فیض کی ایک غزل

دونوں جہاں تیری محبت میں ہار کے
وہ جا رہا ہے کوئی شب غم گزار کے
خاموش ہے میکدہ خم وساغر اداس ہے
تم کیا گئے روٹھ گئے دن بہار کے
فرصت گناہ ملی تو وہ بھی چار دن
دیکھے ہیں ہم نے حوصلے پروردگار کے
بھولے سے وہ آج مسکرا تو دیے تھے فیض
مت پوچھ ولولے دل ناکردہ کار کے

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر