گفتگو

کبھی آپ نے قدرت سے گفتگو کی ہے؟
جیسا کہ میں پہلے ایک جگہ عرض کر چکا ہوں کہ اکثر محفلوں سے مجھے وحشت ہوتی ہے ،ایسی ہی ایک محفل کا سامنا کرنےکا موقع مجھے چند سال پہلےہوا، جب میں گومل یونیورسٹی میں ہوتا تھا۔ میں اس محفل میں بہت عجیب سا محسوس کر رہا تھا۔ عجیب سے مراد ایسے کہ جیسے کسی نے میری روح کو مروڑ کراور پھر اس پہ پاوں رکھ دیا ہو۔ اس کیفیت کی دو وجوہات تھیں۔ ایک تو یہ کہ وہ محفل دریا سندھ کے کنارے واقع ایک اونچے درجے کے ہوٹل میں تھی، ایسی جگہ جہاں سخت وحشت ہوتی ہے جہاں ہر شخص شرافت اور تہذیب کا لبادہ اوڑھےبیٹھا ہوتا ہے۔ اور دوسری وجہ تھی وہاں جاری گفتگو!۔
یہ گفتگو مادے کے متعلق تھی، میرے لیے کسی قفس جیسے ہی تھی۔ حاضر گفتگو لوگ اپنے اپنے مادی تجربات سے ایک دوسرے کو مستفید کر رہے تھے۔ اور اسی طرح کی اور کئی خرافات جن کو کو سنتے سنتے میرا جی متلانے لگا، میں اٹھ کھڑا ہوا اور باہر کی طرف دریا کے کنارے شام کے وقت ایک نسبتاً پرسکون جگہ کی جانب چل پڑا۔ حاضرین محفل کو یقینناً میرا ایسے اٹھ جانا ناگوار گزرا ہو گا!۔اس کا حل میرے پاس بھی نہ تھا!۔
خیر، میں جب ایک مناسب فاصلے پر پہنچ گیا، تو دریا کنارے ریت پر دھڑام سے گر گیا اور لمبی لمبی سانسیںجاری ہو گئیں، اسی اثناء میں مجھے ایسے محسوس ہوا کہ میرے اردگرد کی زمین ہچکولے کھا رہی ہے، میں کسی اڑن کھٹولے میں سوار ہوں اور شام کی خنک ہوا مجھے تھپیڑے دے رہی ہے، اپنی پشت پر مجھے نمی محسوس ہوئی، بالکل ایسا سکون جیسے کسی بچے کی پیٹھ پر ماں فرط مسرت سے ہاتھ پھیرتی ہے۔ یہ پانی کی نمی تھی اور دریا کا پانی مجھ سے محو گفتگو تھا!۔
مجھے ایسے محسوس ہوا کہ میں پاگل ہو گیا ہوں، خوشی سے۔۔۔۔۔ پہلی بار مجھے ماں کی گود جیسا سکوں مل رہا تھا اور قدرت مجھ سے محو گفتگو تھی، میں گنگنایا، ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ مجھ سے ہوئے ہم کلام۔۔۔۔۔اللہ اللہ
دریا کا پانی افسردہ سا تھا، مجھے بڑا ترس آیا،میں نے بھی موقع کی مناسبت سے اپنے چہرے پر نسبتاً افسردگی کے جذبات دھار لیے، ہمارے بیچ کچھ گفتگو چل پڑی، میری اداکاری سے دریا دھوکہ کھا گیا، ۔
میں : ہاں بھیا! سناو کہاں سے آرہے ہو؟
دریا: میں تو بڑی دور سے آ رہا ہوں، شاید تیرے علاقے سے بھی کافی پچھلے پہاڑوں میں سےبہتا ہوا!۔
میں : ہت تیری کی!۔ وہاں تو تو بڑا شور مچاتا ہے، یہاں تیری بولتی بند ہے؟ ایسے خاموش ہے جیسے تیرے سینے پر سے سانپ لکیر بنا گیا ہو،۔
دریا: تھک گیا ہوں لالے کی جان، اتنا لمبا سفر، ارے تو کر سکتا ہے کیا؟
میں: نہ نہ، مجھ میں اتنی سکت نہیں ہے کہ میں اتنا پیدل چل سکوں، خیر!۔ تھک گیا ہے تو؟
دریا: ہاں، لیکن کیا کروں؟
میں: ارے کرنا کیا ہے، بیٹھ جا میرے پہلو میں، آلتی پالتی مار کے، گپیں ہانکیں گے یہاں اور کیا کرنا ہے!۔
دریا: ارے نہ بھیا نہ، میں تو رک نہیں سکتا!۔
میں: ابے او!۔ بیٹھ جا، کیوں اپنے دل گردے کا دشمن ہو گیا ہے، تباہ ہو جائے گا۔ گھڑی دو گھڑی آرام کر لے، پھر چلا جاویں
دریا: نہ جی نہ،میں انسان تھوڑی نہ ہوں کہ اپنی مرضی کرتا پھروں
میں (غصے ہے):تیری تو، تیرا مطلب کیا ہے بے؟
دریا: ارے بھیا غصہ کاہے کو کھاتا ہے، میں تو سچی بات کروں گا ہاں! تم انسان اب اشرف المخلوقات ہو، اللہ کے پیارے ہو، یہ تو تمھاری قسمت ایسی اچھی ہے ورنہ!۔ خیر، اصل بات یہ ہے کہ میں تو بھیا اللہ کے حکم کا پابند ہوں، اگر میں رک گیا تو نافرمانی ہو جائے گی، زرا سوچ، میں تو اپنی اہمیت اور بنیاد کھو دوں گا! اگر میں نے مسلسل بہنا بند کردیا تو کیا میں دریا کہلاوں گا، نہ جی نہ، یہ تو تم انسان ہو، اشرف المخلوقات ہو جسے آرام کی بھی اجازت ہے اور نافرمانی کی بھی، میں تو نافرمانی کروں گا تو اپنا مقام دوبارہ نہ پاسکوں گا، ہاں البتہ تم پر کوئی پابندی نہ رکھی، جب چاہو اس سے توبہ کر لو!۔ میں تو نہ رکوں گا میں تو چلتا رہوں گا، چلتا رہوں گا تا کہ میرا مولا مجھے اپنی بنیاد سے جدا نہ کر دے!۔ لیکن تو خیال رکھنا، ایسا نہ ہو کہ تو کہیں اس سکون میں اپنی بنیاد سے علیحدہ نہ ہو جانا!۔ یہ سکون عارضی ہے بھیا، چلتا ہوں میں!۔
میں ہکا بکا، اسےآوازیں دیتا رہا، لیکن وہ نہیں رکا اور میں خلا میں معلق ہو گیا، میں بوجھل قدموں سے چلتے ہوئے واپس اس جھوٹی، مادہ پرست اور کمینگیوں سے بھرپور محفل میں جا بیٹھا، کیونکہ ہم انسانوں، اشرف المخلوقات کی طبیعت ناتواں پر سچی بات تھوڑی کڑوی سی لگتی ہے!یا شاید ہمیں سچ سننے کی اب عادت نہیں رہی اور وہ بھی ایک بے جان مادے سے۔ کڑوی بات نگلنا میرے اور اس محفل میں بیٹھے ہر شخص کے بس میں نہ تھا، اس لیے خود کو مادے سے بہلا رہے تھے، مادے کو تسخیر کر کے!۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر