لوکل ٹرانسپورٹ

ایک طوفان بدتمیزی جو ہمارے ہاں اکثر دیکھنے کو ملتی ہے اسے صاحبان شہر "لوکل ٹرانسپورٹ" کا نام دیتے ہیں، میرے شہر میں اسے اربن ٹرانسپورٹ سے جانا جاتا ہے۔ اربن ٹرانسپورٹ کیا ہے، ایک ناگہانی آفت ہے۔ اب مجھے یہ نہیں پتہ کہ گاڑیوں جیسی ہییت کی ان چیزوں کو کیا کہوں جو رینگنے کے ساتھ ساتھ چیختی بھی ہیں۔
اگر گاڑیوں کو اعتراض نہ ہو تو میں ان کو گاڑیوں میں شمار کرنے لگا ہوں، رینگنے والی یہ مخلوق مادری طور پر فورڈ کمپنی سے تعلق رکھتی ہیں، وہ ماڈل جو فورڈ کمپنی نے بناتے ہی فرط شرمندگی سے ان کی پیداوار عرصہ ۳۰ سال قبل موقوف کر رکھی ہے۔ اب ان کا نام ہی فورڈ ہے، جو عام لوگ اربن ٹرانسپورٹ کی جگہہ استعمال کرتے ہیں، اور اگر بین الاقوامی مارکیٹ میں یہ خبر پھیل جائے کہ ان چیزوں کو فورڈ کہا جاتا ہے، تو میں شرطیہ کہہ سکتا ہوں کہ فورڈ کمپنی کا بھٹہ بیٹھنے میں تین دن سے زیادہ عرصہ نہیں لگے گا۔
ویسے بیٹھنے میں اس گاڑی کو کمال حاصل ہے، جہاں سواری دیکھی ڈرائیور ۵۰۰ میٹر کے فاصلے سے بریک کے ساتھ دھینگا مشتی شروع کر دیتا ہے اور گاڑی چھنگاڑتی ہوئی، بیٹھنا شروع کر دیتی ہے، بھلے اس میں کسی کے کھڑے ہونے کی بھی گنجائش نہ ہو۔
گاڑی کھڑے ہوتے ہی، دروازہ کھلتا ہے اور کنڈیکٹر کا پچھلا حصہ باہر کو رینگتا ہے، اور وہ کمال فنکاری سے اچک کر آپ کے منہ سامنے کھڑا ہو جاتا ہے، اور ایک ہاتھ میں پچکے ہوئے نوٹ پکڑے دوسرے ہاتھ سے آپ کو اندر ٹھونسے میں مشغول ہو جاتا ہے۔ ڈرائیور بار بار پیچھے مڑ کر دیکھے گا ، اور جب اس کو یقین ہو جائے کہ آپ ایک معقول حد تک گاڑی میں داخل ہو چکے ہیں تو وہ استقبالیہ دھکے لگانا شروع کر دے گا، جس سے آپ کی ٹانگیں ساٹھ کا زاویہ بناتے ہوئے آگے پیچھےلرزنے لگیں گی، اور آپ کو اندازہ ہو گا کہ آپ ناگہانی آفت کے عین بیچ جھول رہے ہیں۔
آپ ابھی اندازہ ہی لگا رہے ہوں گے کہ کیا کیا جائے، آپ کی سماعت سے ایک آواز ٹکرائے گی، "کرایہ والا" اور آپ سیٹوں، کندھوں، بچوں، سبزیوں اور لگتے دھکوں کو پھلانگتے ہوئے جیبوں کو ٹٹولنا شروع کر دیں۔ اور جیسے ہی آپ کو کوئی معقول جگہ مل جائے وہاں اپنے آپ کو سمیٹ، لپیٹ اور ایک انداز بے پرواہی سے ٹھونس لیں، ہو سکتا ہے اس دوران آپ کو کچھ ٹوٹنے، چٹخنے، چیخ، آہ یا کبھی کبھار کوئی دھاڑ سننے کو ملے تو چنداں پرواہ نہ کریں، کیونکہ اگر آپ بیٹھ نہ پائے توزبردستی کا ٹھونسنا اس سے بھی تکلیف دہ ہو سکتا ہے۔
بہرحال اس سے بھی تکلیف دہ مرحلہ وہ ہوتا ہے جب آپ کو اترنا پڑتا ہے، اور وہ بھی خاص طور پر جب کسی رش والی جگہ پر آپ کو اترنے پر مجبور کر دیا جائے۔ آپ ایک وقت میں تین کام کر رہے ہوتے ہیں، آگے بڑھنا، پیچھے لڑھکنا، اور چلتی گاڑی سے کسی سرکس کے بندر کی طرح الٹ پلٹ کر چھلانگ لگانا، وہ بھی ایسے کہ الٹی چھلانگ، جسے آپ بے شک اپنی سہولت کے لیے الٹی قلابازی سے مشابہت دے سکتے ہیں۔
اور جب آپ اتر جائیں، ہوش وحواس بحال ہو جائیں تو ایک کام ضرور کر لیں کہ اپنی جیبوں کو ضرور دیکھ بھال لیں، کیوں کہ یہ اکثر کٹنے سے محفوظ نہیں رہتیں، اور اگر بچ بھی جائیں، تو یہ تسلی ضرور کر لیں کہ آپ کی جیب میں نسوار، پان کی پیک جیسی کوئی چیز تو موجود نہیں ہے!۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر