قسط نمبر ۳: کشف المحُجوب

گذ شتہ اقساط یہاں ملاحظہ کی جا سکتی ہیں:زمرہ: برقی کتب۔ اقساط: قسط نمبر ۱، قسط نمبر ۲۔

۔۔۔

ایک انمول حدیث قدسی:۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ؛ میں نے پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں میں رکھ دیا ہے۔ لوگ انھیں دوسری چیزوں میں تلاش کرتے ہیں،
بھلا وہ کیسے پائیں گے۔۔۔ میں نے اپنی رضا کو مخالفت نفس میں رکھ دیا ہے، لوگ اسے موافقت نفس میں تلاش کرتے ہیں،
بھلا وہ کیسے پائیں گے۔۔۔میں نے آرام کو جنت میں رکھ دیا ہے، لوگ اسے دنیا میں تلاش کرتے ہیں،
بھلا وہ کیسے پائیں گے۔۔۔میں نے علم وحکمت کو بھوک میں رکھ دیا ہے، لوگ اسے سیری میں تلاش کرتے ہیں،
بھلا وہ کیسے پائیں گے۔۔۔ میں نے تو نگری کو قناعت میں رکھ دیا ہے، لوگ اسے مال میں تلاش کرتے ہیں،
بھلا وہ کیسے پائیں گے۔۔۔ میں نے عزت کو اپنی اطاعت میں رکھ دیا ہے، لوگ اسے بادشاہوں کے دروازوں پر تلاش کرتے ہیں۔
(بشکریہ؛ ہفت روزہ ایشیا، لاہور)۔

۔۔۔

کتاب کا با قاعدہ آغاز:۔

اَعُوزُبِاللہِ مِنَ الشَّیطَانِ الرَّجِیمِ۔
بِسمِ اللہِ الّرَحمٰنِ الّرَحِیمِ۔
میں شیطان مردود کی دخل اندازیوں سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، اور اس کام کو اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو رحمان اور رحیم ہے۔ اے ہمارے پروردگار! اپنی بارگاہ سے ہم پر رحمت کا نزول فرما اور ہمارے کام میں ہمیں راست روی کی توفیق مہیا فرما۔ تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے اپنے اولیاء (دوستوں) پر اپنے نظام سلطنت کے اسرار کھولے۔ اپنے برگزیدہ بندوں پر اپنی قوت وجبروت کے راز واضع کیے اور اپنے جلال کی تلوار سے (جب اور جہاں اس کی مصلحت متقاضی ہوئی) اپنے محبوبوں کا خون بہایا اور عارفوں کو اپنے وصل کی شراب سے بہرہ اندوز فرمایا۔ وہی اپنی بے نیازی اور عظمت اور کبریائی کے ادراک کے نور سے مردہ دلوں کو زندہ کرنے والا اور اپنے اسمائے مبارک کی حقیقی معرفت کی خوشبو سے انھیں مالا مال کرنے والا ہے۔ اور اس کی رحمت اور سلامتی کا نزول ہو اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور ان کی آل پر اور ان کے اصحاب پر اور ان کی ازواج مطہرات پر۔
رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنھُم اَجمَعِینَ۔
۔۔۔
اس کے بعد اب،
میں علی بیٹا عثمان کا اور عثمان بیٹا علی جلابی کا جو غزنی کا رہنا والا ہوں اور جس نے ہجویر میں آ کر باود و باش اختیار کی، اس کام کا آغاز کرتا ہوں۔۔
۔۔۔


بَسمَلَہ اور صحتِ نیّت:۔
ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ اپنے کاموں کا آغاز خداوند تعالیٰ کے نام (یعنی بِسمِ اللہِ الّرَحمٰنِ الّرَحِیمِ۔) سے اور اس کی مدد استعانت طلب کرتے ہوئے کرو۔ کیونکہ کاموں کی بھلائی کسب و تدبیر پر موقوف نہیں ہے۔ بلکہ خدا کی قضا اور توفیق پر موقوف ہے۔ چنانچہ اللہ عزوجل نے اپنے پیارے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے پیرؤں کو ارشاد فرمایا؛ فَاِزَاقَرَاتَ القُراٰنَ فَاستَعِذبِاللہِ مِنَ الشّیَطَانِ الّرَجِیمِ (۱۶؛۹۸) یعنی جب تم قران مجید کو پڑھو تو پہلے شیطان مردود کی دخل اندازیوں سے اللہ کی پناہ مانگو۔ اور اللہ تعالیٰ نے قران کریم اور اس کی سورتوں کا آغاز بِسمِ اللہِ الّرَحمٰنِ الّرَحِیمِ۔ سے فرمایا۔ اور نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے پیروکاروں کو بِسمِ اللہِ الّرَحمٰنِ الّرَحِیمِ۔ سے اپنے کاموں کو شروع کرنے کی تعلیم فرمائی۔ بندے کو اپنے کام میں خداوند تعالیٰ کی مدد اور توفیق اسی صورتحال میں حاصل ہو سکے گی جب کہ وہ اسے خدا کے نام اور اس سے مدد ورہنمائی طلب کرتا ہوا کرے گا۔
اس کے علاوہ نیت کی درستی بھی ضروری ہے۔ حضور نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ اَلاَعمَالُ بِالنِیّاتِ۔ یعنی اعمال کا انحصار نیتوں پر ہے۔ نیت کو کاموں میں اتنا بڑا دخل حاصل ہے کہ محض نیت کے اختلاف سے ایک کام ایک حکم سے دوسرے حکم میں داخل ہو جاتا ہے۔ اور اس کی نوعیت اور نتائج سب بدل جاتے ہیں۔حالانکہ اس کی ظاہری شکل و صورت وہی رہتی ہے۔ مثلاً ایک مسافر کسی شہر میں مقیم ہونے کی نیت کیے بغیر عرصہ دراز تک بھی آ کر ٹھہرا رہے تو وہ مقیم تصور نہیں ہو گا۔ اس کا حکم مسافر ہی کا رہے گا۔ لیکن جب وہ اقامت کی نیت سے کسی شہر میں آئے تو باوجود اس کے کہ ظاہری عمل ایک سا ہو گا۔ وہ مقیم بن جائے گا۔ اور اس پر مقیم کا حکم جاری ہو گا۔ اسی طرح وہ شخص جو روزے کی نیت کیے بغیر دن بھر بھوکا پیاسا رہے گا روزہ دار تصور نہیں ہو گا۔ اور نہ اس کے بھوکا پیاسا رہنے پر اسے کوئی اجر و ثواب ملے گا۔ لیکن اگر وہ روزے کی نیت کے ساتھ بھوکا رہے تو اس طرح بھوکا رہنے پر اسے قرب خداوندی حاصل ہو گا۔
اگر کام شروع کرتے وقت انسان کا ارادہ صحیح نیت پر ہو لیکن اس کے بعد اس عمل میں کوئی خلل واقع ہو جائے جس کی وجہ سے وہ اسے پایہ تکمیل کو نہ پہنچا پائے۔ تو وہ معذور متصور ہو گا اور اس کا اجر اس کو مل جائے گا۔ حضور نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ مومن کی نیت اس کے عمل سے برتر ہے۔ نیت آدمی کے عمل کے بغیر بھی نفع بخش ہو سکتی ہے۔ لیکن کوئی عمل بغیر صحیح نیت کے اسے نفع نہیں دیتا۔ نیز نیت میں جس قدر اخلاص ہو گا۔ اس عمل کا اجر و ثواب بڑھتا چلا جائے گا۔
صحت نیت کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کے پیش نظر صرف خداوند تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کا حصول ہو کوئی نفسانی غرض اس میں شامل نہ ہو۔ یاد رکھو کہ ہر وہ کام جس میں آدمی کے پیش نظر حق تعالیٰ کی خوشنودی نہ ہو وہ اغراض نفسانی کے تحت ہوتا ہے۔ اور جس کام میں نفسانی غرض شامل ہو جاتی ہے اس میں سے برکت اُٹھ جاتی ہےاور آدمی کا دل راہ راست سے منحرف ہو جاتا ہے۔ نفسانیت دوزخ کی کنجی ہے کیونکہ نفس کی لذات و مرغوبات کے پیچھے ہی آدمی جہنم کی راہ اختیار کرتا ہے۔ اس کے برعکس جنت کی کنجی یہ ہے کہ آدمی اپنے نفس کو حق تعالٰے کی رضا کی راہ پر گامزن کرے اور اسے اس کی خواہشات کی راہ سے روکے۔ چنانچہ اللہ عزوجل نے فرمایا؛ فَاَمّاَمَن طَغٰی۔وَاٰشَرَالحَیٰوۃَ الدّنیاَ۔فَاِنَّ الجَحِیمَ ھِیَ البَاوٰی۔ وَاَمَّامَن خَافَ مَقَامَ رَبِّہ وَنَھَی النَّفسَ عَنِ الھَوٰی۔ فَاِنَّ الجَنّّۃَ ھِیَ المَاوٰی۔(۷۹۔۳۷۔۴۱) یعنی جس شخص نے خداوند تعالیٰ سے سرکشی اختیار کی اور دنیا کی زندگی کو (آخرت کی نعمتوں اور خدا کی رضا پر) ترجیح دی اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ اور جو اپنے رب کے سامنے پیش ہونے سے ڈرا اور (اس خوف سے) اس نے نفس کو اس کی خواہشات سے روکا، اس کا ٹھکانہ جنت ہے۔
پس جو کام آدمی کرے اس میں اس کو دیکھنا چاہیے کہ اس کے سامنے خداوند تعالیٰ کی خوشنودی اور رضا کا حصول ہے یا اس کی محرک اس کی کوئی نفسانی خواہش ہے۔ اگر دوسری صورت ہو تو وہ اس کام سے رک جائے یا جس حد تک اس میں نفسانی خواہش کو دخل ہو اس سے اپنی نیت اور ارادے کو پاک کرے۔

۔۔۔۔



-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر