تجسس

انسانی شخصیت کا عجب پہلو تجسس ہے، کسی معاملے یا شے بارے اس کا تجسس ہی اس کو اہم بنا دیتا ہے۔ دنیا کے کامیاب لوگوں نے اس ہتھیار بے پایاں کا خوب استعمال کیاہے، عیار و مکار مداریوں کی مانند!۔
عموما ہر مداری کے سامنے زمین پر پٹارہ دھرا ہوتا ہے، جس میں ایک نام نہاد سانپ پڑا رہتا ہے، نام نہاد یوں کہ مداری جو خصوصیات اس سانپ کی بیاں کرتا ہے وہ وصف اس بے کمال سانپ میں کبھی پائے ہی نہیں جاتے، بلکہ وہ دو چار خصلتیں جو اس بے چارے کو قدرت نے عطاکر رکھی تھیں، وہ بھی مداری کے پیٹ کی بھینٹ چڑھ چکتی ہیں۔
 میں نے زندگی میں کئی مداری اور ان کے کمالات دیکھے ہیں، لیکن چند دن پہلے کافی عرصے بعد تماشہ دیکھنے کا موقع ملا، یادیں تازہ کرنے اس مداری کے ارد گرد جمع لوگوں کے ہجوم میں جا کھڑا ہو۱۔ مداری ایک ایسا شعبدہ باز تھا، جس کے چہرے، چال ڈھال، اور گفتگو سے عیاری برس رہی تھی۔ تیز طرار نگاہیں تمام مجمع کا طواف کر رہی تھیں۔ ہاتھ ہلانے کا انداز بالکل کسی سانپ کی لہراتی پھن کی مانند، اور الفاظ گویا تجسس کے زہر میں تر کیے ہوئے!۔ سانپ کے پٹارے میں تو خدا جانے کیا تھا، البتہ مداری بجا طور پر تجسس کا لہراتا، پھنکارتا سانپ محسوس ہوا۔ مداری کا دعوٰی تھا کہ پٹارے کا سانپ، بے پناہ قوت کا حامل ہے۔ گو پٹارہ کمزور ہے مگر یہ مداری کی مہارت، علم اور تجربہ تھا کہ اس نے سانپ کو پٹارے تک محدود رکھ چھوڑا تھا۔ سانپ طاقتور تو تھا ہی، اس کے علاوہ بھی یہ کئی خوبیوں کا حامل تھا۔ مثلاً زہریلا ہونے کے ساتھ ساتھ، وہ سانپ اڑ بھی سکتا تھا، اور کمال یہ کہ وہ صرف اڑتے ہوئے ہی کاٹتا تھا۔ سانپ کا زہر نقصان دہ تھا، مگرصرف کاٹتے ہوئے، کئی بیماریوں کا علاج بہرحال اس نسل کی خاصیت تھی، مثلاً کالا یرقان، لیکوریا، جوڑوں کا درد، درد قولنج اور نہ جانے کیا کیا، سب سے اہم علاج جس کے لیے قدرت نے اس نسل کے سانپ کو گویا دھرتی پر رینگنے کو رکھ چھوڑا تھا وہ لےدے کے جنسی بیماریوں کا علاج تھا۔ جنسی بیماریوں کے علاج بارے سن کر اکثر تماشبینوں کا تجسس حدوں کو چھونے لگا،کم عمرنوجوانوں اور عمر رسیدہ تماشبینوں کی دلچسپی یکدم بڑھ گئی!۔
 ہر شخص حیران تھا، میرے پہلو میں کھڑا ہر شخص یقیناً یہ جانتا تھا کہ پٹارے میں کس قماش کا سانپ ہے، تجسس بہر حال ان کو نگل چکا تھا۔ پٹارے کا سانپ تو بعد میں باہر آیا، چند ہی ساعتوں میں مداری کی چکنی چپڑی تجسس بھری باتوں نے تمام مجمع کو سانپ کی طرح یکدم سے نگل لیا۔ مداری کا کمال تھا کہ،لوگ تجسس بھرے سناٹے میں آ گئے۔ لیکن جب لوگوں کو پٹارے کے سانپ کی حقیقت پتہ چلی، تجسس کے اژدھا نے یکدم ہی تمام لوگوں کو واپس اگل دیا، جیسے ایک دیوھیکل اینا کونڈا شکار کو نگلنے کے بعد اگل دے، وہ سارا مجمع اگلا ہو ا شکار دکھائی دیا، مجھ سمیت ہر شخص تجسس کے بدبودار بھبھوکوں میں لپٹا تھا۔ لیکن سانپ باہر لانے سے پہلے مداری نے لوگوں کو حسب توفیق لوٹنا شروع کیا، یعنی اپنی باکمال 
دوائی جو بقول اس کے اس کرہ ارض پر پائی جانے والی ہر بیماری کا علاج تھی، کی معقول قیمت وصول کرنا مناسب سمجھا۔ اب، جبکہ پٹارے کا سانپ باہر آچکا تھا، مجھے بڑی مایوسی ہوئی، وہ خصلت میں کسی طور بھی سانپ نہ تھا، بلکہ مجھے تو وہ باقاعدہ ساون کے موسم میں اکثر دیکھے جانے والے کیڑے کی مانند محسوس ہوا۔ مداری کو اس سے چنداں دلچسپی نہ تھی کہ لوگ اس کے اور سانپ نما کیڑے کے بارے کیا رائے رکھتے ہیں، وہ اپنی عیاری کی معقول قیمت بہر حال وصول کر چکا تھا۔
 اس مداری جیسی خصوصیت دنیا میں پائے جانے والےکثیر التعداد نام نہاد سیاستدانوں، سرمایہ داروں، حکمرانوں، عالموں، دانشوروں میں آپ کو نظر آئے گی۔ جو لوگوں کی نہ صرف خوش گمانیوں بلکہ بدگمانیوں کا بھر پور استعمال کر کے تجسس کے منہ ذور ہتھیار کےبل بوتے قابل قبول نفع وصول کرتے ہیں۔ ایک عام آدمی کو عام بنانے والی یہی کمی ہے، مثلاً میری ہی مثال لے لیں، میں ایک عام آدمی ہوں، میں اپنے اور اپنے کسی قول، فعل  یا میرے متعلق کسی معاملہ بارے، کسی بھی بدگمانی سے گھبرا جاتا ہوں اور لوگوں کی میرے یا مجھ سے متعلق کسی بھی معاملے میں خوش گمانی، الٹا مجھے ہی متجسس کر دیتی ہے۔ میرے جیسے ہرعام آدمی کا حال پٹارے کے سانپ جیسا ہے، جس کی خصوصیات اور قابلیت مداری کے مفادات کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں، اور لوگ بھلے اس کے بارے خوش گمانیاں پالیں یا بدگمانیاں، منافع بہر حال مداری کو پہنچتا رہتا ہے!۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر