بے روزگاری کا چسکہ

تو آج بیروزگار ہوئے مجھے پورے چار دن ہو گئے ہیں، اب مجھے یہ پتہ نہیں ہے کہ آیا مجھے ہفتہ وار چھٹیوں کو بھی بے روزگاری میں گننا چاہیے یا نہیں، اور اس کے علاوہ جو ماہانہ دو چھٹیاں مجھے دفتری اصولوں کے مطابق ملا کرتی تھیں، ان کو بھی شمار کروں؟ اگر ایسا ہے تو جی میں سوموار کے دن بے روزگار ہو جاؤں گا۔
ایک بار ایسا ہوا کہ یونیورسٹی میں ہم نے ایک واہیات قسم کی نئی چیز دریافت کر لی جسے "فرنچ ہالیڈے" کے نام سے جانا جاتا تھا۔ یعنی بغیر کسی وجہ کے چھٹی کر لینا، اور جب ایک دو ہفتے ہم نے دو چار دن فرنچ ہالیڈے منائی، یہ تو نشہ تھا، چڑھ گیا، آئے روز فرنچ ہالیڈے منانے لگے، ہاسٹل میں تھے، روک ٹوک بھی نہ تھی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ٹرم کے اواخر میں ہماری حاضریاں کم نکلیں، اور اس پاداش میں ہمارا ایک پرچہ میں امتحانی ہال ہم پر شجر ممنوع کر دیا گیا۔
سوچ سوچ کر کلیجہ منہ کو آ رہا تھا کہ گھر والوں کو کیسے سمجھائیں گے۔ اپنے جونئیرز کے ساتھ بیٹھ کر اگلی ٹرم میں یہ پرچہ کس منہ سے دیں گے اور ہماری ڈی ایم سی پر اس ٹرم کا تعارف کیسا ہو گا کہ "اِن پَارٹس" یا حصوں میں پاس کی گئی ٹرم!۔ اپنے آپ کو اور اس دوست جس نےیہ فرنچ ہالیڈے کی واہیات نکالی تھی، کو کوسنے کے علاوہ کیا کر سکتے تھے۔ اسی پریشانی میں اپنے ایک چچا ذاد کو ٹیلی فون دے مارا۔ ماجرا بیان کیا تو اس خدا کے بندے نے حوصلہ دیا اور فرمایا: "ارے چھوڑو یار!، پروفیشنل ڈگری میں سپلی آنا تو شان ہوتی ہے طالبعلم کی، خوش نصیب ہو جو اس سے بہرہ مند ہوئے، ورنہ میں تو کہتا ہوں وہ پروفیشنل ڈگری ہی کیا، جس میں سپلی نہ آئے!"۔ تو اس بے تکی منطق پر ہی اپنے آپ کو حوصلہ دیتے رہ گئے۔
اللہ پاک کا کرم رہا ہے کہ ڈگری ہاتھ آنے سے پہلے ہی نوکری لگ گئی تھی، اب وہ پراجیکٹ ختم ہو چکا ہے، تو دوچار روز سے نوکری ڈھونڈ رہا ہوں اور ساتھ ہی اپنے آپ کو دلاسہ دے رہا ہوں، " وہ پروفیشنل زندگی ہی کیا، جس میں بے روزگاری نہ ہو!"۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر