وقت

اشفاق احمد کے زاویہ ۲ میں ایک باب جس کا عنوان "وقت ایک تحفہ" تھا، ابھی ابھی اردو لائبریری کی توسط سے پڑھنے کو ملا،(لائبریری ٹیم کا شکریہ) بہت ہی دلچسپ مضمون ہے۔ وقت واقعی ہمارا کل متاع ہوتا ہے، جو بقول بابا جی کے، ہم اسے اشیاء میں ڈھال دیتے ہیں اور سب سے قیمتی تحفہ وقت ہی ہے، جو ہم کسی بھی شکل میں کسی کو دیتے ییں۔
یہ مضمون پڑھتے ہوئے ایک تشنگی کا احساس ہوا، یا شاید آجکل مجھے فراغت ہے، تو کچھ اس طرح کا احساس بڑھ گیا ہے۔ وقت کا احساس تو تب ہی ہوتا ہے، جب فراغت ہوتی ہے۔ ورنہ مصروفیت میں تو اکثر سالوں کا بھی پتہ نہیں چلتا۔ اکثر ایسا ہوتا کہ جب میں اپنے گھر کے بالکل سامنے پہاڑی پر شام کو جب ڈوبتے سورج کا نظارہ کرنے گھنٹوں بیٹھا کرتا تھا، تو واقعی میں وقت کے گذرنے کا احساس ہوتا ہے۔ لمحہ بہ لمحہ ڈوبتا سورج ، خنک ہوا اور خاموشی مجھے بتاتی کہ وقت کیسے بیت جاتا ہے۔
وقت کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ، "سیانا آدمی وہ ہے، جو اپنی زندگی لمحہ بہ لمحہ گذارتا ہے"، ہمارا مذہب بھی ہم سے کچھ ایسا ہی تقاضا کرتا ہے۔ لمحوں کے بارے کچھ ایسی باتیں اور رویے بھی ہیں کہ جنھیں ہم منطقی نہیں گردان سکتے۔ مثلاً اکثر یہ کہ لمحہ لمحہ ایسے جیناہے کہ ہر وقت کسی خوش گمانی یا کسی دلپسند خیال میںمبتلا رہا جائے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم جو وقت خواب دیکھنے، اور خوش فہمیاں پالنے میں گذارتے ہیں، اگر اس کا عشر عشیر بھی عمل میں لگا دیا جائے تو کیا کچھ نہیں ہو سکتا۔ ہمارے مذہب اسلام کی مثال لے لیں، کیا یہ نہیں ہوا کہ صرف ۲۳ سال کے قلیل عرصہ میں نبی پاک ﷺ نے عرب اور اس کے گردونواح میں اسلام کا بول بالا کر دیا؟ کیا حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے نہایت مختصر وسائل اور وقت میں ۲۲ لاکھ میل کا علاقہ فتح کر دیا؟ تو یہ ایسی مثالیں ہیں کہ جن سے ہمیں اکثر وقت کی اہمیت اور قیمت کا پتہ چلتاہے، صرف سوچ ایسی شے ہے جو وقت کا دھارا ہماری منشاء کے مطابق بہاتی ہے۔
اسی تناظر میں ہمارا مذہب ہم سے صحیح معنوں میں ایک ایک لمحہ جینے کا تقاضا کرتا ہے، یعنی ہر لمحہ اپنے اعمال پر نظر رکھی جائے۔ ڈیرہ اسماعیل خان کی مشہور زمانہ جیل میں جو قتل کے مجرموں کی بیرکیں ہیں، وہاں داخلے کے راستے پر جلی حروف میں میں نے ایک جملہ پڑھا تھا کہ، "ایک لمحے کے غیرتمند بھائی، تمھیں عمر بھر کی بے غیرتی مبارک ہو، خوش آمدید!"۔ یہ جملہ ساری کہانی بیاں کر دیتا ہے۔ کوئی بھی شخص اگر قتل جیسا کوئی انتہائی ناپسندیدہ اور ناقابل معافی جرم کرتا ہے تو یہ سارا کھیل، غصہ اور غیرت صرف ایک لمحے کی کوتاہی سے ہوتی ہے، جبکہ اس کا خمیازہ کئی عشروں اور پھر لافانی زندگی تک طویل ہے۔ یہ وقت ہی ہے کہ جس کا حساب ہمیں رکھنا ہے۔
وقت کا احساس تو انتظار سے بھی ہوتا ہے۔ انتظار کرنا کچھ ایسا مشکل کام ہے کہ آدمی کو اس کا خمیازہ اپنی روح کو چھلنی کر کے بھرنا پڑتا ہے۔ اسی کیفیت کو میں نے گذشتہ ایک تحریر میں بیان کیا تھا، جو یہاں ملاحظہ کی جا سکتی ہے (انتظار

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر