قسط نمبر ۴: کشف المحجُوب

گذشتہ اقساط یہاں ملاحظہ کی جا سکتی ہیں: زمرہ: برقی کتب، اقساط: قسط نمبر ۱، قسط نمبر ۲، قسط نمبر۳
۔۔۔
خدا کی راہ کے حجاب
خداوند تعالیٰ کی فرماں برداری اختیار کرنے میں انسان کی راہ میں جو رکاوٹیں حائل ہوتی ہیں ان کو تصوف کی زبان میں ۔حجاب۔ کہتے ہیں اور ان کی دو قسمیں ہیں ایک حجاب رینی اور دوسرا حجاب غینی۔
رینی حجاب:۔
رینی حجاب ایک مستقل رکاوٹ ہے۔ یہ کبھی نہیں اُٹھے گا۔ کیونکہ اس کے لاحق ہوجانے کے بعد آدمی کے دل پر مہر ہو جاتی ہے۔ اس پر ٹھپہ لگ جاتا ہے۔ رین (زنگ چڑھ جانا)، خَتَم (مہر لگ جانا) اور طبع (ٹھپہ لگ جانا) تینوں الفاظ کو قران مجید نے اس بارے میں ایک ہی معنی میں استعمال کیا ہے۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے؛ اِزَا تُتلٰی عَلَیہِ اٰیتُنَا قَالَ اَسَاطِیرُ الاَوَّلِینَ۔ کَلاَّبَل رَانَ عَلٰی قُلُوبِھِمِ مّاَ کَانُو یَکسِبُونَ۔ (۸۳۔۱۳۔۱۴) یعنی جب اس کے سامنے ہماری آیات پڑھی جاتی ہیں تو کہتا ہے، چھوڑو جی، پرانے قصے کہانیاں ہیں۔ نہیں، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ان لوگوں کی بدکرداریاں زنگ بن کر ان کے دلوں پر جم گئی ہیں“۔ دوسرہ جگہ فرمایا؛ ۔۔۔اِنَّ الَّذِینَ کَفَرُواسَوَآءٌعَلیھِمءَاَنذَرتَھُم اَم لَم تُنذِرھُم لاَ یؤمِنُونَ۔خَتَمَ اللہُ عَلٰی قُلُوبِہِم وَعَلٰی سَمعِھِم۔وَعَلٰی اَبصَارِھِم غِشَاَوۃٌ وَّ لَھُم عَذَابٌ عَظِیمٌ۔ (۲۔۶۔۷) یعنی جن لوگوں نے (ان بنیادی حقائق کو) ماننے سے انکار کر دیا ہے، ان کے لیے یکساں ہے کہ انھیں ڈراؤ یا نہ ڈراؤ وہ ماننے والے نہیں۔ ان کے دلوں پر اور کانوں پر اللہ نے مہر کر دی ہے۔ اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑ گیا ہے۔ ان کے لیے (تو اب) عذاب عظیم ہی ہے۔۔ اسی بات کو تیسری جگہ اللہ تعالٰی نے اس طرح بیان فرمایا؛ فَبِماَ نَقضِھم مِیثَاقَھُم وَکُفرِھِم بِاٰ یٰتِ اللہِ وَقَتلِھِمُ الاَنبِیَآءَ بِغَیرِ حَقِّ وَّقَولِھِم قُلُوبُنَا غُلفٌ۔بَل طَبَعَ اللہُ عَلَیھَا بِکُفرِھِم فَلاَ یُومِنُونَ اِلاَّ قَلِیلاً۔ (۴۔۱۵۵) یعنی ان کی عہد شکنی سے اور اس وجہ سے کہ انھوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا اور متعدد پیغمبروں کو ناحق قتل کیا اور (حق کھل کر سامنے آ جانے پر اسے قبول کرنے کی بجائے الٹا یہ) کہا کہ ہمارے دل غلافوں میں محفوظ ہیں، (دل محفوظ نہ کہو) بلکہ ان کی باطل پرستی کے سبب اللہ نے ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیا ہے۔ اس لیے شاز و نادر ہی کوئی ایمان لاتا ہے۔
جن لوگوں کا اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں زکر فرمایا ہے، یہ ہیں وہ لوگ جن کے دلوں پر ۔رینی حجاب۔ ڈال دیا گیا ہے۔ لیکن جیسا کہ خود ان آیات سے ظاہر ہے۔ یہ صورت ان کے اپنے طرز عمل اور اپنے کرتوتوں کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے۔ یہ بات نہیں ہے کہ وہ خود تو صحیح راہ کے متلاشی تھے مگر اللہ نے ان کو ہدایت سے محروم کر دیا۔ چنانچہ حق تعالیٰ نے اس بات کو صاف طور پر واضع فرما دیا کہ؛ ۔ فَلَمّاَ زَا غُوازَاغَ اللہُ قُلُوبَھُم وَاللہُ لاَ یَھدِی القَومَ الفٰسِقِینَ۔ (۶۱۔۵) یعنی جب انھوں نے خود ہی کج روی اختیار کر لی تو اللہ نے بھی ان کے دلوں کو ٹیڑھا کر دیا کیونکہ اللہ کا یہ دستور نہیں ہے کہ نافرمانی کی راہ اختیار کرنے لوگوں کو (زبردستی) راہ دکھائے۔ ورنہ جو شخص اخلاص کے ساتھ ہدایت اور راست روی کا طلبگار ہو، اسے اللہ ضرور راہ راست دکھاتا ہے۔ فرمایا؛ یَھدِی اِلَیہِ مَن یّنِیبُ۔ (۴۲۔۱۳) اللہ تعالیٰ رہنمائی کرتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرے۔ وَمَا یُضِلُّ بِہٖ وَیَقطَعُوٗنَ مَآ اَمَرَ اللہُ بِہٗ اَنٗ یُّوٗ صَلَ وَیُفٗسِدُوٗنَ فِی الاَرٗضِ۔۔۔ (۲۔۶۲۔۲۷) گمراہی میں اللہ انہی لوگوں کو مبتلا کرتا ہے جو فاسق ہیں۔ جو اللہ کے عہد کو مضبوط باندھ لینے کے بعد توڑ دیتے ہیں۔ اللہ نے جن روابط کو جوڑنے کا حکم دیا ہے، انھیں کاٹتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرتے ہیں۔ اللہ کا اس بارے میں اٹل قاعدہ یہ ہے کہ ۔ وَالَّذِیٗنَ جَا ھَدُو افِینَٗا لَنَھٗدِ یَنّھُمٗ سُبُلَناَ۔(۲۱۔۳) یعنی جو لوگ ہماری راہ میں محنت اٹھاتے اور جدوجہد کرتے ہیں ان کو ہم ضرور اپنا رستہ دکھاتے ہیں۔ بلکہ اس بارے میں اللہ تعالیٰ کی شفقت اور مہربانی کا یہ عالم ہے کہ ۔ وَمَن يُؤْمِن بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ۔ (۶۴۔۱۱) یعنی کو شخص اللہ پر ایمان لے آئے اس لء د؛ لو وپ راپ راست دکھا دیتا ہے۔ اس سے بڑھ کر اور کیا عنایت ہو سکتی ہے کہ اپنی کتاب ہر طرح سے محفوظ کر کے اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے ہاتھ میں دے دی اور بتا دیا ذَلِكَ الْكِتَابُ لاَ رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِين۔ (۲۔۲) یہ اللہ کی کتاب ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ یہ راہ دکھاتی ہے پرھیز گاروں (ہدایت کے طلب گاروں کو۔
حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب کوئی شخص گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر اس گناہ کی شامت سے ایک سیاہ داغ پڑ جاتا ہے۔ پھر اگر اس نے اس گناہ سے توبہ کر لی اور آئندہ گناہوں سے باز رہا تو وہ داغ مٹ جاتاہے اور دل صاف ہو جاتا ہے۔ ورنہ یہ داغ بڑھتے بڑھتے تمام دل کو گھیر لیتا ہے اور اسے سیاہ کر دیتا ہے۔ اسی کو اللہ تعالیٰ نے کَلاَّ بَل رَانَ عَلٰی قُلُوبھِمٗ مَّا کَانُوٗ یَکٗسِبُوٗنَ اور بَلٗ طَبَعَ اللہُ عَلَیٗھَا بِکُفٗرِھِم اور خَتَمَ اللہُ عَلٰی قُلُوٗ بِھِمٗ کے الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔ اس کا علاج سچی توبہ ہے جس کی تفصیل آگے آئے گی۔
غینی حجاب:۔
رینی حجاب کے برعکس غینی حجاب ایک عارضی رکاوٹ ہے اور یہ تھوڑی سی محنت اور اللہ کی طرف رجوع کرنے سے دور ہو سکتی ہے۔ جیسا کہ اوپر درج کردہ آیات سے واضع ہے۔ یہ کم وبیش سبھی کو لاحق ہوتا رہتا ہے۔ اس کے دور کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی سچے دل کے ساتھ اللہ سے رجوع کرے۔ جن چیزوں کے بارے میں وہ خود بھی جانتا ہے کہ یہ خدا کی نافرمانی کے کام ہیں ان کو ترک کرے اور جن کے عاید کردہ فرائض اور پسندیدہ کام جانتاہے انکے لیے کمربستہ ہو۔ ورنہ ظاہر بات ہے کہ کو جو شخص نہ راہ ہدایت کا خواستگار ہو، نہ اس کی ضرورت محسوس کرے اور نہ اس کے لیے کوئی محنت اور کوشش کرنے کے لیے تیار ہو، اسے ہدایت کیسے حاصل ہو؟ جس شخص کو نہ اپنی بیماری کا احساس ہو، نہ اس کے برے انجام کی کوئی پرواہ ہو اور نہ وہ اس سے شفا یابی کا طلبگار ہو، اس کے گھر کے سامنے بہترین شفاخانہ بھی کھلا موجود ہو تو اسے اس سے کیا فیض پہنچ سکتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالٰی نے فرمایا؛ كَيْفَ يَهْدِي اللّهُ قَوْمًا كَفَرُواْ بَعْدَ إِيمَانِهِمْ وَشَهِدُواْ أَنَّ الرَّسُولَ حَقٌّ وَجَاءهُمُ الْبَيِّنَاتُ وَاللّهُ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِين۔ (۳؛ ۸۶)یعنی ان لوگوں کو اللہ کیسے ہدایت بخشے جنھوں نے نعمت ایمان پا لینے کے بعد پھر کفر کا رویہ اختیار کیا حالانکہ وہ یہ بھی شہادت دے چکے ہیں کہ رسول سچا ہے اور سب باتیں ان پر واضع ہو چکی ہیں (جان لو) ایسے ظالم اور بے ڈھب لوگوں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا۔ پس ایمان کی نعمت اور دین کی راہ پا لینے بعد غفلت میں مبتلا رہنا خدا کی اطاعت کو عملاً اختیار نہ کرنا انسان کے لیے سخت خطرے کی حالت ہے۔ اگر آدمی اپنی اس حالت کو بدلنے کی کوشش نہ کرے گا تو اس کے متعلق اندیشہ ہے کہ یہ غینی حجاب آہستہ آہستہ رینی حجاب کی صورت اختیار کر لے گا۔
ان دونوں حجابوں کا فرق اس طرح سے سمجھئے، جیسے ایک تو فی الاصل پتھر ہے اور اس سے آئینہ بن ہی نہیں سکتا اور دوسرا دراصل آئینہ ہے جو زنگ آلود ہو گیا ہے اور صیقل کرنے سے صاف ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ یاد رکھیے کہ جو دل پتھر کی صورت اختیار کرتے ہیں ان کو اللہ زبردستی پتھر نہیں بنادیتا۔ بلکہ آدمی خود ایسی راہ اختیار کرتا ہے جو اسے اس منزل پر پہنچانے والی ہوتی ہے اور اس راہ پر بڑھتے بڑھتے وہ اس مقام پر پہنچ جاتا ہے۔ ورنہ اصل حقیقت تو یہی ہے کہ کُلُّ مَولُودٍ یُولَدُ عَلٰی فِطرَۃٍ الاِسلاَمِ (مؤتا امام مالک رحمتہ اللہ علیہ) یعنی ہر بچہ فطرت اسلام (خدا کی مخلصانہ اور بے آمیز بندگی کی راہ) پر پیدا ہوتا ہے۔
یہ دنیا ابتلا کا محل (یعنی امتحان گاہ) ہے
اس سلسلے میں دوسری بات جو یاد رکھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ اس جہان کو اللہ عّزوجل نے ابتلاء اور آزمائش کا محل بنایا ہے۔ یہ دارالامتحان اور امانتوں کی جگہ ہے۔ جزا اور سزا کی جگہ یہ نہیں ہے، اسی لیے اللہ تعالٰی نے اس عالم کو حجاب کے محل میں رکھا ہے اور اس کی پوری حقیقت کو انسان کی آنکھوں سے چھپا دیا ہے۔ انسانوں کی رہنمائی کے لیے اس پر سے جس قدر پردہ اٹھانا ضروری تھا وہ اللہ تعالٰی نے خود ہی اپنے رسولوں کے زریعہ سے اٹھا دیا ہے اور اس کے بعد یہ اعلان فرما دیا؛ إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا (۷۶۔۳) یعنی ہم نے انسان کو راہ دکھا دی، اب اس کا جی چاہے شکر گزاری کی روش اختیار کرے اور جی چاہے نافرمانی اور نمک حرامی کی راہ اختیار کرے۔ لیکن فَمَن تَبِعَ هُدَايَ فَلاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُون۔وَالَّذِينَ كَفَرواْ وَكَذَّبُواْ بِآيَاتِنَا أُولَـئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُون (۲۔۳۸تا۳۹) یعنی جو لوگ ہماری ہدایت کی پیروی کریں گے ان کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہ ہو گا۔ مگر جو اس کو رد کریں گے اور ہماری آیات کو جھٹلائیں گے، وہ آگ میں جانے والے لوگ ہیں، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔
انسان کے لیے آسان راہ:۔
پھر اس بات کوبھی یاد رکھو کہ اللہ تعالٰی نء کمال شفقت ومہربانی سے اس کائنات میں یہ صورت رکھی ہے کہ جس کام کے لیے کسی چیز کو پیدا فرمایا ہے اور جو کام فطرتاً یا صراحتہً اس نے کسی کے سپرد کیا ہے اس کا راستہ اس کے لیے آسان فرما دیا ہے۔ اگر آدمی نے اپنی غلط روی سے اپنی طبیعت اور عادت کو کج نہ کر لیا ہو تو اس کی طبیعت اور مزاج کی سب سے موافق راہ وہی ہے جو اللہ نے اپنے رسولوں کے زریعہ سے بنی نوع انسان کے سامنے واضع فرما دی ہے۔ کیونکہ یہ راہ اس ہستی کی تجویز کردہ ہے جو خود انسان کی خالق اور مصور ہے۔ قران مجید میں اس راہ کو ۔ اَلیُسرٰی۔ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی ۔ آسان راہ۔ وہ راہ کو انسان کی فطرت و ساخت اور اس کی جبلت کے عین مطابق ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ کو خطاب کر کے اللہ تعالٰی نے فرمایا؛ وَنُيَسِّرُكَ لِلْيُسْرَى(۸۷۔۸) ہم تم کو آسان راہ کی توفیق دیں گے۔ پھر فرمایا؛ فَأَمَّا مَن أَعْطَى وَاتَّقَى۔وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى۔فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى (۹۲۔ ۵ تا ۷) یعنی جس شخص نے خدا کی راہ میں دیا اور خدا ترسی کی راہ اختیار کی اور بھلائی کی تصدیق کی اس کے لیے ہم اَلیُسرٰی کو آسان کر دیں گے“۔ اور حضور نبی کریم ﷺ نے اس بات کو واضع کرتے ہوئے فرمایا؛ کُلٌ مُیَسَّرٌ لِمَاخُلِقَ لَہُ۔ یعنی ہر چیز کے لیے وہ راہ آسان کر دی گئی ہے، جس کے لیے اسے پیدا کیا گیا ہے“۔ گویا اس راہ کو اختیار کرنے میں، انسان کی اپنی نفسانی خواہشات، بگڑی ہوئی عادات اور نیت کی خرابی کے سوا اور کوئی چیز حائل نہیں ہے۔ ورنہ خدا کی بندگی کی راہ تو فی الحقیقت اپنی اصل پر قائم انسان کے عین من کی مراد ہے اور اس کی فطرت اس کے مزاج اور اس کی ضرورتوں کے عین مطابق اور موافق ہے۔
متلاشیان حق کے لیے رہنمائی کا انتظام:۔
پھر حضور نبی کریم ﷺ کے اس دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد اللہ تعالٰی نے انسانوں کی ہدایت ورہنمائی کے لیے اس بات کا بھی پکاانتظام فرما دیا کہ متلاشیان حق اور راہ ہدایت کے طلب گاروں کے لیے انسانوں کے اندر سچے اہل حق کا ایک گروہ ہمیشہ موجود رہے جو بندگان خدا کی حق کی طرف ٹھیک ٹھیک رہنمائی کر سکے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے اس امر کی خوش خبری دیتے ہوئے فرمایا؛ لاَتَزَالً طَائفَۃٌ مِّن اُمَّتِی عَلیَ الخَیرِ وَالحَقِّ حَتّیٰ تَقُومَ السَّاعَۃ۔ یعنی میری امت میں سے ایک گروہ حق اور بھلائی کی راہ پر قائم رہے گا یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے۔ نیز فرمایا لاَ یَزَالُ فِی اُمّتِی اَربَعُونَ عَلٰی اِبرَاھِیمَ، یعنی ہر زمانے میں میری امت میں (کم از کم) چالیس شخص ابراہیم علیہ السلام کے خلق پر موجود رہیں گے۔
پس جو شخص بھی راہ راست کا طلبگار ہو اور نیک نیتی کے ساتھ اس پر چلنا چاہے اس کے لیے یہ مستقل خوش خبری ہے کہ اسے نہ تو راہ راست معلوم کرنے میں ایسی کوئی مشکل پیش آئے گی جس پر قابو نہ پایا جا سکے اور نہ یہ صورت ہی انشاء اللہ اسے پیش آئے گی کہ دنیا میں اسے کوئی ساتھی و ہم سفر نہ ملے۔ صرف طلب صادق اور کوشش و محنت جتنی ایک متوسط آدمی اپنی جائیداد کے مقدمے کے لیے اچھا اور دیانت دار وکیل اور اپنے بچے کی یا اپنی بیماری کے علاج کے لیے اچھا اور دیانت دار طبیب تلاش کرنے کے لیے کرتا ہے۔
لوگوں کا حال:۔
اس راہ میں پہلا قدم صحیح اور قابل اعتماد علم کا حصول ہے۔ کیونکہ صحیح علم کے بغیر نہ آدمی صحیح راہ پا سکتا ہے اور نہ ہی اس پر چل سکتا ہے۔ لیکن مصیبت یہ ہے کہ ہمارےزمانے اور خصوصاً ہمارے ملک میں علم کی کسی کو پرواہ نہیں ہے۔ تمام مخلوقات نفسانی خواہشات میں مبتلا اور خداوند تعالٰی کی رضا و خوشنودی سے روگرداں ہے۔ زمانے کے علماء اور وقت کے مدعی تک راہ راست کے خلاف چل رہے ہیں۔ اس زمانے میں لوگوں نے اپنی خواہشات نفس کا نام شریعت رکھ دیا ہے۔ حب وجاہ کا نام عزت، تکبر کا نام علم، دکھاوے کی عبادت کا نام تقوٰی، کینہ کو ظاہر کرنے کے بجائے اس کو دل میں پوشیدہ رکھنے کا نام حِلم، مجادلہ ومناظرہ اور نہایت کمینگی کے ساتھ محاربہ کرنے کا نام عظمت، نفاق کا نام زہد، جو منہ میں آئے اس بک دینے کا نام معرفت، نفسانیت کا نام محبت، الحاد کا نام فقر، انکار حق کا نام صفوت، زندیق ہو جانے کا نام فنا اور جناب نبی کریم ﷺ کی شریعت کو ترک کر دینے کا نام طریقت رکھ لیا ہے۔ یہاں تک کہ ارباب معانی (اصل اہل حق) ان جہلا سے اسی طرح سے مغلوب ہو گئے ہیں۔ جس طرح خلافت راشدہ کے سقوط کے بعد اہل بیت رضوان اللہ تعالٰی علیہم اجمعین پر آلِ مروان نے غلبہ حاصل کر لیا تھا۔ اس بارے میں حضرت ابوبکر واسطی رحمتہ اللہ علیہ نے کیا ہی خوب فرمایا ہے کہ؛ ہم آزمائے گئے ہیں ایسے زمانے کے ساتھ جس کے لوگوں میں نہ اسلام کے آداب ہیں نہ ہی جاہلیت کے اخلاق اور نہ عام انسانی شرافت کی خصلتین ہیں۔
ایسے حالات میں حق جل وعلا کے سوا کون ہے کو اس چیز کو لانے کا ارادہ اور اس کے اسباب پیدا فرمائے جسے اہل زمانہ کھو چکے ہیں۔ جس کے ارادتمند تک اس کے ظہور پزیر ہونے سے مایوس ہو چکے ہیں اور جس کے عارفین کی معرفت بھی اس کے وجود سے جدا ہو چکی ہے۔
بہر حال پہلا قدم صحیح علم سے شروع ہوتا ہے۔ اس لیے آگے ہم علم اور اس کے حصول ہی سے آغاز کرتے ہیں۔
واللہ المستعان وما توفیقی الا باللہ

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر