سوات کا ٹنٹہ

سوات کا قضیہ ختم ہونے کو ہے؟ مالاکنڈ میں بالاخر شریعت نافذ ہو جائے گی؟ کیا ہو گا جب یہ دس دن کی جنگبندی بھی اختتام پذیر ہو جائے گی؟
یہ وہ سوالات ہیں، جو تقریباً ہر ہونے والے معایدے کے بعد آٹھائے جاتے رہے ہیں۔ کیا یہ درست نہیں کہ جتنا حق مذاکرات کا سوات میں طالبان کو ہے، اس سے کہیں زیادہ بلوچستان میں بگٹیوں کا حق تھا؟ اور یہ بھی کہ کیا ہم اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ جنگ یا طاقت ہمارے مسائل کا حل نہیں ہے؟ جی نہیں ایسا ہر گز نہیں ہے، ہم نے یہ دیکھا کہ بلوچستان میں ایک تحریک اٹھی، ہم نے یہ بھی دیکھا کہ کیسے ایک قبیلے کے سردار کو پہاڑوں میں ہی دفن کر دیا گیا، ہم نے یہ بھی دیکھا کہ کیسے بلوچستان میں لوگ اپنے حق کو ترستے رہے، کبھی بھی کسی نے یہ نہیں کہا کہ آؤ بیٹھو، مذاکرات کرتے ہیں، وجہ؟
وجہ صرف ایک ہے کہ بلوچ قبائل نےکبھی بھی حکومت کو ایک عدد لسٹ فراہم نہیں کی، جس میں چند وزراء، مشراء اور سیاسی ٹنٹے بازوں کا نام ہو کہ، بھیے، ان لوگوں کو ہم نے نہیں رہنے دینا اس دھرتی پر۔
سوات میں پچھلے تین سالوں میں گلے کٹتے رہے، جنازہ گاہوں، سکولوں، مسجدوں اور حجروں سے لاشے اٹھتے رہے، لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی، لیکن دو ہفتے پہلے ہی جب ایک اکتالیس (۴۱) لوگوں کے نام کی لسٹ منظر عام پر آئی، تو صدر صاحب یورش زدہ راج دھانی پشاور میں دو دن لگا گئے، سوات کے طالبان کی منت سماجت بھی کی، اور آج ہم نے دیکھا کہ ان طالبان کو مذاکرات کی دعوت بھی دے رہے ہیں، کہ آؤ بیٹھتے ہیں اور بات کرتے ہیں، معایدے دستخط ہوں گے، قاضی ہوں گے، طالبان کمال کر دیں گے، امن قائم ہو جائے گا، سب کی بے جا بے جا ہو جائے گی۔
میں چاہتا ہوں کہ شریعت آئے، لیکن میں مانتا نہیں ہوں کہ شریعت آئے! کیا ہے یہ دوغلا پن؟
ہم نے تو یہ بھی سنا کہ طالبان کی آڑ میں مزارعین نے خوانین کو اس لیے قتل کرنا شروع کیا تا کہ با آسانی زمینوں پر قبضہ جمایا جا سکے، کئی ایک تو اس لیے گلے کٹوا بیٹھے کہ وہ زبردستی کے اسلام کو نہیں مانتے تھے، بلکہ وہ تو علم کے زور پر اسلام پھیلانا چاہتے تھے۔ پھر ہم نے یہ بھی دیکھا کہ جب پشاور میں ایک صوبائی رکن اسمبلی ایک دھماکے میں قتل ہوا تو اس کے اہل خانہ کو پچاس لاکھ دے دیے گئے، واہ رے، ان لوگوں کا کیا، جو یتیم ہو گئے، جو آج بھی پشاور، مردان، چارسدہ، صوابی کے گردونواح میں قائم کیمپوں میں حسرت ویاس کی تصویر بنے بیٹھے ہیں۔
کہتے ہیں کہ ایک شخص رات کو بے چینی سے کروٹیں بدل رہا تھا، بیوی نے پوچھا تو بتایا کہ فلاں شخص کا قرضہ دینا ہے، صبح وہ تقاضا کرے گا تو کیا جواب دوں گا؟ بیوی نے کہا، یہ تو بہت آسان ہے، اسے ابھی ٹیلی فون کرو، اور بتا دو کہ تم اس کا قرضہ واپس کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے، اور پھر آرام سے سو جاؤ، کیونکہ بے چینی اسے منتقل ہو جائے گی!۔
طالبان کی لسٹ نے بھی یہی کام کیا ہے، سوات کے مرغزاروں سے بے چینی آٹھا کر پشاور اور اسلام آباد کے ایوانوں میں منتقل کر دی۔
ابھی ابھی میں نے خبر پڑھی کہ سوات میں کرفیو ختم، بازار، سکول کھل گئے۔ شاید اسی لیے کہتے ہیں کہ لوگوں کو امان تب ملتی ہے، جب حکمران کانٹوں کے بستر پر سوئے!۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر