انتظار

میں نے انتظار کرنے والوں کو دیکھا.انتظار کرتے کرتے سو جانے والوں کو بھی اور مر جانے والوں کو بھی. میں نے مضطرب نگاہوں اور بے چین بدنوں کودیکھا ہے.آہٹ پے لگے ہوئے کانوں کے زخموں کو دیکھا.انتظار میں کانپتے ہوئے ہاتھوں کو دیکھا . منتظر آدمی کے دو وجود ہوتے ہیں. ایک وہ جو مقررہ جگہ پر انتظار کرتا ہے، دوسرا وہ جو جسد خاکی سے جدا ہو کر پذیرائی کے لئے بہت دور نکل جاتا ہے. جب انتظار کی گھڑیاں دنوں،مہینوں اور سالوں پر پھیل جاتی ہیں تو کبھی کبھی دوسرا وجود واپس نہیں آتا اور انتظار کرنے والے کا وجود،اس خالی ڈبے کی طرح رہ جاتا ہے جسے لوگ خوبصورت سمجھ کر سینت کے رکھ لیتے ہیں او کبھی اپنے آپ سے جدا نہیں کرتے. یہ خالی ڈبا کئی بار بھرتا ہے، قسم قسم کی چیزیں اپنے اندر سمیٹتا ہے، لیکن اس میں "وہ" لوٹ کر نہیں آتا جو پذیرائی کے لئے آگے نکل گیا تھا۔
یہ پیرا میں نے اشفاق احمد کےکسی ناقابل فہم ڈرامے کے ایک مکالمے کی صورت میں سنا تھا، انتظار واقعی جگر کو چیر دینے والی چیز ہے، ہماری زندگیاں اس انتظار میں گزر جاتی ہیں کہ نہ جانے کب، کس لمحے کو اجل کا فرشتہ آیا چاہتا ہے، اور ویسے بھی ہم ایشیائی لوگ یا تو مرنے کا انتظار کرتے رہتے ہیں یا پھر ماضی کو بھول جانے کا انتظار۔ انتظار ایک تکلیف دہ عمل ہے، ہماری تقریباً زندگی اس سے بھری پڑی ہوتی ہے، مختلف چیزوں کا انتظار کرتے، جیسے بڑے ہونے کا انتظار، سکول اور تعلیم کے ختم ہونے کا انتظار، شادی کا انتظار، بچے کی پیدائش کا انتظار، بچوں کے بڑے ہو جانے کا انتظار، ریٹائرمنٹ کا انتظار، اور بالآخر موت کا انتظار!۔
لیکن اب کے انتظار کی نوعیت بدل چکی ہے، میں اور میری قوم آج کل سوائے انتظار کے کچھ نہیں کر رہے، جنگ لگنے کا انتظار، کسی نئے اور تاذہ خودکش حملے کا انتظار، بجلی کے جانے اور پھر کافی دیر بعد آنے کا انتظار، وزیروں اور مشیروں کے کسی نئے مضحکہ خیز بیان کا انتظار، کسی بریکنگ نیوز کا انتظار، یا پھر واقعی مر جانے کا انتظار!۔
لیکن جیسا کہ تمہید سے واضع ہوتا ہے کہ انتظار میں روح متاثر ہوتی ہے، یہ انتہائی تکلیف دہ مرحلہ ہوتا ہے، روح کا چھل جانا، گو ہمارے عہد کے لوگوں کے لیے ایک عام چیز بن گیا ہے لیکن کیسا مرحلہ ہوتا ہے، کیا ہے یہ؟
جیسے کسی قفس میں بند ہو ہماری روح، انتظار کے قفس میں، ہم انتظار کے عادی ہیں، میں مانتا ہوں کہ انتظار لازمی ہے، شکاری جب تک انتظار نہیں کرے گا اس وقت تک شکار نہیں کر سکتا، گدھ ہفتوں اپنے شکار کا انتظار کرتا ہے، ایک چیتے کو اوسطاً ایک شکار کے لیے کم ازکم تین دن انتظار کرنا پڑتا ہے، ہمارے ملک کے سیاستدانوں کو اسطاً اقتدار میں آنے میں ۱۱ سال انتظار کرنا پڑا، مغرب کو سیاہ دور سے سنہری دور میں آنے میں کوئی سات سو برس سے زیادہ کا عرصہ لگ گیا، مجھے اس سے بھی اختلاف نہیں ہے کہ انتظار ضروری ہوتا ہے، سوچنے کے لیے، بہتر حکمت عملی کے لیے، بہتر آسائشوں کے لیے، بہتر طرز زندگی کے لیے، بہتر سے بہتر کی تلاش انتظار کے بغیر ممکن نہیں، انتقام کی آگ بجھنے میں انتظار ضروری ہے، ذخموں کو مندمل کرنے میں وقت لگتا ہے، اپنے ارادوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانا انتظار کا ہی پروٹوکول مانگتاہے، اوراس جیسی کئی اور مثالیں، لیکن!۔
صاحبو! روح کا چھل جانا۔۔۔ یہ کیا تکلیف دہ عمل ہے، اتنا تکلیف دہ کہ آپ اپنے جسم کے ذخم تو اس کی مدد سے مندمل کر سکتے ہیں لیکن اس روح پر اس کی وجہ سے لگے گھاو ہمیشہ ناسور کی طرح رستے رہتے ہیں۔
کیا برے سوداگرہیں ہم، اس کا اندازہ مجھے اب ہو رہا ہے، میری زندگی کے اٹھائیس سال اس انتظار میں بیت گئے، اور اب میں اپنے سینے پر، اپنی روح پر اس انتظار کا بوجھ لیے پھر رہا ہوں، مجھے یقین ہے کہ آپ بھائیوں دوستوں اور میری حالت ایک سی ہے، بہادر شاہ ظفر جیسی جو کہتا ہے،
 عمر دراز مانگ لائے تھے ہم چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے، دو انتظار میں
اب تسلی کو اور کیا کہیے، اشفاق احمد صاحب کا انتظار بارے مضمون کا اگلا حصہ اس کو کافی ہے۔
میں نے انتظار کرنے والوں کو دیکھا.انتظار کرتے کرتے سو جانے والوں کو بھی اور مر جانے والوں کو بھی. میں نے مضطرب نگاہوں اور بے چین بدنوں کودیکھا ہے.آہٹ پے لگے ہوئے کانوں کے زخموں کو دیکھا.انتظار میں کانپتے ہوئے ہاتھوں کو دیکھا . منتظر آدمی کے دو وجود ہوتے ہیں. ایک وہ جو مقررہ جگہ پر انتظار کرتا ہے، دوسرا وہ جو جسد خاکی سے جدا ہو کر پذیرائی کے لئے بہت دور نکل جاتا ہے. جب انتظار کی گھڑیاں دنوں،مہینوں اور سالوں پر پھیل جاتی ہیں تو کبھی کبھی دوسرا وجود واپس نہیں آتا اور انتظار کرنے والے کا وجود،اس خالی ڈبے کی طرح رہ جاتا ہے جسے لوگ خوبصورت سمجھ کر سینت کے رکھ لیتے ہیں او کبھی اپنے آپ سے جدا نہیں کرتے. یہ خالی ڈبا کئی بار بھرتا ہے، قسم قسم کی چیزیں اپنے اندر سمیٹتا ہے، لیکن اس میں "وہ" لوٹ کر نہیں آتا جو پذیرائی کے لئے آگے نکل گیا تھا .ایسے لوگ بڑے مطمین اورپورے طور پہ شانت ہوجاتے ہیں .ان مطمئن، پرسکون اور شانت لوگوں کی پر سنیلٹی میں بڑا چارم ہوتا ہے اور انہیں اپنی باقی ماندہ زندگی اسی چارم کے سہارے گزارنی پڑتی ہے.یہی چارم آپ کو سوفیا کی شخصیتوں میں نظر آے گا.یہی چارم عمر قدیوں کے چہرے پر دکھائی دے گا اور اسی چارم کی جھلک آپکو عمر رسیدہ پروفیسروں کی آنکھوں میں نظر آے گی.

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر