قوت فیصلہ ۔ حصہ دوئم

(نوٹ: اس پوسٹ کا پہلا حصہ "قوت فیصلہ ۔۔ حصہ اول" ملاحظہ کریں)
۔۔۔۔۔
کہتے ہیں بادشاہ اپنے فیصلے سے اور رعایا اپنی فرمانبرداری سے مار کھاتی ہے!۔
یہ درست ہے کہ کسی بھی بادشاہ کا کوئی غلط فیصلہ، یا رعایا کی ضرورت سے زیادہ فرمانبرداری انھیں خوار کر دیتی ہے۔ فیصلہ کرنا واقعی ایک مشکل کام ہے۔ انسانی زندگیوں پر جو بھی چیز اثر انداز ہوتی ہو وہ انتہائی پیچیدہ ہو جاتی ہے، مثلاً سائنسی ترقی، جو کہ حالیہ دہائیوں میں سب سے زیادہ انسانی تہذیب پر اثر انداز ہوئی ہے، گو کہ انسانی زندگی سہل ہوئی ہے مگر اب یہی ترقی انتہائی پیچیدہ اور انتہائی بڑا مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ اسی طرح کوئی بھی فیصلہ جو کہ کسی انسان کی اپنی ذات سے متعلق ہو وہ انتہائی پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ اتنا مشکل اور پیچیدہ کہ آدمی کو چھوٹے چھوٹے فیصلے کرنے میں بھی دشواری پیش آتی ہے۔ انتہائی سادہ سے سادہ معاملات بھی پیچیدہ ہو جاتے ہیں، وجہ انتہائی سادہ ہوتی ہے کہ فیصلہ سازی میں انسان اپنے دل اور دماغ دونوں کا استعمال کرتا ہے۔ جیسے کہ میں نے مثال دی ہے سائنسی ترقی کی، جہاں سہل زندگی کی خواہش انسانی دل نے پالی جبکہ اسے عملی جامہ دماغ نے پہنایا۔ انسانی زندگی جتنی سہل ہوئی ہے، اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو گئی ہے۔
میں اکثر حیران ہوتا ہوں کہ ہمارے بزرگ کیسے اتنی سادہ زندگی ایک ہی جگہ اور ایک ہی حالت میں بسر کر لیتے تھے، کیا ان کی کوئی خواہشات نہ تھیں جیسے کہ آج ہمارے دور کے لوگوں کی ہیں۔ میں آج بھی ان کی زندگی پر نظر ڈالتا ہوں تو ورطہ حیرت میں مبتلا ہو جاتا ہوں کہ فیصلہ کرنا ان کے لیے کتنا آسان تھا جبکہ میں اور آپ انہی چیزوں کے متعلق فیصلہ کرتے ہوئے پل صراط سے گزر جاتے ہیں۔
جیسے کہ پتھر پر لکیر، ہم یہ دیکھتے ہیں کہ وہ جو فیصلہ کر لیتے تھے اس پر ایسے قائم رہتے کہ بس۔۔۔۔ جبکہ میں اور آپ یہی کام نہیں کر سکتے، ہم تو صاحبو! کھانے پینے اور پہننے اوڑھنے کے فیصلے بھی کیسے مشکل سے کرتے ہیں، زندگی کے باقی فیصلوں کا کیا؟
کیا یہ ہماری کمزوری ہے یا ہماری طاقت؟
مجھے اب بھی یاد ہے کہ ہمارے بزرگ کسی سے ناراض ہو جاتے تھے تو وہ سالوں ناراض رہتے تھے، اکثر یہ بھی معلوم ہوتا تھا کہ ان کا فیصلہ درست نہیں مگر اپنے فیصلے پر اٹکے رہتے تھے، جبکہ میں کم از کم ایسا نہیں کر سکتا، کسی سے زیادہ دیر ناراض نہیں رہ سکتا! کیا یہ میری کمزوری ہے یا میری طاقت؟
اسی طرح ہمارے بزرگ اکثر کوئی فیصلہ جو ان کی ذات یا خاندان میں کسی فرد کے متعلق ہوتا، کرتے تو فیصلے سے زیادہ وہ حکم ہوتا تھا، میں وہ فیصلے تنہا نہیں کر سکتا، مشورہ لازمی سمجھتا ہوں، جس کی وجہ سے اکثر فیصلہ کرنے میں انتہائی پیچیدگیاں بھی پیدا ہو جاتی ہیں، کیا میری کمزوری ہے، یا آیا میری طاقت۔۔۔۔۔۔۔۔؟
سینکڑوں مثالیں ہیں، وجہ وہی ہوتی ہے کہ ہمارا دل اور دماغ کیا کرتا ہے؟ سارے جسم اور روح اوراکثر دوسرے لوگ جو ہم سے یا اس فیصلے سے متعلق ہوتے ہیں، اس سے اثر اندازہوتے ہیں؟
اس کا حل کیا ہے؟ ایسا حل جو کہ فیصلہ سازی میں آسان ہو اور کوئی بھی فیصلہ، کسی بھی طرح سے اثر انداز ہو تو وہ مثبت ہو۔۔۔ جب میں اس بارے میں سوچتا ہوں، تو حضرت عثمان غنی کا فرمان یاد آتا ہے کہ "اپنے بارے میں فیصلہ کرنا ہو تو دماغ اور دوسروں کے متعلق فیصلہ کرنا ہو تو دل سے کرو"!۔
از: عمر احمد بنگش

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر