ایندھن

 جب میں گلا پھاڑ کے نعرہ بلند کرتا،  "وی سی کا جو یار ہے۔۔۔ غدار ہے غدار ہے!" اور "گرتی ہوئی دیواروں کو۔ ایک دھکا اور دو" تو روح تر ہو جاتی، لیکن اس سے بھی زیادہ مزہ تب آتا جب فیڈریشن کا کیمپ کسی دوسری فیڈریشن سے بازی لے جاتا۔ لیکن پیشہ وروں کو اس سے بھی زیادہ لطف رہتا جب ماردھاڑ شروع ہو جاتی۔ اور وہ جلدی میں اپنی شلوار کے نیفوں سے اچانک ہی پستول برآمد کرتے اور اس کو ہوا میں یوں لہراتے جیسے کسی ماہر مداری نے ٹوپی میں سے کبوتر برآمد کر لیا ہو۔  پھر دیر تک اس سے ہوا میں گولیاں اڑاتے پھرتے، تھرتھلی مچ جاتی۔ نعرہ بازی، اشتہار بازی، لیڈروں کے قد آور پورٹریٹ، سالگرہ، یوم شہادت اور ہائی کمان سے آئی ہڑتالوں کی کال، ایسے شعبے ہوتے تھے، جن میں حصہ لینا ہم دوستوں کا دیرینہ شغل رہتا۔
یونیورسٹی میں ہم صبح شام لیڈروں کا نام جپتے، سینے پر ہرے، لال، کالے، سبز اور رنگ برنگے بیج سجائے ڈیپارٹمنٹ میں گھومتے اور بعد از کلاس انھی رنگوں کی رنگ برنگی ٹوپیاں پہنے مختلف تقاریب کا انعقاد اس طور کرتے کہ کوئی کسر نہ رہ جائے۔ وہ دن تو عید کا دن ہوتا جب کسی تقریب میں کوئی صوبائی یا قومی لیڈر شرکت کر رہتا۔ دیوانوں کی طرح طلباء میں تشہیر کرتے، جھوٹی کہانیاں اور قصے اس لیڈر کے متعلق گھڑتے۔
یونیورسٹی کی سطح پر فیڈریشن کی سیاست کا اپنا ایک رنگ ہے، جہاں پر ہم انتہائی خلوص کے ساتھ نظریات کے پل باندھتے، جوان بہتے خون میں سیاسی رنگ گھولتے اور پھر جیسے تاب نظارہ ہو،  مذاکروں کا انعقاد کیا جاتا اور اسی روش میں کبھی کبھار مشاعروں کا انعقاد ہو جاتا۔ اپنے الاٹ شدہ کمروں کی سیاسی رنگ میں ایسے تذئین وآرائش کی جاتی کہ انت ہوتی، بے نظیر کاٹیج، بھٹو ہاؤس، زرداری وِلا، باچا خان ہاوس، پختانو جونگڑہ (پختونوں کی کٹیا)، پلوچ ہاؤس، جمیعت کا سراۓ، مسلم گلی وغیرہ جیسے ناموں سے کمروں کو لکھا اور پکارا جاتا۔ 
 فیڈریشن کے ساتھ ساتھ ایک اور کم و بیش اسی تناظر میں قائم سوسائٹیاں بھی اپنا وجود رکھتی تھیں، جو کہ خالصتاً علاقائی اور قومیت کی بنیادوں پر بٹی رہتی تھیں۔ جیسے ہزارہ سٹوڈنٹ سوسائٹی، اباسین سٹوڈنٹ سوسائٹی، اور اسی طرح سے خٹک، مروت، پنجند، ٹرائبل، امامیہ وغیرہ جو کہ یونیورسٹی میں اپنے علاقے کے طلباء کی رہنمائی اور آسائش کا خیال رکھتیں۔
اصل رنگ میں بھنگ اس وقت دیکھنے میں آتا، جب کبھی دو سیاسی، علاقائی یا قومیتی متحارب گروپوں میں لڑائی چھڑ  جاتی۔  لڑائی میں ثالثی، بہرحال فیڈریشن اور سوسائٹیوں کے عہدیدار کراتے اور جھگڑا بڑھنے سے پہلے ہی ختم کرا دیتے۔ یوں مسئلہ یہیں حل ہو رہتا، اور یونیورسٹی کے اعلٰی انتظامی افسران کو گھوڑے بیچ کر سوتے رہنے میں کوئی خلل محسوس نہ ہوتا۔
ہاں، اکثر ایسا ہوتا کہ جب ہم کسی جلسہ، احتجاج اور ہاہو سے تھک ہار کر وا پس پہنچتے، تو ہمارا سامنا ایک سینیئر جو کہ  ایم فل میں داخل تھا، اس سے ہو جاتا۔  لمبی بحث ہوتی، ہم ہر طرح سے اپنی فیڈریشن اور سوسائٹی میں شمولیت کا دفاع کرتے، لیکن ایک سوال جس کا میں کبھی بھی جواب نہیں دے پایا، اور آج بھی جب سڑکوں پر نعرے لگاتے، شور مچاتے، توڑ پھوڑ کرتے طلباء اور سوشل میڈیا پر شور مچاتوں کو دیکھتا ہوں تو میں لاجواب ہو جاتا ہوں اور وہ سوال میرے رگ وپے میں ابھرتا ہے، کہ "بنگش صاحب! آپ کو نہیں لگتا، کہ ان فیڈریشن اور نعرہ بازیوں میں آپ اور آپ جیسے دوسرے طلباء، کارکنوں کی حیثیت ایندھن سے زیادہ کچھ نہیں ہے؟"۔  

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر