غالب کی اک غزل

بازیچہِ اطفال ہے دنیا میرے آگے!
ہوتا ہے شب وروز تماشہ میرے آگے
ہوتا ہے نہاں گرد میں، صحرا میرے ہوتے
گِھستا ہے جبیں خاک پہ، دریا میرے آگے!
مت پوچھ کہ کیا حال ہے میرا، تیرے پیچھے
تو دیکھ کہ کیا رنگ ہے تیرا، میرے آگے!!
ایماں مجھے روکے ہے، جو کھینچے ہے مجھے کفر
کعبہ میرے پیچھے ہے تو، کلیسا میرے آگے!!!!
گو ہاتھ کو جنبش نہیں، آنکھوں میں ے تو دم ہے
رہنے دو ساغر و مینا میرے آگے

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر