طاہرہ عبداللہ

غیر سرکاری تنظیموں میں ایک چرچا ہر وقت رہتا ہے جسے "صنف" یا انگریزی میں "جینڈر" کہا جاتا ہے۔ گزشتہ عرصہ دو سال میں میرا واسطہ خوب رہا ہے۔ صنف پر بحث اور مناظرے ان تنظیموں کا خاصہ رہے ہیں، اور یہاں تک کہ صنف اور خاص طور پر صنف نازک یا خواتین کے متعلق یہ غیر سرکاری تنظیمیں انتہائی حساس ہوتی ہیں، جیسے ہم ہر آئے دن خواتین کے حقوق بارے مضامین اور صدائے بلند اخبار ٹی وی میں اکثر دیکھتے رہتے ہیں۔
غیر سرکاری تنظیموں کا یہ کہنا کہ خواتین کے حقوق سلب رہتے ہیں، کسی حد تک بجا بھی ہے، اور اگر آپ کا واسطہ کسی غیر سرکاری تنظیم سے پڑا ہو، تو آپ ان خواتین سے بھی ضرور واقفیت رکھتے ہوں گے، جو خواتین کے حقوق پر بحث کے دوران آپ کا سر بھی پھوڑ سکتی ہیں۔ ایسی خواتین گنتی کی ہی ہوتی ہیں، جنھیں اکثر منہ پھٹ کہہ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، اور توجہ نہیں دی جاتی، جو اکثر اپنے طور پر زیادتی کی ایک شکل ہے۔ ان بحثوں میں اکثر دلچسپی بھی پیدا ہو جاتی ہے، مثلاً عجیب منطق ملاحظہ ہو کہ جب اکثر یہ خواتین مجھ سے پوچھ بیٹھتی ہیں کہ،
"ان دیہی علاقوں میں جانوروں کو حفاظتی ٹیکہ جات لگوانے کے خواتین کی زندگی پر کیا مثبت اثرات مرتب ہوں گے؟"۔
اب دیکھا جائے تو یہ ایک مضحکہ خیز بات لگتی ہے۔ لیکن سوچنے کی بات ہے، کہ حفاظتی انتظامات کا جو فائدہ یعنی پیداوار میں اضافے کا خواتین کو کیا فائدہ ہو گا؟ کیونکہ یہ تو مردوں کا معاشرہ ہے، جہاں گھریلو فیصلہ سازی میں بھی خواتین کا عمل دخل نہیں ہوتا۔ یعنی ان کے خیال میں جانوروں کے علاج سے پہلے، اس علاقے کے مردوں کا نفسیاتی علاج و تعلیم ضروری ہے!!!!۔
ان خواتین کے بارے بحث بھی اکثر ہوتی رہتی، اور ان خواتین کو اکثر کئی تلخ تبصروں کا سامنا بھی کرنا پڑتا، جسے وہ خندہ پیشانی سے قبول کر لیتیں، اکثر مردوں میں یہ خواتین انتہائی غیر مقبول ہوتی ہیں اور انھیں فٹ سے جہنمی قرار دے دینا کوئی مسئلہ ہی نہیں ہوتا۔ لیکن ایک طبقہ جو ان خواتین کا دل وجان سے حامی ہوتا ہے، وہ ہیں اپنے حقوق سے ناآشنا دیہی علاقوں کی خواتین، جن کے بارے اکثر واقعات نظر سے گذر جاتے ہیں اور زیادہ تر ہمیں پتہ بھی نہیں چلتے۔
ان ترقی پسند اور خواتین کے حقوق کی حامی خواتین کا حوصلہ قابل تعریف ہوتا ہے، یہ تلخ سے تلخ بات بھی انتہائی مٹھاس سے سہہ جاتی ہیں، لیکن کل رات پتہ نہیں کیا ہوا کہ "طاہرہ عبداللہ" کا حوصلہ دم توڑ گیا، وہ ایک ٹی وی چینل پر نمناک آنکھوں سے وزیر اطلاعات کو واسطے ڈال رہی تھیں کہ خدارا، ہم خواتین کی تضحیک بند کرو اور پاکستان کو بچا لو!۔
گمان غالب ہے کہ طاہرہ عبداللہ صاحبہ کے آنسو ہی تھے کہ جنھوں نے وزیر اطلاعات کو مستعفی ہونے کے فیصلے میں مدد کی!۔
طاہرہ عبداللہ ہم شرمندہ ہیں، کہ آپ کے دکھ کوہم جیسے مرد جو دیہی اور اکثر شہری علاقوں میں خواتین کی حق تلفی دیکھتے ہیں تو منوں مٹی تلے دب جانے کو جی کرتا ہے، تو وہ کیا سمجھیں گے، جنھوں نے آپ کی بےحرمتی اور تضحیک کرنے کی کوشش کی، اور بیگم عابدہ حسین کے بارے میں مجھے کچھ نہیں کہنا، جو خاتون ہوتے ہوئے بھی آپ کی تضحیک کرنے سے نہ چوکیں!!!۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر