لاحاصل

بالاخر آج میرے ایم فل پہلے سمسٹر کے پرچے دل پر سے پتھر اتارنے کے مصداق ختم ہو گئے۔ پتھر ہی تو تھا کہ جو اتر گیا، ورنہ اب کوئی اتنا زوق و شوق جو کبھی پڑھائی کا ہوتا تھا، رہا نہیں!۔
 وجہ بالکل یہی ہے کہ اب ہمت ہی نہیں پڑتی۔ کیونکہ تعلیمی نظام میں جو سر پر تھوپنے والی بات کہ جو کہا جائے، حرف آخر کی حیثیت رکھتا ہے، کم از کم میرے لیے کافی کوفت کا باعث بنتا ہے۔ 
آئن سٹائن نے اک بار کہا تھا کہ، " ایک خاص مرحلے کے بعد صرف مطالعہ انسان کی تخلیقی صلاحیتوں کو گہنا دیتا ہے"۔ 
ہمارے ہاں جو نظام تعلیم ہے وہ اسی ڈگر پر رواں دواں ہے کہ مطالعہ کرتے رہو، مشاہدے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ تعلیمی اداروں میں ہونے والی لمبی اور لاحاصل بحثوں میں حصہ لینا واقعی دل گردے کا کام ہے، جہاں کرنے کو اور کچھ نہیں صرف بولنا اور بولنا، تجربات سے عاری یہ علم کس کام کا؟ وجہ کچھ بھی ہو: سہولیات کی کمی، طریقہ کار کا فقدان یا پھر ازلی ہڈ حرامی۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ ہمیں یہ مشاہدے کی کمی ڈبو دے گی۔
صرف اسی پر اکتفا نہیں ہوتا، بلکہ یوں بھی ہوا کہ علمی مباحثوں میں کچھ عزیز اس حد تک زاتیات پر اتر آتے ہیں کہ بندے کا دل کھٹا ہو جاتا ہے، دو ایک بار تو میں نے سوچاکہ یہ سلسلہ ہی موقوف کر دوں، مگر کیا کیا جائے کہ یہ نشہ اب اترنے والا نہیں۔ 

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر