کارواں - بارھویں قسط


مجھے کوچیوں نے کابل کے سفر میں صرف اس لیے ہمراہ کیا تھا تا کہ میری جیپ کے پرزے نکال کر بیچ سکیں۔ مجھے اس بات سے سخت کوفت ہوئی، اعتماد کے غبارے سے ہوا بھی نکل گئی لیکن جلد ہی یہ خفگی دور بھی ہو گئی۔ ہوا یوں کہ ایک دفعہ موسیٰ دار سے نکلے تو سامنے خطے کا منظر ہی بدل گیا جس سے اس سفر کی قدر و قیمت کا اندازہ ہوا۔ اب ہم وادی ہلمند میں داخل ہو چکے تھے جو اس قدر وسیع ہے کہ کابل کے مرتفعے سے جا کر ملتی ہے۔ یہ وہ جگہ ہے کہ اگر میں کوچیوں کے ساتھ نہ آتا تو اسے دیکھنے کی چاہ ہی رہتی۔ اکثر غیر ملکی یہی خواہش لیے افغانستان سے نامراد لوٹ جاتے ہیں۔ یہ وادی نقشے کے طول و عرض میں غزنی کے جنوب میں بنجر میدانوں کے اس پار جبکہ کوہ بابا کے پہاڑی سلسلے کے مشرق میں واقع ہے۔ یہاں سڑکیں نہیں جاتیں اور کئی دنوں تک سفر کرنے کے باوجود کوئی بندہ اور نہ ہی بندے کی ذات، آبادی کے آثار بھی نظر نہیں آتے۔ ایک وسیع میدان ہے اور طویل کچا راستہ ہے جس پر ہزاروں سال سے صرف اور صرف کاروانوں کی ہی آمدورفت رہی ہے۔
جوں جوں ہم اس بیابان وادی میں آگے بڑھ رہے تھے، نظراللہ کی بکریوں کے بارے شکایت کی سمجھ آ رہی تھی۔ وہ یوں کہ ہفتوں سفر کرنے کے بعد بھی میں نے اس پورے علاقے میں درخت نام کی کوئی چیز نہیں دیکھی، تاحد نگاہ چپٹا میدان تھا۔ کسی زمانے میں یہاں جنگل ہی جنگل ہوا کرتا تھا۔ تاریخی ریکارڈ میں اس کے ثبوت مل جاتے ہیں لیکن پھر اس ہری بھری وادی کو زمانے کی مار نے آن گھیرا۔ بکریوں نے سبزہ چٹ کر دیا اور انسانوں کی لالچ نے دور دراز مرتفعات کے جنگلوں کو بھی ننگا کر دیا۔ اب یہاں صرف پتھر کا راج ہے۔ میں اکثر سوچتا کہ آخر بھیڑوں کا ریوڑ ان بیابانوں میں گزارہ کیسے کرتا ہے لیکن جیسے صحرا میں اونٹ، ویسے ہی انھیں بھی کچھ نہ کچھ میسر آ ہی جاتا تھا، یہ اس بنجر زمیں میں بھی چارہ ڈھونڈ نکالتی تھیں۔
ہمارے کارواں میں کل ملا کر تقریباً دو سو کوچی تھے اور جب قافلہ چلتا تو اس کا طول میلوں تک پھیلا رہتا تھا۔ اونٹ اور بھیڑوں کی رکھوالی کی جاتی تھی اور ان سب کا دھیان رکھنا ذوالفقار کی ذمہ داری تھی۔ وہ اس قبیلے کا والی اور وارث تھا، گھوڑے پر سوار آگے اور پیچھے چکر لگاتا رہتا اور سفر کے دوران سبھی پر نظر رکھتا۔ اس دوران اس کی ہئیت دیکھنے لائق ہوتی۔ تازہ دم گھوڑے پر سوار، سر بلند، سرو قد قامت، گہری سانولی لیکن تمتماتی رنگت، بڑی مونچھیں اور کندھے پر بندوق سجائے اپنی دھاک بٹھائے رکھتا۔ جب کارواں کے سفر پر ہوتا تو سر پر سفید پگڑی پہنے رکھتا اور باقی سب سے ممتاز نظر آتا لیکن اس کا اصل ہتھیار احتراز، کم گوئی اور ہمہ وقت منہ پر مسکراہٹ سجائے رکھنا تھا۔ وہ خوش باش نظر آتا کیونکہ یہ کارواں کا مورال بلند رکھنے کے لیے انتہائی ضروری تھا، وہ اس بات کو بخوبی سمجھتا تھا کہ اگر اس کا قبیلہ آسودہ خاطر اور رضامند ہو رہیں تو سمجھو، اس کٹھن سفر کی آدھی جنگ وہیں جیت لی۔ وہ کم گو تھا، منہ بند رکھتا کیوںکہ وہ جانتا تھا کہ دھاک بیٹھی رہے گی اور ویسے بھی خاموشی کا اثر شور سے کہیں بڑھ کر ہوتا ہے۔ وہ پرانی کہاوت ہے کہ بھرے بھرتن کھڑکتے نہیں، ویسے ہی ذوالفقار کے بارے بھی اس کے پیروکار یہی سمجھتے کہ وہ کم گو ہے کیوں کہ وہ باقی سب سے کہیں بڑھ کر سمجھ اور بوجھ کا مالک ہے۔ وہ سب جانتا ہے، اسی لیے ناخدا ہے۔
کاروان سرائے میں تو کوچیوں نے ہم فرنگیوں کی دعوت میں دنبے کے بھنے گوشت، پلاؤ اور نان سے تواضع کی تھی لیکن سچ کہوں تو مجھے بعد میں خاصی شرمندگی بھی ہوئی کیونکہ عام طور پر خانہ بدوش اس عیاشی کے متحمل نہیں ہوتے۔ مثلاً سفر کے دوران ہم ناشتے میں سبز چائے کا قہوہ اور خشک نان کھایا کرتے تھے۔ اسی کھانے کے بل بوتے پر بارہ سے چودہ میل پیدل سفر طے کیا جاتا اور پھر جب کھانے کا وقت آتا تو گوشت کے بغیر چاولوں کا سادہ پلاؤ ملتا، جس میں مسالے بھی چھن کر ڈالے جاتے تھے۔ شام میں بھیڑوں کے دودھ اور دہی کے ساتھ نان کھا لیتے۔ کبھی گوشت مل جاتا، اکثر نہ ملتا۔ یوں کہو تو کوچی خط غربت کے آس پاس لیکن تلے ہی بسر کرتے تھے لیکن مجھے اس بات پر حیرانگی ہوتی کہ اس کے باوجود ہٹے کٹے کیونکر ہیں؟ میں نے ان کے بچوں کو ہمیشہ ہی بھوک سے بلبلاتے دیکھا۔ انہیں دیکھ کر سخت فکر ہوتی لیکن ایلن نے کہا، 'ارے نہیں۔۔۔ ان کو غور سے دیکھو، ان کے پیٹ نکلے ہوئے نہیں ہیں۔ یہ زبردست مخلوق ہیں!' یوں مجھے مانتے ہی بنی کہ دراصل ایسا ہی تھا۔ جو تھوڑا بہت کھانے کو مل جاتا، کافی ہوتا تھا۔ وہ اسی پر توکل کرتے اور اسی سے ان کے جسم پلتے تھے۔ کافی دنوں تک یہ بات بھی معمہ ہی رہی لیکن پھر ایک دن یہ گتھی بھی سلجھ گئی۔ میں نے دیکھا کہ کوچی، چاہے وہ بچے ہوں یا جوان یا بوڑھے۔۔۔ سبھی چربی اور دیسی گھی شوق سے کھاتے ہیں۔ یہ چربی ان کے جسموں کے خوب کام آتی، اسی کے بل بوتے پر اتنا سفر کرتے تھے۔ اگر انہیں گھی یا چربی زمین پر پڑی بھی مل جاتی تو اس کو پگھلا کر چاٹ لیتے۔
خانہ بدوشوں کی زندگی کے تین پہلو ایسے ہیں جس سے مجھے سخت کوفت رہتی تھی۔ پہلا تو یہ کہ کوچی نہایت گندے تھے، دوسرا پھوہڑ اور تیسرا یہ کہ انہیں شعور اور خردمندی سے کچھ لینا دینا نہیں تھا بلکہ اس کا سرے سے شوق اور نہ ہی اس طرف دھیان تھا۔ میرے خیال میں دن بھر کی مشقت اور آزاد زندگی میں ان تینوں چیزوں کی کوئی گنجائش ہی نہیں نکلتی تھی۔
کوچی مردوں کی ڈھیلی شلواریں اور لمبی قمیصیں ہر وقت گندی مندی رہتیں جبکہ عورتوں کے گھاگھروں میں دھول اٹی رہتی اور جھاڑی دار کانٹے اٹکے رہتے۔ انہیں اس کی کبھی پرواہ کرتے نہیں دیکھا۔ وہ شاذ و نادر ہی نہاتے دھوتے لیکن بات یہ تھی کہ اس علاقے میں ہوا اس قدر خشک تھی کہ بدبو جمع ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا، شاید جہلم کے نم میدانوں میں معاملہ دوسرا ہوتا ہو مگر وہاں سنتے ہیں کہ پانی بہت ہوتا ہے۔ میں اپنی بات کروں تو سخت نمی کے دنوں میں بھی ایک قمیص ہفتے بھر سے زیادہ چل جاتی تھی، ہاں احتلام ہوتا تو کوفت اٹھانی پڑتی۔ جمے ہوئے دھوئیں کی کالک کے سوا کوئی مسئلہ نہیں تھا اور پسینہ ٹکتا ہی نہیں تھا، وہاں بہا اور یہاں فوراً ہی سوکھ جاتا۔ مجھے تو شک گزرتا ہے کہ کوچی کئی مہینوں تک کپڑے نہیں بدلتے تھے اور کارواں میں پانی اس قدر نایاب تھا کہ دھونے کی عیاشی اٹھائی ہی نہیں جا سکتی تھی۔ یہ ایسا ہی تھا ورنہ جتنے یہ گندے مندے تھے، کئی مہینوں تک نہائے دھوئے رہتے تو ہی ایسا ممکن ہو سکتا تھا۔
کوچی عام طور پر پھوہڑ ہوتے ہیں لیکن اگر ان کی کسی چیز میں سلیقہ دیکھنا ہو تو وہ بال ہیں۔ عورتوں کو بہت کم، کبھی کبھار ہی کنگھی کرتے دیکھا اور مردوں کی لانبی زلفیں شانوں پر ٹک کر جمی رہتی تھیں۔ مجھے حیرانگی تو ہوتی لیکن ان کے مرد اور عورتوں، دونوں کے سر ایک جیسے تھے۔ بال جیسے جڑے ہوئے اور ایک ہی جگہ ٹکے رہتے، شاید ان میں جوئیں بھی ہوں اور بہت ساری ہوں۔ میں اکثر سوچتا کہ اگر کسی دن شام کے وقت پورے قبیلے کو لائن میں لگا کر کسی حجام کے آگے بٹھا دیا جائے اور پھر انہیں نہلا دھلا کر اجلے کپڑے پہنا دیں تو دیکھیں۔۔۔ کیا کیا رنگ، کیسے کیسے پری چہرہ نکلتے ہیں؟
ان کی ذہنی بلوغت کا جہاں تک تعلق تھا، اچھائی اور برائی کا کوئی تصور نہ دیکھتے تھے۔ یہی نہیں بلکہ انہیں ماضی اور مستقبل کی کوئی سمجھ نہیں تھی بلکہ اس کی فکر بھی نہیں تھی۔ بس ایک ہی وقت تھا جو حال کی صورت ان پر ہمہ وقت طاری رہتا۔ چونکہ لکھنے اور پڑھنے سے نابلد تھے اور ریڈیو وغیرہ بھی نہیں سنتے تھے، اسی لیے ان کے بیچ گفتگو کے موضوعات بھی محدود اور گنے چنے رہتے۔ ان کے بیچ زیادہ تر کارواں کے معاملات سے متعلق ہی کھسر پھسر چلتی رہتی۔ بھیڑوں کے پیٹ، ان کے میمنوں، اونٹوں کی گمشدگی، طویل راستوں، سرحدی محافظوں کو چکما دینے کے طریقوں اور پچھلے پڑاؤ میں بازار میں کی گئی چوری اور اس کے مال جیسی باتیں ہی زیر بحث رہتیں۔ دن مہینوں اور مہینے سالوں میں بدل جاتے لیکن ان کی دماغی صلاحیت جہاں پہلے دن تھی، وہیں ٹکی رہتی۔ اس میں کوئی تنوع اور نہ ہی بڑھوتری نظر آتی۔ اس ضمن میں یہ صرف ایک یا دو لوگوں کی بات نہیں بلکہ پورے کا پورا قبیلہ ہی کورا تھا۔ میرے خیال میں اس کی وجہ شاید یہ رہی تھی کہ کوچی اپنی زندگی، حال اور سخت قدرتی حالات میں جینے کے ساتھ خوش باش تھے۔ میں نے عام طور پر انہیں بیزار کن پایا ہے اور ماننا تھا کہ ایلن جاسپر بھی ان کے ساتھ اسی لیے گھل مل کر خوش تھی کیوں کہ کوچی تو گنوار اور اجڈ تھے لیکن ایلن اندھوں میں کانی راجہ بن کر جی رہی تھی۔ کبھی کبھار مجھے شبہ ہوتا کہ وہ کوچیوں کی بیزار کن طبیعت سے سخت اکتا گئی ہے، اسی لیے وہ کبھی میرے ساتھ اور اکثر شواٹز کو ڈھونڈتی اور گھنٹوں فلسفیانہ باتیں کرتی رہتی، یعنی اسے کسی پڑھے لکھے کی تلاش رہتی تھی۔
کوچی گندے پھوہڑ اور بے پرواہ تھے لیکن ان میں بھی دو لوگ ایسے تھے جو خانہ بدوشوں سے متعلق اس کلیشے سے مبرا تھے۔ ذوالفقار اور اس کی بیٹی مترا ذہنی طور پر باقی سبھی سے کہیں آگے تھے اور صفائی ستھرائی کا بھی پورا خیال رکھتے تھے۔ غالباً اس عادت کی واحد وجہ ایلن جاسپر تھی جو اپنے ہاتھوں سے ذوالفقار کے بال سنوارتی تھی اور کپڑوں کی صفائی ستھرائی کی طرف دھیان رکھتی۔ دوسری جانب مترا کا یہ تھا کہ وہ اپنے آپ کو خود ہی صاف ستھرا رکھتی کیونکہ ایلن اس کی اچھی تربیت کر رہی تھی اور ویسے بھی یہ وہی کچھ کرتی جو ایلن کیا کرتی تھی۔ اس کی عادات اور حرکات و سکنات آہستہ آہستہ ایلن سے میل کھاتی جا رہی تھیں۔
ان باپ بیٹی کے پاس اب کئی رنگ کے، طرح طرح کپڑے تھے۔ سرخ، نیلا اور خاکستری گھاگھرا، سرخ، سفید اور ہرا بلاؤز، بھوری اور سفید پگڑیاں وغیرہ۔ مترا نے تو چپلیوں کا ایک اضافی جوڑا بھی کہیں سے پیدا کر لیا جو وہ صرف ان دنوں میں پہنتی جب کارواں کا پڑاؤ ہوتا اور اسے بازار جانا پڑ جاتا۔ سب سے بھلی بات یہ تھی کہ وہ کہیں سے ایک سخت داندوں والی کنگھی بھی لے آئی جس سے سیاہ بال اچھی طرح دھو کر سنوارے رکھتی۔ کچھ دن مزید گزرے تو صافی اور تولیا بھی لے آئی، جہاں پانی کی کمی ہوتی، اسی کو گیلا کر کے جسم پر پھیر دیتی ورنہ ہفتے میں ایک دفعہ ضرور نہاتی۔ اس کی رنگت سانولی تھی اور میک اپ استعمال نہیں کرتی تھی لیکن اس کی آنکھیں اور بھنویں اس قدر سیاہ تھیں کہ چہرے کی رنگت قدرے سپید معلوم ہوتی۔
کارواں جب سفر پر نکلتا تو میں اکثر مترا کے ہمراہ ہو جاتا۔ اس کا کام بھیڑوں کی دیکھ بھال کرنا تھا۔ بھیڑوں کا ریوڑ سنبھالنا بچوں کا کھیل نہیں تھا، ویسے بھی یہ کوچیوں کی کل جائیداد تھی، ساری دولت اسی ریوڑ میں رکھی تھی۔ اگرچہ وہ اس کام میں جی جان سے جتی رہتی لیکن پھر بھی راستے میں میرے ساتھ زیادہ تر پشتو اور کبھی کبھار ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں خوش گپیاں لڑاتی۔ میں اکثر اس کو کوچیوں کی کند ذہنی اور محدود دنیا کے بارے کچوکے لگاتا اور جلد ہی مجھے معلوم ہو گیا کہ اسے تاریخ کا کوئی علم نہیں تھا، سکول جانے کی تمنا تھی اور نہ ہی اس کو بنیادی مضامین سے کوئی دلچسپی تھی۔ اس کے باوجود اس کا رویہ دوسرے کوچیوں کی طرح سرد نہیں تھا، وہ بظاہر جتنی گنوار اور بے پرواہ نظر آتی تھی اتنی ہر گز نہیں تھی۔ اسے وسط ایشیاء کے جغرافیے بارے کافی معلومات تھیں اور وہ تمام ممکنہ حالات اور معاملات اس کو ازبر تھے جن سے کوچیوں کی زندگی پر اثر پڑ سکتا تھا۔ مختصراً کہوں تو وہ خرید و فروخت میں ماہر تھی، مذاکرہ کر سکتی تھی اور جانوروں کی رکھوالی میں یکتا تھی۔ اس کو صرف یہی دکھ تھا کہ اتنے بڑے قبیلے میں صرف ایک گھوڑا ہے جس پر ذوالفقار سواری کرتا تھا۔
'تم جیسے آدمی کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ ہم جیسوں کی طرح پیدل چلا کرے۔۔۔' اس نے ایک دن مجھ سے کہا، 'تم اپنے ملک میں ہوتے تو یقیناً کسی قبیلے کے سردار ہوتے' میں نے اس کو یقین دلایا کہ میرے بارے افسوس کی کوئی بات نہیں ہے اور یاد دلایا کہ میرے پاس جیپ تو ضرور تھی جو کئی لحاظ سے گھوڑوں سے بہتر ہوتی ہے۔ اس پر اس نے کچھ دیر سوچ بچار کی اور پھر حتمی لہجے میں کہا، 'جن راستوں پر ہم چلتے ہیں۔۔۔ وہاں گھوڑا ہی بہتر ہے!'
'تم فکر نہ کرو۔۔۔ مجھے پیدل چلنا پسند ہے!'
'ایک سردار کے پاس اپنا گھوڑا ہونا لازم ہے۔ میرے آبا کو دیکھو، کیا وہ گھوڑے کے بغیر اتنا طاقتور ہو سکتا ہے؟'
میں یہ کہوں گا کہ خانہ بدوشوں کی زندگی میں کئی مایوس کن موڑ تھے لیکن انہیں اس کی ہر گز پرواہ نہیں تھی۔ جہاں یہ، وہیں اس زندگی میں کچھ ایسی چیزیں بھی تھیں جنھیں دیکھ کر آدمی دنگ رہ جاتا۔ مثال کے طور پر مفتون جیسا آدمی عجوبہ ہی کہلایا جا سکتا ہے۔ سفر کے شروعات میں جب ہم موسیٰ دار کی طرف بڑھ رہے تھے، ایک دن میں نے دور سے دیکھا تو ایک اونٹنی جم کر راستہ روک کر کھڑی ہے اور مجال ہے کہ ٹس سے مس ہوتی ہو؟ مجھے فوری طور پر اونٹنی کے رک کر یوں ہٹ دھرمی کی وجہ سمجھ نہیں آئی، اسی لیے واپسی کی راہ لی اور میدان میں جا کر اس کو چلنے پر آمادہ کرنے پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ مفتون گھٹنوں کے بل جھکا اونٹنی کی پچھلی ٹانگوں تلے گھسا ہوا ہے۔ اس کی پگڑی ہوا میں لہرا رہی ہے، منہ کھلا اور دونوں ہاتھوں سے تھن پکڑ رکھے ہیں۔ وہ پہلے داہنے اور پھر باہنے تھن سے دودھ دوہتا جاتا اور کھلے ہوئے منہ میں دھار مارتا اور مزے سے پیتا جاتا۔ یہ دیکھ کر میں چلایا،
'مفتون یہ تم کیا کر رہے ہو؟'
'مجھ بھوک لگ رہی ہے!' اس نے دودھ دوہتے ہاتھ روک کر کانی آنکھ سے مجھے دیکھتے ہوئے سکون سے جواب دیا،
'اٹھو۔۔۔ نکلو باہر۔ تمھیں پتہ نہیں کہ دودھ صرف بچوں کے لیے ہے؟' سرزنش کے باوجود اس نے کوئی حرکت نہیں کی تو میں نے اسے لتاڑنے کا فیصلہ کیا، 'مفتون۔۔۔ یہ حرکت اور پہلے بھی مجھے پتہ ہے کہ بیکی آنٹی تمھیں کیوں ناپسند کرتی ہے۔ تم اس کے ساتھ زیادتی کرتے ہو!'
وہ پھر بھی باہر نہیں نکلا بلکہ اونٹنی کی ٹانگوں تلے دبکا رہا اور وہیں سے میری جانب افسردگی اور نفرت سے دیکھ کر بڑبڑایا، 'لو سنو۔۔۔ میں اس کے ساتھ زیادتی کرتا ہوں؟'
'ہاں' میں نے اصرار جاری رکھا، 'میں پچھلے تین دن سے روزانہ صبح کے وقت یہی سن رہا ہوں۔ شکر کرو، وہ پھر بھی تمھارا لحاظ کرتی ہے۔۔۔ اس نے پھر دوبارہ تمھارا بازو نہیں چبایا!'
'تم تین دنوں سے یہی سن رہے ہو؟ کیا سن رہے ہو؟'
'میں بیکی آنٹی کا شور و غل سنتا رہتا ہوں۔۔۔ تم اس پر وزن بھی زیادہ لادتے ہو اور سلوک بھی اچھا نہیں ہے۔ مفتون۔۔۔غارت ہو، وہاں سے باہر نکلو اور میری بات سنو!'
اس پر مفتون بے دلی سے اونٹنی کی ٹانگوں کے بیچ سے رینگتا ہوا نکلا، اٹھ کر کھڑا ہوا اور پگڑی سنبھالتے ہوئے مجھ پر ہنسنے لگا۔ 'ایسا ہے تو کل صبح۔۔' اس نے عجب طرح سے کہا، 'تم ہی اپنی بیکی آنٹی پر سامان لاد دینا!' یہ کہہ کر وہ چلا گیا اور مجھے ہی اونٹنی کو ہانک کر دوبارہ راہ پر چڑھانا پڑا۔
اگلی صبح مفتون نے یاد کے ساتھ مجھے وقت سے پہلے ہی بستر سے اٹھا لیا اور جانوروں کے باڑے میں لے گیا۔ بیکی آنٹی خاصی بڑی اونٹنی تھی اور ابھی تک ہڈی کے ابھاروں کی سخت جلد پر جسم ٹکائے آرام کر رہی تھی۔ اچھی خاصی کوشش کر لی لیکن وہ اٹھنے کا نام نہ لیتی تھی۔ مفتون نے بھی اپنی سی بہتیری کوشش کر لی لیکن جب میں نے بڑھ کر اسے پچکارا تو وہ مجھے دیکھ کر ایک دم تیار ہو گئی۔ بات بھی تھی کہ آج اس کی جان کا دشمن نہیں بلکہ میں اس پر سامان لادنے والا تھا۔ شاید لدائی کا سوچ کر اس کی خوشی بجھ گئی، آنکھوں میں ملال نظر آنے لگا اور ایک اونٹ جس قدر آزردہ دکھائی دے سکتا ہے، اس نے افسردگی پہن لی۔ جو تھوڑی بہت چستی پہلے نظر آئی تھی، پہلا کمبل پیٹھ پر رکھتے ہی ہوا ہو گئی۔ اس کا وزن زیادہ سے زیادہ دو ڈھائی کلو رہا ہو گا لیکن اس نے ایسی آہ بھری کہ میں شرطیہ کہہ سکتا ہوں کہ اگر نیرو سن لیتا تو اس کا دل ٹوٹ جاتا۔ اس کی کراہ میں انسانی رنگ تھا، گریہ ایسا کہ جیسے دنیا کی سختی برداشت سے باہر ہوتی جاتی ہے۔ میں نے یہ دیکھ کر اس کے نتھنے پر ہلکے سے چپت لگائی اور مزید سامان لادنا شروع کر دیا۔ میں نے پہلے ایسی چیزیں لادیں جن کا وزن نہ ہونے کے برابر تھا لیکن اس کی شکایت بڑھتی ہی جا رہی تھی۔ ایک وقت تو ایسا آیا کہ مجھے وہ بالکل اپنی آنٹی ریبیکا کی طرح لگنے لگی جو ہر وقت آئرش سیاستدانوں سے نالاں رہتی، اطالوی دکانداروں کو کوستی، یہودی تاجروں کی عیاری سے سخت تنگ اور اپنے خاندان کی بے اعتنائی کا رونا روتی رہتی تھی۔ مجھے لگا جیسے اونٹنی کہتی ہو، 'آخر میں اتنا وزن کیسے برداشت کروں؟' میں کوئی بھی چیز لادتا، اس کا شور بڑھتا جاتا۔ جتنا سامان میری جیپ میں لدا رہتا تھا، اس کا آدھا بھی نہیں ہوا کہ میں نے بس کر دی، لیکن وہ اپنی جگہ سے یوں اٹھی جیسے پشت پر دو جہان کا بوجھ اٹھا رکھا ہے۔ اتنا مکر کر رہی تھی، ٹانگوں کو یوں لرزاتی جیسے خدا جانے کیا آفت آن پڑی ہے، گویا اس کا دنیا میں آخری دن ہے۔ ایک لمحے کو تو مجھے ایسا لگا جیسے ابھی کے ابھی گر کر ریت میں ڈھیر ہو جائے گی لیکن میں نے اس کے پہلو میں زور سے ہاتھ کی ضرب لگائی تو وہ سنبھل گئی لیکن ایسا لگا جیسے وہ آج میری بجائے مفتون کی جانب زیادہ مائل ہے۔ خیر، دن گیارہ بجے کے آس پاس جب اسے یقین ہو گیا کہ اس پر لدا ہوا وزن باقی دنوں کے مقابلے میں کم ہے، اس کا رویہ ایک دفعہ پھر دوستانہ ہو گیا، اب وہ پھر سے میری بجائے مفتون کو کینہ توز نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
اگلی صبح مفتون نے ایک دفعہ پھر مجھے بلا لیا اور اب کی بار جب میں آنٹی کی طرف بڑھا تو اس نے مجھے دیکھتے ہی ایسی شکل بنا دی کہ بتانا مشکل ہے۔ وہ فوراً ہی سمجھ گئی کہ میں ایک دفعہ پھر اسے اذیت دینے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ میں نے تجربے کے لیے اس کی پشت پر ایک رومال رکھنا چاہا، یقین کیجیے کہ ابھی وہ رومال اس کے کوہان پر ٹکرایا بھی نہ ہو گا کہ اس نے واویلا مچا دیا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے کہتی ہو، 'ہائے ہائے۔۔۔ ایک اونٹ اتنا وزن کیسے اٹھائے؟' سرائے کے ہال میں اگر کوئی اجنبی اس کا شور شرابہ سن لیتا تو یہی سمجھتا کہ جیسے کوئی تیز دھار خنجروں سے اس کا پیٹ کاٹ رہا ہے۔ جب تک سامان لد نہ گیا، یہی تماشا جاری رہا۔ تیسرے دن میں نے مفتون سے کہا، 'اس کی ایسی کی تیسی۔۔۔ چلو آج دیکھتے ہیں کہ یہ زیادہ سے زیادہ کتنا وزن اٹھا سکتی ہے؟' ہم دونوں نے مل کر اس پر قریباً دس من وزن لاد دیا۔ حیران کن طور پر اس کے واویلے میں ذرہ برابر فرق نہیں آیا، جیسا پہلا دن تھا، ویسے ہی آج بھی رہا۔ وہ اسی طرح اٹھ کر کھڑے ہونے سے کتراتی رہی اور سارا دن راستے میں بھی اس کا وہی طریق رہا۔ بلکہ آج تو یہ ہوا کہ جب اس نے چلنا شروع کیا تو پھر اس کو روک پانا مشکل ہو گیا تھا۔ وزن تلے دب کر اس کو فرق نہیں پڑا تھا بلکہ وہ پہلے سے کہیں زیادہ چست معلوم ہوتی تھی، دن بھر خوشی خوشی رہی۔ اس تجربے کے بعد میں سمجھ گیا کہ آنٹی بیکی بہت ہی بڑی ڈرامے باز ہے، اس لیے اس کا مزید چارج میں نے مفتون کو واپس کر دیا۔ ایک لحاظ سے اچھا ہی کیا کیونکہ تیسرے دن شام کے وقت آنٹی کو سمجھ آئی کہ دراصل اس کے ساتھ ہاتھ ہو گیا ہے، اسی لیے اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ۔۔۔ سیدھا مفتون پر حملہ کر دیا۔ وہ خوش قسمتی سے بچ گیا لیکن اس کی جان پر بن آئی۔ اس کو ننگا ہونا پڑا اور آنٹی نے اس کے کپڑوں پر خوب بھڑاس نکالی۔ جب یہ ہو چکا تو اس نے مجھے متنبہ کیا، 'ملر صاحب۔۔۔ آپ کے لیے بھی بہتر یہی ہے کہ الف ننگے ہو جائیں!'
میں اس کی تجویز پر ہنس پڑا لیکن وہ سنجیدہ تھا۔ میں نے آگے بڑھ کر اسے پچکارنا چاہا تو وہ بپھر کر میری طرف بڑھی، اس کے ارادے نیک نہیں تھے۔ وہ تو شکر ہے کہ مفتون نے پہلے ہی اس سے صلح کر لی تھی، اس لیے بیچ میں پڑ کر مجھے بچا لیا۔ میں نے مصلحت اسی میں سمجھی کہ کپڑے اتار دوں۔ میں کافی دیر تک ننگ دھڑنگ کھڑا اس کو اپنے کپڑوں پر زور آزمائی کرتے دیکھتا رہا، وہ لاتیں مارتی رہی، شلوار چبا دی، تھوکا اور تھوڑا سا موت بھی کر دیا لیکن فائدہ یہ ہوا کہ اگلی صبح ہم میں پھر سے وہی دوستانہ ہو گیا۔
کارواں کی زندگی میں طرح طرح کے لمحات آتے ہیں۔ فخر اور نخوت کا احساس ہوتا۔ مثلاً ایسا ہوتا کہ ابھی سویر تڑکا نکل رہا ہوتا اور ہم کسی گاؤں یا قصبے کی دہلیز پر پہنچ جاتے، راستہ ناپتے ہوئے ہم کسی گاؤں کو دیکھتے تو وہ سویا پڑا ہوتا۔ کتے کارواں کو دیکھتے ہی بھونکنا شروع کر دیتے اور یوں کچھ لوگوں کو جاگ آتی اور جیسے ہی وہ بھی ہمیں دیکھتے تو اپنے پڑوسیوں کو خبر کرتے۔ میں اکثر دیکھتا کہ دیہاتیوں میں کھلبلی مچ جاتی اور ہر وہ چیز جس کے چوری ہونے کا ڈر ہوتا، سنبھال کر دروازوں کے اندر بند کر دیتے۔ دن بھر عورتوں کو پریشانی لگی رہتی اور وہ بچوں کی خبر لیتی رہتیں، اکثر برقعہ اوڑھے بازاروں میں بھی نکل آتیں کہ کیا خبر، کوچی ان کی نو عمر اولادوں کو اغوا نہ کر لیں۔ میں اکثر دیکھتا کہ عورتیں دروازوں سے لگی کھڑی ہیں اور بعض اوقات ایسا لگتا جیسے مرد حضرات پہرے پر کھڑے ہیں۔ وہ تب تک ادھر کھڑے رہتے جب تک خانہ بدوشوں کا قافلہ آبادی پار نہ کر لیتا۔ اس کھلبلی کو دیکھ کر عجب غرور کا احساس ہوتا، آبادی سے دور نکل کر جب خیمے گڑھ جاتے تو تب جا کر گاؤں کے باسیوں کو بھی سکون آتا۔
ایسے مواقع پر، جب خانہ بدوشوں کا قافلہ کسی بستی میں داخل ہوتا تو منظر کچھ یوں ہوتا کہ ذوالفقار گھوڑے پر سوار، سر بلند کیے سب سے آگے کندھے پر رائفل اور کمر کے ساتھ کارتوسوں کی پیٹیاں سجائے داخل ہوتا۔ اس کی نظریں اونچی جگہوں پر گڑی رہتیں اور وہ بستی کی خوفزدہ عورتوں اور بچوں کی چنداں پرواہ نہ کرتا، ان پر نظر بھی نہ ڈالتا۔ کتے بھونکتے رہتے لیکن وہ اپنی ہی دھن میں مگن سیدھا چلتا جاتا۔ اس کے پیچھے اونٹوں کی لمبی قطار ہوتی جن پر کوٹ کوٹ کر سامان لدا ہوتا۔ اونٹوں کے ساتھ اور پیچھے قبیلے کے سبھی مرد اور پھر بھیڑوں کا ریوڑ ہوتا جس کے ساتھ عورتیں بھی پیدل رواں ہوتیں۔اس کے پیچھے گدھے جن پر بچے اور ضرورت کا سامان لدا ہوتا تھا۔ آخر میں مسلح پہرے داروں کا چھوٹا سا دستہ ہوتا۔ کسی بستی کی گلیوں میں سے گزرتے ہوئے یہ کارواں نہایت توجہ انگیز منظر پیش کرتا۔ قصبات اور گاؤں کے لوگوں کو، مرد اور عورتوں سبھی کو سب سے زیادہ چڑ اس بات سے ہوتی کہ کس دھڑلے سے کوچیوں کی عورتیں، گلیوں میں سے کس طرح بے پردہ گزرتی ہیں۔
اب کی بار جب ذوالفقار کا کارواں ایک قصبے سے گزرا تو کوچیوں کے ساتھ تین عناصر ایسے تھے جس سے لوگوں کا شک اور نفرت سوا ہو گئی۔ سب سے پہلے تو ایلن جاسپر تھی جو ظاہر ہے، کوچی نہیں تھی۔ پھر ڈاکٹر شواٹز تھا جس کے بارے سبھی عجیب و غریب باتیں کرتے، اسے اس طرح دیکھتے جیسے کوئی عجوبہ ہو؟ ایک جرمن ان چوروں کے ساتھ کیا کر رہا تھا؟ پھر میں تھا، ایک جوان امریکی جو ایک خوبصورت، سرخ رنگ کے کپڑوں میں ملبوس خانہ بدوش لڑکی کے ساتھ قدم ملائے، خوش گپیاں لڑائے جا رہا تھا۔
بعض اوقات یوں ہوتا کہ پہاڑی ملا روکنے کی دھن میں سیدھا ہماری طرف لپکتے۔ وہ کوچیوں کو تو کچھ نہ کہتے لیکن ایلن کے ساتھ وہی سلوک کرنے کی کوشش کرتے جو اس سے پہلے قندھار میں بھی پیش آ چکا تھا۔ چونکہ ایلن اب ان کے ساتھ نبٹنے کا طریقہ سیکھ چکی تھی، وہ انہیں خود سے دور رکھتی۔ وہ یہ بھی جان چکی تھی کہ دراصل یہ ملا عجیب مخمصے کا شکار ہیں، بدلتی ہوئی اس دنیا میں یہ نفسیاتی اور اخلاقی دباؤ کا شکار ہیں، اس لیے حتی الامکان کوشش رہتی کہ ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کی جائے اور جہاں تک ممکن ہو، احتراز برتا جائے۔ انہیں طیش دلانے سے کسی کا بھلا نہیں ہوتا تھا۔ یہ تو ایلن کا حال تھا ورنہ ذوالفقار ان ملاؤں کو اس کی طرف بڑھتا دیکھ لیتا تو فوراً ہی آپے سے باہر ہو جاتا، ان کے بیچ اپنے گھوڑا لا کھڑا کرتا اور بندوق کی نال سے انہیں باز رکھتا۔ اس پر لمبے چوغے پہنے ملا فوراً ہی دبک جاتے اور گلی کوچوں میں دیواروں سے لگے، پاس سے گزرتے قافلے کو لعن طعن کرتے رہتے۔
اگر دیہاتی شواٹز یا مجھے زچ کرنے کی کوشش کرتے تو انہیں اینٹ کا جواب پتھر سے ملا کرتا تھا۔ ہم مڑ کر پشتو میں کوچیوں کی ہی لہجے میں، دیہاتیوں کے سے سلوک میں جواب دیتے اور انہیں اپنے کام سے کام رکھنے کی صلاح دیتے۔ اس پر لوگ ایک دم ہکا بکا رہ جاتے، جیسے سانپ سونگھ گیا ہو۔ وہ سوائے گھورنے کے مزید کچھ نہ کر پاتے، اس پر ہم زور سے ہنس دیتے اور جواباً انہیں بھی ہنسنا ہی پڑتا۔ ان میں سے بعض لفنٹر جوان ہمارے ساتھ دوڑنا شروع کر دیتے اور پوچھتے کہ کیا ہم فرنگی ہیں؟ ہم اکثر انہیں اپنی اصلیت بتا دیتے جس پر وہ مزید حیران پریشان، فوراً ہی موقع سے غائب ہو جاتے۔ کبھی کبھار ان میں سے کوئی نوجوان جو پوری طرح سمجھنے کی کوشش کرتا تو ہمارے ساتھ میلوں چلتا، بسا اوقات تو خیموں تک آ جاتا اور ہم اکٹھے بیٹھ کر طویل گفتگو کرتے۔ وہ بیسیوں سوال پوچھتے اور ہم سینکڑوں جواب دیتے۔ ایسے نوجوان ہمارے دوست بن جاتے اور اگر میں کابل رپورٹ نہ بھی بھجواتا تو مجھے یقین تھا کہ میری اطلاع کابل تک پہنچ ہی جاتی ہو گی۔ ایک گاؤں سے دوسرے، اور تیسرے اور یوں کابل تک منہ در منہ بات پہنچ سکتی تھی۔ جیسے ایلن کے بارے بھی افواہ یوں ہی شاہ خان تک پہنچی تھی، اب ہماری بات بھی ٹکی نہیں ہو گی۔ شاہ خان اور مورگن دونوں ہی یہ سن کر بھونچکا ہوں گے کہ کوچیوں کے ساتھ فرنگی بھی ہیں۔
ہم کابل کی راہ میں آدھا سفر طے کر چکے تو ایک انتہائی پسماندہ قصبے میں پہنچے جہاں لوگوں کی حالت سخت ابتر تھی۔ یہیں مجھے ایلن جاسپر کا انسانی تکالیف بارے احساس کا واقعی ادراک ہوا۔ ہوا یوں کہ ابھی صبح پوری طرح نہیں نکلی تھی، ہم قصبے کی بڑی گلی سے گزر رہے تھے۔ صبح کاذب کے دھندلکوں میں آس پاس گھروں کی منڈیروں اور دروازوں میں خوفزدہ چہرے دبک کر ہمیں تاڑ رہے تھے، ایسے میں ایلن نے سرگوشی کی، 'ان مشکوک نگاہوں کو دیکھ کر مجھے عجیب سا احساس ہو رہا ہے۔ ان خواہ مخواہ خوفزدہ دیہاتیوں کا ہمارے خانہ بدوشوں کے ساتھ موازنہ کروں تو میرے دل کو عجب خوشی محسوس ہوتی ہے!'
'تمھاری بات درست ہے۔ مجھے بھی آبادیوں میں یوں دھڑلے سے گزرنا بہت پسند ہے۔۔۔'
'ذرا سوچو!' وہ خالص علمی انداز میں بولی، 'چند برسوں کی بات ہے، پھر افغانستان بھر میں ان جیلوں کا خاتمہ ہو جائے گا' اس کا اشارہ قلعہ بند گھروں کی طرف تھا، 'یہ ملک ایک دفعہ پھر اس خطے میں کاروانوں کی قدیم روایت سے بندھ جائے گا۔۔۔ یہ بھی بالآخر خانہ بدوشوں کی آزاد زندگی کی طرف لوٹ جائیں گے!'
مجھے یہ بات وہیں چھوڑ دینی چاہیے تھی لیکن ایلن کی سوچ میں بنیادی تضاد دیکھ کر مجھ سے رہا نہیں گیا۔ اس کا ماننا کہ آزاد زندگی کا تصور وقت کے دھارے میں الٹا بہنے سے ہی جڑا ہے، یہ مجھے ہضم نہیں ہوا۔ میرے ذہن میں نظراللہ کے ساتھ اس کی ڈیم کے منصوبے پر کی گئی بحث گونجنے لگی، بقول نظراللہ۔۔۔ ایلن نے کہا تھا کہ یہ کس قدر شرم کی بات ہے کہ اس دریا کی آزادی صلب کر دی جائے گی۔ وہ اس بات کو سمجھنے سے انکاری تھی کہ اگر اس دریا پر بند باندھ کر استعمال کیا جائے تو ہی کہیں جا کر افغانستان کو غربت اور افلاس سے آزادی کا ثمر ملے گا۔ اصل آزادی تو دراصل محتاجی سے چھٹکارا ہے۔ اسی لیے میں نے اسے فوراً ٹوک کر کہا، 'ایلن، مجھے تم سے اختلاف ہے اور ڈر یہ ہے کہ تم اس بات کو الٹا سمجھی ہو۔ افغانستان اگر کاروان اور خانہ بدوشوں کے دور میں لوٹ گیا تو کبھی آزادی نہیں پا سکے گا۔ اس کی آزادی اگر کہیں رکھی ہے تو وہ انہیں قصبات اور گاؤں کی زندگی میں ہے!'
'وہ کیسے؟' اس کا لہجے میں تحقیر تھی،
'سڑکیں، سکول۔۔۔ نظراللہ کی بجلی!'
'ملر۔۔۔ کچھ تو عقل کرو!' وہ بے اختیار چلا کر بولی، 'تم تاریخ کو سمجھنے سے قاصر ہو، آدمی کی فطرت نہیں جانتے؟ ہم انسان ان خانہ بدوشوں کی طرح آزاد پیدا ہوئے تھے لیکن جوں جوں آگے بڑھے، ہم نے خود کو اپنے ہاتھوں سے ان کمتر قصبات کے نام پر گندی مندی آبادیوں میں، تنگ گلیوں پر بنائی چھوٹی چھوٹی جیلوں میں بند کر دیا۔ اگر ہم واقعی آزادی چاہتے ہیں تو ان جیلوں کو توڑ دینا ہو گا، ان قصبات کو تباہ کر کے خانہ بدوشی کی روح کو بیدار کر، اپنی اصل کو بحال کرنا ہو گا'
'ایلن، معذرت کے ساتھ۔۔۔ تم جس چیز کی چاہ رکھتی ہو، وہ ناممکن ہے۔ تم ہی کہو، یہ کیونکر ممکن ہے؟ ہاں یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ ہم ان چھوٹے گاؤں اور قصبات کو ترقی دیں، زندگی میں بہتری، فلاح اور آزادی کو فروغ دیں۔ شخصی آزادی سے لے کر شہروں اور ملکوں کی خودمختاری کا تصور پیدا کریں۔ یاد رکھو، وقت ہمیشہ آگے بڑھتا ہے۔۔۔ اس کا دھارا کبھی الٹا نہیں بہہ سکتا۔ ہماری منزل مستقبل ہے، تم ماضی میں لوٹ جانا چاہتی ہو؟ اچھا تم ہی بتاؤ۔۔۔ یہ کیسے ممکن ہے؟'
'پنسلوانیا میں میرے ابا ہی دراصل میرا گاؤں ہے۔ افغانستان میں یہ اکھڑ لوگ گاؤں ہیں۔ تم مجھے بتاؤ، کیا بجلی اور سہولیات سے میرے ابا کی طبیعت کا علاج ہو سکتا ہے؟ یا تم کیا سمجھتے ہو، ترقی سے یہ بدخو لوگ سدھر جائیں گے؟'
'میرے خیال میں تعلیم اور بجلی ایسی چیزیں ہیں جو یہ معجزہ کر سکتی ہیں!'
یہ سن کر وہ گلی کے بیچ میں ہی رک گئی، منہ پر داہنا ہاتھ ٹکائے میری بات پر سوچنے لگی۔ کچھ دیر وچار کیا اور پھر بولی، 'ملر۔۔۔ کسی حد تک تمھاری بات بالکل درست ہے لیکن تم بھول رہے ہو کہ میرے ابا جیسوں کو۔۔۔'
اس کا جواب پورا نہیں ہوا کیونکہ سحر کے سائے میں ایک چھ یا سات سال کی بچی، جو واقعی نڈر واقع ہوئی تھی، دوڑتی ہوئی آئی اور اس نے ایلن کا ہاتھ پکڑ لیا۔ پشتو میں چلا کر بولی، 'یہ کنگن۔۔۔ ہائے اللہ، یہ کتنے پیارے ہیں!' اس کے لہجے میں اس قدر جوش، محبت اور چہرے پر ایسا تپاک تھا کہ ایلن نے بے اختیار اس کو بانہوں میں بھر لیا۔ اسے ہوا میں اٹھا کر اچھالا اور فرط سے چوم لیا۔ پھر اسے باہنی بغل سے لگایا اور کنگن اتار کر اسے دے دیا۔
میں وہ لمحہ کبھی بھول نہیں سکتا۔ افغانستان کے دور دراز، ایک گمنام گاؤں کی چھوٹی سی گلی میں ایلن جاسپر نے اس بچی کو یوں خود سے چمٹا رکھا تھا کہ یہ منظر لازوال ہو گیا۔ ایسا لگا جیسے کوئی ماں اپنے بچے کو بانہوں میں بھرے ہوئے ہے اور وہ بچی، اس کی سگی اولاد کی طرح مطمئن اس کے سینے سے چمٹی ہوئی ہے۔ مجھے کریمہ کی بات یاد آنے لگی، 'ایلن جانتی تھی کہ میں ماں بن سکتی ہوں لیکن شاید وہ کبھی ماں نہ بن پائے۔ ڈاکٹر شواٹز اس بات کی تصدیق کریں گے' میں سوچنے لگا کہ اگر یہ واقعی سچ ہے تو پھر اس کی طبیعت میں پائی جانے والی یہ بے اعتنائی اور مستقبل کے حوالے سے بے ثمری اور بنجرپن کی اصل وجہ یہی تو نہیں ہے؟
میں ابھی یہی سوچ رہا تھا کہ کسی عورت کی کان چیرتی ہوئی آواز سنائی دی، یہ اس بچی کی ماں تھی جو ہماری طرف چلاتی ہوئی لپکی، 'کوچیوں نے میری بچی اٹھا لی ہے!'
یہ سننا تھا کہ دیہاتیوں کو جیسے کسی نے کھلا چھوڑ دیا، وہ پہلے سے ایسی کسی حرکت سے نبٹنے کے لیے تیار کھڑے تھے۔ چاروں طرف سے کئی لوگ ٹوٹ پڑے اور مار پیٹ شروع ہو گئی۔ مجھے اصل حیرت اس وقت ہوئی جب میں نے دیکھا کہ پانچ یا چھ عورتیں برقعہ اوڑھے سویر کے اندھیرے میں جیسے چیلیں جھپٹ رہی ہوں۔ انہوں نے مل کر ایلن کو گھیر لیا اور اس کے ساتھ کھینچ تان شروع کر دی۔ اس کے بال پکڑ کر گھسیٹنے لگیں، اس کے کپڑوں کو پھاڑ دیا اور چہرے پر چماٹیں لگانا شروع کر دیں۔ ان میں سے ایک برقع پوش عورت، جو دیکھنے میں بالکل دبلی پتلی اور کمزور لگتی تھی۔۔۔ بجلی کی سی تیزی سے آگے بڑھی اور بچی کو پکڑ کر اٹھا لیا۔ اس نے جب دیکھا کہ لڑکی کے ہاتھ میں ایلن کا دیا کنگن ہے، اس نے چھین کر اسے ایلن کے منہ پر نفرت سے دے مارا۔
'ہمارے بچوں کو چھپانے کی پھر کوشش مت کرنا!' ایک مرد غرایا اور حملہ آور وہاں سے نکل لیے۔ میں زمین پر مٹی میں لوٹ رہا تھا، سمجھا کہ شاید معاملہ رفع دفع ہو گیا لیکن دیکھا کہ ابھی بس نہیں ہوئی۔ میری بغل میں ایک گلی سے ایک شخص جس کا قد اونچا اور لمبی داڑھی تھی، چیختا اور چلاتا ہوا سیدھا ایلن کی جانب بڑھ رہا تھا۔
'حرامزادی!' وہ چلایا، اس کا ارادہ ایلن کے منہ پر تھوکنے کا تھا۔
ذوالفقار جو کہ اس جگہ سے کافی دور تھا، شور و غل سن کر فوراً پلٹا اور اس نے اب ملا کو ایلن کی طرف بڑھتا دیکھ کر گھوڑے کو سرپٹ دوڑ لگوا دی۔ وہ سیدھا اس ملا کے راستے میں جا کھڑا ہوا، جو ذوالفقار کو دیکھ کر واپس بھاگا۔ اس کا پیچھا کیا گیا لیکن وہ کچھ دور جا کر اندھیرے میں غائب ہو گیا۔ میں نے دیکھا کہ اردگرد لوگ جمع ہو گئے تھے، دیہاتیوں کی خوشی کی انتہا نہ تھی۔ وہ ایک دوسرے کو کوچی اغواکاروں سے اپنی اولاد کو ایک دفعہ پھر صاف بچانے میں کامیابی پر شادمان تھے۔ ایلن اور میں ہکا بکا کھڑے کے کھڑے رہ گئے۔
ذوالفقار نے سیدھا ایلن کا رخ کیا اور گھوڑے سے کود کر اترا اور اس کو دلاسا دینے آگے بڑھا۔ ایلن نے اپنا سر ذوالفقار کے کندھے میں گاڑھ دیا اور پھس پھس کر کے رونے لگی، 'میں نے تو صرف اس بچی سے لاڈ کیا تھا، اس کو کنگن دیا تھا!'
'یہ سب شروع کیسے ہوا؟' کوچی سردار دلجوئی سے پوچھنے لگا،
'ملر اور میں باتیں کرتے جا رہے تھے۔ ہمارے بیچ بحث ہو رہی تھی۔۔۔'
'کس بارے میں؟' ذوالفقار نے بے صبری سے پوچھا،
'میرا دعویٰ تھا کہ افغانستان ایسی جگہ ہے جہاں لوگ زمانوں سے اچھے بھلے کاروانوں میں پائی جانے والی آزادی کو خوب سمجھتے چلے آ رہے تھے لیکن پھر وہ ان چھوٹے چھوٹے گاؤں میں، اپنے آپ کو ملاؤں کے رحم و کرم پر ان جیل نما گھروں میں بند کر کے بسر کرنے لگے۔۔۔'
'ماضی سے متعلق تمھارا دعویٰ بالکل درست ہے' ذوالفقار نے اس کی بات سے اتفاق کیا،
'لیکن ملر کا کہنا تھا کہ ہم پھر کبھی لوٹ کر خانہ بدوشی کے زمانے میں لوٹ کر نہیں جا سکتے۔ اب کاروانوں میں بسر کرنا ممکن نہیں رہا۔ آزادی کا اب ایک ہی راستہ ہے کہ ہم ترقی کی راہ پکڑ لیں۔۔۔ ان گاؤں اور بستیوں میں بجلی روشن کریں اور لوگوں کو تعلیم دلائیں!'
'مستقبل سے متعلق ملر کی بات سو فیصد درست ہے' اس سے پہلے کہ ایلن اس بات پر احتجاج کرتی، وہ گھوڑے پر چڑھا اور آگے کی طرف سرپٹ دوڑاتے ہوئے پیچھے مڑ کر چلاتے ہوئے بولا، 'ایک دن ایسا آئے گا کہ ہم بھی ایسے ہی گاؤں اور بستیوں میں بسر کیا کریں گے لیکن وہ ان سے کہیں بہتر جگہیں ہوا کریں گی!' اس نے صرف یہ کہا اور وہاں سے گھوڑا سرپٹ دوڑاتا، دھول اڑاتا کاروان کے اگلے سرے کی جانب نکل گیا۔
اگلی ہی صبح مجھے ذوالفقار کے مستقبل بارے شاعرانہ تصور کی تصدیق بھی مل گئی جو ایلن کے خیال سے کہیں زیادہ ممکن نظر آ رہا تھا۔ سویر میں جب کہ ابھی تڑکا تھا اور صرف کوہ بابا کی برف پوش چوٹیوں پر ہی روشنی کی کرنیں اتریں تھیں، ہم نے ایک گاؤں دیکھا جو ابھی تک سویا پڑا تھا۔ کتے بھی چپ تھے اور ایسے میں ہم چاپ قدموں سے وہاں وارد ہوئے۔ ابھی اس گاؤں کو ہماری خبر نہیں ہوئی تھی، اونٹ بڑی سڑک پر خراماں ڈولتے ہوئے جا رہے تھے اور دیہاتیوں کے جاگنے کا وقت ہوا چاہتا تھا۔ اس گاؤں کے ایک سرے پر، کوئی گھر تھا۔ اس گھر کی ایک کھڑکی کھلی تھی، اندر موم بتی کی شمع روشن تھی۔ پہاڑوں کے سائے میں واقع گمنام گاؤں کے اس گھر میں روشن شمع کو دیکھ کر مجھے ایسا لگا جیسے دنیا جہان کی بے تکلفی اور اپنائیت اس ایک نقطے میں سمٹ گئی ہے۔ یہ خلا کا صرف ایک معمولی ہی سہی لیکن ایسا کونہ تھا جس کے گرد آبادی تھی، خانہ بدوشوں کا کارواں تھا اور ڈکارتے اونٹ تھے۔ یہ کسی ایک آدمی کا گھر تھا۔ اس گھر میں کوچیوں کے خیموں جیسی آزادی میسر تھی، پہاڑوں کی ہیبت، بھیڑیوں کی دہشت اور نہ ہی کسی قسم کا کوئی دوسرا خوف تھا بلکہ اس نقطے اور اس کے گرد چار دیواری میں تو بس امن و امان، سکھ، چین اور باسیوں کے لیے تسلی ہی تسلی تھی۔ مجھے اس گھر کو دیکھ کر یقین ہو گیا کہ دراصل گاؤں کے لوگ کسی ایسی شے سے واقف ہیں جو خانہ بدوشوں کو چھو کر بھی نہیں گزری۔ وہ روحانی طور پر آزاد ہیں اور اگر انہیں اس سکھ اور چین، تحفظ کی بھلے سخت سے سخت اور بدتر قیمت ادا کرنی پڑی تو وہ گریز نہیں کریں گے۔ میں ایلن کو بتانا چاہتا تھا کہ بستیوں میں آباد یہ لوگ تو ان پنجرہ نما گھروں جنھیں وہ جیلیں قرار دیتی ہے، اپنی مرضی سے بسر رکھتے ہیں۔ جب مرضی شامل ہو جائے تو پھر ایک پنجرہ، پنجرہ کیسا؟ اور جیل؟ جیل نہیں رہتی۔
میں جس وقت اس خیال میں غرق تھا، تبھی میری حیرت کی انتہا نہ رہی۔ میری نظر ذوالفقار پر پڑ گئی۔ وہ کچھ دور فاصلے پر گھوڑے پر سوار مجھے اور اس گھر کو ٹکٹکی لگا کر تاک رہا تھا۔ میرے خیال میں اس وقت وہ بھی ہمارے بیچ گزشتہ کل ہوئی گفتگو بارے ہی سوچ رہا تھا اور اس کا بھی اپنی رائے کے درست ہونے بارے یہی خیال تھا۔ تبھی ایک کتے نے بھونکنا شروع کر دیا، دیہاتی نکل آئے اور اسی پرانی رقابت کا مظاہرہ شروع ہو گیا جو دیہاتیوں اور خانہ بدوشوں کے بیچ ہمیشہ سے چلی آ رہی ہے۔ وہ منظر اور یہ خیال، دونوں ہی ٹوٹ گئے۔
سفر کے شروعات میں مجھے بالکل سمجھ نہیں آئی کہ آخر دیہاتیوں کو خانہ بدوشوں سے کیا خطرہ ہے؟ وہ کوچیوں کو دیکھتے ہی ہر چیز کیوں سمیٹنے لگتے ہیں؟ جوں جوں کارواں نزدیک پہنچتا، یہ اس قدر بدحواس کیوں ہو جاتے ہیں لیکن جب ساتویں دن میں نے مترا کو بجلی کی سی تیزی دکھاتے ہوئے دیکھا تو سارے قصے کی سمجھ آ گئی۔ جب بھی ہم کسی قصبے سے گزر لیتے تو میں دیکھتا کہ اس کے پاس ہر دفعہ کوئی نئی چیز ہوتی، جیسے کپڑا، کوئی اوزار یا برتن وغیرہ۔ ایلن نے ایک دفعہ کہا تھا، 'اس نے آج تک سوائے کھاٹ کے کوئی چیز چرائے بغیر نہیں چھوڑی۔ اگر کسی دن کوئی دیہاتی بھولے سے اپنا گھر کھلا چھوڑ گیا تو یہ اس کی چارپائی بھی نکال لائے گی!'
ایک دفعہ میں نے مترا کو خیمے میں کچھ چھپا کر رکھتے ہوئے پکڑ لیا اور پوچھا، 'تم دیہاتیوں کی چیزیں کیوں چراتی ہو؟'
'جب ہم ان کے بیچ سے گزرتے ہیں۔۔۔' اس نے جواب دیا، 'وہ مجھے نفرت سے دیکھتے ہیں تو میں بھی ان کو اسی طرح دیکھتی ہوں لیکن تم نے غور کیا ہے کہ ان دیہاتیوں کے مرد ہمیں کس طرح، بھوکی نظروں سے دیکھتے رہتے ہیں؟ ان کا خیال ہے کہ شاید وہ کسی دن ہمارے ساتھ خیمے میں رات بساریں گے۔ میں ان کتوں پر تھوکتی بھی نہیں ہوں۔۔۔' یہ کہہ کر اس نے فرش پر تھوک بھی دیا۔
ہمارے قبیلے کے پاس دس بڑے سیاہ خیمے تھے لیکن اس کے باوجود کوچیوں کی اکثریت کھلے آسمان تلے کمبلوں میں سونا پسند کرتی تھی۔ ذوالفقار، اس کی بیوی رچا اور ایلن نے ایک قدرے چھوٹا خیمہ پکڑ رکھا تھا جس میں ان کی بسر تھی۔ یہ خیمہ چھوٹا ضرور تھا لیکن دوسرے خیموں سے ممتاز نظر آتا کیونکہ اس کے داخلے دروازے پر دو بڑے بانس لگا کر ترپال سے اس کو توسیع دے رکھی تھی جس میں اکثر محفل سجی رہتی۔ شام کے وقت ذوالفقار یہیں پر بیٹھک لگاتا، رچا اور ایلن کے بیچ بیٹھ کر کارواں کے معاملات زیر بحث لاتا۔ میں بھی اکثر اس محفل میں بیٹھ رہتا اور گفتگو رہتی اور یہیں ہمارے بیچ مراسم کافی گہرے ہو گئے۔
وہ مجھ سے بیسیوں سوال پوچھتا لیکن ہمیشہ یہ ہوا کہ مجھے ان محافل میں، اس سے کہیں زیادہ معلومات میرے ہی حصے میں آ جاتیں۔ کوچی مسلمان تھے لیکن وہ ملاؤں کے سخت دین اور خواہ مخواہ کی مذہب میں آمریت اور خودساختہ مرتبے کو رد کرتے تھے۔ وہ باقی سنیوں کی طرح مکہ کو دل و جان سے اپنا مرکز سمجھتے تھے۔ اسلام پر کافی بحث رہتی اور یہیں مجھے اس دین کا قدرت پر آسرا اور واحد خدا کی یکتائی اور طاقت کے تصور کا ادراک ہوا، جو قدرتی عوامل پر ہر طرح کی طاقت رکھتا ہے۔ اب مجھے سمجھ آنے لگی تھی کہ آخر ایلن اور شواٹز نے اس دین کو قبول کرنا کیوں پسند کیا؟ ایک دن، شام کے وقت اسی سایہ بان میں بیٹھے ایلن نے کہا، 'میں اپنے والدین کو عیسائیت سے اپنے انحراف کو کبھی نہیں سمجھا سکتی اور یہی اصل وجہ ہے کہ میں انھیں خط بھی نہیں لکھ سکتی۔ دیکھو، میری تربیت یوں ہوئی ہے کہ ہمیں پڑھایا گیا تھا کہ خدا کی ذات ایک ان دیکھے ایک ایسے پھڑ پھڑ کرتے ہیلی کاپٹر کی طرح ہے جو ڈورسٹ میں چرچ کی چھت پر پھڑپھڑاتا رہتا ہے اور اس کا شور، بھلے جس قدر بھی عادی ہو جائیں۔۔۔ ہمیشہ سنائی دیا جانا رہنا چاہیے۔ وہ پورے شہر پر موسم برساتا ہے لیکن اس کی اصل ذمہ داری ہم انسانوں کے اعمال پر نظر رکھنا ہے، چرچ میں حاضری کا ریکارڈ رکھنا اور ہر دم اجتماع لگائے رکھنا ہے۔ ہمیں بتایا جاتا تھا کہ اس دنیا میں سچا دین صرف ہمارا ہے جبکہ باقی سب مغالطہ اور توہمات ہیں۔ میرے خیال میں اگر میرے والدین نے اس سارے عرصے میں ایک دفعہ بھی یہ باور کرا دیا ہوتا کہ خدا صرف عیسائیوں کا نہیں ہے بلکہ اسے یہودیوں کا بھی غم ہے تو میں آج ڈورسٹ میں ہی ہوتی۔ میرے لیے ایسے، ہر انسان کے خدا پر یقین قائم رکھنا ممکن بھی ہوتا۔ میری عقل یہ بات تسلیم بھی کر لیتی!'
ایلن کی طویل تقریر ختم ہوئی تو ذوالفقار نے مجھے مخاطب کر کے پوچھا، 'ملر۔۔۔ کیا سبھی امریکی عورتیں اسی طرح چپڑ چپڑ باتیں کرتی ہیں؟' میں نے ہاں میں جواب دیا تو اس نے ویسے ہی کندھے اچکے جیسے مفتون کسی اونٹ کے رویے کو سمجھنے سے قاصر ہونے پر بے بس ہو جاتا تھا۔
جس طور ایلن نے یہودیوں کا استعارہ استعمال کیا تھا، اس نے مجھے چونکا دیا۔ وہ جس طرح یہودیوں بارے بناوٹی انداز میں تشویش ظاہر کر رہی تھی، مجھے شک گزرا کہ شاید شواٹز نے اسے پہلے ہی میرے متعلق بتا دیا تھا۔ میں نے انگریزی میں پوچھا، 'کیا شواٹز نے تمھیں بتایا کہ میں بھی ایک یہودی ہوں؟'
'واقعی؟' اس کے لہجے میں بے یقینی لیکن جوش تھا۔ وہ چلائی، 'ذوالفقار۔۔۔ ملر یہودی ہے!'
کوچی سردار نے اپنی رائفل اور کارتوس کی پیٹی جو قالین پر اس کی بغل میں پڑی تھیں، اٹھا کر ایک طرف رکھی اور آگے کو جھک کر میرے چہرے کا جائزہ لیتے ہوئے پوچھا، 'تم یہودی ہو؟' میں نے اثبات میں سر ہلایا تو وہ قہقہہ لگا کر زور زور سے ہنس پڑا۔
ایلن نے پشتو میں کہا، 'ملر۔۔۔ تم ذرا اس کی بات سنو۔ اس کا یہودیوں بارے عجیب ہی نظریہ ہے!'
اس پر ذوالفقار نے پھر قہقہہ لگایا اور چلا کر دوسرے خانہ بدوشوں کو ہمارے گرد جمع کر دیا۔ وہ سب ہی متجسس تھے۔ ذوالفقار نے مجھے کھڑا ہونے کا اشارہ کیا اور پھر میرے پہلو میں آن کھڑا ہوا۔ وہ اپنی لمبی سامی ناک کا میری چھوٹی اسکینڈی نیویائی ناک کے ساتھ مقابلہ کرنے لگا اور فوراً ہی چلایا، 'دھت تیری کی۔۔۔ یہودی؟ میں اصل یہودی ہوں!' اس کے بعد تو جیسے میلہ لگ گیا۔ سبھی کوچی ایک کے بعد دوسرا، جوق در جوق میرے چہرے کے خدوخال اور قد کاٹھ کا اپنے ساتھ موازنہ کرنے لگے۔ اس کے بعد ایک لمبی بحث شروع ہو گئی جس کے آخر میں ذوالفقار نے کہا، 'ملر۔۔۔ یہ بتاؤ کہ کیا یہودی واقعی اتنے حریص ہوتے ہیں جتنا ہم نے سن رکھا ہے؟'
اس پر میں نے ایک لمحے کو کچھ سوچا، مسکرایا اور پھر ایلن کی طرف دیکھ کر جواب دیا، 'میں اس بات کو تمھیں یوں سمجھاتا ہوں۔۔۔ ذوالفقار، یہودیوں کی مثال یوں ہے کہ اگر تم نے کہیں اپنی جیپ کھڑی کر رکھی ہو تو وہ حریص اس پر نظریں گاڑھے رکھتے ہیں۔ اگر تمھارا دھیان ذرا سا بھی اس سے ہٹ گیا تو سمجھو۔۔۔ جیپ کا ایک ایک پرزہ چوری ہو جائے گا!'
میرے اس جرات مند جواب کو ہضم کرنے میں کوچیوں کو کچھ وقت لگ گیا، پوری محفل کو جیسے ایک دم سانپ سونگھ گیا۔ اس سے پہلے کہ ذوالفقار کچھ کہہ پاتا، کئی کم تر کوچی اٹھ کھڑے ہوئے۔ وہ غصے سے لال پیلے ہو رہے تھے اور مجھے کینہ توز نظروں سے تاڑ رہے تھے جیسے کاٹ پھینکیں گے۔ لیکن ذوالفقار کی موجودگی میں، اس کے اشارے بغیر وہ کچھ بھی کر گزرنے سے قاصر تھے، انہیں میرا مزاق ایک آنکھ نہیں بھایا تھا لیکن وہ مجبور تھے۔ ذوالفقار کچھ دیر سوچتا رہا اور پھر ایک دم قہقہہ لگا، پھٹ کر ہنس پڑا اور ہوا میں دونوں ہاتھوں سے سٹئیرنگ گھماتے ہوئے مجھ سے کہنے لگا، 'ملر۔۔۔' وہ بدستور ہنس رہا تھا، 'جیسے ہی تم نے جیپ کی طرف قدم رکھنے شروع کیے، ہم سب ہی ڈر گئے تھے۔ میری تو جیسے پیروں تلے سے زمین نکل گئی تھی۔۔۔ اصل میں ہم نے تمھاری جیپ کا ایک ایک پرزہ اونٹوں پر لاد دیا تھا!' پھر اس کی ہنسی ایک دم رک گئی، اس نے ایلن کی طرف مشتبہ نظروں سے دیکھا اور مجھ سے پوچھا، 'صبر۔۔۔ تمھیں جیپ کے بارے کیسے پتہ چلا؟'
'موسیٰ دار کے بازار میں۔۔۔ انہوں نے میری ہی جیپ کے پرزے، مجھ پر ہی دوبارہ بیچنے کی کوشش کی تھی!' اس پر ذوالفقار کی تسلی ہو گئی۔ کوچیوں کے دوغلے پن بارے میری جانکاری کا پتہ چلنے کے بعد تو جیسے ملر یہودی اور آریائی خانہ بدوش بھائی بھائی بن گئے۔
کوچی زندگی کا ایک پہلو ایسا تھا جو اگرچہ ان کے روزمرہ معاملات کے لیے ناگزیر تھا لیکن بہرحال مجھے عجیب ہی لگتا تھا، میں کبھی اس معاملے سے نبھاہ نہیں کر پایا۔ کارواں رواں دواں رہا، وقت دن، رات اور ہفتوں میں ڈھل گیا لیکن کم از کم چار کوچی عورتیں ایسی تھیں جن کے معمولات میں کبھی کوئی فرق نہیں آیا۔ ان کے ذمے کام یہ تھا کہ وہ کارواں میں آگے اور پیچھے آتی اور جاتی رہتیں، ان کی پشت پر بوریاں ٹنگی ہوتیں جن میں وہ اونٹ اور گدھوں کا گوبر اور بھیڑوں کی تازہ مینگنیاں ننگے ہاتھوں سے سمیٹ کر بوریوں میں جمع کرتی جاتیں۔ جب کافی فضلہ جمع ہو جاتا تو وہ اس کو گوندھ کر اوپلے بنا دیتیں اور احتیاط کے ساتھ گدھوں پر لدے ہوئے بوروں میں بھرتی جاتیں۔ کارواں کی راہ گزار ایسی جگہ تھی جہاں درخت بس گنے چنے ہی تھے اور بنجر زمین تھی۔ ایسے میں اول تو ایندھن کا حصول انتہائی مشکل تھا اور دوسرا یہ کہ سوکھے ہوئے گوبر اور مینگنیوں کے اوپلے وزن میں بہت ہلکے ہوتے تھے۔ یہ بہترین ایندھن تھا اور اس کو ہلکی آگ میں سلگایا جاتا اور اسی پر کھانا پکایا جاتا تھا۔ آپ کو شاید یہ سن کر ابکائی آئے لیکن یقین کیجیے، سوکھے گوبر کے اوپلوں پر پکا ہوا نان اور پلاؤ۔۔۔ ذائقے میں یکتا ہوا کرتا تھا۔
کوچیوں کے بچوں کو بھی اچھا کھیل مل گیا تھا۔ وہ جب بھی کہیں کسی دوسرے کارواں کی عورتوں کی نظروں سے بچ رہے سوکھے گوبر کے اوپلے دیکھتے تو فوراً لپکتے۔ ان کے لیے یہ اچھا شغل تھا، مقابلہ چلتا رہتا تھا کہ آیا کون ہے جو پھر کوئی سوکھا گوبر تلاشے گا؟ ایک دن میں اور مترا آنٹی بیکی کا پیچھا کر رہے تھے، ایسے میں اس نے فضلہ کیا، تھپ تھپ زمین پر گوبر گرا تو یہ دیکھ کر کئی بچے لپکے۔ میں نے دانت کسکسائے اور ناک سکوڑ کر منہ موڑ لیا۔ دور کئی عورتیں گدھوں کے گرد جمع ہو کر کھڑی خوش گپیاں لگا رہی تھیں۔ مجھے لگا جیسے وہ ہم دونوں کے بارے ہی کچھ کھسر پھسر کر رہی ہیں۔ شرم سے چہرہ لال ہو گیا، میں مترا کی طرف مڑا۔۔۔ اس نے اپنے تئیں تسلی کیے کہ آس پاس کوئی نہیں ہے، بانہیں میری گردن کے گرد حمائل کر دیں اور فرط سے میرے ہونٹوں پر بوسہ دے ڈالا۔ 'تم اصیل کوچی ہو!' اس نے خمار لہجے میں چھیڑتے ہوئے کہا اور وہاں سے بھاگ نکلی۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ میں اس کے باپ کے خیمے کے باہر لگے سایہ بان میں بجائے لمبی گفتگو، اسے دیکھنے جانے لگا اور ہم دونوں اب پہلے سے بھی زیادہ کارواں کی راہ میں اکٹھے دیکھے جانے لگے، دور دور تک بیابان پہاڑوں میں آوارہ پھرتے رہتے۔
اس بوسے کے دو دن بعد ہم ایک وادی کی تنگ گھاٹی میں چڑھائی چڑھ رہے تھے، ایسے میں یہاں پھول ہی پھول کھلے ہوئے تھے اور بہار جوبن پر تھی۔ میں نے سوچا کہ کوچیوں کو تو صرف دو ہی موسموں کی سمجھ ہے، وہ بہار اور خزاں کے سوا کسی تیسرے موسم کی زباں اور نہ ہی بیاں سمجھتے ہیں۔ میں نے مترا سے پوچھا، 'تم سردی سے کبھی آشنا نہیں دکھائی دیں، نہیں؟ سردی آئے تو میدانوں کی طرف نکل جاتی ہو اور سخت گرمی میں پہاڑ۔۔۔'
لیکن اس نے پہاڑوں کی طرف اشارہ کر کے فلسفیانہ انداز اپنا کر مجھے حیران کر دیا، 'ارے کہاں؟ وہ دیکھو۔۔۔ سرد موسم تو ہمیشہ ہی ہمیں جھپٹنے کے لیے تیار رہتا ہے۔ اس سے چھٹکارا کہاں ہے؟ وہ ہمیشہ ساتھ رہتا ہے' میں نے مڑ کر دیکھا تو کوہ بابا کے سفید برف پوش پہاڑوں کا سلسلہ پھیلا ہوا نظر آیا۔ مجھے پہلی بار کوہ بابا کو دیکھ کر اس حقیقت کا واقعی ادراک ہوا کہ کابل نزدیک ہے، یعنی کارواں چھوڑنے کا وقت قریب آ چکا ہے۔
غالباً مترا مجھ پر طاری ہونے والی افسردگی بھانپ گئی تھی، اس نے بے وجہ ہی میرے گالوں پر جلتا ہوا بوسہ ثبت کیا لیکن یہ لمحہ ایلن کی کان چیرتی ہوئی زور دار آواز سے ٹوٹ گیا۔ اس نے کہا، 'مترا! تم جاؤ یہاں سے۔۔۔'
ہم دونوں ہی سٹپٹا گئے، مترا خاموشی سے وادی میں نکل گئی جبکہ ایلن نے مجھے قدرے رکھائی سے کہا، 'ملر۔۔۔ تم اس لڑکی کے ساتھ کچھ بھی کرو لیکن محتاط رہیو۔ ہندوستان میں ایک دن اونٹ نے اس پر حملہ کر دیا تھا، اس کو اتنا غصہ چڑھا کہ اس نے وہیں اس کو موقع پر مار دیا۔ مترا کسی چیز کو ہلکا نہیں لیتی، کسی چیز سے اس کی انا کو ٹھیس پہنچے تو اسے بخشنا نہیں آتا۔ کیا تم بھول گئے کہ وہ سردار کی بیٹی ہے؟' پھر اس نے اضافہ کیا، 'تم شاید دیکھ نہیں سکتے لیکن میری جاننے والی کسی بھی لڑکی سے زیادہ ہوشیار اور تیز طرار ہے!'
'تم اسے پڑھنا لکھنا کیوں نہیں سکھاتیں؟' میں نے طنز کیا،
''اسے کچھ بھی سکھانے سے پہلے سو دفعہ سوچ لینا۔۔۔' اس نے ترکی بہ ترکی جواب دیا۔
اس مداخلت کے بعد پہلی بار میں نے پیچھا کیا تو پتہ چلا کہ دراصل صرف میں ہی نہیں بلکہ ایلن بھی ایسے معاملات میں گھری ہوئی ہے جس کے انتہائی خطرناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ میرے خیال میں جب وہ مجھے مترا سے متعلق متنبہ کر رہی تھی، دراصل اسے اپنی فکر لگی ہوئی تھی۔ مثال کے طور پر دن بھر سفر کے دوران وہ کارواں سے الگ شواٹز کے ساتھ رہتی۔ شام ڈھلے جب کارواں پڑاؤ ڈالتا تو وہ اکثر اسی کے ساتھ نظر آتی۔ اس کی ایک وجہ تو یہ سمجھ میں آتی تھی کہ اس نے چونکہ کالج میں فرانسیسی زبان پڑھ رکھی تھی، اس لیے وہ شواٹز کے ساتھ تین مختلف زبانوں میں گفتگو کر سکتی تھی اور وہ دونوں ہی لمبے مکالموں اور فلسفے پر بحث کے شوقین تھے۔
میں اس بات پر بھی غور کرتا رہا کہ ذوالفقار کے ان دونوں کی اس طور قربت پر کیا تاثرات ہوں گے؟ میں نے کئی کتابوں میں پڑھ رکھا تھا کہ صحرائی ہوں یا کوہستانی، یہ مرد خاصے جذباتی واقع ہوتے ہیں، اس قدر کہ جیسے ان پر سایہ ہو اور وہ اپنی عورتوں سے متعلق سخت حلت کا شکار رہتے ہیں۔ افغان زندگی اس کی گواہ تھی۔ عورتوں کو بلند دیواروں اور برقعے کے پیچھے چھپا کر رکھنے کے رویوں کو دیکھا جائے تو کتابوں میں لکھی یہ باتیں سچ معلوم ہوتی تھیں۔ یہی سوچ کر مجھے بھی ڈر پیدا ہوا کہ مترا کے ساتھ لگن اور چاہ کا یہ جذبہ خانہ بدوشوں کے سوئے ہوئے طیش کو جگا سکتا تھا۔ لیکن جب میں نے یہی سوچ کر ایلن کے ساتھ ذوالفقار کو بھی نظر میں رکھنا شروع کیا تو تذبذب کا شکار ہو گیا۔ اس کے رویے میں کسی بھی قسم کا کینہ نظر نہیں آیا اور نہ ہی وہ کتابوں کے افسانوی صحرائی مردوں کی طرح کسی عدم تحفظ کا شکار دکھائی دیا۔ بلکہ میں نے دیکھا کہ اکثر جب ایلن اور شواٹز بیابان راستوں پر اکھٹے پیدل چلتے تو ذوالفقار اپنے بھورے گھوڑے پر سوار، ان کے قریب جا پہنچتا۔ ادھر ادھر کی باتیں کرتا یا پھر انہیں یکسر نظر انداز کیے، گزر جاتا۔ اس کے چہرے پر بدستور مسکراہٹ سجی رہتی اور مجھے یہ احساس ہوا کہ دراصل وہ شواٹز سے حسد نہیں رکھتا بلکہ اس نے تو شکر ادا کیا کہ کارواں میں اس کے علاوہ کوئی مرد ایسا ہے جو اس کی دوسری عورت کے ساتھ بحث کرنے کے قابل ہے۔
میرا معاملہ جدا تھا۔ مترا ذوالفقار کی بیٹی تھی۔ مجھے یقین ہے کہ اس نے ہم دونوں کو اکا یا دکا بار بوس و کنار کرتے دیکھ رکھا تھا اور ویسے بھی اس دن کے بعد ہم دونوں کے اطوار بدلے ہوئے تھے۔ وہ یقیناً سمجھ گیا ہو گا لیکن اس کے باوجود مترا یا مجھ سے اس کا رویہ ویسے کا ویسا ہی رہا جیسا پہلے تھا۔ میرے ساتھ بھی وہ بدستور دوستانہ انداز میں گفتگو کرتا اور معمولات عام ہی رہے۔
کابل پہنچنے سے ایک رات قبل کوچیوں نے میرے لیے دعوت کا اہتمام کیا۔ مفتون نے کارواں میں چند کوچیوں کو راضی کر کے خانہ بدوشوں کا روایتی رقص اور پرشور موسیقی کا اہتمام بھی کر دیا۔ یہ وسط ایشیاء کے لوک گیت تھے جن میں اکثر گاڑھی اور قدیم پشتو اور فارسی کا مرکب تھے۔ خانہ بدوشوں کا قدیم رقص اتن بھی جاری رہا لیکن میں اس محفل کے دوران مترا سے دور رہنے کی کوشش کرتا رہا اور یہ انتہائی مشکل ثابت ہو رہا تھا۔ میں کن اکھیوں سے ایلن اور شواٹز کو بھی گاہے بگاہے دیکھتا رہا اور سوچنے لگا کہ وہ دونوں کس قدر خوش قسمت ہیں۔ وہ دونوں کارواں کے ساتھ اکٹھے بلخ تک جائیں گے۔
اس رات جب میں سونے کے لیے بستر میں لیٹا تو شواٹز سے پوچھا، 'کیا تم نے ایلن کو اپنے متعلق وہ باتیں بتائیں جو تم نے مجھے کاروان سرائے میں بتائی تھیں؟'
'میں نے اسے بتایا ہے کہ میرے لیے افغانستان کو چھوڑنا ناممکن ہے!'
'کیا تم نے یہ بتایا کہ ایسا کیوں ہے؟'
'جلد یا بدیر سب کو سب کچھ معلوم ہو ہی جاتا ہے' اس نے جواب دیا، 'کب اور کیسے؟ یہ اہم نہیں ہے۔۔۔'
'یہ درست نہیں ہے۔ جب مجھے کاروان سرائے میں تمھاری اصلیت کا پتہ چلا تو اس وقت مجھے اتنا طیش آ گیا تھا کہ۔۔۔ شواٹز میں تمھیں واقعی قتل کر دیتا!'
'تو؟ قتل کر دیتے تو اس کا کیا نتیجہ نکلتا؟ اس کی بھی کوئی اہمیت نہیں ہے۔۔۔' اس کے لہجے میں زبردستی کی بے پروائی تھی،
'اب جبکہ تم جان ہی گئے ہو، تمھارا میرے بارے۔۔۔ مطلب یہودی ہونے کے ناطے کیا خیال ہے؟' میں نے کریدا،
اس بابت وہ کچھ دیر سوچتا رہا۔ ہم کھلے آسمان تلے لیٹے ہوئے تھے اور ہماری پشت پر اونٹ بندھے ہوئے تھے، گھنٹیوں کی آواز چھنک رہی تھی اور جتنی دیر اس نے سوچنے میں لگائی، مجھے لگا شاید وہ سو گیا ہے۔ لیکن پھر وہ بات کو گول مول کرتے ہوئے بولا، 'میں نے اپنا گھر بار چھوڑ دیا۔۔۔ میرا خاندان۔۔۔'
'تم نے اپنی بیوی کو حرامزادی قرار دیا تھا!' میں نے اسے یاد دلایا،
'میں اپنے بچوں کو بات کر رہا ہوں' اس نے تصحیح کی، 'ان کی بات دوسری ہے۔ میں نے ہر چیز پیچھے چھوڑ دی۔۔۔ اپنا گھر، بار، پیشہ، وہ شہر جس سے میں محبت رکھتا ہوں اور ملر۔۔۔ ایک لحاظ سے میں مر چکا ہوں۔ جو مر جائے، اس کی کوئی رائے نہیں ہوتی۔۔۔ اس کا کوئی خیال نہیں ہوتا!'
اس پر میں نے کچھ نہیں کہا لیکن اس نے کچھ توقف کے بعد بات جاری رکھی، 'یہودیوں کے ساتھ میں نے زیادتی کی تھی۔ تم بھی ایک یہودی ہو لیکن جناب ملر۔۔۔ تم یقین کرو یا نہ کرو لیکن یہ دو انتہائی مختلف باتیں ہیں۔ بحیثیت یہودی، میرے دل میں تمھارے لیے کچھ بھی نہیں ہے لیکن ایک انسان ہونے کے ناطے، میں تمھارا دوست بننا چاہوں گا!'
'میں کوئی جناب نہیں ہوں!' میں نے ٹوک کر کہا،
'میں نے بے سوچے سمجھے ایسا کہہ دیا۔۔۔'، یہ کہہ کر وہ اٹھا اور میرا بازو پکڑ لیا، 'مجھے معاف کر دو!' اس نے لجاجت سے کہا اور مجھے اپنے اندر تلخی بھری ایک بند موری کھل کر بہتے ہوئے سانس کی ہوا میں خالی ہوتی ہوئی محسوس ہوئی۔
کچھ دیر سکوت طاری رہا اور پھر اس نے پوچھا، 'کیا تمھیں یاد ہے کہ کاروان سرائے میں ہماری بحث کہاں سے شروع ہوئی تھی؟ تم مجھے چہار ہی میں پچرڈ کا آپریشن کر کے ٹانگ نہ کاٹنے پر لتاڑ رہے تھے۔ میں تمھیں یہ بتانے کی کوشش کر رہا تھا کہ زندگی میں بعض عوامل ایسے ہوتے ہیں جو طبی سمجھ بوجھ اور ہمارے محدود علم سے بڑھ کر ہوتے ہیں۔ میں پچرڈ کا موت کے سامنے ثابت قدم رہنے کو صیم لیون کے زندہ رہنے کے عزم سے تشبیہ دے رہا تھا۔ بات یہ ہے کہ مجھے صیم لیون کے ساتھ اپنے سلوک پر سخت شرمندگی اور دکھ ہے کیونکہ میں نے اس کی مرضی کے بغیر اس کی زندگی کے ساتھ کھیلا لیکن پچرڈ کے معاملے میں مجھے کوئی پچھتاوا نہیں ہے کیونکہ میں نے اس کی مرضی اور منشاء کی اعانت کی۔ ایک یا دوسری صورت۔۔۔ اس نے مر جانا تھا، میں نے اس کی چاہ میں اس کا ساتھ دیا!'
'تمھاری باتیں اب میری سمجھ میں آ رہی ہیں۔۔۔' میں نے اعتراف کیا۔
'ملر۔۔۔ میرے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے' اس نے اضافہ کیا، 'میں بہت پہلے ہی مر چکا ہوں۔ اگر روسی یا انگریز، کوئی بھی مجھے پھانسی پر چڑھا دے تو کوئی فرق نہیں پڑتا، وہ ایک مردہ شخص کو ماریں گے۔ لیکن اگر مجھے زندہ رہنے دیا گیا تو میں نے خود سے وعدہ کر رکھا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو۔۔۔ میں دوبارہ جنم لے کر دکھاؤں گا۔ جب تم نے مجھے قندھار میں دیکھا تھا، میں ایک زندہ لاش تھا اور مجھے اپنی بئیر کی بوتل اور پائپ کے تمباکو کے سوا کسی چیز کی فکر نہیں تھی۔ جیسے ڈھور ڈنگر ہوتا ہے لیکن اب، میں واقعی انسان بن کر جینے کا ارادہ رکھتا ہوں!'
میں نے پوچھا، 'کیا ایلن بھی اس انتہا کو پہنچ چکی ہے؟ کیا اسے بھی منزل دکھائی دے رہی ہے؟'
'ہاں' اس نے اقرار کیا، 'لیکن ملر۔۔۔ یہ مت بھولو کہ کابل پہنچ کر جب تم چلے جاؤ گے تو تم بھی پہلی بار ایک جیتے جاگتے شخص ہو گے!' مجھے اس کی بات کی سمجھ نہیں آئی، جس پر اس نے کچھ دیر مجھے سوچنے کا موقع دیا اور پھر پوچھا، 'کیا تم نے کبھی کسی عورت کا ساتھ پایا ہے؟ میری مراد ہم بستری۔۔۔'
'ہاں۔۔۔ ہاں کیوں نہیں!' میں نے اس کی بات کاٹ کر جھوٹ بولا۔ اگر بوس و کنار کو شامل حال کر لیا جائے تو یہ جھوٹ بھی نہیں تھا،
'ضرور کی ہو گی!' شاید وہ میری پھرتی سے احوال بھانپ گیا تھا، 'لیکن اس خانہ بدوش لڑکی کو چھوڑ کر جانا تمھارے لیے بالکل مختلف تجربہ ہو گا۔۔۔ تم سوچ بھی نہیں سکتے کہ تمھارے ساتھ کیا ہونے جا رہا ہے۔ مجھے تو سمجھ نہیں آتی کہ جب مترا تمھاری زندگی سے نکل جائے گی تو پھر تم کیا کرو گے۔ ملر۔۔۔ واقعی، تم کیا کرو گے؟'
'کیا کروں گا؟ میں واپس سفارتخانے چلے جاؤں گا' میں نے انتہائی اعتماد سے کہا، 'جہاں سے اپنا کام چھوڑا تھا۔۔۔ دوبارہ شروع کروں گا!'
'اونٹوں کی بو اور اس خانہ بدوش لڑکی کا لمس تمھیں ایسا کرنے دے گا؟ کیا بات کرتے ہو۔۔۔' اس نے اتنا ہی کہا، کروٹ لی اور سو گیا۔
کاروان سرائے سے کابل تک کا فاصلہ قریباً ساڑھے تین سو میل رہا ہو گا۔ اس فاصلے کو عبور کرنے میں پچیس دن لگ گئے لیکن اس دوران بعض جگہوں پر ہم نے دو یا تین دن بھی پڑاؤ ڈالا۔ اس کی وجہ وہ چراہ گاہیں تھیں جو راستے میں پڑتی تھیں اور یہاں رک کر اونٹ اور بھیڑوں کا ریوڑ تازہ دم ہو جاتا تھا۔ یوں مئی کے وسط تک ہم ایک ایسے درے تک پہنچ ہی آئے جہاں سے کھڑے ہوں تو کابل شہر نیچے گھاٹیوں میں پاؤں تلے نظر آتا تھا۔ یہیں، میں نے مترا کے ساتھ شہر کا نظارہ کرتے ہوئے اسے بتایا کہ، 'میرا گھر وہاں ہے۔۔۔۔' میں نے شہر کے وسط میں پہاڑی کی شمال کی جانب اشارہ کیا، 'کل رات میں اپنے گھر میں سویا ہوں گا!'
تس پر اس نے میری بات رد کر دی، میرا چہرہ ہاتھوں میں تھام لیا اور فرط سے ہونٹوں پر بوسہ ثبت کر کے سرگوشی میں بولی، 'نہیں۔۔۔ ملر۔۔۔ کل رات تم وہاں نہیں ہو گے!'
کوچیوں کے کاروانوں میں شاذ و نادر ہی کابل پہنچنے پر ہلچل نظر آتی ہے لیکن فرنگیوں کی وجہ سے ہمارے کارواں میں خاصی گہما گہمی تھی۔ ہم نے اپنے سیاہ خیمے خانہ بدوشوں کی روایتی جگہ یعنی برطانوی سفارتخانے کے جنوب میں کئی میل شہر سے باہر لگا لیے تو تین انتہائی اہم لوگ ہم سے ملنے آئے۔ ان میں پہلا تو محب خان تھا۔ وہ بدستور ویسے کا ویسا، بنا ٹھنا اور ٹیپ ٹاپ کیے، تازہ شیو اور فراٹے بھرتی شیورلٹ کار میں پہنچا۔ وہ ایلن جاسپر سے متعلق میری اطلاع کہ وہ کوچیوں کے ساتھ سفر کر رہی تھی، جانچ کرنے آیا تھا۔ اس وقت وہ خیمے کے اندر ذوالفقار اور ایلن کے ساتھ بیٹھا طویل گفتگو میں مشغول تھا جبکہ میں اور مترا باہر ترپال تلے بیٹھے ان دونوں کی کن سوئیاں لے رہے تھے۔ مترا نے مجھ سے پوچھا، 'یہ محب خان کون ہے؟' اس پر میں نے اسے بتایا کہ وہ ایک انتہائی اہم افغان ہے جو ناراض ہو گیا تو اس کے باپ کو خاصا نقصان پہنچا سکتا تھا۔ اس نے بھی اتفاق کیا، 'واقعی۔۔۔ دیکھنے میں ہی بہت اہم لگ رہا ہے!'
میں نے محب خان کے ساتھ زیادہ گرمجوشی دکھانے سے گریز کیا اور اس کی موجودگی کو نظرانداز کیے رکھا۔ دراصل میں اس وقت اس کے ساتھ کسی بھی معاملے پر بات چیت نہیں کرنا چاہتا تھا اور ویسے بھی اس حلیے اور اردگرد کوچیوں کی موجودگی میں یہ مناسب معلوم نہیں ہوا۔ اس قدر اہم افغان عہدیدار کے ساتھ میرے مراسم کا پتہ چلتے ہی کوچیوں کے ساتھ میری بے تکلفی ہوا ہو جاتی۔ وہ بھی معاملے کو پوری طرح سمجھ کر مجھ سے کترایا رہا۔ وہ چلا گیا تو اس کے بعد ایک سرکاری افغان اہلکار ڈاکٹر شواٹز سے بات کرنے آن پہنچا۔ وہ دونوں ہمارے خیمے کے ایک کونے میں بیٹھ گئے اور جرمن زبان میں باتیں کرتے رہے۔ مجھے اس گفتگو کی سمجھ نہیں آئی لیکن معلوم یہ ہوا کہ افغان حکومت شواٹز کو گرفتار کر رہی تھی اور نہ ہی اسے واپس قندھار روانہ کرنے کا ارادہ تھا۔
اس کے بعد میری باری آئی۔ دوپہر کے کھانے کے بعد رچرڈسن مجھ سے ملنے آیا، پائپ سلگایا اور بے حد غصے میں مونچھ مروڑ کر گہری آواز میں دھمکاتے ہوئے بولا، 'ملر۔۔۔ تم نے جیپ غارت کر دی۔ اس کی قیمت تم سے وصولی جائے گی' پھر اس نے ٹھہر کر مجھ پر اثر دیکھا اور کہا، 'کم از کم چھ سو ڈالر۔۔۔ ملر انہوں نے جیپ میں کوئی چیز نہیں چھوڑی۔ نظراللہ کو صحرا میں الگ سے دو چکر لگانے پڑے۔۔۔'
اس پر میں نے خود کو اس کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا، 'یہ بیوقوفی تھی اور میں اچھی طرح جانتا ہوں لیکن میرا خیال تھا کہ مورگن اس اقدام کو سمجھے گا!'
'صاحب نے تو آسمان سر پر اٹھا رکھا ہے!' رچرڈسن نے رازداری برتتے ہوئے مجھے مزید ڈرایا۔ اس پر تو میری ساری اکڑفوں وہیں بہہ گئی۔
'مجھے اصل بات بتاؤ۔۔۔ کیا واقعی اس قدر حالات خراب ہیں؟'
'تم نے موسیٰ دار سے رپورٹ بھیج کر اپنی گردن بچا لی۔ ہم نے واشنگٹن میں دفتر خارجہ کو اسی دن تمھاری رپورٹ ارسال کر دی تھی، اسی رپورٹ سے پنسلوانیا کے سینیٹر کی بھی خاصی تشفی ہو گئی تھی۔ لیکن ملر۔۔۔ اس لڑکی کے والدین کسی صورت قابو نہیں آ رہے۔ آخر یہ انہیں خود خط کیوں نہیں لکھتی؟'
'اس نے انہیں کئی بار خط لکھا ہے بلکہ آخری خط تو میں نے خود اس سے لکھوایا تھا۔ لیکن تم دیکھ ہی سکتے ہو کہ اتنا کچھ ہو چکا ہے کہ اس کے لیے یہ سب انہیں سمجھانا مشکل ہے، اسی لیے وہ خط لکھ کر پھاڑ دیتی ہے۔ میں نے ایک مفصل خط لکھ رکھا ہے جو ہم انہیں بھجوا سکتے ہیں، اس معاملے کی پوری رپورٹ بھی تقریباً تیار ہے!'
'اچھی بات ہے اور یہی مناسب رہے گا۔ ویسے مجھ سے پوچھو تو تمھیں سفیر صاحب کے غصے کی زیادہ پرواہ نہیں کرنی چاہیے کیونکہ واشنگٹن کے لوگ تمھاری کارکردگی سے خاصے خوش ہیں، آخر تم نے ایلن جاسپر کی جان بچائی ہے!'
'اس کی جان بچائی ہے؟ میرے خیال میں وہ زندگی میں کبھی اس قدر خوش نہیں رہی ہو گی۔۔۔'
'تمھارا مطلب، کوچیوں کے ساتھ رہ کر؟' رچرڈسن نے اردگرد دیکھ کر گہری سانس لی اور میں نے سوچا کہ اگر میں کوچی، ذوالفقار، شواٹز، اسلام اور کیا کیا نہیں دیکھا۔۔۔ یہ سب سمجھانے بیٹھ گیا تو رچرڈسن الجھ جائے گا۔ بجائے میں نے کہا، 'میں نے اسے نہیں بچایا۔۔۔ دراصل ایلن جاسپر نے میری جان بچائی ہے!'
'اب اس واہیاتی کا کیا مطلب ہے؟' اس نے دوبارہ پائپ سلگا، خفگی سے پوچھا،
'ابھی نہیں۔۔۔ میں تمھیں کل دفتر میں سب تفصیل سے بتاؤں گا!'
'دفتر میں؟' اس نے مزید خفگی کا اظہار کیا۔ وہ کچھ کہنا چاہتا تھا لیکن پھر سوچ کر چپ رہا اور آہستگی سے کہا، 'چلو تھوڑی دیر تازہ ہوا کھاتے ہیں۔۔۔' اس کی مراد یہ تھی کہ ہم کوچیوں کے خیموں سے باہر نکل کر تسلی سے بات چیت کریں۔
'ہاں ہاں۔۔۔ کیوں نہیں؟ مجھے پیدل چلنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے، ساڑھے تین سو میل پیدل سفر کر کے آیا ہوں!' میں نے ہنس کر کہا،
'ہائیں؟ کیا یہ اونٹوں پر سفر نہیں کرتے؟' اس نے بے یقینی سے پوچھا اور میں نے اس کی کوچیوں بارے اس قدر کم علمی پر استہزائی انداز میں یوں دیکھا کہ اسے اپنی غلطی کا احساس ہو گیا۔
جب ہم خیموں سے کچھ دور نکل گئے تو اس نے کہا، 'عین ممکن ہے کہ تم کل دفتر نہ جاؤ!'
'کیوں؟ کیا مجھے فارغ کر کے گھر رخصت کیا جا رہا ہے؟' میں نے بوجھل آواز میں ڈوبتے ہوئے دل کے ساتھ پوچھا،
'ارے نہیں۔۔۔ دراصل واشنگٹن نے انوکھا منصوبہ بنایا ہے!' اس نے کچھ دیر توقف کیا اور میرے تاثرات کا جائزہ لیتے ہوئے انتہائی ڈرامائی انداز میں پوچھا، 'تم کبیر سے واقف ہو؟'
'نہیں!' میں نے فوراً ہی کہا لیکن اچانک مجھے خیال ہے کہ یہ نام کچھ شناسا معلوم ہوتا ہے۔ آخر میں نے یہ نام کہاں سنا تھا؟ چنانچہ تصحیح کی، 'میں نے یہ نام سن رکھا ہے لیکن یاد نہیں آ رہا۔۔۔'
'یہ ہر سال خانہ بدوشوں کے جمع ہونے کی جگہ ہے۔۔۔' اس نے کہا، 'یہ ہندوکش کے پہاڑوں میں کہیں واقع ہے!'
'ہندوکش میں کہاں؟'
'نقشوں پر اس جگہ کے کوئی آثار نہیں ہیں!'
'کیا تم نے برطانوی سفارتخانے سے پتہ کروایا؟ وہ اس علاقے کے چپے چپے سے واقف ہیں۔۔۔'
'انہوں نے بھی اس جگہ کا صرف نام سن رکھا ہے' اس نے مزید سوچتے ہوئے کہا، 'کبیر۔۔۔ کبیر۔۔۔ کبیر سے تمھیں کچھ یاد آتا ہے کہ تم نے یہ نام کہاں سنا تھا؟'
میں نے ذہن پر زور دیا تو یاد آ گیا، 'ایک دن رات کو کوچیوں کے سردار نے کاروان کے راستوں میں اس نام کا ذکر کیا تھا۔۔۔ موسیٰ دار سے بلخ اور پھر اس نے کہا تھا کہ ڈاکٹر شواٹز کبیر میں کام آ سکتا ہے۔۔۔'
'کس کام؟'
'اس نے اس بابت مزید کچھ نہیں کہا!'
رچرڈسن یہ سن کر چپ ہو گیا۔ پھر کچھ دور جا کر بے چینی سے کنکروں کو ٹھڈے مارے اور پھر دو ٹوک انداز میں پوچھا، 'ملر۔۔۔ کیا تم کسی طریقے سے کوچیوں کے ساتھ ہی کبیر جا سکتے ہو؟'
'کیوں؟'
'یہ انتہائی اہم ہے کہ وہاں ہمارے امریکی بھی کسی نہ کسی طرح پہنچ جائیں۔ ہمارے پاس اس جگہ کی کوئی معلومات نہیں ہیں۔۔۔ ہمیں صرف یہ علم ہے کہ ہر برس گرما کے موسم میں خانہ بدوش یہاں جمع ہوتے ہیں۔۔۔ روسی، چینی، تاجک، ازبک۔۔۔ ہر طرح کے، دیس دیس کے لوگ آتے ہیں!'
'چلو اگر میں کوچیوں کے ساتھ چلا بھی گیا، میں وہاں کیا کروں گا؟'
'صرف نظر رکھو۔۔۔ پتہ لگاؤ کہ روسیوں نے ان خانہ بدوشوں کے ساتھ کس کو بھیجا ہے اور وہ آمو دریا کیسے پار کرتے ہیں!'
'میں ان کے جاسوسوں کا پتہ لگاؤں اور تمھارا خیال ہے کہ وہ مجھے پہچان نہیں پائیں گے؟ میں ان سب سے الگ نظر آؤں گا' میرے لہجے میں احتجاج تھا،
'اس کا فائدہ ہی ہو گا۔۔۔' اس نے کہا، 'کیا خیال ہے؟ تم کارواں کے ساتھ جانے کا اسباب کر سکتے ہو؟'
'ممکن تو ہے۔۔۔' میں نےکترا کر کہا لیکن اپنی خوشی صاف چھپا گیا،
'اگر تم ایسا کر سکو تو۔۔۔' اس نے محتاط ہو کر کہا، 'جیپ کا معاملہ دبایا جا سکتا ہے!'
اس بات پر میں نے بھی زور دکھایا، 'مجھے کبیر جانے کا کوئی شوق نہیں ہے۔۔۔ بلکہ مجھے تو یہ فضول کی کوفت لگتی ہے لیکن میں ہمیشہ بلخ جانا چاہتا تھا۔۔۔ اس گمشدہ شہر کو دیکھنا چاہتا ہوں۔ اس سفر کے لیے مجھے کچھ سامان کی ضرورت ہو گی، کیا میں آج رات آ جاؤں؟'
'نہیں۔ ہم تمھیں سفارتخانے کے آس پاس نہیں دیکھنا چاہتے، تم سامان کی تفصیلات بتاؤ۔۔۔ میں پہنچا دوں گا!'
'مجھے کچھ پیسے درکار ہیں، وٹامن کی گولیاں اور ناک میں ڈالنے کے قطرے۔۔۔ تم نہیں جانتے کہ اس سفر میں ناک کیسے خشک ہو جاتی ہے اور ہاں۔۔۔ کچھ نوٹ پیڈ بھی بھجوا دو!'
'کبیر میں نوٹ پیڈ استعمال کرنے کی غلطی مت کرنا!' اس نے متنبہ کیا،
'میں نے یہ نہیں کہا کہ میں بالضرور وہاں پہنچ پاؤں گا' میں نے جواباً تنبیہ کی، 'مجھے تو شبہ ہی ہے۔۔۔ اگر کوئی ایسی جگہ ہے بھی تو یہ کیسی جگہ ہے؟'
بعد ازاں، شام کے وقت جب مترا کابل کے بازار میں ادھر ادھر بلامقصد کچھ نہ کچھ تلاش کرتی پھر رہی تھی، رچرڈسن میری ضرورت کے سامان کے ساتھ لوٹ آیا اور وہ کچھ خطوط بھی لایا تھا جو میری غیر موجودگی میں جمع ہو گئے تھے۔ عام طور پر رچرڈسن اپنے آپ میں بند رہتا تھا لیکن انہونی یہ ہوئی کہ اس نے گرمجوشی سے ہاتھ ملایا اور جذباتی ہو کر کہا، 'ملر۔۔۔ تمھیں بالکل اندازہ نہیں ہے کہ تمھارے ہاتھ کس طرح کا موقع ہاتھ آ گیا ہے؟ پچھلے دس برس سے ہم کبیر پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں، ہم ہی نہیں بلکہ برطانویوں نے بھی سر توڑ کوشش کر لی لیکن ناکام رہے۔ خدا کے لیے۔۔۔ آنکھیں کھلی رکھنا!'
'صاحب کے کیا تاثرات ہیں؟' میں نے جواباً مسکرا کر اپنے مقصد کی بات پوچھی،
'صاحب کا کہنا تھا کہ، ذرا سوچو۔۔۔ اس احمق کے ہاتھ کتنی اہم چیز لگ گئی ہے؟' اس نے آنکھ مار کر کہا اور چلا گیا۔ میں نے بھی دل ہی دل میں تہیہ کر لیا کہ ہر صورت، کچھ بھی ہو رہے۔۔۔ اب تو کبیر ضرور جاؤں گا۔
میں اپنے خیمے میں ہی بیٹھا، شام ڈھلنے کے بعد بھی کوچیوں کے ساتھ رہنے کی تدبیریں سوچتا رہا۔ اس مسئلے پر دیر تک غور کرنے کے بعد میں نے سمجھا کہ دراصل مجھے رچرڈسن کے روسی ارادوں کی بھنک لگانے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی بلکہ میں تو مترا کے ساتھ بارے زیادہ فکرمند تھا۔ میرے پاس کوئی پلان نہیں تھا لیکن میں نے طے کیا کہ کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی پڑے گا، کچھ تو ہو رہوے گا۔
انہی سوچوں میں گم، میں نے خط کھول کر پڑھنے شروع کیے۔ میرے گھر والوں نے کئی خطوط کے جواب لکھ بھیجے تھے مگر عجیب بات یہ تھی ان کے چہرے میرے ذہن میں دھندلا گئے تھے۔ میرے ابا کے ہاتھ سے لکھا خط پڑھ کر یوں محسوس ہوا جیسے مسٹر جاسپر اپنی بیٹی ایلن کے ساتھ خواہ مخواہ الجھ رہا ہے۔ بوسٹن میں خاندانی معاملات مجھے ہیچ لگنے لگے اور ان کی کوئی اہمیت محسوس نہ ہوئی۔ یہ عجب بات تھی کہ آخر اونٹوں کا گوبر جمع کرنے والی چند کوچی عورتیں بوسٹن میں میری پھپھی خالاؤں سے زیادہ اہم کیونکر ہو گئیں؟ مجھے سمجھ نہ آئے کہ خانہ بدوشوں اور پنسلوانیا کی ایک الجھی ہوئی لڑکی کے ساتھ بیتائے وقت نے کیسے میری سوچوں کو جکڑ کر رکھ دیا ہے؟ سب سے زیادہ اہم بات یہ تھی کہ میں مترا کے ساتھ رہنے کی کیا تدبیر کروں؟
غیر متوقع طور پر میرے اس گھمبیر مسئلے کا حل خود ذوالفقار نے ہی پیش کر دیا۔ ہوا یوں کہ وہ ڈاکٹر شواٹز کو ساتھ لیے میرے خیمے میں آیا اور معذرت خواہانہ لہجے میں بولا، 'ڈاکٹر کو تو افغان حکومت نے ہمارے ساتھ آنے کی اجازت دے دی، وہ کبیر جا سکتا ہے!'
'کبیر کہاں ہے؟' میں نے بے واسطہ رہ کر پوچھا تا کہ اسے شک نہ ہو،
'کبیر؟ یہ ہندوکش میں ہے۔ گرما کے موسم میں سبھی خانہ بدوش وہاں جمع ہوتے ہیں!'
'چلو، تمھارا سفر بخیر ہو!' میں نے شواٹز سے کہا، 'بہت ہی لمبا سفر لگتا ہے!'
'یہ واقعی بہت لمبا سفر ہے' جرمن نے فٹ اتفاق کیا، 'اسی لیے ہم تم سے بات کرنا چاہتے تھے۔۔۔ دراصل ہمیں بہت سی دواؤں کی ضرورت ہے!'
میں نے چہرے پر سنجیدگی سجا لی اور کہا، 'میرے خیال میں تمھیں کابل کے بازار میں سبھی طرح کی دوائیں مل جائیں گی۔۔۔ نہیں؟'
'ہاں۔۔۔ مل تو جائیں گی!' ذوالفقار نے کہا، 'لیکن ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں'
'لیکن میرے پاس جیپ بھی نہیں ہے، جس کے پرزے۔۔۔' میں نے ٹہوکا لگایا،
'وہ امریکی افسر۔۔۔ جب وہ آیا تھا، کیا اس نے تمھیں کچھ رقم نہیں دی؟'
'بالکل دی ہے!' میں نے مختصر جواب دیا اور اندازہ لگانے لگا،
'ہم سوچ رہے تھے۔۔۔' شواٹز نے توقف کے بعد ہچکچا کر کہا، 'اگر تم اس رقم سے ہمیں کچھ دوائیں خرید کر دے دو تو۔۔۔'
'تو؟' میں نے محتاط ہو کر پوچھا،
'تو یہ کہ ہم تمھیں اپنے ساتھ بلخ لے جائیں گے؟' ذوالفقار نے سوالیہ انداز میں تجویز دی،
میں نے کچھ دیر سوچنے میں وقت ضائع کیا تا کہ ایسا معلوم ہو گویا میں اس تجویز پر غور کر رہا ہوں، پھر مشتبہ ہو کر پوچھا، 'تمھیں کتنی رقم درکار ہے؟'
'تقریباً دو سو ڈالر!' ذوالفقار نے جواب دیا،
'میرے پاس تو صرف ڈیڑھ سو ہی ہیں!' میں نے بجھ کر پیشکش کی لیکن اندر ہی اندر خوشی چھپانے میں سخت مشکل ہو رہی تھی۔
'ٹھیک ہے!' ذوالفقار چلایا اور تقریباً چار گھنٹے بعد وہ اور شواٹز بازار سے لوٹ کر آئے تو ساتھ دوائیوں اور جراحی آلات سے بھری پیٹیاں بھی لے آئے۔ یہ فارمیسی کی ایک چھوٹی سی دکان کا پورا سامان لگ رہا تھا۔ دوائیاں پیرس اور منیلا سے سمگل ہو کر آئی تھیں اور جہاں ہم جا رہے تھے، وہاں یقیناً بیش قیمت ہوں گی، 'تم میرے ڈیڑھ سو ڈالروں سے بہت ہی زیادہ منافع کماؤ گے!' میں نے چھیڑ کر کہا،
'ان سے ہمارا مقصد پورا نہیں ہوتا۔۔۔ ہمیں مزید دواؤں کی بھی ضرورت رہے گی' ذوالفقار نے مختصراً کہا۔ اس نے ہم سب کو اچھی نیند پوری کرنے کا حکم دیا کیونکہ اگلی صبح چار بجے روانگی طے تھی۔
شواٹز بازار میں اچھا خاصا خوار ہو گیا تھا، لین دین اور دوائیاں تلاشتے تھک چکا تھا اس لیے فوراً ہی سو گیا لیکن شاید ذوالفقار کو ابھی بھی چین نہیں تھا۔ اس کے احکامات دوسروں پر لاگو ہوتے تھے، اس سے پہلے کہ میں سو پاتا، میں نے خیمے سے باہر کچھ دور گھوڑے کی ٹاپوں کی آواز سنی۔ چونکہ ذوالفقار کے سوا اس کے بھورے گھوڑے پر سواری کرنے کی کسی کو اجازت نہیں تھی، یقیناً وہی ہو گا۔ لیکن، تبھی میرے خیمے کے باہر کچھ ہلچل ہوئی اور ایک آٹھ یا نو سال کا کوچی لڑکا اندر داخل ہوا اور مجھے شانے سے ہلا کر باہر آنے کا اشارہ کیا۔ میں نے شال لپیٹی اور باہر نکل آیا۔ میرا خیال تھا کہ شاید ذوالفقار نے بلایا ہے لیکن کیا دیکھتا ہوں کہ سامنے مترا ایک سفید گھوڑے کے لگام تھامے، انتظار کر رہی ہے۔
'ملر۔۔۔ تمھارے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ پیدل چلو!'
'یہ تمھیں کہاں سے ملا؟' میں نے سٹپٹا کر پوچھا،
'کابل میں۔۔۔' اس نے نرمی سے کہا، 'یہ میری طرف سے تمھارے لیے تحفہ ہے!'
'لیکن، مترا۔۔۔ تمھارے پاس رقم کہاں سے آئی؟'
'مجھے ڈر تھا کہ اگر تمھیں بلخ تک پیدل چلنا پڑا تو تم ہمیں چھوڑ جاؤ گے۔۔۔' اس نے سرگوشی میں کہا، 'تمھیں گھوڑے کی ضرورت تھی۔ تم جیسے اہم شخص کے لیے گھوڑے کا ہونا بہت ضروری بھی تھا!'
میں اس کے اس تجاوز اور اسراف پر احتجاج کرنا چاہتا تھا لیکن ایسے میں نظر گھوڑے کے دائیں کولھو پر پڑ گئی، جس پر انگریزی کا حرف W کندہ تھا۔ یہ وارٹن سکول کا نشان تھا۔ اگر محب خان کو اس چوری کا پتہ چل گیا تو وہ مجھے گرفتار بھی کروا سکتا تھا۔ میں نے سختی سے اسے گھوڑا چوری کرنے پر جھڑکا لیکن اس کے ساتھ ہی مجھے سخت شک نے بھی آن گھیرا، خدا جانے اس نے یہ گھوڑا کیسے حاصل کیا تھا؟ مجھے اس کی محب خان میں غیر معمولی دلچسپی کا خیال بھی آیا، اسی لیے میں نے کمزوری سے پوچھا، 'تمھیں کیسے پتہ چلا کہ میں کاروان کے ساتھ ہی رہوں گا؟'
اس نے نرمی سے جواب دیا، 'کئی دن سے میں اور ابا کئی تدبیروں پر غور کر رہے تھے کہ کسی نہ کسی طرح تمھیں ہمارے ساتھ رہنے پر قائل کیا جائے۔ کل رات اس نے مجھ سے کہا، 'تم فکر مت کرو اور آرام سے سو جاؤ۔۔۔ میں کچھ نہ کچھ سوچ لوں گا!'
اس پر یکدم مجھے اپنے ڈیڑھ سو ڈالروں کا خیال آ گیا اور میں نے پوچھا، 'تمھارا مطلب۔۔۔ ذوالفقار بھی مجھے کاروان کے ساتھ رکھنے کی کوشش کر رہا تھا؟'
'ہاں!' اس نے پھر سرگوشی کی اور شرارت سے پوچھا، 'اس نے ایسا کیسے کیا؟'
'وہ بہت چالاک ہے!' میں نے جواب دیا،
اس نے مزید کچھ نہیں کہا بلکہ نہایت آہستگی کے ساتھ ہاتھ تھام لیا۔ لڑکے کو وہاں سے چلے جانے کو کہا کیونکہ اب یہ اس کی جا نہیں تھی۔ وہ ایک ہاتھ میں میرا ہاتھ جبکہ دوسرے ہاتھ میں گھوڑے کی لگام تھام کر ہم دونوں کو خیموں سے بہت دور ایک اوٹ میں لے گئی۔ میں نے نوٹ کیا کہ اس نے پہلی بار، نہ جانے کہاں سے۔۔۔ شاید کابل کے بازار میں سے پرفیوم کی چرائی ہوئی بوتل میں سے ہلکی خوشبو بھی پہن رکھی ہے اور یہاں پہنچتے ہی ہم دونوں آپے سے مغلوب ہو کر ہم آغوش ہو گئے۔ ہم دونوں کے لیے یہ محبت کا آغاز تھا، پہلی بار ہمارا پالا چاہت اور عشق سے پڑ چکا تھا۔ پورے چاند کی رات میں، چھن چھن کر گرتی ہوئی چاندنی میں، ایشیاء کے اس بلند مرتفع پر ہم نے ساری شب ایک دوسرے کو لبٹائے رکھا۔ اگلی صبح، چار بجنے سے پہلے ہی جب ہم خیمے کی طرف چلے تو میرے دل میں بلخ تک کوچیوں کے ساتھ رہنے کی بھرپور وجہ ہاتھ آ چکی تھی۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر