بالاکوٹ بارے ایک تحریر

یہ تحریر بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے لی گئی ہے، جو کہ زلزلہ ۲۰۰۵ کے تناظر میں لکھی گئی تھی، آج بالاکوٹ کی یاد آئی تو یہ بھی یادوں سے برآمد ہوئی، من و عن نشر کی جا رہی ہے، از عمر احمد


تحریر: شاہ زیب جیلانی، نمائندہ بی بی سی ڈاٹ کام

مجھے یہ ماننے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ جب بی بی سی لندن سے ہم روز دنیا میںجاری تشدد اور ہلاکتوں کی خبریں آپ تک پہنچاتے ہیں توایک عرصے بعد ہمارے اپنے اندر کے جذبات اور احساسات جیسے سُن سے ہو کرجاتے ہیں۔ یوں بھی، خبریں بناتے وقت، انہیں پیش کرتے وقت ہم اپنے جذبات کو الگ رکھنے کے اصول پر قائم رہنےکی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ بطور صحافی آپ کسی انسانی سانحے کو بہت قریب سے دیکھتے ہیں تو خود بھی بےبسی، رنج و غم کے جذبات سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔

جب میں اپنے ساتھی نامہ نگار مبشر زیدی کے ساتھ بالاکوٹ کے حالات دیکھنے اسلام آباد سے روانہ ہوا تو ہمیں وہاں آئی تباہی کا کچھ اندازہ تو تھا لیکن وہاں کے اصل انسانی سانحے کا علم مجھے بالاکوٹ پہنچ کر ہی ہوا۔اس علاقے میں داخل ہوتے ہے یوں لگا جیسے یہ جنگ سے تباہ شدہ کوئی گاؤں ہو جسے زمین کے ساتھ برابر کر دیا گیا ہو۔ بچ جانے والے لوگ زخمیوں کو طبی امداد اور فوت ہوجانے والوں کو دفنانے کے لئے ٹوٹی پھوٹی چار پائیوں پر اٹھائے لئے جا رہے تھے۔والدین کے چہروں پر ہوائیں اُڑ رہی تھیں ۔کئی سو بچے اب بھی وہاں کے شاہین اسکول کالج کی گر جانے والی عمارتوں کے ملبے تلے پھنسے ہوئے تھے اور کچھ تو اپنے والدین کو کراہتی آوازوں میں مدد کے لئے بھی پکارتے سُنائی دیے۔ فضا میں ہیلی کاپٹر تو گھومتے دکھائی دیے لیکن دو دن گزر جانے کے باوجود ملک کی باصلاحیت فوج کی طرف سے بظاہر کوئی اُن کی مدد کونہ پہنچ پایا تھا۔ بے گھر ہو جانے والی مائیں کُھلے آسمان تلے بیٹھی اپنے آنسو پونچ رہی تھیں اور ایک دوسرے کو دلاسے دے رہیں تھیں۔لیکن وہاں مجھے جس منظر نے ہلا کر رکھ دیا وہ تھا جب میں نے ایک باپ کو اپنے آٹھ نو برس کے مردہ بیٹے کو اپنے ہاتھوں سے ملبے سے نکالتے دیکھا۔ بچے کا جسم مٹی اور سمینٹ کے وزنی تودوں میں دب جانے کی وجہ سے نیلا پڑ چکا تھا۔ بلکتے باپ نے اُسے اپنے سینے سے لگالیا اور اس کو کفن میں لپیٹ لیا۔اُس لمحے نہ جانے کیوں مجھے شدت سے اپنا بیٹا یاد آیا، میں خود پر قابو نہ رکھ سکا اور میری آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے۔ شاید میں نے خود کو اُس لمحےاُس باپ کی اذیت کا احساس ہونے کی اجازت دی یا پھر یونہی اس کی بےچارگی اور اس کے صدمے پر انسانی ہمدردی کا جذبہ اُبھر آیا۔مجھے اپنے رونگھٹے کھڑے ہوتے ہوئے محسوس ہوئے۔ اندر کا صحافی جھنجھوڑنے لگا کہ ’’کیا کر رہے ہو؟ جلدی کرو کندھے پر لٹکائے بیگ سے ڈجیٹل کیمرا نکالو اور اس منظر کی تصویر اُتارو۔‘‘ لیکن میں اپنے سامنے کھڑے سِسکیاں بھرتے اس بے بس انسان اور اس کے بیٹے کی حالت کو کیسے نظرانداز کرتا؟ انسانی رشتے کے ناتے میں کیسے اُس سے ہمدردی جتائے بغیر اور اُسے حوصلہ دیے بغیر اپنا کام کیے جاتا؟ کیا غیرجانبدارنہ صحافت کے لئےضروری ہے کہ آپ بے حِس ہوجائیں؟اُس لمحے میں نے اپنے اندر کے صحافی کو ایک طرف رکھ دیا۔ میں اُس باپ کے صدمے کو بی بی سی اُردو ڈاٹ کام کے لئے تصویری طور پر محفوظ کرنے کی جُرات نہ کر پایا اور میں نے کیمرا واپس اپنے بیگ میں رکھ دیا۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر