آلای

پچھلے تین دن سے میں وادی آلاءی میں تھا۔ آلاءی اسلام آباد سے کوءی ۲۵۵ کلومیٹر کے فاصلے پر ضلع بٹگرام کی ایک تحصیل ہے۔ پسماندہ علاقہ ہے۔ یہ وادی اکتوبر ۲۰۰۵ کے زلزلے میں کافی متاثر ہوءی تھی، اموات و زخمیوں کی کافی تعداد کے ساتھ ساتھ یہاں مالی نقصان دیکھنے میں آیا، بہر طور لوگ اب بھی کسمپرسی کی حالت میں گزارہ کر رہے ہیں۔
میں یہاں ایک این جی او، سرحد رورل سپورٹ پروگرام سے منسلک ہوں، یہ تنظیم مختلف حصوں میں کام کر رہی ہے جس میں سب سے بڑا پروگرام اس وقت یہاں کی دو دشوار گزار یونین کونسلوں، پاشتو اور سکر گاہ میں سرکاری اشتراک سے گھروں کی تعمیر کا ہے، جب کہ میں زارءع معاش کی بحالی کے ایک منصوبے میں لاءیوسٹاک آفیسر کے طور پر کام کر رہا ہوں۔
سال ۲۰۰۷ میں اپنی امور حیوانات کی تعلیم ڈی وی ایم مکمل کرنے کے بعد سے میں اس تنظیم سے وابستہ ہو گیا تھا ۔
جہاں اس وادی کی ماشرتی زندگی پر زلزلہ اثرانداز ہوا ہے وہیں لوگوں کا زریع معاش جو کہ عام طور پر زراعت اور مال مویشی پر منحصر ہے انتہاءی متاثر ہوا ہے، اور اگر یہ کہا جاءے کےلوگوں کا اس دنیا اوراس کے کاروبار سے اعتبار اٹھ گیا ہے کچھ علط نہ ہو گا۔
مثلا آج ہی کی بات لے لیں، بحث ہو رہی تھی کہ لوگوں کا جو کاروبار زندگی ہے وہ کیسا چل رہا ہے، بات آمدن وخرچ پر چلی گءی، یاد رہے یہ بحث فی گھرانہ کی بنیاد پر کی جاتی ہے، معلوم پڑا کہ اوسطاہر گھرکا خرچ آمدن سے زیادہ ہے، جس کی وجہ سے ہر گھرانہ انتہاءی ہریشانی کی حالت میں گزر بسر کر رہا ہے۔
گلوں میں رنگ بھرے، باد نو بہار چلے
چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے
بحث ومباحثہ میں پتہ چلا کہ لوگ زاید خرچہ قرضے سے چلا رہے ہیں، یہ قرضہ انہیں علاقے میں موجود نسبتا خوشحال لوگوں سے مل رہا ہے، جو گنتی کے چند لوگ ہیں، جن میں کاروباری، خوانین اور دوسرے علاقے سے آءے لوگ شامل ہیں۔ جب یہ قرضہ کسی بھی گھرانے کی پہنچ سے باہر ہو جاتا ہے، تو مجبورا وہ گھرانہ اپنے آباءواجداد سے وراثت میں ملی زمین، اپنا مال مویشی اور دوسرے وساءل بیچ کر ہجرت پر مجبور ہو جاتے ہیں، اس تمام عمل کے محتلف اثرات مرتب ہو رہے ہیں، مثلا
  • اس علاقے کی آبادی تیزی سے کم ہو رہی ہے
  • اس علاقے کی پیداوار، مثلا زرعی اجناس، بھیڑ بکری، جیسی اہم اور منافع بخش چیزیں ناپید ہو رہی ہیں
  • لوگوں کی بڑی پیمانے پر شہری علاقوں مثلا مانسہرہ، ایبٹ آباد، راولپنڈی، اسلام آباد میں آبادی میں اضافے اور کءی شہری مساءل کو جنم دے رہے ہیں
  • جراءم میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے

یہ مرتب ہونے والے اثرات میں سے چیدہ چیدہ ہیں

اس بارے جلد ہی کوءی پالیسی مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ گو کہ این جی اوز اپنے طور پر کام کر رہی ہیں، مگر سرکاری عمل دخل بہر حال ضروری ہے!!!!۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر