حسرت

"یہ لو دو روپے، اور ان میں سے ایک آج اور ایک کل استعمال کرنا ہے، اور یہ یاد رکھو کہ کل صبح تمھارے پاس ایک روپیہ دیکھوں گا!۔"

یہ روز کا معمول تھا۔ جب بھی میں سکول جانے لگتا، ڈاکٹر صاحب مجھے، دو روپے کا نیلا نوٹ تھماتے ہوئے کہتے، جو کہ میرا جیب خرچ ہوا کرتا تھا، مشکل اس وقت ہوتی جب وہ مجھے ایک ایک روپے کے دو ہرے نوٹ تھما دیتے، میں پریشان ہو جاتا کہ یہ میں کیسے سنبھال پاؤں گا، تو جیب میں ڈالے، وزنی بستہ لٹکائے لالے کے پیچھے پیچھے، منہ بسورے سکول کو روانہ ہوتا، تو میرے دل میں ایک ہی خیال ہوتا، کہ میں ایک روپیہ کہاں خرچ کروں گا اور دوسرا کہاں سنبھال پاؤں گا۔ پھر ایسا ہوتا کہ آدھی چھٹی سے پہلے پہلے دنوں روپے ہوا ہو جاتے!۔

اور باقی کا دن اور سوتے وقت تک، اگلی صبح کے لیے جواب تراشتا رہتا۔ اب یہ صورتحال بڑی کٹھن ہوتی، کبھی کبھی خیال آتا کہ چرا لوں، ایک دو بار چرائے بھی، لیکن تیسری بار پکڑا گیا، سو آئندہ کے لیے یہ راستہ بند۔

پھر ایک حل یہ نکلا کہ لالے کے ساتھ ایک سمجھوتہ کر لیا، سمجھوتہ یہ تھا کہ میں صبح کو ڈاکٹر صاحب کو سلام کرنے جاتا تو لالے سے شارٹ ٹرم ایک روپیہ ادھار لیتا، ڈاکٹر صاحب کو دکھاتا اور باہر نکلتے ہی وہ روپیہ بغیر کسی سود کے لالے کو واپس بھی کر دیتا، کبھی کبھی لالا مجھے وہ روپیہ عطا کر دیتااور میں خود کو مسرور اور لالے کا ممنون پاتا۔

پھر میں بڑا ہو گیا، یعنی پرائمری سے مڈل میں ترقی پا گیا، اور میرا روز کا جیب خرچ ایک سے دو روپے روزانہ ہو گیا، ڈاکٹر صاحب بچھڑ گئے، لیکن معمول وہی رہا، اب میں بی بی جی کو جوابدہ تھا۔ میٹرک میں یہ تناسب روزانہ تین روپے ہو گیا، جبکہ ایف ایس سی میں پانچ روپے، لیکن پورے ہفتے کا جیب خرچ ایک ساتھ ملتا تھا۔ حساب مجھے ایک ایک پائی کا دینا ہوتا تھا، گو ایف ایس سی میں مجھے حساب نہیں دینا پڑتا تھا، مگر میں اپنی تسلی کے لیے حساب کتاب ایک چھوٹی سی ڈائری میں تحریر کر دیتا، وہ ڈائریاں پتہ نہیں اب کہاں ہوں گی لیکن میں نے انھیں کبھی منظر عام پر لانے کی جسارت نہیں کی۔

اس کا فائدہ یہ ہوا کہ مجھے بچت کی عادت پڑ گئی، اور میں حیلے بہانوں سے بچت کرنے لگا۔ مجھ سے کوئی پوچھتا نہیں تھا، لیکن میں اپنے آپ کو جوابدہ ہوتا تھا۔

خیر ایک چیز جو میرے دل میں کھٹکتی تھی۔ میرے کئی ہم عصر روزانہ مجھ سے کہیں زیادہ جیب خرچ پاتے تھے اور ان سے کوئی حساب کتاب بھی نہیں لیا جاتا تھا۔ مجھے بڑی کوفت ہوتی۔

آج الحمداللہ میں برسر روزگار ہوں، لیکن ایک بات اب بھی کھٹکتی ہے کہ مجھ سے روزانہ کوئی حساب کیوں نہیں لیتا، میں اس خلش کو ترس گیا ہوںجو سارا دن مجھے ایک روپے کے لیے ہوتی تھی۔  

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر