ساحر لدھیانوی کی ایک غزل۔۔۔!۔

کون کہتا ہے محبت کی زبان ہوتی ہے
یہ حقیقت تو نگاہوں سے بیان ہوتی ہے
وہ نہ آئیں تو ستاتی ہے خلش سی دل کو
وہ جو آئیں تو خلش اور جواں ہوتی ہے
روح کو شاد کرے، دل کو پرنور کرے
ہر نظارے میں یہ تنویر کہاں ہوتی ہے
ضبط سیلاب محبت کو کہاں تک روکیں
دل میںجوبات ہوآنکھوںسےعیاں ہوتی ہے
زندگی ایک سلگتی سی چتا ہے ساحر
شعلہ بنتی ہےنہ یہ بجھ کےدھواں ہوتی ہے
شاعر : ساحر لدھیانوی
کاتب: عمر احمد
غزل خواں: جگجیت سنگھ، چترا سنگھ
بنام: نامعلوم

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر