بھوکا

ہماری ایک خواہش ہے، خواہشیں تو بہت ہیں مگر یہ "اُمّ الخواہش" ہے کہ میں مشہور ہو جاؤں، گو کہ ہم میں ایسی کسی بھی خصوصیت کا فقدان ہے، جو ہمیں مشہور کر سکے مگر پھر بھی غور کیا جا سکتا ہے، لیکن ملاحظہ کریں کہ صورت ایسی کہ آئینے کے سامنے کھڑے ہونے کو جی نہیں چاہتا، سیرت ایسی کہ اپنے سامنےبھی کھڑے نہیں ہو سکتے، جیبوں میں ہوا بھری رہتی ہے یا عرضیاں۔
خوب سوچا مگر کچھ نہ ہوا، ہوا یہ کہ یہ خواہش اب ایک خواہش سے زیادہ مسئلہ بن گئی ہے۔ مسئلہ بھی ایسا کہ "لاینحل"۔
تو خوب سوچا! سر پیٹا، سوچتے اور سو جاتے، پیٹ بھر کر کھانے کو مل جاتا تو ہر نوالے کے ساتھ مشہور ہونے کی (ایک سو ایک) ۱۰۱ ترکیبیں بھی حلق پار کر جاتیں، لیکن جب کوئی حل نہ نکلا تو اُٹھ کھڑے ہوئے۔ جنگل کی جانب نکل کھڑے ہوئے، جائے مخصوصہ جہاں اکثر بیٹھ کر سوچ وچار کیا کرتے، وہاں بیٹھنے سے بھی کچھ حاصل نہ ہوا۔
سوچا خودکشی کر لیں، جیو پر پٹی بھی چل جائے گی اور یہاں کی مقامی اخباروں میں چند روز چٹ پٹی خبر بھی، جان بھی چھوٹے گی اور مشہوری الگ!
بھوک ہمیں مار دے گی، جبکہ کئی اس خبر کو تیل صابن کے ساتھ بیچ کر اپنے بچوں کا پیٹ بھی بھر لیں گے۔۔ اس طور خوب سوچا، مگر موت کا منظر، قبر کا عذاب اور آخری دیدار جیسی باتیں سوچ کر دل بیٹھ گیا۔ سو کھسیانی بلی کی مانند دل کو اطمینان دلایا کہ خودکشی حرام ہے، واپس گھر کا رخ کیا، یعنی "جِتھے دی کھوتی، اُتھے آن کھلوتی"، ہماری قومی سیاست کے مصداق۔ مسجد کے قریب سے گذرے تو اللہ تعالٰی کو مخاطب کر کے اطلاع دی کہ کیسے آج ہم نے اس منہ زور نفس کو اپنی قوت ایمانی سے شکست دی اور خودکشی جیسا ناقابل معافی فعل وقوع پذیر ہونے کا اندیشہ ترک کیا۔
اپنے دوستوں سے مشورہ کیا، تو ہدایات ملیں، کہ پہلے حلقہ احباب میں مشہور ہونے کی سعی بجا لاؤں، تب ہی آگے کی سوچوں۔ حساب لگایا تو کل ملا کر میرے چار دوست تھے۔ ان میں مشہور ہونا کیا مشکل تھا؟ لیکن جب دوستوں کے دوستوں اور پھر کڑی در کڑی ان کے دوستوں سے واسطہ پڑا تو، اس طور مشہور ہونے سے توبہ کر لی۔ مشہور ہونا تو درکنار ہمیں تو کسی نے گھاس بھی نہ ڈالی، کہ جہاں گھاس کھانے کو بھی زریعے نہ تھے۔
سو ایک اچھا بھلا، موٹا تگڑا نسخہ ہم نے آخر ڈھونڈ ہی نکالا، یہ نسخہ آجکل ہر خاص و عام کی ذبان پر ہے، لوگ آزماتے ہیں، اور پھر مشہور بھی ہو جاتے ہیں۔ ہر طرف گہما گہمی ہے، وکلاء کی تحریک، ن لیگ کی پھرتیاں، حکومتی بوکھلاہٹ، عمران و قاضی کی دھمکیاں، فضل الرحمٰن و اسفند یار کا افسوس اور الطاف بھائی کے خطبے۔ جہاں کہیں بھی کوئی جلسہ ہوتا ہے وہاں پہنچ جاتا ہوں، اور لوگوں سے فرداً فرداً ملتا ہوں۔ نام، کام، تعلق ضروری نہیں ہے۔ دل کھول کر لوگوں سے ملتا ہوں۔ جس طرح کے نعرے لگ رہے ہوں، دل کے اخلاص سے ساتھ دیتا ہوں، گلا پھاڑ کر نعرے لگانے میں ویسے بھی ملکہ ہے، سو لوگوں کی عقیدت بڑھ جاتی ہے۔ کوشش یہ رہتی ہے کہ پنڈال کے بالکل قریب رہوں اور لیڈروں کی ناک کے عین نیچے، ان کا ہی دریافت شدہ کلمہ حق کہنے میں کسی طور پیچھے اور ان کی نظروں سے دور نہ رہوں۔ مذید یہ کوشش رہتی ہے کہ جہاں کہیں تصویریں بنائی جا رہی ہوں، فٹ سے وہاں پہنچ جاؤں، تاکہ اخباروں میں اپنی تصویر چھپنے کی خواہش بھی پوری ہوتی رہے گی، اور پیٹ کا الاؤ الگ سے ٹھنڈا رہے گا، بھاویں ان کی بلا سے ہمارے گھر کا چولہا ٹھنڈا رہے۔
صاحبو!۔ یہی دن ہیں، جس کا جتنا "دا" لگتا ہے، مشہور ہو جائے۔ جیسا کہ مشرف صاحب بھی آجکل اسی کام میں مشغول ہیں، چوہدریوں کی تو ویسے بھی مری ہوئی گائے بچے جننے لگی ہے، تو جو میری قسمت ہے مشہور ہونے کی اور محفل لوٹنے کی، تو میں کیوں پیچھے رہوں۔ حکومتیں بنیں یا بگڑیں، انصاف ملے یا مٹے۔ میرا پیٹ تو بھرتا رہےگا!
عزیز وطن کی رونقیں ایسے ہی قائم دائم رہیں!۔


(نعرے لگاتے بھوکوں کے نام)۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر