۔"سیانا آدمی وہ ہے جو اپنی زندگی ایک ایک لمحہ گزارتا ہے!"۔
یہ جملہ میں نے بہت پہلے ایک بچوں کے ڈائجسٹ میں پڑھا تھا۔ یہ ایک حقیقت ہے، کافی عرصہ اس کا مفہوم مجھے سمجھ نہ آیا، لیکن ایک چیز جو مجھے سمجھ آئی وہ یہ کہ یہ واقعی حقیقت ہے۔ مثلاً ہم میں سے اکثر لوگ یہ سوچتے ہیں کہ کل جب میں آؤں گا تو یہ کام کر لوں گا، یا نبٹا لوں گا۔ لیکن ہر صبح دوسری کل میں منتقل ہوتی رہتی ہے، اسی طرح ہمارے ہاں ایسی باتیں بھی مشہور ہیں، کہ خطا لمحوں نے کی، جبکہ سزا صدیوں نے پائی وغیرہ۔ تو کوئی بھی بھی کام، فیصلہ یا امر ایک لمحے کا محتاج ہوتا ہے۔ جیسے قتل کو ہی دیکھ لیں، جہاں ہم دیکھتے ہیں کہ ایک لمحے میں آدمی کیا کر بیٹھتا ہے۔مجھے ایک بار ڈیرہ اسماعیل خان کی جیل میں جانے کا اتفاق ہوا، جہاں میرے کئی ساتھی یونیورسٹی میں ہنگامے کی پاداش میں قید تھے، وہاں ایک بیرک جو کہ قاتلوں کے لیے مخصوص تھی، کے ماتھے پر ایک جملہ کندہ تھا کہ "ایک لمحے کے غیرت مند بھائی، تجھے ساری عمر کی بے غیرتی مبارک ہو!"۔ تو یہ ہمارے رویے ہیں کہ ہم ایک لمحے میں اپنی ساری زندگی داؤ پر لگا دیتے ہیں۔
ہم اکثر ایسے جملے سنتے ہیں کہ "میں نے پھر ایک لمحے میں فیصلہ کر لیا کہ میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔" وغیرہ وغیرہ، ایک لمحے میں فیصلہ کر لینا مجھے آج تک نہیں آیا، بلکہ میں تو اگر جوتے خریدنے بھی جاؤں توکئی کئی گھنٹے فیصلہ نہیں ہو پاتا۔ ایک ہو نہ ہو


ماضی کی یاد اور مستقبل کی فکر ہمارے حال کو خراب کر دیتی ہے۔ یہ کوئی مقولہ، فرمان یا حکایت نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے۔ ہم ایشیائی لوگ اس بات کا بہت غم کھاتے ہیں کہ ہمارا ماضی ہمیں دغا دیتا رہا، جبکہ ہمارے سامنے ہر وقت یہ دکھ پھن پھیلائے کھڑا رہتا ہے کہ ہمارا مستقبل کوئی اتنا تابناک نہیں ہے۔ جب کہ ہم اسی روش میں اپنا حال تباہ کر رہے ہوتے ہیں

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر