تعلیم نہ چھوڑنا!۔

جب میں یونیورسٹی میں بھرتی ہو گیا، تو اپنے شہر، محلے، گلی اور گھر سے غائب ہو گیا۔ میرا خیال تھا کہ میں جب یہاں نہیں ہوں گا تو پتہ نہیں کیا ہو جائے گا، لیکن جب پہلی بار میں واپس چھٹیوں میں گھر واپس آیا تو کچھ بھی بدلا نہیں تھا، تو یقین آیا کہ غالب کا خیال درست تھا کہ "غالب خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں"۔
ہمارے محلے میں ایک بابا جی ہوا کرتے تھے، خدا ان کی بخشش کرے اب فوت ہو گئے ہیں، بڑے ملنسار اور بڑی شفقت کرتے تھے، ان کے زمانے میں تعلیم اتنی عام نہ تھی بلکہ یوں کہیں کہ تعلیم کی اہمیت عام نہ تھی، اور انھیں احساس بھی تھا کہ تعلیم واقعی بہت ضروری ہوتی ہے، تو جب کافی عرصے بعد ملاقات ہوئی تو کہنے لگے "ہاں تو کاکا سناو ناں!، کدھر غائب ہو آج کل، نظر ہی نہیں آتے"، میں نے عرض کیا "جی یونیورسٹی میں ہوتا ہوں"۔ کہنے لگے "وہاں کیا کرتے ہو؟"، میں نے کہا " ڈی وی ایم (ڈاکٹر آف ویٹرنری میڈیسن )"۔ کہنے لگے، "بہت اچھی بات ہے کا کا، لیکن خیال کرو کچھ بھی ہو، کہیں بھی جاو تعلیم نہ چھوڑنا!"۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر