گیارہ سالہ بوڑھا

تمام عمر اسی احتیاط میں گزری
 یہ آشیاں کسی شاخ چمن پہ بار نہ ہو
تب میری عمر قریباً 11 (گیارہ) برس تھی، یہ شعر ڈاکٹر صاحب کی ٹیلی فون ڈائری پر لکھا ہوا پڑھا۔ ان کا ایسا رعب تھا کہ کبھی بھی مجھے ان کی اس ڈائری کو ہاتھ میں تھامنے کی جرات نہیں ہوئی۔ ان کا انداز کہ ڈائری میں سے فون نمبر کا ایک ایک ہندسہ دیکھ کر ٹیلی فون کے ڈائل کو گھماتے اور پھر بات کرتے اسی ڈائری کے آخری خالی صفحات پر کچھ لکھتے رہنا اس قدر پسند آیا کہ میں نے چوری چھپے، کہیں سے خود کے لیے ایک نئی چمچماتی ٹیلی فون ڈائری ڈھونڈ نکالی۔ اب کہ مسئلہ یہ درپیش تھا کہ میں اس ڈائری پر کون لوگ تھے کہ جن کے ٹیلی فون نمبر درج کروں۔ یہ غالباً وہ لوگ ہوتے جن کے ساتھ مجھے اکثر رابطے کی ضرورت رہتی ہے۔ گیارہ برس کے مجھ کے لیے تو ایسا کوئی بھی بندہ اس دنیا میں موجود نہیں تھا کہ جس کے ساتھ میں اس وقت بوجوہ رابطہ کرنے کا اہل ہوتا اور پھر اسی طرح جیسے ڈاکٹر صاحب کی عادت تھی، ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کچھ لکھتا۔ خوب سوچ کر طے یہ کر رہا کہ ڈاکٹر صاحب کی ڈائری اچک لو اور کچھ ایسے ٹیلی فون نمبر ڈھونڈ لو جو تم سے بہرحال متعلق ہوں۔ تب، جرات کر کے جو ڈائری اچک رہے تو اس کے پہلا صفحے پرشعر درج تھا۔ بہتیری کوشش کی مگر سمجھ نہ پایا، سو جوں کا توں اپنی ڈائری پر نقل کر دیا۔ تب کی میری لکھائی میں وہ اور بھی ناقابل فہم ہو گیا۔
بہرحال، شعر کی کس کو پرواہ، تب نیا مسئلہ یہ درپیش تھا کہ ڈائری میں میرے قابل جو ٹیلی فون نمبر تھے، اول تو وہ مجھے زبانی ازبر تھے، وگرنہ جو باقی میں دیکھتا جاتا ان لوگوں کو میں ٹیلی فون نہیں کر سکتا تھا۔ آدھے گھنٹے کے خاصے تردد کے چند نمبر، مثلاً بھائیوں کے ہاسٹل کے پتے اور ٹیلی فون نمبر، قریبی رشتہ داروں اور ڈاکٹر صاحب کے قریبی دوستوں کے نمبر درج کرتا چلا گیا۔ کئی روز تک وہ ڈائری سینے سے لگائے پھرتا رہا، اپنے دوستوں سے باقاعدہ ان کے گھروں کے نمبر بھی جمع کیے مگر ایک دن وہ ڈائری کہیں کھو گئی۔
وہ شب و روز ہی کچھ ایسا تھے، صرف ڈائری  ہی نہیں بلکہ ایک شام تو ایسی بھی آئی کہ بات میری شخصیت تک آن پہنچی جو وہ بھی بالاخر کھو گئی۔ 3 جنوری، 1996ء کی شام۔
ایبٹ آباد، سرکاری ہسپتال کے پرائیویٹ رومز میں سے ہی  ایک کمرے کی بالکونی جو نیچے پوسٹ مارٹم روم کی طرف کھلتی تھی، میں کھڑا تھا۔ آسمان سے گرتی ہوئی برف کی سفید روئی میں اوپر کو منہ اٹھائے تصور یوں کر رہا تھا گویا میں اوپر کو اڑتا ہوں زمیں سے اٹھتا جاتا ہوں۔ قطعاً یہ احساس نہ تھا کہ کچھ دیر میں میری شخصیت بھی بھک سے یوں ہی اڑ جائے گی۔
سامنے کے کمرہ میں شور بلند ہوا اور اگلے ہی لمحے مجھے کوئی دوڑاتا ہوا ڈاکٹر صاحب کے پہلو میں آن کھڑا کرا گیا۔ خود کو دیکھا تو میں کھڑا ڈاکٹر صاحب کو سمجھا رہا تھا کہ موت کوئی شے نہیں ہوتی۔ یہ قطعاً ممکن نہیں ہے کہ وہ ہم سے بچھڑ جائیں۔ گیارہ سالہ کی بات پر کسے دھیان۔ مجھے غم نہیں تھا کہ میرے خیال میں یہ بات واقعی امر تھی۔ موت کوئی شے نہیں ہے اور ڈاکٹر صاحب گویا ہمیشہ یہاں رہنے کو ہیں۔ پھر موت کو کبھی میں نے یوں اتنے قریب سے جھبٹا مارتے دیکھ نہیں رکھا تھا، توں بھی واقعی میرے لیے یہ ممکن نہ تھا جو وہاں ہو رہا تھا۔ میرے ارد گرد بین جاری تھے اور میں اپنے تئیں مطمئن کھڑا تھا کہ، ہاں ایسا ممکن نہیں ہے۔ کلمے کا ورد جاری ہوا تو بین اور بلند ہوئے۔ میں نے گھبرا کر دیکھا تو سارے مجمع میں خود کو خاموش دیکھا۔ جیسے سب، ویسا میں سو رونے کی کوشش کی اور لوگوں سے گلے لگتا، روتا رہا۔ مجھے صاف محسوس ہو رہا تھا کہ میں بس رونے کی اداکاری کیے جا رہا ہوں۔
کوئی گھنٹہ بھر گزرا ہو گا کہ مکمل خاموشی چھا گئی۔ سب لوگ مشغول ہو گئے۔ ایمبولینس منگواو، سامان باندھو، راستے میں بہت بارش اور برفباری ہے۔ ارے، خیال کرو یہ شیشے والے برتن ٹوٹنے نہ پائیں۔ دیکھو ڈاکٹر صاحب کے انگوٹھے اور چہرہ تو صحیح باندھ لیا ناں؟
مجھے کوئی ایسا شخص نہیں مل پا رہا تھا جس سے میں گلے لگ کے اور اداکاری کر سکتا۔ بی بی جی غم سے نڈھال، بھائی جان بستروں کی الماری میں بے سدھ پڑے تھے، باقی لوگ نہ جانے کہاں اور اپیا۔۔۔ اپیا کو دیکھتے ہی میں صاف تاڑ گیا، جیسا میں، ویسی وہ بھی اداکاری کر رہی ہے ورنہ اسے سمجھ نہیں۔
اندر مچی گھٹن سے اکتا رہا تو باہر کھلی فضا میں چلا آیا۔ ایمبولینس آن پہنچی تھی تو اس کے آس پاس منڈلانے لگا۔ ڈرائیور ساری پبتا سے بے خبر سگریٹ پینے میں مشغول تھا۔ ڈرائیور کی شاید وہ بے خبری تھی یا سرد موسم میں بچھی بے اعتنائی کہ برف جوں کی توں بس بے خبر گرتی چلی جا رہی ہے، میرے ذہن میں اچانک ہی ایک خیال خود کے بارے آسمانی بجلی کی طرح کوند گیا کہ، "تو یتیم ہو گیا ہے!"۔
پہلے تو چنداں سمجھ نہ آئی، آیا تو صرف اپنے بالوں کا خیال آیا۔ خدا جانے میرے سر پہ بالوں کی تعداد کیا ہو گی، جو ہر اس شخص کو اتنی ہی تعداد میں نیکیاں دلائیں گے جو میرے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرے گا۔
اس روز کو جانے کتنے برس بیت گئے، اب تو حساب بھی انگلیوں پر باقی نہیں رہا۔ چند روز قبل میرے ہاتھ اپنی وہی ٹیلی فون ڈائری لگی، اس کے پہلے ہی صفحہ پر وہ ناقابل فہم شعر درج ہے مگر پڑھتے ہی میں زاروقطار رونے لگا۔ خدا جانے ان بیتے برسوں میں ایسا کیا سمویا ہوا تھا کہ میں بوڑھا ہو گیا۔ میں نے سن رکھا ہے کہ مرد تبھی روتے ہیں، جب وہ بوڑھے ہو جاتے ہیں، تھک ہار جاتے ہیں۔ گیارہ سالہ بوڑھا، اب رونے کے قابل ہو چکا تھا۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر