشکل پیدا ہو سکتی ہے۔۔۔' میں نے اس کی توجہ دلائی،
'ذوالفقار اس بات کو بخوبی سمجھتا ہے' اس نے جرح کی، 'وہ مجھے استعمال کرنا چاہتا ہے اور میں اسے استعمال کروں گا!'
'سچ پوچھو تو مجھے اس کی بات کی بالکل سمجھ نہیں آئی۔۔۔ کبیر میں وہ تمھیں کس کام لانا چاہتا ہے؟'
'معلوم نہیں۔۔۔' جرمن نے جواب دیا، 'لیکن مجھے یہ سفر لازمی پورا کرنا ہے۔ یوں سمجھو کہ مجھے مکتی مل جائے گی!' میں نے مزید کچھ نہیں کہا اور ہم نے دوبارہ محفل کی راہ لی۔
جب ہم لوٹ کر آئے تو مترا نے سرگوشی میں کہا، 'ملر۔۔۔ کوچی اپنی خوشی سے تمھیں سفر پر مدعو کر رہے ہیں!' پھر اس نے جانے کیا سوچ کر انگریزی میں کہا، 'میں بھی خوش ہوں گی!'
'پھر تو مجھے بھی خوشی ہو گی!' میں نے کہا،
ہم دیر تک وہیں محفل جمائے بیٹھے رہے اور میں نے ستون کا قصہ دہرایا، تس پر ایلن نے موافق جواب دیا، 'اس میں حیرت کی کیا بات ہے؟ یہ تو انسانی تاریخ میں ظلم اور جبر کے طویل سلسلے کی صرف ایک کڑی ہے!' ذوالفقار نے اس کھوپڑی کا معائنہ کیا جسے شواٹز نے چاقو سے کھرچ کر واضح کر دیا تھا جبکہ باقی کوچی اسی بات پر مطمئن تھے کہ شکر ہے، انسانی ڈھانچے پلاسٹر میں چن رکھے ہیں۔ لیکن مجموعی طور پر ان میں سے کوئی بھی اس بارے زیادہ متفکر نظر نہیں آیا۔
میں سونے کے لیے لیٹا تو پہلی بار شبہات نے آن گھیرا۔ مثلاً یہ کہ بالفرض کل صبح نظراللہ ریسکیو پارٹی کو لیے آن پہنچا تو پھر مجھے ہر صورت اسی کے ساتھ جانا پڑے گا۔ نظراللہ نہیں آیا تو بھی مشکل تھی، مورگن کو تو میں کسی نہ کسی طرح سنبھال لیتا لیکن اگر ہانگ کانگ سے واپسی پر سفیر امریکہ نے بات سمجھنے کی بجائے مجھے لتاڑ دیا تو پھر کیا ہو گا؟ دفتر خارجہ کی نوکری سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔ امریکی سمجھ بھی جائیں تو کیا، اگر شاہ خان نے سرکاری سطح پر احتجاج کر دیا تو پھر؟ مجھے بھی میرین فوجیوں کی طرح ملک چھوڑنا پڑے گا۔ انہی وسوسوں میں گھرا ہوا تھا کہ ذوالفقار کی گرجدار آواز آئی، 'ہم کل صبح ٹھیک چار بجے کوچ کر جائیں گے!' یہ سن کر میرے شبہات کو کسی حد تک سکون مل گیا۔ نظراللہ کسی بھی صورت چار بجے سے قبل یہاں نہیں پہنچ سکتا تھا اور ایک دفعہ میں نے کوچیوں کے ساتھ شمال کی جانب سفر شروع کر دیا تو پھر اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ سفیر امریکہ کیا سوچتا ہے اور شاہ خان کا اس بارے کیا خیال ہے؟ یہاں سے نکل گیا تو پھر کابل پہنچ کر ہی جو ہو گا، دیکھی جائے گی۔ یہی سوچ کر میں سکون کی نیند سو گیا۔
ہال میں شور شرابے سے میری آنکھ کھل گئی۔ میں نے دیکھا کہ کوچی کارواں کی روانگی کے لیے پوری زور و شور سے تیاری کر رہے تھے۔ سرائے کے احاطے میں اونٹوں کو بہلا پھسلا کر سامان لادا جا رہا تھا۔ اس سامان میں تجارت کی اجناس بھی تھیں۔ سیاہ خیمے لپیٹ کر باندھ دیے گئے تھے جبکہ بھیڑ بکریوں کے ریوڑ روانہ بھی ہو چکے تھے۔ بچوں کے ذمے بھی کئی کام لگائے گئے تھے اور وہ ذوالفقار کے ڈر سے بغیر چوں چراں کیے دوسرے کوچیوں کے ساتھ مشقت میں جتے ہوئے تھے۔ اگر آج تک میں یہ سمجھتا رہا تھا کہ شاید خانہ بدوش سست اور کاہل واقع ہوئے ہیں تو میرے تمام تر اس صبح وقت کی پابندی اور بچوں تک کی جفاکشی دیکھ کر یہ سبھی خیالات ہوا ہو گئے۔
رخصت ہونے سے قبل اچانک مجھے خیال آیا کہ نظراللہ بھی ذوالفقار کی ہی طرح ایسے موقعوں پر تندہی سے انتظامات کرواتا تھا اور یہ کہ وہ روانگی سے قبل پوری توجہ کے ساتھ کچھ نہ کچھ پیغام چھوڑ جاتا تھا تا کہ پیچھے رہ جانے والوں کو اس کے ارادوں کی پوری خبر ہو اور آگے کے احوال کی بھی کڑی جڑ جائے۔ یہی سوچ کر میں نے بھی ایک پیغام لکھ کر جیپ میں رکھنے کا ارادہ کیا۔ میں نے پنسل کاغذ نکالا اور نظراللہ کے لیے مختصر سا نوٹ لکھ دیا کہ مجھے اس کی بیوی مل گئی ہے، وہ تندرست حالت میں ہے اور میں اس وقت کوچیوں کے ایک کارواں کے ساتھ کابل کی طرف راونہ ہو چکا ہوں۔ کیا وہ اس بابت سفیر امریکہ کو اطلاع کر دے گا؟ 'کم از کم اتنا تو ہو ہی رہے گا کہ بر وقت اطلاع سے کابل پہنچنے تک مورگن کا غصہ کسی قدر ٹھنڈا ہو جائے گا۔۔۔' میں نے دل ہی دل میں سوچ کر مسکرا اٹھا۔ لیکن جب میں نے ذوالفقار کو اپنے ارادے سے خبر کی تو اس کا رنگ فق ہو گیا بلکہ کہو جیسے کسی نے خون چوس لیا ہو۔ اس نے مجھے وہیں رکنے کا حکم دیا اور خود دوسرے کوچیوں کے ساتھ مشورہ کرنے چلا گیا۔ کچھ دیر بعد وہ لوٹ کر آیا تو بری طرح لرز رہا تھا۔ اس نے مجھے نوٹ میں ترمیم کرنے کو کہا اور کوچیوں کے حوالے کو مکمل طور پر حذف کرنے پر مجبور کر دیا۔ مجھے سمجھ نہ آئی کہ اگر میں کوچیوں کا تذکرہ نہ کروں تو پھر اپنے پیغام میں کیا کہوں کہ کدھر گیا؟ بہرحال میں نے کچھ نہ کچھ گول مول ترمیم کر دی۔ ذوالفقار کو مجھ پر یقین نہ آیا تو اس نے وہ نوٹ ایلن کو پڑھوایا۔ ایلن نے بڑی مشکل سے اپنی ہنسی کو روک رکھا تھا۔ وہ خافی لہجے میں بولی، 'ٹھیک ہے، مقصد پورا ہو جاتا ہے!' لیکن ذوالفقار نے پھر بھی مزید تبدیلیاں کرنے کو کہا اور جب اس کی تسلی ہو گئی تو میں نے احتیاط کے ساتھ یہ نوٹ جیپ کے سٹئیرنگ پر باندھ دیا۔
اندھیرے ہی میں ہم نے شمال کی جانب سفر کا آغاز کیا۔ یہ ایک نہایت دلکش منظر تھا، اکانوے اونٹ ایک دوسرے سے بندھے، بھیڑ بکریوں کے بڑے ریوڑ سمیت بے تحاشہ سامان اور بیسیوں کوچیوں کا یہ لازوال کارواں، لازوال دھرتی پر رواں دواں تھا۔ سب سے آگے ذوالفقار اپنے بھورے گھوڑے پر سوار تھا۔ اس نے چوخانے دار واسکٹ اور اوپر فر کا اوور کوٹ پہن رکھا تھا، اس کی کمر کے ساتھ دو خنجر بندھے ہوئے تھے، کندھے پر جرمن رائفل اور سینے پر کارتوسوں کی لال پٹیاں تھیں۔ اونٹوں پر سامان کے علاوہ بچے اور دو چار بوڑھی عورتیں سوار تھیں جب کہ باقی سارا قبیلہ پیدل چل رہا تھا۔ میرے سوا کسی کو جلدی نہیں تھی، سب انتہائی پرسکون انداز میں، خراماں پیدل چلے جا رہے تھے۔ مرد اور عورتیں یکساں اکانوے اونٹوں اور بھیڑ بکریوں کے ریوڑ پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ کئی گدھے اور چند ٹٹو بھی تھے جن پر بار کی بوریاں کس کر لدی ہوئی تھیں۔ میں نے دیکھا کہ ایلن جاسپر ان ٹٹوؤں اور گدھوں کو ہانکتی ہوئی، سٹاؤٹ نما فوجی جوتے پہنے چلی آ رہی ہے۔ اس کے ساتھ مترا بھی تھی، اس نے پیروں میں چپل پہن رکھے ہیں۔
اس کارواں میں مجھے سب سے زیادہ مصروف، مفتون نظر آیا۔ وہ مسلسل اونٹوں کی قطار کے ساتھ آگے اور کبھی پیچھے چکر لگا رہا تھا۔ اس کا کام یہ تھا کہ وہ اونٹوں کے بھار پر نظر رکھے، ان کی حالت کو جانچتا رہے اور دیکھتا رہے کہ راستے میں کوئی اونٹ زخمی ہو یا بیمار نہ پڑ جائے۔ اس کے علاوہ اس کے ساتھ کئی مرد اور عورتیں بھی کام پر جتی ہوئی تھیں لیکن اونٹوں کی ساری ذمہ داری مفتون کے کندھوں پر تھی۔ میں نے نوٹ کیا کہ ہر روز سفر کے دوران بعض اونٹ مفتون کے رویے سے نالاں ہو کر بگڑ جاتے اور یوں اس کی زندگی اجیرن ہو جاتی۔ یہ بگڑے ہوئے اونٹ بیٹھ جاتے تو پھر اٹھنے کا نام نہ لیتے، کھڑے ہیں تو بیٹھنے سے انکاری ہوتے۔ بعض دفعہ وہ کارواں کی قطار چھوڑ، رسے تڑوا کر بھاگ نکلتے اور جہاں تک ممکن ہوتا، اس کو زچ کرتے۔ ایسی صورتحال میں مفتون کی حالت دیکھنے لائق ہوتی۔ وہ بیچارہ کبھی پچکارتا، ڈانٹتا اور بعض اوقات پیٹ کر اونٹوں کو راستے پر رکھنے کی کوشش کرتا۔
ہمیں روانہ ہوئے کافی دیر ہو چکی تھی۔ جب سورج نکلا تو ایلن کے سنہری بال روشنی میں سونے کی طرح دمکنے لگے۔ میرے خیال میں وہ اپنے حسن سے خوب آشنا تھی، بالخصوص باقی کوچیوں کی رنگت گہری سانولی تھی، جس سے اس کا سنہری پن در کر ممتاز نظر آ رہا تھا۔ ویسے بھی، اس کی چال میں اٹھان تھی، بانکپن جس کی اس کارواں میں کوئی دوسری مثال نہیں تھی۔ پیدل چلتے ہوئے وہ لمبے ڈاگ بھرتی اور اس کے چوڑے شانے سویر کے آفتاب میں نہائے ہوئے عجب رنگ میں جھول رہے تھے، جیسے وہ حسن کی کوئی دیوی تھی۔ لیکن اس کارواں میں وہ اکیلی نہیں تھی، اس کے ساتھ اسی کے رنگ میں رنگی، بانکی چال اور تک سیاہ رنگ کے بالوں والی مترا بھی تو تھی۔ مترا کے چہرے مہرے میں کوچی عورتوں کی شان اور بے نیازی کے ساتھ حسن اور جوانی بھی تھی۔ صرف یہی نہیں بلکہ وہ تو اس قبیلے کے سردار کی بیٹی بھی تھی، یعنی اپنے تئیں اس کا رنگ اور ڈھنگ، سب نرالا تھا۔ میں کن اکھیوں سے، جب بھی اسے چوری چوری تاڑتا تو وہ فوراً ہی میری نظروں کو بھانپ لیتی اور میرے خیال میں اسے میری یہ حرکت اس کو پسند تھی۔ کئی دفعہ تو اسے میں نے ایلن کے ساتھ سرگوشیاں کرتے اور پھر زیر لب، دانتوں تلے ہنسی دبائے میری ہی جانب اشارے کرتے ہوئے بھی دیکھا۔ پتہ نہیں، اس کا کیا ماجرا تھا؟
یہ کارواں صحرا کے علاوہ راہگزروں میں ایک دن کے دوران چودہ میل کا سفر طے کرتا تھا۔ صحرا میں تو رات کے علاوہ سفر نہایت مشکل تھا، ہاں یہ ہوتا کہ کبھی کبھار سویر تڑکے نکلتے اور دوپہر چڑھنے تک چلتے رہتے اور مخصوص جگہوں پر پڑاؤ ڈالتے۔ کوچیوں کی صدیوں سے یہی روایت تھی، پانی بھرنے کی جگہیں مخصوص تھیں اور قیام کا وقت اور مقام پہلے سے طے تھا۔ ہر سال یہی چکر چلتا اور یوں ہی دو ہزار میل کا سفر طے ہوتا۔ میں نے نوٹ کیا کہ ہر روز خیمے لگتے، بستی آباد ہوتی، الاؤ جلتے اور پھر یہ بستی اگلی ہی صبح پھر سے اجڑ جاتی، آگ بجھا دی جاتی اور کارواں چلتا رہتا۔ دن بھر کے معمولات میں یہ ریت بن گئی، جیسے کوچیوں کی عبادت ہو۔ میں نے اونٹوں کی رکھوالی میں ہاتھ بٹانے کا فیصلہ یا کیونکہ ان الٹی کل کے جانوروں نے مجھے بے حد متاثر کیا تھا۔ میں اکثر گھنٹوں بیٹھا ان کا مشاہدہ کرتا رہتا، ان کو جگالی کرتے دیکھتا رہتا۔ ان کا بے ڈھنگ اور بھدا منہ یوں چلتا رہتا جیسے جبڑوں میں ہڈیوں کا کوئی جوڑ نہیں اور پٹھے ہوا میں لچکا رہے ہیں۔
ایک دفعہ یوں ہوا کہ میں اسی بوڑھی اونٹنی کا، جس نے مفتون کی دھلائی کی تھی۔۔۔ بغور مشاہدہ کر رہا تھا۔ مجھے اس وقت اس اونٹنی کی لاچاری اور ڈھلکی ہوئی آنکھوں کے پپوٹے دیکھ کر بے اختیار اپنی دور کی رشتہ دار، ریبیکا آنٹی کا خیال آیا۔ وہ بوسٹن میں رہتی تھی اور اس کی بھی عادتیں اس اونٹنی سے مختلف نہیں تھیں، اسی کی طرح ہر وقت شکایت لگائے رکھتی۔ جب میں افغانستان آنے لگا تو اس نے مجھ سے کہا، 'مارک۔۔۔ کیوں خود کو برباد کرتے ہو؟ عقل کو ہاتھ مارو۔ اپنے لیے کوئی اچھی، سلجھی ہوئی نیک یہودی لڑکی دیکھو اور گھر بساؤ۔۔۔' اس اونٹنی کی طرح ریبیکا آنٹی کے پاس بھی شکایت کے لیے ہزار بہانے تھے، گھنٹوں سر کھایا کرتی تھی۔ اس کی آنکھیں بھی یرقان زدہ تھیں اور اسی کی طرح وہ بھی جبڑے پہلو کی طرف چلایا کرتی، چبانے کا انداز بھی ایک سا تھا۔ میں شرطیہ کہہ سکتا ہوں کہ اگر آنٹی فر کا کوٹ پہن لے تو ان دونوں میں فرق مشکل ہوتا۔ عجیب بات تو یہ تھی کہ ان دونوں کی بھیانک عادات کے باوجود میں دونوں کا دلدادہ تھا۔ اسی لیے میں نے اس اونٹنی کا نام بھی 'بیکی آنٹی' رکھ دیا۔ اونٹنی کو یہ نام بہت پسند آیا تھا، اس کی میرے ساتھ خوب نبھتی تھی اور اس بات سے مفتون کو سخت تکلیف ہوتی۔ وہ اسے دھمکاتی، لتاڑتی اور دوڑاتی۔۔۔ وہ جب بھی اس کے قریب جانے کی کوشش کرتا، وہ تلخی سے اس پر غوں غوں آوازیں کستی لیکن جوں ہی میری طرف مڑتی تو ایسی شرافت دکھاتی کہ مجھے سخت حیرانگی ہوتی رہتی۔ اس کا مجھ سے رویہ ایسا تھا جیسے کوئی بڑی بوڑھی اپنے پسندیدہ بچے کو پچکارتی ہے۔ یوں میں نے 'بیکی آنٹی' کو اپنی ذمہ داری بنا لیا اور اس کا پورا خیال رکھتا۔ بعض اوقات تو لمبے سفر پر اس کی پشت پر سوار بھی ہو جاتا اور وہ مزے مزے سے ٹہلتی ہوئی مجھے سیریں کراتی۔
جیسا کہ ایلن نے کہا تھا، وہی ہوا۔ دن بدن میری ٹانگیں مضبوط ہوتی جا رہی تھیں۔ دھوپ میں میرا رنگ بھی قدرے سنولا گیا تھا اور نیند بھی خوب آتی تھی۔ ایک معمول بن گیا اور مجھے اتنی بھوک لگتی کہ یقین ہی نہ آتا، میری جسمانی اور ذہنی حالت اس قدر بہتر ہو گئی تھی کہ ایسی پہلے کبھی ہوئی اور نہ پھر اس کے بعد کبھی ہو پائی۔ میں نے سوچا، ایلن جاسپر نے خواہ مخواہ ہی تو کوچیوں کے ساتھ نبھا نہیں کر لیا۔۔۔ یہی اصل زندگی تھی اور اس کا کوئی مول نہیں تھا۔
خانہ بدوشوں کی زندگی کے معمولات، جفاکشی اور شرافت کا جو غبارہ پھولتا جا رہا تھا، چھٹے ہی دن اس میں سے ہوا نکل گئی۔ ہوا یوں کہ ہم موسی دار کے مضافات میں پہنچ گئے تھے۔ خیمے گاڑھ کر عارضی بستی لگا دی گئی تو چھ کوچی چار اونٹوں پر سوار موسیٰ دار کے قصبے کی طرف چلے گئے اور لوٹے تو طرح طرح کا سامان ساتھ لائے۔ خربوز، گوشت، سبزیاں، مصالحے، جوتے۔۔۔ الغرض ضرورت کی ہر چیز تھی۔ اس دن ہم سب نے خوب سیر ہو کر اپنی مرضی کا کھانا کھایا اور سب ایسے ہی اچھا چلتا رہتا لیکن سہ پہر کے بعد شواٹز میرے پاس آیا۔ اس وقت میں مترا سے کسی چیز بارے بات کر رہا تھا، اس کے سامنے ہی وہ انتہائی بے بسی سے کہنے لگا، 'مجھے تمباکو کی سخت حاجت ہے۔ یہ خالی پائپ دیکھ کر میری حالت خراب ہو رہی ہے۔ کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ جب تم اپنی رپورٹ کابل ارسال کرنے بازار جاؤ تو واپسی پر میرے لیے تمباکو لیتے آؤ؟ میرے پاس جو رقم تھی وہ پہلے ہی ختم ہو چکی ہے' میں نے اسے تسلی دی اور کہا کہ میں کچھ دیر سو لوں، شام میں نکلوں گا تو پھر دیکھتے ہیں۔۔۔ وہ فکر نہ کرے، کچھ نہ کچھ ہو رہوے گا۔
خیر میں شام کے وقت بازار نکل گیا۔ سفارتخانے کو رپورٹ ارسال کی اور پھر بے مقصد بازار میں مٹرگشت کرنے لگا۔ شواٹز کے لیے تمباکو تلاش کیا اور ایسے میں ایک بوڑھے افغان دکاندار نے کہا، 'ارے، ابھی کچھ دیر پہلے تو یہیں رکھا تھا۔۔۔ نہ جانے کہاں گیا؟' اسے تمباکو نہ ملا اور میں خالی ہاتھ ہی اس کی دکان سے نکلا تو ایک دبلے پتلے لیکن خوش کن افغان نے مجھے روک لیا، وہ ٹوٹی پھوٹی انگریزی بول سکتا تھا۔
'صاحب، آپ کے پاس گاڑی ہے؟'
میں نے پشتو میں جواب دیا کہ نہیں ہے۔ اس پر اس نے مجھے یوں گھیرا، 'میرے پاس ایسی سستی چیز ہے کہ آپ انکار نہیں کر سکیں گے۔ ویسے بھی، صاحب۔۔۔ اس وقت گاڑی نہ سہی لیکن آپ کو گاڑی کا سامان تو درکار رہتا ہو گا، نہیں؟' وہ ہر طرح سے مجھے قائل کرنے لگا،
'ارے بھئی، یہ بھی تو بتاؤ کہ تمھارے پاس بیچنے کو کیا ہے؟'
'میرے ساتھ چلیں۔۔۔ آپ پہلے چیزیں دیکھیں اور قیمت تو اتنی کم ہے۔۔۔ سن کر دنگ رہ جائیں گے!' اس نے تقریباً سرگوشی کی اور مجھے بازو سے پکڑ کر اپنے کسی دوست کے باڑے پر لے گیا۔ یہاں میں نے دیکھا کہ چوری کا سامان بک رہا تھا، قراقل ٹوپیوں سے لے کر ہندوستان کا کپڑا اور نہ جانے کیا کیا۔۔۔ وہیں ایک طرف ٹائروں کی تین جوڑیاں بھی سجا کر رکھی تھیں جو دیکھنے میں بالکل نئی لگ رہی تھیں۔ 'دیکھا۔۔۔ زبردست ہے ناں؟' اس نے اشتیاق سے پوچھا،
قیمت تو بعد کی بات تھی، میں ٹائر دیکھ کر ہی حیران رہ گیا۔ حیرانگی کی بات بھی تھی، آخر میری جیپ کے ٹائر موسی دار کیونکر پہنچ گئے؟ میں نے باڑے کا پورا چکر لگایا تو مجھے وہاں جیپ کا کاربوریٹر، ایک آئل فلٹر، جیک، اوزاروں کا پورا دستہ۔۔۔ الغرض پوری ایک جیپ پرزوں کی شکل میں بکھری ہوئی نظر آئی۔ میں بے ساختہ اس جیپ کی فریم تلاش کرنے لگا لیکن وہ نہیں ملی۔ وہ تو نہیں ملی لیکن ایسے میں مجھے اپنی گاڑی کا سٹیرنگ اور مزے کی بات یہ کہ نمبر پلیٹ بھی اس چور بازار میں بکتی ہوئی نظر آئی۔ مجھے شک گزرا کہ میرے ہاتھ سے لکھا ہوا نظراللہ کے لیے مختصر نوٹ بھی یہیں کہیں مٹی میں رل رہا ہو گا۔
'تمھیں یہ چیزیں کہاں سے ملیں؟' میں نے پوچھا،
'آج شام ہی پہنچی ہیں' اس نے چہک کر اضافہ کیا، 'روس سے۔۔۔'
'یہ تو بہت ہی زبردست سامان ہے' میں نے اسے اعتماد میں لینے کی کوشش کی اور اردگرد نظر دوڑاتے ہوئے اپنے دماغ میں کم از کم بیس ایسی چیزوں کی فہرست تیار کر لی جن کی قیمت میری تنخواہ سے کاٹی جائے گی، 'لیکن یہاں موسیٰ دار میں تمھیں ان چیزوں کا گاہک ملنا مشکل ہو گا۔ نہیں؟' میں نے ٹوہ لگاتے ہوئے کہا،
وہ زور سے ہنسا اور بولا، 'ہم پانچ یا چھ ہفتے انتظار کریں گے۔۔۔ گاہک نہ ملا تو یہ سب سمیٹ کر کابل بھجوا دیں گے' یہ سوچ کر ہی میری حالت عجیب ہو رہی کیونکہ کابل کا چور بازار میں نے دیکھ رکھا تھا اور یہ چیزیں ایک دن وہیں بکیں گی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کسی روز میں خود ہی اپنی گاڑی کے پرزے، دوبارہ خرید رہا ہوں گا۔
'تم انہیں کابل ہی بھجوا دو۔۔۔' میں نے ہار مان کر کہا، 'وہاں ان چیزوں کی ضرور مانگ ہو گی!'
میں غصے میں بھبھوکا بنا، دوڑا دوڑا واپس خیموں میں پہنچا اور یہاں میرا سامنا ایلن سے ہو گیا، 'یہ چور کے بچے۔۔۔' میں نے دہاڑ کر کہا، 'انہوں نے مجھے اس سفر پر اس لیے ساتھ بلایا تھا کہ میری جیپ کے پرزے چرا کر کوڑیوں کے دام بیچ دیں؟'
ایلن نے ہنسی روکنے کی بھر پور کوشش کی لیکن ناکام رہی، 'ارے، تو تمھارا کیا خیال تھا کہ انہوں نے تمھیں کیوں بلایا؟ تم کیا سمجھے تھے کہ تمھاری شکل پر فریفتہ ہو گئے تھے؟' وہ سرزنش کرتے ہوئے بولی،
'کیا تمھیں ان کے ارادوں کی خبر تھی؟' میں نے سخت غصے میں پوچھا،
'تو کیا واقعی تمھیں بالکل پتہ نہیں چلا؟' اس نے جواباً یوں پوچھا جیسے میری حماقت کو روتی ہو، 'یاد ہے تم نے جب کہا تھا کہ جیپ میں نظراللہ کے لیے نوٹ لکھ کر رکھنا چاہتے ہو تو ایک دم کس قدر افراتفری پھیل گئی تھی؟ تم نے مجھے ذوالفقار کی جانب دیکھ کر ہنستے ہوئے دیکھا تو تھا۔۔۔ وہ کس طرح تمھیں ڈھونگ سے سرائے میں ہی روکنے کی کوشش کر رہا تھا؟' وہ اس وقت کو یاد کر کے زور سے ہنسی اور کہا، 'ملر جب تم نے نوٹ لکھ کر لگانے کی فرمائش کی تو اس وقت تک جیپ کے سارے پرزے کھل کر لد بھی چکے تھے۔۔۔ پتہ ہے؟ تمھاری آنٹی بیکی کی پشت پر۔۔۔' وہ پھر ہنسنے لگی۔
مجھے یہ سن کر سخت ذلت محسوس ہوئی۔ میں نے افسوس سے کہا، 'یعنی انہوں نے میری ہی جیپ کے پرزے کھول کر میرے ہی اونٹ پر لاد دیے؟ یہی نہیں۔۔۔ میں سارا راستے اس کی رکھوالی بھی کرتا رہا؟'
'ملر تمھیں ان کوچیوں کی مہارت دیکھنی چاہیے تھی۔۔۔ کمال ہے۔ انہوں نے منٹوں میں پوری جیپ آنٹی بیکی کی پشت سے اتار کر فوراً جہاں تھی، وہیں فریم پر فٹ کر کے رکھ دی۔ تم نے اس کے سٹئیرنگ کے ساتھ خط بھی باندھا تھا؟ وہ ملا کیا؟' وہ ابھی تک مزاق سے باز نہیں آ رہی تھی،
'میری پورے دو مہینے کی تنخواہ چلی جائے گی!' میں نے ناراض ہو کر کہا،
'میرے خیال میں اس یاد گار سفر کی یہ نہایت معمولی قیمت ہے۔۔۔' اس کے لہجے میں پہلی بار سنجیدگی در آئی، 'تم ذوالفقار سے اس بات کا ذکر مت کرنا۔ اس کو خواہ مخواہ شرمندگی ہو گی۔۔۔ اس نے تمھارے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہی ہے، روایت بھی توڑی ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ وہ پہلے ہی اس حرکت پر شرمندہ ہے۔ کاروان سرائے میں کسی شخص کو لوٹنا انتہائی نامناسب ہے۔۔۔ وہ یہ بات اچھی طرح سمجھتا ہے!'
مجھ پر ایلن کے لیکچر کا ذرہ برابر اثر نہیں ہوا۔ میں تو اسی وقت ذوالفقار کی ایسی تیسی کر کے رکھ دینا چاہتا تھا لیکن تبھی وہاں مترا بھی چلی آئی اور اس نے آتے ہی میرے ہاتھ میں ایک پوٹلی تھما دی۔ میں نے کھول کر دیکھا تو یہ پائپ کا تین کم از کم تین چھٹانک تمباکو رہا ہو گا، 'یہ میں بازار سے ڈاکٹر کے لیے لائی تھی!' وہ لہجے میں بلا کی معصومیت سمو کر بولی۔
میں نے ایلن کی جانب دیکھا اور پوچھا، 'یہ کہاں سے لے آئی؟ اس کے پاس تو پیسے بھی نہیں ہیں!'
اس بات پر وہ دونوں ہنسنے لگیں۔ ایلن نے آنکھ ماری اور کہا، 'میں نے کہا ناں، کوچی بہت تیز ہیں۔ مترا تو بجلی کی سی پھرتیلی۔۔۔ملر، یہ پوری آفت ہے!'
۔کارواں (افغانستان کا ناول) - اگلی قسط 17 جون، 2017ء کو شائع کی جائے گی -

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر