فیض کی اک نظم میرےچند دوستوں کے نام

گر مجھے اس کا یقیں ہو،۔
،مرے ہمدم، مرے دوست
گر مجھے اس کا یقیں ہو،۔
،۔کہ ترے دل کی تھکن
،۔تیری آنکھوں کی اُداسی
تیرے سینے کی جلن،۔
میری دلجوئی، میرے پیار۔سے مٹ جائے گی
،گر میرا حرف تسلی،وہ دوا ہوکہ جس سے
جی اُٹھےپھر تیرااُجڑا ہوا بے نور دماغ،۔
،۔تیری پیشانی سے دھل جائیںتزلیل کے داغ
،۔تیری بیمار جوانی کو شفا ہو جائے
گر مجھے اس کا یقیں ہو، ۔
روذ وشب، شام وسحر، میں تجھے بہلاتا رہوں، ۔
میں تجھے گیت سناتا رہوں ہلکے، شیریں
آبشاروں کے، بہاروں کے،چمن زاروں کے گیت،۔
شام کے، صبح کے،مہتاب کے، سیاروں کے گیت،۔
تجھ سے سنوں میں محبت کی حکایات بھی،۔
کیسے مغرور حسیناوں کے برفاب جسم، ۔
گرم ہاتھوں کی حرارت سے پگھل جاتے ہیں،۔
کیسے اک چہرے کے ٹھہرے ہوئے مانوس نقوش،۔
دیکھتے ہی یک لخت بدل جاتے ہیں،۔
کس طرح عارض محبوب کا شفاف بلور
یک بیک بادہ احمر سے دہک جاتا ہے،۔
کیسے گل چیں کے لیے جھکتی ہے، شاخ گلاب،۔
کس طرح رات کا ایوان مہک جاتا ہے،۔
یوں ہی گاتا رہوں، گاتا رہوں، تیری خاطر،۔
گیت بُنتا رہوں، بیٹھا رہوں، تیری خاطر،۔
پر مرے، گیت ترے،دُکھ کا مداوا ہی نہیں، ۔
نغمہ چل راہ نہیں، غم خوار سہی،۔
گیت نشتر نہیں، مرہمِ آذار سہی،۔
تیرے آذار کا چارہ نہیں، نشتر کے سوا،۔
اور یہ سفاک مسیحا مرے قبضے میں نہیں، ۔
اس جہاں کے کسی ذی روح کے قبضے میں نہیں،۔
ہاں مگر، ۔
تیرے سوا، تیرے سوا، تیرے سوا!!!۔
شاعر۔فیض احمد فیض
کاتب: عمر احمد بنگش
بنام : میرے چند دوست
۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر