کارواں - چودھویں قسط

کاروان کو بامیان کے شمال میں سفر پر روانہ ہوئے یہ دوسرا دن تھا۔ میں اپنے سفید گھوڑے کی پشت پر سوار، ابھی ابھی قافلے کا پہرہ دے کر ہٹا تھا کہ خواہ مخواہ ایک خیال آیا۔۔۔ کیوں نہ اس کچے راستے کی بغل میں جانبی وادی کا چکر لگا آؤں؟ چنانچہ میں نکل کھڑا ہوا لیکن کچھ دور جا کر احساس ہوا کہ داہنی جانب پتھریلی چٹانوں میں دو سائے حرکت کر رہے ہیں۔ میں ابھی ان سایوں کا پیچھا کرنے بارے سوچ ہی رہا تھا لیکن پھر رک گیا کیونکہ میں نے غور سے دیکھا تو یہ ایلن جاسپر اور ڈاکٹر شواٹز تھے۔غالباً وہ دونوں کارواں سے علیحدہ ہو کر، اس سنسان وادی میں الگ تھلگ، اس وقت نہ تو کسی تیسرے کا ساتھ اور نہ ہی پیچھا چاہتے تھے۔ مجھے اپنے اس خیال کی تصدیق بھی مل گئی جب وہ دونوں چکر کاٹ کر چٹانوں کے پیچھے چلے گئے جہاں نہ صرف کارواں سے اوٹ تھی بلکہ انہیں ایک دوسرے کو ٹٹولنے میں مشکل بھی نہ ہوتی۔ میں نے دیکھا کہ اوٹ ملتے ہی شواٹز نے یکدم ایلن کے جسم کو ٹٹولنا شروع کر دیا اور اس کو بے لباس کرنے لگا۔ یہ دیکھتے ہی میں نے ان دیکھی کی اور پیچھے ہٹ گیا۔
میں لوٹ کر کارواں کی طرف چلا آتا لیکن ہوا یوں کہ میں ابھی پیچھے مڑا ہی تھا کہ اوپرلی چٹانوں سے ایک چھوٹا سا کنکر میری پشت پر آ کر لگا۔ پھر دوسرا اور تیسرا۔۔۔ مجھے سمجھ آئی کہ کوئی ان دونوں سے بھی اوپر، بھاری پتھروں کی اوٹ میں بیٹھا نہ صرف ان کا تماشا کر رہا ہے بلکہ مجھے بھی متوجہ کرنے کی کوشش میں ہے۔ میں نے اپنے گھوڑے کی لگام کھینچ کر رکھی تا کہ وہ ٹاپوں سے شور نہ مچائے، سر کے اوپر تنے بھاری پتھروں کا جائزہ لیا تو سرخ لباس پہنے ہیولا سا دکھائی دیا جس کے سر پر کس کر چوٹی بندھی ہوئی تھی۔ یہ مترا تھی۔ وہ ایلن اور شواٹز کے ارادوں کو پہلے ہی بھانپ چکی تھی، اسی لیے ان کے پیچھے یہاں آن کر اونچائی پر پتھروں کے بیچ دبک کر بیٹھ گئی تھی اور اب ان دونوں کا تماشا کر رہی تھی۔
میں نے غصے سے اس کو وہاں سے اتر جانے کا اشارہ کیا لیکن اس نے جواباً اپنے ہونٹوں پر انگلی دبا کر مجھے چپ رہنے کی تاکید کی۔ کچھ منٹ وہ ان دونوں کی کاروائی دیکھتی رہی اور پھر میری طرف مڑ کر اپنے دونوں ہاتھ فتح مندی سے سر کے اوپر بلند کیے اور کوچیوں کا جنسی میل کا وہی فحش اشارہ کر دیا۔ یوں کہو، ایک لحاظ سے ہم چاروں ان پتھریلی چٹانوں میں پھنس کر رہ گئے تھا۔ ایلن اور شواٹز طویل انتظار کاٹ کر اب ایک ساتھ تو تھے لیکن کاروان سے اوجھل رہنے کی کوشش کر رہے تھے۔ مترا چھپ کر ان دونوں کی جاسوسی کر رہی تھی اور میں نیچے بنا کوئی حرکت کیے اس کے فحش اشارے دیکھ رہا تھا۔ مجھ سے پوچھیں تو شاید میں نے زندگی میں اس وقت سے زیادہ شہوت انگیز لمحات پھر دوبارہ محسوس نہیں کیے۔ مگر کیا ہے کہ اس ہوس ناک تجربے کے دوران بھی میں یہی سوچتا رہا اور مجھے یقین تھا کہ اگر ذوالفقار کو ان دونوں کے بارے بھنک بھی لگ گئی تو۔۔۔ ایلن اور شواٹز نے اپنے لیے خود گڑھا کھود لیا تھا۔
جب وہ دونوں کاروان کی طرف لوٹ گئے تو میں نے مترا کو پتھروں سے نیچے اترنے اور میرے ساتھ سفید گھوڑے پر سوار، واپس جانے کا اشارہ کیا۔ میں نے اسے تاکید کی، 'تم اس بات کا کسی سے ذکر مت کرنا!'،
'سب کو پتہ ہے!' وہ ہنس کر بولی اور گھوڑے پر سوار میری کمر کس کر پکڑ لی۔ میں نے بھی گھوڑے کو واپس موڑ لیا،
'سب کو کیسے پتہ ہے؟ تم انھیں بتاؤ گی تو پتہ چلے گا؟' میں نے کہا،
'ارے نہیں۔۔۔ کوئی بھی ان دونوں کو دیکھ کر بتا سکتا ہے۔ سب سمجھ جائیں گے!' اس نے اصرار کیا۔
اس کی بات درست تھی۔ دوپہر کے وقت جب ذوالفقار نے کاروان کو پڑاؤ ڈالنے کا حکم دیا تو کوچی قبیلے کے بچے بچے کو پتہ چل چکا تھا اور ہم اب انجام کا انتظار کرنے لگے۔ میرا خیال تھا کہ ذوالفقار چونکہ بھاری بھرکم اور شواٹز سے کہیں زیادہ طاقتور تھا، وہ اگر چاہتا تو نہایت آسانی سے گلا گھونٹ کر مار سکتا تھا۔ ذوالفقار کو یقیناً اس بات کا سخت طیش چڑھے گا کہ آخر ایک عورت کوچیوں کے سردار پر کسی معمولی جرمن کو کیوں فوقیت دے گی؟ چلو اگر قتل نہ بھی ہوا، مجھے پورا یقین تھا کہ مار کٹائی تو ضرور ہو گی لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ آنے والے دنوں میں ایلن کا رنگ ڈھنگ بدلا ہوا ہے۔ وہ پہلے سے زیادہ حسین تر ہوتی جا رہی تھی جبکہ مسکراہٹ میں بھی خوب نرم گرماہٹ در آئی تھی۔ اس کو دیکھ کر واقعی لگتا جیسے کوئی آزاد پنچھی ہو اور خوشی سے چہک کر اڑتا، کبھی اس اور کبھی اس ڈالی پر پھدک رہا ہے۔ اب تو وہ چوغہ بھی اس نفاست سے جسم کے گرد لپٹائے رکھتی کہ اس میں نسوانیت کوٹ کوٹ کر بھر دی ہو، الغرض عجب دلربائی تھی۔ مجھے آج تک ان دنوں، ایلن کی نیلی آنکھوں میں ڈوبتا ہوا خمار کبھی نہیں بھولتا، ایسے جیسے بلند پہاڑوں کے دامن میں کسی گہرے سمندر کا خواب ہو۔
جب ایلن اور شواٹز نے دیکھا کہ ذوالفقار اس معاشقے پر کچھ کہنے، کر گزرنے سے قاصر ہے تو ان کو شہ مل گئی۔ وہ دن اور رات کو بھی اکٹھے نظر آنے لگے۔ ہمارے خیمے کا احوال یہ تھا کہ شام گہری ہوتے ہی ڈاکٹر بوریا بستر لپیٹ کر خیموں سے بہت دور، ستاروں بھرے آسمان کے نیچے ہرے میدانوں میں راتیں بسر کرنے لگا۔ بلکہ وہ شام بھی باہر بیتانے لگا، اس نے ذوالفقار اور رچا کے خیمے سے باہر ترپال تلے بیٹھک میں وقت گزاری کی ریت چھوڑ دی۔ معمولات کے سوا بھی اس سارے قصے کا جرمن پر گہرا اثرا ہوا۔ اب وہ اپنے آپ میں محو نہیں رہتا تھا اور اکثر میں نے دیکھا کہ خواہ مخواہ مسکرا رہا ہے۔ اس کی طبیعت میں بدحواسی بھی جاتی رہی اور واقعی پرسکون ہو گیا۔
لیکن اس طمانیت کے باوجود صرف ایک ایسی چیز تھی جو اس کو ہر دم پچھاڑے رہتی تھی۔ یہ ذوالفقار کا ان دیکھا خوف تھا۔ اگرچہ ذوالفقار نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا تھا لیکن شواٹز کو بہرحال ہر وقت دھڑکا لگا رہتا۔ اکثر جب ذوالفقار اپنے گھوڑے پر سوار اس کے قریب سے گزرتا تو وہ دبک کر پیچھے ہٹ جاتا کہ کیا خبر وہ اس پر چڑھائی کر دے؟ کیا پتہ وہ خنجر نکال لے؟ ڈاکٹر کی طبیعت جس قدر بھی سنبھل گئی تھی، اسی ایک چیز نے اس کو اتنا ہی زیادہ بے چین بھی کیے رکھا تھا۔ وہ بہتیری کوشش کرتا لیکن ذوالفقار کا خوف جاتا نہیں تھا۔ میرا ذاتی خیال یہ تھا کہ اگرچہ ان دونوں نے پہاڑوں کے دامن میں محبت کی شروعات تو کر لی تھی، بھلے انہیں کسی کا خوف نہیں تھا یا وہ صرف ذوالفقار سے سہمے ہوئے تھے لیکن جوں جوں ان دونوں میں قربت اور چاہ بڑھتی گئی، انجانا خوف۔۔۔ جو صرف ذوالفقار کا ہی نہیں تھا، صرف شواٹز ہی نہیں بلکہ ایلن کے دل میں بھی گھر کرتا جا رہا تھا۔ یہ ایک دوسرے کو کھو دینے کا خوف تھا۔
بامیان سے کبیر تک گیارہ دن کا سفر تھا اور راستہ انتہائی دلفریب نظاروں سے بھرا ہوا تھا۔ اب ہم ہندوکش کے قلب میں داخل ہو رہے تھے۔ ایشیاء میں بے شک ہندوکش سے بھی بلند پہاڑ تھے، پامیر۔۔۔ قراقرم اور ہمالیہ وغیرہ سبھی کہیں اونچے اور جہان دیگر تھے لیکن اس کے باوجود وہ سب کسی طرح سے بھی افغانستان کے ان پہاڑوں سے برتر نہیں تھے کیونکہ یہاں جا بجا پتھریلی آن بان اور سرسبز وادیوں کا حسن پھیلا ہوا تھا۔ بعض اوقات یوں ہوتا کہ ہم کوئی تنگ اور دشوار گزار گھاٹی پار کر کے گھومتے ہوئے پتھریلے راستوں سے دوسری جانب پہنچتے تو کیا دیکھتے کہ آنکھوں کے سامنے تا حد نگاہ وسیع و عریض، دس سے پندرہ میل چوڑی وادی پھیلی ہوتی۔ اس وادی میں قد آدم جتنی اونچی گھنی گھاس کی چراہ گاہیں ہوتیں اور بندہ بشر کی ذات بھی نظر نہ آتی۔ ایسا لگتا جیسے ہم سے قبل کسی انسان نے یہاں کبھی قدم بھی نہیں رکھا لیکن یہ درست نہیں تھا کیونکہ خانہ بدوش ہر برس، دو دفعہ یہ وادیاں عبور کرتے تھے۔ اسی طرح کبھی کبھار ہم شور مچاتی ندیوں کے ساتھ ساتھ گہرائی میں اترتے جاتے اور اچانک سامنے گہری کھائی کا سامنا ہو جاتا، اس پار جانے کا کوئی راستہ نہ ملتا لیکن پھر ہمیں خانہ بدوشوں کے ہاتھوں تعمیر کیے ہوئے برسوں پرانے پل مل جاتے اور پورا کارواں نہایت آرام کے ساتھ دوسرے پار اتر جاتا اور ہم وہاں سے مزید اوپر، مزید اونچے پہاڑوں کی چوٹیاں سر کرنے آگے نکل جاتے۔ یہ بہت ہی خوش کن، تازہ دم اور نہایت عمدہ تجربہ تھا۔
ہندوکش کا ایک پہلو ایسا تھا جو مجھے صحرا کی یاد دلاتا رہتا تھا۔ مثلاً بامیان سے شمال کی جانب سفر میں پانچویں دن ہم ایک گھاٹی کے پار اترے تو پہاڑ کے گرد گھوم کر نظروں کے سامنے ایک وسیع وادی پھیلی تھی۔ اس وادی کے دوسرے سرے پر۔۔۔ کہو زیادہ سے زیادہ قریباً چار میل دور ایک بہت ہی بلند پہاڑ تھا۔ اس پہاڑ کو دیکھ کر میں نے سوچا کہ ہم آج شام اسی پہاڑ کے قدموں میں خیمے گاڑیں گے۔ لیکن ہم اس سے اگلے چھٹے دن دوپہر تک بھی بدستور چلتے رہے لیکن پہاڑ ابھی بھی چند میل دور معلوم ہوتا تھا۔ اس سے اگلے دن ہم نے پھر سفر کیا اور اب دیکھنے میں اتنا قریب لگتا تھا جیسے چھو سکتے ہیں لیکن اس سے اگلے دن بھی، اس پہاڑ کو خدا غارت کرے۔۔۔ چند میل دور ہی دکھائی دے رہا تھا۔ یوں ہمیں اس وادی کو عبور کر کے پہاڑ تک پہنچنے میں پورے چار دن لگ گئے۔ ہم نے اس دوران صرف پچاس میل کا سفر طے کیا تھا اور اب جا کر ایسا لگتا تھا کہ ہم دوپہر کے بعد اس کے قدموں تلے ہوں گے۔ یعنی، صحرا ہوں یا کوہستان۔۔۔ سراب ایک جیسے ہی تھے۔
ان چار دنوں کے دوران جب کاروان پہاڑ کی طرف رواں دواں تھا، میں نے ایلن جاسپر کو کم کم ہی دیکھا۔ وہ اور شواٹز ایک دوسرے میں اتنے گم تھے کہ میں نے بھی مخل ہونا مناسب نہیں سمجھا۔ شواٹز سے بھی آمنا سامنا صرف اسی وقت ہوتا جب وہ اپنا بوریا بستر یا تو نکال رہا ہوتا یا واپس رکھنے آیا کرتا۔ اسی چھپن چھپائی میں ہم پہاڑ تک پہنچ گئے۔ خیمے گاڑے جانے لگے اور ایسے میں ایلن میرے پاس آئی۔ اس وقت میں مفتون کے ساتھ مل کر اونٹوں سے سامان اتروا رہا تھا۔ اس نے آتے ہی مجھ سے ایسی بات کہی کہ مجھے اس کی نیک نیتی پر پہلی دفعہ واقعی شک ہونے لگا۔ اس کے لہجے میں ایک ساتھ سنجیدگی اور ٹھٹھول نظر آ رہا تھا۔ میں جانتا تھا کہ شاید آگے چل کر مجھے اس کا خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا تھا لیکن بوجوہ میں نے اس وقت اس کی بات سنی ان سنی کر دی۔ اس نے کہا، 'ملر۔۔۔ اس کاروان کا سفر ایک دن ختم ہو جائے گا۔ تمھارے لیے بہتر یہی ہے کہ مترا کے بارے خواہ مخواہ سنجیدگی مت دکھاؤ!' اب دیکھو، یہ ایک ایسی لڑکی کی تاکید تھی جو خود تو شواٹز کے ساتھ بے احتیاطی کی محبت میں گرفتار تھی بلکہ اس کو درپیش صورتحال میں قتل و غارت کے بھی امکانات تھے، میرے منہ پر کھڑے مجھے ہی احتیاط برتنے کا سبق پڑھا رہی تھی؟ یہ مجھے سخت نامناسب بات لگی۔ یہ اس کی بامیان میں کہی سبھی باتوں کے متضاد تھا۔ میں ایلن کی اس بے محل اور بے جوڑ منطق پر سوال اٹھانا چاہتا تھا لیکن اسی وقت مترا آن دھمکی اور ایلن وہاں سے چلی گئی۔
'میرے خیال میں ایلن تمھیں پسند کرتی ہے!' مترا نے بے پروائی سے کہا۔ میں اس وقت اس قدر سٹپٹایا ہوا تھا کہ مجھے اس کی بات کی ذرہ برابر سمجھ نہیں آئی۔ ویسے بھی مترا کے ساتھ مجھے زیادہ فکر نہیں ہوتی تھی۔
یہ کوئی حیرانگی کی بات نہیں تھی۔ ہر روز رات کو جب ہم کھلے آسمان تلے، ٹممٹاتے ہوئے ستاروں کے سائے میں سوتے تو دو محبت کرنے والوں کے لیے اس سے بہتر خلوت گاہ کوئی دوسری نہیں ہو سکتی تھی۔ ہمارے گرد پہاڑوں کی بلند چوٹیاں اوٹ کیا کرتیں، ندی اور دریاؤں کا شور جیسے نغمے ہوتے، چاند گویا کوئی دیا ہو اور کچھ ہی دور کاروان کا پڑاؤ، اس کی موجودگی اطمینان ہوا کرتا تھا کہ ہم تنہا نہیں ہیں۔ جس دن کاروان نے پہاڑ کے قدموں میں پہنچ کر بالآخر پڑاؤ ڈال دیا تو رات کو ہم مطمئن سوئے پڑے تھے۔ مترا انتہائی دلکش لگ رہی تھی۔ جنوں ایسا تھا کہ جیسے کسی پریت کا سایہ ہو۔۔۔ لیکن معلوم کیا؟ مجھے اس کی غیر متوقع طور پر اپنے اردگرد ماحول پر نظر، گہرے مشاہدے اور مردم شناسی نے سب سے زیادہ متاثر کیا تھا۔ جلد ہی یہ سب یہیں ہندوکش کے پہاڑوں میں پیچھے رہ جائے گا اور ہماری زندگی کے ان انتہائی چند خوبصورت ہفتوں کے ساتھ نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا کہ آخر جب کاروان ختم ہو گا تو پھر کیا ہو گا؟ میں نے کہا کہ میں سوچنے پر مجبور ہو گیا تو یہ ایسا بے وجہ نہیں ہے۔ ایک جوان آدمی جو مترا جیسی لڑکی کے ساتھ محبت میں گرفتار ہے۔۔۔ دن بدن اس کے ہاتھوں سے یہ سب پھسلتا جا رہا ہے۔ محبت اور دلگی کا جذبہ آہستہ آہستہ حقیقت کے ادراک کے سبب خوف میں ڈھلتا جا رہا ہے۔ اسے محسوس ہوتا ہے کہ یہ لڑکی اس کی زندگی کا ناگزیر حصہ بنتی جا رہی ہے۔۔۔ وہ اسے چھوڑ بھی جائے تو میں عمر بھر اسے بھلا نہیں پائےگا۔ ایسی صورتحال میں اس کا حال بدتر ہوتا جائے اور مستقبل میں جھانک کر دیکھنے کی ہمت نہ ہو۔ آخر مجھ سا وہ جوان آدمی کیا کرے؟ مجھے حیرت تھی کہ مترا کو ایسا کر گزرنے میں کوئی تامل نہیں تھا، اس کے مطابق اگر وقت آن پڑا تو وہ سارا قصہ ختم کر کے نہایت آسانی سے آگے بڑھ سکتی ہے۔ مزے کی بات یہ تھی کہ اس لڑکی کو اس سارے معاملے کی مجھ سے کہیں بڑھ کر پوری طرح سمجھ تھی اور جدائی کے یہ خیالات اسے بھی، ووں ہی پریشاں رکھتے تھے لیکن بظاہر اس کو کچھ پرواہ نہیں تھی۔ اس کے خیال کی یہی پھرتی میرے دماغ کو چبھتی تھی اور مجھے ہر وقت اندیشے گھیرے رکھتے تھے۔
اسی لیے جب میں نے اس سے پوچھا کہ جب میں چلا جاؤں گا تو پھر ذوالفقار اس کے ساتھ کیا کرے گا؟ 'وہ کچھ نہیں کر سکتا۔۔۔ پھر اس کے اونٹوں کا وارث کون ہو گا؟'
جب میں نے پوچھا کہ کیا اسے کاروان میں شوہر مل جائے گا۔۔۔ کیونکہ سب کو ہمارے تعلق کی پوری خبر ہے، 'اگر میرے پاس اونٹ ہوئے تو شوہر بھی مل جائے گا۔۔۔'
جب میں نے پوچھا کہ اگر اس کا بچہ بھی پیدا ہو گیا تو؟ 'پہلے سے جو کاروان میں بچے ہیں۔۔۔ انہی کے جیسا ہو گا۔ ان میں سے بعض کی مائیں مر گئیں، کچھ کے باپوں کا کوئی اتہ پتہ نہیں۔۔۔'
جب میں نے پوچھا کہ تمھیں زندگی میں کس چیز کی چاہ ہے؟ 'سردیاں جہلم اور گرمیاں ہندوکش میں۔۔۔ تم بتاؤ، کیا امریکہ میں اس سے بہتر زندگی ہوتی ہے؟'
اور جب میں نے پوچھا کہ کیا وہ مجھ سے محبت کرتی ہے؟ 'میں نے تمھیں سفید گھوڑا دلایا ہے۔۔۔ نہیں؟' یہ کہا اور بوسہ ثبت کر کے بولی، 'سو جاؤ ملر۔۔۔ خواہ مخواہ خود کو پریشان مت کرو۔ ان چیزوں کے بارے فکر کرنا۔۔۔ عورتوں کا کام ہے۔ یہ تم مردوں کے بس کی بات ہی نہیں ہے۔ ویسے بھی، بچے تو ہم عورتوں نے ہی پیدا کر کے پالنے ہوتے ہیں۔۔۔ تمھیں کاہے کی فکر؟'
مجھے بے چینی ہوتی تو میں سوال پوچھتا رہتا لیکن اس پری صفت بارے مجھے سب سے زیادہ حیرانگی اس بات پر ہوتی کہ وہ بعض اوقات بغیر کچھ پوچھے، کچھ کہے اپنا آپ آشکار کر دیتی۔ گیارہویں دن کاروان کا سفر جاری تھا، میں نے اپنا گھوڑا مفتون کے حوالے کیا اور مترا کے ساتھ ہی پیدل روانہ ہو گیا۔ مفتون نے گھوڑے کو یوں سرپٹ دوڑایا کہ پشت سے مجھے وہ قدیم زمانے کا کوئی قازاقی جنگجو محسوس ہوا۔ اس کے جاتے ہی مترا نے بے نیازی سے کہا، 'پتہ کیا۔۔۔ میں نے آج تک ایلن جیسی خوبصورت عورت کوئی دوسری نہیں دیکھی۔ مجھے اسی کی طرح ہر وقت سنورے رہنے کا شوق ہے لیکن میں اصل میں رچا کی طرح بننا چاہتی ہوں!' جب میں نے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے جواب دیا، 'رچا ایسی عورت ہے جو مٹی کو چھو لے تو وہ سونا بن جاتی ہے۔۔۔ وہ جس کو ہاتھ لگاتی ہے، اس کو مضبوط بنا دیتی ہے۔ ایلن میں یہ گن نہیں ہے۔۔۔'
اس پر میں نے اعتراض کیا اور ڈاکٹر شواٹز کی طرف اشارہ کیا جسے ایلن نے بدل کر رکھ دیا تھا۔ مترا ہنس کر بولی، 'ارے جانے دو۔۔۔ وہ تو پہلے ہی مر رہا تھا۔ اس کو تو کوئی بھی عورت بچا سکتی تھی۔ میرے حساب میں تو ڈاکٹر شواٹز کسی کھاتے میں ہی نہیں ہے۔۔۔'
'اس کا انجام کیا ہو گا؟ مطلب اگر ذوالفقار بگڑ گیا تو۔۔۔!' میں نے پریشانی سے پوچھا،
'میرا باپ اسے قتل کر دے گا!' اس نے سپاٹ لہجے میں اپنی گزشتہ پیشن گوئی دہرائی، 'لیکن دوسری جانب یہ بھی تو ہے کہ۔۔۔ میرا باپ خوش ہے کہ ایلن سے جان چھوٹ گئی!'
'ہائیں؟ یہ کیا کہا تم نے۔۔۔ وہ کیسے؟' میں حیرت سے پھٹ پڑا،
اس نے میری حیرت اور سوال کو یکسر نظرانداز کر دیا اور رچا کے متعلق کہنے لگی، 'رچا عورتوں کو بچے جننے میں مدد دیتی ہے اور اونٹوں کی خوب رکھوالی کر سکتی ہے۔ اسے بھیڑوں کی سارے مرض پتہ ہیں اور علاج بھی کرتی ہے۔ ملر۔۔۔ رچا واحد عورت ہے جو کاروان کے جرگوں میں میرے باپ کے ساتھ جرح کر سکتی ہے اور وہ بھی اس پر پورا بھروسا کرتا ہے۔ رچا کے کہنے پر ہی میرے باپ نے کاروان کا سارا پیسہ جہلم کے بینک میں جمع کروا رکھا ہے!' وہ رکی اور کچھ دیر اپنی ماں کے بارے سوچتی رہی۔ پھر بولی، 'رچا ناک میں سونے کی نتھ پہنتی ہے اور بالوں میں کنگھی تو نہیں کرتی لیکن وہ ہمارے کاروان کا دل ہے۔ ذوالفقار کبھی ایسی عورت کو ایلن جیسی نادان لڑکی کے بدلے کھونا نہیں چاہے گا۔۔۔ وہ یہ بات اچھی طرح جانتا ہے!'
'کیا اس نے کبھی ایلن سے محبت بھی کی؟' میں نے پوچھا،
اس پر وہ ایک دفعہ پھر اصل سوال گول کر گئی، 'اگر تم ہمارے ساتھ رہ پاتے۔۔۔' اس نے وعدہ کرتے ہوئے کہا، 'میں تمھارے لیے رچا بن کر رہا کرتی۔ ایلن کبھی میرے باپ کے لیے رچا نہیں بن پائے گی!' تبھی مفتون لوٹ آیا اور پوچھنے لگا، 'کیا صاحب کو گھوڑا درکار ہے؟' اس پر مترا نے اسے ڈانٹ کر کہا، 'ہاں۔۔۔ تم کیسے لوفر ہو، یہ بھلا کوئی پوچھنے کی بات ہے؟ تمھارے لیے یہ مناسب نہیں کہ گھوڑے پر سوار رہو اور ملر پیدل چلا کرے۔۔۔' مفتون فوراً گھوڑے سے اتر گیا اور مترا نے یہ کہہ کر اپنے دونوں ہاتھوں کا قدمچہ بنا کر میری جانب دیکھا اور میں نے قدم رکھ، سارا بوجھ گھوڑے کی پیٹھ پر ڈال سوار ہو گیا۔
میں مترا کو پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھا ہی تھا کہ سامنے سے ذوالفقار اپنے گھوڑے پر سوار آتا دکھائی دیا۔ اس کے چہرے پر جوش تھا، 'ملر۔۔۔ میرے پیچھے آؤ!' اس نے چلا کر کہا اور گھوڑا موڑ لیا۔ میں کئی میل تک اس کا پیچھا کرتا رہا اور پھر ہم دونوں ایک گہری کھائی کے سر پر، اونچی جگہ پر پہنچ گئے۔ میں نے دیکھا کہ نیچے دور تک ایک وسیع میدان پھیلا ہے۔ اس نے اس تاحد نگاہ، مرتفع کی طرف اشارہ کیا اور جوش سے چلایا، 'یہ کبیر ہے!'
رچرڈسن نے مجھے جگہ کی اہمیت سے متعلق بارہا بتایا تھا لیکن تب مجھے کوئی خاص اندازہ نہیں ہوا تھا۔ یہاں کیا ہے؟ ایک بہت ہی وسیع و عریض میدانی علاقہ ہے جہاں ہندوکش کی دونوں اطراف سے دریا آن کر ملتے ہیں اور غلیل کی دو سانگی بنا دیتے ہیں۔ یہ کوئی اچھوتی بات نہیں تھی، بلکہ اصل بات یہ تھی کہ میری نظریں جتنی دور تک دیکھ سکتی تھیں۔۔۔ میں نے دیکھا کہ کھلے میدان میں اس جگہ جہاں دونوں دریا مل جاتے تھے اور اس سے نکلنے والی ندیوں کی شاخوں کے کنارے پر دور دور تک خیمے ہی خیمے نظر آ رہے تھے۔ میں نے غازہ لگایا کہ اس وقت کبیر میں ہمارے کاروان جیسے کم از کم چار یا پانچ سو قافلے جمع تھے۔۔۔ اگر ہر کاروان میں دو سو افراد ہوں تو اس وقت یہاں۔۔۔
یہ سوچ کر ہی مجھے جھرجھری آ گئی۔ میں نے پوچھا، 'یہاں کتنے لوگ جمع ہیں؟'
'پتہ نہیں۔۔۔ کسے پرواہ ہے؟' اس کے لہجے میں بدستور وہی جوش تھا، 'ساٹھ۔۔۔ ستر ہزار؟ شاید اس سے بھی زیادہ۔۔۔'
میرے لیے یہ ماننا مشکل تھا کہ پچھلی دس صدیوں سے بھی زیادہ ہندوکش کے پہاڑوں کے دامن میں، گرچہ بہت ہی دور دراز دریاؤں کے سنگ میل پر ہر برس خانہ بدوش اتنی بڑی تعداد میں جمع ہوتے تھے اور کسی حکومت۔۔۔ شاہ، شہنشاہ اور سرکاری ہرکاروں کو پتہ نہیں چلا کہ یہ کہاں ہوتا ہے؟ کون آتا ہے؟ کہاں سے آتا ہے؟ اور نہ ہی یہ کہ اس بارے خانہ بدوشوں میں اطلاع کیسے ترسیل ہوتی ہے؟ اب چونکہ دوسری جنگ عظیم بھی ختم ہو چکی تھی اور جاسوسی کے سو سو نئے طریقے بھی نکل آئے تھے، جہازوں سے بھی جاسوسی کا نظام دریافت ہو چکا تھا۔۔۔ یہ خانہ بدوش اب زیادہ دیر چھپے نہیں رہ پائیں گے لیکن فی الوقت ان آزاد منشوں کے آخری ہی سہی لیکن خوب دم تھے۔ ابھی تک ان کا یہ اجتماع باقی دنیا کے لیے راز تھا۔
'چلو۔۔۔' اس نے کہا اور گھوڑے کو دوڑاتا ہوا ایک جانب سے کھائی میں کچے راستے پر سرپٹ اترنے لگا۔ میں نے بھی اس کے پیچھے نڈر ہو کر گھوڑے کو خطرناک پگڈنڈی نما راہ پر ڈال دیا۔ ہمارا رخ نیچے میدان کی طرف تھا جہاں وسط ایشیاء کے کونے کونے سے خانہ بدوشوں کے کاروان جمع ہو رہے تھے۔ مجھے گھوڑے کو اس اوڑھی ترچھی راہ پر قابو میں رکھتے ہوئے مشکل ہو رہی تھی، رفتار بھی دھیمی تھی۔۔۔ اس لیے مجھے ذوالفقار کا پیچھا کرتے کچھ وقت لگ گیا۔ جب میں آخر کار اس تک پہنچا تو وہ ایک کاروان سے دوسرے کاروان کے خیموں کے آس پاس گھوڑا دوڑاتا، انہیں اپنی آمد کی اطلاع دے رہا تھا۔ ان میں اس کے کئی پرانے دوست بھی تھے اور اس کے شناسا چہرے بھی رہے۔ وہ گھوڑے پر ہی سوار، ان کا خیر مقدم کرتا، ہندوستان کی خبر دیتا اور بعضوں کے ساتھ ان کے تجارتی مال کا ذکر چھیڑتا۔۔۔ آگے بڑھتا جا رہا تھا۔ اس کے طور اور دوسرے کاروانوں کے خانہ بدوشوں کی اس کے متعلق گرمجوشی دیکھ کر مجھے محسوس ہوا کہ ہمارا کوچی سردار کوئی عام آدمی نہیں ہے بلکہ خانہ بدوشوں میں خاصا مقبول ہے۔
کافی دور جا کر اسے میرے متعلق خیال آیا، وہ اپنی مشغولیت میں میری موجودگی کو تقریباً بھلا چکا تھا۔ اس نے چلا کر کہا، 'ملر۔۔۔ میرے ساتھ رہو!' اور پھر گھوڑے کو سرپٹ دوڑا دیا۔ آخر کار وہ دریا کے بائیں کنارے پر ایک انتہائی موزوں جگہ، جہاں ابھی تک کسی نے خیمے نہیں لگائے تھے۔۔۔ رک گیا۔ 'ہم یہیں پڑاؤ ڈالیں گے۔۔۔' اس نے چیخ کر کہا، 'تم یہیں انتظار کرو اور جب باقی آن پہنچیں تو خیمے لگواؤ!' یہ کہہ، اس نے گھوڑے کو دوڑا دیا لیکن کچھ دور جا کر جیسے کچھ یاد آ گیا ہو، دوبارہ لوٹ آیا، 'باقی آ جائیں تو مفتون سے کہو کہ آج رات چار دنبے سالم بھون لے!' یہ کہا اور وہ جا۔۔۔ پھر نکل گیا۔
کوچیوں کے بقایا کارواں کو اس میدان میں پہنچنے تک قریباً ڈیڑھ گھنٹہ مزید لگ گیا۔ یہ انتظار میری زندگی کا یادگار موقع تھا کیونکہ میں دریا کنارے اس ہرے میدان میں بیٹھا اپنے ارد گرد ایشیاء کے قلب سے ایک کے بعد دوسرے کارواں کو یہاں جمع ہوتے دیکھ رہا تھا۔ میرے اردگرد کئی قبیلوں کے ایسے ایسے مرد اور عورتیں تھیں جن کے بارے مجھے علم ہی نہیں تھا، مجھے پتہ ہی نہیں تھا کہ دنیا میں اتنی طرح کے، بھانت بھانت کے لوگ بھی ہو سکتے ہیں؟ اونٹ اور گھوڑے تھے جو آمو دریا پار کر کے ہزارہا میل سے بھی زیادہ سفر کر کے یہاں تک پہنچے تھے۔ بچوں کو دیکھ کر تو خصوصی حیرت ہوئی۔ گول مٹول اور چہروں پر سرخی پھیل رہی تھی۔ عورتوں نے لمبے فر کے جوتے پہن کر اوپر فر کے ہی چوغے اور چہرے دھوپ میں سنولائے ہوئے، مسکراہٹ ایسی کہ دل کھلتا جائے۔ کچھ فاصلے پر، دریا کے کنارے کسی کارواں کے خیموں میں کوئی شخص بانسری بجا رہا تھا۔ ندی اور دریا کی جھنکار کے ساتھ بانسری کی یہ آواز جیسے دل میں اتر رہی تھی، غالباً کوئی تاجک دھن تھی۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ندیوں کے شور میں بانسری کی دھن پر ایسی دلپذیر موسیقی میں نے بوسٹن کے پورے آرکسٹرا میں آج تک نہیں سنی۔ چونکہ میں سفید گھوڑے پر سوار ایک اجنبی تھا، اس لیے فوراً ہی خانہ بدوشوں کی توجہ مبذول ہو گئی۔ بعض نے مجھ سے بیگانی زبانوں میں بات کرنی چاہی لیکن مجھے کچھ سمجھ نہ آئی، میں ان کو پشتو میں صرف یہی بتانے کی کوشش کرتا رہا کہ یہ جگہ ذوالفقار کے کارواں کے لیے مختص ہے۔ ذوالفقار کا نام لیتا تو میں نے اندازہ لگایا، لوگ اس کو اچھی طرح جانتے ہیں اور ان قبیلوں میں اس کی عزت بھی ہے۔
یہ عجیب و غریب احساس اس وقت مزید بڑھ گیا جب میری نظر ہندوکش کے پہاڑوں میں سے نکل آ رہے کوچیوں کے کارواں پر پڑی، جو خراماں اسی میدان کی طرف رواں دواں تھے۔ میں نے دور سے اپنے کارواں کو ایک نظر میں بھرا، پوری آن اور شان کے ساتھ گامزن دیکھا تو خیال آیا کہ یہ کس قدر یک جانی کی حالت ہے، جیسے یہ دو سو لوگوں کا، سو لدے اونٹوں، کئی گدھوں، کچھ بکریوں اور پانچ سو دنبوں پر مشتمل ایک مکمل مجموعہ ہے۔ یہ میرا کاروان تھا۔ یہ میرے لوگ تھے۔ یہ میرے لوگ۔۔۔ میرے لوگوں سے یکدم مجھے بوسٹن میں اپنے خاندان کی یاد آئی لیکن اسی لمحے میرے اندر تشکر بھی بھر گیا کہ اب یہ کوچی بھی میرا خاندان بن چکے تھے۔
پھر میری نظر مترا پر پڑی جو سرخ گھاگھرا پہنے، کس کر چوٹی باندھے، سانولی سلونی رنگت۔۔۔ اس کے ہمراہ ایلن تھی۔ ایلن نے جسم کے گرد چوغا لپیٹ رکھا تھا اور اس کا حسن سورج کی روشنی میں دمک رہا تھا۔ ان دونوں کو دیکھ کر مجھ سے ہلا جاتا تھا اور نہ ہی کچھ بولنے جوگا تھا۔۔۔ جیسے بت بن گیا۔ میں بس سفید گھوڑے کی پشت پر سوار ان دونوں کو اپنی جانب آتا ہوا دیکھتا رہا۔ ان میں سے ایک وہ خانہ بدوش تھی جس سے میں بے پناہ محبت کرتا تھا جبکہ دوسری ایک اجنبی، گوری عورت تھی جس کی میں مدد کرنا چاہتا تھا لیکن اس کو سمجھنے سے قاصر تھا۔ ان دونوں کو دیکھ کر مجھے ایک ہی خیال آیا کہ یہی تمھاری زندگی ہیں اور یہی دونوں تمھارے کاروان کا جوہر، اس کی روح ہیں۔ یہی تو اصل ہیں۔
مجھے اپنے اندر ایک ٹھہراؤ محسوس ہوا، جیسے سکون بھرا ہو۔ میں اسی عالم میں اطمینان سے سستانے لگا، چپ چاپ۔۔۔ اردگرد خانہ بدوشوں کے شور سے بے نیاز، بجتی ہوئی بانسری اور ندیوں کے شور سے بیگانہ ہو کر کوچیوں کو اپنی جانب بڑھتا دیکھتا رہا تا آنکہ ان میں سے تین لوگوں نے مجھے دیکھ لیا اور وہ دور سے ہی چلائے، 'وہ رہا۔۔ ملر۔۔۔۔ ملر۔۔۔ ہم بھی پہنچ آئے ہیں!'
'ہم یہیں پڑاؤ ڈالیں گے!' میں نے چلا کر جواب دیا اور گھوڑے کو کارواں کی طرف دوڑا دیا۔ میں کود کر اترا اور بے اختیار سب کے سامنے مترا کو بانہوں میں جھلا کر اس کے ہونٹوں پر بوسہ ثبت کر دیا۔ میں نے سرگوشی میں اسے کہا، 'میں ڈر گیا تھا۔۔۔'
'کاہے کو ڈر گئے تھے؟' اس نے آہستگی سے پوچھا،
'یہی کہ۔۔۔ تم کھو گئی ہو۔۔۔ تم نہیں آؤ گی!'
وہ اور نہ ہی ایلن اس مزاق پر ہنسی بلکہ اس نے میری جیب میں ہاتھ ڈال دیا اور پوچھا، 'ملر۔۔۔ تمھارے پاس افغانی پیسے ہیں؟'
میں نے چند سکے نکال کر دیے تو وہ کسی بچے کی خالص مسکراہٹ مسکائی اور اپنے گرد کاروان کے سبھی بچوں کو جمع کر لیا۔ وہ انہی کے بیچ گھری، کاروان کے سبھی بچوں کو لیے میدان میں اس طرف نکل گئی جہاں شور و غل زیادہ تھا۔ میں بھی بچوں کے ساتھ اس کے پیچھے، جیسے وہ پائیڈ پائپر ہو اور ہم سب بچے ہوں، ایک ایسی جگہ پہنچ گئے جہاں روسی ازبکوں نے ایک پرانا چرخ چوں جھولا لگا رکھا تھا۔ لکڑی کی ایک بھاری ساکٹ زمین میں گاڑ کر اس کے اوپر ایک مضبوط اور تیر جیسا سیدھا ستون کھڑا کر رکھا تھا جس کے سرے پر دس لچکدار شاخیں نکلتی تھیں۔ ہر شاخ کے کھلے سر پر جھولتے ہوئے لوہے کی سلاخ تھی، جس پر کاڑھ کر لکڑی کے گھوڑے بنا رکھتے تھے۔ ازبک کم از کم چھ مختلف زبانوں میں چلا چلا کر بچوں کو اپنی جانب متوجہ کر رہے تھے، دعویٰ تھا کہ یہ 'دنیا کے سب سے تیز رفتار گھوڑے تھے!'
'ان سب کو سواری کراؤ!' مترا نے ازبکوں کو حکم دیا اور سبھی کوچی بچے اور بچیاں لکڑی کے ان گھوڑوں پر سوار ہو گئے۔ ان کا شور و غل اور خوشی کے مارے جوش دیکھنے لائق تھا۔ جب سب تسلی سے بیٹھ گئے تو دو ہٹے کٹے ازبکوں نے بیچ میں سیدھے کھڑے ستون کے ساتھ لگے دو افقی لوہے کے ڈنڈوں کو دونوں ہاتھوں سے تھام، سینے کا زور بھی لگا کر دونوں اطراف سے آہستگی سے کے ساتھ ستون کو گھمانا شروع کیا۔ اس سے گھوڑے بھی حرکت میں آ گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے رفتار تیز ہونا شروع ہوئی۔ ہر چیز اتنی خوبصورتی سے توازن کے ساتھ، نپے تلے ہوئے انداز میں چل رہی تھی کہ مجھے اس سے بے اختیار اپنے دل میں موجزن آسودگی کے سمندر کا گماں ہونے لگا۔ ازبک اب زیادہ قوت نہیں لگا رہے تھے بلکہ گھوڑے دائرہ کی وجہ سے خود بخود ہی ہوا میں اڑ رہے تھے اور اس پر سوار بچے خوشی سے پاگل ہوئے جاتے تھے، جیسے زمین کے متوازی ہواؤں میں اڑتے ہوئے آسمان کو چھو لیں گے۔
'یہ گھوڑے مجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہیں۔۔۔ میری بھی یہی حالت ہوا کرتی تھی!' مترا نے بچوں کے شور میں چلا کر کہا۔ کوچیوں کے بچوں کی یہ عیاشی دیکھ کر جھولے کے گرد کئی دوسرے قبیلوں کے بچے بھی جمع ہو گئے، 'جب میں انہی کی طرح چھٹکی ہوا کرتی تھی، ابا مجھے ہر روز۔۔۔ بار بار جھولے جھلانے لاتا تھا!' یہ بتاتے ہوئے اس کا چہرہ تمتمانے لگا، جیسے وہ ایک دفعہ پھر چھوٹی سی بچی بن گئی ہو۔ پھر اس نے کسی کی پرواہ کیے بغیر میرے شانے سے سر لگا لیا اور سرگوشی میں بولی، 'ملر۔۔۔ میں آج پھر اسی طرح خوش ہوں جیسے کبھی بچپن میں ہوا کرتی تھی!'
پھر یوں ہوا کہ مترا کا اس طرح، بے اختیار میرے شانے پر سر ڈھلکنے کو کئی لوگوں نے دیکھا، طرح طرح کے کاروانوں کی کئی کئی عورتوں کے منہ کھلے رہ گئے اور کبیر میں خانہ بدوشوں کو پتہ چل گیا کہ ہم دونوں محبت میں گرفتار ہیں۔ اس انکشاف کے بعد کبیر میں میرا مشن اور بھی آسان ہو گیا، وہ یوں کہ ایک اجنبی امریکی ہونے کی حیثیت سے شاید اس دور دراز مقام پر، خانہ بدوشوں کے بیچ میری ایک نہ چلتی بلکہ لوگ مجھے خود سے الگ شمار کرتے اور میری حیثیت ایک مہمان سے زیادہ نہ ہوتی لیکن ایک ایسا اجنبی دیس کا فرنگی جو کوچی لڑکی سے محبت میں مبتلا ہے؟ خانہ بدوشوں کے بچے بچے کو مجھ سے رغبت ہو گئی۔ کئی تو ایسے تھے جو مجھے تحسین سے دیکھنے لگے اور کچھ نے مجھ پر ترس ہی کھایا کہ یہ میل زیادہ دیر چلنے والا نہیں تھا۔۔۔ لیکن ہر دو صورت مجھے یہ فائدہ ہوا کہ وہ آزادی اور گھلنے ملنے کا موقع مل گیا جو شاید کسی دوسرے اجنبی اور بالخصوص فرنگی کو تو ہر گز میسر نہ آتا۔
جب ازبکوں نے جھولا روک دیا تو مترا نے کوچیوں کے بچوں کو تسلی کے ساتھ گن کر ہمراہ کر لیا لیکن دوسری جانب میں نے دیکھا کہ اب ایلن نے اپنے گرد بھی کئی دوسرے بچوں کو جمع کر رکھا تھا۔ ان بچوں کی مائیں موجود نہیں تھیں اور نہ ہی ان کے پاس ازبکوں کو دینے کے لیے سکے تھے۔ خیر، ایلن نے ان بچوں کو ساتھ لیا اور سیدھا ازبکوں کے پاس جا پہنچی اور پھر میں نے اس کو پشتو میں مول تول کرتے سنا۔ بالآخر سودا یوں طے پایا کہ اس نے اپنے کنگن اتار کر ازبک کو دیے جس نے تانبے کو چھو کر اور موڑ مروڑ کر تسلی کی اور قیمت قبول کر لی۔ ان سبھی بچوں کو لکڑی کے گھوڑوں پر سوار کرا دیا گیا اور ازبکوں نے پھر ستون کو گول گول گھمانا شروع کیا، گھوڑے جیسے اڑنے لگے اور بچوں کی خوشی دیدنی تھی۔ ایلن وہیں دم بخود ڈھلتی ہوئی دھوپ میں کھڑی، ناخن چباتے ہوئے بچوں کو دیکھتی رہی۔ مجھے لگا جیسے آنسو بہے بغیر اس کا اندر رو رہا ہے۔
شام پھیلنے کے بعد چار دنبے بھی بھن کر تیار تھے۔ ایلن نے اپنا بھوننے کا اور برتانے کا کام سنبھال لیا، ہم سب کھانے کے لیے تیار تھے لیکن ذوالفقار ابھی تک لوٹ کر نہیں آیا۔ کچھ دیر مزید گزری تو ہمارے کارواں سے کچھ دور شور و غل ہوا اور ذوالفقار لوٹ آیا تھا۔ اس کے ساتھ دوسرے کاروانوں کے تیس کے قریب سردار اور ایک پورا تاجک طائفہ بھی تھا۔ ان سب نے الاؤ کے گرد قالینوں پر نشستیں سنبھال لیں اور تاجک ہلکی تھاپ پر ڈھول بجانے لگے۔ 'ایلن!' زوالفقار چلایا، 'یہ سب چھوڑو اور یہاں آؤ۔۔۔!' اس نے ایلن کو بھنتے ہوئے دنبوں کے پاس رکھوالی کرتے دیکھ کر کہا اور اسے بازو سے لگائے محفل کے بیچ، خالی دائرے میں لے آیا اور اس کے ساتھ مل کر پوری توانائی سے ناچنے لگا۔ سبھی تماشا کرنے لگے اور چاروں طرف زوردار تالیاں اور سیٹیاں بجنے لگیں، ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہے تھے اور خوب شور شرابا ہو گیا۔ کچھ دیر یہی عالم رہا اور پھر زوالفقار ایلن کو وہیں دوسرے لوگوں کے ساتھ چھوڑ میری طرف آیا، اس کی سانس پھولی ہوئی تھی، 'ملر۔۔۔' وہ ہنستے ہوئے بولا، ' تم بھی میرے ساتھ آؤ۔۔۔ میں تمھیں ایک انتہائی اہم آدمی سے ملواتا ہوں!' وہ مجھے جوش سے پاگل ہو رہے، دواری ناچ ناچتے لوگوں کے بیچ میں سے گزارتا ہوا ایک اونچے قد کے ہٹے کٹے، بھاری بھرکم شخص کے پاس لے گیا جس کی عمر چالیس کے پیٹے میں رہی ہو گی، سر پر گنجاپن اترا ہوا تھا اور پیروں میں فر کے بڑے جوتے پہن رکھے تھے۔ فر اور اون کا ہی ایک چوغا جس پر کمر کے گرد پیتل کی پیٹی باندھ رکھی تھی۔ اس کا چہرہ گول مٹول اور اچھی طرح شیو کی ہوئی تھی جبکہ ترچھی آنکھوں سے پتہ چلتا تھا کہ یہ شخص منگولوں کی سلف میں سے ہے۔ ذوالفقار نے اسے شانوں سے ہلا کر متوجہ کیا اور مجھ سے کہا، 'یہ کرغز۔۔۔ شاکر ہے۔ بندوقیں سمگل کرتا ہے اور شمال کے تقریباً علاقے میں جرمن رائفلوں کا کاروبار اسی کے پاس ہے۔ مجھے بھی اسی نے بندوق دلوائی تھی۔۔۔ عمدہ چیز ہے!'
اس پر بھاری بھرکم کرغز نے مسکرا کر سر ہلا دیا اور میں نے دیکھا کہ اس کے دانت نسبتاً بڑے اور بہت ہی زیادہ سفید دکھائی دیے، لیکن ان کے بیچ درزیں واضح تھیں، 'تم انگریز ہو؟' اس نے ٹوٹی پھوٹی پشتو میں پوچھا،
'امریکی!' میں نے جواب دیا،
یہ سن کر وہ بہت خوش ہو گیا، ہنستے ہوئے دونوں ہاتھوں سے ہوا میں مشین گن بنائی اور خیالی گولیاں برساتے ہوئے بولا، 'ٹھاہ، ٹھاہ، ٹھاہ۔۔۔۔ شکاگو!' وہ چلایا، 'میں نے سینما میں دیکھا تھا!'
مجھے شاکر کی زندہ دلی پسند آئی تھی لیکن اس کی امریکیوں سے متعلق، شر انگیزی اور پرتشدد نسبت سے آگاہی بالکل نہیں بھائی۔ تبھی میں نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ترکی بہ ترکی دونوں ہاتھ باندھ کر سیدھا زمین پر پیروں کے بھار بیٹھ گیا اور یوں ظاہر کیا جیسے روسی رقص کرتا ہوں، چلایا اور کہا۔۔۔'ارے، میں نے بھی تو سینما میں یہی دیکھا تھا!'
'نہیں۔۔۔ نہیں!' اس نے میرے طنز کو سمجھتے ہوئے مڑ کر کہا، 'یہ رقص نہیں ہے!' اور ہنسنے لگا۔ پھر اس نے تاجکوں کو زور سے پکار کر اپنی مرضی کی موسیقی بجانے کو کہا اور اس سر سرور میں، تھاپ پر کرغزوں کا اصل رقص پیش کرنے لگا۔ یہ رقص واقعی دلکش تھا اور اس کی مہارت کمال تھی۔ وہ فر کے بوٹوں سے زمین پر ٹپ ٹپ نہیں بلکہ جیسے زور سے اسٹیمپ کرتے ہوئے، دھپ دھپ کر رہا تھا۔ پھر وہ ڈھول کی تھاپ کے ساتھ چکر کھاتا، جیسے درویشوں کا گھیرا ہو، سر جھٹکاتا اور پیروں کی دھپ دھپ، دھپ دھپ۔۔۔ ایک تعدد پر رواں ہو گیا اور دائرہ بنانے لگا۔ اس دوران اس کی نظر ایلن پر پڑ گئی جو ایک دفعہ پھر بھنتے ہوئے دنبوں کے پاس جا کھڑی ہوئی تھی۔ وہ اتن نما رقص کرتا ہوا سیدھا اس کے قریب پہنچ گیا اور اس کو کمر سے تھام کر گھمایا اور ایلن کا چوغا ہوا میں گھیرے سے اڑا۔ وہ گھومتی ہوئی پھر خالی جگہ پر آن پہنچی، جیسے کوئی گڑیا ہو۔ شاکر نے بیچ گھومنے کے، اس کا ہاتھ تھام لیا۔ ان دونوں کی جوڑی بہت جچ رہی تھی، اگرچہ ایلن کو شاکر کے قدموں کے ساتھ پیچ در پیچ رقص نبھانے میں دشواری تھی لیکن کرغز نے اس کو نہایت آسانی کے ساتھ یوں گھومنے اور لچکانے پر مجبور رکھا کہ ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ اس کے ساتھ، اسی کی طرح رقص کر رہی ہے۔ تاجکوں نے موسیقی تیز کر دی، تھاپ بڑھنے لگی اور کرغز کے قدموں میں تیزی آ گئی۔ اتنی تیزی کہ ایلن کے لیے زمین پر پاؤں ٹکانا مشکل ہو گیا تو شاکر نے آگے بڑھ کر اس کی کمر میں دونوں ہاتھ ڈال کر گھومتے ہوئے اسے ہوا میں اٹھا لیا اور ویسے ہی، گھومتے ہی گھومتے اسے واپس اپنی جگہ پر، چولہے کے پاس لا کر کھڑا کیا۔ میں نے محسوس کیا کہ ایلن مسحور ہو گئی تھی، اسے چکر آ رہے تھے جبکہ شاکر اس کے سامنے گھٹنا ٹکائے بیٹھا تھا۔ رقص ختم ہوا تو چاروں طرف شور مچ گیا، تالیاں۔۔۔ سیٹیاں اور تحسین کے ڈونگرے!
'اب ہم کھانا کھاتے ہیں!' وہ چلایا تو ایلن کو بھی جیسے ہوش آ گیا۔ وہ فوراً ہی کام میں جت گئی اور ہم سب بھوکوں کی طرح مٹن، پلاؤ اور نان پر بل پڑے۔
جب سب کھانا کھا چکے تو قہوے کا دور چل رہا تھا۔ ایسے میں، ذوالفقار نے کھڑے ہو کر ڈاکٹر شواٹز کو بلایا اور پہلو میں کھڑا کیے، اعلان کرنے لگا، 'یہ جرمن دکتور ہے۔ اس کے پاس بہت سی دوائیں ہیں!' اس نے ایک خیمے کی طرف مڑ کر اشارہ کیا اور چلا کر کہا، 'مفتون! وہ دوائیں یہاں لے آؤ۔۔۔' مفتون نے فوراً دو آدمیوں کو ساتھ ملایا اور ساری دوائیں لا کر اس کے پیروں میں رکھ دیں، تب ذوالفقار نے کہا، 'اگر تمھارے یہاں کوئی بیمار ہے، کوئی درد اور مشکل ہے۔۔۔ اسے صبح یہاں لے آؤ!'
'اس کی قیمت کیا ہو گی؟' کرغز شاکر نے پوچھا،
'کوئی قیمت نہیں ہے!' ذوالفقار نے اسے یقین دہانی کرائی اور اگلی صبح میں جاگا تو ہمارے خیمے کے باہر مرد، عورتیں اور بچے۔۔۔ طرح طرح کے چہرے، لباس اور قبائلی رنگ سموئے کھڑے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔ شواٹز کی چاندی ہو گئی تھی، وہ انہماک سے ہر مریض کو دیکھتا، اس کی مرض جانچتا اور ضرورت کے مطابق دوائی اور جراحی کرتا۔ ایلن بھی اس کے ساتھ کام میں مشغول تھی، جیسے نرس ہو۔ وہ مریضوں کے ساتھ گھل مل رہی تھی، پشتو میں ان کا احوال پوچھتی اور شواٹز کی مدد کرتی۔ مجھے دیکھ کر شواٹز نے خوشی سے پھولے نہ سماتے ہوئے کہا، 'ملر۔۔۔۔ تمھیں اندازہ نہیں ہے کہ ایک عرصے بعد بغیر کسی مشکل اور تردد کے مریضوں کا معائنہ کرنے میں کتنا لطف آ رہا ہے۔ ان عورتوں کو تو دیکھو۔۔۔ یہ کس قدر آسانی سے، سیدھا میرے ساتھ بات کر رہی ہیں اور جیسے، جہاں ضرورت پڑتی ہے۔۔۔ خود ہی کپڑا ہٹا کر بتاتی ہیں کہ کیا مسئلہ ہے؟ اگر میں اس کے بعد کابل یا قندھار چلا گیا تو مجھے یقین ہے کہ میں ان لوگوں سے نبٹنے کا طریقہ سمجھ گیا ہوں۔ میں وہاں بھی ایسا ہی ماحول بنا سکتا ہوں۔ میرے دفتر میں، کسی مریض کو آئندہ مشکل نہیں ہو گی!'
مجھے یہاں تماشا کرتے زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ ایسے میں ذوالفقار بھی یہیں چلا آیا، اس نے میرے سفید گھوڑے کی لگام تھام رکھی تھی۔ اس نے اردگرد مریضوں کا جائزہ لیا، شواٹز اور ایلن کو کام میں مصروف دیکھ کر اطمینان کا اظہار کیا اور مجھ سے کہا، 'میرے ساتھ آؤ۔۔!' میں اس کے ساتھ چلا گیا اور ہم دونوں اپنے گھوڑوں پر سوار کبیر کے میدان میں دوسرے کاروانوں کے خیموں کی طرف نکل گئے۔ اب ذوالفقار نے نہایت منظم طریقے سے اپنا کام شروع کیا اور ہر کارواں کے خیموں کا چکر لگانے لگا۔ ہر جگہ وہ دو کام کرتا جاتا، اول تو اس کارواں کے تاجروں سے بات کرتا، ان کے مال کا معائنہ کرتا اور زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کا کوئی نہ کوئی گر بتاتا جبکہ دوسری جانب اس کارواں کے لوگوں کو مخاطب کر کے انہیں اپنے بیماروں کو شواٹز کے پاس بھجوانے کا مشورہ دیتا۔
میں ذوالفقار کی مہارت کا قائل ہو گیا، اس کی فہم اور فراست۔۔۔ بھانت بھانت کے لوگوں، کاروانوں کے ساتھ اس کے گھل مل جانے، ان کی سمجھ کا گرویدہ ہو گیا۔ وہ مسکراتا، کوئی چٹکلا چھوڑ دیتا یا میرا حوالہ دے کر مزاق کرتا۔۔۔ مجھے یوں محسوس ہوا کہ وہ گھاگ تاجر، جیسے کوئی پیشہ ور آڑھتی۔۔۔ یا اس سے بھی کہیں بڑھ کر کوئی شخص ہے۔ وہ اپنے شگفتہ انداز سے مول تول اور صرف بات چیت کو معنی خیز بنا دیتا تھا اور لوگ اس کی خوش دلی اور اخلاق کے گرد یوں جمع ہوتے جاتے جیسے شہد کی مکھیاں چھتے کے آس پاس بھنبھناتی ہیں۔ میں نے یہ جانا کہ دراصل اس روز، میں کوچیوں کے ایک کاروان کے سردار نہیں بلکہ کسی بہترین سیاسی رہنما کی معاونت میں موجود تھا۔ وہ ایسا شخص لگ رہا تھا جو سادہ مسکراہٹ اور واضح ایمانداری دکھا کر کسی کا بھی دل جیت سکتا ہے، اس کے لہجے میں نرمی اور آنکھوں میں عام لوگوں کے لیے ایک ایسا تصور ہے، جس کو اگر وہ حاصل کر لیں تو موجیں ہو جائیں گی، خوشحالی ہو گی اور سب کے دن پھر جائیں گے۔ اس وقت ذوالفقار کی مثال کسی سحر انگیز، جادوگر کی سی تھی۔
خیر، اسی سرگرمی میں ہم اپنے کاروان سے خاصے دور، شمال کے کاروانوں میں جا پہنچے۔ ان کے خیمے بھی نمدے کے بنے ہوئے تھے اور ہر خیمے کے گرد کھال کی گول چاردیواریاں بھی بنا رکھی تھیں۔ ان لوگوں کی آنکھیں یورو ایشیائی تہذیب سموئے ہوئے تھیں، لمبوتری، سرمے کی تیلیوں سے سیاہ آنکھیں۔۔۔ جب ہنستیں تو چندھیا جاتیں۔ ہم کافی دیر ان کے خیموں میں موجود رہے، ان خانہ بدوشوں کی گداز جسموں والی شباب سے پُر عورتوں نے یاک کے دودھ سے بنی پنیر اور سبز قہوے سے تواضع کی اور جب کھانے کا وقت آیا تو ہم نے بھنا ہوا مٹن اور تندور کی گرما گرم خمیری روٹیاں کھائیں۔ میں اس دوران یونہی وسط ایشیاء کے سبھی خانہ بدوشوں سے فرداً فرداً گپیں لڑاتا رہا اور اس دوران مجھے ان کے بارے نہایت اہم معلومات حاصل ہوئیں۔ ان کے روز و شب، عبادت، مناجاتیں، تجارت کے سامان اور ان کی وادیوں میں پائی جانے والی طرز زندگی۔۔۔ الغرض بہت کچھ پتہ چلا۔ مجھے تسلی ہو گئی کہ ان خانہ بدوشوں کے ہمراہ کوئی روسی فوجی ہر گز نہیں تھا اور شاید کوئی سیاسی اہلکار، کارندہ یا جاسوس بھی نہیں تھا لیکن مجھے اس کا یقین نہیں ہوا۔ کبیر کے مقام پر یہ اجتماع کچھ یوں محسوس ہوا کہ یہ دنیا کے چند چیدہ تجارتی میلوں میں سے ایک تھا بلکہ کہو تو روس کے نوگورود اور جرمنی کے لائپزش میں دنیا کے معروف ترین سالانہ تجارتی میلوں جتنا بڑا میلہ تھا۔ ایک چیز ایسی تھی، جس کا پتہ لگانے میں ناکام رہا۔۔۔ یہ انتہائی اہم تھی کہ مجھے کسی صورت علم نہ ہو سکا کہ آخر روسی خانہ بدوش آمو دریا کیسے پار کرتے ہیں؟ مجھے اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں کہ اس ایک چیز کے سامنے باقی سبھی، ہر طرح کی معلومات ہیچ تھیں۔ امریکیوں کو بس اسی سوال کے جواب کی تلاش تھی، سفارتخانے نے مجھے اس واحد کڑی کا پتہ لگانے بھیجا تھا لیکن میں یہ پتہ لگانے میں اب تک سخت ناکام چلا آیا تھا۔
رچرڈسن نے مجھے کبیر کے مقام پر نوٹ پیڈ استعمال کرنے اور کسی بھی طرح معلومات کو کاغذ پر جمع کرنے سے منع کیا تھا۔ اسی لیے مجھے یہ سب یاد رکھنے میں سخت دشواری ہو رہی تھی۔ میں رات گئے لوٹا تو بستر پر لیٹ کر دیر تک دن بھر کی کاروائی، قبیلوں اور کنبوں کے نام اور ان کے اطوار دہراتا رہا۔ اس وقت اس میلے میں مختلف قبیلوں کی شرکت بارے یادداشت کچھ یوں ہے:
ہندوستان کے اصل پاوندے، فارس کے دری بلوچ، چترال کے گٹھے ہوئے شاہی جبکہ دیر اور سوات کے گوجر۔
جنوبی افغانستان کے پشتون، براہوی اور کوچی قبیلے۔
وسطی افغانستان سے پشتونوں کے درانی جن کا آجکل راج تھا، غزلی جن کا پہلے کبھی راج رہا تھا، متجسس قزلباش اور فارسیوں کے چند قبیلے تھے جو تجارت میں یکتا تھے۔
شمالی افغانستان سے تاجک، ازبک اور کرغز تھے جن کا روس میں آمو دریا کے اس پار روسیوں سے بھی تعلق واسطہ تھا۔ ان کے علاوہ قرہ قالپاق اور نورستانی تھے جن کی جڑیں سکندر کے دور میں اس کی یونانی فوجوں سے جا ملتی تھیں۔ ہزارہ بھی تھے جو چنگیز خان کی فوجوں کے اولاد تھے۔
مغربی افغانستان سے جمشیدی، فیروزکوہی، تیموری اور عرب خانہ بدوش۔
فارس سے مشہدی اور نشاپوری قبیلے، ساکر، ملاح اور قزلباشوں کے چند قبیلے تھے۔
روس سے خالص تاجک، ازبک، کرغز اور سرت قبیلے تھے۔ چند قازق بھی تھے اور سمرقند کے تاجروں کی بہتات تھی۔
دور دراز علاقوں جیسے پامیر سے بھی چند بے نام خانہ بدوش، کاشغر اور یارکند کے چینی قبیلے تھے۔ اسی علاقے سے ہنزہ اور گلگت کے نہایت خوبرو پہاڑیے بھی موجود تھے۔
یوں ہر جگہ۔۔۔ فارس، افغانستان، ہندوستان، روس، چین الغرض کہاں کہاں سے نہیں؟ خانہ بدوش کبیر کے اس میدان میں جمع تھے۔ ہاں یاد آیا۔۔۔ تورکمان بھی تو تھے۔ وہ نہایت پراسرار اور دانا لوگ تھے جو خاصے نڈر اور شاطر واقع ہوئے تھے۔ انہیں مول تول میں ملکہ حاصل تھی۔
جب میں نے خانہ بدوشوں کے ان سبھی قبیلوں کے خیموں اور چرٹی چار دیواریوں میں کچھ وقت بیتا لیا تو مجھے خود پسندی کا احساس ہوا۔ وہ یوں کہ ہندوستان اور افغانستان میں موجود سبھی فرنگیوں میں، میں واحد شخص تھا جو اتنی دور تک آن پہنچا تھا۔ کبیر میں خانہ بدوشوں کے ساتھ بیٹھا، ان کے بیچ موجود تھا۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ ابھی تک مجھے صرف باہر سے، ظاہر ہی دیکھنے کو ملا تھا۔۔۔ اندرون کی کوئی کہانی، کوئی بات پتہ نہیں چلی تھی۔ پانچویں دن ذوالفقار نے گھوڑے تیار کروائے اور مجھ سے کہا، 'آج تم واقعی کبیر۔۔۔ اس کا اصل قلب دیکھو گے!' اور پھر مجھے ساتھ لیے دریاؤں کے سنگم پر گھوڑوں پر سوار پہنچ گیا۔ یہاں ایک جگہ پر کچھ علاقہ گھیر لگا کر ممنوع قرار دیا گیا تھا۔ سختی کے ساتھ یہاں صرف مردوں اور مردوں میں بھی کبیر کے کارندوں اور قبیلوں کے سرداروں کو داخلے کی اجازت تھی۔ ہم ایک نہایت اونچے، روسی طرز کے ایک خیمے کے سامنے جا کر رک گئے جس کے گرد اچھا خاصا پہرہ تھا اور رنگ برنگے جھنڈے لہرا رہے تھے۔ اس کے اندرون بھی خاصی تزئین اور آرائش کر رکھی تھی۔ چاروں طرف ترپال کی دیواروں پر خنجر، بندوقیں، تلواریں سجا رکھی تھیں۔ فرش پر بہت ہی خوبصورت، دیدہ زیب بیس فٹ سے بھی زیادہ لمبوترے فارسی قالین بچھا رکھے تھے۔ یہ کبیر کا قلب، اسی خیمے سے خانہ بدوشوں کے اس عارضی شہر کا نظام چلایا جا رہا تھا۔
خیمے میں، سامنے کی طرف ایک چبوترہ نما تخت بچھا رکھا تھا، جس پر سمرقند کی بیش قیمت قالین بچھا کر تکیہ اور گاؤ بھی لگا ہوا تھا۔ اس تخت نما چبوترے پر دو شرفاء بیٹھے تھے جو کبیر کے والی تھے۔ پہلا تو شاکر تھا۔ کرغز شاکر سمگلر تھا جو اسلحے کا کاروبار کرتا تھا اور گزشتہ رات ہمارے کارواں کی دعوت میں اس نے خوب رقص کیا تھا اور خاصا بے تکلف واقع ہوا تھا۔ لیکن چونکہ اس وقت وہ ایک حاکم تھا، اس کا رعب اور دبدبہ دیکھنے لائق تھا۔ اس کی جسامت، قد و قامت، سر بلند اور آنکھیں تیز۔۔۔ ایسی کہ نظر سامنے کھڑے آدمی کو اپنے آر پار ہوتی محسوس ہوتیں۔ الغرض اس کی رو رو شان کا پتہ دے رہی تھی۔ دعوت میں اس سے جڑی بے تکلفی اور ہنسی مزاق اب کہیں نظر نہیں آ رہا تھا اور سنجیدگی ہی سنجیدگی تھی۔ یہ سمجھ میں آنے والی بات تھی، ایک لاکھ لوگوں سے بھرا یہ عارضی ہی سہی، بہیتر شہر چلانا انتہائی اہم کام تھا۔
دوسرا شخص ایک عمر رسیدہ ہزارہ تھا۔ یہ منگولوں کی اولاد میں سے تھا اور اگر کابل میں ہوتا تو اس کے سینکڑوں دشمن ہوتے لیکن بہرحال یہاں اس کا راج تھا۔ اس نے قراقل کا اچھا خاصا، وسیع کاروبار جما لیا تھا۔ اس برس بھی، کبیر کے میلے میں قراقل کی اون اور چمڑی کا تقریباً مال اس کے ہاتھ تلے سے چل رہا تھا اور ہر چرم کے منافع میں اس کا برابر حصہ لازم تھا۔ یہی نہیں بلکہ میلے کی تمام تر تجارت کا انتظام اس کا پلا تھا۔ اس قدر مالدار ہونے کے باوجود بھی ہزارے نے پارہ پارہ، بوسیدہ لباس پہن رکھا تھا، جیسے کوئی دہقان ہو۔ گفتگو اور بالخصوص سنجیدہ مکالمات میں اس کی آنکھیں موندھی رہتی تھیں اور ایسا لگتا جیسے بے خبر، سو رہا ہے یا اس کی توجہ نہیں ہے۔۔۔ ایسا ہرگز نہیں تھا۔ وہ ایک شاطر آدمی تھا، تاجروں کی رگ رگ سے واقف تھا۔ 'جب میں پہلی دفعہ اپنے ابا کے ساتھ اس جگہ آیا تھا۔۔۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے، یہ اس وقت بھی شریف تھا!' ذوالفقار نے بوڑھے ہزارہ کی بابت بتایا اور میں نے اس سے پوچھا کہ کیا میں اس سے بات کر سکتا ہوں؟
بوڑھا ہزارہ بہت شائستہ انداز میں خاصی شستہ پشتو بول سکتا تھا۔ میری بات سن کر بولا، 'اس خیمے میں قدم رکھنے والے تم پہلے فرنگی ہو!' میں نے اس سے پوچھا کہ کیا ماسکو سے روسیوں نے کبھی یہاں قدم رکھا تو اس پر وہ مسکرایا اور کہا، 'یہاں کمیونسٹوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے!' پھر اس نے کہا، 'اس برس میلے میں ایک خصوصی محفل کا انتظام کیا گیا ہے۔ تم یقیناً اس سے محظوظ ہو گے' لیکن میں نے اسے جواباً کہا کہ یہ میلہ پہلے سے ہی خاصا دلچسپ ہے۔
یہ تو دو شرفاء کا احوال تھا لیکن اس خیمے میں موجود ہر شخص ہی اپنے آپ میں بڑی بلا تھا۔ ہر آدمی کسی نہ کسی چیز میں ماہر تھا، اس کا نام تھا اور نسبت جڑی تھی۔ احساس ہوا کہ یہ کوئی عام، تھڑے ہوئے خانہ بدوش نہیں بلکہ گاگھ ہیں۔ مجھے تو سب سے زیادہ ایک عمر رسیدہ منگول بھایا جس کی عمر ستر برس کے قریب رہی ہو گی اور اس نے گلگتی ٹوپی پہن رکھی تھی۔ وہ قراقرم کے پہاڑوں سے اتر کر آیا تھا اور اس کے پاس صرف دو گدھے اور ایک گھوڑا تھا۔ خیمے میں موجود تقریباً سبھی لوگوں کا لباس معمولی تھا لیکن اس شخص کے کپڑے تو سخت گندے مندے بھی تھے۔ اس کی حالت دیکھنے لائق تھی لیکن اس کے باوجود وہ اس عمر میں بھی، پوپلے منہ کے ساتھ منہ میں ہر دم میٹھے پتاشے دبائے چپڑ چپڑ مباحثوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا تھا۔ وہ دنیا کے بلند ترین پہاڑی سلسلوں کی بیابان راہگزاروں پر آٹھ ہفتے کا سفر طے کر کے یہاں تک پہنچا تھا۔ جوں ہی برف پگھلنا شروع ہوئی، یہ تنگ گھاٹیوں اور دشوار گزار دروں سے میں سے گزرتا ہوا، گدھوں پر سونا لادے سفر پر نکل کھڑا ہوا تھا۔ مشہور تھا کہ ایسا کٹھن سفر تو شاید خانہ بدوشوں کے بھی بس کی بات نہیں تھی لیکن یہ پھر بھی کر گزرا۔ اس نے مجھے بتایا، 'میں پچھلے چھیاسٹھ برس سے یہ سفر کرتا آیا ہوں۔۔۔ پہلے اپنے آبائ کے ساتھ اور پھر تن تنہا، سبھی مجھے جانتے ہیں۔ میں زرگر ہوں!'
'کبھی کسی مشکل سے پالا نہیں پڑا؟' میں نے متجسس ہو کر پوچھا،
'ارے نہیں۔۔۔ میں نے آج تک کسی رہزن کو گولی نہیں ماری!' زرگر چہک کر بولا،
لیکن بعد میں ذوالفقار نے بتاتے ہوئے کہا، 'وہ درست کہہ رہا ہے۔۔۔ اس نے کبھی کسی رہزن کو گولی نہیں ماری بلکہ ہمیشہ عام، شریف اور راہ چلتے لوگوں کو ہلاک کیا ہے۔ تمھارا کیا خیال، اس کے پاس یہ سونا کہاں سے آتا ہے؟ ویسے بھی، تقریباً چالیس برس تک اس کی گزران قراقرم کی شاہراؤں پر رہزنی سے جڑی رہی!'
ہمیں کابل سے روانہ ہوئے چار ہفتے گزر چکے تھے۔ کبیر کے میلے میں خوب رونق لگی ہوئی تھی لیکن پھر ایک دن، ایک تاجک چوری کے الزام میں پکڑا گیا۔ تاجک پر الزام تھا کہ اس نے کسی ازبک کا مال چرایا تھا۔ چور کو گھسیٹ کر مرکزی خیمے میں لایا گیا اور دونوں شرفاء کے سامنے پیش کر دیا گیا جو اس وقت کسی دوسرے معاملے پر بات چیت کر رہے تھے۔ تاجک کے پاس دفاع کے لیے کچھ نہیں تھا، عینی شاہدین نے اسے رنگے ہاتھوں، مال سمیت پکڑا تھا اور اسے اقبال جرم کرنا ہی پڑے گا، یا شاید اس کی بھی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔
ہم سب جمع ہو کر دونوں شریفوں کے فیصلے کا انتظار کرنے لگے۔ ان دونوں کے بیچ لمبی بحث ہوئی اور اس دوران مجھے احساس ہوا کہ اس لاکھ سوا لاکھ لوگوں کے اجتماع اور عارضی شہر پر دنیا کی کسی قوم اور ملک کا کوئی زور نہیں تھا۔ یہ کوئی باقاعدہ ریاست نہیں تھی جسے باقی دنیا نے تسلیم کر رکھا ہو لیکن اس کے باوجود اس کا وجود تھا۔ مجھے سمجھ نہ آئے کہ آخر یہ کس طرح کی جگہ ہے؟ دراصل یہ ہماری سمجھ بوجھ سے بڑھ کر معاملہ تھا، وہ دنیا جس کو ہم جانتے تھے۔۔۔ یہ جگہ تو اس سوچ سے بہت ہی دور تھی۔ اب اندازہ لگائیے، اس ریاست کو دنیا میں باقی کسی ملک اور قوم کی کوئی پرواہ نہیں تھی، بین الاقوامی معاملات اور عالمی سیاست، یہاں کوئی معنی نہیں رکھتی۔ یہ کوئی باقاعدہ ریاست نہیں تھی لیکن پھر بھی اس میں عدالت کا پورا انتظام تھا؟ یہ کیسی ریاست ہے جو دو شریف مل کر چلاتے ہیں۔۔۔ ویسے بھی، یہ شریف کون ہیں؟ یہ تو جج بھی تھے۔ ان کو دیکھو، ایک اسلحے کا سمگلر ہے جبکہ دوسرا افغانستان میں بن جاتی کا آدمی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان دونوں کی اس شہر کے انتظام پر ایسی گرفت ہے جو شاید دنیا میں کہیں بھی، مقبول ترین رہنماؤں کے ہاتھ بھی نہیں آتی۔ ان کا کہا اٹل ہے۔ آخر ایسا کہاں ہوتا ہے؟ یہ دونوں اگر اس تاجک کو موقع پر ہلاک کر دینے کا حکم سنا دیتے تو کوئی چوں چراں تک نہیں کر سکتا تھا اور وہ یہ فیصلہ کرنے میں آزاد تھے۔ کچھ دیر تک مشاورت جاری رہی اور پھر شاکر نے فیصلہ سنایا، 'اس کا دایاں ہاتھ کاٹ دو!'
میں چھوٹی موٹی چوری پر اس قدر سخت فیصلہ سن کر دنگ رہ گیا تھا۔ میں غیر ارادی طور پر اٹھ کھڑا ہوا اور پشتو زبان میں اونچی آواز میں معافی کے عوض چوری شدہ سامان کی قیمت ادا کرنے کی خواہش ظاہر کی لیکن بوڑھے ہزارے نے مجھے ٹوک کر کہا کہ دراصل میرے اس اقدام کی یہاں کوئی تک ہی نہیں بنتی۔ وہ نرمی سے بولا، 'چوری شدہ مال پہلے ہی برآمد ہو چکا ہے۔ اب معاملہ اس بیچارے چور کو سزا دینے کا بھی نہیں ہے بلکہ ہمارا مقصد میلے میں دوبارہ ایسی کسی بھی طرح کی حرکت سے عوام کو باز رکھنا ہے۔ احکامات کی تعمیل کرو!' اس کے لہجے میں تحکم لوٹ آیا۔
یہ سن کر تاجک تھر تھر کانپنے لگا لیکن خیمے کے خادموں نے اس کی گھبراہٹ کی ذرہ برابر پرواہ نہیں کی اور اسے گھسیٹ کر باہر لے گئے۔ خیمے کے اندر خاموشی چھا گئی اور ایسے میں باہر تاجک کے چیخنے کی آواز سنائی دی۔ تھوڑی ہی دیر میں ایک ازبک ایک ہاتھ میں خونم خون خنجر اور دوسرے میں ایک کٹا ہوا انسانی ہاتھ اٹھائے سیدھا اندر آ گیا۔
یہ دیکھ کر میری طبیعت سخت مکدر ہو گئی، قریب تھا کہ میں بیش قیمت سمرقند کی فارسی قالینوں پر قے کر دیتا لیکن بوڑھے ہزارے نے آگے بڑھ کر مجھے تسلی دی اور پھر مجھے ساتھ لیے ایک طرف چلا گیا، 'یہ درشتی ہماری مجبوری ہے۔ ہم جابر نہ ہوں تو معاملات نہیں چل سکتے۔ میں پچھلی کئی دہائیوں سے بطور شریف اس طرح کے کئی فیصلے کرتا آیا ہوں لیکن مجھے امید ہے کہ میرے ہاتھوں۔۔۔ یہ اس طرح کا آخری فیصلہ ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ تم میرے بارے کسی بھی طرح بد گمانی نہ کرو۔۔۔ یہ ذاتی نہیں بلکہ انتظامی ذمہ داری کا تقاضا ہے!'
'کیا تم ریٹائر ہو رہے ہو؟' میں نے پوچھا،
'کل۔۔۔' اس نے کسی افسوس کے بغیر کہا، 'کئی لوگ سمجھتے ہیں کہ تمھارے دوست ذوالفقار کو ہی اگلا شریف چنا جانا چاہیے!'
یوں معاملہ بالکل صاف ہو گیا۔ ذوالفقار نے کمال ہوشیاری سے بوڑھے ہزارہ کی اپنے اختیار سے دستبرداری کے ارادوں کو پہلے ہی جان لیا تھا اور پچھلے کچھ عرصے، کم از کم بارہ مہینے سے جانشینی کی تیاری کرتا آیا تھا۔ اس نے ایلن، شواٹز اور مجھے بالکل ویسے ہی استعمال کیا جیسے کہ ہم کہیں کسی بڑی کارپوریشن، جیسے جنرل موٹرز میں کوئی افسر بالا پروموشن کے لیے دفتری سیاست کھیلتے ہوئے اپنے آس پاس لوگوں، ماتحتوں اور دوستوں کو استعمال کر سکتا ہے۔ سچ کہوں تو ذوالفقار کی یہ طرز منافقت دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی، اس کی ذات میں یہ نقص نکل کر صاف سامنے آ گیا تو مجھے پہلی بار اطمینان ہو گیا۔ وہ اس لیے کہ اس سے ثابت ہوا کہ دنیا کے بارے میرا نقطہ نظر بالکل درست تھا اور ایلن غلط تھی۔ دنیا بھر میں، سبھی آدمی پنسلوانیا میں ایلن کی باپ کی ہی طرح ہوتے ہیں۔ امریکہ یا افغانستان، مردوں کے ارادے اور ہوس کی وہی گھسی پٹی اور فرسودہ کہانی ہے جس کو وہ الفاظ اور انداز بدل بدل کر دہراتے رہتے ہیں۔ یہ سوچ کر تسلی تو ہوئی لیکن اس کے ساتھ مجھے اچانک ایسی چیز کا ادراک ہوا کہ میرا اندر لرز کر رہ گیا۔ میں سوچنے لگا، چاہے جو بھی ہو۔۔۔ یہ بہرحال امریکہ نہیں ہے اور مرد بھلے ایک سے ہوں، حالات مختلف ہیں۔ اگر ذوالفقار نے اب تک ایلن کی فش کاری کو برداشت کیا ہے تو اس کی صرف یہی وجہ تھی کہ وہ کبیر میں اپنے مقاصد کا حصول چاہتا تھا۔ ایک دفعہ اس کا مقصد پورا ہو گیا اور اس کو مزید ضرورت نہ رہی تو پھر وہ شواٹز اور ایلن کے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ تبھی، اس سے بھی زیادہ گھمبیر خیال نے آن گھیرا، ان دونوں کو تو چھوڑو۔۔۔ وہ میرے ساتھ کیا کرے گا؟ بات یہ تھی کہ کبیر کا شریف کسی کو بھی برباد کر سکتا تھا، اس کے احکامات پتھر پر لکیر ہوتے ہیں۔ یہاں، اس کو روکنے والا کون تھا؟
اسی پریشانی کے عالم میں، میں دوڑا دوڑا اپنے خیموں میں پہنچا اور شواٹز کو جا لیا، 'ادھر۔۔۔ شریفوں کے خیموں میں بہت ہی بھیانک واقعہ پیش آیا ہے!' میں نے بات شروع کی لیکن یہ بتانا فضول تھا کیونکہ میں نے دیکھا کہ ایلن لالٹین پکڑے کھڑی تھی اور شواٹز اس وقت تاجک کے کٹے ہوئے ہاتھ کا زخم دھو کر جلانے کی تیاری کر رہا تھا۔
'آخر ہوا کیا تھا؟' شواٹز نے پوچھا،
'اس جگہ دونوں شریف مطلق اتھارٹی ہیں۔ آدھا گھنٹہ قبل اس تاجک کو معمولی چوری کے الزام میں پکڑا گیا تھا اور اس کے مقدمے کا فیصلہ چار منٹ کے اندر اندر سنا دیا گیا اور اگلے تین منٹ میں اس پر عمل درآمد بھی ہو گیا۔ مجال ہے، کسی نے چوں چراں کی ہو؟ ایلن۔۔۔ یہ وہی قدیم دور کی زندگی ہے جس کی تم چاہ رکھتی ہو، دیکھ لیا؟'
تاجک کا خونم کٹا ہوا بازو اور کبیر کے طریق انتظام بارے سوچ کر ہی ایلن کو غش آ گیا۔ وہ گرنے لگی لیکن تبھی تاجک نے اس کو بے اختیار تھامنے کی کوشش کی لیکن اس کا کٹا ہوا دایاں بازو اس کے چوغے کے فر سے الجھ گیا۔ دندانہ دار زخم کی نسیں اون سے لگتے ہی درد کی اتنی شدید ٹیس اٹھی کہ تاجک بلبلا کر چیخنے لگا۔ اس کی چیخ سن کر ایلن کو ہوش آ گیا اور اس نے فوراً ہی سہارے کے لیے سامنے پڑی میز کو تھام لیا۔ اس کے چہرے پر اڑتی ہوائیاں دیکھ کر میری رہی سہی ہمت بھی جواب دے گئی۔ افغانستان، امریکہ سے بہت ہی زیادہ مختلف جگہ تھی اور میں سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ چلو، ہم کچھ نہ کچھ کر بھی لیں گے۔۔۔ یہ خوبصورت عورت کیا کرے گی؟ یہ ان پیچیدگیوں سے جان کیسے چھڑائے گی جن میں ہنسی خوشی، اپنی مرضی سے گھر گئی تھی؟
اگلے دن ذوالفقار نے خوب تیاری کی، تازہ شیو بنائی اور خوشبو کے ساتھ نیا جوڑا پہن لیا۔ وہ مجھے ساتھ لیے شریفوں کے خیمے میں پہنچ گیا جہاں پہلے ہی رش لگی ہوئی تھی۔ قراقل کے بوڑھے تاجر نے اپنی جگہ پر کھڑے ہو کر اپنے عہدے سے دست برداری کی خواہش ظاہر کی اور پھر کہا، 'تمھیں چاہیے کہ کسی جوان آدمی کو چنو، اگلی پیڑھی کو موقع دو۔ ایسے شخص کا انتخاب کرو جس پر اگلی کئی دہائیوں تک تکیہ کر سکو!'
مجھے یہ تو علم نہیں کہ آیا ذوالفقار نے پہلے ہی دھاندلی سے اس اجلاس کا رخ اپنی جانب موڑ رکھا تھا یا نہیں لیکن جوں ہی بوڑھے ہزارہ نے اپنی بات ختم کی، ایک کرغز اٹھ کھڑا ہوا۔ اس شخص کو میں نے کوچیوں کے خیمے میں کئی بار آتے جاتے دیکھ رکھا تھا، وہ بولا، 'چونکہ ایک شریف پہلے ہی شمال میں آمو دریا کے اس پار، میرے قبیلے سے تعلق رکھنے والا شاکر ہے۔۔۔ میری رائے میں دوسرا شریف جنوب سے ہونا چاہیے!' یہ انتہائی زبردست چال تھی کیونکہ یہ نہ صرف ایک منطقی مطالبہ تھا بلکہ عہدہ برا ہونے والا بوڑھا ہزارہ بھی جنوب سے تعلق نہیں رکھتا تھا۔ یعنی، اس سے قبل دونوں شریف شمال سے آئے تھے، بلکہ ہزارہ تو شمال میں بھی افغانستان کے اس حصے سے تعلق رکھتا تھا جہاں شمال کی انتہا تھی۔
کرغز کی یہ چال کام کر گئی اور اس کے پیچھے پیچھے ایک ازبک اٹھ کھڑا ہوا۔ یہ شخص بھی کوچیوں کا خاصا حامی تھا، 'اگر جنوب سے ہی شریف لانا ہے تو کیوں نہ ہم سب کوچی ذوالفقار کو منتخب کر لیں؟ وہ یاروں کا یار ہے!'
اس پر اجلاس میں کسی بھی قسم کی ہلچل نہیں ہوئی بلکہ بحث مزید سنجیدگی کی طرف ڈھلکنے لگی۔ کافی دیر تک مکالمہ جاری رہا، پھر خانہ بدوشوں نے ایک عمل شروع کیا جس کی مجھے قطعاً سمجھ نہیں آئی لیکن یقیناً یہ اس خیمے میں جمع سبھی چیدہ لوگوں کی فرداً فرداً رضامندی حاصل کرنے سے متعلق تھا۔۔۔ سادہ الفاظ میں ووٹنگ کا پیچیدہ عمل تھا۔ قصہ مختصر، جوش و خروش بڑھنے لگا اور ماحول پوری طرح ذوالفقار کے حق میں صاف ہو گیا۔ ان میں سے چند سرداروں نے مجھے پشتو میں بتایا، 'ہم نے تمھارے دوست کا انتخاب اس لیے کیا ہے کیونکہ اس نے مفت دوائیوں اور علاج کے ذریعے خدمت سے ہمیں متاثر کر دیا تھا!' جب میں باہر نکلا تو اس وقت تک ذوالفقار کا انتخاب مکمل ہو چکا تھا اور اس وقت اسے بیسیوں قبائلی سرداروں نے، جنہیں اس نے پچھلے چار ہفتوں سے متاثر کرنے کی سرتوڑ کوشش کی تھی، گھیر رکھا تھا اور خوب ہلا گلا ہو رہا تھا۔
میں کوچیوں کے خیموں کی طرف چلا آیا اور یہاں آتے ہی شواٹز اور ایلن کو جا لیا، 'تم نے سنا؟' میں نے دور سے ہی چلا کر پوچھا،
'کیا ہوا؟' جرمن نے ایک بوڑھی ازبک عورت کی پنڈلی کا معائنہ کرتے ہوئے پوچھا،
'ذوالفقار کو کبیر کا نیا شریف چن لیا گیا ہے!'
'اس کا مطلب؟' ایلن نے پوچھا،
'اس کا مطلب یہ ہے کہ۔۔۔ تم نے اس تاجک چور کا حال دیکھا تھا؟ اس کا مطلب طاقت اور اختیار ہے!' یہ سن کر اس کا رنگ زرد ہو گیا۔
لیکن ایلن سے قبل ہی، شواٹز کو پہلی دفعہ ذوالفقار کے چنے جانے کے مطلب کا صحیح معنوں میں ادراک ہو گیا۔ ان سے آہستگی کے ساتھ پزل کے سارے ٹکڑے جوڑتے ہوئے کہا، 'ذوالفقار پچھلے کئی مہینوں سے یہ بساط بچھا رہا تھا۔ اسے پہلے ہی پتہ تھا کہ کبیر میں انتخاب ہو گا، اسی لیے وہ خانہ بدوشوں کے دل جیتنے کے لیے مجھے، یعنی ڈاکٹر کو علاج معالجے۔۔۔ ایلن کو تفریح اور ملر۔۔۔ تمھیں پیسے اور طاقت دکھانے ساتھ لایا تھا۔ غارت ہو۔۔۔ اس نے ہم سب کو استعمال کیا ہے!'
ایلن نے احتجاج کیا، 'تم خواہ مخواہ ہی اس بات کے عجیب و غریب مطلب نکال رہے ہو!'
لیکن شواٹز نے اس کی کہی ان سنی کرتے ہوئے مزید کہا، 'جب تک اسے ہماری ضرورت تھی، تب تک تو کچھ نہیں کہا لیکن اب جب کہ۔۔۔۔' اس نے خوفزدہ آنکھوں سے میری جانب دیکھا اور میں نے سر ہلا کر اس کے تجزیے کی تصدیق کر دی۔ اس کا رنگ مزید اڑ گیا۔
'میں کبیر چھوڑ رہا ہوں!' میں نے کہا، 'ابھی اور اسی وقت۔۔۔۔'
'نہیں!' ایلن نے چلا کر کہا، 'ملر۔۔۔ تم خواہ مخواہ سنسنی پھیلا رہے ہو۔ ہمیں بھاگنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ میں نے جو تمھیں بامیان میں کہا تھا، شواٹز اور میں اس بات پر دل و جان سے یقین رکھتے ہیں۔ اگر ہمارا خاتمہ یوں ہی لکھا ہے تو پھر یوں ہی سہی۔۔۔ مجھے کوئی دکھ اور افسوس نہیں ہو گا!'
اس نے شواٹز کو بوسہ دیا اور میں نے دیکھا کہ وہ دونوں محبت میں اندھے ہو کر اپنی بات پر ہی اڑ گئے۔ شاید میں بھی ایلن کے نیک خیالات اور جذبات کی رو میں بہہ جاتا لیکن ایسا نہیں ہوا، میں احمق نہیں تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ پچھلے چند ہفتوں کے دوران اس نے جب بھی جذبات میں بہہ کر تقریریں کی تھیں اور لیکچر سنائے تھے۔ اس وقت بھی میں ہمیشہ ایک ہی بات سوچتا چلا آ رہا تھا کہ مجھے ایلن کی نیک نیتی پر شک نہیں کرنا چاہیے لیکن میں اس کی منطق سے قطعی طور پر متفق نہیں ہوں۔ اب، نہ جانے کیوں، میں اس کو سمجھ نہیں پایا۔۔۔ شاید ایلن کا مترا اور میرے بارے خود سے الٹے خیالات، ماضی کی طرف لوٹ جانے کے ارمان اور نہایت آسانی کے ساتھ نظراللہ اور ذوالفقار کو چھوڑ دینے کے فیصلے نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا۔ اب میں نہ صرف اس کی منطق بلکہ اس کی نیک نیتی کا بھی کچھ خاص قائل نہیں رہا تھا۔
بہرحال، میں نے اس دن کبیر نہیں چھوڑا بلکہ آنے والے دنوں میں محتاط رہ کر ٹوہ لگانی شروع کر دی۔ ذوالفقار میرے ساتھ بدستور ایک داماد اور بیٹے کی طرح پیش آتا رہا۔ مجھے پکا یقین تھا کہ وہ میری کبیر میں موجودگی اور میرے مشن بارے اچھی طرح جانتا ہے، وہ یہ جانتا ہے کہ امریکی سفارتخانے نے مجھے یہاں جاسوسی کے لیے بھیجا تھا۔ یہ مترا کے ساتھ میرے تعلقات سے کہیں زیادہ گھمبیر معاملہ ثابت ہو سکتا تھا لیکن باوجود اس کے، انتخاب کے بعد ابھی تک میں نے اس کے رویے میں کوئی غیر معمولی تبدیلی نہیں دیکھی بلکہ اب وہ بجائے بڑھ چڑھ کر مجھے معلومات فراہم کر رہا تھا۔ ایک دن کہنے لگا، 'اس دفعہ ہم یہ افواہیں سن رہے ہیں کہ شاید روسی قبیلوں کا کبیر میں یہ آخری سال ہے۔ شاید اگلے برس روسی اپنے خانہ بدوشوں کو آمو دریا پار کرنے کی اجازت نہ دیں۔۔۔ یہی وجہ تھی کہ میں شریف بننے کا خواہاں تھا۔ اگر اگلے برس شاکر لوٹ کر نہ آیا تو پھر۔۔۔۔'
یوں اس نے اپنا آخری پتہ بھی کھول کر رکھ دیا۔ اس کو کچھ نہ کچھ کن سوئی تھی کہ جلد ہی شاکر اپنے عہدے پر برقرار نہیں رہ پائے گا، جس کے نتیجے میں ذوالفقار واحد شریف رہ جائے گا۔۔۔ کہو، صرف اس کا اختیار ہو گا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ آخر روسی سرحد کو کیوں بند کرنا چاہتے ہیں تو اس پر جواب دیا، 'جب ہندوستان آزاد ہو جائے گا تو وہ بھی اپنی سرحدیں بند کر دیں گے۔ جلد ہی کوچیوں کو بھی اپنے دیس، افغانستان کی سرحدوں کے اندر محدود ہونا پڑے گا!'
'ایسا ہوا تو پھر تم کیا کرو گے؟' میں نے پوچھا،
'اسی وجہ سے تو رچا نے کوچیوں کا سارا پیسہ جہلم کے بینک میں جمع کروا دیا تھا۔۔۔' اس نے اعتراف کیا، 'ہم جس قدر ممکن ہو، پیسہ جمع کر رہے ہیں اور چند برسوں کے اندر ہم زمینیں خرید لیں گے' وہ پہلے تو مزید کچھ کہتے ہوئے ہچکچایا لیکن پھر یوں گویا ہوا جیسے اپنے بیٹے سے مخاطب ہو، 'میں محب خان کے ساتھ یہی بات چیت کر رہا تھا کہ جب ہلمند پر ڈیم بن جائے تو۔۔۔ ہم کوچیوں کے لیے بھی صحرا کے آس پاس کافی جگہ بن سکتی ہے!'
'تم نے اس سلسلے میں کچھ پیش رفت کی ہے؟ کاغذات جمع کروائے ہیں تا کہ۔۔۔۔ مستقل بسر کر سکو؟'
'ہم اس جگہ کو سرما کے لیے مسکن بنانے کی سوچ رہے ہیں۔۔۔' اس نے جواب دیا، 'ہم دوبارہ کبھی ہندوستان نہیں جائیں گے۔ بہار کے موسم میں تجارت کے لیے کبیر آیا کریں گے۔۔۔ لیکن پورا کارواں نہیں لائیں گے۔ کارواں وہیں بسر رکھے گا اور کھیتوں میں کام کرے گا!'
'کیا باقیوں کو اس بات کا علم ہے؟'
'وہ اس پر یقین نہیں کریں گے!' ذوالفقار نے ہنس کر کہا، 'لیکن رچا اور میں نے فیصلہ کر لیا ہے۔۔۔ بہت جلد، ایسا ہی ہو کر رہے گا!'
اس لمحے میرے ذہن میں ایک دم وہی مکالمہ گونجنے لگا جو کچھ دن قبل اسی مسئلے پر میرے اور ایلن کے بیچ ہوا تھا، 'تمھیں وہ صبح یاد ہے جب دیہاتیوں نے ہمیں اغوا کار سمجھ لیا تھا؟' میں نے پوچھا۔ 'ایلن کا خیال تھا کہ افغانستان کو واپس کاروانوں کی زندگی کی طرف لوٹ جانا چاہیے اور میں جرح کر رہا تھا کہ کاروان ہمیشہ آگے ہی بڑھتے ہیں۔۔۔ اور مستقبل دیہاتوں اور شہروں میں بسر کرنے سے جڑا ہے' یہ کہہ کر میں چپ ہو گیا کیونکہ یہ واقعی ایک فتح یابی کا احساس تھا لیکن اس کے ساتھ یاس بھی در آیا، 'یا خدا!' میں نے جوش سے چلا کر کہا، 'تمھارے ساتھ۔۔۔ کاروان میں رہتے ہوئے ان دیہاتوں کے بیچ آزادی سے سر اٹھائے گزرنا کس قدر خوب تجربہ تھا، کیا تمھارا گاؤں ان دیہاتوں سے بہتر ہو گا؟'
'جب تم آزادی سے آشنا ہو۔۔۔' ذوالفقار نے نرمی سے جواب دیا، 'ایسے دیہات ہمیشہ ہی باقیوں سے بہتر ہوتے ہیں!'
'اگر ایسا ہے تو پھر تم اس آزاد زندگی کو ترک کیوں کر رہے ہو؟'
'کیونکہ آزادی کو قدیم تصور ہمارے ہاتھوں سے پھسلتا جا رہا ہے۔۔۔ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اب فوجی ہماری تلاشی لیتے ہیں، ٹیکس نافذ ہو رہے ہیں اور جگہ جگہ چوکیاں بن گئی ہیں؟ ایک دن ایسا بھی آئے گا جب وہ ہمارے خیموں میں گھس کر تلاشی لیں گے۔ کبیر کو ہی دیکھ لو۔۔۔ تمھارا کیا خیال ہے، ہم مزید یہاں کتنے برس تک دنیا کی نظروں سے اوجھل رہ سکتے ہیں؟ یہاں جمع ہونا مشکل سے مشکل تر ہوتا جائے گا!'
میں نے خیموں پر نظر دوڑائی۔ یہاں مجھے سکون اور واقعی خوشی ملی تھی، 'یہ سیاہ خیمے یہیں رہیں گے۔۔۔ میں اور تم ختم ہو جائیں گے، ہم باقی نہیں رہیں گے لیکن یہ سیاہ خیمے۔۔۔'
'نہیں!' اس نے درستگی کرتے ہوئے سپاٹ لہجے میں کہا، 'سیاہ خیموں کا خاتمہ قریب ہے!'
'کیا ایلن کو تمھارے ان خیالات سے آگاہی ہے؟'
'اس نے خود ہی اندازہ لگا لیا ہو گا۔ شاید اسی لیے۔۔۔۔' اس نے جملہ مکمل نہیں کیا بلکہ پیشہ ور انداز میں ہنس کر کہا، 'ایلن جیسے لوگوں کے آزادی اور خانہ بدوشوں کی زندگی بارے نپے تلے، ایک ہی لکیر میں جڑے ہوئے خیالات ہیں۔ وہ اس لکیر کے فقیر ہیں اور اس کے علاوہ کچھ بھی سوچنے اور سمجھنے کے قابل نہیں ہوتے۔ ہم ہر گز ایسے نہیں ہیں۔۔۔ ہم لکیر کے فقیر نہیں ہیں۔ مجھے افسوس ہے کہ ہم نے اسے مایوس کیا!'
'لیکن تم نے شریف بننے کے لیے اس قدر محنت کی ہے۔۔۔ اگر سیاہ خیمے نہ رہے تو پھر اتنی کوفت کا مقصد کیا تھا؟'
'خیمے نہیں رہیں گے۔۔۔ تجارت تو جاری رہے گی!'
'تم تاجر بننا چاہتے ہو؟ بوڑھے ہزارہ کی طرح؟'
'آج سے دس سال بعد ان خیموں کی تعداد آدھی سے بھی کم رہ جائے گی۔ صرف چند ہی گنے چنے۔۔۔ میں، ہزارہ اور شاکر جیسے لوگ ہوں گے جو اونٹوں پر سامان لادے، نوکروں کے ساتھ تجارت کرنے نکلا کریں گے۔ ہم آج کے مقابلے میں دگنی تجارت کریں گے اور پانچ گنا زیادہ منافع کمایا کریں گے۔ ملر۔۔۔ ویسے بھی، اتنے بڑے کارواں کو چلانا کوئی آسان کام نہیں ہے اور فائدہ مند بھی نہیں ہے۔ تم خود ہی سوچو، ان عورتوں اور بچوں کا طویل سفر کرنے کا مقصد کیا ہے؟'
'کیا باقی بھی تمھاری رائے سے اتفاق کرتے ہیں؟'
'شریفوں کے خیمے میں سبھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں۔۔۔ بالخصوص روسی تو بہت ہی زیادہ متفق ہیں!' پھر اس نے وہ بات کہی جو اکثر شواٹز کہا کرتا ہے اور مجھے اس کے منہ سے سن کر حیرت بھی ہوئی۔ ذوالفقار نے کہا، 'ایسے یا تیسے، ہر صورت کارواں چلتے رہتے ہیں اور وہ بہت دور۔۔۔ نکل جاتے ہیں۔ کسی کو کچھ فرق نہیں پڑتا!'
کبیر کا میلہ ختم ہونے کا وقت آن پہنچا تھا۔ مجھے پتہ چلا کہ عام طور پر ہر برس اس کا اختتام انتہائی شاندار انداز میں ہوا کرتا ہے۔ وہ یوں کہ روایتی طور پر کھیل کا اہتمام ہوتا ہے۔ ایک دن صبح سویرے ذوالفقار نے مفتون کو مجھے بلا لانے کو بھیجا اور مفتون نے پاتے ہی پوچھا، 'کیا تمھیں بزکشی پسند ہے؟'
'بزکشی؟' میں نے پوچھا تو پتہ چلا کہ یہ پولو کی افغان قسم ہے۔
میں نے کہا، 'ذوالفقار سے کہو، مجھے بزکشی کا کوئی علم اور نہ ہی تجربہ ہے!' لیکن مترا نے مفتون کی بات سنتے ہی تالیاں بجائیں اور کہا ،'ابا سے کہو۔۔۔ ملر ضرور کھیلے گا!'میرے پاس کوئی چارہ نہ رہا اور حامی بھر لی لیکن جب گھوڑے پر سوار ہو چکا تو اس نے گھوڑے کا پوری طرح معائنہ کیا، پٹے اور لگامیں کھینچ کر تسلی کی اور مجھے متنبہ کرتے ہوئے بولی، 'بہتر یہی ہے کہ ہر چیز کو دو دفعہ گرہ لگا کر باندھ دو۔۔۔ بزکشی بہت ہی خطرناک ہو سکتی ہے!' یہ سن کر ہی میرا دم بیٹھ گیا۔
میں ذوالفقار کے ساتھ مشرق کی جانب کبیر کے کھلے میدانوں میں نکل گیا جہاں لوگوں کا جم غفیر جمع تھا۔ بچوں کی خوشی دیدنی تھی اور خانہ بدوش عورتیں بھی سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر یہیں آن بیٹھی تھیں۔ ایلن اور مترا بھی آ گئیں۔ اس ہجوم کے وسط میں ایک کھلا میدان تھا جس میں کئی گھڑ سوار بوڑھے ہزارہ کے گرد جمع تھے جو اس وقت کھیل کے اصول اور ضوابط طے کر رہا تھا۔ وہ گھوڑے پر سوار تھا لیکن اسے سخت مشکل درپیش تھی کیونکہ ایک طرف وہ اپنے گرد جمع کھلاڑیوں کو سمجھانے بجھانے کی کوشش کر رہا تھا اور دوسری طرف اس نے بائیں بغل تلے ایک سفید رنگ کی بکری داب رکھی تھی جو آزاد ہونے کی کوشش کر رہی تھی۔ بوڑھے ہزارہ نے اسی تگ و دو میں گول کی دو لکیروں کی نشاندہی کی جن کے بیچ قریباً دو سو گز کا فاصلہ تھا۔ پھر اس نے چلا کر پوچھا، 'شاکر! کیا سب تیار ہیں؟ سب نے اپنی پٹیاں باندھ لیں؟' اس پر کرغز نے جواباً چلا کر اثبات کا اظہار کیا۔
شاکر نے مجھے بھی بازو پر باندھنے کے لیے ایک سفید رنگ کی پٹی دی اور کہا، 'جان لڑا دو!'
بزکشی کا یہ میچ آمو دریا کے جنوب اور آمو دریا کے شمال کی جانب کھیلا جا رہا تھا۔ شاکر کی ٹیم میں ازبک، تاجک، کازک اور کرغز جبکہ ذوالفقار کے ساتھ ٹیم میں افغانستان، ہندوستان، چین اور فارس کے خانہ بدوش تھے۔ ہر ٹیم میں چالیس کھلاڑی تھے لیکن میں نے بعد میں اندازہ لگایا کہ دراصل کسی نے ان کا درست شمار کیا اور نہ ہی کسی نے ان کی کھیل میں قابلیت اور طاقت کا اندازہ لگانے کی ضرورت محسوس کی۔
ذوالفقار کی ٹیم نے سفید رنگ کی پٹیاں باندھے مشرق کی جانب گول کے سامنے پوزیشن سنبھال لی جبکہ روسی دوسری جانب سیاہ پٹیاں باندھے مقابلے کے لیے تیار کھڑے تھے۔ میدان کے وسط میں بوڑھے ہزارہ نے بکری کو چاروں ٹانگوں سے پکڑ رکھا تھا، ایسے میں ایک ازبک نے خنجر نکالا اور ایک ہی جھٹکے میں بکری کا سر کاٹ دیا۔ فضا میں کٹے سر کی بکری کے نرخرے سے دلخراش چیخ بلند ہوئی اور خون کا فوارہ چھوٹ گیا۔ بکری کے کٹے ہوئے گلے سے نکلتی ہوئی خرخراہٹ اور جان جانے کی سختی میں ہی، بوڑھے ہزارے نے اسے ہوا میں اونچا اچھال دیا اور میدان سے نکلنے کے لیے مڑ گیا۔ بکری کی چیخ جیسے سیٹی ہو، ایسے میں کھیل کا آغاز ہو گیا اور خون سے لت پت، ابھی بکری کی جان بھی نہیں نکلی تھی لیکن ایک تاجک گھڑ سوار نے آگے بڑھ کر اسے ہوا میں ہی دبوچ لیا۔ وہ اسے ایک ہی ہاتھ میں اٹھائے، سر سے بلند کیے سیدھا ہمارے گول کی طرف گھوڑے کو دوڑانے لگا۔ ابھی وہ چند گز کا فاصلہ ہی طے کر پایا تھا کہ تینوں اطراف سے ہمارے گھڑ سواروں نے اسے بیچ میں ہی جا لیا، دبوچ کر لتاڑا اور پھر انتہائی روکھے پن سے جس کے بس میں جیسے آیا، اسے مار پیٹنے لگے۔ وہ تاجک بھی بہت ہی سخت جان تھا، پہلے تو اس نے کسی کو قریب نہیں پھٹکنے دیا اور پھر جب قابو میں آنے لگا تو کچھ دیر تک خرخراتی اور خون میں لت پت بکری کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ لیکن بالآخر ہمارے ایک تورکمانی گھڑ سوار نے چکر کاٹ کر سیدھا بیچ میں گھستے ہوئے، تاجک کو اپنے گھوڑے کی لگام سے زوردار چپت لگائی، جس سے وہ گڑبڑا گیا۔ اس نے فوراً ہی بکری کو دبوچا اور دوسرے گھڑسواروں کو چیرتا ہوا نکل گیا۔ تاجک کی حالت ابتر ہو گئی، اس کے منہ سے خون بہہ رہا تھا اور میرا خیال تھا، اسے کافی چوٹیں اور دابیں آئی تھیں۔
ہمارا تورکمان بکری نکال لے گیا اور اب سرپٹ روسی گول کی طرف گھوڑے کو دوڑ لگوا دی لیکن بھاری بھرکم ازبکوں اور کرغزوں نے شور سے میدان سر پر اٹھا لیا، اس کو آگے پیچھے، دائیں اور بائیں جانب سے گھیر لیا اور پندرہ گز کے فاصلے پر جا لیا۔ اس کو اتنی زور سے ٹکریں ماریں کہ تورکمان کے ہوش اڑ گئے۔ روسی نہ صرف اس سے بکری اچک کر لے گئے بلکہ اسے گھوڑے سے بھی گرا دیا اور میں نے دیکھا کہ ہمارا تورکمان پتھریلے میدان میں دور تک لڑھکتا چلا گیا۔ اس کو اچھی خاصی خراشیں آئی تھیں لیکن کسی نے کھیل روک کر اس کی خبر لینا مناسب نہیں سمجھا۔ کچھ دیر بعد وہ خود ہی سنبھل کر اٹھ کھڑا ہوا، گھوڑے پر سوار ہو کر پھر سے وحشی کھیل کے بیچ میں جا گھسا۔ اس دوران ہمارے افغان کھلاڑیوں نے بھی ازبک کو نہیں بخشا بلکہ اسے نکلتے ہی پھر سے دبوچ لیا۔ ہمارے ایک کوچی نے اتنی زور سے ٹکر ماری کہ ازبک اپنے گھوڑے سے اچھل کر پتھروں میں جا گرا اور بکری اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر ہوا میں اچھل گئی۔ اس سے پہلے کہ بکری میدان میں گرتی، شاکر بجلی کی سی تیزی سے آگے بڑھا اور بیچ ہوا میں ہی ایک ٹانگ سے بکری اٹھا لی اور لڑتا، بھڑتا۔۔۔ کسی کو قریب نہ پھٹکنے دیتا ہوا گھڑسواروں کے چنگل کو چیر کر نکل گیا اور سیدھا ہمارے گول کا رخ کیا۔ بزکشی کا یہ کھیل ختم ہونے کے قریب تھا کیونکہ ہمارے کسی سفید گھڑسوار کے لیے شاکر کو روک پانا ممکن نہیں تھا۔
تبھی مجھے بزکشی کے کھیل میں ایک نئے اور اس کے اصل پہلو کا ادراک ہوا۔ ہوا یوں کہ جب فتح یاب ہوتی ہوئی روسی ٹیم نے دیکھا کہ ان کا کپتان چند لمحوں میں کھیل ختم کر دے گا، بجائے خوشی کا اظہار کرتے۔۔۔ انہوں نے کھیل کا خاتمہ مناسب نہیں سمجھا۔ چنانچہ ان ہی کی ٹیم میں سے ایک ازبک خونخوار انداز میں آگے بڑھا اور گھوڑے کو شاکر کے پیچھے سرپٹ لگا دیا۔ وہ ابھی ہمارے گول سے معمولی فاصلے پر تھا کہ اسی کی ٹیم کے ازبک نے اسے جا لیا۔ پیچھے سے وار کیا، اسے دھکا مارا اور گردن کے پیچھے چٹاخ ضرب لگائی۔۔۔ شاکر ہڑبڑا کر پیچھے مڑا لیکن ازبک نے اسے موقع نہیں دیا اور بکری کو اچک کر واپس میدان کے وسط میں لے آیا اور کھیل دوبارہ صفر سے شروع ہو گیا۔ اس پر تماشائیوں کے ہجوم میں دونوں ہی اطراف نے تالیاں بجا کر داد دی اور کھیل ختم ہونے کی بجائے جاری رہا۔ یوں اس کے بعد ایسا ہی ہوتا رہا۔۔۔ بار بار جب کو کھلاڑی گول کرنے کے قریب ہوتا، اس کے اپنے ہی ساتھی اس کو دبوچ لیتے، دھکے مکے اور ٹکریں مارتے اور اسے گھوڑے سے گرانے کی کوشش کرتے۔ بکری دوبارہ میدان میں پہنچ جاتی اور کھیل جاری رہتا۔ یوں کہو، آخر میں ایک گھڑ سوار ایسا ہوتا جو مخالفوں کے چالیس اور اپنے انتالیس گھڑسواروں کے ساتھ برسرپیکار ہوتا اور گول کرنے کی کوشش میں مار کھاتا۔ اکثر تو اس کے اپنے ہی ساتھی زیادہ مار پیٹ کرتے تھے۔
تقریباً ساٹھ منٹ تک یہی تماشا جاری رہا، ہماری حالت پہچانی نہیں جا رہی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے آدھے گھڑسوار خونم خون، انہیں خراشیں اور چوٹیں آ چکی تھیں۔ میں اس دوران زیادہ بیچ میں نہیں گھسا کیونکہ وہاں عجب گھمسان کا رن پڑ رہا تھا لیکن حالت خراب تھی۔ اسی عالم میں، میں تماشائیوں کے ہجوم کے پاس سے گھوڑا دوڑاتا گزرا تو کئی بچوں نے سیٹیاں بجا کر میرا مزاق اڑایا اور کئی تو آوازے کسنے لگے، 'او فرنگی۔۔۔ ہوووو۔۔۔ دبکو مت۔۔۔ باہر نکلو!' وغیرہ۔ میں نے ایلن کو دیکھا جو کھیل کے وحشیانہ پن کو دیکھ کر ششدر تھی جبکہ مترا نے مجھے دیکھ کر غصہ نکالا، 'میں نے تمھیں گھوڑا کس کام کے لیے دلایا تھا؟ وہ چلائی، 'کچھ کرتے کیوں نہیں!'
چنانچہ، میرے پاس ایک دفعہ پھر سوائے اس کے کوئی چارہ نہ رہا کہ سیدھا اس غل غپاڑے میں جا گھستا۔ میں نے ایسا ہی کیا لیکن میرے ہاتھ کچھ نہ آیا، میں جان ہی بچاتا رہ گیا۔ کچھ دیر یوں ہی تماشا چلتا رہا لیکن پھر اچانک روسی ہتھے سے اکھڑ گئے اور انہوں نے زوردار حملہ کر کے راستہ آزاد کر دیا اور ایسے میں، میں نے دیکھا کہ ایک قازق بکری کا بچا کھچا دھڑ اٹھائے، سیدھا میری ہی جانب بڑھ رہا ہے۔ یہ تو طے تھا کہ اگر میں اسے نہ روکتا تو کھیل ختم ہو جاتا، اسی لیے میں نے اسے دور سے ہی دھمکا کر واپس ازدحام میں دھکیلنا چاہا لیکن وہ بھی روسی تھا، مجال ہے اس پر کوئی اثر ہو؟ اس نے بھی طے کر لیا تھا کہ سیدھا مجھ پر چڑھائی کر کے ڈرا دے گا اور میں راستہ چھوڑ دوں گا چنانچہ وہ سیدھا چلا آیا۔ جہاں تک میرا تعلق تھا، میرے خیال میں اس کی حکمت عملی کامیاب ہو جاتی کیونکہ میں راستہ چھوڑنے پر تیار ہو چکا تھا لیکن یہ محب خان کا روسی گھوڑا۔۔۔ غارت ہو، یہ تو اسی کام کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ میرے لگاتار لگاموں کو کھینچنے کو بالکل خاطر میں نہیں لایا اور کھر ٹھونک کر قازق پر چڑھائی کر دی۔ سفید گھوڑا اتنی زور سے اس قازق کے گھوڑے سے ٹکرایا کہ ہم دونوں گھڑسوار چکرا کر رہ گئے۔ چونکہ میں پہلے ہی سنبھل چکا تھا، جم کر بیٹھا رہا لیکن روسی تو جیسے گھوم کر رہ گیا، اس نے اپنے گھوڑے سمیت چکر کھایا اور اس دوران، مجھے حیرت تو ہوئی لیکن اس کے ہاتھ سے بکری چھوٹ گئی جو میں نے قضائی پکڑ لی۔
لیکن اس سے قبل کہ میں روسیوں کے گول کی طرف سرپٹ دوڑ لگاتا، مجھے اپنی پشت پر شاکر کی شبیہ دکھائی دی جو مجھے چکرایا ہوا دیکھ کر حملہ کرنے کے در پے تھا۔ میں نے بکری کو مضبوطی سے پکڑ لیا اور گھوڑے کو ان کے گول کی طرف موڑ لیا لیکن وہ میری چال سمجھ گیا اور بائیں بازو سے مجھے بیچ راستے میں ہی گردن سے آن لیا اور اتنی زور سے کان کے نیچے چٹاخ سے تھپڑ کی ضرب لگائی کہ میں تقریباً اچھل کر گھوڑے کی گردن سے جا چمٹا۔ مجھ سے غلطی یہ ہوئی کہ واپس سنبھلنے کی کوشش میں بکری ظاہر کر دی جسے شاکر نے دیکھتے ہی ہاتھ ڈال دیا لیکن میں اسے اتنی آسانی سے جانے نہیں دے رہا تھا۔ اس نے واقعتاً بکری کو کھینچا تو میرے ہاتھ میں بکری کی ایک لات رہ گئی جبکہ شاکر بچا کھچا دھڑ چیر کر ساتھ لے گیا۔
اس کی لگائی ضرب سے ابھی تک میرا سر چکرا رہا تھا لیکن اس کے باوجود میں نے اس کا پیچھا کیا لیکن یہ بے سود تھا کیونکہ شاکر کو خالی راستہ مل چکا تھا اور اب وہ سیدھا ہمارے گول کی جانب بڑھ رہا تھا۔ اگرچہ اس کی ٹیم کے ایک ازبک نے بیچ راہ میں اس کا سامنا کرنے کی کوشش کی لیکن اس نے اپنے ساتھی کو بھی خوب مزہ چکھایا۔ دور ہی سے بکری کا دھڑ لہرا کر سیدھا اس کے منہ پر دے مارا جس سے وہ گھوڑے سے الٹ کر گر گیا اور یوں، شاکر سیدھا ہمارے گول میں گھس گیا۔ بزکشی۔۔۔ مراد افغان پولو، یعنی جنٹل مینوں کے کھیل کا اختتام ہو گیا۔ روسیوں نے بلکہ کہو۔۔۔ شاکر نے میدان مار لیا تھا۔
اسی کھلاڑیوں میں سے آدھے سے زیادہ کو اندرونی چوٹیں اور معمولی خراشیں آئی تھیں لیکن بیس تو شدید زخمی تھے۔ ڈاکٹر شواٹز نے فوراً ہی ہڈیوں کے فریکچروں کو باندھا، ٹوٹے ہوئے دانتوں کو الگ کیا اور شدید زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد دی۔ کم از کم تین کھلاڑی ایسے تھے جو گھوڑے سے گر کر پتھریلے میدان میں اتنے زخمی ہوئے کہ پورا جسم خونم خون ہو گیا اور جلد پنکچر ہو کر شدید زخمی ہو گئی جبکہ گوشت کے لوتھڑے جمع کرنے پڑے۔ خوش قسمتی سے اس سال کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔
جب یہ سب بھی ہو گیا تو کبیر کے میدان میں جا بجا خیموں میں جشن کا سماں تھا۔ سبھی مرد، عورتیں، بوڑھے اور بچے۔۔۔ جس کو دیکھو بزکشی کے کھیل بارے ہی باتیں کر رہا تھا۔ میں نے بھی ایلن کو چھیڑتے ہوئے کہا، 'کیا خیال ہے؟ ایسا نہیں لگتا کہ جیسے یہ ییل اور ہارورڈ کے میچ کے بعد جیسا منظر ہے؟ یا پھر ڈارسٹ میں گالف کے میچ کے بعد کنٹری کلب کا نظارہ ہو؟'
مجھے یقین ہے کہ اس بات کا ایلن کے پاس کرارا جواب تھا لیکن اسی وقت بوڑھا ہزارہ ہمارے پاس آن بیٹھا اور ایلن نے چپ سادھ لی۔ بوڑھا ہزارہ مجھے مبارکباد دینے آیا تھا، 'تم نے بہت اچھا کھیل پیش کیا۔۔۔ تمھیں یہ موقع دلانے کے لیے ذوالفقار کا شکر گزار ہونا چاہیے کیونکہ اسی کی بدولت تم اس برس یہاں آ پائے، تم یقیناً اس خاصے موقعے سے محظوظ ہوئے ہو گے۔ پچھلے برس میں نے اس کو کہا تھا، 'اگلے برس میں دستبردار ہو جاؤں گا۔ اگر تم نے ہوشیاری سے کام لیا تو میری جگہ لے سکتے ہو!' میرے خیال میں تو اس نے اس برس سب انتظام اچھی طرح سے کر دیا تھا اور تمھاری، اس دکتور اور خاتون کی موجودگی۔۔۔' وہ ایلن کی طرف دیکھ کر مسکرایا اور کہا، 'اسے بہت فائدہ ہوا!' اس کے بعد وہ کچھ دیر بیٹھا یہاں وہاں کی باتیں کرتا رہا اور پھر رخصت لے کر چلا گیا۔
اس کے جاتے ہی میں نے دیکھا کہ ایلن غصے اور ڈر سے کپکپا رہی تھی، 'اس نے پورا ایک سال ہمیں دھوکے میں رکھا۔۔۔ اس کے ذہن میں تو کچھ اور ہی چل رہا تھا!' وہ بڑبڑائی اور اس کا سارا سکون اور اطمینان غارت ہو چکا تھا، 'اس نے انتہائی بے شرمی سے ہم سب کا استعمال کیا ہے، پتہ نہیں وہ اب کیا کرے گا؟'
اصولی طور پر مجھے اس سے ہمدردی ہونی چاہیے تھی لیکن نہ جانے کیوں۔۔۔ مجھے ایسا کچھ محسوس نہیں ہوا۔ میں اندر ہی اندر کھول رہا تھا اور اسی دوران ایک انتہائی عجیب سا خیال میرے دماغ میں کوندا اور میں نے بغیر سوچے سمجھے نہایت نڈر ہو کر ایلن کے منہ پر اچھال دیا، 'میرے خیال میں تو ذوالفقار نے خوب چال کھیلی ہے، تمھیں قلعہ بست سے ساتھ ملا لیا اور پچھلے دس مہینے سے جانے کہاں کہاں۔۔۔ تمھیں تماشے پر لگائے رکھا!' میں جانتا تھا کہ یہ اس موقع پر نہایت بے مروت بات تھی لیکن کیا کرتا، مجھ سے رہا نہیں گیا۔
ایلن بھی میرے منہ سے یہ بات سن کر قدرے غصہ ناک ہو گئی۔ اس نے میری جانب خونخوار نظروں سے دیکھا لیکن پھر حالات کی مناسبت سے چپ سادھے رکھی اور بجائے اس کے چہرے پر خوف کے سائے نظر آنے لگے، 'ملر۔۔۔ تمھارا کیا خیال ہے کہ وہ اب کیا کرے گا؟' ظاہر ہے، اس بات کا میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
میں اپنی بات کروں تو میری جانب اس کا رویہ ابھی تک کافی دوستانہ تھا بلکہ وہ اب پہلے سے زیادہ لحاظ کرنے لگا تھا۔ مثلاً، بزکشی کے اگلے دن ہم کبیر کے انتظامی خیمے میں چلے گئے جہاں روسی اسے کھول کر باندھنے میں مصروف تھے۔ اس دوران میں نے دیکھا کہ ازبک، تاجک اور ہنزہ کے کاروان پہلے ہی مشرق کی جانب روانہ ہو چکے تھے۔ ان کا رخ ہندوکش کے کوہستانی دروں کی جانب تھا۔ یہ دیکھ کر کوچی سردار کے چہرے پر تاسف بھر گیا اور اس نے گھوڑا موڑ کر کہا، 'کل کلاں۔۔۔ ایک دن ایسا ہو گا کہ ہم بھی مر جائیں گے۔۔۔۔' اس نے توقف کیا اور پھر آہستگی سے بولا، 'بیٹا۔۔۔ اگر کسی نے کبیر نہ دیکھا ہو، وہ بھلا کیسے یقین کرے گا؟' اس نے مجھے آج سے پہلے تک کبھی بیٹا کہہ کر مخاطب نہیں کیا تھا، 'ملر۔۔۔ میں دل سے چاہتا تھا کہ تم کبیر ضرور دیکھو۔۔۔ تم کبیر کو اس کی جوبن پر، چار سو کاروانوں کے اجتماع میں دیکھو۔ میں نے پہلی بار کبیر اس وقت دیکھا تھا جب میں صرف ایک چھوٹا سا لڑکا تھا بلکہ نہیں۔۔۔ اس سے بھی پہلے جب میں شیر خوار بچہ تھا، اتنا چھوٹا کہ کچھ دیکھنے لائق بھی نہیں تھا۔ یہی جینے لائق زندگی ہے۔ آدمی کو یوں ہی بسر رکھنی چاہیے!'
لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ ہم تنہا ہوتے چلے گئے۔ کوچیوں کے سیاہ خیموں کے پڑوس میں نورستانی بھی چلے گئے اور تاجکوں نے بھی تیسرے دن کڈے باندھ لیے۔ سچ کہوں تو ہمارے کارواں میں اداسی کی دبیز تہہ چھا گئی۔ گو یہ بستی عارضی تھی لیکن اس کے ساتھ جڑی چاہ اور مان مستقل محسوس ہوتا تھا۔ جہاں یہ وہیں اندر ابھی تک کھول رہا تھا۔ میرا خیال تھا کہ ایلن اور شواٹز بھی اسی کشمکش کا شکار تھے اور وہ بھی میرے بارے یہی رائے رکھتے تھے۔ میرے بارے ان کا گماں بالکل درست تھا، اس قدر اعصابی تناؤ تھا کہ میں نے خیموں میں بندوقوں اور خنجروں کی سن گن لگانی شروع کر دی۔ اگر مجھ پر حملہ ہوا تو مجھے تیار رہنا ہو گا، ذوالفقار پر مزید اعتبار نہیں کیا جا سکتا تھا۔ پریشانی اور سراسیمگی کا یہ عالم بن گیا کہ مجھے ہر وقت اپنے آس پاس ذوالفقار کی موجودگی کا احساس ہونے لگا۔ میرا دماغ ہمہ وقت کسی خطرے کو تاڑنے لگا۔
آخر شاکر بھی اسی اونٹ اور ریوڑ سمیت خیمے اکھاڑ کر اپنے کارواں کو لے کر نکل گیا اور کبیر کے وسیع میدان میں صرف کوچیوں کا کارواں بچ گیا۔ مفتون کی حالت بھی دیکھنے لائق تھی، وہ ہر وقت شکایت لگائے رکھتا کہ اگر ہم جلد از جلد بلخ کے لیے روانہ نہ ہوئے تو واپسی پر ہم برف میں پھنس کر رہ جائیں گے۔
'ذوالفقار بہتر جانتا ہے، وہی ہمیں رخصتی کا وقت بتائے گا اور ضرورت پڑی تو وہی ہمیں برف سے بھی بچائے گا۔۔۔' دوسرے کوچوان مفتون کو یقین دلاتے،
'وہ برفیلے طوفانوں کے بارے نہیں سوچ رہا۔۔۔ اس کو پرواہ ہی نہیں ہے' مفتون کی شکایت جاری رہتی۔
اگلی صبح، سویرے یوں ہوا کہ میں نے ذوالفقار کے خیمے میں شور بلند ہوتے سنا تو میرے کان کھڑے ہو گئے۔ میں جلدی سے بھاگتا ہوا وہاں پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ ہاتھ میں خنجر پکڑے ڈاکٹر شواٹز پر چڑھ دوڑنے کو تیار کھڑا تھا۔ شواٹز غیر مسلح تھا اور خوف سے تھر تھر کانپ رہا تھا۔ مضبوط اور قوی کوچی سردار کے سامنے شواٹز میلی کچیلی شلوار پہنے، بھیگی بکری بنا ہوا تھا۔
'اسے بھی خنجر دو!' ذوالفقار نے حکم دیا اور جب چاروں طرف سے ہچکچاہٹ دیکھی تو وہ مفتون پر چلایا، 'غارت ہو۔۔۔ تم نے سنا نہیں۔۔۔ اسے بھی خنجر دو بلکہ وہی خنجر دو جس نے ایک آدمی کا راولپنڈی میں خون پی رکھا ہے۔۔۔'
مفتون بھی گھبرائے ہوئے انداز میں آگے بڑھا اور نہایت بھونڈے طریقے سے اپنا خنجر نکال کر شواٹز کے ہاتھوں میں تھما دیا۔ شواٹز بیچارے کو ہتھیار استعمال کرنے کی کہاں سمجھ تھی؟ جیسے کاروان سرائے، ویسے ہی یہاں بھی اس نے خنجر دونوں ہاتھوں میں پکڑ کر نوک باہر نکال کر سینے سے لگا لیا تا کہ لرزنا ظاہر نہ ہو۔
میں یہ عالم دیکھ کر فوراً آگے بڑھا اور ان دونوں کے بیچ کود پڑا۔ میں چلایا، 'ذوالفقار۔۔۔ نہیں!'
'تم دور رہو!' ذوالفقار غرایا اور دوسرے کوچیوں نے مجھے بازؤں سے پکڑ لیا۔
خیمے کے داخلی راستے پر رچا اور چند دوسری عورتوں نے ایلن کو پکڑ کر قابو کر رکھا تھا۔ میں نے بے بسی سے مترا کی جانب دیکھا لیکن وہ میرے ساتھ آنکھیں ملانے سے کترا رہی تھی، جیسے جانتی ہی نہ ہو۔ پھر ایلن چلائی اور میں نے ذوالفقار کی طرف دیکھا جس نے آگے کی طرف جھپٹ کر شواٹز پر حملہ کر دیا۔ شواٹز پیچھے ہٹا اور اپنی پشت پر لڑھکتے ہوئے، خوش قسمتی سے بچ تو گیا لیکن گھبراہٹ کے عالم میں لڑکھڑانے لگا۔ اس پر سخت خوف طاری تھا، کچھ سجھائی نہ دے رہا تھا، اسی لیے حملے سے باز رہا۔
ذوالفقار نے اس کو بچ نکلتے دیکھ کر ہوشیاری سے گھوم کر چکر کھایا اور شواٹز کو الٹی جانب سے آن لیا۔ عین وقت پر ایلن چلائی اور شواٹز کو ہوش آ گیا، وہ ایک دفعہ پھر صاف بچ نکلا۔ اس کی حالت خراب تھی، وہ خوفزدہ تھا اور صاف ظاہر تھا کہ جلد ہی قتل کر دیا جائے گا۔ وہ مارا جاتا لیکن ایلن نے اپنی ساری سمجھ اور فلسفہ کہ موت سے کچھ فرق نہیں پڑتا، بالائے طاق رکھتے ہوئے چلا کر اسے پکارا، 'اوٹو۔۔۔ بچو۔۔۔ اپنی جان بچاؤ!' ایلن کی پکار سن کر شواٹز کی حالت سنبھل گئی اور اب وہ جینے کی دھن میں نظر آ رہا تھا۔ وہ چوکنا ہو گیا۔
اس کے بعد جو ہوا، وہ نہایت تیزی سے ہوا لیکن مجھے آج تک وہ دن نہیں بھولتا۔ ایک ایک لمحہ آنکھوں کے سامنے پھرتا ہے۔ میں نے دل میں شواٹز کے جیتنے کی دعا کی۔ میں اس سے اس کے کرتوتوں کے سبب اور جو وہ ماضی میں رہا، نفرت کرتا تھا لیکن اب جبکہ موت کے منہ میں پہنچ کر اس نے ایلن کو پا لیا تھا۔۔۔ شاید اس کے سبھی داغ دھل جاتے لیکن یہ کیا ہوا؟ وہ تو موت کے دہانے پر پہنچ چکا تھا۔ میرے دل میں اس کی زندہ بچ جانے کی شدید خواہش پیدا ہوئی اور میں نے دل ہی دل میں دعا کی، 'اے خدا۔۔۔ جرمن کو بچا لے!'
ذوالفقار زور سے غرایا اور سیدھا شواٹز پر چڑھ دوڑا۔ شواٹز نے جھک کر اپنا آپ کوچی کے خنجر سے صاف بچا لیا اور پھر نیچے گرتے ہی سیدھا اس پر وار کر دیا۔ ڈاکٹر کا خنجر ذوالفقار کے بازو پر چیرا لگاتے ہوئے دوسری جانب نکل گیا۔ چونکہ وہ وار کرنے میں اناڑی تھا، اس لیے زخم تو گہرا نہیں آیا لیکن کوچی سردار کا خون دیکھ کر خانہ بدوش قبائلیوں میں چونکا پیدا ہو گیا۔ وہ سب ایک ساتھ چلائے اور بڑبڑاہٹ شروع ہو گئی۔
مجھے یہ تو علم نہیں کہ ذوالفقار کو اس لمحے اپنے زخمی ہونے کا پتہ چلا یا نہیں لیکن اس نے پرواہ کیے بغیر دوبارہ غراہٹ سے حملہ کر دیا اور شواٹز کو چاروں شانے چت فرش پر گرا کر لاتیں برسانا شروع کر دیں۔ بجلی کی سی تیزی سے اس نے شواٹز کے ہاتھ سے چھوٹتے ہوئے خنجر کو لات مار کر دور گرا دیا اور خود اس کے سینے پر چڑھ گیا۔ سینے پر چڑھتے ہی اس نے دونوں گھٹنے ڈاکٹر کے بازؤں پر رکھ کر پورا قابو کر لیا اور اس کے موت سے خوفزدہ چہرے پر نظریں گاڑھ دیں۔
ذوالفقار کا خنجر ہوا میں بلند ہوا تو ایلن پوری زور سے چلائی اور میں خوف سے پھٹی ہوئی آںکھوں کے ساتھ یہ منظر دیکھتا رہ گیا۔ ذوالفقار نے ڈاکٹر کی گردن کا نشانہ باندھ رکھا تھا اور جیسے ہی اس نے بجلی کی تیزی سے وار کرنا چاہا تو میں نے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ بجائے شواٹز کی چیخ، میں نے مجمع میں سکھ کی سانس سنی اور چاروں طرف کھسر پھسر شروع ہو گئی۔
میں نے آنکھیں کھولیں تو کیا دیکھتا ہوں کہ ذوالفقار نے بجائے شواٹز کی گردن، خنجر کو اس کی شہ رگ سے صرف چند انچ دور کچے فرش میں پیوست کر دیا تھا۔ اس نے خنجر وہیں چھوڑا، سینے سے اتر کر اوپر اٹھا اور شواٹز کے گرد چکر لگا کر اس کے منہ پر تھوک دیا۔
'کاروان سے نکل جاؤ۔۔۔!' اس نے چیخ کر دہشت ناک آواز میں حکم دیا۔
یہ کہہ کر وہ سیدھا خیمے کے داخلی راستے پر پہنچ گیا اور ایلن کو عورتوں سے چھڑا کر بازؤں سے پکڑ کر سامنے لایا اور پوری قوت سے اس کے منہ پر الٹے ہاتھ سے ایک زناٹے دار تھپڑ رسید کیا۔ تھپڑ اتنا شدید تھا کہ دھمک سے ایلن نیچے فرش پر گر گئی۔ اس نے نفرت اور شدید حقارت سے اس کے منہ پر بھی تھوکا اور ایک دفعہ پھر چیخ کر اسے بھی کاروان سے نکل جانے کا حکم دیا۔
پھر وہ ان دونوں فرنگیوں کو فرش پر لوٹتا چھوڑ کر میری جانب بڑھا اور بائیں ہاتھ سے میرا ٹینٹوا دبوچ لیا اور دور تک گھسیٹتے ہوئے خیمے کے پول سے جا لگایا۔ یہیں داب کر دائیں ہاتھ سے مجھے بھی ایک زوردار تھپڑ رسید کیا جس کی دھمک سے میں لڑھک کر دور تک کچے فرش کی مٹی میں گرتا چلا گیا۔ 'نکل جاؤ۔۔۔' وہ پھر چلایا، 'کاروان سے نکل جاؤ۔۔۔' اس کی آواز میں سخت دہشت تھی۔
آخر میں اس نے مفتون کو جا پکڑا اور ایک ہاتھ میں اس کی گردن پکڑ کر زمین سے یوں اٹھا لیا جیسے وہ کوئی بونا ہو۔ اس کے منہ پر چلاتے ہوئے کہا، 'یہ تمھارے دوست ہیں۔۔۔۔' اس کی آواز میں سخت نفرت تھی، 'تم بھی ان کے ساتھ۔۔۔ انھیں بلخ پہنچا کر ہی لوٹنا ورنہ کاروان میں واپس آنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے!'
پھر شدید غصے کے عالم میں مڑا اور خیمے میں ایلن کا جتنا سامان تھا، اٹھا کر باہر پھینک دیا۔ اس کے بعد وہ دوڑا دوڑا میرے خیمے میں پہنچا اور ہم دونوں یعنی شواٹز اور میرا سامان بھی نکال کر باہر پھینکنے لگا۔ شواٹز کا ایک بکس اس دوران کھل گیا اور اس میں سے قیمتی ادویات زمین پر بکھر گئیں۔ کئی کوچی لالچ سے دوڑے اور دوائیاں سمیٹنے لگے لیکن ذوالفقار نے چلا کر انہیں روکا، 'دوائیاں واپس اسی بکس میں ڈالو۔۔۔ خبردار کسی نے ایک شیشی بھی اٹھائی۔۔۔ ہمیں ان کی کسی چیز کی کوئی ضرورت نہیں ہے!'
اس پر یہی وحشت طاری رہی اور اس دوران ہم نے اپنا سامان کس کر باندھ لیا۔ کچھ ہی دیر میں میرا سفید گھوڑا تیار تھا جب کہ مفتون نے بھی بیکی آنٹی پر ایک خیمہ اور کچھ سامان لاد کر تیار کر لیا۔ ایک گدھا بھی ہمراہ کر دیا گیا تھا جس پر کھانے پینے اور ضرورت کا دوسرا سامان لدا ہوا تھا۔
'نکل جاؤ۔۔۔' وہ پھر چلایا اور ہم چاروں دریا کے کنارے کچے راستے پر اسی جانب نکل کھڑے ہوئے جہاں تین دن قبل عظیم الشان خیمہ نصب تھا اور اسی مجلس میں اسے ہمارے بل بوتے پر کبیر کی سرداری ملی تھی۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ پہلی بار اپنی قمیص پھاڑ کر زخم کا معائنہ کر رہا تھا۔ زخم گہرا نہیں تھا لیکن خون بہہ رہا تھا۔ اس نے چلا کر رچا کو زخم کی صفائی کا حکم دیا جو ہاتھ میں تیل ملی ہلدی اور لیلن کا کپڑا اٹھائے اس کی طرف دوڑی آئی۔ یہ ان پر میری آخری نظر تھی اور اس دن کے بعد میں نے ذوالفقار اور نہ ہی رچا، ان دونوں کو دوبارہ کبھی نہیں دیکھا۔
۔کارواں (افغانستان کا ناول) - آخری قسط یہاں کلک کر کے ملاحظہ کریں - 

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر