اک غزل

اپنی یادیں اپنی باتیں لے کر جانا بھول گیا!!!۔
جانے والا جلدی میں تھا، مل کر جانا بھول گیا
مُڑ مُڑ کر دیکھا تھا اس نے جاتے رستے میں
جیسے اُسے کہنا تھا کچھ، جو وہ کہنا بھول گیا
وقت رخصت میری آنکھیں پونچھ رہا تھا آنچل سے
اُس کو غم تھا اتنا زیادہ، خود وہ رونا بھول گیا
وقت کے بہتے دھارے میں کیسی ہم نے غفلت کی تھی
میں بھی کہنا بھول گیا تھا، وہ بھی رکنا بھول گیا

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر