کارواں - پندرھویں قسط

Hindukush Range in Balkh, Afghanistan
سلسلہ ہندوکش، بلخ (افغانستان)
آخری قسط
ہم کاروان سے نکالے گئے تو ہندوکش میں مزید آگے کی جانب بڑھتے ہوئے ہمارا یہ محدود سا قافلہ جیسے لٹا پٹا ہوا منظر پیش کر رہا تھا۔ شواٹز موت کو اس قدر قریب دیکھ کر ابھی تک حواس باختہ تھا۔ میں نے اسے اپنے سفید گھوڑے پر سوار کرا لیا، اس پر بالکل چپ طاری تھی۔ دوسری جانب ایلن کی حالت یہ تھی کہ وہ سخت بے یقینی کا شکار تھی۔ اس کا جبڑا ابھی تک دکھ رہا تھا اور ہیجان کا دورہ پڑا ہوا تھا۔ عجب مخمصہ تھا۔ اس کی چال ڈھال، جسم پر لپٹے نرم فر کے چوغے کو دیکھوں تو نسوانیت اور نرمی دکھائی دیتی لیکن اس کے الفاظ سخت اور غصہ ناک تھے۔
'اسے مجھ پر ہاتھ اٹھانے کی ہمت کیسے ہوئی؟' وہ بار بار یہی کہے جا رہی تھی، 'اور تھوکا بھی؟ وہ بھی ملاؤں جیسا ہے۔ میرا بس چلتا تو میں اسے اپنے ہاتھ سے قتل کر دیتی!' تضحیک اور بے عزتی یاد کر کے اس کا رو رو کانپ رہا تھا۔ میں شواٹز اور ایلن کی حالت کو دیکھتا جاتا اور رہ رہ کر یہی خیال آتا کہ ان دونوں نے واقعی دنیا تیاگ دی ہے۔ ہوشمندی کا شائبہ تک نظر نہیں آ رہا تھا۔ ایک کو چپ مار رہی تھی اور دوسرا ہتھے سے اکھڑ رہا تھا۔ مجھے یقین ہو گیا کہ دراصل یہ دونوں اپنے اس دعویٰ کہ کسی کی پرواہ اور خیال کیے بغیر وہاں، تہہ میں بسر رکھو جہاں دنیا کے سبھی رائج آداب بے معنی ہو جاتے ہیں، کھرے ہیں۔
ان دونوں کے ساتھ ساتھ مفتون بھی الجھا ہوا تھا۔ اس کا معاملہ یہ تھا کہ جب وہ ہمیں بلخ پہنچا دے گا تو بعد اس کے، اس کے پاس کاروان میں لوٹ جانے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔ وہ اس بات پر بھی سخت پریشان تھا کہ کوچیوں کے سردار کو زخم دینے والا خنجر دراصل اسی کا تھا۔ اسے دوستی اور نباہ کا صلہ یوں ملا کہ اب ہمارے ساتھ دربدر کی ٹھوکریں کھا رہا تھا۔ اس کانے کوچوان کو ہمارے قافلے میں رہ کر کوئی خوشی ملنے والی نہیں تھی۔ مفتون ہی نہیں بلکہ آنٹی بیکی بھی بات بے بات بگڑ رہی تھی۔ وہ اونٹنی تھی اور عادت سے مجبور، شور شرابا کر رہی تھی۔ اس کو اصل شکایت یہ تھی کہ دیکھو، قافلے میں وہ واحد اونٹنی ہے اور سارا بوجھ اب اس کی پشت پر لاد رکھا تھا۔ میں بھانپ گیا کہ جلد ہی یہ بھی کینے پر اتر آئے گی اور کسی نہ کسی کو ننگ دھڑنگ ہو کر کپڑے اس کے حوالے کرنے پڑیں گے تا کہ غصہ نکال لے ورنہ سخت مشکل ہو جائے گی۔
مجھ پر بھی سخت مالیخولیا کا وہ دورہ پڑ چکا تھا۔اسی بات کا خدشہ مجھے کئی دنوں سے گھیرے ہوئے تھا۔ میں نے مترا کو کھو دیا تھا، کہو تو کاروان کی اصل روح گم ہو کر رہ گئی تھی۔ میں اسی کے بارے سوچتا رہا کہ کیسے وہ میرے لیے اپنے باپ کی نفرت کے ہاتھوں مجبور ہو کر کبیر کے پہاڑوں میں بند ہو کر رہ گئی ہے۔ اس تنہائی کے عالم میں، میں نے پہلی بار اندر ہی اندر اعتراف کیا کہ دراصل مجھے اس سے شدید محبت ہے اور کوئی گلہ بھی نہیں ہے۔ ان بلند مرتفعات کے میدانوں میں اس نے کھلکھلا کر ہنسی اور مزاق، باتوں اور چھیڑ چھاڑ میں میرا دل ہتھیا لیا تھا اور اب وہ مرتے دم تک میرے وجود کا حصہ بن کر رہنے والی تھی۔ اصل دکھ یہ تھا کہ مجھے مترا کو الوداع کہنے، اس سے رخصت لینے کا موقع بھی نہیں ملا تھا اور یہ ناقابل برداشت تھا۔ جہاں یہ، وہیں مجھے اس بات کا بھی سخت رنج تھا کہ ذوالفقار نے دیکھو، کئی دن تک میرے ساتھ بیٹوں کی مانند سلوک کیا۔۔۔ مجھے وہ راز بتائے جو شاید وہ کسی دوسرے کو بتانا مناسب نہیں سمجھتا تھا۔یہی نہیں بلکہ اس نے تو سب کچھ جانتے بوجھتے، اپنے رتبے سے اتر کر مجھے میرے مشن کو مکمل کرنے میں بہت مدد کی۔ مجھے کرغز شاکر اور بوڑھے ہزارہ سے ملوایا۔۔۔ کبیر کے میلے میں تقریباً وقت ساتھ ساتھ رکھا۔ اس دوران میں اس کی اصل قابلیت۔۔۔ سیاست اور حکمت کا قائل ہو گیا تھا۔ لیکن کیا ہوا؟ اس نے مجھے آخر میں بالکل خاطر میں نہیں لایا، مار پیٹ الگ اور گالم گلوچ کر کے کاروان سے نکال باہر کیا؟ سچی بات تو یہ تھی کہ مجھے ابھی تک یہ بھی پتہ نہیں چل پایا تھا کہ اس صبح بات شروع کیسے ہوئی تھی؟
یہ ہم سب کا یہی حال تھا۔ لیکن ٹھہرو، ایسا نہیں تھا۔ اس لٹے پھٹے مختصر قافلے میں ایک ایسا تھا جس کو دیکھ کر تسلی ہوتی تھی۔ وہ واحد زی روح تھا جسے کوئی رنج اور ملال نہیں تھا۔۔۔ اس کو کوئی دکھ نہیں تھا۔ یہ ہمارا گدھا تھا۔ وہ بے غم پشت پر بورے لادے، مزے سے ڈولتا ہوا جا رہا تھا۔ اس کو کوئی دکھ اور رنج نہیں تھا بلکہ صرف وہی اپنے آپ میں مطمئن تھا۔ اسے معلوم تھا کہ اگر وہ ہمارے ساتھ، بلخ کے راستے پر نہ ہوتا تو کسی اور کے ساتھ۔۔۔ کسی دوسرے راستے پر روانہ ہوتا۔ اس کا کام بوجھ ڈھونا تھا، وہ ہمارے لیے لاد کر پھرے یا کسی دوسرے کے کام آئے، اسے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔
اگلے دو گھنٹے ہم سب چپ چاپ، اس قافلے کو تقریباً گھسیٹتے ہوئے آگے بڑھتے رہے۔ پھر اچانک مفتون نے زور سے چلا کر مجھے متوجہ کیا، 'ملر صاحب۔۔۔ وہ دیکھو!' اس نے پیچھے کی طرف اشارہ کیا۔
میں نے دل میں سوچا کہ اب کیا افتاد آن پڑی ہے؟ میرا خیال تھا کہ شاید بیکی آنٹی اپنی لات تڑوا بیٹھی ہے یا گدھا بھی جواب دے گیا ہے، لیکن مڑ کر کیا دیکھتا ہوں کہ مفتون بہت دور ایک پگڈنڈی کی طرف اشارہ کر رہا ہے جس پر مترا سرخ گھاگھرا اور گلابی بلاؤز پہنے ہماری جانب دوڑی چلی آ رہی ہے۔
'ذوالفقار اسے جان سے مار دے گا!' مفتون نے افسوسناک لہجے میں روشنی ڈالی۔
مترا قریباً ایک میل دور میدان میں دوڑی چلی آ رہی تھی، اسے اتنے فاصلے سے دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی رنگ برنگی بلبل پھولوں سے بھرے مرغزار میں یہاں اور وہاں پھدک رہی ہے۔ میں اسے دیکھ کر ہی فرط سے چلا اٹھا اور اس کی جانب دوڑنے لگا، 'ارے، گھوڑا لے جاؤ۔۔۔' شواٹز نے کہا لیکن میں نے اس کی بات سنی ان سنی کر دی اور ویسے بھی بے صبری ایسی تھی کہ پیدل ہی دوڑ لگانا مناسب سمجھا۔
ہم دونوں اتنا دوڑے کہ سانس پھول گئی لیکن ہم نے ایک دوسرے کو پاتے ہی ایک دوسرے کی بانہوں میں ہم آغوش ہو گئے۔ بعد اس کے، طویل بوس و کنار ہوئی جس سے احساس ہوا کہ مجھے مترا کی کس قدر شدت سے ضرورت تھی۔ اس کے ساتھ ہی مجھے شرمساری بھی تھی کہ میں کیونکر اس سے بات کیے بغیر ہی کاروان سے الگ کر دیا گیا تھا، ہمیں موقع ہی نہیں ملا تھا۔ اب صحیح یاد نہیں لیکن میرا خیال ہے کہ وہ بھی مجھے پا کر خوشی سے رو رہی تھی لیکن میں کچھ بھی وثوق سے نہیں کہہ سکتا کیونکہ وہ ان معاملات میں خاصی مضبوط واقع ہوئی تھی۔ خیر، وہ دیر تک میرے شانے پر سر رکھے چپ چپ لپٹی رہی اور پھر ہم واپس اپنے قافلے کی جانب لوٹ گئے۔
آنٹی بیکی کے سوا باقی سب بھی ہم دونوں کو اکٹھا دیکھ کر فوراً ہی چہک اٹھے۔ آنٹی بیکی تو احمق تھی۔ وہ ایک دفعہ کسی جانب روانہ ہو جاتی تو پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتی تھی۔ ہماری آنکھوں کے سامنے وہ چٹانوں کے بیچ بے ڈول جاتی ہوئی دکھائی دی، اس کی کوئی کل سیدھی نہیں تھی۔ اس کو دیکھ کر ہم سب ہنس پڑے۔ سچ کہوں تو اصل میں یہ خوشی مترا کی دین تھی۔ میں بہت خوش تھا، مفتون کی کانی آنکھ بھی خوشی سے پھڑپھڑا رہی تھی، شواٹز کا خوف بھی جاتا رہا اور بیکی آنٹی؟ وہ تو خوشی کے مارے ہاتھ ہی نہیں آ رہی تھی۔
ایلن کا یہ کہ جیسے ہی اس نے مترا کو دیکھا تو سیدھا جا کر اس کے گلے لگ گئی جیسے پرانی سہیلیاں ہوں۔ ان دونوں کے بیچ میلان دیکھنے لائق تھا، سچی چاہ تھی۔ ایسا کیوں نہ ہوتا؟ ایلن نے مترا کو بہنوں کی طرح سب چالے دکھائے تھے۔ اس کو نت نئے کپڑے دلائے تھے، اس کو آداب سکھلائے تھے، انگریزی کے چند جملے اور سب سے بڑھ کر بالوں کا امریکی سٹائل دیا تھا۔ مترا نے بھی ایلن کو پشتو سیکھنے میں مدد دی تھی اور کاروان میں گھل ملنے میں آسانی ہوئی تھی۔ وہ دونوں ایک دوجے کو دیکھ کر بہت ہی زیادہ خوش تھیں پر مفتون نے سہمی ہوئی آواز میں مترا سے کہا، 'تمھیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔۔ ذوالفقار تمھیں قتل کر دے گا!'
مترا کا جواب سن کر ہم سب حیران رہ گئے، 'ارے نہیں تو۔۔۔ مجھے تو ابا نے ہی بھجوایا ہے!'
'ہائیں؟ کیا؟ واقعی۔۔۔؟' ہم سب ایک ساتھ چلائے،
'بالکل، میں نے ابا سے کہا کہ میں ملر کے ساتھ بلخ جانا چاہتی ہوں تو اس نے اجازت دے دی۔ کہا، 'ضرور۔۔۔ کیوں نہیں؟'
'تمھارا مطلب کہ ذوالفقار نے۔۔۔' میں نے پوچھا ہی تھا کہ اس نے بات کاٹ کر کہا، 'اسے تم میں سے کسی پر غصہ نہیں ہے!' اس نے یقین دلایا لیکن ظاہر ہے، کسی کو اعتبار نہیں تھا۔
'اس نے مجھے تھپڑ مارا۔۔۔' ایلن نے احتجاجاً کہا، 'اور مجھ پر۔۔۔ میرے منہ پر تھوکا بھی تھا!'
اس پر مترا نے ایک دفعہ پھر ایلن کو گلے لگا لیا اور کہا، 'ایلن۔۔۔ وہ اس کی مجبوری تھی۔ دوسرے کوچی دیکھ رہے تھے، یہ سب کچھ کرنا ضروری تھا۔ کاروان میں۔۔۔۔'
'اس نے مجھے تقریباً جان سے مار دیا تھا۔۔۔' شواٹز نے اپنی گردن سہلاتے ہوئے لقمہ دیا۔ تس پر مترا نے اس کی جانب قدرے تحقیر سے دیکھا اور سختی سے پوچھا، 'اگر میرے باپ کو واقعی تم پر کوئی غصہ ہوتا تو تمھارا کیا خیال ہے۔۔۔ تم اس وقت زندہ ہوتے؟ وہ خنجر چوک جاتا؟ تمھارے ساتھ کچھ نہ کچھ کرنا، کم از کم ہاتھا پائی اس کی غیرت کا تقاضا تھا۔ ڈاکٹر، اسے تم دونوں سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ کاروان کے لوگوں کو جتلانے کے لیے یہ تماشا ضروری تھا۔۔۔'
میں نے مترا کو دونوں شانوں سے پکڑ کر تقریباً جھنجھوڑا اور پوچھا، 'کیا تم واقعی سچ کہہ رہی ہو؟'
اس نے خود کو چھڑایا اور ہنس کر بولی، 'ملر۔۔۔ جب میں رخصت ہونے لگی تو ابا نے ہنستے ہوئے مجھ سے کہا کہ اس مردود جرمن کو بتانا کہ اس نے خوب لڑائی کی۔ ہاں۔۔۔ شواٹز، اس نے تمھارے لیے یہ بھیجا ہے!' یہ کہہ کر مترا نے اپنے گلابی بلاؤز سے ایک دمشقی خنجر نکال لیا۔ یہ وہی خنجر تھا جو ذوالفقار نے لڑائی میں استعمال کیا تھا۔ پھر خنجر شواٹز کو تھما کر قدرے افسردگی سے بولی، 'یہ اس کی جانب سے شادی کا تحفہ ہے۔ ابا نے کہا، 'یہ اس کی بیوی کو یاد دلائے گا کہ اس کا شوہر، اس کے لیے جان پر بھی کھیل گیا تھا۔۔۔ خنجر چل گئے تھے!'
پھر وہ مجھے ایک طرف لے گئی اور نرمی سے سارا احوال سنایا، 'ملر جب تم چلے آئے تو ابا اپنے خیمے میں چلا گیا اور دھڑام سے قالین پر گر گیا۔ وہ ماتھا پیٹتا رہا اور کہا، 'وہ تو میرے بیٹوں کی طرح تھا۔۔۔ وہ میرا بیٹا تھا۔ میں نے اس پر کیوں ہاتھ اٹھایا؟' ملر۔۔۔ کبیر میں مجھے ایسا لگا تھا کہ جیسے اسے کوئی امید ہو چلی ہے۔۔۔ اسے لگتا تھا کہ شاید کوئی معجزہ ہو جائے اور تم ہمارے ساتھ کاروان میں۔۔۔ ہمارے ہو کر رہو!' اس نے یہ کہا تو اس کے بعد کچھ دیر خاموشی طاری رہی لیکن پھر اچانک وہ زور سے چلائی، 'ارے اس کو تو خدا غارت کرے۔۔۔ وہ دیکھو، وہ گئی!' میں نے مڑ کر دیکھا تو بیکی آنٹی سیدھی آگے ہی چلی جا رہی تھی۔
بوڑھی اونٹنی کو اپنی راہ سے ہٹ کر کچھ گھاس پسند آ گئی تھی، جسے چر لیا تو اب بجائے واپس اپنی راہ پر چلتی۔۔۔ آگے ہی آگے بڑھتی جا رہی تھی۔ جس سمت وہ چلی تھی، آگے گہری کھائی تھی۔ اس کو کون روکے؟ احمق جانور تھی اور مجھے یقین تھا کہ اگر وہ بغیر سوچے سمجھے آگے بڑھتی جائے گی اور کھائی میں گر کر مر کھپ جائے گی۔ ضروری تھا کہ کوئی آدمی اس کا پیچھا کرتا رہتا اور اس کو واپس سیدھی راہ پر لے آتا۔ جو اونٹ کی خصلت سے واقف ہیں، وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس سے زیادہ بیوقوف کوئی دوسرا جانور نہیں ہوتا۔ آنٹی بیکی تو احمق ترین اونٹوں سے بھی چار ہاتھ آگے تھی۔ مترا نے دوڑ کر اس کو جا لیا اور واپس موڑنے کی سعی کرنے لگی۔ اس نے بھدے انداز میں ڈولتی ہوئی اونٹنی کو ڈانٹ پلائی اور دونوں ہاتھوں سے پنڈلیوں کو پیٹ کر واپس موڑنے کی کوشش کرنے لگی، جیسے اس کی جان پر بن پڑی ہو۔ مترا جیسی چھوٹی سی لڑکی کو بھاری بھرکم اونٹنی کے ساتھ دھینگا مشتی کرتے دیکھ کر ہم سب کی ہنسی چھوٹ گئی۔ کافی دور جا کر، کھائی کے دہانے پر پہنچ کر مترا اسے واپس موڑنے میں کامیاب ہو ہی گئی۔
مجھ سے پوچھیں تو ہمارے اس مختصر سے قافلے کو اسی ٹانک کی ضرورت تھی۔ ہم کبیر سے نکالے گئے تو ہم لٹا پٹا قافلہ تھے لیکن مترا نے اس قافلے میں جان ڈال کر اسے کاروان بنا دیا تھا۔ کاروان کو اسی طرح کی توانائی کی ہمہ وقت ضرورت رہتی ہے۔ ایسی خوشی اور طمانیت کے بغیر، اس مکمل پن کے بغیر کارواں، ،کارواں نہیں ہوتا بلکہ کاروان چل ہی نہیں سکتا۔ یہی سوچ کر میرے تن بدن میں خوشی کی ایک لہر دوڑی اور میں نے شرارت سے ایلن کے دونوں ہاتھ تھام لیے اور اسے لونڈے لپاڑوں کی طرح چھیڑنے لگا،
'ہائے۔۔۔ ہائے۔۔۔ ارے۔۔۔ ارے۔۔۔ مسٹر اور مسز شواٹز، ایلن اور ایلن کی جان!' میں نے آنکھ مار کر ترنم سے گایا اور اس کے بازوؤں کو جیسے نچانے لگا،
'ایلن۔۔۔ ایلن۔۔۔ پگلی ایلن۔۔۔ دنیا کو رد کرنے چلی تھی۔۔۔ ہائے، تا کہ نظراللہ کے ساتھ بھاگ جائے۔۔۔ جس کے دیکھو، خواب بڑے بڑے تھے۔ پگلی ایلن۔۔۔ ہائے، اس نے چھوڑ کر آزاد مرد، ذوالفقار کو پا لیا۔۔۔ ارے، لیکن۔۔۔ وہ تو ڈیم کا دلدادہ نکلا اور ایلن بیچاری۔۔۔ وہ تو شواٹز کی دیوانی ہوئی۔ ارے۔۔۔ ارے۔۔۔ شواٹز کو دیکھو، اس کو دیکھو۔۔۔ کیسے گھوڑے پر۔۔۔ کیسے دانت نکل رہے ہیں۔ پگلی ایلن۔۔۔ نہیں جانتی کہ شواٹز تو۔۔۔ ہائے خدا، نظراللہ کے ڈیم کے پاس، ذوالفقار کی زمینوں پر۔۔۔ ہسپتال بنائے گا!' میں نے پھر آنکھ ماری۔
'ہائے۔۔۔ ہائے۔۔۔ ارے۔۔۔ ارے۔۔۔۔' ایلن نے بھی جواباً کورس میں میرا ساتھ دیا۔ پھر نہایت خوشی سے، چہچہاتی ہوئی جسم لچکاتے میرے ساتھ بیچ راستے میں رقص کرنے لگی، اس کا فر سے بنا خاکستری چوغا ہوا میں لہرانے لگا، وہ گویا حسن کی دیوی نظر آنے لگی۔ اسی لمحے ایلن نے مضبوطی سے میرے ہاتھ تھامے تو اس کے ہاتھوں میں بھرپور زندگی کی حرارت دوڑتی ہوئی محسوس کی اور پھر مجھے اچانک خیال آیا کہ اتنے عرصے میں، میں نے ایلن کو پہلی بار چھوا ہے۔ اس کی آنکھوں میں روشنی ہی روشنی تھی، جیسے دیے ٹمٹماتے ہوں۔ میں کیا کہوں؟ وہ اس قدر دلکش لگ رہی تھی کہ میں سوچنے لگا، یہ اس برباد لڑکی سے، جس سے کابل میں امریکی سفارتخانے کے اہلکاروں کو ہمدردی رہا کرتی ہے، اس سے بہت ہی مختلف اور زندگی سے بھرپور جوان عورت ہے جو کسی کو بھی سحر میں مبتلا کر دے۔ مجھے عجیب و غریب احساس نے گھیر لیا۔ اس احساس کا تب احاطہ کرنا میرے لیے ممکن نہیں تھا۔ بہرحال، اسی بدحواسی کے عالم میں، میں نے اس کے ہاتھ چھوڑ دیے اور وہ رقص کے دوار میں خوبصورتی سے چکر کھاتی ہوئی مجھ سے دور چلی گئی، یہاں تک کہ ہنستے ہنستے پگڈنڈی کے ساتھ سبزے پر جا گری۔
شواٹز فوراً کود کر گھوڑے سے اترا اور ایلن کو ہاتھ سے پکڑ کر اٹھانے لگا لیکن مترا اس سے پہلے ہی دوڑی دوڑی پہنچی اور ایلن کو سہارا دیا۔ اس کے لہجے میں تفکر تھا، 'ایلن، تم ٹھیک تو ہو۔۔۔ چوٹ تو نہیں آئی؟'
'میں اتنی خوش ہوں کہ اس وقت یوں ہی ناچتے گاتے، ان پہاڑوں سے بھی باہر نکل جاؤں۔۔۔' اس نے ہنستے ہوئے مترا کو مخاطب کر کے کہا۔ پھر وہ شواٹز کی طرف بڑھی اور اس کی بانہوں میں جھول کر بوسا لیا اوروہ دونوں رہگزار پر اکٹھے نکل گئے۔
یوں ہمارا کارواں ایک دفعہ پھر مکمل ہو گیا اور معاملہ چل نکلا۔ مترا نے وہ کمی پوری کر دی، جو کبیر کے بعد یکدم نکل آئی تھی۔ پھر یوں ہوا کہ اس مقام سے آگے ہم نے اکٹھے اپنی زندگی کے سب سے حسین اور آزاد منش سفر کا آغاز کیا۔ کبیر سے بلخ تک صرف اسی میل کا فاصلہ ہے جو عام حالات میں تقریباً پانچ دنوں میں طے کیا جا سکتا ہے۔ چونکہ ہمیں کسی قسم کی کوئی جلدی نہیں تھی اور ویسے بھی ہم روایتی کوچیوں کا کارواں نہیں تھے جو موسموں سے سہمے رہتے ہیں۔۔۔ ہم نے راستے میں ٹھہرتے، چلتے الغرض ہر طرح سے پہاڑوں کے دامن میں خوب مزے لوٹے۔ کسی رخ روشن، چمکتی ہوئی آنکھوں والی خانہ بدوش لڑکی کے ساتھ چھپ چھپا کر عشق لڑانا ایک چیز تھی لیکن چوبیس گھنٹے اس کے ساتھ رہنے، اسی کا ہو کر رہنا الگ بات ہے۔ میں پلاؤ پکانے میں اس کی مدد کرتا، اس کو گدھے پر سامان لادتے ہوئے دیکھتا رہتا اور اس کی زندگی کے ہر لمحے میں یوں موجود رہا کرتا جیسے ہم ہمیشہ کے لیے امر ہو چکے ہیں اور اب ہجر کا کوئی خدشہ باقی نہیں ہے۔ گویا، اب ہم نے کبھی الگ نہیں ہونا تھا۔ ایک دفعہ مترا چہک کر کہنے لگی، 'پتہ کیا۔۔۔ ہمیں انہی پہاڑیوں میں وہ جگہیں تلاشنی چاہیے جہاں کبھی برفباری نہیں ہوتی۔ پھر ہم قراقل بھیڑوں کا ایک ریوڑ پال لیں گے۔۔۔' اس پر ایلن نے ہنس کر اسے چھیڑا، 'یہ سنو، مارک ملر صاحب پہاڑوں میں قراقل بھیڑیں پالیں گے۔۔۔ اس سے پوچھو، کیا یہ بوسٹن میں ایسا کر سکتا ہے؟' یہ کہہ کر وہ دونوں بے اختیار ہنس پڑیں اور مجھے شدت سے احساس ہوا کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ انتہائی مضبوطی سے جڑتے جاتے ہیں۔ اس قدر چاہ اور میلان، محبت بڑھتی جا رہی تھی کہ جب بچھڑنے کا مرحلہ آئے گا تو سخت صدمہ ہو گا۔
جہاں یہ، وہیں میں ایلن اور شواٹز کو بھی دن بھر متواتر نظر میں رکھے رہتا تھا۔ انہوں نے بالآخر ذوالفقار کی موجودگی سے آزاد ہوتے ہی نئی زندگی کا آغاز کر دیا تھا۔ میں ان دونوں کو دیکھتا تو مجھے یقین ہو جاتا کہ ایلن کا تصور حیات بھی کچھ اتنا غلط نہیں ہے۔ میں دیکھ سکتا تھا کہ خود کو گنوا کر دوبارہ جنم لیا جا سکتا ہے۔ وہ اور شواٹز بالکل بے نیاز ہو چکے تھے اور انہیں کسی چیز کی کوئی فکر نہیں تھی۔ ان دونوں کے لیے کوئی دوسرا بندھن نہیں تھا، ماضی اور نہ ہی مستقبل کی فکر تھی۔ کوئی ذمہ داری بھی پلے نہیں پڑی تھی۔ دن گزرتے جاتے، صبح ہوتی اور پھر رات آ جاتی اور یہ دونوں۔۔۔ کہو تو بس، حال اور حال کے لمحے میں جیتے رہتے۔ ان دونوں کی کوئی شناخت نہیں تھی، سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر، اتنی مہمات سر کرنے کے بعد یہ اپنی گزشتہ زندگیوں کو پیچھے چھوڑ کر افغانستان کے ان بلند و بالا پہاڑوں کی وادیوں کے دامن میں ایک دوسرے میں گم تھے۔ مجھے اعتراف کرنا پڑے گا کہ دوبارہ جنم لینے کے تصور پر، اگر میں نے دیکھا تو ان دونوں کو دیکھ کر اس پر یقین پختہ ہو گیا۔ یہی نہیں بلکہ مجھے کہنے میں کوئی عار نہیں کہ ان دونوں کو یوں دیکھنا، نہایت دلفریت، بہت ہی دلکش تجربہ تھا۔
اب بات چل ہی نکلی ہے تو پھر مجھے یہ بھی اعتراف کرنا چاہیے کہ اس قدر آسانی پیدا ہونے کے باوجود ایک نئے قضیے نے جنم لینا شروع کر دیا تھا۔ مجھے پہلی بار اس تاریک پہلو کا احساس اپنے خیمے میں ہوا۔۔۔ سیاہ خیمے کے اندر جیسے کوئی اجنبیت چھائی رہتی تھی۔ یہ اس قدر بھاری بھرکم احساس تھا کہ میں باقاعدہ تناؤ کو محسوس کر سکتا تھا۔ صرف میں ہی نہیں بلکہ مترا بھی اس سے آگاہ تھی بلکہ میرا دھیان اسی نے دلایا تھا۔ بات یہ تھی کہ ہم دونوں یعنی مجھ اور مترا کے لیے محبت ایک نہایت پرسکون تجربہ رہا تھا۔ ہم نے نہایت آسانی کے ساتھ خود کو اس کے حوالے کر دیا تھا۔ یہ بات درست ہے کہ اس میں خانہ بدوشوں کی آزاد منشی کا بڑا ہاتھ تھا اور مترا نے نہایت خوبی سے اپنا آپ ظاہر کیا تھا اور اسے اس میں کوئی دقت بھی نہیں تھی بلکہ وہ تو اس تجربے سے لطف اٹھاتی تھی۔ میرا معاملہ یہ تھا کہ مجھے ان چیزوں کی کوئی خاص سمجھ اور نہ ہی تجربہ تھا لیکن میرے خیال میں، میں نے بھی اچھا بھلا ہی کیا اور مترا کے قدموں پر قدم رکھتے ہوئے خود کو اپنی مرضی اور منشا سے آزاد محبت کے سپرد کر دیا تھا۔ لیکن کبیر سے نکلے تو پہلی رات یوں ہوا کہ سیاہ خیمے میں ہم چاروں نے بستر لگا لیے تو کچھ دیر بعد مترا اور میں دونوں ہی خیمے کی دوسری طرف سے بلند ہوتی آوازوں سے اچھے خاصے ششدر ہو کر رہ گئے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے ایلن اور شواٹز کو یہ خوف لاحق ہے کہ بلخ تک پہنچتے، کوئی نہ کوئی بات ضرور ہو جائے گی۔ ظاہر ہے، یہ گنی چنی راتیں تھیں اور اس سفر کے آخر میں ہزار معاملات تھے لیکن میں اور نہ ہی مترا یہ بات سمجھ پائے کہ آخر ان دونوں کو ابھی سے ہی یہ خوف کیوں لاحق ہے؟ مترا نے سرگوشی میں کہا، 'چلو۔۔۔ چلیں۔ ہم دونوں باہر چلتے ہیں، ان دونوں کو خیمے میں اکیلا چھوڑ دینا چاہیے!' لیکن جب ہم باہر نکل بھی گئے تو مجھے شدت سے احساس ہوا کہ ان دونوں کو لاحق خوف کا کسی نہ کسی طرح سے تعلق مجھ سے ہے، وہ دونوں میری وجہ سے کوفت میں مبتلا ہیں۔
مترا اور میں باہر نکل آئے اور ہم پورے چاند کی اس رات میں، چھنکتی ہوئی سرمئی چاندنی میں نہانے لگے۔ چہل قدمی کرتے ہوئے الگ تھلگ گوشے کے قریب سے گزرے جہاں مفتون جانوروں کے ساتھ پڑا سو رہا تھا۔ میرا سفید گھوڑا جو مترا نے مجھے دلایا تھا، ابھی تک چرتا ہوا، منہ چلا رہا تھا۔ پشتو میں مترا نے کہا، 'مجھے اب یقین ہو گیا ہے کہ جب ایلن نے شواٹز کے ساتھ تعلق بنایا تو ابا کو واقعی تسلی ہو گئی تھی۔۔۔ صاف کہوں تو اس نے شکر ادا کیا تھا!'
'پتہ نہیں مترا۔۔۔ یہ بہت ہی عجیب و غریب بات ہے!'
'میرے خیال میں وہ ایلن سے اکتا گیا تھا۔۔۔' اس نے مزید کہا،
'ایلن سے اکتا گیا تھا؟ کیا بات کرتی ہو؟'
'کیا تمھیں وہ پہلی صبح یاد ہے؟' اس نے پوچھا، 'کاروان سرائے میں؟ ابا نے تم دونوں کو لڑتے ہوئے پہلے ہی دیکھ لیا تھا اور اس نے اندر داخل ہونے سے قبل ہمیں متنبہ کیا، 'ایلن کو چھپا دو۔۔۔ وہ امریکی اس کو ڈھونڈتا ہوا یہاں تک پہنچ آیا ہے!' چنانچہ ہم نے ایلن کو چھپا لیا لیکن کچھ دیر بعد ذوالفقار نے خود ہی مجھے ڈانٹ ڈپٹ کر ایلن کو تمھارے سامنے پیش کرنے کو کہا تھا اور میں حیران پریشان رہ گئی تھی؟'
میں نے اس دن کے واقعات کو یاد کرنے کی کوشش کی۔ ذوالفقار نے ہم دونوں کو چھڑایا تھا اور ہمارا چاقو بھی رکھ لیا تھا۔ پھر کوچی آگے پیچھے یوں داخل ہوئے تھے جیسے پریڈ لگی ہو، اسی دوران مترا بھی آخر میں نظر آئی تھی۔ مترا کی بات درست تھی۔ وہ اس وقت مجھے عجیب و غریب نظروں سے دیر تک دیکھتی رہی تھی اور پھر ذوالفقار نے اسے ٹوک کر دوبارہ باہر بھیج دیا تھا جس پر وہ گڑبڑا گئی تھی۔ اگر ذوالفقار ایسا نہ کرتا تو ہمیں کبھی پتہ نہ چلتا کہ دراصل ایلن کوچیوں کے ساتھ ہے۔ اس نے اسی وقت ایلن سے جان چھڑانے کا فیصلہ کر لیا تھا، اس نے سوچ سمجھ کر اسے اندر بلا لیا تھا۔ خیر، اس کے اپنے کبیر میں سرداری کے مقاصد بھی تھے لیکن مجھے یقین ہونے لگا کہ مترا درست کہہ رہی ہے، ذوالفقار واقعی ایلن سے اکتا چکا تھا جو بعد میں ثابت بھی ہو گیا۔
میں اور مترا اگلے دو ڈھائی گھنٹے یوں ہی بے مقصد پہاڑوں میں گھومتے پھرتے رہے اور جب خاموشی سے لوٹ کر آئے تو ایلن اور شواٹز دونوں بے خبر سو رہے تھے۔ ہم نے بھی اپنا بستر پکڑا اور اگلی صبح تک نیند پوری کی۔ دوسری رات یوں ہوا کہ دوبارہ وہی تماشا لگ گیا بلکہ اس رات تو پہلے سے کہیں زیادہ شور شرابا سنائی دیا۔ مترا نے ایک دفعہ پھر خیمے سے نکل جانے کی تجویز دی اور یوں میرے اندر ایلن اور شواٹز کے جوڑے بابت بیک وقت متضاد جذبات نے جنم لیا۔ ماجرا یہ تھا کہ دن کے وقت تو ان دونوں کے ساتھ میں خوب لطف تھا۔ ایسا لگتا جیسے ہم خوب شناسا ہیں لیکن رات پڑتے ہی وہ دونوں اجنبی بن جاتے؟ جیسے وہ ہم کو تو چھوڑو، ایک دوسرے کو بھی نہیں جانتے؟ اس سارے قصے میں مخمصہ یوں بھی گہرا تھا کہ شواٹز کی بابت میرا دل صاف تھا۔ میں اس کی سبھی حالتوں کا عینی شاہد تھا، میں نے اسے بدلتے ہوئے دیکھا تھا۔ وہ کبھی نازی مجرم ہوا کرتا تھا اور اب اس نے خود کو بدل کر رکھ دیا تھا۔ وہ اب سچے دل سے انسانیت کی خدمت کو اپنا شعار بنا چکا تھا۔ اس نے میونخ میں یہودیوں کے ساتھ جو بھی سلوک روا رکھا ہو، مجھے اس سے سخت نفرت رہتی اور گھن آتی رہی تھی لیکن اب تو وہ احساسات بھی ہوا ہو چکے تھے۔ ہم نے ہفتوں اکٹھے بسر رکھی، طویل بحثیں اور گھنٹوں مکالموں کے بعد اب میں اس کو اپنے بھائیوں کی طرح سمجھتا تھا۔ یوں میں نے اخذ کیا کہ ایلن اور شواٹز کے بارے میرے دل میں جتنے بھی شبہات ہیں، یہ کوفت کا معاملہ کچھ یوں ہے کہ اس کی وجہ شواٹز نہیں بلکہ ایلن ہے۔
شواٹز سے متعلق میرے لگاؤ کی بابت یوں ہے کہ تیسرے دن شام کے وقت ایسا ہوا کہ ہم نے ایک پتھریلی کھائی میں پڑاؤ ڈال لیا۔ یہ وہ جگہ تھی کہ جس سے نکلتے تو ہم ہندوکش کے سلسلے کو پار کر جاتے۔ سورج غروب ہونے لگا تو مفتون نے ایک پھٹی پرانی جائے نماز نکال لی اور ایک بڑی چٹان پر بچھا دی۔ اس نے مغرب کی جانب مکہ کی جانب سمت کا اندازہ لگایا اور عبادت کرنے لگا۔ وہ ابھی شروع ہی ہوا تھا کہ میں نے شواٹز کو دیکھا۔ وہ پہاڑوں کے بیچ سورج کے غروب ہونے کے منظر سے خاصا متاثر تھا، وہ بھی مفتون کے ساتھ عبادت میں شامل ہو گیا۔ اس نے بھی مفتون کے دیکھا دیکھی، اسی طرح عبادت شروع کر دی جیسا کہ قران میں حکم ہے۔ یعنی، کندھے سے کندھا ملائے، بھائی چارے میں ایک ساتھ بغیر کسی تفریق کے۔۔۔ بلکہ یہاں تو مفتون ایک قدم آگے کھڑا تھا۔ اسلام میں اسی دین دنی کا پرچار ہے اور میرے خیال میں، دنیا کے باقی مذاہب میں شاید ہی کسی دین کا یہ طور ہوتا ہو۔
چونکہ عورتوں کو مردوں کے ساتھ کندھا ملا کر عبادت کرنے کی ممانعت ہے، مترا نے ان دونوں کے پیچھے نماز نیت لی اور کچھ ہی دیر میں ایلن بھی مترا کے ساتھ جا کھڑی ہوئی۔ اب میں اکیلا ہی اس چٹان پر، ان سب سے الگ تھلگ کھڑا تھا۔ میں سوچوں کہ آخر اس پتھریلی جگہ کا مکہ کے ساتھ کیا تعلق ہے، یہ ربط کیسے قائم ہوتا ہے؟ میں دل سے دین اسلام کی قدر کرتا تھا لیکن میں نے کبھی اس مذہب کو اختیار کرنے کے بارے کبھی نہیں سوچا۔ لیکن اس لمحے مجھے نظراللہ کی بات یاد آئی، اس نے پوچھا تھا کہ اگر تم افغانستان میں مستقل بسر کرنے کا ارادہ کر لو تو کیا ایسا نہیں ہے کہ تم اپنی زندگی اسلام کے اصولوں کے مطابق بسر کرو گے؟ یہی سوچ کر میں آگے بڑھا اور شواٹز کے ساتھ کندھا ملا کر اسی کی طرح گم صم کھڑا ہو گیا۔ اس کے کندھے سے میرا کندھا جڑا ہوا تھا اور مفتون ہم دونوں سے ایک قدم آگے کھڑا تھا۔ ہم تینوں کے پیچھے کچھ فاصلے پر مترا اور ایلن مودب کھڑی تھیں۔ اگلے چند منٹ یہی عالم رہا اور پھر ہم مفتون کی دیکھا دیکھی پہلے رکوع اور پھر سجدے میں گر گئے۔ ہم پانچوں ایک ہی ردھم میں، ایک ہی آسن جمائے ان پڑھ مفتون کے پیچھے اپنا مال، جانور اور خیمہ چھوڑ کر سجدے میں پڑے تھے۔ مفتون چلایا، 'اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ سب سے بڑا ہے!' اور پھر سجدے میں گر کر سرگوشی میں بولا، 'میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ سب سے اعلیٰ ہے۔ میں اس کا بندہ ہوں!' وہ پھر چلایا، 'اللہ سب سے بڑا ہے!' اور پھر بیٹھ کر دوبارہ سجدے میں گر گیا اور سرگوشیاں جاری رہیں۔ سچ کہوں تو اس لمحے مجھ پر عجیب و غریب احساس طاری ہوا۔ عبادت کے اس آسن میں، ایک نباہ کا لطف حاصل ہوا۔ اس وقت ہم پانچوں کے بیچ ایسا ساجھا تھا کہ میں سوچنے لگا، آخر یہ اجنبی دین جس کو مجھ سے یہودی کے لیے سمجھنا نہایت مشکل ہے، ایک ہی جست میں کیونکر اس احساس کو جگانے کے قابل ہو سکتا ہے؟ مجھے اسلام کی کبھی سمجھ نہیں آئی لیکن اس احساس نے سوچنے پر مجبور کر دیا کہ دراصل یہ مذہب صحراؤں اور اونچے کوہستانوں کے لیے پیدا کیا گیا ہے جہاں بھائی چارے اور انسانوں کو ساجھ پن اور صحبت کی ویسے تو اشد ضرورت رہتی ہی ہے، تب بھی اس کا مصرف باقی رہتا ہے جب چاروں طرف خوب طمانیت ہو۔ مجھے لگا کہ جیسے خدا نے خود زمین پر اتر کر اس دین کو ان بیابان علاقوں کے انسانوں کے حوالے کیا تا کہ وہ رہتی دنیا تک بھائی بھائی بن کر بسر کیا کریں۔ اس لمحے مجھے مفتون اور شواٹز کے ساتھ دل و جان سے بھائی چارے کا احساس ہوا، میں نے ان دونوں کو بخدا، اپنا بھائی پایا۔
'اللہ سب سے بڑا ہے۔۔۔ اللہ سب سے افضل ہے۔ ہم اللہ کے بندے ہیں!' مفتون نے بیٹھے بیٹھے چلا کر کہا اور پھر اسی وقت مجھ پر ایک اور چیز آشکار ہوئی: مسلمانوں کی جتنی بھی عبادات ہیں، بلکہ کہو جو خدا کی کتاب میں درج ہیں اور میں نے پڑھ رکھی ہیں۔۔۔ ان میں خدا کا ذکر بارہا آیا ہے لیکن ان میں محمدؐ کا ذکر بہت کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ملتا ہے۔ مفتون نے گویا میرے خیالات پڑھ لیے۔ وہ اسی دم چلایا، 'اللہ سب سے بڑا ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اللہ کے نبی ہیں!' یوں اسی بات کے ساتھ ہماری عبادت تمام ہو گئی۔ ہم اٹھ کھڑے ہوئے اور میں نے مڑ کر ایلن اور مترا کی جانب دیکھا۔ مترا ابھی تک دونوں ہاتھ اٹھائے کچھ پڑھنے میں مشغول تھی جبکہ ایلن باقیوں سے بے خبر سجدے میں پڑی تھی۔ اس کا چوغا اردگرد یوں پھیلا رکھا تھا جیسے وہ خود کوئی گٹھڑی ہو۔ سورج غروب ہو چکا تھا، ہوا چل رہی تھی اور ایسے میں اس جگہ پر یکدم عجیب و غریب سکون پھیلا ہوا محسوس ہوا۔ یہ اس قدر متبرک احساس تھا کہ ہم اس کے بعد بھی کافی دیر تک اس وقت کے سحر میں، چپ چاپ اپنے آپ میں گم رہے۔
اگلے دن ہم پہاڑیوں کے اس سلسلے سے بھی نکل آئے جس نے ہندوکش کو بلخ کے بنجر اور سوکھے میدانوں سے الگ کر رکھا تھا۔ آنٹی بیکی کی تو موج ہو گئی کیونکہ پہاڑی راستوں سے نکل کر اب دوبارہ میدانوں میں نکل آئی تھی۔ اس نے خوشی کا اظہار غرغرا کر کیا اور مٹیالے میدانوں میں سرعت سے آگے بڑھنے لگی۔ اس کے لیے یہی اصل افغانستان تھا۔
باقی ہم سب کا معاملہ یہ ہوا کہ گرمی کی شدت ایک دم بڑھ گئی کیونکہ اب جولائی کا وسط آن پہنچا تھا۔ ہمیں اسی دن احساس ہو گیا کہ اب پانی کے استعمال میں احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ ہم ایک دفعہ پھر صحرا کے معمول، یعنی راتوں کو سفر پر واپس لوٹ آئے تھے۔ چونکہ یہ چودھویں کے چاند کے آس پاس راتیں تھیں، ہمیں مشکل تو نہیں ہوئی لیکن یہ کہوں گا کہ اسی وجہ سے ہمارا یہ سفر مزید یادگار ہوتا چلا گیا۔ دن کے اوقات میں ہم سوئے پڑے رہتے۔ ایلن اور شواٹز خیمے کے اندر سویا کرتے، مفتون جانوروں کے پاس جبکہ میں اور مترا۔۔۔ جہاں سایہ ملتا، پڑے رہتے۔
'میرا خیال تھا کہ کاروان میں ایلن تمھاری سب سے اچھی دوست ہے!' میں نے مترا کو تقریباً جھڑکتے ہوئے کہا۔ اس وقت ہم دن کی گرمی سے تنگ، سونے کے لیے سایہ دار جگہ تلاش رہے تھے۔
'وہ میری بہت اچھی دوست ہے!' مترا نے معمولی انداز میں کہا، 'لیکن تمھارے لیے بہتر یہی ہے کہ تم اس سے دور رہا کرو۔۔۔ اس کے قریب مت سویا کرو!'
'بھلا تم ایسی بات کیوں کرتی ہو؟' میں نے سختی سے پوچھا،
اس پر پہلے تو اس نے کچھ کہنے سے گریز کیا لیکن پھر خود ہی بولی، 'وہ ابا کے ساتھ رہا کرتی تھی لیکن اسی دوران مجھے پتہ چلا کہ وہ شواٹز کے ساتھ محبت کرنے لگی ہے!'
'کسی کو ایسی کسی بات کا بھلا کیسے پتہ چلتا ہے؟' میں نے جھلا کر پوچھا کیونکہ رات بھر سفر کے بعد اس میدان میں بڑھتی ہوئی تپش میں سایہ دار جگہ تلاشنا نہایت دشوار کام تھا۔
'میں نے اس وقت بھی تمھیں بتایا تھا۔۔۔ نہیں؟' اس نے یاد دہانی کرائی،
'تمھیں کیسے پتہ چلا تھا؟' میں نے بھڑک کر پوچھا،
'بس۔ مجھے پتہ چل گیا تھا۔۔۔' اس نے پھر وہی معمولی انداز اپناتے ہوئے سپاٹ جواب دیا۔
چوتھے دن، جب رات آدھی سے زیادہ گزر چکی تھی۔ میں اپنے سفید گھوڑے پر سوار کاروان سے آگے چل رہا تھا۔ ایسے میں، چاند کی چھنکتی ہوئی روشنی میں کچھ فاصلے پر ایک وسیع و عریض علاقہ نظر آیا۔ یہاں درخت نام کی کوئی چیز نہیں تھی لیکن جا بجا خاصے بڑے ٹیلے بکھرے ہوئے تھے جن پر گھاس پھونس اگی ہوئی تھی۔ دور سے، اس آدھ رات کے وقت مجھے ایسا لگا جیسے یہ کوئی قبرستان ہے لیکن ٹیلوں کو دیکھ کر یوں لگا کہ جیسے یہ دیوؤں کا قبرستان ہے۔ میں وہیں کھڑا اس بارے سوچ وچار کر رہا تھا کہ مفتون مجھ تک آن پہنچا اور دھیمی آواز میں بولا، 'یہ بلخ ہے!'
یہ بلخ ہے؟ میں بڑبڑایا اور اس بیابان قطعہ زمین کا، جس کے کوئی معنی نہیں تھے، معائنہ کرنے لگا۔ یہ بلخ ہے؟ یہ دنیا کے سبھی شہروں کی ماں ہے۔ یہ بلخ ہے؟ وہ بلخ جہاں سکندر اعظم نے رخسانہ کے ساتھ بیاہ کیا تھا۔ یہ بلخ ہے؟ وہ بلخ جو دنیا کے چوراہے پر واقع تھا، جہاں علم کا سمندر ٹھاٹھیں مارتا تھا، یہ بلخ ہے؟ وسط ایشیاء کا میٹروپولس، یہ بلخ ہے؟ لڑکپن میں اسی بلخ بارے پڑھ کر میں دم بخود رہ گیا تھا، یہ قدیم شہر جو دارا اول کے زمانے سے قبل بھی ہنستا بستا شہر ہوا کرتا تھا۔۔۔ کیا یہ وہی بلخ ہے؟ ایشیاء کے سبھی نامی گرامی سیاحوں اور شہنشاؤں نے اس جگہ کا نہایت شاندار الفاظ میں ذکر کیا ہے۔ ابن بطوطہ، ہوان سانگ، چنگیز، مارکو پولو، تیمور، بابر۔۔۔ کس نے اسے نہیں سراہا؟ اس کی تاریخ تو امر ہے لیکن اس کا نقشہ برباد ہو کر گم ہو چکا ہے بلکہ اسے چھوڑو، اب تو یاد بھی محو ہو چکی ہے۔ میں رہ رہ کر یہی سوچتا رہا کہ کیا یہ وہی بلخ ہے؟
یہ بلخ کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ بیابان اور اجاڑ جگہ جہاں اب صرف چند ٹیلے ہیں اور چرواہے بکریاں چراتے ہیں اور کوچی صرف ایک رات گزارنے کے لیے رکتے ہیں؟ اس شہر کا ملبہ بھی مٹی ہو چکا تھا، دھول ہی دھول تھی اور یہاں کوئی نشانی بھی باقی نہیں تھی۔ کوئی نشان، راستہ، نام کچھ بھی تو نہیں تھا۔ گزرے زمانوں کی کچی یا پکی اینٹوں کی ایک دیوار بھی باقی نہیں تھی جس کو دیکھ کر میں کہہ سکتا کہ یہاں کبھی اونچے کتب خانے ہوا کرتے تھے، بازار تھے اور بلند و بالا عمارتیں تھیں؟ یہ ایک شہر کی بھلا کیسی موت تھی۔۔۔ مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا کہ آخر یہ کیسے ممکن ہے، ایک شہر یوں کیسے گم ہو سکتا ہے؟
مجھے عجب قسم کی تنہائی نے آن گھیرا، ایسے جیسے میں تاریخ کی گم گشتہ درزوں میں بے یارومددگار اور اپاہج پڑا ہوں۔ ایسے جیسے میں حرکت کرنے سے بھی قاصر ہوں اور وقت مجھے کچوکے پر کچوکا لگا رہا ہے۔ میرا جی اندر سے پھٹنے لگا اور دل چاہا کہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑوں۔ اسی عالم میں جب میں نے دور سے اپنے کارواں۔۔۔ ایک اونٹ، ایک گدھا بلخ کی جانب بڑھتے ہوئے دیکھا تو مجھے سمجھ نہ آئے کہ کیا کروں؟ میں بھاگ کر کہاں جاؤں، کس چیز کی اوٹ میں پناہ لوں۔۔۔ میں۔۔۔۔ ارے یہاں تو کوئی ایسی علامت بھی باقی نہیں تھی جس کو میں اس بوجھل تنہائی کا ساتھی، اپنی دیوار گریہ بنا لیتا۔ اس سے لپٹ کر اپنا جی ہلکا کر لیتا؟ یہ سوچ کر کہ مترا بدستور میرے ساتھ ہے، مجھے پھر بھی چین نہ آیا۔
روم میں شاہی دور کی باقیات اور آثار دیکھ کر بھی میں خاصا افسردہ ہو گیا تھا لیکن وہ صرف کچھ دیر کی بات تھی کیونکہ تخیل کو دوڑا کر ذہن کو اس بات پر منوانا کہ وہاں کبھی عظیم الشان سلطنت ہوا کرتی تھی، کوئی زیادہ مشکل بات نہیں تھی۔ افغانستان کی بات الگ تھی، یہاں افسردگی نے نہ صرف مجھے گھیر لیا تھا بلکہ جب کبھی آثار سے سامنا ہوتا تو مالی خولیا کی سیلن مجھ سمیت اس جگہ، تہذیب اور لوگوں میں بھی سیپی ہوئی محسوس ہوتی۔ یہ ماننا انتہائی مشکل تھا کہ اس بیابان میں کبھی تہذیب کا جوبن رہا کرتا تھا اور پھر یہ سوچ کر مزید دل بیٹھ جاتا کہ وہ تہذیب دوبارہ کبھی پنپ پائے گی؟ غزنی جیسے خستہ حال شہر، قلعہ بست کی خاموش بستی، صحرا کے اس پار شہر کے پھیلاؤ، مجہول بامیان اور اب یہاں برباد اور اجاڑ بلخ میں، میں نے دیکھا کہ کچھ بھی باقی نہیں رہا تھا۔ ایسا کیا ہوا؟ اس خطے کے انسانوں کی نسلیں کیسی بے پرواہ تھیں جنہوں نے اپنی یادگاروں کو سنبھالا ہی نہیں جبکہ روم میں سب کچھ محفوظ رہا؟ یا میرے خیال میں ایشیاء واقعی ایک مختلف جگہ ہے، یہاں کے لوگ اور فاتح اس قدر ظالم واقع ہوئے تھے جس کا تصور کوئی دوسرا آدمی کبھی نہیں کر سکتا؟
افغانستان میں جا بجا، کئی دفعہ چنگیز خان نے میرا راستہ کاٹا۔ وہ سینکڑوں فاتحین میں سے صرف ایک تھا اور میرے خیال میں وہ سب سے بدتر نہیں تھا۔ ہر بار جب اس سے میرا سامنا ہوتا تو میں خود کو کسی ایسے مقام پر کھڑا پاتا جہاں اس نے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے۔۔۔ آبادیوں کا صفایا کیا۔ شاید کوئی بھی معاشرے اس طرح کی پے در پے، بار بار کی سزاؤں کو جھیلنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ غالباً اس طرح کا ستم آدمیوں کے ذہنوں پر اثر کر دیتا ہے جس سے اچھے بھلے مہذب شہری، خوفزدہ خانہ بدوش بن کر رہ جاتے ہیں۔ ایسے خانہ بدوش جو ہر وقت چکر میں باقی ساری دنیا سے کٹ کر رہ جاتے ہیں۔ وہ اپنی ہی دنیا بسا لیتے ہیں اور انہیں کسی کی، باقی دنیا کی کوئی پرواہ ہی نہیں رہتی۔ میرے خیال میں یہ چنگیز خان ہی تھا جس نے خانہ بدوشی کا طور عام کیا اور یہی وجہ ہے کہ کوچی ہوں، قزلباش ہوں، ازبک یا تاجک ہوں۔۔۔ یہ ہمیشہ جہاں گشت رہتے ہیں اور کبھی کسی تہذیب کے ساتھ جڑنے کی کوشش نہیں کرتے، بلکہ تہذیب کو پنپنے ہی نہیں دیتے۔
بلخ میں رات کے اس پہر، چاندنی تلے ٹیلوں پر بیٹھے، انہی خیالات میں گم رہتے ہوئے میرے دل میں محب خان، نور محمد، نظراللہ اور ذوالفقار جیسے اخوند کے لیے عزت و منزلت کئی گنا بڑھ گئی۔ یہ وہ لوگ تھے جو ایک نئے اور جدید افغانستان کی بنیاد رکھنا چاہتے تھے، ایسا افغانستان جہاں غزنی، بامیان اور بلخ کی یادگاریں محفوظ ہوتیں۔ جہاں جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ روس اور امریکہ کے جدید افکار کی بنیاد پر ایک دفعہ پھر تہذیب کی بنیادیں ڈالی جاتیں۔ اگر میں افغان ہوتا تو میں یقیناً انہی لوگوں کی صف میں، ان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہوتا۔
میں ابھی اسی نتیجے پر پہنچا تھا کہ مفتون ہمارے مختصر کاروان کو ساتھ لیے ان آثار پر آن پہنچا اور پڑاؤ کی تیاری کرنے لگا۔ یہ جگہ پچھلی کئی صدیوں سے کوچیوں کے پڑاؤ کے لیے مختص چلی آ رہی ہے۔ وہ اور شواٹز مل کر خیمہ گاڑنے لگے اور ایسے میں ایلن میرے پاس آئی اور نرمی سے بولی، 'ملر۔۔۔ میں سخت شرمندہ ہوں۔ میں اس سارے سفر کے دوران تمھارے ساتھ بھڑتی رہی لیکن کیا کرتی، میں بھی سمجھنے اور بوجھنے کی کوشش کر رہی تھی!'
'تو کیا سمجھ آیا؟'
'کچھ نہ کچھ سمجھ آ ہی گیا۔۔۔ جب میں نے شواٹز کو لڑائی میں موت کے اس قدر قریب دیکھا تو مجھے ایک چیز کا ادراک ضرور ہوا۔ مجھے پتہ چلا کہ زندگی کس قدر انمول چیز ہے۔ میں دعا کرتی رہی کہ اس کی زندگی بچ جائے۔۔۔'
'اس کی قسمت اچھی تھی کہ بچ گیا!' میں نے جواب دیا، 'میرے خیال میں تم اور وہ افغانستان میں بہت خوش و خرم رہو گے۔۔۔ یہاں دیکھنے اور کرنے کو بہت کچھ ہے'
'ہم جیسے لاموجود، غیر اہم لوگوں کے پاس دیکھنے، کرنے اور کچھ پا لینے کو کچھ نہیں ہوتا!' اس نے تصحیح کی، 'ہم تو بس موجود رہتے ہیں اور ہم جیسوں سے باقیوں کو امید ملتی رہتی ہے۔۔۔'
'ایلن۔۔۔ مجھے ایک چیز کا اعتراف ضرور کرنا چاہیے۔ پچھلے چند دنوں میں مجھے تمھارے افکار کی کچھ نہ کچھ سمجھ ضرور آئی ہے، میں اب سمجھنے لگا ہوں کہ آزاد زندگی سے تمھاری کیا مراد ہے۔ لیکن دیکھو، میں نظراللہ کی طرح ہوں جو اس تہذیب اور تمدن کو بڑھاوا دینا چاہتا ہے جس میں ہم سب پھنس کر رہ چکے ہیں اور نکلنے کا واحد راستہ آگے کو جاتا ہے۔۔۔'
اس پر وہ نہایت دلکشی سے مسکرائی اور میرے ہاتھ تھام لیے۔ اس کے ہاتھوں کے لمس میں بلا کی بجلی تھی، 'ملر۔۔۔ تم کبھی نہیں بدلو گے۔ بلخ کی باقیات پر بیٹھے، پھر وہی رٹ لگا رہے ہو؟'
'مطلب؟ بلخ سے مراد؟'
'کیا تم نہیں جانتے کہ جب بلخ ایک ہنستا بستا شہر، تہذیب کا گہوارہ ہوا کرتا تھا۔۔۔ اس شہر کے لوگ تم جیسی ہی باتیں کیا کرتے تھے؟ ملا کہا کرتے تھے کہ، 'اس شہر پر خدا کی خاص رحمت ہے اور اس پر کوئی قہر کبھی نازل نہیں ہو گا'، جرنیل غرور دکھاتے، 'ہمارے قلعے ناقابل شکست ہیں، دشمن میلی آنکھ سے ہمیں نہیں دیکھ سکتا۔۔۔' اور ساہوکار بنکاروں کی بڑھکیں تو سننے لائق ہوتیں کہ، 'پچھلے برس ہمارے شہر کی معیشت نے چار فیصد سے زیادہ ترقی کی۔ اب ہم سب ہر گھر میں دو غلام اور چار نئے کمرے بنوا سکتے ہیں!' لیکن دیکھو تو۔۔۔ یہ اردگرد کیا ہے، یہ وہی بلخ ہے۔ یہی اس زمانے کا نیویارک ہے!'
'کیا تم واقعی یہ سمجھتی ہو کہ نیویارک کا بھی یہی حال ہو گا؟' میں نے پوچھ تو لیا لیکن فوراً ہی دھیان اس خیال کی جانب مڑ گیا جو صحرا کے پار گم گشتہ شہر کو دیکھ کر آیا تھا کہ وہ باقیات مجھے نیویارک کا مستقبل معلوم ہوئی تھیں۔
'میرا ماننا ہے کہ انسانی تہذیب کا یہی مستقبل ہے!' ایلن نے جواب دیا، 'لیکن دیکھو۔۔۔ تم ایسا ہر گز مت ماننا کیونکہ تم جوان ہو اور تمھاری منزل بوسٹن جا کر خوب محنت کرنا ہے اور وہاں، جیسے یہاں نظراللہ قندھار کی قسمت بدلنا چاہتا ہے۔۔۔ تم بوسٹن کو رنگ دینا۔ میں تم دونوں کے لیے دعا گو ہوں لیکن میں کبھی اس چیز میں یقین نہیں رکھ پاؤں گی جو تم حاصل کرنا چاہتے ہو۔ میری رائے میں اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔۔۔ کوئی حاصل نہیں ہے!'
میں نے اس کو بتایا، 'میں تمھاری کیفیت تمھارے والدین کو سمجھانے کی کوشش کروں گا!' اس پر اس کے تیور بدل گئے، وہ شاید حقارت کا مظاہرہ کرتی لیکن فوراً ہی سنبھل گئی اور بجائے بوسہ دے ڈالا۔ ایسے نہیں کہ جیسے رسماً گالوں پر بوسا دیا جاتا ہے بلکہ اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ دیے اور نہایت دلجمعی سے، اس بوسے میں کثیر چاہ بھری ہوئی تھی۔ وہ محبت جو اس کی شخصیت کا خاصہ تھی اور اس ایک لمحے کے اندر ہی مجھے اس کے اندر بھری تپش اور عشق کا پوری طرح ادراک ہو گیا جو بقول اس کے، اسے دوڑا کر پہلے افغانستان اور اب یہاں بلخ تک لے آئی تھی۔ اس کے بوسے کا اثر ویسا ہی تھا جیسا بیچ راستے میں رقص کے لیے ہاتھوں کے چھونے سے ہوا، مجھے محسوس ہوا کہ سامنا ایک ایسی عورت سے ہے جس کے اندر زبردست توانائی پھنکار رہی ہے۔ میں اسی عالم میں یہ سوچنے لگا کہ اگر ایلن سے میری ملاقات امریکہ میں ہوئی ہوتی تو کیا ہوتا؟ اس پر میرے دماغ میں ایلن کے اس دوست کی آواز گونجنے لگی جس نے رپورٹ میں کہا تھا کہ، 'میں یہ سمجھتا ہوں کہ ایک دن ایلن کو کوئی نہ کوئی ایسا ضرور مل جائے گا جو اسے راہ پر لا سکے۔ مجھے افسوس کے ساتھ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ وہ کوئی آدمی کم از کم میں نہیں ہوں۔۔۔'
میں بدحواسی کے عالم میں اس سے دور ہو جانا چاہتا تھا لیکن حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس نے مجھے شانوں سے پکڑ لیا اور ایک دفعہ پھر طویل بوسا دے ڈالا۔ اس کے انداز میں بے صبری صاف تھی، 'کاش۔۔۔ جو کچھ تم نے افغانستان میں سیکھ لیا ہے، تم اس سمیت امریکہ میں ملی ہوتیں!' یہ سن کر اس نے پیشانی سے بال جھٹک کر پیچھے اڑائے اور بلخ کی باقیات کو دیکھ کر بولی، 'ارے نہیں۔۔۔ میں اس کے بغیر بھی تمھارے لیے اتنی ہی غضب ناک ہوتی۔ یہ باقیات تو اس وقت بھی میرے رو رو میں بسی ہوئی تھیں!' وہ آنکھ مار کر اضطراب سے ہنسی اور مزید کہا، 'ویسے بھی تم تو جوان ہو اور تم امید تھامے ہوئے ہو۔۔۔ میں تو بہت ہی پرانی، ضعیف روح ہوں!'
اس نے یہ کہا تو چاندنی اس کے خوب رو چہرے پر کھل کر کھیل رہی تھی۔ میری بانہوں میں اس کا جسم پیچھے کی طرف ڈھلکا تو خاکستری بلاؤز جو رچا نے اسے سی کر دیا تھا، اس پر کڑھائی بھی دمکنے لگی۔ اس کی عریاں ٹانگیں کوچیوں کے سیاہ گھاگھرے کے نیچے سے جھانکنے لگیں۔ پیروں میں جوتی تو تھی لیکن ٹخنوں پر چمڑے کے بدری تسمے چڑھے ہوئے دکھائی دیے۔ میں نے آج تک اس جیسی خوب رو اور دلکش عورت نہیں دیکھی، اس کا کوئی جوڑ نہیں تھا۔ اب کی بار، بوسہ میں نے ثبت کیا اور جس طرح بے چینی سے اس نے خود کو میرے حوالے کیا، میں حیران رہ گیا۔ اس نے اپنا تمام تر حسن میری بانہوں میں جھول دیا اور اس کے جسم کا بوجھ یوں ٹھہر کر مجھ پر گرا جیسے روئی کی کوئی گٹھڑی ہو۔ اس کا حسین وجود میرے چہرے، جسم اور روح کے آر پار ہو گیا۔ اس کی چال ڈھال، ادا اس قدر حاوی تھی کہ میں مغلوب ہو کر رہ گیا تھا۔ جس طرح اس نے میرے صرف ایک بوسے کے جواب میں ردعمل ظاہر کیا تھا، میں دوسروں کی موجودگی سے بالکل بے نیاز ہو گیا۔ ایلن بہرحال اچھی طرح سمجھ رہی تھی، اس نے اندازہ لگایا کہ شواٹز اور مفتون کو ابھی دیر ہے جبکہ مترا اونٹ کے ساتھ مصروف رہے گی۔
'انہیں پتہ بھی نہیں چلے گا کہ ہم موجود نہیں ہیں۔۔۔' اس نے مجھے یقین دلاتے ہوئے کہا اور مجھے ساتھ لیے ٹیلوں کے پیچھے اوٹ ڈھونڈنے لگی۔ اسے اوٹ مل ہی گئی اور اس نے مجھے اشارہ کیا۔
'یہ تم کیا کر رہی ہو؟' میں نے ششدر ہو کر پوچھا،
لیکن وہ پہلے ہی جوتی اتار چکی تھی اور اب بلاوز کی ڈوری کھولنے میں مصروف تھی، 'کیا ابھی ابھی ہم نے اتفاق نہیں کیا کہ زندگی بہت ہی خوبصورت چیز ہے؟ ہمیں اس زندگی کو بھرپور طریقے سے گزارنا چاہیے!' لیکن جب میں ہچکچایا تو اس نے جرح کی، 'اگر وہ ہمیں دیکھ بھی لیں تو کیا فرق پڑتا ہے؟'
یہ بات سن کر میرے رہے سہے حواس بھی جاتے رہے اور میں جہاں تھا، وہیں کھڑے کا کھڑا رہ گیا، 'فرق پڑتا ہے۔۔۔' میں نے زور دے کر کہا، 'مترا کی وجہ سے فرق پڑتا ہے!' میں نے بڑبڑاتے ہوئے غصے سے کہا،
'کیا تمھارا دل نہیں چاہتا؟' اس نے پینترا بدل کر پوچھا اور پہلے اس کا بلاؤز اور پھر گھاگھرا پیروں میں ڈھیر ہو گیا۔
'تم جانتی ہو کہ میرا دل چاہتا ہے۔۔۔'
'پھر کس چیز کا ڈر ہے؟' یہ کہا اور پیروں میں پڑے کپڑوں سے نکل کر میری جانب بڑھنے لگی،
میں جانتا تھا کہ ایسی صورتحال میں، اس لمحے ہچکچانے والا شخص خود اپنے آپ اور عورت کے لیے بھی شرمساری کا باعث ہوتا ہے۔ میں دل سے چاہتا تھا لیکن بجائے میں نے خود کو کہتے ہوئے سنا، 'کم از کم تم شواٹز کے ساتھ ایسا مت کرو!'
یہ سن کر اس کے چہرے پر تیوریاں چڑھ گئیں۔ یہ تو معلوم نہیں کہ مجھ، شواٹز یا مترا کو۔۔۔ لیکن اس نے نفرت دکھائی اور لباس دوبارہ پہن کر ڈوری باندھنے لگی اور تیزی سے بولی، 'میں نے شواٹز کے لیے جو میرے بس میں تھا۔۔۔ وہ کر دیا ہے' پھر ننگے پیر ہی میری جانب آئی اور کان میں سرگوشی کرتے ہوئے بولی، 'ویسے بھی، جلد یا بدیر اسے روسی بخشنے والے نہیں ہیں۔۔۔ وہ اسے آن لیں گے!'
اس کی سنگدلی صحرا کی طرح سرد تھی اور میں خوش تھا کہ اس کے پیچھے پیچھے اس صحرا کے اندر تک نہیں گیا، 'تمھارے ان خیالات کا۔۔۔ شواٹز بارے اور دوبارہ جنم لینے کے تصورات کے ساتھ کیا ہوا؟' میں نے پوچھا، 'ابھی کچھ دیر پہلے تم کہہ رہی تھیں کہ اس کے زندہ بچ جانے کی دعا مانگتی رہیں۔۔۔'
'تو وہ زندہ بچ گیا ناں۔۔۔ یا نہیں؟'
اس پر میں نے سوچا: میں شرط لگا سکتا ہوں کہ اس نے ذوالفقار سے جان چھڑانے کے لیے شواٹز کے ساتھ بھی ایسی ہی کوئی چال کھیلی ہو گی۔ غالباً اس نے کہا ہو گا، ایسا ہی ہے لیکن اوٹو۔۔۔ ذوالفقار تو ہر وقت دوسرے کاموں میں مصروف رہتا ہے۔ اسے میرا خیال ہی نہیں ہے وغیرہ وغیرہ، اس کی بات غلط بھی نہیں تھی۔ 'تمھارے وہ خوش کن خیالات اور مرے ہوؤں کا دوسرا جنم وغیرہ؟' میں نے پوچھا، 'تم نے وہ سارے تصورات آگ میں جھونک دیے؟ پتہ، میں تو اچھا خاصا قائل ہو گیا تھا۔۔۔'
'تصورات آنی جانی چیز ہیں!' اس نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا اور جوتی پہنتے ہوئے کہا، 'تم اچھی طرح جانتے ہو کہ ہمیں آگے کیا کرنا چاہیے۔ میں تو کہتی ہوں کہ اپنا سامان اور ایک بستر اٹھاؤ اور ہم دونوں ابھی کے ابھی نکل جاتے ہیں۔۔۔'
'مترا کو چھوڑ کر؟'
'میں نے پہلے ہی متنبہ کیا تھا کہ تم مترا کے معاملے میں حد سے زیادہ سنجیدگی دکھا رہے ہو۔ ویسے بھی، دو دن کے بعد اس نے واپس اپنے باپ اور کاروان کی طرف لوٹ جانا ہے!'
اس پر میں پیچھے ہٹ گیا اور جی خراب ہو گیا۔ 'بامیان میں تم نے ان لوگوں کا جی بھر کر مذاق اڑایا تھا جو اپنی زندگی نمبروں کے کھیل میں بسر کر دیتے ہیں۔ مجھ سے پوچھو تو میرے خیال میں اس کھیل سے زیادہ اہم کوئی چیز نہیں ہے۔ میں دل سے مانتا ہوں کہ اگر میں مترا کے ساتھ اچھا سلوک کروں گا تو میرے نمبر بڑھ جائیں گے اور تم پسند کرو یا نہیں لیکن اگر تم نے شواٹز کے ساتھ برا سلوک کیا تو تمھارے نمبر کٹ جائیں گے۔۔۔'
'کس کے کھاتے میں؟' اس نے حقارت سے پوچھا، 'برتر ذات کے یہاں لکھے جانے والے چٹھے میں؟'
'نہیں۔۔۔ میرے کھاتے میں، میرے پاس محفوظ چٹھے میں!' اس پر وہ ہنسنے لگی اور مجھے غصہ آ گیا، 'تم مذہب کو رد کرتی ہو لیکن میں نہیں۔۔۔ آج تک تاریخ میں کروڑوں انسان اس لیے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے کہ وہ مذہب کو اختیار کرنا نہایت اہم اور سنجیدہ کام سمجھتے تھے۔۔۔ لاکھوں یہودی۔۔۔'
'ملر۔۔۔' وہ چلا اٹھی۔ اس کی آواز اتنی اونچی تھی کہ دوسرے بھی متوجہ ہو گئے، 'تم واقعی یہودیت کو اتنی سنجیدگی سے مانتے ہو، واقعی؟'
'چھوڑو بھی۔۔۔' میں نے بے صبری سے ایسے کہا جیسے میں اس موضوع کو چھیڑنے پر نادم تھا۔ مگر پھر بھی کہا، 'لیکن پتہ کیا؟ جس طرح تم مذہب کو رد کرتی ہو۔۔۔ تم ہو کون؟ تم کیا تھیں۔۔۔ خود عیسائی نہیں تھیں؟' اس پر اس نے قہقہہ لگایا اور میں نے مزید کہا، 'ایلن۔۔۔ اگر تم اسلام کو سنجیدگی سے اختیار کر لیتیں۔۔۔'
'تو میں بچ جاتی؟' اس نے مذاق اڑاتے ہوئے پوچھا،
'ارے نہیں۔۔۔ تمھیں بچانے کے لیے اس سے کہیں زیادہ کچھ درکار ہے۔ تم جس قدر ڈارسٹ اور پنسلوانیا کی بدخوئی کرتی ہو۔۔۔ میں اب قائل ہوتا جا رہا ہوں کہ وہ نہایت عمدہ جگہ رہی ہو گی۔ تم کسی دن سنجیدگی کے ساتھ وہاں بسر کرنے بارے سوچو!'
وہ اس بات پر پھر ہنسی اور میں کھسیا گیا۔ دراصل میرا فرسودہ فلسفہ بے مزہ تھا اور میں نے اس کو خواہش کے زور تلے بھی مایوس کر دیا تھا۔ میں واپس جانے کے لیے مڑا اور ابھی چند قدم ہی اٹھائے تھے کہ وہ سیدھا میرے آگے آن کھڑی ہوئی اور بازو سے پکڑ لیا۔ میں نے ایک دفعہ پھر اس کی تڑپ بھانپ لی اور پیچھے ہٹنے ہی لگا تھا کہ اس نے مخلصانہ طور پر اس لڑائی کا حل نکالنا چاہا۔ کسی تلخی کے بغیر پوچھا، 'ملر۔۔۔ سنجیدگی سے بتاؤ، کیا تمھیں ان تقریروں سے خود آگاہی کا احساس نہیں ہوتا؟ جذباتی تقریروں سے؟ وہ بھی بلخ جیسی جگہ پر؟'
اس کے الفاظ میں شدت تھی جس کے سبب میں رک گیا۔ میں نے اپنے اردگرد پھیلے بلخ جیسے عظیم شہر کے قبرستان کو دیکھا اور اپنے تخیل میں اس کا جاہ و جلال بھی دیکھا۔ بلخ کو کسی زمانے میں دنیا کا پرچم کہا جاتا تھا اور اس شہر کی کامیابیوں کا ڈنکا چاروں طرف بجتا رہتا تھا۔ یہ درست ہے کہ وہ کامیابیاں اور کامرانیاں عارضی ثابت ہوئیں۔۔۔ اور یہیں مجھے اپنے مشن کی بھی تھوڑی بہت معنی خیزی عیاں ہوئی۔ میں نے کہا، 'میں بلخ بارے تمھارے خیالات سے متفق نہیں ہوں۔ شہر برباد ہو جاتے ہیں اور تہذیبیں مٹی میں مل جاتی ہیں لیکن لوگ باقی رہتے ہیں۔ لوگ آتے رہتے ہیں اور زمانے چلتے رہتے ہیں، زندگی چلتی رہتی ہے۔ باقی سب کچھ بے معنی اور فضول ہے۔ مجھے تو لوگوں سے سروکار ہے۔۔۔میں بھی انہی لوگوں میں سے ایک ہوں۔ لوگ سوتے ہیں، جاگتے ہیں، کھاتے ہیں، پیتے ہیں، بچے پیدا کرتے ہیں، انہیں پالتے ہیں اور پھر کسی بیماری سے یا پھر کسی جنگ میں مارے جاتے ہیں۔ وہ اپنی ساری زندگی چند اصولوں کے تحت بسر کرتے ہیں، مجھے وہ اصول قبول ہیں۔۔۔ مجھے ویسی ہی زندگی عزیز ہے!'
'اصول؟' اس نے آہستگی سے پوچھا، 'کیا وہی اصول تمھیں مجھ سے دور رکھتے ہیں؟' یہ کہہ کر وہ پھر مجھ سے لپٹنے لگی اور میں نے چاندنی میں دیکھا کہ وہ نہایت دلکش لگ رہی ہے، مترا سے کئی درجے حسین، 'کیا یہ اصول تمھیں مجھ سے دور رکھتے ہیں، وہ تمھیں اجازت نہیں دیتے؟' اس نے سوال دہرایا،
'مترا کے ہوتے۔۔۔ ہر گز نہیں!' میں نے ٹامک ٹوئی ماری،
'اچھا، کل صبح۔۔۔' اس نے پینترا بدلا، 'کیا تمھیں اپنا آپ احمق نہیں لگے گا؟'
'تمھارا کیا خیال ہے۔۔۔ اس وقت مجھے اپنا آپ کیا لگ رہا ہے؟' میں نے اس کے ہاتھ تھام کر کہا، 'ایلن تم بہت حسین ہو لیکن۔۔۔'
اس پر وہ خوش ہو گئی کہ چلو کچھ تو کہا اور پھر دوبارہ اپنے تخیل میں غرق ہو گئی، 'تم مجھے دو سال قبل کیوں نہیں ملے؟' اس نے نرمی سے پوچھا۔ پھر شدت سے رونے لگی، 'ملر۔۔۔ تم برائن مئیر میں میرے ساتھ کالج میں کیوں نہیں تھے؟ تم چمچماتا ہوا یونیفارم پہن کر؟ اپنی بہادری اور امیدیں لیے؟' یہ کہہ کر اس نے ہاتھ چھڑا لیے اور سرگوشی میں پوچھنے لگی، 'تم اس وقت وہاں کیوں نہیں تھے؟'
میں اسے وہیں چھوڑ کر ٹیلوں کی اوٹ سے نکل آیا اور یوں ظاہر کیا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ہے۔ غیر متوقع طور پر کسی نے ہماری کمی محسوس نہیں کی تھی اور کچھ دیر بعد ایلن بھی غیر محسوس طریقے سے واپس لوٹ آئی۔ میں نے اس پر نظر ڈالی، وہ گدھے سے سامان اتارنے میں مصروف تھی اور اس کے چہرے پر سنہری بال اڑ رہے تھے اور وہ اپنے کام میں خاصی منہمک تھی۔ مجھے لگا جیسے وہ انہی بے دستور، سخت پہاڑوں میں جینے کے لیے پیدا ہوئی تھی۔
صبح کے تین بج چکے تھے۔ ہم نے پلاؤ اور قہوہ پکا لیا اور پھر سونے سے قبل کچھ دیر تک آگ کے گرد بیٹھے رہے۔ ایسے میں ایلن نے جانے کیا سوچ کر کہا، 'یہاں سے چند میل دور۔۔۔ روس کی سرحد ہے!'
یہ سن کر شواٹز کو جھرجھری آ گئی اور کسی نے اس کے خوف پر تبصرہ کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ ایلن نے بات جاری رکھی، 'کیا تم لوگوں کا دل نہیں چاہتا کہ سمرقند دیکھیں؟ وہ شہر کیسا لگتا ہے؟ میں نے سنا ہے کہ اس کے بازاروں میں دنیا کے سب سے دلکش چوراہے ہیں۔۔۔' اس پر بھی کسی نے جواب نہیں دیا اور کچھ دیر خاموشی طاری رہی اور پھر وہ مردہ دلی سے بولی، 'میرے خیال میں اب ہمیں سو جانا چاہیے۔۔۔' اس پر شواٹز بھی اٹھ کھڑا ہوا اور سعادت مندی سے اس کے پیچھے ہو لیا۔
وہ رات ایلن کے ساتھ، ایک ہی خیمے میں بسر کرنا تقریباً ناممکن تھا۔ اسی لیے میں نے اپنا بستر باہر نکال لیا اور مترا کو اس کا سامان لانے کو بھجوا دیا۔ اس دوران مفتون مجھے ایک طرف لے گیا اور کسی سازشی کی طرح چھپا کر مجھے اپنا خنجر دیتے ہوئے کہا، 'ملر صاحب۔۔۔ یہ اپنے پاس رکھیں۔ آپ کو اس کی ضرورت پڑ سکتی ہے!'
'کیوں؟' میں نے حیران ہو کر پوچھا،
'وہ جرمن۔۔۔'
'شواٹز؟ اس کے بارے کیا؟'
جب آپ اور ایلن ٹیلے کے پیچھے گئے تھے تو وہ پیچھے پیچھے ٹوہ لگانے گیا تھا۔۔۔' مفتون نے دانت کچکچاتے ہوئے مزید کہا، 'اس کے پاس ذوالفقار کا دیا ہوا خنجر بھی ہے۔۔۔'
یہ سن کر مجھے چکر سا آ گیا۔ 'کیا مترا کو اس بات کا علم ہے؟' میں نے پوچھا،
'مجھے اسی نے ہی یہ خنجر آپ کو دینے کو کہا ہے۔۔۔' اس نے تفصیلات بتائیں، 'اس نے بھی شواٹز کو آپ دونوں کا پیچھا کرتے ہوئے دیکھ لیا تھا' مفتون نے یہ کہا اور چلا گیا۔
جب مترا لوٹ کر آئی تو اس نے کچھ نہیں کہا بلکہ میرے جیبوں پر ہاتھ پھیر کر مفتون کے خنجر کو محسوس کیا اور تھپتھپا کر بولی، 'یہ حفاظت کے لیے ضروری ہے!'
اس کا میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ ہم دونوں سونے کے لیے کوئی مناسب جگہ دیکھنے لگے اور کچھ دیر بعد وہ خود ہی بول اٹھی، 'تم اور ایلن میرے سب سے اچھے دوست ہو۔ میں نے ایلن سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ وہ نہایت خوب لڑکی ہے، میری بہنوں جیسی ہے۔۔۔۔ ملر میں نے تمھیں پہلے ہی بتا دیا تھا کہ وہ تمھارے ساتھ سونے کے لیے مری جا رہی ہے لیکن تم مجھ پر ہنستے تھے۔ جب میں واپس لوٹ جاؤں گی تو تم اور ایلن۔۔۔'
میں نے اس کی بات پوری ہونے ہی نہیں دی اور اس کا سانولا ہاتھ تھام کر چوما اور کہا، 'میں یہاں تمھارے لیے ہوں۔۔۔ تمھاری محبت!' پھر میں نے اسے کاروان سے نکالے جانے کے بعد اپنا احوال پورا سنایا اور بتایا کہ مجھ پر اس کے بغیر کیا بیتی تھی۔ آخر میں کہا، 'تم ہمیشہ میری زندگی کا حصہ بن کر رہو گی!'
'سو جاؤ۔۔۔' اس نے یوں کہا جیسے ٹالتی ہو، 'ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے!'
سورج خاصا چڑھ آیا تھا اور میں دیر تک سویا پڑا رہا۔ تبھی مفتون دوڑا دوڑا آیا اور مجھے جھنجھوڑ کر جگاتے ہوئے بولا، 'ملر صاحب۔۔۔ کابل سے کچھ لوگ۔۔۔ گاڑی میں بیٹھے، آپ کا پوچھ رہے ہیں!'
میرا خیال تھا کہ شاید رچرڈسن ہو گا۔ اس لیے میں جلدی سے اٹھا اور تیار ہونے لگا۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ وہ مجھے مترا کے ساتھ دیکھے۔ لیکن جب میں خیمے کے پاس پہنچا تو وہاں رچرڈسن نہیں بلکہ محب خان کو پایا جو شارک کی جلد والی رنگت کا چمچماتا سوٹ پہنے کھڑا تھا اور سر پر چاندی کے رنگ کی قرقل ٹوپی پہن رکھی تھی۔ وہ اپنے چوری شدہ سفید گھوڑے کی پیٹھ تھپتھپا رہا تھا۔ اس کی پشت پر نظراللہ بھی ہمراہ تھا۔ اسے دیکھ کر مجھے حیرت بھی ہوئی لیکن دراصل وہ اپنی منکوحہ بیوی کو لینے آیا تھا۔ اسے دیکھ کر مجھے شدت کے ساتھ ہمدردی محسوس ہوئی اور چونکہ میں نے اسے دشت مارگو کے بعد نہیں دیکھا تھا، ویسے بھی بیچ راہ میں اسے چھوڑ آیا تھا۔۔۔ اس لیے فوراً پہلے اس کی طرف بڑھا۔ گرمجوشی سے گلے مل کر پوچھا، 'صحرا کا کیا حال ہے؟'
'ویسے کا ویسا ہی ہے۔۔۔ سخت اور گرم!'
'مجھ سے بھی تو ملو!' محب خان نے مدخل ہو کر سختی سے پوچھا، 'میرا گھوڑا تمھارے پاس کیسے آیا؟'
اس کو دیکھ کر پتہ نہیں چل رہا تھا کہ واقعی غصے میں ہے یا مذاق کر رہا ہے۔ اسی لیے میں کچھ گڑبڑا سا گیا، 'مترا نے مجھے کابل میں خرید کر دیا تھا۔۔۔'
اس پر محب خان نے نہایت نخوت سے سوٹ پر پڑی دھول جھاڑی اور پوچھا، 'تم اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ میرا گھوڑا ہے۔۔۔ کیا تمھیں بالکل پتہ نہیں چلا کہ یہ چوری کیا گیا تھا؟'
'کیا واقعی؟' میں نے چکر دیا،
محب کے لیے اس پوز میں، سنجیدگی برقرار رکھنا مشکل ہو رہا تھا۔ اس لیے وہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑا، 'یہی ہوتا ہے۔۔۔ تمھیں کوئی لڑکی ملے تو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت صلب ہو جاتی ہے۔ تم سوچتے ہو کہ۔۔۔ ارے واہ، یہ رات بہت ہی خوب گزرے گی لیکن رات کیا گزرتی، بجائے سفید گھوڑا غائب ہو جاتا ہے!'
'اسے کوئی سزا مت دینا!'
'کیا اس نے گھوڑا تمھارے لیے چرایا تھا؟'
'ہاں۔۔۔'
'پھر میں تمھیں گلہ دوں گا۔۔۔ پچھلے آٹھ ہفتوں سے تم اس گھوڑے پر مزے سے سواری کرتے آ رہے ہو اور میں پیدل خوار ہوں!'
میں نے جواب دیا، 'تم تو جانتے ہی ہو کہ محبت کیا شے ہے؟ پلٹا کھاؤ۔۔۔ یہ تمھارا گھوڑا ہے، تندرست اور ٹھیک ٹھاک، میں نے پورا خیال رکھا!'
مترا بھی اسی ٹیلے کے پیچھے سے چلی آئی۔ اس نے کندھے پر بستر اٹھا رکھا تھا، جس کو دیکھ کر رات کی کہانی سب کو سمجھ آ گئی۔ لیکن جب اس نے محب خان کو دیکھا تو اس نے بستر وہیں زمین پر پھینکا اور خیمے کی طرف دوڑ لگا دی مگر میں نے اسے بیچ راستے میں ہی کلائی سے پکڑ لیا۔
'ٹھہر جا۔۔۔ چورنی!' محب خان نے غرا کر کہا،
مترا کی حالت بھی مجھ جیسی ہی تھی۔ اسے سمجھ نہ آئی کہ محب خان واقعی غصہ ہے یا مذاق کر رہا ہے لیکن اس کی بے باکی آڑے آ گئی یا شاید اس کو محب خان کا پہلا پوز یاد آ گیا۔۔۔ وہ زور زور سے ہنسنے لگی اور اشاروں ہی اشاروں میں اسے اس رات کا قصہ سمجھا دیا کہ کیسے وہ کھڑکی سے کود کر بھاگ نکلی تھی اور جاتے ہوئے گھوڑا بھی چرا لے گئی۔ جلد ہی محب خان بھی اس کے ساتھ کھڑا اس رات کو یاد کر کے ہنس رہا تھا۔
لیکن پھر مترا نے نظراللہ کو دیکھ لیا۔ چونکہ وہ اسے پہچانتی تھی، فوراً ہی بے یقینی سے چلائی، 'ارے۔۔۔ تم تو ایلن کے شوہر ہو!' پھر اضطراری کیفیت میں، غیر اختیاری طور پر پیچھے مڑ کر خیمے کی جانب دیکھا جس سے نظراللہ کو شک گزرا کہ ہو نہ ہو۔۔۔ ایلن ادھر ہی ہے۔ مترا آہستہ آہستہ الٹے قدم اٹھاتی پیچھے ہٹی اور پھر اچانک جھک کر خیمے میں گھس کر غائب ہو گئی۔
'کیا ایلن اندر ہے؟' نظراللہ نے پوچھا،
'ہاں!'
یہ سن کر اس نے خیمے کی طرف بڑھنا چاہا لیکن میں نے اسے روک دیا، 'کیا وہ کوچی بھی اس کے ساتھ ہے؟' اس نے شک آمیز لہجے میں پوچھا،
اس کے سوال پر اچانک مجھے ادراک ہوا کہ اسے علم ہی نہیں کہ پلوں کے نیچے سے کتنا پانی گزر چکا تھا۔ اس کی بیوی، وہ تو کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔ ان میں سے بعض چیزیں تو ایسی تھیں جن کی مجھے قطعاً سمجھ نہیں آئی لیکن میں ان چیزوں کا بھی رہا تھا۔ میں کسی بھی طور نظراللہ کو حالات سمجھانے سے قاصر تھا، اسی لیے گڑبڑا کر بڑبڑانے لگا، 'دیکھو۔۔۔ ان چیزوں کو سمجھنا مشکل ہے۔ وہ کوچی۔۔۔'
لیکن تبھی خیمے کے اندر سے شواٹز اور ایلن اکٹھے برآمد ہوئے تو میری جان خلاصی ہو گئی۔ گزشتہ رات ان دونوں کے بیچ نہ جانے کیا کیا بحث اور تندی چلی ہو گی لیکن اس کے آثار اب کہیں دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ ایلن کا چہرہ تمتما رہا تھا اور اگر اس سب کے بعد بھی اس کا شوہر اس کو حاصل کرنے کا خواہاں تھا تو مجھے اس سے ہمدردی تھی۔ لیکن وہیں، دن کی روشنی میں ایلن کر دیکھ کر میرے اندر بھی ایک خیال نے سر اٹھایا جو میری سمجھ اور بوجھ سے باہر تھا۔ میرا اندر چیخنے لگا کہ احمق آدمی، یہ تمھارے ساتھ رہنا چاہتی ہے۔۔۔ اسے کسی دوسرے کا نہیں، تمھارا ساتھ درکار ہے۔ اسے جانے مت دو۔
نظراللہ اپنے سامنے حقیقت دیکھ کر ہکا بکا رہ گیا اور ان حقائق کے نتائج ماننے سے انکاری نظر آ رہا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں، وہ آگے بڑھا اور اپنی بیوی سے بولا، 'میں تمھیں لینے آیا ہوں۔۔۔ یہ میرے ساتھ محب خان ہے۔ محب، ان سے ملو۔۔۔ یہ ڈاکٹر شواٹز ہے!'
محب خان نے نہایت سلیقے سے جھک کر دونوں کے ساتھ ہاتھ ملائے، 'ہم تمھیں قلعہ بست لے جائیں گے!' اس نے ایلن سے کہا اور مجھے لگا جیسے کہہ رہا ہو کہ ہم تمھیں ایک موقع اور دیں گے، اس کو گنوانے کی حماقت مت کرنا۔
'میں کہیں نہیں جاؤں گی!' ایلن نے مضبوطی سے کہا اور محب خان کندھے اچکا کر اس گفتگو سے الگ ہو گیا۔ اس نے صلح جوئی کی کوشش کی تھی جو رائیگاں گئی۔
لیکن نظراللہ نے ہار نہیں مانی، وہ بدستور کہنے لگا، 'ایلن۔۔۔ ضد مت کرو۔ گاڑی انتظار کر رہی ہے!'
اس پر شواٹز نے جواب دیا، 'ایلن میرے ساتھ رہنا چاہتی ہے۔ نظراللہ صاحب۔۔۔ مجھے افسوس ہے لیکن۔۔۔'
لیکن نظراللہ ابھی تک اپنی بات پر اڑا ہوا تھا۔ اس نے محب خان کو مدد کے لیے بلایا لیکن اس نے نظراللہ کو نظرانداز کر کے بجائے مجھ سے پوچھا، 'کیا یہی اصل قصہ ہے؟ شواٹز کے ساتھ؟' میں نے اثبات میں سر ہلایا ہی تھا کہ محب خان فوراً پیچھے مڑا اور احکامات جاری کرنے لگا۔
سب سے پہلے تو اس نے سیٹی بجائی، جس کے جواب میں کئی فوجی دوڑے چلے آئے۔ یہ فوجی اس کے ساتھ ایک ٹرک میں سوار ہو کر آئے تھے۔ اس نے حکم دیا، 'یہ سفید گھوڑا کابل پہنچا دو۔۔۔' پھر شواٹز کی طرف مڑ کر اشارہ کیا، 'اس شخص کو فوراً گرفتار کر کے یہیں پابند کر دو۔ امریکی عورت کو خیمے سے نکلنے کی اجازت نہیں ہے' مجھے مخاطب کر کے کہا، 'تم۔۔۔ ملر۔۔۔ تم میرے ساتھ گاڑی میں آؤ۔ میں مزار شریف پہنچ کر ہیڈ کوارٹر میں تم سے پوچھ تاچھ کرنا چاہتا ہوں' اس نے نظراللہ کو بھی ہمراہ بلایا، 'نظراللہ تم بھی میرے ساتھ آؤ۔۔۔' احکامات سن کر فوجی ایک دم حرکت میں آ گئے اور اس کے کہے ایک ایک لفظ پر عمل درآمد ہو گیا۔ محب خان مجھے اور نظراللہ کو ساتھ لیے گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔
ہم فوراً ہی مزار شریف کی طرف نکل گئے۔ مزار شریف بلخ سے بیس میل کے فاصلے پر مشرق کی جانب واقع تھا۔ ہم شہر کے قریب پہنچے ہی تھے کہ راستے میں ہمارا سامنا اونٹوں کے ایک بڑے کاروان سے ہو گیا۔ یہ کاروان روس کی جانب گامزن تھا۔ اسی اونٹوں کو راستہ دیتے ہوئے ہمیں ٹھہر کر کافی دیر انتظار کرنا پڑا۔ اونٹ قریب سے گزرتے تو غراہٹ دیتے اور غصہ ناک نظروں سے دیکھنے لگتے۔ کوچوانوں کا بھی یہی حال تھا، وہ خود گندے مندے اور میلے کچیلے کپڑے پہن رکھے تھے اور ہمیں کھا جانے والی نظروں سے دیکھتے رہے۔ اس پر محب خان جھلا گیا، 'ہمارے ملک میں جتنی بھی آبادی ہے، اس کا چورانوے فیصد ان پڑھ اور جاہل ہے۔ تم ہی بتاؤ، کیا ہم پاگل ہیں جو اس کچرے کو جدید دور سے ہم آہنگ کرنا چاہتے ہیں؟
میں نے کوچوانوں کی جانب دیکھتے ہوئے، یہ سوچ کر کہ جیسے وہ کانسی کے دور کے باشندے ہیں۔۔۔ کہا، 'اگر میں افغان ہوتا تو میں ضرور کوشش کرتا!'
'کاش، ہمارے پاس تم جیسے دس لاکھ افغان ہوتے!' محب نے جواب دیا۔ کچھ دیر بعد آخری اونٹ بھی گزر چکا تو کوچوان اور اس اونٹ، دونوں نے ہی ہم پر کینہ توز نگاہ دوڑائی۔ مجھے دور سے ایک سیاہ گھوڑا آتا ہوا نظرا آیا۔ اسے دیکھ کر ہی میں سمجھ گیا کہ اصل ماجرا کیا ہے، یہ کوچوان ہم سے اتنی خار کیوں کھا رہے تھے؟ یہ کرغز شاکر کا کاروان تھا، جس نے مزار شریف سے اچھا خاصا غیر قانونی اسلحہ لاد دیا تھا اور اب غیر ضروری توجہ حاصل کیے بغیر اس اسلحے کو سرحد پار لگانا چاہتا تھا۔ وہ آمو دریا پار کر کے، پامیر کی پہاڑیوں سے ہوتا ہوا وسط ایشیاء میں جا پہنچے گا۔ چونکہ یہ خانہ بدوشوں کے لیے سب سے زیادہ خطرناک راستہ تھا اور ویسے بھی غالباً یہ اس طور، آخری بڑا کاروان تھا اور اگلے برس روسی انہیں دوبارہ سرحد پار کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے تھے، کرغز خاصے محتاط تھے۔
جب وہ ہمارے قریب سے گزرا تو میں نے اسے آواز دے کر بلایا۔ اس نے مجھے دیکھتے ہی پہچان لیا اور گھوڑا گاڑی کی طرف موڑ لیا۔ وہ گھوڑے پر ہی سوار محب خان کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا، 'یہ سرکاری لوگ ہیں؟' میں نے اثبات میں سر ہلایا تو بولا، 'تو تم سرکاری جاسوس ہو؟ میں نے پہلے ہی ذوالفقار کو متنبہ کیا تھا۔۔۔'
'نہیں۔۔۔' محب ہنسا، 'ہم نے ابھی ابھی اسے گرفتار کیا ہے!'
اس پر کرغز نے بائیں ہاتھ سے ماتھا ٹھونکا اور چلا کر کہا، 'میری ہمدردیاں قیدیوں کے ساتھ ہیں۔۔۔' یہ کہا اور گھوڑے کو سرپٹ دوڑاتا ہوا کاروان سے بھی آگے لے گیا۔
مزار شریف میں سرکاری دفتر کے اندر محب خان نے چائے منگوا لی جس کے ساتھ بسکٹ اور شہد بھی تھا۔ کھانے پینے کی ان چیزوں کو دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ پچھلے سترہ مہینے سے ہم کس طرح کی خوراک استعمال کرتے آئے تھے لیکن میری توجہ فوراً ہی اصل مسئلے کی طرف مبذول ہو گئی۔ محب خان نے ایک سیکرٹری کو بلایا جو ظاہر ہے ایک مرد تھا اور کاغذات تیار کروانے لگا۔ مجھ سے پوچھا، 'اب بتاؤ۔۔۔ رپورٹ میں ہم گھوڑے کی بابت کیا لکھیں؟'
'کیا یہ سرکاری ریکارڈ کا حصہ ہے؟'
'میں اسی مقصد کے لیے یہاں آیا ہوں۔۔۔ گھوڑا اور امریکی عورت، دونوں ہی گمشدہ درج ہیں!'
'مترا نے مجھے بتایا تھا کہ اس نے گھوڑا خریدا ہے۔۔۔'
'ایک کوچی لڑکی کے پاس گھوڑا خریدنے کے پیسے کہاں سے آئے؟'
'اس نے کہا تھا کہ پیسہ چوری شدہ جیپ کے پرزے بیچ کر حاصل کیے تھے!'
'جیپ؟' محب نے پوچھا،
'کیا میں اس کا ذکر ریکارڈ میں درج کروا دوں؟' سیکرٹری نے پوچھا،
'یہی بہتر رہے گا!' محب نے سیکرٹری کو کہا لیکن نظراللہ مدخل ہو گیا،
'اس جیپ کے ساتھ ہوا کیا تھا؟'
'کیا میں آف دی ریکارڈ بات کر سکتا ہوں؟' میں نے کہا،
'بالکل، کیوں نہیں!' محب نے سر ہلایا اور سیکرٹری کو بھی اشارہ کر دیا،
'میں اس کاروان سرائے میں جیپ سے صرف بیس فٹ دور تھا اور ان کوچیوں نے۔۔۔ غارت ہوں۔۔۔ ہر چیز، پرزہ اتار لیا!'
اس پر محب خان نے اچانک پوچھا، 'آخر یہ مترا ہے کون؟'
'ذوالفقار کی بیٹی ہے!' میں نے سمجھایا،
'وہی ذوالفقار؟' اس نے پوچھا اور نظراللہ کی طرف دیکھنے لگا،
'ہاں، وہی!' نظراللہ نے جواب دیا،
'یہ تو گھوڑے کا معاملہ تھا۔۔۔ ایلن جاسپر کے ساتھ یہ نیا قضیہ کیا ہے؟'
'یہ سمجھانا مشکل ہے!' میں بڑبڑایا،
'ہمارے پاس کافی وقت ہے!' محب نے جواباً کہا اور میرے لیے پیالی میں چائے ڈال دی۔
'ایسا ہے تو پھر۔۔۔ تم تو جانتے ہی ہو کہ وہ پچھلے ستمبر قلعہ بست سے بھاگ گئی تھی۔ اس کی وجہ محبت نہیں تھی، جنسی خواہش بھی نہیں تھی۔۔۔ نظراللہ اس کی ہر گز وجہ نہیں تھا۔ ذوالفقار بھی نہیں تھا۔ جب وہ کاروان کے ساتھ شامل ہوئی تو وہ ذوالفقار کو جانتی بھی نہیں تھی۔۔۔'
'کیا تم امریکی حکومت کو جمع کروائی جانے والی رپورٹ میں بھی یہی کہو گے؟'
'میں نے پہلے ہی لکھ کر بھیج دیا ہے!'
'اس نے سردیاں کہاں گزاریں؟'
'جہلم میں!'
'جہلم میں؟' محب خان چونک گیا، 'پیدل؟' غالباً وہ اپنے ملک کے بارے اتنا کچھ نہیں جانتا تھا جتنا اب میں جان چکا تھا۔
'کیا اسے کوچی سردار کے ساتھ کبھی محبت رہی؟' نظراللہ نے پوچھا،
'کبھی نہیں!'
'ملر۔۔۔' محب خان نے محتاط ہو کر پوچھا، 'اگر میں اس سیکرٹری کو ایلن کے فرار اور رویے بارے ایک وجہ لکھنے کا کہوں تو وہ سادہ الفاظ میں کیا ہو گی؟'
اس سوال پر اگلے چند منٹ میں نے ایلن کے رویے اور افعال پر دیر تک غور کیا اور اسباب کا جائزہ لینے کی اس طرح کوشش کی جتنا میں سمجھ پایا تھا۔ اس کے اقدامات کی وجہ جنسی خواہشات نہیں تھیں کیونکہ نظراللہ، ذوالفقار اور شواٹز۔۔۔ تینوں کے ساتھ اس کا تعلق جنسی کشش سے جڑا ہوا نہیں تھا۔ وہ کسی دوسری خواہش کے زیر اثر بھی نہیں تھی اور نہ ہی وہ کسی ایک شخص کی وفادار تھی، جو اس کی اس خواہش کو پورا کر سکتا۔ میں سوچنے لگا کہ شاید وہ ذہنی طور پر شیزوفرینیا کی مریض ہے جس سے اس کی شخصیت بے ربط اور منتشر لگتی ہے لیکن اس کا بھی کوئی ٹھوس ثبوت نہیں تھا۔ اس کو کسی نے ستایا نہیں تھا بلکہ وہ خود ہی اپنی اذیت کا آپ باعث تھی۔ ایک موقع پر تو مجھے ایسا محسوس ہوا تھا کہ شاید وہ گزرے زمانوں کو یاد کر کے مالیخولیا کا شکار ہو گئی ہے لیکن اگر وہ اپنے گھر بھی ہوتی تو اس کا یہی حال ہوتا۔ تاریخ اس جیسے لوگوں سے بھری پڑی ہے اور اگرچہ وہ اس دور سے نفرت کرتی تھی، کسی دوسرے دور اور جگہ میں بھی اس کی تشفی نہ ہوتی۔ یہ درست تھا کہ جذباتی لوگوں کی طرح وہ بھی بچگانہ روش پکڑ چکی تھی، یعنی یہ کہ اسے اونٹ کے گوبر سے بنے اوپلوں پر پکا نان جنرل الیکٹرک کے چولہے پر پکائے ہوئے نان سے کہیں زیادہ خستہ اور لذیذ معلوم ہوتا ہے تو یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے، سبھی کا یہی حال ہوتا ہے۔ اس کے سوا کوئی بھی اس وجہ سے اپنا دیس، گھر، خاندان اور دوست چھوڑ کر کاروان کے ساتھ بلخ نہیں پہنچ جاتے۔ یہ عین ممکن تھا کہ شاید وہ روحانی طور پر کسی بیماری کا شکار تھی، اس کے تصورات اس کو حقیقت سے دور لے جا رہے تھے اور جیسے جیسے وہ آگے بڑھتی گئی، یہ تصورات ناقابل اختیار ہوتے چلے گئے۔ لیکن ایلن تو اس طرح کے کسی بھی چنگل میں پھنس جانے سے کہیں زیادہ ذہین اور سمجھدار تھی، پھر آخر اس کے ساتھ ہوا کیا؟ میرے خیال میں وہ حقیقت کو ہم سب سے کہیں زیادہ بہتر انداز میں دیکھ سکتی تھی۔ میرے خیال میں سارا دوش حقیقت کے ادراک میں اس کے رد عمل کا تھا۔ تبھی مجھے موسیقی کے اس پروفیسر کے خط میں لکھے ہوئے الفاظ یاد آنے لگے جس نے لکھا تھا، میں اسے ایک ایسی لڑکی کے طور پر دیکھتا ہوں جس کی نیت تو صاف ہے، وہ اپنے آپ کو ہمارے اس معاشرے اور رواج سے دور کرنے میں سنجیدہ ہے۔۔۔ لیکن اس سے یہ تو ہرگز اس کے افعال کی وجہ کا پتہ نہیں چلتا، ہاں۔۔۔ اس سے اس کے افعال کا، اس کے اگلے قدم کا ضرور پتہ چلتا ہے۔ میں نے محب کی جانب دیکھا اور تذبذب کے عالم میں کہا، 'تم اس کی سادہ سی یہی وجہ لکھ دو کہ وہ استرداد پر مائل ہے۔۔۔ وہ ہر چیز کو رد کر دیتی ہے!'
'تم مجھے ایک مرد کا نام بتاؤ جسے ایلن نے آج تک رد کیا ہو؟' اس نے سختی سے پوچھا،
میں نے اس کی اس تضحیک کو نظرانداز کرتے ہوئے جواب دیا، 'وہ ہمارے معاشرے اور سماج کے طور، طریقوں اور رواج کو رد کرنے پر مائل ہے۔ وہ امریکی ہی نہیں بلکہ افغان معاشرے کو بھی رد کر چکی ہے!'
'ایسا ہے تو پھر اس کو آج تک کوئی ایسا ملا ہی نہیں جو اسے رد کر سکے۔۔۔' محب خان بھڑک کر بولا، 'میں اسے رد کرتا ہوں!'
'اسے گالی مت دو!' نظراللہ نے منت خواہانہ لہجے میں کہا،
'کیا تم اب بھی اسے دوبارہ حاصل کرنا چاہتے ہو؟' محب خان کے لہجے میں بدستور شک تھا،
'ہاں۔۔۔' نظراللہ نے جواب دیا، 'وہ میری بیوی ہے!'
'وہ درست کہہ رہا ہے!' میں نے محب کو بتایا، 'میرے خیال میں تمھیں بھی ایلن جاسپر کی عادت ڈال لینی چاہیے!' پھر میں نے اسے متنبہ کیا، 'تم اس کی عادت ڈال دو کیونکہ یہ صرف ایلن جاسپر کا معاملہ نہیں ہے۔ ایک دفعہ جب تم افغانستان میں عورتوں کو برقعے سے آزاد کر دو گے تو اس جیسی لاکھوں لڑکیاں پیدا ہو جائیں گی!'
اس پر محب سیخ پا ہو گیا، 'کیا تم واقعی اس بات پر یقین رکھتے ہو؟'
'ایسا ہونا ناگزیر ہے۔۔۔' میں نے زور دے کر کہا۔ پھر ایلن کو بچانے کی خاطر میں نے مزید اضافہ کیا، 'محب، اسے ایک چیز کا فائدہ ضرور دو۔۔۔ وہ تمھارے ملک سے بے انتہا محبت کرتی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ وہ اپنی باقی ماندہ زندگی اسی ملک میں گزارنا چاہتی ہے!'
'شواٹز کے ساتھ؟'
میں اثبات میں جواب دینا چاہتا تھا لیکن ہچکچایا، کیونکہ جس طرح سے محب خان کی نظریں مجھے ٹٹول رہی تھیں، مجھے لگا کہ اسے شک ہو گیا کہ میرے اور ایلن کے بیچ کچھ چل رہا ہے۔ جن مردوں کو اس نے رد نہیں کیا تھا، میں ان میں نیا اضافہ تھا۔ دوسری جانب نظراللہ بھی وہیں موجود تھا جو ابھی تک اسے دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا اور اسے حالات کا سرے سے کچھ اندازہ نہیں تھا۔ خیر میں نے جملہ مکمل کیا اور کہا، 'ہاں۔۔۔ وہ شواٹز کے ساتھ رہنا چاہتی ہے!'
'مجھے شواٹز کے بارے بتاؤ!' محب نے کہا،
'شواٹز کے ساتھ اس کی جان پہچان قندھار میں ہی ہو چکی تھی لیکن میرا نہیں خیال کہ اس وقت ان دونوں کے بیچ کوئی چکر تھا۔۔۔' میں نے یہ کہہ تو دیا لیکن پھر اچانک مجھے ٹھہر کر سوچنا پڑا۔ میری نظروں کے سامنے کاروان سرائے کی وہ صبح گھوم گئی جب ایلن جاسپر سے پہلی ملاقات ہوئی تھی۔ میں اس کی شواٹز کے لیے اضطراب کو بھول نہیں سکتا، وہ دوڑی ہوئی گئی تھی اور اس نے جھک کر پوچھا تھا، 'ڈاکٹر شواٹز۔۔۔ آپ ٹھیک تو ہیں؟' اس وقت کو سوچ کر مجھے خیال آیا کہ ہو نہ ہو۔۔۔ اس سے پہلے بھی کچھ نہ کچھ ہوا ہو گا۔ مجھے اب یاد آیا کہ غیر متوقع طور پر شواٹز کو اس دیوار کے ساتھ موندھا پڑا دیکھ کر ایک دم اس کی زبان پر 'اوٹو' نکلا تھا لیکن اس نے بدل کر رسمی انداز میں ڈاکٹر شواٹز کہا تھا۔ کیا وہ قندھار میں بھی ایک دوسرے سے اچھی طرح آشنا تھے؟ کیا شواٹز پر اس کے سنہری بالوں کی لٹوں کا پہلے ہی اثر ہو چکا تھا؟
'یعنی، ان دونوں کے بیچ پہلے ہی کچھ نہ کچھ کھچڑی پکتی آ رہی تھی؟' محب نے زور دے کر پوچھا،
'نہیں۔۔۔' میں نے مضبوطی سے جواب دے کر بات موڑی، 'شواٹز کے بارے یہ کہ شمال کی جانب ہمارے سفر کے دوران۔۔۔'
'اس کو شمال کی جانب سفر اختیار کرنے کا مشورہ کس نے دیا تھا؟'
میں نے اس سے قبل اس بارے بھی سوچ وچار نہیں کی تھی لیکن اب میں خانہ بدوشوں کے ساتھ گزارے پہلے دن کے بارے سوچتا ہوں تو کئی معاملات صاف ہوتے جا رہے تھے۔ اچھے خاصے توقف کے بعد مجھے کہنا ہی پڑا کہ، 'میرے خیال میں یہ ایلن کا ہی مشورہ تھا۔ مجھے لگتا ہے کہ اس نے سب کچھ پہلے سے پلان کر رکھا تھا۔۔۔'
'میرا بھی یہی خیال تھا!' محب خان نے مطمئن ہو کر جواب دیا،
'بہرحال۔۔۔ شمال کی جانب سفر کے دوران ایلن اور شواٹز ایک دوسرے کے ساتھ محبت میں گرفتار ہو گئے۔ کبیر میں تو خنجر بھی چلے اور لڑائی ہوئی۔ شواٹز نے خود کو اچھی طرح سنبھالا اور ذوالفقار کو زخمی بھی کر دیا تھا۔ اس کے بعد ہم سب کو کاروان سے نکال باہر کر دیا گیا۔۔۔'
'کیا وہ شواٹز کے ساتھ رہنے کے لیے پوری طرح تیار ہے؟' نظراللہ نے آہستگی سے پوچھا،
'بالکل!' میں نے جھوٹ بولا اور محب خان مسکرانے لگا،
'کیا میں اسے دوبارہ حاصل کر سکتا ہوں؟' نظراللہ کے لہجے میں منت تھی،
'کبھی نہیں!' میں نے یقین سے کہا،
'بالفرض اگر ہم شواٹز کو ڈی پورٹ کر دیں تو پھر؟' محب نے تجویز دی،
مجھے ایسا لگا جیسے میں اپنے اندر ایلن کی ہی کہی بات دہرا رہا ہوں، اس نے کہا تھا کہ جلد یا بدیر روسی شواٹز کو آن لیں گے۔ میں ہچکچایا تو محب نے بات جاری رکھی، 'جب شواٹز نے قندھار چھوڑ کر بیوقوفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کوچیوں کے کاروان کے ساتھ ہو لیا تو گویا اس نے قانون کی خلاف ورزی کی۔ ہمارے پاس اسے ڈی پورٹ کرنے کی ٹھوس وجہ ہے، کیا ہم ایسا کر دیں تو پھر؟' دونوں افغان آگے کو جھک کر میرے جواب کا انتظار کرنے لگے۔
میں پھر ہچکچایا۔ افغانستان کے ایک صوبے کے اجنبی صدر دفتر میں بیٹھے میرے مشن کا مقصد مرتکز ہو چکا تھا۔ خود کو پرسکون رکھنے کے لیے میں نے چائے کی چسکی لی اور سوچا: یہ دونوں چاہتے ہیں کہ میں شواٹز کو ڈی پورٹ کرنے میں ان کی حمایت کروں۔ اگر میں شواٹز سے واقعی انتقام لینا چاہتا تھا تو یہی وقت تھا۔ اس کو نکال باہر کرنے کے امکانات بارے سوچیں خاصی دلفریب تھیں۔ بالخصوص اگر میں یہودیوں سے بھرے اس پنجرے کے بارے سوچوں، جنھیں شواٹز نے برباد کر دیا تھا لیکن اس کے ساتھ مجھے کندھے سے کندھا ملائے، عبادت میں کھڑا شواٹز بھی تو نظر آ رہا تھا۔ مجھے سمجھ نہ آئے کہ آخر میں کیا کہوں؟ اسی لیے میں نے سیدھا جواب دینے کی بجائے محب کی جانب ایک سوال اچھال دیا، 'کیا تمھاری انٹیلی جینس رپورٹ میں میرے یہودی ہونے کی اطلاع درج ہے؟'
'میری رپورٹ میں ایسا کچھ نہیں ہے!' محب نے جواب دیا اور اس انکشاف بارے اپنی حیرت صاف چھپا گیا۔
'میں یہودی ہوں۔ کاروان سرائے میں، اس رات شواٹز نے میونخ میں کیے جرائم کا اعتراف کیا تھا۔۔۔ اس کی وجہ سے ہزاروں یہودیوں کو موت کے منہ میں دھکیل دیا گیا تھا'
'ہم جانتے ہیں' محب نے کہا اور کاغذات کے ایک پلندے کی طرف اشارہ کر دیا،
'میں نے اسے قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔ میں اسے قتل کر دیتا لیکن اسی وقت ذوالفقار اپنے کاروان سمیت وہاں آن پہنچا۔ میں اسی وجہ سے شواٹز سے نفرت کرتا ہوں۔ وہ ایک مجرم ہے اور پھانسی کا حقدار ہے۔ لیکن اس سفر کے دوران مجھے اس کے قریب رہنے، اس کو اچھی طرح جاننے کا موقع ملا۔ محب، وہ تمھارے ملک کی بہت خوب خدمت کرے گا۔ تم نے ابھی تھوڑی دیر پہلے کہا کہ اس ملک کو مجھ جیسوں کی ضرورت ہے۔۔۔ شواٹز مجھ جیسا ہی آدمی ہے بلکہ مجھ سے کہیں زیادہ قابل بھروسا ہے۔ اسے ڈی پورٹ مت کرو!'
'کیوں نہیں؟' محب نے پلٹ کر پوچھا، 'اس کے جانے سے نظراللہ کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے'
'ایسا مت کرو!' میں نے زور دے کر کہا،
'آخر کیوں نہیں؟' اس نے اپنا سوال دہرایا،
'کیونکہ۔۔۔ یہ درست نہیں ہے۔ یہ اخلاقی طور پر درست نہیں ہے!'
اس پر نظراللہ پھٹ پڑا، 'کیا ایسا کچھ بھی نہیں ہے کہ میں ایلن کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے کر سکوں؟'
'کچھ بھی نہیں ہے!' میں نے حتمی انداز میں کہا، 'اگر تم شواٹز کو پھانسی پر چڑھا بھی دو۔۔۔ تم ایلن کو پھر بھی حاصل نہیں کر سکتے!'
میرے الفاظ میں اس قدر زور تھا کہ نظراللہ چاروں شانے چت ہو گیا۔ مجھے حیرت تو ہوئی لیکن میں نے دیکھا کہ وہ کرسی میں ضعف سے پیچھے کی جانب گر پڑا اور دونوں ہاتھوں سے سر پکڑ لیا۔ کمرے میں کچھ دیر سکوت طاری رہا اور ہم دونوں نظراللہ کو چپ چاپ دیکھتے رہے۔ پھر محب خان نے کھانس کر کہا، 'نظراللہ۔۔۔ ملر کی بات درست ہے۔ تم نے ایلن کو کھو دیا ہے اور اب تم اس بارے کچھ نہیں کر سکتے!'
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس وقت میں سوچ رہا تھا کہ یہ انتہائی احمقانہ بات ہے۔ آخر نظراللہ اپنی دوسری بیوی کے بارے اس قدر کیوں فکرمند ہے؟ لیکن پھر مجھے ایلن کی کہی سب باتیں یاد آئیں، مجھے بلخ کی باقیات میں اس کا لمس یاد آیا۔ مجھے اس کی شواٹز کے ساتھ چٹانوں کے پیچھے ہم بستری کا دن یاد آیا۔ مجھے اس کے آزادی بارے دلکش خیالات یاد آئے اور میں اس نتیجے پر پہنچا کہ نظراللہ بیوقوف نہیں ہے، یہ ہر گز احمقانہ بات نہیں ہے۔ وہ ایلن کو دوبارہ حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کی ٹھوس وجوہات ہیں۔
محب نے مجھے بازو سے پکڑ لیا اور کہا، 'میرے خیال میں، اس کو کچھ دیر اکیلا چھوڑ دو۔۔۔' پھر وہ مجھے ساتھ لیے بغل کے ایک کمرے میں چلا گیا جہاں دو کلرک بیٹھے کھٹا کھٹ ٹائپ رائٹر پر کچھ کام کر رہے تھے۔ محب نے ان دونوں کو کمرے سے نکالا، دروازے کی چٹخنی چڑھائی اور کھڑکیاں بند کر دیں۔ جب تسلی ہو گئی کہ کوئی سنتا نہیں، انتہائی رازداری سے پوچھنے لگا، 'تم نے کبیر میں کیا دیکھا؟'
'کچھ نہیں!' میں نے نہایت سادہ، بہت ہی سادہ انداز میں جواب دیا،
'مجھ سے جھوٹ مت بولو!' وہ بھڑک گیا، 'تمھارا کیا خیال ہے، مجھے علم نہیں کہ تمھیں وہاں کیوں بھجوایا گیا تھا؟'
'مجھے کچھ علم نہیں کہ تم کس بابت بات کر رہے ہو؟' میں نے جھوٹ بولا،
'ملر۔۔۔ خدا کا نام لو! کابل میں رچرڈسن خود چل کر کوچیوں کے کاروان میں تم سے ملنے گیا تھا اور احکامات دیے تھے کہ پتہ لگاؤ۔۔۔ آخر روسیوں کے ارادے کیا ہیں۔ کہو، ایسا نہیں ہے؟'
'ایسا ہر گز نہیں ہے!'
'رہنے دو، ہمیں سب پتہ ہے۔ اس نے یہی احکامات دیے تھے۔ تمھارا کیا خیال ہے، اسے شاہ خان کی طرف سے تمھارے مزید سفر کی اجازت کیونکر ملی تھی؟'
اس کی بات میں وزن تھا اور قریب تھا کہ میں اسے ساری بات بتا دیتا لیکن پھر مجھے خیال آیا، کیا پتہ وہ چکر چلا رہا ہو؟ چنانچہ میں نے جانچنے کے لیے بے صبری سے کہا، 'اگر وہ واقعی مجھے یہ بتانے گیا تھا تو یقینی طور پر وہ بتانا بھول گیا۔ اس نے سوائے جیپ کے بارے شور مچانے کے کچھ نہیں کیا!'
محب خان واقعی مجھے پھانسنے کی کوشش کر رہا تھا، تبھی بیچارگی سے بولا، 'اس نے جیپ بارے کیا کہا؟'
'یہی کہ جیپ کے گمشدہ پرزوں کی قیمت میری تنخواہ سے وصول کی جائے گی!'
جب اس سے کچھ جواب نہ بن پڑا اور مجھے یوں صاف بچ نکلتے ہوئے دیکھا تو اسے طیش آ گیا۔ اس نے اپنی شہادت کی انگلی میرے ماتھے پر ٹکائی اور چلا کر بولا، 'ملر۔۔۔ تم اچھی طرح جانتے ہو کہ امریکی سفارتخانہ خواہ مخواہ ہی تمھیں اس طرح کے سفر کی، کبیر جانے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ تم ان کے احکامات کے بغیر ہر گز نہیں جا سکتے تھے، آخر وہ احکامات کیا تھے؟'
'رچرڈسن نے مجھے کسی قسم کے کوئی احکامات نہیں دیے، میں نے ہی جانے کی فرمائش کی تھی!'
'کیوں؟'
'کیوں کہ میں مترا کے ساتھ محبت کرنے لگا تھا!'
'یعنی تم کہنا چاہتے ہو کہ تم نے امریکی سفیر کو کہا کہ تم اگلے دس ہفتے ایک سفر پر جانا چاہتے ہو، کیونکہ۔۔۔' یہاں پہنچ کر اس کی آواز میں تحقیر در آئی، 'تم ایک خانہ بدوش لڑکی سے محبت کرنے لگے ہو؟'
'میں نے رچرڈسن کو مترا کے بارے کچھ نہیں بتایا۔۔۔'
'تو پھر تم نے اسے کیا بتایا؟'
'میں نے اسے یاد دہانی کرائی تھی کہ واشنگٹن مجھے بدستور ایلن جاسپر کے کیس پر مامور دیکھنا چاہتا ہے۔۔۔ تا آنکہ یہ قضیہ حل نہ ہو جائے!'
اس پر محب نے ہاتھ کھڑے کر دیے اور نہایت ہی نرمی سے پوچھنے لگا، 'اچھا۔۔۔ اچھا۔۔۔ کبیر میں ہوا کیا تھا؟'
'جیسا کہ میں نے بتایا، ذوالفقار نے شواٹز پر حملہ کیا اور قریب تھا کہ وہ اسے قتل کر دیتا۔۔۔'
اس پر وہ دوبارہ طیش میں آ گیا۔ زور سے میز پر مکا مارا اور بولا، 'اور روسی؟'
'مجھے روسیوں کے بارے کچھ علم نہیں ہے!' میں نے احتجاج کیا۔ پھر میں نے آواز اونچی میں کہا، 'ہاں۔۔۔ ایک چیز ضرور پتہ چلی۔ جس کرغز کو تم نے راستے میں دیکھا تھا۔۔۔ وہ کبیر کے میلے کا شریف ہے!'
'وہ افغانستان میں کیسے داخل ہوا؟'
'یہ مجھے کیسے علم ہو سکتا ہے؟'
'تو پھر تمھیں کس بارے علم ہے؟'
'یہ کہ دوسرا شریف بوڑھا ہزارہ ہے جو قراقل کی چمڑی کا کاروبار کرتا ہے۔۔۔'
'یہ ہمیں پہلے سے پتہ ہے۔۔۔'
'لیکن، اس برس وہ ریٹائر ہو گیا ہے!'
'واقعی؟'
'ہاں۔۔۔ اور اس کی جگہ ذوالفقار کا انتخاب کیا گیا ہے!'
'واقعی؟'
اور چونکہ ذوالفقار قلعہ بست کے قریب نئے ڈیم کے آس پاس مستقل طور پر سکونت اختیار کرنا چاہتا ہے تو یہ افغانستان پر تمھارا احسان ہو گا اگر تم اس کے قبیلے کو پانچ یا چھ ہزار ایکڑ رقبہ الاٹ کر دو!'
محب نے یوں افغانستان کے اندرونی اور اس کے خفیہ معاملات بارے میری جانکاری پر خفت کو چھپانے کی بھرپور کوشش کی اور آہستگی سے پوچھنے لگا، 'ملر۔۔۔ اگر ہم ذوالفقار کو وہ زمین الاٹ کر دیں، کیا وہ واقعی بسر کرے گا؟'
'بالکل!'
'تم اس قدر یقین سے کیسے کہہ سکتے ہو؟'
'ہم نے اس بارے بات کی تھی!'
'بھلا وہ کوچی ایک فرنگی پر اعتبار کیوں کرے گا؟ بالخصوص جب معاملہ انتہائی خفیہ نوعیت کا ہے؟'
میں ذوالفقار کی مدد کرنا چاہتا تھا، اسی لیے جھوٹ بولا، 'ایک دن تمھارا ذکر چھڑ گیا۔ میں نے اسے بتایا کہ میں تمھیں اچھی طرح جانتا ہوں تو اس نے کہا، 'محب کے پاس ان زمینوں کا پورا اختیار ہے' اس نے مجھ سے سفارش کی درخواست تو نہیں کی لیکن میں جانتا ہوں کہ اسے یہی امید تھی کہ میں تم سے بات کروں گا'
'چلو۔۔۔ تمھیں کچھ نہ کچھ تو علم ہوا!' اس نے طنزاً کہا،
'تو پھر کیا تم اس کے قبیلے کو زمین الاٹ کرو گے؟'
'ہمارے پاس پہلے ہی بہت ساری درخواستیں جمع ہیں!' اس نے جان چھڑانے کی کوشش کی،
'لیکن ان میں سے کوئی بھی ذوالفقار جیسا نہیں ہے۔ وہ تمھارے جیسا اور نظراللہ جیسا آدمی ہے۔ اسے زمین درکار ہے اور تمھیں ذوالفقار جیسے لوگوں کی ضرورت ہے!'
اس پر محب نے میری جانب نرمی سے دیکھا اور کہا، 'تم امریکی اس قدر احمق کیوں ہو؟ میں شرطیہ کہہ سکتا ہوں کہ کبیر میں درجن بھر روسی ایجنٹ ہوں گے لیکن تمھیں تو ایک خانہ بدوش لڑکی کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیا۔۔۔'
'مجھے روسیوں کی کوئی فکر ہی نہیں تھی!' میں نے ہنس کر کہا۔ اس پر اس نے افسوس سے سر جھٹکایا اور ہم دوبارہ اسی کمرے میں آ گئے جہاں نظراللہ ابھی تک بیٹھا دیوار کے پار جھانکنے کی کوشش کر رہا تھا۔
'مجھے کیا کرنا چاہیے؟' نظراللہ نے پوچھا کیونکہ اسے ابھی تک آگے کی کوئی بات نہیں سوجھی تھی۔
'میں جانتا ہوں کہ مجھے کیا کرنا چاہیے!' محب نے پھرتی سے جواب دیا۔ اس نے سیکرٹری کو بلایا اور پوچھا، 'کیا تم نے تسلی کر لی ہے کہ متبادل کاغذات تیار ہیں؟ ٹھیک ہے۔۔ نظراللہ، ملر۔۔۔ تم دونوں میرے ساتھ آؤ!'
'کیا کرنے؟' نظراللہ نے پوچھا،
'تین سفید رنگ کی کنکریاں تلاش کرنی ہیں!'
'نہیں!' نظراللہ تقریباً رو پڑا، 'میں نہیں جاؤں گا!'
'اگر تم نہیں تو میں ضرور جا رہا ہوں۔۔۔' محب نے حتمی لہجے میں حکم دیتے ہوئے کہا۔ پھر وہ رکا، کچھ سوچ کر بولا، 'تمھارے لیے ایک دوسرا راستہ بھی ہو سکتا ہے!'
'وہ کیا؟' نظراللہ کی آنکھوں میں امید چمکنے لگی،
'ہم تمھاری بیوی کو کوہستانی ملاؤں کے حوالے کر دیں گے، کہیں گے۔۔۔ یہ عورت بدکاری کی مرتکب ہوئی ہے' وہ اس ہولناک مذاق پر خود ہی ہنسنے لگا لیکن پھر نرمی سے بولا، 'نظراللہ۔۔۔ میری مانو، تین سفید کنکریاں ڈھونڈ لو!'
جوں ہی ہم دفتر سے نکلنے لگے تو سیکرٹری نے ہمیں روک دیا، 'جناب، برطانوی سفارتخانے کو اطلاع دینا مت بھولیے گا!'
'تم درست کہہ رہے ہو!' محب نے اتفاق کیا اور ہمیں آگے بھیج دیا۔ وہ خود دفتر میں رہا اور باہر نکلتے ہوئے میں نے اسے ایک بوسیدہ ٹیلی فون سیٹ پر چلاتے ہوئے سنا، 'ہیلو۔۔۔ ہیلو۔۔۔ جناب عالی، کیا یہ آپ ہیں؟ میں محب خان بول رہا ہوں۔ جناب عالی، میں حکومت برطانیہ کو مطلع کرنا چاہتا ہوں کہ۔۔۔۔' اس کے بعد کوئی بات سنائی نہیں دی۔
بلخ کی جانب واپسی پر، راستے میں محب نے نظراللہ کو فارسی شعراء کا کلام سنا کر پرسکون کرنے کی کوشش کی۔ جب ہماری گاڑی بلخ میں ہمارے خیمے کے پاس پہنچ کر رک گئی تو محب خان نے فوراً اتر کر تین سفید کنکریاں تلاشنی شروع کر دیں۔ جب اس کو مطلب کی کنکریاں مل گئیں تو اس نے یہ نظراللہ کے ہاتھ میں تھما دیں۔ نظراللہ سر اونچا کیے، نہایت پروقار طریقے سے سیاہ خیمے کے پاس پہنچا اور پکارا، 'ایلن۔۔۔!'
افغان فوجیوں نے ایلن کو پکڑ کر باہر نکالا۔ اس نے سیاہ گھاگھرا اور خاکستری بلاؤز پہن رکھا تھا اور بائیں کلائی پر تین کنگن تھے۔ اس کا سنولایا ہوا چہرا تمتما رہا تھا اور اس کے سنہری بال ہوا میں اڑ رہے تھے۔ اس کا قانونی شوہر اس کی جانب بڑھا تو وہ اسے آتا ہوا دیکھتی رہی اور اس کے گویا ہونے کا انتظار کرنے لگی۔ نظراللہ نے پوچھا، 'ایلن۔۔۔ کیا تم میرے ساتھ واپس قلعہ بست جانا چاہو گی؟'
'نہیں!' ایلن نے برفیلی آواز میں جواب دیا۔ نظراللہ نے دائیں ہاتھ سے ایک کنکری اٹھائی اور زمین پر پھینک دی۔
'میں تمھیں طلاق دیتا ہوں!' اس نے اعلانیہ کہا۔ پھر اس کو یوں دیکھا کہ شاید وہ اس کے ساتھ جانے پر راضی ہو لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس نے پھر ایک کنکری اٹھائی اور زمین پر پھینک کر کہا، 'میں تمھیں طلاق دیتا ہوں!' ایلن بت بنی کھڑی اس کو دیکھتی رہی۔ اس کا چہرہ سپاٹ تھا اور نظراللہ نے تیسری دفعہ پھر اس سے درخواست کی لیکن ایلن نے انکار کر دیا۔ نظراللہ کی آنکھوں میں آنسو تھے، وہ ایلن کی جانب منت بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ اس کو ابھی تک یقین تھا کہ شاید، وائے شاید کوئی معجزہ ہو جائے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ایلن کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں ابھرا اور نظراللہ نے نہایت مردہ دلی سے آخری کنکری اٹھائی اور زمین پر لڑھکا دی۔ 'میں تمھیں طلاق دیتا ہوں!' اب کی بار اس کے حلق سے سرگوشی ہی بلند ہو سکی، اس کی آواز رندھی ہوئی تھی۔ وہ ایلن کی جانب آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مزید دیکھنے سے قاصر تھا۔ وہ واپس مڑا اور سر بلند کیے، نہایت رکھ رکھاؤ کا مظاہرہ کرتے ہوئے واپس گاڑی میں جا بیٹھا۔
نظراللہ کو جاتے دیکھ کر میری نظر ایلن پر پڑی جو قانونی طور پر اب نظراللہ کی طلاق یافتہ بیوی تھی۔ وہ ویسی کی ویسی بت بنی، خیمے کے پاس کھڑی رہی۔ اس کے لبوں پر طمانیت سے بھرپور مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔ وہ اب آزاد ہو چکی تھی۔ اس نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے متوجہ کیا اور ہوا میں ایک دائرہ بنایا جیسے کہتی ہو، 'سب ٹھیک ہے!'
'شواٹز کو باہر نکالو!' محب نے حکم دیا اور افغان سپاہی جرمن کو باہر لائے۔ ایک دم سورج کی روشنی میں آنے سے اس کی آنکھیں چندھیا گئی تھیں۔ میرے خیال میں اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ ایلن نے اس کا ساتھ بھی چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے، اسی لیے وہ بجائے ایلن۔۔۔ محب پر نظریں گاڑے رہا۔
'اوٹو شواٹز!' محب خان نے بات شروع کی، 'ہم نے برطانوی حکومت کو مطلع کر دیا ہے کہ تم ہندوستان میں پشاور کے مقام پر ہتھیار ڈال کر خود کو حوالے کرنے کے لیے تیار ہو۔ تم جنگی جرائم کے مرتکب مجرم ہو اور ہمارے یہاں افغانستان میں تمھارے لیے کوئی جگہ نہیں ہے' پھر اس نے سیٹی بجائی اور کئی دوسرے فوجی بھی آن پہنچے، 'اس کو پشاور لے جاؤ!' اس نے حکم دیا اور ایک افسر شواٹز کو ہتھکڑیاں پہنانے لگا۔
لیکن شواٹز اتنی آسانی سے پکڑائی دینے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا۔ اس نے خود کو چھڑایا اور سیدھا مجھ پر چڑھ دوڑا، 'یہودی! یہودی!' وہ چلایا، 'یہ تم نے کیا کیا ہے!' وہ میرا چہرہ نوچ دینا چاہتا تھا لیکن فوجیوں نے اس کو قابو کر لیا۔
پھر وہ محب خان کی طرف مڑا اور منتیں کرنے لگا، 'جناب عالی! اس کی باتوں میں مت آئیں۔ یہ بدبخت ایک غلیظ یہودی ہے اور اس نے یقیناً کوئی جھوٹ بولا ہے۔۔۔ اس نے جھوٹ بولا ہے، پتہ کیوں؟ کیونکہ یہ چاہتا ہے کہ لڑکی کو خود ہتھیا لے۔۔۔ ہاں ہاں، یہ بدبخت یہودی!'
اس شور و غل سے نظراللہ بھی متوجہ ہو گیا اور وہ شواٹز کو چیختا ہوا دیکھنے لگا، 'جی ہاں جناب عالی! کل رات یہ یہودی اس لڑکی کو ٹیلے کے پیچھے لے گیا تھا۔ ان دونوں نے بدکاری بھی کی۔۔۔ اور اسی دوران انہوں نے میری موت کا منصوبہ بھی بنا لیا!'
اس نے یوں دال گلتی ہوئی نہ دیکھی تو ایلن کی طرف کودنے کی کوشش کی جو ایک دم نفرت سے پیچھے ہٹ گئی، 'اس کو دیکھیں جناب عالی، اس بدکار نے یہودی کے ساتھ اس ٹیلے کے پیچھے زنا کیا تھا۔ اسی نے اس کے کان بھرے ہوں گے کہ جرمن کو روسیوں کے حوالے کر دو۔۔۔ وہ خود ہی اس کو پھانسی دے دیں گے۔ جناب عالی! اس یہودی نے آپ کے کان بھر رکھے ہیں!'
محب نے فوجیوں کو حکم دیا کہ وہ شواٹز کو ہاتھ اور پیروں سے باندھ دیں۔ جب یہ ہو چکا تو وہ جرمن کے سامنے جا کھڑا ہوا اور کہا، 'جس یہودی کو تم لعن طعن کر رہے ہو، پچھلے ایک گھنٹے سے وہ ہمیں تمھاری جان بخشی پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ مقدمہ چلا تو مجھے یقین ہے، یہ تمھارے حق میں گواہی بھی دے گا!'
انگلیاں چٹخاتے ہوئے محب خان نے فوجیوں کو حکم دیا کہ قیدی کو لے جائیں۔ میرے قریب سے گزرتے ہوئے شواٹز نے میرا بازو پکڑ لیا اور کہا، 'کیا تم ججوں کو وہ سب باتیں بتاؤ گے جو میں نے ستون کے پاس تمھیں بتائی تھیں؟ میونخ میں کئی یہودی آج صرف اس لیے زندہ ہیں کیونکہ۔۔۔ کیا تم میرے لیے گواہی دو گے؟'
'میں ضرور گواہی دوں گا!' میں نے آہستگی سے کہا اور فوجی اس کو گھسیٹتے ہوئے لے گئے۔ ٹرک کا انجن سٹارٹ ہوا، پہیے ریت میں کچکا کر آگے بڑھے اور فوجی چلے گئے۔
'لڑکی کو گاڑی تک لے جاؤ۔۔۔' محب نے مفتون کو حکم دیا۔ کوچی مفتون ایلن کو لے کر چلا گیا۔ میرا خیال تھا کہ شاید میں ذوالفقار کی آمد تک بلخ میں ہی رہوں گا، اسی لیے امکان یہ پیدا ہوا کہ شاید میں ایلن جاسپر کو آخری دفعہ دیکھ رہا ہوں۔ اسی تذبذب کے عالم میں، میں نے جی بھر کر دیکھا کہ اس کے سنہری بال ہمیشہ کی طرح برانگیختہ کر دینے والے تھے، خاکستری بلاؤز اور سیاہ گھاگھرے کے نیچے اس کا جسم ویسا ہی سحر انگیز تھا، اس کی لمبی ٹانگیں ہمیشہ کی طرح دلربا تھیں۔ اس کی آنکھوں میں بدستور وہی چمک تھی اور چہرہ تمتما رہا تھا۔ ابھی کچھ دیر پہلے تک پوچھ تاچھ کے دوران میں نے جتنی بھی ہوشیاری دکھائی تھی، اس سے جان چھڑانے کی سعی کی تھی۔۔۔ اس کے سامنے آتے ہی وہ سب ڈھیر ہو گیا۔
میں نے اس کا سحر توڑتے ہوئے مڑ کر مترا کی طرف جانا چاہا تو غیر متوقع طور پر محب خان نے مجھے روک دیا۔ میرا بازو پکڑ کر بولا، 'تم بھی۔۔۔ ملر، ہم ابھی اور اسی وقت کابل کے لیے روانہ ہو رہے ہیں!'
'میں نہیں جا رہا۔۔َ!'
'یہ شاہ خان کا حکم ہے!'
'لیکن۔۔۔ میں الوداع تو کہہ لوں؟' میں نے احتجاج کیا اور مترا کو اپنی جانب بلا لیا۔
'ٹھیک ہے لیکن تمھارے پاس صرف پانچ منٹ ہیں!'
'میرے سامان کا کیا ہو گا؟'
'او!' وہ مفتون پر چلایا، 'اس کا سامان لاؤ۔۔۔ لڑکی کا بھی!'
میں مترا کو خیمے سے دور بلخ کے ایک ٹیلے پر لے گیا جہاں سے ہندوکش کی پہاڑیاں صاف نظر آ رہی تھیں۔ وہ پہاڑیاں جہاں ہم نے یادگار دن گزارے تھے، پرسکون راتیں بیتائی تھیں۔ 'مجھے امید تھی کہ ہم مزید ایک ہفتہ اکٹھا رہ سکتے ہیں لیکن۔۔۔' میں نے بات شروع کی،
'تم ایلن کا خیال رکھنا!' اس نے جواب دیا، 'وہ بڑی بڑی باتیں کرتی ہے لیکن اندر سے بہت کمزور ہے!' وہ مزید کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن پھر نہ جانے کیوں اس کی خانہ بدوشوں کی عادت، وہی تندی لوٹ آئی۔ وہ چلائی، 'ارے۔۔۔ اس بیوقوف اونٹنی کو دیکھو!'
ہم ٹیلے سے اتر آئے اور سیدھا اس طرف چل پڑے جہاں آنٹی بیکی گھاس چر رہی تھی۔ اس کی آنکھیں سرنگوں، جیسے جھکی ہوئی تھیں، پیروں میں مسلسل حرکت تھی اور منہ چل رہا تھا۔ درد کی اس گھڑی میں، چونکہ وہ ہمیں اتنی دور تک لائی تھی۔۔۔ میں نے اس کی پنڈلی تھپتھپائی لیکن اسے اس جذباتیت سے کوئی لگاؤ نہیں تھا۔ وہ میرے تھپتھپانے کو کچھ اور ہی سمجھی، وہ سمجھی کہ شاید میں اس پر سامان وغیرہ لادنا چاہتا ہوں۔۔۔ اسی لیے وہ چلا کر غرانے لگی اور بد دلی سے دور چلی گئی۔ ہم دونوں پھر اکیلے رہ گئے۔
'مترا۔۔۔ مترا!' میں صرف اس کا نام ہی پکار سکا۔ ان آخری چند انتہائی قیمتی منٹوں کے دوران بہت کچھ تھا جو کہنے سے رہ گیا اور بہت کچھ ایسا تھا جو کہا ہی نہیں جا سکتا تھا۔ ہمارا بچھڑنا اگرچہ طے تھا لیکن یہ اس قدر پھرت لگ رہا تھا کہ اس کے ساتھ اب جڑی دوسری کہانیاں بھی سمٹ رہی تھیں۔ پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران میں نے دنیا جہاں کی بدصورتی دیکھ لی تھی اور اب یہ الوداع بھی سر آن پڑا تھا۔ سب کچھ برباد ہو گیا تھا۔
'کبیر، بامیان، موسی دار!' وہ سنگ میلوں کے نام گنوانے لگی، 'جب ان جگہوں پر دوبارہ جائیں گے تو۔۔۔' اس نے میری جانب دیکھا تو اس کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے اور وہ یوں کمزوری دکھانے پر شرمسار نظر آ رہی تھی۔ اس نے آنکھیں ملیں، ناک پونچھی اور ہنس کر کہا، 'تمھارے بغیر کارواں ایسے ہی ہو گا جیسے بھوتوں کا کوئی قافلہ جا رہا ہے۔۔۔ تم سفید گھوڑے پر سوار، اس کاروان کی زینت تھے!'
دور، محب خان گاڑی کا ہارن زور زور سے بجا رہا تھا۔
پھر مجھے وہ رات یاد آ گئی جب شواٹز نے مجھے اس دن سے متنبہ کیا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ اس خانہ بدوش لڑکی کو چھوڑ کر جانے کا تجربہ انتہائی مختلف ہو گا۔ واقعی ایسا تھا، اس سے یوں رخصت لینا۔۔۔ مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی نے میرے وجود کو چیر کر رکھ دیا ہے اور اب اس کا کوئی حصہ کھینچ کر الگ کر رہا ہے۔
'انشاء اللہ!' میں بڑبڑایا،
'انشاء اللہ!' اس نے یقین سے کہا،
میں پیچھے مڑ کر دیکھنے سے قاصر تھا۔ میں جلدی سے گاڑی کی جانب بڑھ گیا جہاں محب خان ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا تھا اور اگلی ہی سیٹ پر اس کے ساتھ ایلن جبکہ نظراللہ پچھلی نشست پر براجمان تھا۔ نظراللہ بدستور اپنی سابقہ بیوی کو نظرانداز کیے، دور۔۔۔ بہت دور ہندوکش کی پہاڑیوں پر نظریں گاڑے ہوئے تھا۔
میں بھی چپ چاپ گاڑی میں جا بیٹھا اور جب تک ہم رخصت نہیں ہوئے۔۔۔ میں نے مترا پر نظریں جمائے رکھیں۔ وہ مڑ کر خیمے کی جانب چلی گئی تھی اور مفتون اس کے پیچھے پیچھے، سر جھکائے جا رہا تھا۔ مجھے لگا جیسے مترا کے جسم سے کسی نے اس کی روح کھینچ لی ہے۔
مزار شریف کی طرف لوٹتے ہوئے راستے میں کسی نے کوئی بات نہیں کی۔ ایلن کی موجودگی سے گاڑی کی فضا مزید بوجھل ہو گئی تھی۔ شواٹز نے کچھ دیر پہلے اس کے بارے جو مزید انکشافات کیے تھے، اس کے بعد تو کچھ کہنے کو رہا بھی نہیں تھا اور ویسے بھی اس وقت کچھ کہنا مناسب نہیں تھا۔ میرا حال یہ تھا کہ میں ایک طرف تو مترا سے بچھڑنے کی وجہ سے غمگین تھا اور دوسری طرف مجھے ایلن کی فکر کھائے جا رہی تھی۔ آخر اس کا انجام کیا ہو گا؟ محب خان کے ہونٹ سلے ہوئے تھے اور وہ خاموشی سے گاڑی چلا رہا تھا۔ وہ جیسے کچھ سوچ رہا ہو۔ میرا خیال تھا کہ جب ہم مزار شریف پہنچ جائیں گے تو وہ ایلن کو سرکاری اہلکاروں کے حوالے کر دے گا لیکن ہم یہاں پہنچ کر بھی نہیں رکے۔
بجائے، حیرت کا سامان یہ ہوا کہ ہم شہر کے بیچوں بیچ گزرتے ہوئے ایک نئی سڑک پر روانہ ہو گئے جو شمال کی جانب مڑتی تھی۔ یہ ایک پرانا راستہ تھا، غالباً ہزاروں سال پرانا تھا جو شمال مشرق کی جانب نکلتا تھا۔ اس راستے پر اونٹوں کا ایک کارواں رواں تھا۔ میں نے دیکھا کہ یہ کرغز شاکر، اسلحے کے سمگلر کا کاروان تھا۔
'او۔۔۔ شریف!' محب نے گاڑی میں سے اس کو پکارا تو روسی گھوڑے کو دوڑاتا ہوا آیا اور گاڑی کے قریب پہنچ کر اچھل کر اتر گیا۔
اس نے پچھلی نشست پر مجھے نمناک انداز میں بیٹھے دیکھ کر محب خان سے سنجیدگی سے ٹوٹی پھوٹی پشتو میں پوچھنے لگا، 'کیا تم اس مجرم کو گولی مارنے کا ارادہ رکھتے ہو؟'
'ارے نہیں!' محب نے ہنس کر جواب دیا، 'ہمارے پاس تمھارے کاروان کا ایک مسافر ہے!'
اب کی بار کرغز شاکر کی نظر ایلن پر جا ٹکی۔ وہ ایلن کو اچھی طرح جانتا تھا اور کبیر میں اس کے ساتھ رقص بھی کر چکا تھا، 'یہ؟' اس نے اشارہ کیا۔
'ہاں!'
'اس کے پاس کاغذات ہیں؟'
'ہاں!' یہ کہا اور پھر محب خان نے اپنے فولڈر میں سے ایلن کا سبز رنگ کا پاسپورٹ نکالا اور شریف کے حوالے کر دیا۔ پھر اس نے ایک خط نکالا جس پر عربی، روسی، سلافی اور اطالوی زبانوں میں عبارت کے ساتھ ساتھ شاہ خان اور روسی سفیر کے دستخط بھی ثبت تھے۔ اس خط میں لکھا تھا کہ حامل رقعہ کو امریکہ واپسی پر راستے میں روس میں ٹھہرنے اور گزرنے کی پوری اجازت ہے۔ ایک خصوصی صفحہ، جو محب خان نے مجھے بالخصوص دکھایا۔۔۔ اس پر ایلن جاسپر کے نام نوٹس تھا۔ لکھا تھا کہ چونکہ اب وہ قانونی طور پر اپنے افغان شوہر سے طلاق پا چکی ہے، اب ملک چھوڑنے میں آزاد تھی۔ محب خان نے یہ خط ایلن کے حوالے کیا اور چہک کر کہا، 'میڈم، آپ کو افغانستان سے ملک بدر کیا جاتا ہے!'
اس کے بعد محب خان نے کرغز کو سارے معاملات سمجھائے اور افغان کرنسی کی معقول تعداد حوالے کی، 'یہ اس کو ماسکو تک پہنچانے کا خرچہ ہے۔ ہم اس کے والدین کو اطلاع کر دیں گے اور باقی انتظامات بھی پورے ہیں!'
'یا خدا!' میں پھٹ پڑا اور گاڑی سے اتر گیا، 'تم ایسا نہیں کر سکتے!'
'یہ میں نہیں۔۔۔' محب خان نے احتجاجاً کہا، 'یہ اپنے ساتھ خود ایسا کر رہی ہے!'
'تمھارا کیا مطلب ہے؟'
'میں اپنے ساتھ دو طرح کے کاغذات لایا تھا۔ ان میں سے ایک کے تحت سب کچھ ویسا ہی رہتا، جیسا کہ پہلے تھا جبکہ دوسرے کاغذات اس کی ملک بدری کے تھے۔ میں نے اس کو موقع دیا تھا، اس نے خود اپنے لیے یہی منتخب کیا ہے!'
'اسے علم نہیں تھا کہ وہ کیا کرنے جا رہی ہے!' میں نے بھی احتجاج کی اور ایلن کی طرف دیکھا تا کہ وہ کچھ بول اٹھے۔ لیکن محب خان نے مڑ کر شاکر کی طرف دیکھا اور کہا، 'یہ دیکھو۔۔۔ یہ اس کی محبت میں گرفتار ہے!' اس نے آنکھ بھی مار دی۔
کرغز دلجوئی سے مسکرایا لیکن پھر محتاط ہو کر پوچھا، 'کیا ذوالفقار کو اس بات کا علم ہے؟'
'اس نے اسے اپنے کاروان سے دھکے دے کر نکال دیا تھا' محب خان نے اطلاع فراہم کی، 'ہم بھی ایسا ہی کر رہے ہیں!'
غالباً افغانستان کے رہنماؤں کی یہ جوان پیڑھی نہایت پر اعتماد واقع ہوئی تھی اور وہ اس طرح کے مشکل فیصلے کرنے میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرتے تھے لیکن ایلن جاسپر کے بارے ان کا یہ فیصلہ سراسر غلط تھا۔ یہی سوچ کر میں محب کی طرف بڑھا اور اسے شستہ فرانسیسی میں متنبہ کیا، 'کیا تمھیں اندازہ ہے کہ اس فیصلے سے ہماری حکومتوں کے بیچ مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں؟ تمھارے پاس اس بات کا کیا جواب ہے کہ اس لڑکی کو کچھ نہیں ہو گا؟'
اس وقت محب ایلن کو گاڑی سے اترنے میں مدد دے رہا تھا، کچھ سوچ کر بولا، 'اس لڑکی کو؟ اس لڑکی کو کبھی کچھ نہیں ہو گا!' یہ کہا اور ایلن کو لیے کرغز کے حوالے کرنے لگا۔ ایلن کے ساتھ اس نے کپڑوں کی ایک گٹھڑی بھی تھما دی۔
یہ آخری موقع تھا، میں نے مداخلت کرنا ضروری سمجھا۔ شاکر اور ایلن کو لے کر ایک طرف چلا گیا اور پوچھا، 'ایلن۔۔۔ کیا تمھیں یہ اقدامات منظور ہیں؟'
اس نے غضب ناک رویہ اپنائے، انتہائی بے رخی کے ساتھ مجھے یکسر نظرانداز کیا اور بجائے جواب دیتی، شریف سے پوچھنے لگی، 'ہم کس طرف جا رہے ہیں؟'
شمال مشرق کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اس نے جواب دیا، 'ہم روشان کے مقام پر آمو دریا پار کریں گے، پامیر کے بیچوں بیچ ہوتے ہوئے پھر تاجک قصبے غرم سے ہوتے ہوئے سمرقند اور پھر تاشقند پہنچیں گے!' یہ ایسا سفر تھا جس پر میرا خیال تھا، پورا ایک برس درکار ہو گا۔ لیکن ایلن بہت خوش تھی، بالخصوص سمرقند کا نام آیا تو وہ مسکرائی اور اس نے میری جانب انتہائی طمانیت بھری نظروں سے دیکھا۔
'کیا ہم وہاں محفوظ پہنچ پائیں گے؟' ایلن نے پوچھا،
'وہ میرا کام ہے!' شریف نے جواب دیا اور میں نے دل ہی دل میں سوچا، 'پچھلے دس ہفتے میں نے ہر طرح کا گر آزما کر دیکھ لیا لیکن مجھے پتہ نہیں چلا کہ آخر روسی خانہ بدوش آمو دریا کیسے پار کرتے ہیں۔ لیکن یہ دیکھو، شاکر کرغز نے کتنی آسانی سے یہ انتہائی اہم معلومات فراہم کر دیں۔
میں نے کہا، 'ایلن۔۔۔ میں افغان حکومت کو مجبور کر سکتا ہوں۔۔۔'
'مجھے کوئی ڈر اور خوف نہیں ہے۔۔۔' اس نے جواب دیا اور پھر اس نے میری جانب یوں دیکھا جیسے کہتی ہو کہ وہ بدستور آزاد ہے اور میں قید میں ہوں!
میں نے محب خان اور نظراللہ کو بھی بلا لیا اور اعلانیہ کہا، 'میں تم سب کے سامنے، ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی جانب سے افغان حکومت کے اس فیصلے پر پرزور احتجاج کرتا ہوں!'
یہ سن کر ایلن زور سے ہنس پڑی اور جواب دیا، 'حضرات، آپ سب نے سن لیا؟ اگر کل کلاں مارک ملر کو جہنم میں ڈالا گیا تو ہمیں گواہی دینی پڑ سکتی ہے!' یہ کہہ کر اس نے ہاتھ آگے بڑھا کر میرے ہاتھ تھام لیے اور ان پر بوسہ ثبت کیا اور پھر کہا، 'میری خواہش ہے کہ ہم امریکہ میں دوبارہ ملیں!'
یہ کہہ کر اس نے جانے کا قصد کیا لیکن شائستگی کا تقاضا تھا کہ وہ نظراللہ سے بھی بالضرور الوداع کرے۔ چنانچہ وہ مڑ کر اس کے سامنے جا کھڑی ہوئی اور خلوص دل سے کہا، 'نظراللہ۔۔۔ میرے دوست، میں نہایت شرمندہ ہوں۔۔۔' وہ کچھ دیر ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھتے رہے اور یوں کھڑے تھے جیسے بت ہوں۔ میں نے دل میں سوچا کہ صحرا میں جب میں نے نظراللہ سے ایلن کے بارے پوچھا تھا تو اس نے آسمان میں ستاروں کو دیکھ کر خود کو یقین دلایا تھا ایلن افغانستان میں ہی، بالکل محفوظ ہے۔ اب وہ ایک دفعہ پھر انہی ستاروں کو دیکھ کر خود کو یقین دلائے گا کہ ایلن بخیر و عافیت امریکہ میں محفوظ ہے۔
آخر کار وہ مڑی اور جلدی سے اپنے نئے کاروان سے جا ملی، ایسے جیسے وہ پچھلے کئی مہینوں سے اس کاروان کا حصہ تھی۔ میں کرغز کو اپنے گھوڑے پر سوار اونٹوں کی قطار کے آگے جاتا دیکھتا رہا۔ اس کاروان کا یہ تھا کہ اس کے ساتھ بھیڑ بکریوں کا ریوڑ نہیں تھا اور نہ ہی کوچیوں کی طرح بیسیوں خاندان ہمراہ تھے۔ ویسے ہی، یہ خانہ بدوش دن میں صرف چودہ میل کا سفر کرنے کا خطرہ بھی مول نہیں لے سکتے تھے۔ اس کارواں کے سامنے ایک طویل سفر تھا، دشوار گزار گھاٹیاں اور اونچے درے تھے جنہیں برف گرنے سے پہلے پار کرنا انتہائی ضروری تھا۔ روس کی جانب جانے والے اس کاروان کے باسیوں کو دوپہر کے وقت قیلولہ کرنے کی فرصت تھی اور نہ ہی وہ اس عیاشی کے متحمل ہو سکتے تھے۔
جب آخری اونٹ بھی نظروں سے اوجھل ہو گیا تو ہم اس قدیم شاہراہ پر اکیلے رہ گئے۔ کاروان کو نظروں سے دور ہوتا ہوا، دھول میں گم ہوتا ہوا دیکھتے رہے۔ میں نے آخری بار ایلن کو اونٹوں کے بیچ، اس کے سنہری بال اور سیاہ گھاگھرا جھلاتے ہوئے دیکھا تھا۔
'یہ انتہائی وحشیانہ فیصلہ ہے!' میں نے کمزور آواز میں احتجاج کیا اور پہلی بار نظراللہ نے بھی میرے ساتھ اتفاق کیا لیکن محب خان سنجیدگی سے کہا، 'اس کا چلے جانا ہی بہتر تھا۔ وہ تم دونوں کو برباد کر کے رکھ دیتی!'
-ختم شد-

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر