مادہ پرستی

یک جملی سائنسی تعریف میں مادہ ایک انتہائی سادہ جیز ہے، مگر ذود معنی انتہائی تکنیکی، ستم یہ ہے کہ جب انسان کی اس مادے، چاہے کسی بھی شکل میں ہو امیدیں بڑھ جائیں تو انسان اندھا ہو جاتا ہے، اس بے چارے انسان کو کہا جائے تو کیا کہا جائے، صرف مادہ پرست!۔
انسان کو جب اشیاء سے محبت ہو جائے، سڑکوں پر بکھرے ہزاروں میل لمبے اشیاء کے جال سے اُنس ہو جائے۔ مادے سے نظریں ہٹانے کا جی نہ چاہے، قدم آگے کی جانب بڑھیں مگر مقصد قرار واقعی، صرف مادے کو حاصل کرنا ہو۔ اور اسی کشمکش میں وہ حالت ہو جائے کہ زندگی سے متعلق جملہ جیزیں مادے سے شروع ہو کر مادے پر ہی ختم ہو جائیں۔ ایسی بھیانک صورتحال کہ انسان نہ صرف اپنے بلکہ دوسروں کے لیے صرف اور صرف مادے کو ہی لازمی تصور کر بیٹھتا ہے۔ ایسا انسان جذبات واحساسات سے یکسر عاری ہو جاتا ہے، تکلیف دہ بات یہ کہ اس کا دل کسی طور بھی اسے مادہ پرست نہیں گردانتا جبکہ زہن صرف مادے کو سوچتا ہے۔مزید تشریح اس تناظر میں دلچسپی سے خالی نہیں کہ ہر انسانی عمل، فقط مادے کے حصول میں جُٹ جاتا ہے، نفس خوشحال پر دماغ انتہائی تھکن کا شکار ہو جاتا ہے،نتیجتاً گھڑی کی ٹک ٹک کے ساتھ صرف اور صرف مادے کے حصول میں لگا رہتا ہے، اور رہ گیا انسانی نفس، تو وہ ایک بدکے ہوئےگھوڑے کی شکل اپنا لیتا ہے، اور ہر دم لتاڑتا رہتا ہے، بے بس آدمی اسی گھوڑے کے رحم وکرم پر، سرپٹ، انجانی اور کبھی نہ ختم ہونے والی دوڑ کا حصہ بن جاتا ہے۔
صاحبو! یہ بڑی دردمند صورتحال ہوتی ہے، انسان کی سوچ اسے ہر لمحے یہ تھپکیاں دیتی رہتی ہے کہ ہر آنے والا گام ہی اس کی منزل ہے، مگر دہلا دینے والی حقیقت کہ جس سے آنکھیں موند لی جاتی ہیں، وہ یہ ہوتی ہے کہ اس بے معنی دوڑ کی منزل کا تعین کبھی کیا ہی نہیں گیا۔ یہ تو فقط دوڑ ہے، کولہو کے بیل کی دوڑ جیسی۔ بیل تھک جاتا ہے، جسم چُور چُور، لاشعور میں کئی کوس دور مگر جسم اسی کولہو میں گردش کرتا رہتا ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ اس تگ ودود میں انسانی عقل کی خاصیتیں برقرار رہ سکتی ہیں، کبھی کبھار کسی بھلے آدمی کی سوئی عقل انگڑائی لیتی ہے ، اور بالآخر ایک بہت بڑا، انسانی قد سے کے مساوی "کیوں؟" عین ناک کے سامنے آن کھڑا ہوتا ہے۔ خوش نصیبی کسی کسی کے قدم چومتی ہے جبکہ زیادہ تر کے سامنے یہ "کیوں؟" کسی ٹھوکر، جھٹکے، یا کسی بامعنی حرکت کے نتیجے میں آتا ہے، ایسی حرکت یا ٹھوکر جو یکایک انسان میں یہ سوچ بیدار کر دے کہ وہ جس سرکش گھوڑے کا سوار ہے وہ اپنی جگہہ پر حرکت تو کر سکتا ہے، مگر کبھی آگے نہیں بڑھ سکتا!۔
یہ کیا محرکات ہوتے ہیں۔ جو لازوال ہیں، ہر زماں ومکاں میں دیکھے گئے ہیں۔ یکدم ہی انسان کو احساس ہوتا ہے کہ یہ سب بے بےمعنی ہے۔ وہ حواس خمصہ کے زیر اثر دیکھے گئے خواب بے وجہ ہیں۔ وہ محرکات جن کے پیش نظر اُس نے یہ دوڑ لگائی، اصل میں سراب ہیں۔ انسان کی روح، جسم اور مقصد کا اُن سے دور کا واسطہ بھی نہیں!۔انسان اس کیفییت میں بالکل ایسے ہی ہوتا ہے، جیسے کسی کو خلا میں لٹکا دیا جائے۔ مادہ، نفس کا سرپٹ گھوڑا، دنیا و مافیہا، مادہ پرستی، بودی سوچ سب بھک سے اُڑ جاتا ہے۔ عقل شدتِ شرمندگی سے سائیں سائیں کرتی ہے۔ انسانی زہن میں صرف ایسی ہی کیفیت رہ جاتی ہے کہ، 
اب تو تیری بندہ پروری میں دن گزر رہے ہیں
نہ دوستوں سے ہے گِلہ، نہ ہی شکایتِ زمانہ
دلچسپ پہلو یہ ہوتا ہے کہ وہ مندر اور بُت، جو انسان اس دوڑ اور میلے کے لئے سجاتا ہے، چونکہ یکدم ہی بے معنی ہو جاتے ہیں، چنانچہ انسان گِلے اور شکوے پر اُتر آتا ہے، یہ گلِہ نفس یا حواس سے نہیں، بلکہ خدائے بزرگ وبرتر سے کیا جاتا ہے۔ وجہ صاف ہوتی ہے، تمام بےچارگی، مفلسی کے اس عالم میں اگر کوئی اانسان کی جانب متوجہ ہوتا ہے، وہ اللہ بزرگ وبرتر ہی کی ذات ہے، نہ کہ مادی دنیا اور نہ ہی کوئی اور!۔
جس مادے نے انسان کو لتاڑا، ناکوں چنے چبوائے، وہ تو معصوم بنے کھڑا تماشہ کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ موت کی صورت اختیار کر کے انسان کو نگل بھی جاتا ہے، مگر یہ بےوقوف انسان اپنے خالق کو ہی قصوروار ٹھہراتاہے، اُسی سے ہی گِلے اور شِکوے کئے جاتا ہے، کیوں کہ واحد وہ ہی کمال ذات ہے، جو اس کے گلے، شکوے سنتی ہےاور اسے اپناتی ہے۔اور مادے کا کیا؟صاحبو! تلخ حقیقت ہے، انسان مادے سے بے رُخی تو برت لیتا ہے، مگر اُس سے جواب طلب نہیں کرتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کمال ہے، مادے کو پسند بھی نہیں کرتا اور مادہ پرستی کو جاری بھی رکھتا ہے۔ بالکل کسی قنوطی سپیرے کی مانند جسےسانپ کا ڈسنا تکلیف بھی دیتا ہے اور وہ سانپ سے ڈسوانے سے باز بھی نہیں رہ سکتا!۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر