قوت فیصلہ ۔ حصہ اول

میں اکثر حیران ہوتا ہوں کہ میں اشرف المخلوقات کی صف میں شامل ہوں، مگر میں فیصلہ سازی میں انتہائی بودا ہوں۔ اس کی ایک ہی وجہ جو مجھے سمجھ آتی ہے وہ یہ ہے کہ میرے جسم کے اندر بیک وقت دل اور دماغ حرکت میں ہیں۔ میرا دماغ جو سوچتا ہے وہ میرا دل مسترد کردیتا ہے جبکہ میرے دل میں جو ہوتا ہے وہ میرا دماغ ویٹو کر دیتا ہے۔ کیسی ستم ظریفی ہے کہ میں اپنے دل اور دماغ کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہوں، جبکہ ان دونوں اعضاء رئیسہ کو یہ اندازہ نہیں کہ جو فیصلے وہ کرتے ہیں ان میں سے اکثر مجھے کیسا تگنی کا ناچ نچاتے ہیں!۔
کہتے ہیں کہ دل خدا کا گھر ہوتا ہے، خدا کا، اسی لیے اتنا بھاری ہے کیونکہ خدا تو بہت بڑا ہے، اور دوسرا بوجھ وہ ہے کہ دل کے مکین نے میرے سرکے عین اوپر لاد دیا جسے دماغ کہتے ہیں، اور جس کا منبعہ عقل ہے۔ اور پھر ہم انسانوں کو سماج میں بھی باندھ دیا۔ ستم ظریفی یہ کہ فیصلہ ساذی کا اختیار بھی عطا کر دیا۔ ہم لاکھ اترائیں کہ بھیا ہم اشرف المخلوقات ہیں مگر کیا فائدہ؟ میرے ایک عزیز کا کہنا ہے کہ ہم انسان ننانوے فیصد سے زائد فیصلے مصلحت پسندی کی بنیاد پر کرتے ہیں، جبکہ باقی کے ایک فیصد کے فیصلوں نے اس دنیا کو جہنم بنایا ہوا ہے۔ موصوف کا یہ تجزیہ تو عمومی تھا، جو کہ سیاست، سفارت، معاشرت اور معاشیات کا احاطہ کرتا ہے، مگر میں بات کر رہا ہوں اپنی اور میرے ہم عصروں کی، جو کہ اپنی اپنی زندگی میں اپنی روح کو اپنے جسم کے پنجرے کے عین اندر، دل ودماغ کے مضحکہ خیز الاو پر سینکتے رہتے ہیں۔
ہمیں عطا کیا گیا ہے ایک عدد دماغ جو سوچتا ہے اور دل جو کہ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ بوجھل ہوتا جا رہا ہے، یہ میری زاتی حالت ہے، پڑھنے والوں کی کیفیت مجھے یقین نہ سہی، امید ضرور ہے کہ مختلف نہ ہو گی۔
اس دنیا میں رہتے ہوئے ہم اپنے دماغ کی مہربانی سے حرکت کرتے ہوئے کئی واقعات، حالات اور اجزاء کو ظہور پزیر ہوتا دیکھتے ہیں اور پھر ہمارا دل ہر لمحے، ہر منظر کے ساتھ اس پر کڑھتا رہتا ہے۔ ہم یہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ کیا کیا جا سکتاہے؟ آنکھیں آنسو جبکہ دل خون کے آنسوبہاتا ہے، تو دماغ کو ترس آجاتا ہے، وہ ہمارے لیے کچھ ایسی توجیعیں تلاش کرتا ہے کہ ہم مطمئن ہو سکیں، مثلاً صبر، شکر، عبرت، میانہ روی، لعنت وغیرہ۔
ہم میں سے بیشتر بشمول میرے دماغ رکھتے ہوئے بھی فیصلہ نہیں کر سکتے۔ اجی! ہم تو اس معاشرے میں ہیں جہاں ًآج کیا پکے گا؟ً جیسے سوالات تقریباً آدھا دن ہمارا منہ چڑاتے رہتے ہوں ، وہاں کے انسان اور کیا فیصلہ کریں گے؟
ہمارے فیصلے بعض اوقات بڑے مضحکہ خیز بھی ہوتے ہیں، اور پھر ان فیصلوں میں اصلاح کی بجائے اپنی تمام تر توانائیاں اس بات پر خرچ کر دیتے ہیں کہ اپنے فیصلوں کو کیسے تحفظ اور دوام بخشا جائے!۔ یہ کیسی بےوقوفی ہے کہ جس پر ہم اتراتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ کوئی ہم پر ہنسے بھی نہ!۔
اس پر ہی بس نہیں ہے بلکہ ہم میں سے اکثریت ایک خرافات میں مبتلا ہیں کہ ہم دوسروں کے بارے اور ان کی زندگیوں پر فیصلہ صادر کرنے میں ایک لمحے سے زیادہ نہیں لیتے، جسے عرف عام میں ہم مشورہ کہتے ہیں، جبکہ اپنی زندگی کے بارے فیصلہ تو درکنار، اندازہ بھی نہیں لگا سکتے۔
ہم اشرف المخلوقات کہلانا بھی پسند کرتے ہیں، بقول ہمارے ہم عقلمند بھی ہیں، ہم سوچتے بھی ہیں، ہم عمل بھی کرتے ہیں اور ہر فیصلہ ہمیں مشکل بھی لگتا ہے، چھوٹا یا بڑا فیصلہ جو سیدھا ہمارے متعلق ہو!۔ اور پھر ہر فیصلہ کسی نہ کسی پہلو سے ہمارے لیے ناقابل قبول بھی ہوتا ہے!۔
یہ کیا ماجرا ہے؟ یہ کیسی بے بسی ہے؟ یہ کیسی کسوٹی ہے؟ کیا کوئی بتائے گا مجھے!۔
(جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔To be continued )
مصنف : عمر احمد بنگش

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر