نہ کھیلیں گے، نہ کھیلنے دیں گے

غالباً میں اس وقت چوتھی جماعت کا طالبعلم تھا۔ میری کلاس میں دے دلا کر تیسری یا چوتھی پوزیشن آ ہی جایا کرتی تھی، لیکن مار مجھے پھر بھی کھانی پڑتی تھی۔ کیونکہ میں گھر کا کام کبھی بھی نہیں کر پاتا تھا۔ اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ مجھے پڑھنے کا شوق نہیں تھا، بلکہ یہ کہہ لیں کہ پڑھائی کو مجھ سے الرجی تھی۔ :)۔ گھر میں ابا مجھے سرشام ہی جب میں قاری صاحب سے قران پاک کا سبق لے لیتا تھا تو، طرح طرح کی چیزوں میں مشغول رکھتے، جیسے کہ جی حساب کی کتاب میں نے اپنی کلاس سے کوئی سال بھر پہلے ہی ختم کر لی تھی، معین الترجمہ (انگریزی کا ایک کورس)، کوئی ۵۰ بار سے زیادہ ختم کر لیا تھا، اور اردو کی گردانیں تو ہر وقت میری گردن دبوچنے کو تیار رہتی تھیں۔ پھر ایسا ہوتا کہ میں کبھی کبھار گھر کا کام کرنا بھول جاتا تو مار پڑتی۔
لیکن مار کھانے کی بڑی وجہاور ہی ہوتی تھی، جب سکول میں کوئی سبق ہو رہا ہوتا ، اس سے مجھے چنداں دلچسپی نہ ہوتی، کیونکہ میرے ابا کا پڑھانے کا طریقہ بالکل جدا تھا، کٹھن لیکن کافی دلچسپ ہوتا تھا۔ تو ایسی صورت میں کلاس کے سبق کی بجائے کھیل کود میں مشغول ہو جاتا، جس کی وجہ سے میرا اور "سلاشن ٹیپ" چڑھی "سوٹی" کا رشتہ مضبوط ہوتا چلا گیا۔
سب سے زیادہ مار میں نے قاری صاحبان سے کھائی، کیونکہ ان میں اکثر اختلاف پایا جاتا، جیسے حرف تہجی "ض" کاقضیہ، کوئی اس کو "ضواد" اور کوئی اسے "دواد" پکارتا، ان کے اختلافات اپنی جگہہ، مگر خمیازہ ہمیں بھگتنا پڑتا :)۔
لیکن کچھ بھی ہو یہ ان اساتذہ اور ہمارے والدین کی مہربانیاں ہی ہیں کہ ہم کسی قابل ہیں۔
ہر بار جب میں مار کھا چکتا تھا، تو میرے زہن میں ایک ہی لاوا پکتا رہتا، کہ لینا ہے تو انتقام۔ انتقام کس سے لو بھیا، گھر میں استاد کی شکایت گویا اپنی موت کو دعوت، کہ جی استاد نے تمھیں مارا، تو تم نے ہی شرارت کی ہو گی، گھر سے مار پڑتی لیکن دوگنی، ایک شرارت کی تو دوسری استاد کی عزت نہ کرنے کی، تو گھر میں کچھ کہنا بے سود ہوتا تھا۔ کمزور جسم تھا، لہذا کسی ہم عصر کو پٹخنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ تو زہن میں ہر وقت خلش رہتی، سکول میں توڑ پھوڑ کی تو پہلے سے بڑھ کر سزا کے حقدار ہوئے، بالاخر! سوچا اور ٹھان لی، کہ جب میں بیچلر ڈگری حاصل کر لوں گا، تو کسی سکول میں شوقیہ نہ سہی، انتقامی بنیادوں پر کسی سکول میں استادی کروں گا، اور وہاں کے بچوں کو خوب پیٹوں گا، اور اپنے انتقام کی آگ بجھاوں گا۔
گریجویشن کر کے نکلے تو ننھے منھے بچوں کو دیکھ کر جیسے دل موم ہو گیا، سوچا ابے او ظالم، کسی ہلاکو خان جیسے سفاک شخص تو یہ کیا سوچتا رہا، ان پھول جیسے بچوں کو پیٹے گا، فٹے منہ تیرا تو نے یہ سوچا بھی کیسے!۔
اپنا سا منہ لے کر، دم ٹانگوں میں دبا کر خاموشی سے ایک غیر سرکاری ادارے میں نوکری کر لی، اور لعن طعن سے میری ساری انتقامی سوچیں ہوا میں تحلیل ہو گئیں، احساسِ شرمندگی سے پھر کبھی ایسا نہیں سوچا!۔
لیکن آج میں نے اخبار میں ایک رپورٹ دیکھی کہ سوات میں اب تک طالبان نے کوئی ۲۵۲ سکول تباہ کر دیے ہیں، اچانک ہی خیال آیا، کہ ان کا انتقام کتنا بھیانک ہے۔ تعلیم نہ ملنے کا اتنا سفاک انتقام۔ نہ کھیلیں گے، نہ کھیلنے دیں گے۔
دل خون کے آنسو رو پڑا، کلیجہ منہ کو آرہا ہے، میں مانتا ہوں کہ ان سپوتوں کے ساتھ زیادتی ہوئی ہو گی، لیکن یہ کہاں کا انصاف ہے کہ آپ ان معصوموں سے ان کا مستقبل چھین لیں۔ پتہ نہیں کیوں میرا کلیجہ منہ کو آرہا ہے، لیکن بارود نصب کرتے وقت آپ کا دل کیوں نہیں دھڑکتا؟۔

از عمر احمد بنگش

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر