پچیسیا

آج، ۱۰ فروری ۲۰۰۹ کو میں پچیس سال کا ہو گیا ہوں، لیکن میں سدھر نہیں سکا۔ بلکہ کبھی کوشش ہی نہیں کی، اور ویسے بھی کوشش کرنے سے کیا ہو گا؟ منہ کی کھانی پڑے گی، جیسی روح ویسے اعمال والی بات ہے اور کچھ نہیں۔ 

چونکہ میں پچیس سال کا ہو گیا ہوں تو آپ مجھے "پچیسیا" بھی کہہ سکتے ہیں، لیکن صرف اس سال کیونکہ اگلے سال "چھبیسیا" کچھ جمے گا نہیں، اور پچیسیا تو ایک ہی ہوتا ہے۔ اب آپ پوچھیں کہ پچیسیا کی رٹ کا میری سالگرہ سے کیا تعلق؟، تو جی میں بتا دوں کہ مجھے پچپن میں کوئی ڈاکٹر، انجنئیر، پائیلٹ، فوجی بننے کا شوق نہیں تھا بلکہ پچیسیوں کے قماش کا کوئی، ڈاکو، نوسرباز، یا ولن بننے کا جنون تھا۔ میں اکثر کہ جب یہ سوچتا کہ میں ایک ولن ہوں اور تباہی مچا رہا ہوں، دہشت کا دوسرا نام "عمرا ڈاکو" جو کہ اس زمانے میں کالا ڈھاکہ کے " جہانگیرہ ڈاکو" کے نام کے تناسب سے میں نے منتخب کیا تھا، دل باغ باغ ہو جاتا۔

ویسے مجھے اپنے سگے ماموں "منظور خان" بھی ڈاکو ہی لگتے تھے، جو کہ محکمہ جنگلات میں ملازم تھے، وجہ یہ تھی کہ ان کی بڑی مونچھیں تھیں، وہ جنگلات میں بسیرا رکھتے تھے اور تیسرا وہ مجھے اکثر ڈاکوؤں کے قصے بھی سناتے تھے۔ اب یہ بڑی مشکل تھی کہ اس وقت میری مونچھیں نہیں تھیں، میں ڈاکوؤں کی طرح جنگلات تو کیا گھر سے باہر رات نہیں بسر کر سکتا تھا، بلکہ مجھے تو باقاعدہ رات کو ڈر بھی لگا کرتا تھا۔ رات کو چڑیلوں کے قصے، درختوں پر جنوں کا بسیرا اور ایسی ایسی کہانیاں مجھے ازبر تھیں جو کہ میری سانس اوپر کی اوپر اور نیچے کی نیچے رکھنے کو کافی ہوتی تھیں۔

ڈر تو مجھے سکول میں بھی لگتا تھا، جہاں پڑھنے کے علاوہ مار بھی کھانی پڑتی تھی، یعنی ایک نہ شد دو شد۔ اب یہ ایک اور صورتحال ہوتی، پڑھنا تو گویا کڑھنا تھا، سو کڑھ لیتے، لیکن مار کھانے کے بعد، ہر بار میرے اندر کا "عمرا ڈاکو" اچھل کر حلق تک آتا، خوب بڑھکیں مارتا، ایسی کی تیسی کرنے کی سوچتا اور پھر جھاگ کی طرح بیٹھ جاتا۔ یعنی مار کھانے اور پڑھائی کا تعلق کڑھنے سے تھا، فرق یہ تھا کہ میں پڑھائی سے پہلےاور مار کے بعد کڑھنا ہوتا تھا۔ کڑھنے کے لیے چند دوست بھی میسر آ گئے، کمال ہیں اس وقت کے دوست، جو آج بھی میرے ساتھ شانہ بشانہ کڑھنے کو تیار رہتے ہیں۔

کڑھنے کا اصل روپ میرے سامنےکالج کے بعد آیا، جب مجھے گھر سے بھاگنا پڑا۔ اجی پڑھنے کے لیے، بھا گا نہیں بلکہ بھگایا گیا تھا۔ یونیورسٹی پہنچتے ہی برا حال ہو گیا۔ہاسٹل میں پہلی رات اکڑوں بیٹھا رہا، اور اپنی قسمت پر کڑھتا رہا، کیونکہ واحد کڑھنے میں مجھے کمال حاصل تھا۔ اب جب یونیورسٹی میں میرا تیسرا دن آیا تو گویا میرا جینا محال ہو گیا، کوئی دوست نہیں، ہاسٹل میں ٹی وی دیکھنے اور چائے انڈیلنے کے علاوہ کوئی کام نہ رہا تو میں پھٹ پڑا۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں نے اودھم مچایا ہوگا، لیکن میں نے ایسا کچھ نہیں کیا، بلکہ یونیورسٹی کے پہلومیں بہتی سیرابی نہر پر بیٹھ کرٹسوے بہاتا رہا، پھر چند دن میں ہی ایسا ہوا کہ جیسے مچھلی کو پانی، ریچھ کو کتیا، اور بیمار کو قرار میسر آجائے، یعنی مجھے میری قماش کے  لنگوٹیے میسر آگئے، وہ وہ کام کیے، کہ اگر اپنے آبائی قصبے میں کرتے تو یقیناً ساری عمر کو بڑے بوڑھوں سے جلی بھنی سننی پڑتیں، تاش جسے میرے قصبے میں ساری برائیوں کی جڑ سمجھا جاتا ہے، اس میں ایسے ماہر ہوئے کہ بس انت ہے، فیڈریشن کی سیاست، جسے طالبعلم کے لیے میرے بڑے بزرگ کینسر گردانتے ہیں، اس بیماری میں ساڑھے چار سال مبتلا رہے، اور ایسی کئی مثالیں۔  یونیورسٹی کی تمام تراصلاحاتی پالیسیاں ہمارا کچھ نہ بگاڑ سکیں، سوائے ڈگری دینے کی پالیسی کے، کہ اس کے علاوہ کوئی چارہ باقی نہ رہا تھا۔

آج میں پچیس سال کا ہو گیا ہوں، بر سر روزگار ہوں، اور دوستوں سے رابطہ بھی رہتا ہے، کبھی کبھی جنگلوں میں بھی نکل جاتا ہوں لیکن پچیسیا میرا پیچھا نہیں چھوڑتا!۔ بلکہ اب تو میرے ساتھ پچیسیوں کا ایک پورا گروہ ہے۔ ان سب کے  تقریباً پچیس سال یا اس کے آس پاس ہوا ہو گئے، ایسے ہوا ہوئے، جیسے ہر ٹھکائی کے بعد "عمرا ڈاکو" ہوا ہو جایا کرتا تھا۔

عدیم ہاشمی کا ایک شعر اسی تناظر میں کہ،۔

کنارہ  آب  جو  بیٹھا  ہوا  ہے  سر  نگوں 

کشتی کدھر چلی گئی، جانے کدھر بھنور گئے

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر