ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے

کسی زمانے میں کہا جاتا تھا کہ "ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے"، لیکن اب کے تو یہ حال ہے کہ انہی شاخوں کی کرسیاں بنا کر ان پر وزیروں، مشیروں اور نہ جانے کن کن افسران کو بٹھا دیا گیا، اور وہ الووں کی طرح پالیسیاں اور فیصلے صادر کرتے رہتے ہیں۔
کہا تو یہ بھی جاتا ہے کہ اس دنیا میں سب سے عقلمند پرندہ الو ہوتا ہے، لیکن نہ جانے یہ بات کس الو نے کہی تھی، یا شاید الووں کی کوئی خاص نسل ہمارے متھے لگ گئی ہے، جو نہ جانے کیا کرتے رہتے ہیں۔
اب ہمارے تعلیمی نظام کو ہی دیکھ لیں، کیا بات ہے، سال کے ۳۶۵ روز کو اگر تعلیمی ادوار میں بانٹا جائے، تو ہمارے پرائمری سکولنگ میں کوئی ۸۵ دن صوبہ سرحد، ۱۲۰ دن پنجاب، ۶۵ دن سندھ اور صرف ۴۳ دن بلوچستان میں پڑھائی ہوتی ہے، جبکہ باقی کے دنوں کی تعداد سرما، گرما، بہار، خزاں، عید، محرم، اور دوسرے تہواروں کی نظر ہو جاتی ہے۔ اور پھر ہمارے تعلیمی نظام کا نصاب، اللہ کی پناہ۔
اب آپ ہی بتائیں ہر شاخ اور پھر انہی شاخوں سے بننے والی کرسیوں پر الو نہیں بولیں گے تو اور کیا ہو گا؟

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر