اے وطن پیارے وطن!۔

آج کافی عرصہ بعد میرا دل ملی نغمے گنگنانے، سننے اور ویسے ہی ٹیبلو پیش کرنے کا کر رہا ہے، جیسے ہماری جماعت کے لونڈے تیسری، چوتھی  میں انتہائی محنت، لگن اور خلوص سے کیا کرتے تھے!۔

ملی نغموں کا بھی اپنا ایک مزہ ہوتا تھا، ہم گنگناتے، بیسیوں ملی نغمے ازبر تھے اور ہم صبح شام ان ملی نغموں کو جپتے اور لہک لہک کر، جھوم جھوم کر گاتے اور ہمارے اکثر برگزیدہ اساتذہ فرط مسرت سے اپنی خوشی چھپائے نہ چھپا سکتے، چاہتے کہ ہمیں بانہوں میں اٹھا کر جھومیں مگر صرف شفقت سے ہمارے سروں پر ہاتھ پھیرتے رہ جاتے، میں یہ سوچتا کہ یہ کیسا لطف ہے؟ بالاکوٹ کی وادی میں بہتے جھرنوں سے مجھے یہی ملی نغمے سنائی دیتے۔ 

پھر ایسا ہوا کہ دن بدل گئے، ہمیں بھارتی گانے اچھے لگنے لگے، لہکتے اور نئی دھنوں کو سراہنے لگے، علی الصبح اُٹھ کر ۲۳ مارچ کی پریڈ اور ۱۴ اگست کی پرچم کشائی کی تقاریب دیکھنا ہمیں اچھی خاصی چھٹی کو ضائع کرنے جیسے لگنے لگا، ہمیں لگنے لگا کہ ہم انتہائی شرمندہ، پسماندہ اور انتہائی تیسرے درجہ کی قوم ہیں۔ ایسا نہیں تھا کہ میں اور میرے جیسے کئی اور نوجوان محب وطن نہ رہے تھے، بلکہ یہ تو ایک ایسی کیفیت تھی کہ ہمیں لگتا تھا کہ ہم ایسی قوم کا حصہ ہیں جس کا کوئی مستقبل ہے نہ ماضی!۔

ہم سوچتے ہٹاؤ یار، یہ کیا ہے، کبھی ایک ہٹتا ہے تو دوسرا اس کی جگہ لے لیتا ہے، کبھی قرض اتار کر ملک سنوارتے ہیں تو کبھی میرے گاؤں میں بجلی آئی ہے کے نعرے لگاتے ہیں، کبھی کسی کو مولوی ڈیزل کہہ دیتے ہیں، تو کبھی کوئی ٹین پرسنٹ نامی پتلا جنم لیتا ہے اور کبھی احتساب کے نام پر ایک دوسرے کو تگنی کا ناچ نچاتے ہیں۔ ایسی ہی کسی کیفیت میں فوجی بھائیوں کی فرمائش پر جنرل اپنی چھڑی گھماتے ہوئے آتا ہے اور پھر ساروں کو کہتا ہے کہ ہٹو بچو، یہ تمھارے بس کی بات ہی نہیں ہے!۔

عدلیہ  ک تماشہ اپنی آنکھوں سے میں نے سپریم کورٹ کی عمارت پر حملہ کی صورت میں دیکھا تھا اور پھر اگلے کئی سالوں تک اس کو اور کبھی اس کے ہاتھوں لوگوں کو لتاڑتے ہوئے دیکھا، مجھے سمجھ نہ آئی، صرف ایک کیفیت نے جنم لیا کہ جی یہ ستون بھی کھوکھلا ہے!۔

صحافت نامی بلی صحیح معنوں میں کئی سال پہلے تھیلے سے باہر آئی اور چھا گئی، لوگ ٹی وی چینلوں پر آ کر بڑھکیں مارتے، دھمکیاں دیتے، گالیاں سناتے اور اپنی اپنی کمین گاہوں میں جا گھستے، صحافت اور ٹی وی نے مضبوط ہو کر کچھ کیا تو وہ یہ تھا کہ میری اور میرے جیسے کئی دوسروں کی نیندیں حرام کر دیں۔ ہمیں ایک دم سے پتہ چل جاتا، اور بچہ بچہ بھی ملکی حالات پر تبصرے کرنے لگا، ایسے ہی ایک سیاستدان نے ٹی وی پر آ کر کہا کہ "جی، ٹی وی تبصروں کا اثر ہے کہ اس کا بیٹا، اگر کوئی گلاس الٹا پڑا دیکھتا ہے تو کہتا ہے کہ، یہ گلاس غیر آئینی پڑا ہوا ہے!"۔ 

حاصل یہ ہوا کہ ہم جیسے رینگتے لوگ مایوس ہوگئے، ہمیں لگا کہ ریاست کے سارے ستون بودے ہیں، ملی نغمے تو دور، فلمی نغمے بھی ہمیں برے لگنے لگے، آٹا چاول کی دوڑ سب سے بڑھ گئی اور ہم کھو گئے، لوگوں کو لگنے لگا کہ ہم مایوس اور مری ہوئی قوم ہیں، ہمیں کوئی حادثہ جیسے زلزلہ ہی اکٹھا رکھ سکتا ہے، کوئی امن کی کیفیت نہیں!۔

لیکن آج مجھے نہ جانے کیوں لگتا ہے کہ میری قوم جدوجہد کر رہی ہے، گو سست رفتاری سے بہتری آ رہی ہے، لیکن میری قوم جاگ رہی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ بھی ان دھوکوں میں سے ایک ہو، جن کو ہم نے ساٹھ سال دیکھا ہے، مگر یہ بڑا حسین دھوکہ ہے، اس دھوکے  نے اور کچھ کیا یا نہیں، ایک کام ضرور کر دیا کہ مجھے میرے ملی نغمے لوٹا دیے!۔

 

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر