ڈیرہ، پُھلاں دا سہرہ!۔

۔"لالا اُتھا ویساں، تے ول کج کریساں"،(لالا ادھر جائیں گے، تو تب ہی کچھ کریں گے) یہ پہلا سرائیکی جملہ تھا جو میں نے راولپنڈی کے پیرودھائی بس اڈے پر ڈیرہ اسماعیل خان روانہ ہونے کے لیے تیار بس میں بیٹھے ہوئے سنا۔ دو سرائیکی بھائی آپس میں الجھ رہے تھے، اس بس میں زیادہ تر لوگ سرائیکی بول رہے تھے، کئی ایک نہ سمجھ آنے والی پشتو، وزیرستان والی۔ اکا دکا پنجابی، شاد و نادر اردو جبکہ میں اور مقصود خان بنگش ہندکو بول رہے تھے۔ یہ دلچسپ مقام تھا، جہاں اپنی زندگی میں پہلی بار میں نے اتنا تنوع دیکھا تھا۔ بھانت بھانت کی بولیاں، اور طرح طرح کے لوگ۔
گومل یونیورسٹی میں میرا داخلہ ہو گیا تھا، جبکہ میں پہلی بار وہاں جا رہا تھا۔ مجھے قطعاً اندازہ نہیں تھا کہ ڈیرہ اسماعیل خان اتنا دور ہوگا۔ جب ۴ (چار) گھنٹے سے زیادہ سفر ہو گیا تو، مجھے اکتاہٹ ہونے لگی، میں سوچنے لگا کہ کیا ڈیرہ اسماعیل خان ٹمبکٹو میں واقع ہے یا کہیں مریخ پر، آنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ خاص کر جب چشمہ سے گاڑی ڈیرہ اسماعیل خان کی جانب مڑتی ہے تو راستے میں لگے سنگ میل، آدمی کا دماغ چاٹ جاتے ہیں۔ مقصود خان نے مجھے بتایاکہ "بھیا، جب تمھیں رکشے دکھنے لگیں، تو سمجھ جانا، ڈیرہ اسماعیل خان آگیا"، تو میرا دھیان سنگ میلوں سے ہٹ کر رکشوں کی جانب مڑ گیا۔ گاڑی سیدھے راستے پر دوڑتی رہی، اور میں گنے سے لدی ٹرالیوں کو ایسے دیکھ رہا تھا کہ جیسے یہ کوئی چاند گاڑیاں ہوں، اجی ایسے سمجھیے کہ جیسے چیونٹی پر زمین لاد دی جائے، اور میں اس ماہرانہ کاوش کو سراہے بنا نہ رہ سکا۔ سر سبز علاقہ، سڑک نہر کے کنارے اور کجھوروں کے درختوں میں چھوٹے چھوٹے گاؤں، شام کے وقت ایسا مسحور کن منظر ہوتا ہے کہ آدمی کو پتہ بھی نہیں چلتا، کہ جو ڈیرہ اسماعیل خان آنے کو نہیں آ رہا تھا، ایک دم سے کیسے آ گیا۔
ڈیرہ اسماعیل خان، کی پہلی نشانی رکشے ہیں، جو شہر میں داخل ہونے والی ہر بس کے ساتھ ایسے بھاگنے لگتے ہیں کہ جیسے، کوئی گڑ کی ڈلی پر مکھیاں بھنبھناتی ہیں۔ دوسری نشانی آبادی میں اضافہ اور چھوٹے چھوٹے ہوٹل ہیں، جن کے باہر جلی لکھا ہوتا ہے، " آ بھرا روٹی دوا" (آ بھائی، روٹی کھا)۔
ڈیرہ اسماعیل خان کو مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے، گومل یونیورسٹی کے مکین، اسے سِٹی، "جھوک" یعنی گاؤں کے لوگ اسے شہر، جبکہ "کچہ"یعنی، دریا کے اس طرف کے مکین اسے اپنے حساب سے "دریا پار" کہتے ہیں، جبکہ ایک نام، جس سے سارے لوگ اس مانتے ہیں، وہ ہے "ڈیرہ، پُھلاں دا سہر۱"۔
ڈیرہ اسماعیل خان کی چیدہ چیدہ نشانیاں سٹیٹ لائف بلڈنگ، مختلف قدیم بازار، جیسے توپانوالہ بازار، مسلم بازار، کمشنری بازار، اور چند اور ایسے بازار۔ جو کہ ایک مرکزی مقام پر ملتے ہیں، "چوکلہ" کہلاتا ہے۔
ڈیرہ اسماعیل خان کا نیا رخ کینٹ کا علاقہ ہے، جو میری زاتی رائے میں ٹاٹ میں پیوند جیسا ہے، جہاں بیگمات اور صاحبان کتے لیے پھرتے نظر آتے ہیں، لیکن وہ کبھی بھی ڈیرہ کے اندرون شہر زندگی کا قطعاً مقابلہ نہیں کر سکتے، جہاں حقے گڑگڑاتے ہیں، سوہن حلوہ بٹتا ہے، نفیس کے دہی بلے، دودھ ربڑی اور جا بجا لکڑی کے کاریگر اپنی فنکارانہ صلاحیتیں بکھیرتے نظر آتے ہیں، اور حد سے زیادہ سائیکل سوار گھنٹیوں کی چھن چھن بکھیرتے رواں دواں رہتے ہیں۔
یہ تو ڈیرہ اسماعیل خان کا شہر ہے، یونیورسٹی کا مین کیمپس یہاں سے کوئی سولہ کلومیٹر جبکہ اس کا سٹی کیمپس ملتان روڈ، جسے یونیورسٹی روڈ بھی کہا جاتا ہے، شہر میں واقع ہے۔ یونیورسٹی کا ماحول ایک دم خاموش، پرسکون اور ہزاروں کنال پر محیط ہے۔ اور سب سے بڑھ کر یہاں کی محبتیں لامتناہی سلسلے پر محیط ہیں۔
ڈیرہ اسماعیل خان کی ایک اور خاصیت، یہاں کی سنٹرل جیل ہے۔ اس جیل میں کئی سیاسی لیڈروں نے اور کئی خطرناک مجرموں نے وقت گزارا، یہ پاکستان کی چند مشہور جیلوں میں سے ایک ہے۔ ایک بار مجھے بھی اس جیل کا مزہ چکھنا پڑا تھا، جب ہم ساڑھے چار سو طالبعلم چند روز پابند سلاسل رہے تھے، وجہ یونیورسٹی میں ہنگامے اور ہنگاموں کی وجہ یونیورسٹی کے سیکورٹی گارڈ کے ہاتھوں ایک طالبعلم کا قتل تھی۔ یہ چند روز میری زندگی کے یادگار تھے، ایک تو میں ان جمبو سائز مچھروں کو نہیں بھول سکتا، جو انتہائی گرمی میں بھی جیل میں بھنبھناتے رہتے، ان کے متعلق جب میں نے ایک پولیس والے سے استفسار کیا، تو اس کا کہنا تھا، "یہ مچھر بڑے ہیں اور یہ بہت مدافعتی ہیں، کیونکہ یہ مجرمانہ خون پر پلتے ہیں!"۔ دوسری چیز جو میں نے ان چند دنوں میں سیکھی تھی وہ یہ کہ، "بھلے مر جاؤ!، لیکن جرم کرنے کی سوچنا بھی مت"۔
ڈیرہ اسماعیل خان کا ایک اور پہلو دریائے سندھ سے جڑا ہے، یہ دریا خاموشی سے شہر کے پہلو میں بہتا ہے، اس کی خاموشی انسان سے بہت کچھ کہہ جاتی ہے، جبکہ یہاں کی شامیں بہت مسحور کن ہوتی ہیں، اور ڈیرہ وال اسی خوبصورتی کے دلدادہ ہوتے ہیں، کہ ہر جمعہ والے دن پورا شہر چھٹی مناتا ہے، جمعہ کی نماز کے بعد شام کو پورا شہر، مرد، عورتیں، بوڑھے، بچے، جوان اس دریا کے کنارے کھلکھلاتے نظر آتے ہیں اور خوب چاول کھاتے ہیں، جو کہ پلیٹ نہیں کلو کے حساب سے بکتے ہیں، مرچیں زیادہ ہوتی ہیں، اس لیے میں نے کم ہی کوشش کی ہے کھانے کی۔
ڈیرہ وال مرچ کا استعمال بہت زیادہ کرتے ہیں، لیکن طبیعتاً نرم خو ہیں، لڑائی کرتے ہوئے اتنی سریلے ہوتے ہیں کہ گمان ہی نہیں ہوتا کہ جھگڑا چل رہا ہے، کچھ زبان اور کچھ لوگوں کی مٹھاس کا اثر ہے۔ سوہن حلوہ اور کجھور کا شیک، اجی کیا کہنے، توپانوالہ کی جان ہیں، پانچ سال میں ان دونوں چیزوں کی لت میں مبتلا رہا۔
پھر ایک دن ایسے ہوا کہ ہاسٹل میں بیٹھے تھے کہ ایک زوردار دھماکے کی گونج بلند ہوئی، ابتدائی معلومات میں پتہ چلا کہ شہر کے وسط میں دھماکہ ہوا ہے، اور تین لوگ جاں بحق ہو گئے ہیں، خوف و ہراس نے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، پھر تو یہ معمول بن گیا، کبھی ایک، کبھی دو لوگ اپنی جان گنوانے لگے۔ کوئی کہتا شیعہ سنی فساد اور کوئی کہتا یہ تو دہشت گرد ہیں، کرفیو بھی لگنا شروع ہو گیا، ایک بار تو جب مسلسل تین دن کرفیو رہا تو میری تو جیسے سانس بند ہونا شروع ہو گئی۔ مجھے اور میرے دوستوں کو سمجھ نہ آئے کہ کیا کریں، ایسا بھی ہوا، بازار میں چلتے چلتے موٹر سائیکل سوار آتے اور دندناتے ہوئے گولیوں کی بوچھاڑ کر دیتے۔ نہ جانے اس شہر کو کس کی نظر لگ گئی، آج میں ڈیرہ اسماعیل خان میں نہیں ہوں، مگر جب بھی ٹی وی پر کسی نئی یورش کی خبر سنتا ہوں تو دل خون کے آنسو رونے لگتا ہے۔ خدا اس شہر اور میرے پورے ملک کو اپنی امان میں رکھے۔

مقصود احمد بنگش: بھائی

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر