فیض کا کلام

تیرے غم کو جاں کی تلاش تھی، تیرے جانثار چلے گئے
تیری راہ میں کرتے تھے سر طلب، سر رہگزار چلے گئے
تیری کج ادائی سے ہار کے شب انتظا ر چلی گئی!!!۔
میرے ضبط حال سے روٹھ کے میرے غمگسار چلے گئے
نہ سوال وصل، نہ عرض غم، نہ حکایتیں، نہ شکایتیں!!!۔
تیرے عہد میں دل ذار کے سبھی اختیار چلے گئے
یہ ہم ہی تھے جن کے لباس پر سر رہ سیاہی لکھی گئی
یہی داغ تھے جو سجا کے ہم، سر بزم یار چلے گئے
نہ رہا جنوں رخ وفا، یہ رسن یہ دار کرو گے کیا
جنھیں جرم عشق پہ ناز تھا وہ گناہ گار تو چلے گئے
شاعر: فیض احمد فیض
کاتب: عمر احمد بنگش

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر