چھوٹے

فیض نے اک بار کہا تھا کہ، ہم بڑے نہیں تھے، ہم قطعاً بڑے نہ تھے بلکہ بڑوں کے اُٹھ جانے سے بڑے ہو گئےِ ۔
فیض توبڑا آدمی تھا، شاعر تھا، کچھ لگی لپٹی رکھنے کا عادی نہ تھا، مگر میں اکثر مجبور کر دیا جاتا ہوں، کیوں کہ میں چھوٹا واقع ہوا ہوں!۔
چھوٹا ہونے، اور چھوٹا واقع ہونے میں بڑا فرق ہے، بالکل ایسے ہی جیسے کسی افسر کا اردلی اگر افسر شاہی بھی ہو جائے، فطرتاً اردلی ہی رہے گا۔ میں چھوٹا تھا، لیکن اب جبکہ میرے اردگرد کئی چھوٹے ہیں لیکن میں بڑا نہ بن سکا، فطرتاً چھوٹا ہی واقع ہوا ہوں!۔
مجھے نہیں معلوم کہ بڑا ہونا کیسا ہوتا ہے، کیوں کہ میں اپنے اہل خانہ میں بلکہ میں تو کہتا ہوں قدرتی چھوٹا واقع ہوا ہوں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ میرے یار دوست، میرے ہم عمر لوگ جن کے ساتھ میرا اٹھنا بیٹھنا ہے، ان میں سے اکثریت اپنے والدین کے سب سے بڑے یا کم از کم منجھلے سپوت ضرور ہیں۔ مثلاً میرے چچا ذاد کی ہی مثال لے لیں، وہ میرا ہم عمر ہے اور ایک وقت میں میرا لنگوٹیا یار بھی تھا، صرف اس وجہ سے مجھ سے دور ہو گیا کہ وہ اپنے والدین کا پسر اکبر ہے۔
مجھے اکثر محفلوں سے وحشت ہوتی ہے، کیوں کہ ان محفلوں میں بحث عمر، قد اوراور اس شخص کے بارے ہوتی ہے جو وہاں موجود نہیں ہوتا، مد نظر رکھ کر کی جاتی ہے، یہ محفل، یہ بلاگ مجھے بہت عزیز ہے کیوں کہ یہاں میں اکیلا ہوں، اہم بات سب سے بڑا ہوں!۔
لیکن اس کا ہر گز مطلب یہ نہیں ہے کہ میں بڑا بننا چاہتا ہوں۔ اب جبکہ میں اپنی زندگی کی پچیس بہاریں دیکھ چکا ہوں، مجھے لگتا ہے کہ میں کبھی بڑا نہ بن سکوں گا، میں بے بہت کوشش کی کہ میں بڑا بن سکوں مگر بے سود، کیوں کہ میں ازلی چھوٹا ہوں!۔
مثلاً ۳ جنوری کی ہی مثال لے لیں، ڈاکٹر صاحب کی وفات ہوئی تو میں نے اپنے آپ کو ایبٹ آباد کی سرکاری ہسپتال کے پرائیویٹ وارڈ میں بارہ سالہ بوڑھے کے روپ میں پایا، لیکن میں بڑا نہ بن سکا۔ میں نے بہتیرا ڈاکٹر صاحب کو سمجھانے کی کوشش کی کہ، یہ موت اور یہ وقت ممکن نہیں لیکن بے سود، میں چھوٹا تھا۔۔۔۔۔۔۔اس وقت بھی ضرورت سے زیادہ بڑا بننے کی کوشش کر رہا تھا!۔
میں بڑا نہ بن سکا، میں اس کے بعد آج تک اپنے سینے پر منوں بوجھ لیے گھوم رہا ہوں، میری شخصیت پنپ نہ سکی، میرا ردعمل فوری ظاہر نہ ہوا، بلکہ یہ تو وہ ناسور ثابت ہوا کہ اللہ کی پناہ!۔
میں بڑا کیونکر بن سکتا ہوں، میں تو اس وقت کے بعد بھی بڑا نہ بن سکا جب میں نے بی۔بی۔جی کو پہلی بار روتے ہوئے دیکھا، آج تک سینکڑوں بار روتے ہوئے پایا، لیکن کبھی بڑا بن کر تسلی نہ دے سکا۔ شدت جذبات اس قدر غالب آتے کہ میں پھوٹ پھوٹ کر رو پڑتا مگر اکیلے میں،کہیں کسی نے مجھے روتے ہوئے دیکھ لیا تو مجھے چھوٹا ہی نہ سمجھ لے!۔
میں بڑا نہیں بن سکتا، اس کی کوشش کی مگر، وہی ہوا کہ، "کوا چلا ہنس کی چال، اپنی بھی بھول گیا"۔ اب تو ایسا ہے کہ نہ میں چھوٹا رہا اور نہ ہی بڑا بلکہ اس کے درمیان کی کوئی ایسی جنس ہوں جس کی کوئی قیمت نہیں ہے۔
،مثلاً یہ بات ہی لے لیں کہ بڑے لوگوں کا کہناہے، بھائی وہ جو دوست ہو اور دوست وہ جو بھائی ہو، میں اس بات کا صد فیصد حامی ہوںاس لیے نہیں کہ یہ سچ ہے بلکہ اس لیے کہ یہ بڑوں نے کہی ہے، مگر کبھی اس کو عملی جامہ نہ پہنا سکا، کیوں کہ میں چھوٹا واقع ہوا ہوں۔ میں اپنے کسی بھائی کو کبھی بھی اپنا دوست نہ بنا سکا، شاید اس کا پس منظر بھی وہی ہے۔ اس پہلو میں مجھے اکثر حیدر علی پر رشک آتا ہے کیوں کہ اس کا سگا بھائی جو اس کا تقریباً ہم عمربھی ہےاس کا لنگوٹیا یار ہے،۔
واہ رے، ایک چھوٹا آدمی کرے توزیادہ سے زیادہ کیا کر سکتا ہے،۔صرف رشک و حسد!۔
جیسے میرے ملک کے سارے (خود ساختہ) چھوٹے لوگ سار۱ سارا دن کرتے ہیں اور رات رات بھراسی آگ میں جلتے رہتے ہیں!۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر